You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Wednesday, May 11, 2016

حضرت شیخ الاسلام امام غزالی نے احیاء العلوم میں ایک حاسد آدمی کی یہ حکایت فرمائی ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوکر یہ کہا کرتا تھا کہ نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرو اور محسن کے احسان کا بدلہ دو کیوںکہ برائی کرنے والے کی برائی تمہاری طرف سے خود کفایت کرے گی۔ یہ شخص بادشاہ کے سامنے یہ نصیحت کیا کرتا تھا جس سے اس کی بڑی عزت تھی۔ اس کی عزت، عظمت اور مرتبہ کو دیکھ کر ایک شخص کو حسد پیدا ہوگیا۔ اس نے بادشاہ سے شکایت کی کہ یہ شخص حضور کے سامنے کھڑا ہوکر گندہ دہن بتاتا ہے۔ بادشاہ نے کہا اس کی تصدیق کیسے ہو؟ حاسد نے کہا جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ اسے اپنے قریب بلا لیجیے، جب وہ آپ کے بالکل قریب آجائے گا تو اپنی ناک بند کرلے گا، تاکہ آپ کے منہ کی بدبو نہ آنے پائے۔ بادشاہ نے کہا بہت اچھا، کل امتحان کریں گے۔ ادھر اس حاسد نے بادشاہ سے یہ کہا، ادھر اس نے جاکر اس ناصح و نیک آدمی کی دعوت کرکے ایسا کھانا کھلایا جس میں لہسن بہت سا تھا۔ یہ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوا تھا کہ دربار کا وقت آگیا۔ بدستور سابق بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے وہی جملہ کہا جو کہا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس کو اپنے پاس بلانے کا اشارہ کیا، اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تاکہ اپنے منہ کی بدبو بادشاہ تک نہ پہنچنے پائے۔ منہ پر ہاتھ رکھے وہ بادشاہ کے پاس پہنچ گیا۔ بادشاہ کو کل کی بات پر یقین آگیا کہ وہ بات بالکل سچ ہے، جو حاسد نے کہی تھی۔ اسی وقت بادشاہ نے اپنے ہاتھ سے اپنے خاص گورنر کے پاس اس مضمون کا ایک خط لکھا کہ جب حامل رقعہ ہذا تمہارے پاس پہنچے تو فوراً اسے قتل کرکے اس کے چمڑے میں بھس بھروا کر ہمارے پاس بھیج دو۔ اس خط کو اس شخص کے حوالے کرکے کہا کہ فلاں حاکم کے پاس اس خط کو لے جاؤ۔ چناںچہ وہ خط لے کر بادشاہ کے دربار سے باہر آیا۔ اس بادشاہ کا دستور تھا کہ جب وہ دستی خط لکھتا تھا تو کسی کے نام جاگیر و انعام کے لیے لکھتا تھا۔ راستہ میں وہی حاسد ملا، اس کے ہاتھ میں خط دیکھ کر پوچھا یہ کیا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ شاہی خط ہے جو مجھے لکھ کر دیا ہے کہ فلاں حاکم کے پاس لے جاؤں۔ اس حاسد نے یہ سمجھا کہ اس شاہی خط میں بادشاہ نے کچھ انعام اور جاگیر کے لیے لکھا ہوگا۔ اس حاسد نے اس شخص سے کہا کہ یہ خط مجھے دے دو میں لے جاؤں گا۔ اس شخص نے کہا کہ اچھا میں تمہیں یہ خط ہبہ کرتا ہوں، لے جاؤ۔ اس حاسد نے اس خط کو انعام کے لالچ میں اس حاکم کے سامنے لے جا کر پیش کیا۔ حاکم نے اس خط کو پڑھ کر حامل رقعہ سے کہا کہ اس خط میں بادشاہ نے یہ لکھا ہے کہ میں تمہیں قتل کرکے تمہاری کھال کھنچوا کر اس میں بھس بھروا کے بادشاہ کے پاس بھیجوں۔ تو یہ حاسد حامل رقعہ بہت گھبرایا اور کہنے لگا کہ یہ دوسرے کا خط ہے جو میں لے آیا ہوں، خدا کے واسطے یہ خط مجھے واپس کردو۔ میں بادشاہ کے پاس واپس لے جاؤں۔ اس حاکم نے کہا کہ بادشاہ کا آیا ہوا خط واپس نہیں جاسکتا۔ اب میں تم کو قتل کروں گا اور بادشاہ کے حکم کے مطابق تمہارے چمڑے میں بھس بھروا کر بادشاہ کے پاس بھیجوں گا۔ چناںچہ اس حاسد کو قتل کرا کر اس کے چمڑے میں بھس بھروا کر بادشاہ کے پاس بھیج دیا۔ ادھر وہ نیک شخص جو بادشاہ کے سامنے روزانہ کھڑا ہوکر یہ کہا کرتا تھا کہ محسن کے احسان کا بدلہ اچھا دینا چاہیے کیوںکہ برائی کرنے والے کو خود اس کی برائی ہلاک کرے گی بادشاہ کے پاس گیا اور اپنی عادت کے مطابق وہی کہا تو بادشاہ کو بہت تعجب ہوا کہ میں نے تو اسے قتل کرانے کے لیے فلاں حاکم کے پاس بھیج دیا تھا، یہ کیسے آگیا اور پھر حاسد کا بھس بھرا چمڑہ بھی آگیا تو بادشاہ نے پوچھا یہ کیا ماجرا ہے۔ اس بزرگ شخص نے کہا حضور اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ بادشاہ نے اس سے کہا کہ اس نے تمہارے متعلق مجھ سے کہا تھا کہ تم میری برائیاں کرتے پھرتے ہو اور مجھے گندہ دہن کہتے ہو۔ اس نے کہا کہ میں نے ہرگز یہ بات نہیںکہی ہے۔ بادشاہ نے کہا جب میں نے تمہیں اپنے پاس بلایا تھا تو تم نے اپنے ہاتھ کو اپنے منہ پر کیوں رکھ لیا تھا؟ اس نے کہا کہ اس نے میری دعوت کی تھی اور کھانے میں لہسن ڈال دیا تھا۔ آپ نے مجھے بلایا، میں آگیا، تو میں نے اپنے دل میں یہ خیال کیا کہ لہسن کی بدبو آپ کو ناگوار گزرے گی، اس لیے میں نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تاکہ آپ کو بدبو نہ پہنچے۔ بادشاہ نے کہا، سچ ہے تم اپنا کام کرو، بدی کرنے والے کو اس کی بدی تمہاری طرف سے کافی ہوگئی۔ سچ فرمایا اللہ نے: وَلَا یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّیءُ اِلَّا بِاَہْلِہٖ۔ (فاطر:۴۳) اور بری تدبیر کرنے والوں کا وبال ان بری تدبیر کرنے والوں ہی پر پڑتا ہے۔

حضرت شیخ الاسلام امام غزالی نے احیاء العلوم میں ایک حاسد آدمی کی یہ حکایت فرمائی ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوکر یہ کہا کرتا تھا کہ نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرو اور محسن کے احسان کا بدلہ دو کیوںکہ برائی کرنے والے کی برائی تمہاری طرف سے خود کفایت کرے گی۔ یہ شخص بادشاہ کے سامنے یہ نصیحت کیا کرتا تھا جس سے اس کی بڑی عزت تھی۔ اس کی عزت، عظمت اور مرتبہ کو دیکھ کر ایک شخص کو حسد پیدا ہوگیا۔ اس نے بادشاہ سے شکایت کی کہ یہ شخص حضور کے سامنے کھڑا ہوکر گندہ دہن بتاتا ہے۔ بادشاہ نے کہا اس کی تصدیق کیسے ہو؟ حاسد نے کہا جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ اسے اپنے قریب بلا لیجیے، جب وہ آپ کے بالکل قریب آجائے گا تو اپنی ناک بند کرلے گا، تاکہ آپ کے منہ کی بدبو نہ آنے پائے۔ بادشاہ نے کہا بہت اچھا، کل امتحان کریں گے۔ ادھر اس حاسد نے بادشاہ سے یہ کہا، ادھر اس نے جاکر اس ناصح و نیک آدمی کی دعوت کرکے ایسا کھانا کھلایا جس میں لہسن بہت سا تھا۔ یہ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوا تھا کہ دربار کا وقت آگیا۔ بدستور سابق بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے وہی جملہ کہا جو کہا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس کو اپنے پاس بلانے کا اشارہ کیا، اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تاکہ اپنے منہ کی بدبو بادشاہ تک نہ پہنچنے پائے۔ منہ پر ہاتھ رکھے وہ بادشاہ کے پاس پہنچ گیا۔ بادشاہ کو کل کی بات پر یقین آگیا کہ وہ بات بالکل سچ ہے، جو حاسد نے کہی تھی۔ اسی وقت بادشاہ نے اپنے ہاتھ سے اپنے خاص گورنر کے پاس اس مضمون کا ایک خط لکھا کہ جب حامل رقعہ ہذا تمہارے پاس پہنچے تو فوراً اسے قتل کرکے اس کے چمڑے میں بھس بھروا کر ہمارے پاس بھیج دو۔ اس خط کو اس شخص کے حوالے کرکے کہا کہ فلاں حاکم کے پاس اس خط کو لے جاؤ۔ چناںچہ وہ خط لے کر بادشاہ کے دربار سے باہر آیا۔ اس بادشاہ کا دستور تھا کہ جب وہ دستی خط لکھتا تھا تو کسی کے نام جاگیر و انعام کے لیے لکھتا تھا۔ راستہ میں وہی حاسد ملا، اس کے ہاتھ میں خط دیکھ کر پوچھا یہ کیا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ شاہی خط ہے جو مجھے لکھ کر دیا ہے کہ فلاں حاکم کے پاس لے جاؤں۔ اس حاسد نے یہ سمجھا کہ اس شاہی خط میں بادشاہ نے کچھ انعام اور جاگیر کے لیے لکھا ہوگا۔ اس حاسد نے اس شخص سے کہا کہ یہ خط مجھے دے دو میں لے جاؤں گا۔ اس شخص نے کہا کہ اچھا میں تمہیں یہ خط ہبہ کرتا ہوں، لے جاؤ۔ اس حاسد نے اس خط کو انعام کے لالچ میں اس حاکم کے سامنے لے جا کر پیش کیا۔ حاکم نے اس خط کو پڑھ کر حامل رقعہ سے کہا کہ اس خط میں بادشاہ نے یہ لکھا ہے کہ میں تمہیں قتل کرکے تمہاری کھال کھنچوا کر اس میں بھس بھروا کے بادشاہ کے پاس بھیجوں۔ تو یہ حاسد حامل رقعہ بہت گھبرایا اور کہنے لگا کہ یہ دوسرے کا خط ہے جو میں لے آیا ہوں، خدا کے واسطے یہ خط مجھے واپس کردو۔ میں بادشاہ کے پاس واپس لے جاؤں۔ اس حاکم نے کہا کہ بادشاہ کا آیا ہوا خط واپس نہیں جاسکتا۔ اب میں تم کو قتل کروں گا اور بادشاہ کے حکم کے مطابق تمہارے چمڑے میں بھس بھروا کر بادشاہ کے پاس بھیجوں گا۔ چناںچہ اس حاسد کو قتل کرا کر اس کے چمڑے میں بھس بھروا کر بادشاہ کے پاس بھیج دیا۔ ادھر وہ نیک شخص جو بادشاہ کے سامنے روزانہ کھڑا ہوکر یہ کہا کرتا تھا کہ محسن کے احسان کا بدلہ اچھا دینا چاہیے کیوںکہ برائی کرنے والے کو خود اس کی برائی ہلاک کرے گی بادشاہ کے پاس گیا اور اپنی عادت کے مطابق وہی کہا تو بادشاہ کو بہت تعجب ہوا کہ میں نے تو اسے قتل کرانے کے لیے فلاں حاکم کے پاس بھیج دیا تھا، یہ کیسے آگیا اور پھر حاسد کا بھس بھرا چمڑہ بھی آگیا تو بادشاہ نے پوچھا یہ کیا ماجرا ہے۔ اس بزرگ شخص نے کہا حضور اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ بادشاہ نے اس سے کہا کہ اس نے تمہارے متعلق مجھ سے کہا تھا کہ تم میری برائیاں کرتے پھرتے ہو اور مجھے گندہ دہن کہتے ہو۔ اس نے کہا کہ میں نے ہرگز یہ بات نہیںکہی ہے۔ بادشاہ نے کہا جب میں نے تمہیں اپنے پاس بلایا تھا تو تم نے اپنے ہاتھ کو اپنے منہ پر کیوں رکھ لیا تھا؟ اس نے کہا کہ اس نے میری دعوت کی تھی اور کھانے میں لہسن ڈال دیا تھا۔ آپ نے مجھے بلایا، میں آگیا، تو میں نے اپنے دل میں یہ خیال کیا کہ لہسن کی بدبو آپ کو ناگوار گزرے گی، اس لیے میں نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تاکہ آپ کو بدبو نہ پہنچے۔ بادشاہ نے کہا، سچ ہے تم اپنا کام کرو، بدی کرنے والے کو اس کی بدی تمہاری طرف سے کافی ہوگئی۔
سچ فرمایا اللہ نے:
وَلَا یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّیءُ اِلَّا بِاَہْلِہٖ۔ (فاطر:۴۳)
اور بری تدبیر کرنے والوں کا وبال ان بری تدبیر کرنے والوں ہی پر پڑتا ہے۔

سعادت حسن منٹو

سعادت حسین منٹو صاحب یومِ پیدائش 11 مئی 1912
سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912 کو سمرالہ ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ والد غلام حسن منٹو قوم اور ذات کے کشمیری امرتسر کے ایک محلے کوچہ وکیلاں میں ایک بڑے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔ اور لدھیانے کی کسی تحصیل میں تعینات تھے
اے حمید کہتے ہیں کہ یہ کوئی اڑتیس برس ادھر کی بات ہے۔ ایک دبلے پتلے چھریرے بدن کے لڑکے نے مسلم ہائی سکول امرتسر میں ایک اودھم سا مچا رکھا تھا۔ اس کے ہم جماعت جب اسے ’’ٹومی‘‘ کہہ کر پکارتے (جو لفظ منٹو کی انتہائی بگڑی ہوئی شکل ہے) تو اس کی کشتی نما آنکھوں سے کھٹی میٹھی شرارتیں جھلکیاں لیتی نظر آتیں۔ گوراچٹا رنگ، ذرا کھلتی ہوئی پیشانی، کتابی چہرہ، باچھیں کھلی ہوئی سی، ناک کی پھنگی پرتل کا نشان (اگرچہ وہ ناک پر کبھی مکھی بھی بیٹھنے نہیں دیتا تھا) وہ اکثر سفید پتلون نما پاجامہ قمیض یا کھدر کا کرتا پہنے اپنے نئی سائیکل اور مودی کیمرہ لئے سکول کے آس پاس پھرتا رہتا۔ وہ سکول کے متعلق نت نئی خبریں ایجاد کرتا اور موٹے موٹے شلجم کے ٹکڑوں پر کاپنگ پنسل سے لکھے ہوئے الٹے حروف کو کسی محلول کی مدد سے کاغذ کے پرزوں پر چھاپ کر علی الصبح نوٹس بورڈ پر چسپاں کردیتا۔ موقع پاتا تو ایک پرزہ ہیڈ ماسٹر کی جیب میں بھی ڈال دیتا۔ اس کی حرکتوں سے سکول کی چاردیواری میں اکثر ایک ہنگامہ سا برپا رہتا۔
منٹو اپنے گھر میں ایک سہما ہوا بچہ تھا سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی اور والد کی سختی کی وجہ سے اپنا آپ ظاہر نہ کر سکتا تھا۔ اس کی والدہ اس کی طرف دار تھی۔ وہ ابتدا ہی سے تعلیم کی طرف مائل نہیں تھا۔ اس کی ابتدائی تعلیم گھر میں ہوئی۔
1921 میں اسے ایم اے او مڈل سکول میں چوتھی جماعت میں داخل کرایا گيا۔ اس کا تعلیم کریئر حوصلہ ا‌فزا نہیں تھا۔ میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کےبعد اس نے 1931میں یہ امتحان پاس کیا تھا۔ اس کے بعد اس نے ہندو سبھا کالج میں ایف اے میں داخلہ لیا لیکن اسے چھوڑ کر منٹو نے ایم او کالج میں سال دوم میں داخلہ لے لیا-
ابتداء میں انہوں نے لاہور کے رسالوں میں کام کیا پھر آل انڈیا ریڈیو دہلی سے وابستہ ہو گئے جہاں انہوں نے بعض نہایت کامیاب ڈرامے اور فیچر لکھے۔ بعدازاں بمبئی منتقل ہو گئے جہاں متعدد فلمی رسالوں کی ادارت کی اس دوران متعدد فلموں کی کہانیاں اور مکالمے بھی تحریر کئے۔قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور چلے آئے اور اپنی عمر کا آخری حصہ اسی شہر میں بسر کیا۔
منٹو کے موضوعات میں بڑا تنوع ہے۔ ایک طرف تو انہوں نے جنس کو موضوع بنایا۔ دوسری طرف ہندوستان کی جنگ آزادی سیاست، انگریزوں کے ظلم وستم اور فسادات کو افسانوں کے قالب میں ڈھال دیا۔ انہوں نے بیس برس کی ادبی زندگی مین دو سو سے زیادہ کہانیاں تحریر کیں ان کی حقیقت پسندی، صداقت پروری، جرات و بے باکی اردو ادب میں ضرب المثل بن چکی ہیں۔
منٹو کے آخری لمحات کا حال ان کے نامور بھانجے حامد جلال نے لکھا ہے "منٹو کو زندگی کے آخری لمحوں میں ھسپتال لے جایا جا رھا تھا ایمبولینس کے آنے سے پہلے صرف ایک یا دو بار منٹو نے اپنے منہ سے رضائی ہٹائی انہوں نے کہا مجھے بڑی سردی لگ رہی ھے اتنی سردی شاید قبر میں بھی نہیں لگے گی میرے اوپر دو رضائیاں ڈال دو کچھ دیر توقف کے بعد ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک نمودار ہوئی انہوں نے آھستہ سے کہا "میرے کوٹ کی جیب میں ساڑھے تین روپے پڑے ھیں ان میں کچھ اور پیسے ملا کر تھوڑی سی وہسکی منگا دو" شراب کے لیۓ ان کا اصرار جاری تھا ان کی تسلی کے لیے ایک پوا منگا لیا گیا انہوں نے بوتل کو بڑی عجیب آسودہ نظروں سے دیکھا اور کہنے لگے "میرے لیے دو پیگ بنا دو" منٹو ماموں کی آنکھوں میں اس وقت بھی اپنے لیے کوئی شائبہ موجود نہیں تھا"
سعادت حسن منٹو نے 18 جنوری 1955ء کو جگر کی بیماری میں وفات پائی۔ وہ لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ خدا انہیں غریق رحمت کرے

Monday, May 09, 2016

ڈاکٹر رو پیش بہت یاد آئے


لن ترانی میڈیا ہا ؤس کے روح رواں ,ڈاکٹر  روپیش سری واستو  آج سے چار برس پہلے  بتیس سال کی عمر میں اچانک حرکت قلب بند ہوجانے سے اس دار فانی سے کوچ کر گئے.وہ اردو ادب سے بے انتہا محبت کرتے تھے.ان کی کہانی ہمیں بار بار یاد آتی جو وہ اکثر سنایا کرتے تھے.
وہ آج بھی ہماری یادوں میں زندہ ہے..........

Thursday, May 05, 2016

Monday, April 18, 2016

اجتمائ شادیاں

         اجتماعی شادی یا غریبوں کی غربت کا مذاق

اجتماعی شادی کا بیڑہ اٹھاکر یتیم و بے سہارا خواتین کی خدمت کا درد رکھنے والے درحقیقت ان کے درد کو فروخت کرکے اپنی ویلفیئر کا دھندہ کرنے والے وہ ساھوکار ہیں جو غرباء یتامیٰ مساکین کی عزت نفس کا خون کرنے کے لیے معرض وجود میں لائے گئے ہیں.
ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر ایک لمحے کے لیے سوچیے تو سہی... ایک ہمدرد انسان بن کر....
اسٹیج پر ۱۵ دلہنیں اپنے ماتھے پر غربت کا ٹیکہ لگائے سجی سنوری بیٹھی ہیں...
دلہا کی پیشانی سے عرق ندامت ٹپک رہے ہیں..
معاشرے کے چند رؤسا اور بیگمات مائک ہاتھوں میں تھامے اعلان کررہے ہیں...
خواتین و حضرات متوجہ ہوں...
آج جن ۱۵ جوڑوں کی شادی میں آپ کو مدعو کیا گیا ہے یہ معاشرے کے وہ غریب ترین فرد ہیں  جن کو ہماری انجمن........ نے سہارا دے کر ان کی شادی کے مکمل اخراجات برداشت کیے..
ہماری یہ کاوش آپ کے سامنے ہے..
آئیے اور دل کھول کر اس نیک کام میں ہماری مدد کیجیے...
ہال تالیوں سے گونج رہا ہے...
مگر غیرت مند دلہا اور دلہنوں کا غربت کے اس اشتہار کو دیکھ کر دامن غیرت تار تار ہورہا ہے
اور وہ شرم کے مارے زمین میں گڑتے ہوئے دل ہی دل میں اپنے رب کی بارگاہ میں محو التجاء ہوتے ہیں...
باری تعالیٰ ہمیں جلد اس ذلت کدے سے نکال باہر فرمادے..
یہ شادی ہے رسوائی.. یہ خوشیاں ہیں یا ذلت کا تماشہ ہے..
ہمارے اس بےحس معاشرے میں آئے دن اس قسم کے بیشمار نظائر دیکھنے کو ملتے ہیں...
جہاں رمضان المبارک میں پینا فلیکس لگاکر غرباء کو ۵ گھنٹے لائن لگواکر ۲۰ کلو آٹا اور ۱۰۰ کلو ذلت دی جاتی ہے..
کیا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا اسوۂ بھول گئے؟
جو اپنی کمر پر راشن لاد کر ایک بیوہ کے گھر روتے ہوئے پہنچانے جارہے ہیں اور آپ کا خادم اسلم کہتا ہے.....
امیرالمؤمنین! آپ رہنے دیں...
مجھے دیجیے...
میں اٹھاتا ہوں....
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک نظر اپنے خادم کو دیکھا اور فرمایا...
اسلم..... کیا قیامت کے دن بھی تو عمر کا بوجھ اٹھائے گا....؟؟
جہاں اپنی عزت نفس کو امت کا بوڑھا فرد آنسو بہاکر اپنے چہرے کو رومال سے چھپانے کی کوشش کرتا ہوگا مگر ایک آواز آتی ہے...
بابا جی کیمرے میں دیکھو...
اور وہ غریب کیمرے میں دیکھتا ہے ...
دل میں ایک ٹیس اٹھتی ہے...
کاش آج قبر کا گڑھا ہی دیکھ لیا ہوتا ...
جہاں ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں غریب ماں کو دو گھنٹہ کھڑا کرکے ایک رضائی دے کر دین کی خدمت کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے..
جہاں امت کے ایک معذور کو ڈھول پیٹ پیٹ کر واویلا کرکے اعلانات کے ساتھ ایک عدد وہیل چیئر دے کر اس کی معذوری پر لات ماری جاتی ہے..
ظالموں! غریب پروری کا اسلوب قرآن سے سیکھو..
بند کردو غریب و یتیم ماؤں بہنوں اور بزرگوں کی تذلیل...
اگر ان کی جگہ تمھاری ماں باپ بہن یا بیٹی ہوتی تو کیا اس وقت بھی " غربت کی شوٹنگ" کرتے؟

   اس لئے اجتماعی طور پر شادی کرانے والے اسٹیج سجانے کے بجائے انفرادی طریقے سے سب کی الگ الگ شادی کرائیں جس میں کسی کو پتہ بهی نہ چل سکے کہ شادی کسی غریب کی ہے یا مسکین کی تو یقینا یہ بڑی بات ہوگی .اور اخرت میں اس اخلاص کا فائدہ بهی ہوگا مگر آج جب ہر نیک کام سے پہلے شہرت وناموری کو پہلے ترجیح دی جاتی ہے وہاں اخلاص للہیت کی توقع فضول ہے مگر پهر بهی ایک صاحب ایمان سے ہم مایوس نہیں خدا توفیق ہدایت دے آمین

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP