You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Friday, February 22, 2013








        ما لیگا ئوں مہا راشٹرمیں ’’کردار‘‘ کے دو اردو ڈراموں کی زبردست دھوم      
            (پریس ریلیز) : مھاراشٹر کے صنعتی شہر،ما لیگائوں کے تہذیب ہا ئی اسکول کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے سات روزہ ’’جشن تہذیب‘‘میں مسلسل دو روز تک خصوصی طور پر ’’شبِ ڈراما‘‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں ما لیگائوں کے فنکاروں کے تیارکردہ تین ڈرامے اور ممبئی کے سر گرم اور فعال اردو ڈراما گروپ کردار آرٹ اکیڈمی کے دو مشہور ڈرامے ’’یہ کس کا لہو ہے ؟کون مرا؟‘‘اور ’’پہلے آپ‘‘ کے کامیاب شوز ہو ئی۔
            ان ڈراموں کو دیکھنے کے لیے ما لیگائوں کی خواتین ،مختلف اسکولوں کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ کا ایک ہجوم امڈ پڑا تھا۔ٹکٹ خرید کر آنے والوں میں ایک اندازہ کے مطابق چھ ہزار سے زا ئد ڈراما شا ئقین نے دو روز تک تہذیب ہائی اسکول کے وسیع میدان میں ’’کردار‘‘کے ڈراموں کو دیکھا اور زبردست دادوتحسین سے نوازا۔کئی لوگوں کو جگہ کی قلّت کے سبب مایوس لو ٹناپڑا۔دونوں دن شہر مالیگائوں کی اہم اور مقتدر شخصیات بھی مو جود تھیں ۔
                       ’’کردار‘‘ کا بیحد مقبول ڈراما ’’یہ کس کا لہو ہے کون مرا؟‘‘ ممبئی ٹرین بم بلاسٹ کے پس منظر میں تین ڈرامائی مونولاگس ہیں جسے تحریر کیا اور ہدایت سے سجایا اقبال نیازی نے اور سنّی ڈکشت،صدف سعید،اور مظہر شیخ کی بے پناہ اداکاری نے خواتین کو زاروقطار رونے پر مجبور کیا۔ وہیں دوسرا ڈراما ’’پہلے آپ‘‘کے طنزومزاح نے شائقین ڈاراما کو خوب گد گدایا۔آیت خان کی ہدایت میں پیش کیے جانے والے اس ڈراما میں ’’کردار‘‘کے نو فنکاروں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ۔واضح ہو کہ ’’یہ کس کا لہو ہے کون مرا؟‘‘ کا یہ ۷۵ اور ۸۵ واں شو تھا۔دونوں ڈراموں کی پسندیدگی کا یہ عالم تھا کہ اہلیانِ مالیگائوں اور با ذوق تماش بینوں نے ان ڈراموں کو نقد انعامات سے نوازا۔’’کردار ‘‘کے چیئر مین اور کریئٹیوڈائریکٹر اقبال نیازی نے اسٹیج سے یہ اعلان بھی کیا کہ ہم بہت جلد مالیگائوں کے بم بلاسٹ اور بے قصور مسلم نوجوانوں کی حراست اور ان کے اہل ِخانہ کے کرب انگیز حالات پر ایک ڈراما تیار کر رہے ہیں جو،’’ کس کا لہو ہے کون مرا؟‘‘ کا حصّہ دوّم ہو گا۔ تہذیب ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر عتیقی شکیل الرحمن اور اسکول کے جملہ اسٹاف نے ممبئی کے غیر مسلم فنکاروں کی لائق ستائش مہمان نوازی کی اور تمام فنکار اس بے پناہ خلوص ،عزت افزائی اور پذیرائی سے بیحد مر عوب و متاثر ہوئی۔پہلے دن افتتاحی تقریب میں انجمن تہذیب الاخلاق مالیگائوں کے جوا ئنٹ سیکریٹری ایڈوکیٹ خلیل احمد انصاری نے اپنی
پر جوش تقریر میں کردار آرٹ ا کیڈمی کے فنکاروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ’’ غیر مسلم اورغیر اردو داں فنکاروں کو لے کر اردو ڈرامے کرنا ، انھیں اردو سکھانا ۔۔یہ اردو کی بقاء اور ترقی و تر دیج کی ایک عمدہ مثال ہے ۔ ہم تو اپنے گھروں میں اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم دلوا کر اردو سے محبت کا دم بھر رہے ہیںلیکن اردو کی حقیقی اور عملی خدمت اردو  ڈرا  موںکے ذریعے اقبال نیازیؔ انجام دے رہے ہیں اور ان کی ستائش ہونی چاہیی۔‘‘ تالیوں کی گونج میں انھیں اعزاز و اکرام سے نوازا گیا۔دو روز تک تہذیب اسکول کے وائس پرنسپل محمد یعقوب ایّوبی نے اپنی سحر انگیز اور پُر اثر نظامت سے اتنے بڑے مجمع میں نظم و ضبط کو قائم رکھا۔’’کردار‘‘کے ان دو ڈراموں کے علاوہ مالیگائوں کے ہنر مند اور با صلاحیت فنکاروں نے بھی تین ڈرامے پیش کیے جن میں ‘‘منّی بائی ایم بی بی ایس‘‘(ہدایت کار شکیل چو پڑہ)’’چل رے بیوامنگل کری‘‘(ڈراما نگارفروغ راہی ،ہدایت کار حامد سبحانی)اور ’’فریکچر‘‘(آصف سبحانی کا تحریر کردہ اور حامد سبحانی کی ہدایت کاری) کو بھی شائقین ڈراما نے پسند کیا۔علاوہ ازیںتہذیب اسکول کے طلبہ و طالبات نے بھی انفرادی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
            ’’کردار‘‘کے ان دو اثر انگیز ڈراموں کو دیکھ کر گر مجوشی کا اظہار کرتے ہوئے جناب اختر احمد صدیقی (سیکریٹری انجمن تہذیب الاخلاق ) نے حیدراآباد میں ،جناب اشفاق عمر نے لاتور میں اور شری رجنیش گپتا نے جمّوں میں ان ڈراموں کو کرنے کی پیشکش کی۔


حید رآباد دھماکہ : شک کی سوئی پھرماضی کی طرح نام نہاد دہشت گردوں کی طرف پھرانے کی کوشش!
4                      لیجئے صاحب پھر بم دھماکہ ہوگیا ۔دھماکہ کے بعد مرکزی حکومت نے کہا کہ اس کے متعلق پہلے ہی ریاستی سرکاروں کو متنبہ کیا جاچکا تھا ۔لوک سبھا میں بی جے پی کی شعلہ بیان مقرر سشما سوراج بھی حکومت کی خبر لیتے ہوئے وزیر داخلہ سشیل کمار شندے پر برس پڑیں کہ آخر پہلے سے معلوم ہونے پر بھی اس پر کنٹرول کیوں نہیں کیا جا سکا ؟دھماکہ پر سشیل کمار نے ایمرجنسی بیان کے بعد آج 22فروری کو لوک سبھا میں روایتی بیان دیا اس میں نئی کوئی بات نہیں تھی اس بیان کو حکومت کی طرف سے معلوماتی بیان بھی کہہ سکتے ہیں ۔اس طرح کے بیان کے پیچھے شندے کی مجبوری بھی ہو سکتی ہے اور دو دن پہلے معافی مانگنے کا اثر بھی ۔اس دھماکہ نے موجودہ اہم خبر کو دبا دیا وہ خبر گجرات سے تھی جہاں مودی کی حکومت ہے اور جو بی جے پی کے 2014 کے متوقع وزیر اعظم کے امید وار ہیں ۔خبر تھی کہ مظلوم اور معصوم عشرت جہاں کے فرضی انکائونٹر کے سلسلے میں سی بی آئی نے گجرات کے آئی پی ایس افسر جی ایل سنگھل کو گرفتار کیا ہے ۔عشرت جہاں کے انکائونٹر کے سلسلے میں یہ پہلی باضابطہ گرفتاری بتائی جارہی ہے ۔ویسے اس سے پہلے کئی اعلیٰ افسران داخل زندان ہیں جن پر سہراب الدین ،کوثر بی اور پرجاپتی کو فرضی انکائونٹر میں ہلاک کرنے کا الزام ہے ۔یہ گرفتاری تو ہوئی ہے پہلے بھی اب بھی اور شاید آگے بھی ہو،لیکن اس پر مقدموں کی کیا صورت ہے وہ واضح نہیں ہے ۔
*          بہر حال معاملہ فی الحال حیدرآباد کے تازہ دھماکے کا ہے ۔سشما سوراج نے لوک سبھا کے اندر سشیل کمار کے بیان کے بعد سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ دھماکہ کہیں اکبر الدین اور اسدالدین کے مبینہ بھڑکائو بھاشن سے تو نہیں جڑا ہوا ہے ؟یا کیا یہ افضل گرو کی پھانسی پر دہشت گردوں کی انتقامی کارروئی تو نہیں ہے ؟اس پر حکومت کی طرف سے کوئی واضح جواب نہیں دیا جاسکا وجہ اس کی یہ تھی کہ سشیل کمار لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں بیان دینے چلے گئے ۔یہاں سشما سوراج کے بیان یا سوالات سے پہلے اس کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ کل شام 21 فروری کو سات بجے شام دھماکہ کے بعد بدنام زمانہ الیکٹرونک میڈیا کا کیا رویہ تھا ۔اس کا جائزہ لیتے ہوئے یہی محسوس ہوا کہ سارے ہی نیوز چینل اس دھماکے کو اسی پرانے اور گھسے پٹے انداز سے پیش کرکے عوام ،حکومت اور تفتیشی ایجنسی کو گمراہ کرکے ایک خاص فرقہ یعنی مسلمانوں کے خلاف محاذ بنانے میں مصروف کار تھے ۔اس بات کو بار بار نیوز چینل پر دوہرایا گیا کہ شک کی سوئی انڈین مجاہدین یا حرکت الجہاد اسلامی کی طرف گھوم رہی ہے ۔اس کو افضل گرو کی پھانسی کے خلاف انتقامی کارروئی سے بھی جوڑنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے ۔رہی سہی کسر سشما سوراج کے زہریلے سوالات نے بھی پوری کردی کہ کیا یہ اکبر الدین اور اسدلدین اویسی کے مبینہ نفرت انگیز تقاریر کا تو اثر نہیں ؟جس وقت سشما پارلیمنٹ میں بول رہی تھیں غالبا ً کوئی مسلمان ممبران پارلیمنٹ موجود نہیں تھا کہ وہ سشما کے اس سوال پر اعتراض کرتا ممکن ہے کہ سشما سوراج نے کئی اور بھی زہریلے سوالات کئے ہوں کیوں کہ جب وہ بیان دے رہی تھیں تو کئی بار محسوس ہوا کہ ان کے بیان کو ایڈٹ کیا جارہا ہے ۔
            اگر ہم سشما سوراج کے مذکورہ بیان کو اسی عینک سے دیکھیں جس سے  انہوں نے دیکھا اور ایک فرقہ کو ہی اپنی شعلہ بیانی کا نشانہ بنا ڈالا ۔اگر یہ دھماکہ اکبر الدین کی اس تقریر کا اثر ہو سکتا ہے تو کیا یہ توگڑیا کی تقریروں کا نہیں ہو سکتا ہے ؟اگر یہ انڈین مجاہدین کے نام نہاد دہشت گردوں کا ہو سکتا ہے تو کیا یہ بھونسلہ ملٹری ٹریننگ سینٹر سے تربیت یافتی پانچ سو لوگوں کا کیوں نہیں ہو سکتا جو کہ ہیمنت کرکرے کی تفتیش میں سامنے آنے کے بعد سے ہی غائب ہیں اور جس کے بارے میں مہاراشٹر حکومت اور مرکزی حکومت دونوں ہی سے متعد د بار سوالات کئے گئے لیکن خاموشی اور مکمل خاموشی ہے ۔آخر دھماکے کے بعد صرف حرکت الجہاد اسلامی اور نام نہاد انڈین مجاہدین ہی کا نام کیوں اچھا لا جاتا ہے ؟ سناتن سنستھا ،بجرنگ دل اور وشو ہندو جیسی ہندو تنظیموں کا نام کیوں نہیں اچھالا جاتا ؟یاسین بھٹکل اور وقار جیسے نام کو ہی کیوں اچھالا جاتا ہے پروین توگڑیا اور پرمود متالک کا نام کیوں نہیں گھسیٹا جاتا ؟ کیا یہ سشیل کمار کے بیان (جس پر انہوں نے معافی بھی مانگ لی ہے )کہ بی جے پی اور آ ر ایس ایس دہشت گردی کے اڈے ہیں پر بھگوا دہشت گردوںکی طرف سے انتقامی کارروائی بھی مانا جانا چاہیئے ۔ سشماجی کو اکبر الدین اور اسد الدین تو نظر آگئے لیکن انہیں توگڑیا کی زہر افشانی اورپرمود متالک کی بیہودہ بیان بازی کیوں یاد نہیں رہی کہ اس میں بھی وہ بم دھماکے کا سراغ ڈھونڈھنے کی کوشش کرتیں۔توگڑیا کا وہ بیان تو ابھی آن ریکارڈ ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ ’’جب جب پولس ہٹی تو ہم نے آسام اور میرٹھ کے ملیانہ میں لاشوں کے انبار لگادئیے ‘‘ لیکن مہاراشٹر کی حکومت کو اس میں ابھی تک کوئی قابل اعتراض پہلو نہیں نظر آیا اسی لئے صرف ایف آئی آر سے آگے بات نہیں بڑھی ہے ۔ہمارا شک ہی نہیں یقین ہے کہ اس دھماکہ کا تعلق افضل گرو کی پبانسی سے ہو سکتا ہے لیکن وہ اس لئے کہ افضل گرو کی ہمدردی میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے جس پامردی کا ثبوت دیا تھا اس عوام کے ذہنوں سے ہٹانے کیلئے انہیں دوسری طرف الجھانے کیلئے خود آئی بی نے ہی یہ عظیم کارنامہ انجام دیا ہو ا۔یا آئی بی کا دوسرا کور گروپ سناتن سنستھا اور اس جیسی دوسری تنظیموں نے سشیل کمار کو جو کہ ایک دلت ہیں اور وزارت داخلہ جیسے اہم عہدہ پر ہیں اس سے ہٹانے کیلئے یا انکو اس بیان پر سبق سکھانے کیلئے یہ دھماکہ کیا ہو۔جس میں انہوں نے فاشسٹ طاقتوں پر راست حملہ کیا تھاجس پر وہ قائم بھی نہ رہ سکے اور معافی مانگ لی ۔کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔اس طرف بھی غور کیا جانا چاہئے تب ہی انسانیت کے یہ دشمن بے نقاب ہو پائیں گی۔
|          حالات ہر دن مسلمانوں کیلئے نا قابل برداشت ہوتے جارہے ہیں ۔الیکٹرونک میڈیا کے بعد اگر آپ آج کے پرنٹ میڈیا اور نام نہاد مین اسٹریم میڈیا میں نظر ڈالیں انڈین ایکسپریس ،ٹائمس آف انڈیا اور نو بھارت ٹائمز کے علاوہ سبھی اخبارات نے صرف اس بم دھماکہ کو ہی اپنے پورے صفحہ پر جگہ دی ہے انڈین ایکسپریس اور ٹائمس گروپ کا ٹائمس آف انڈیا اور نو بھارت ٹائمس نے اس خبر کے ساتھ گجرات کے آئی پی ایس افسر کی گرفتاری کو بھی اہمیت دی ہے ۔کم و بیش اردو اخبارات کا بھی یہی تاثر ہے صرف ایک اردو کے اخبار نے گجرات کے آئی پی ایس افسر کی گرفتاری کو اہمیت نہ دیکر اندر کے صفحہ پر دیا ہے باقی کے اردو اخبارات نے اپنی روایت کو برقرار رکھا ہے ۔سامنا نے تو حد ہی کردی کہ اس نے اپنے پورے صفحہ پر اسی خبر کو اس ہیڈنگ کے ساتھ ’’حید ر آباد پر اسلامی دہشت گردوں کا حملہ 30 ہلاک‘‘ جبکہ ابھی تک کی ہلاکت کی تصدیق بیس کی بھی نہیں ہے ۔مسلمانوں کو اس پر سامنا کے خلاف قانونی کارروائی کرنا چاہئے ۔مسلم لیڈر شپ اگر کہیں ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اونچی عدالتوں میں اس کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ اس طرح کی شر انگیزی پر قابو پایا جاسکے ۔سامنا کی شرانگیزی یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اس نے نیچے ضمنی عنوان کے تحت سرخی لگائی ہے کہ ’’افضل اور اویسی کنکشن‘‘ اور تصویریں بھی افضل گرو اور اویسی کی لگائی ہیں ایسا ہی کچھ سشما سوراج نے بھی پارلیمنٹ میں کہا یعنی کہ اس طرح کے اخبارات ممبران پارلیمنٹ کو بھی گائڈ کرتے ہیں کہ انہیں پارلیمنٹ میں کس طرح کا بیان دینا ہے ۔کیا اب بھی ہمارے نام نہاد ممبئی اور مہاراشٹر کے مسلم قائدین صرف وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کو میمورنڈم دینا اور کارروائی کا مطالبہ کرنے سے آگے نہیں بڑھیں گے ۔
نہال صغیر۔موبائل۔987309013
نہال صغیر۔معرفت ،رحمانی میڈیکل ۔سلفی گلی نمبر 3 ۔کاندیولی(مغرب)ممبئی 400067  موبائل۔987309013 ۔ای میلagheernehal@gmail.com

Wednesday, February 20, 2013

تین روزہ ٹرینینگ







مسلسل ہمہ  جہت ترقی کی تین  روزہ  ٹرینینگ  بمقام رئیس ہائی اسکول  اینڈ جونیئر کالج میں منعقد کی گئی تھی ۔جس کا انعقاد     (  ایس ،سی ،ای ، آر  ، ٹی  )  پونہ کی  ہدایت  ضلع پریشد تھانہ    نے  منعقد   کیا ۔اور اس کا  انتظام  بھیونڈی  مہانگر پالیکا  شکشن منڈل کے   اردو میڈیم   کے سی ، آر ، سی   محترم شفیق احمد سر ، عبدالکریم سر اور شعیب سر کی کوششوں سے  بہت اچھی طرح سے انجام پذیر ہوا ۔ جس میں تھانہ  ضلع  اور  تعلقہ کے منتخب  شدہ   اساتذہ کی ٹرینینگ     ضلع لیول پر لی گئی۔  اس ٹرینینگ میں سجاد اختر محمد انعام سر ، عبدالکریم ، تنویر سر ، شہاب سر ،   فالکے روزینہ  باجی ، اور عبدالقیوم سر نے پر اثر طریقے سے اساتذہ کو ٹرینینگ دی ۔اور بہ اچھی طرح سے واضح کروایا کہ ہم کو جامع اور مسلسل قدر پیمائی کس طرح کرنی ہے ۔ اور  رائٹ ٹو ایجوکیشن 2009 ۔بچوں کےلازمی اور مفت  تعلیم کے حقوق کو 100٪ رائج کرنے اور نۓ طریقے کو اپنا کر انقلاب لانے کے خیالات اجاگر کرکے    آر ، پي ) کے روپ میں تعلیم کے سپاہی تیار کیۓ ۔ واقعی یہ تین روزہ پروگرام کافی  کامیاب رہا ۔اس میں پروجیکٹر کا استعمال کر کے پی پی ٹی اور فلم دکھائی گئی ۔اس  پوری ٹرینینگ   کی قیادت  محترم سجّاد اختر نے ایک  بہت ہی  قابل کمانڈر کی طرح  نبھائی ۔انداز بیان بہت خوبصورت تھا ۔بہت سارے سوالات کا جواب ایک چھوٹے سےشعر سےدینے کا انداز  بہت پر اثر رہا ۔سجاد سر تعریف کے قابل ہیں ۔ ہم اساتذہ نے ان سے کافی سیکھا ہے ۔ہماری قوم کو ایسے ہی معلمین کی ضرورت ہے جو اپنے دل میں  اتنا جذبہ رکھتے ہیں ۔


Wednesday, February 13, 2013

اردو سیاسی و مذہبی تعصب و فسطائی ذہنوں کی تنگ نظری کا شکار



نور محمد حسن ۔کرلا ۔ممبئی
                جذب دروں کے اپنے تقاضے ہیں ،لگن اور تڑپ ایسی آگ ہے جو بجھائے نہیں بجھتی ،یہی آتش جذبوں کے صداقت کی امین ہیں ۔لگن اور تڑپ ہو تو پہاڑ بھی راستے سے ہٹ جاتے ہیں ۔محبان اردو نے مہاراشٹر میں اردو کو سرکاری درجہ دلانے کے لئے ویسی تڑپ اور لگن کا اظہار نہیں کیا جو اردو کا اصل حق تھا ۔آزادی کے بعد سے مرکزی اور ریاستی سرکاروں کا رویہ بھی اردو کے ساتھ سوتیلا نہ ہی رہااور سرکار میں شامل آر ایس ایس کی فسطائی ذہنیت کے حامل لیڈران نے زبان اردو کی ترقی و ترویج میں ہمیشہ روڑے اٹکائے اور اپنی فسطائی ذہنیت کے زیر اثر ہمیشہ اردو کو سرکاری اعزاز سے محروم رکھا۔آزاد ہندوستان میں 1947 کے بعد جو نظام عمل میں آیا وہ اسی خدو خال پر تھا کہ آہستہ آہستہ اس ملک کے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنادیا جائے ۔چونکہ اردو کا تعلق راست مسلمانوں سے جوڑ دیا گیا ہے اور منصوبہ بند طریقے سے اسے مسلمانوں کی زبان سمجھادیا گیا ہے جبکہ حقیقت اسکے برعکس ہے اب تو ایک خفیہ مشن کے ذریعہ اردو کو تہہ تیغ بھی کردیا گیا ہی۔مسلم وزراء و ارکان اسمبلی کے تجاہل عارفانہ اور محبان اردو کی غفلت و لاپرواہی سے سرکاری دفتروں سے رہی سہی دانہ تنکہ اردو بھی غائب ہو رہی ہے اردو کے تعلق سے مہاراشٹر میں سرکاریں ہمیشہ زبانی جمع خرچ اور منافقانہ طرز ورویہ اختیار کئے ہوئے ہی۔ریاست یوپی کو اردو کا قبرستان بنادینے والے گووند ولبھ پنت اور سمپورن آنند تھے جو تھے تو کھدر دھاری کانگریسی لیکن فطری اور پیدائشی طور پر آر ایس ایس ذہنیت کے حامل اور آر ایس ایس کی اردو دشمن پالیسی پر گامزن کانگریسی لیڈران تھی۔مہاراشٹر میں بھی ان فسطائی طاقتوں اور فرقہ پرستوں نے اردو کو پنپنے نہیں دیا ۔ہندوستان بھانت بھانت کی بولی بولنے والا ملک ہے ۔جہاں الگ الگ زبانوں علاقوں سے تعلق رکھنے والے مذہب کے ماننے والے مختلف رنگ و نسل و قبیلہ کے افراد رہتے ہیں ،ان تمام لوگوں کو ہندوستانی تہذیب نے ایک لڑی میں باندھ رکھا ہے ۔اسی لڑی اور تہذیب کا ایک خوبصورت ہیرا اردو ہے ۔وطن عزیز میں اردو جہاں سیاسی تعصب کا شکار ہوئی ہے وہیں یہ زبان مذہبی تعصب کی مار بھی سہہ رہی ہے ۔مادہ پرستی کے اس دور میں مسلمان اپنے وجود کی بقا اپنی مذہبی شناخت ،روزگار ،ملازمت ،تعلیم ،روٹی کپڑا اور مکان کو تو مسئلہ مانتا ہے لیکن اردو کو مسئلہ نہیں مانتا ۔با لفاظ دیگر ملک کے مسلمان متذکرہ مسائل کے تئیں تو فکر مند نظر آتے ہیں ،اردو کے تعلق سے متفکر نظر نہیں آتے ۔ہندوستان کی آزادی اور اسکی تعمیر و ترقی میں کلیدی رول ادا کرنے والی اردو زبان خود اپنے دیار میں تنگ نظری کا شکار بنی ہوئی ہے ۔دستور سازی کے وقت آر ایس ایس ذہنیت کے حامل فرقہ پرست و کانگریسی اپنی من مانی کر گئے ۔اردو کی موجودہ صورت حال اسی من مانی کی مرہون ومنت ہے ۔اردو کا جنم سندھ میں ہوا محمد بن قاسم کی فوج میں عربی اور سندھی کے الفاظوں کے ارتباط سے اردو کے ابتدائی الفاظ تشکیل پائے ۔دکن میں ولی نے اسے پھولنے پھلنے کا موقع دیا اوراسے جوانی نصیب ہوئی۔اردو کے لغوی معنی لشکر کے ہیں ۔دلی کے قلعہ شاہی میں بولی جانے والی اعلیٰ زبان اردوئے معلیٰ تھی ۔صرف مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی اردو سے بے حد محبت رکھتے ہیں ۔اور اس شیریں زبان کے گرویدہ ہیں ۔پروفیسر گوپی چند نارنگ ،پریم چند ،نند کشور وکرم،کرشن چندر ،رتن ناتھ سرشار ،برج نرائن چکبست،راجندر سنگھ بیدی،آنند نرائن ملا،پنڈت آنند موہن ،گلزار زتشی دہلوی،برج موہن دتہ ،ترلوک چند محروم،پروفیسر جگن ناتھ آزاد ،کالی داس گپت رضا،کنہیا لال کپور اور مہندر سنگھ بیدی سحر محبان اردو میں ہیں اور اردو زبان کا سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر ان سے بڑا کوئی دوسراوکیل نہیں۔ان افراد کی پہچان بھی اردو کی بدولت ہی۔حقیقت میں زبان اردو غیر فرقہ واریت اور بقائے باہم کا پیغام ہے ۔برادران وطن کا اردو زبان کی ترقی و ترویج میں بڑا اہم حصہ رہا ہی۔گوپی چند نارنگ نے اردو کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر کہا تھا کہ اردو زبانوں کا تاج محل ہے ۔لارڈ ولزلی نے اردو اور ہندی کے فروغ کیلئے کلکتہ میں 1800 میں فورٹ ولیم کالج کے قیام کا اعلان کیا تھا ۔فورٹ ولیم کالج کے معماروں کی مساعی کی بدولت اردو زبان بھی ایک بلند سطح پر پہنچی ۔آج ہمارے اپنے اس زبان کے فروغ کی کوششوں سے پتہ نہیں کیوں غافل ہیں؟دہلی میں پروان چڑھنے والی اردو زبان کی آبیاری حید رآباد دکن نے کی ۔لکھنوء نے اس کی نوک پلک کو سدھارنے کا کام کیا ۔علی گڑھ نے نفاست اور کلکتہ کے فورٹ ولیم کالج نے اسے مضبوط بنیاد عطا کی جس کے بعد اسے ایک مکمل زبان کا درجہ حاصل ہوگیا۔جب یہ زبان مہاراشٹر میں داخل ہوئی تو عوام کے دلوں میں اتر گئی ۔اردو ملک کی جنگ آزادی کی زبان ہے ۔جنگ آزادی کا حیات آفریں نعرہ ’’انقلاب زندہ آباد‘‘ بھی اردو ہی کی دین ہی۔
P
                اردو کے پہلے صحافی اور اردو اخبار ’دہلی ‘ کے ایڈیٹر مولوی محمد باقر کو انگریزوں نے پھانسی دی تھی ۔اردو اور مسلمانوں کے لہو کی  دھار سے وطن عزیز کی غلامی کی بیڑیاں کٹیں ۔اردو ایک زبان ہی نہیں ایک تحریک بھی ہے ،صدیوں پرانی تہذیب و ثقافت کی ایک تاریخ بھی ہی۔اردو بولنے میں جتنی شیریں اور ہر دل میں اتر جانے والی زبان ہے  وہیں وہ ایک سخت جان زبان بھی ہے ۔اردو کے چراغ نے برطانوی سامراج کے سورج کو نگل لیا اور آج برطانوی سامراج کا سورج غروب ہو چکا ہے ۔اردو اپنی لطافت ،نزاکت اور شیرینی کی وجہ سے نئی بستی تو بسا رہی ہے لیکن سرکاری درجہ و اعزاز سے محروم ہے ۔اردو نے ہی انقلاب و آزادی کی راہ ہموار کی ۔اردو وہ دوشیزہ ہے جس نے گنگا کی پاکیزہ لہروں میں غسل کیا ۔جمنا کے شفاف پانی میں تاج محل کے عکس کے مقابل اپنے گیسو سنوارے ۔حضرت امیر خسرو نے جسے نغمگی بخشی۔کبیر داس سے جس نے لطافت اور لچکدار ی کا ہنر سیکھا۔لشکر نے جس کی آبرو کی حفاظت کی وہ اردو اپنے دیش اپنے وطن میں مہاجر بن گئی یا بنادی گئی ۔مقدس گنگا کی روانی والی نہایت خوبصورت اور شیریں زبان ہے اردو۔اردو ہر قوم و طبقے کی پسندیدہ زبان ہے ۔اردو کے تعلق سے ایک غلط فہمی سنگھ پریوار نے پیدا کر رکھی ہے کہ یہ تقسیم کی زبان ہے جبکہ ایسا قطعا ً نہیں ہے ۔اردو کو جتنا دبایا جارہا ہے اتنا ہی یہ ابھر رہی ہے ۔یہ ہندوستان کے گلی کوچوں میں بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے ۔ممبئی کے بالی ووڈ میں بننے والی فلموں کی زبان بھی اردوہے لیکن تعصب اور تنگ نظری کی وجہ سے ہندی کے سرٹیفیکیٹ دئے جارہے ہیں۔کئی فلمیں ایسی بھی ہیں جن کے لئے اردو کا سرٹیفیکیٹ بھی طلب کیا گیا ہی۔اردو کو مسلمانوں کی زبان بنا کر رکھ دیا گیا ہی۔اردو اخبارات کی کوئی حیثیت نہیں ہی۔رشوت کے بغیر سرکاری اشتہارات کا حسول ممکن ہی نہیں ہے اور غیر ملکی وفود میں اردو صحافیوں کو شامل نہیں کیا جاتا ۔اردو اخبارات بھی سرکار کی چشم التفات سے محروم ہیں ۔اردو اخبارات کو امداد کی نہیں اشتراک کی ضرورت ہی۔  
                اردو اخبارات کے قاری تو بہت ہیں لیکن خریدار کم ہیں نیوز پرنٹ مہنگا ہے ۔اشتہارات نا کے برابر ہیں ۔پھر اردو بھلا کیسے پنپے گی ۔اردو اخبارات اور ماہنامے دیگر اشاعت والے اخبار اور میگزین میں تیسرے نمبر میں ہیں ۔مہاراشٹر سرکار نے سرکاری رسالے لوک راجیہ ہندی اور لوک راجیہ انگریزی کی جانب تونگاہ ضرور کی لیکن لوک راجیہ اردو کو فراموش کرچکی ہے ۔یہ بات تو طے ہے کہ اخبارات رسالے اور میگزین کا مطالعہ یقینا زبان کی ترقی میں مدد دیتا ہے ۔ہمارا ایک طبقہ اس بات پر مصر رہتا ہے کہ اردو میڈیم کے طلباء نکھٹو ہوتے ہیں۔ان میں اعتماد کی کمی اور ذہانت کا فقدان ہوتا ہے وہ کسی بھی میدان میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو پاتے ۔جبکہ انگریزی میڈیم کے طلباء معرکہ سر کر لیتے ہیں اس سوچ نے بھی اردو کو نقصان پہنچایا ہے ۔اگر یہی سوچ مراٹھی والا رکھے تو مہاراشٹر میں مراٹھی کو کبھی عروج حاصل نہیں ہوتا ۔لیکن مرہٹی والوں کی مثبت سوچ نے زبان اور عوام دونوں کو کامیابی سے ہمکنار کردیا ۔اردو میڈیا اس بات کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتا ہے کہ اردو کو اس کا حق اور وقار ملے اردو میڈیا مسلمانوں کے جذباتی اٹھانے یا ان کے مسائل کو جذباتیت کی ہوا دینے کے بجائے ان کی معاشی اور تعلیمی مسائل کو آئینی و قانونی و زمینی حقائق کی شکل میں دیکھ رہا ہے اور قارئین کو دکھا بھی رہا ہے ۔محبان اردو خود اور مدارس کے مدرس و ذمہ داراپنی اولادوں کو انگریزی میڈیم اسکولوں میں داخل کروارہے ہیں ۔ان کی اولادیں اردو سے نابلد ہیں ۔ہم مردم شماری فارم کے زبان کے خانہ میں اردو نہیں لکھواتے ۔اردو میڈیم کی تعلیم خود اردو والوں کی ترجیحات میں نہیں ہے ۔اردو کی روزی روٹی کھانے والے اور اردو کی ہی شہرت کا تاج اپنے سروں پر سجائے گھومنے والوں کی اولادیں اردو سے نابلد ہیں۔کیفی اعظمی علی سردار جعفری اور ظ انصاری کی اولادیں اسکی واضح مثالیں ہیں ۔اردو کی لڑائی اردو والوں کو ہی لڑنی پڑے گی کسی دوسرے سے توقع کرنا کہ ہماری لڑائی دوسرے لڑینگے حماقت کا سب سے آخری درجہ ہے ۔۔اردو کو روٹی روزی سے جوڑنا بھی ایک بنیادی ضرورت ہے ۔اردو اساتذہ اور مدرسین اپنے فرائض سے چشم پوشی کر رہے ہیں ۔سچے و نیک جذبے سے اس خوبصورت زبان کی بقا کیلئے اچھے طالب علم تیار کرنے کی مساعی جمیلہ نہیں کر رہے ہیں ،افسوس کہ اب مساجد اور خانقاہوں سے بھی اردو نکالی جارہی ہے اور اس کی جگہ ہندی یا علاقائی زبانیں بستی جارہی ہیں ۔اردو کو پرائمری اسکولوں کے نصاب سے خارج ہی کر دیا گیا ہے ۔اغیار کی منصوبہ بند سازش اور سیاسی لیڈران کی منافقت کا نتیجہ ہے کہ اردو اسلامی مدارس میں محصور ہو کر رہ گئی ہے ۔اردو کو مدرسوں تک محدود کر دیا گیا اردو کے فروغ سے متعلق گجرال کمیٹی رپورٹ اور 92-93 فسادات کی تحقیقات کے لئے قائم کئے گئے جسٹس شری کرشنا کمیشن رپورٹ دونوں ہی کو سرد خانے میں ڈال کر اردو کے فروغ کی راہ کو مسدود کردیا گیا ۔پریہ رنجن داس منشی نے کہا تھا کہ حکومت اردو صحافت کو فروغ دینے کے وعدے کی پابند ہے ۔کئی مرحلے کے بعد اردو اکیڈمی کی تشکیل نو ہوئی جسمیں حیرت انگیز طور پر اورنگ آباد اور مالیگائوں کو نمائندگی نہیں دی گئی جہاں اردو کی اشاعت و ترویج بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے ۔یہ علاقہ گہوارہ علم و ادب سے مشہور بھی ہے ۔ایک عدد اقلیتی اپاہج وزارت قائم کرکے سرکار سمجھ رہی ہے کہ اس نے مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھ دیا ہے ،یقینا یہ اسکی خام خیالی ہے ۔سرکار مہاراشٹر میں اردو کو سرکاری درجہ عطا کرنے کیلئے ٹھوس اور مضبوط اقدام کرے ۔مہاراشٹر سرکار اردو کو اس کا جائز حق دے ۔حقیقت سے راہ فرار کامیابی کا گمان تو پیدا کرسکتی ہے کامیابی سے ہمکنار نہیں کر سکتی ۔ہمہ جہت مربوط اور جارحانہ کوششیں مقصد کی بر آمدگی کیلئے ضروری ہیں ۔اردو کو اس کا حق دلانے کیلئے یہ اکسیر بھی ہے ۔ہوا کے مخالف میں کشتی لیجانے کی صلاحیت رکھنے والے افراد تعریف کے مستحق ہوتے ہیں ۔اور وہی اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوتے ہیں ۔زندہ قوموں کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے کہ ان کی نگاہیں مستقبل پر ہوتی ہیں ۔سرکار کو محبان اردو کے جذبات و احساسات کا خیال رکھنا چاہئے ۔اب انتخابات کا زمانہ آنے والا ہے ۔سیکولر امیدواروں کی ایک بھیڑ ہے ۔اردو کو سرکاری درجہ دلانے کیلئے ہم لیڈران پر اپنا دبائو بھی بناسکتے ہیں ۔دلت اور مسلم دو قومیں بادشاہ گر واقع ہوئی ہیں بشرط کہ مسلمانوں میں انتشار کی فضا قائم نہ ہو ۔اردو کیلئے ہم اپنے مطالبات میں شدت پیدا کریں ۔احتجاج جمہوریت کی روح ہے ۔کڑے سے کڑے اور سخت سے سخت احتجاج کے ذریعہ سرکار کی توجہ اپنی جانب مبذول کراسکتے ہیں۔
نور محمد حسن۔۔موبائل:982053406

Monday, February 04, 2013

شادمانی مبارک ہو



لنترانی میڈیا ہاؤس  کے خیر خواہ     ، دور درشن  نیوز کے ڈپٹی ڈائریکٹر  اور مشہور و معروف شاعر و ادیب   جناب   احمد منظور صاحب اور محترمہ بلقیس احمد منظور صاحبہ کے بڑے   صاحب زادے  عمّار شیخ  کی شادی خانہ آبادی  ارشاد احمد کی دختر نیک اختر  مسّرت نازکے ساتھ  بروز  اتوار مورخہ 20 جنوری 2013ء کو بخیر و خوبی انجام  پائی ۔دولھا  اور دولھن کو  نیک خواہشات اور دعاؤں سے نوازنے کے لیۓ مشہور و معروف شخصیات موجود تھیں۔لن ترانی میڈیا ہاؤس کی ٹیم   دولھا دولہن اور  محترم احمد  منظورصاحب اور محترمہ بلقیس صاحبہ کو دل کی اتھا گہرايئوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔اور بارگاہ خداوند قدوس میں دعا گو ہیں کہ اللہ جوڑے کو  تمام تر خوشیاں عطا فرماۓ ۔آمین  ثمّہ  آمین



Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP