You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Wednesday, March 13, 2013



Saturday, March 09, 2013





کرناٹک اردو اکیڈمی نے مجھے ایک شناخت دی ہی
یہ میرا نہیں کرناٹک اردو اکیڈمی کا اعزازہے : ڈاکٹرحافظ کرناٹکی
بنگلور … ( پریس ریلیز ) …کرناٹک اردو اکیڈمی میں آج چیرمین حافظ کرناٹکی کی آمد پر اکیڈمی کے عملے نے آپ کا پرجوش استقبال کیا ان کا شال اور گلپوشی کے ذریعہ استقبال کیا ۔ حافظ کرناٹکی کو ڈاکٹریٹ کے اعلان کے بعد سے ہی اکیڈمی کو ریاست و بیرون ریاست سے فون کالس کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا، ایسا لگ رہا تھا کہ حافظ کرناٹکی کو ڈاکٹریٹ کے اعزاز سے نواز کر اکیڈمی کو چار چاند لگا دئے اور اکیڈمی کی رونق کو دوبالا کردیا ۔ رجسٹرار ایس مرزا عظمت اللہ نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کرناٹک کی ایک تاریخ ساز شخصیت ہیں۔ میں ان کے اعزاز کی تائید کرتا ہوں، گلبرگہ یونیورسٹی نے اپنے 31 ویں سالانہ کانوکیشن میںڈاکٹریٹ سے ایک صحیح شخصیت کو نوازا ہے ۔ آپ کی فعال شخصیت، روشن خیالی اور متاثر کرنے والی تحریروں و تقریروں کا ایک زمانہ اعتراف کرتا ہے ۔ آپ نے اپنے صرفہ خاص سے جو اردو ادباء و شعراء جو گمنامی میں چلے گئے تھی، انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی خدمات کاا عتراف کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے ، آپ کی اردو نوازی کا زندہ جاوید ثبوت ہے ۔ آج کرناٹک اردو اکیڈمی کے سارے عملے کو حافظ کرناٹکی کو تہنیت پیش کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے ۔ اس موقع پر ڈاکٹرحافظ کرناٹکی نے کہا کہ مجھے جو اعزاز ملا ہے ، یہ ہمارے اردو ادیب ، شاعر ، اردو انجمنیں ، ہمارے علما، صحافی حضرات ، اساتذہ ، طلبہ و طالبات کی دعاؤں کا ثمرہ ہے جس کی بدولت کرناٹک اردو ادب کے گہوارے گلبرگہ یونیورسٹی سے مجھے ڈاکٹریٹ کا اعزاز حاصل ہوا۔ اردو کا یہ ادنیٰ خادم تمام اردو حلقوں کا شکریہ ادا کرتا ہے جن کی محبت بھری نگاہیں مجھ پر پڑیں جن کی نگاہوں نے میرا حوصلہ بڑھایا اور مزید کام کرنے پر اکسایا ۔ میں آگے اسی طرح اپنے سفر کو جاری رکھوں گا، جو تعاون آپ نے اب تک دیا ہے ، امید ہے کہ آئندہ بھی وہ تعاون جاری رہے گا ۔ اس موقع پر اکیڈمی کے اسٹاف کے علاوہ شعراء و ادباء و دیگر اردو نواز احباب کے علاوہ ناطق علی پوری اور جناب سید اعجاز احمد وغیرہ احباب شریک رہے ۔ اس موقع پر آفتاب نظامت جناب ناطق علی پوری، صدر بزم میثم ، علی پور نے بھی علی پور کی تمام انجمنوں کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے حافظ کرناٹکی اور ایس مرزا عظمت اللہ کی گلپوشی و شال پوشی کی اور اپنے خیالات کا یوں اظہار کیا کہ اردو کی ترقی کے لئے یونہی ہم سب مل کر کام کرتے ہوئے ایک دوسرے کی خوشیوں میں برابر کے شریک ہوں۔تاج پرنٹرس کے نمائندہ جناب سید اعجاز احمد نے بھی تاج پرنٹرس کے تمام عملے کی جانب سے اپنی نیک تمناؤں کا اظہا رکیا اور گلپوشی کی ۔ آخر میں منصور گرافکس کے مالک جناب منصور علی خان صاحب نے منصور گرافکس کے تمام عملے کی جانب سے ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کی گلپوشی کی اور مبارکباد پیش کی۔یہ جلسہ جناب ناطق علی پوری کی جانب سے مٹھائی کی تقسیم پر ختم ہوا ۔

Thursday, March 07, 2013

تاثرات بموقع اعزازی سند










آج بروز بدھ بتاریخ 06-03-2013 بوقت 9بجے گلبرگہ یونیورسٹی کے 31کانویکیشن میں گیارہ افراد کو ڈاکٹریٹ سے نوازا گیا۔ جس میں اردو زبان و ادب کی خدمت پر حافظ کرناٹکی ڈاکٹریٹ سے نوازا گیا۔ اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ کرناٹکی نے اپنے کچھ تاثرات پیش کئی۔ جو مندرجہ ذیل ہی:
Kبعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو اوراق زندگی پر نقش ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اور کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دراصل زندگی تو انہیں واقعات کی زائیدہ ہی۔ آج کا دن جو میری زندگی کے اہم ترین واقعے کا ضامن ہی۔ میرے لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہی۔ میں اس ریاست میں پیدا ہوا، اسی کی آب و ہوا میں پروان چڑھا۔ یہیں پڑھا اور پڑھایا اور یہیں سے شعر و ادب کے سفر کاآغاز کیا۔ اور یہیں کی ایک اہم یونیورسٹی نے مجھے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے سرفراز کیا۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ مجھے اس تاریخی شہر کی یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی سند عطا کی ہے جو اردو کے گہوارے کی حیثیت رکھتا ہی۔
اگر میں اس موقع سے اپنے قارئین اردو برادری کے احباب، اور بالخصوص عزت مآب گورنر کرناٹک، اور وائس چانسلر کا شکریہ ادا نہ کروں تو بڑی ناانصافی ہوگی۔ اس اعزازی سند کے بعد میں خود پر ایک بڑی ذمہ داری محسوس کر رہا ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ جس زبان کے حوالے سے مجھے یہ سند دی گئی ہے مجھے اس زبان اور اس کے ادب کے لیے اب اور بھی زیادہ لگن سے کام کرنا ہوگا۔
میںنے حسب روایت اپنے ادبی سفر کا آغاز غزل سے کیا۔ مگر بہت جلد ادب اطفال کی طرف متوجہ ہوگیا اور پھر ہمیشہ کے لیے اسی کا ہو کر رہ گیا۔ بچوں کا ادب اور بچوں کی تعلیم و تربیت میری زندگی کا مقصد بن گیا۔ میں نے جہاں بچوں کے لیے اردو تعلیم کا حتی المقدور بہترین انتظام کیا، وہیں ادب اطفال کی ترقی کے لیے بھی شب و روز محنت کی جو آج بھی جاری ہی۔ کرناٹک اردو اکیڈمی کی صدارت کی ذمہ داری سنبھالتے ہی میں نے اردو کے فروغ کے لیے ہر سطح پر کوشش تیز کردی۔ اور ہر طرح کے پروگراموں کو اہمیت دی تاکہ زبان و ادب کے فروغ کی راہیں روشن ہوں۔ آج جو مجھے اعزاز مل رہا ہے یہ اسی زبان اردو کی خدمت کا فیض ہی۔ اردو کے معمولی خادم کو بھی اتنے بڑے بڑے اعزاز مل جاتے ہیں۔ اس کے باوجود بعض ناعاقبت اندیش لوگ اس زبان کی افادیت، اہمیت، اور اس کے مستقبل سے مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنا محاسبہ کرنا چاہےی۔ اور اپنی زبان کی ترقی کے لیے نئے جذبے کے ساتھ آگے آنا چاہےی۔

Tuesday, March 05, 2013

حافظ امجد حسین کرناٹکی صاحب گلبرگہ یونیورسٹی کرناٹک کے اعزازی ڈاکٹریٹ کے لیۓ منتخب



جناب امجد حسین کرناٹکی صاحب  کرناٹک  اردو اکیڈمی کے چیئرمین  ہیں ۔ ان کی علمی ادبی  خدمات ،  ادب اطفال و جملہ  خدمات  کے لیےء آپ کو گلبرگہ  یونیورسٹی میں ہورہے کنووکیشن میں بروز بدھ مورخہ 6 مارچ 2013ء کو صبح نو بجے عزت مآب  گورنر ہنس راج بھاردواج  کے ہاتھوں  اعزازی ڈاکٹریٹ  کی ڈگری  تفویض  کی جاۓ گی ۔اس  اس خبر سے  کرناٹک اور ملک کے دیگر  علاقوں میں خوشی  کی لہر دوڑ گئی ہے ۔  امجد حسین کرناٹکی  صاحب  ایک فعال  شخصیت  ہیں ۔ اور  یقین ہے کہ اس ڈگری کے ملنے کے بعد اور تندہی سے اردو کی خدمات  کریں ۔اردو کی  معزّز  ہستیوں نے  انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لیۓ پرمسرت مبارکباد دی ہیں ۔  چونکہ  جناب امجد حسین کرناٹکی صاحب ہمارے  لنترانی میڈیا ہاؤس کا ایک اہم  ستون ہے ۔ جو کہ اردو کی فروغ کے لیۓ کوشاں ہیں ۔ ہم  لنترنی کی ٹیم  اور میڈیا ہاؤس  دل کی عمیق  گہرائيوں سے  مبارک باد  پیش کرتے ہیں ۔اور خوشی محسوس کر رہے ہیں ۔ یہ  ڈگری بالکل صحیح انسان کو دی جارہی ہے ۔ جو کہ اس ڈگری کے حقدار ہیں ۔ہم  پھر ایک بار مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔اور دیا کرتے ہیں کہ  اللہ اس طرح کرناٹکی صاحب کو ترقی و کامرانی عطا کر ے آمیں ّثمہ آمیں ۔


Sunday, March 03, 2013

ر ہنماے اسکالر شیپ کا اجراء






کل ہند تعلیمی کانفرنس بعنوان  سول سرسیز امتحان اور اردو زبان   و   رہنمائے سول سروسیز کتا ب کا اجرا
            ’’ انقلاب لانے کے لیے تھوڑے لوگ بھی کافی ہوتے ہیں۔ہمیں سماج میںبیداری لانے کی ضرورت ہی۔ ‘‘  
                                                                                                                              مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی
مالیگاؤں (پریس ریلیز)   :  ۴۲فروری  ۳۱۰۲؁ء بروز اتوار کو وِژن سول سروسیز کے تحت ’’سول سروسیز امتحان اور اردو زبان‘‘ کے عنوان پر مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں میں کل ہند تعلیمی کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا ۔یہ کانفرنس محمد عمر ایجوکیشنل ریسرچ سینٹر، مالیگاؤں اورمہاراشٹر ساہتیہ پریشد، شاخ مالیگاؤں(رجسٹرڈ) کے اشتراک سے منعقد کی گئی تھی۔قاری خلیل احمد کی تلاوتِ کلامِ پاک سے کانفرنس کا آغا ز ہوا۔ابتدا میں  وِژن سول سروسیز اورکانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے اشفاق عمر نے وِژن سول سروسیز سے متعلق تفاصیل پیش کیں اور واضح انداز میں کہا کہ سماج کے اشتراک سے ہی وِژن سول سروسیز کی عمل آوری ممکن ہے اور اہل اور قابل بچوں کی ہمہ جہت ترقی میں معاونت کرنے کے لیے سماج کو اب متحرک اور باعمل ہونا پڑے گا۔ ایڈوکیٹ خلیل احمد انصاری نے کانفرنس کے مقاصدپر روشنی ڈالی اور زور دے کر کہا کہ کسی بھی قوم کی  ترقی اس کے نوجوانوں پر منحصر ہوتی ہی۔ انہوں نے شہر مالیگاؤں میںای۔ لرننگ سینٹر کے قیام کا ارادہ ظاہر کیا۔
             اشفاق عمر نے سول سروسیز کے موضوع پر ایک ضخیم کتاب تیار کی ہی۔ ہندوستان کی اس اولین جامع رہنما کتاب ’’ رہنمائے سول سروسیز ‘‘ کامحترم سلیم انور کے دستِ مبارک سے اجراء عمل میں آیا۔مس شاہین قادری صاحبہ، (ریٹائرڈ جوائنٹ سکریٹری، مائناریٹی ڈپارٹمنٹ، گورنمنٹ آف مہاراشٹر) نے سول سروسیز امتحان میں خواتین کی کم شمولیت، کے عنوان پر اپنا پرمغز مقالہ پیش کیا۔انہوں نے خواتین کی کم شمولیت کی تفاصیل بتاتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا کہ اب ہمیں اپنے دائرے سے نکلنا ہوگااور خواتین کو چاہیے کہ وہ تمام اقسام کی سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھائیں۔محترم یوگیش چوہان صاحب (YSP،مالیگاؤں) نے اپنی مخاطبت میں واضح طور پر کہا کہ ہمیں ان باتوں پر دھیان دینا چاہیے کہ ہم سماج کے لیے کون سی اچھی باتیں کرسکتے ہیں۔
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP