You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Tuesday, July 26, 2016

ابن صفی کا یوم پیدائش اور یوم وفات Jul 26, 1928 Jul 26, 1980 26 جولائی 1980ء کو اردو کے نامور جاسوسی ناول نگار ابن صفی کراچی میں وفات پاگئے اور کراچی میں ہی پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ ابن صفی 26 جولائی 1928ء کو قصبہ نارہ ضلع الٰہ آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام اسرار احمد تھا۔ انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیا اور اسرار ناروی تخلص اختیارکیا۔ 1948ء میں انہوں نے طغرل فرغان کے نام سے طنزیہ اور مزاحیہ مضامین لکھے جو بے حد مقبول ہوئے۔ 1952ء میں انہوں نے جاسوسی دنیا کے نام سے جاسوسی ناولوں کا ایک سلسلہ تحریر کرنا شروع کیا۔ اس سلسلے کا پہلا ناول ’’دلیر مجرم‘‘ تھا جو 1952ء میں ادارہ نکہت الٰہ آباد کے اہتمام میں شائع ہوا۔ اگست 1952ء میں ابن صفی ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور یہاں سے ’’عمران سیریز‘‘ کے نام سے ایک اور سلسلہ شروع کیا جس کا پہلا ناول ’’خوفناک عمارت‘‘ اکتوبر 1955ء میں کراچی سے اور دسمبر 1955ء میں الٰہ آباد سے شائع ہوا۔ ابن صفی نے اس سلسلے کے مجموعی طور پر 120 ناول تحریر کئے۔ اس سلسلے کا آخری ناول ’’آخری آدمی‘‘ تھا جو ابن صفی کی وفات کے بعد 11 اکتوبر 1980ء کو شائع ہوا۔ اکتوبر1957ء میں انہوں نے عمران سیریز کے ساتھ ساتھ جاسوسی دنیا کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا۔ اس سلسلہ کا پاکستان سے شائع ہونے والا پہلا ناول ’’ٹھنڈی آگ‘‘ تھا۔ 1960ء سے 1963ء کے دوران ابن صفی شیزوفرینیا کے مرض میں مبتلا رہے جس کی وجہ سے تین سال تک ان کا کوئی ناول شائع نہیں ہوا البتہ اس دوران ان کے نام سے ملتے جلتے قلمی ناموں سے جاسوسی ناولوں کا ایک سیلاب بازار میں آگیا۔ 1963ء میں ابن صفی کی صحت یابی کے بعد ان کا ناول ’’ڈیڑھ متوالے‘‘ شائع ہوا تو ابن صفی کے مداحوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور ناشر کو ایک ہفتے کے اندر اندر اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنا پڑا جو اردو فکشن کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ ابن صفی کے ناول ’’بیباکوں کی تلاش‘‘ پر ایک فلم ’’دھماکہ‘‘ بھی بن چکی ہے مگر یہ فلم کامیاب نہیں ہوسکی۔ 26 جولائی 1980ء کو اپنی 52 ویں سالگرہ کے دن ابن صفی دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن اپنے مداحوں کے دلوں میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

ابن صفی کا یوم پیدائش اور یوم وفات
Jul 26, 1928
Jul 26, 1980

26 جولائی 1980ء کو اردو کے نامور جاسوسی ناول نگار ابن صفی کراچی میں وفات پاگئے اور کراچی میں ہی پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
ابن صفی 26 جولائی 1928ء کو قصبہ نارہ ضلع الٰہ آباد میں پیدا ہوئے  تھے۔ ان کا اصل نام اسرار احمد تھا۔ انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیا اور اسرار ناروی تخلص اختیارکیا۔ 1948ء میں انہوں نے طغرل فرغان کے نام سے طنزیہ اور مزاحیہ مضامین لکھے جو بے حد مقبول ہوئے۔
1952ء میں انہوں نے جاسوسی دنیا کے نام سے جاسوسی ناولوں کا ایک سلسلہ تحریر کرنا شروع کیا۔ اس سلسلے کا پہلا ناول ’’دلیر مجرم‘‘ تھا جو 1952ء میں ادارہ نکہت الٰہ آباد کے اہتمام میں شائع ہوا۔ اگست 1952ء میں ابن صفی ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور یہاں سے ’’عمران سیریز‘‘ کے نام سے ایک اور سلسلہ شروع کیا جس کا پہلا ناول ’’خوفناک عمارت‘‘ اکتوبر 1955ء میں کراچی سے اور دسمبر 1955ء میں الٰہ آباد سے شائع ہوا۔ ابن صفی نے اس سلسلے کے مجموعی طور پر 120 ناول تحریر کئے۔ اس سلسلے کا آخری ناول ’’آخری آدمی‘‘ تھا جو ابن صفی کی وفات کے بعد 11 اکتوبر 1980ء کو شائع ہوا۔
اکتوبر1957ء میں انہوں نے عمران سیریز کے ساتھ ساتھ جاسوسی دنیا کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا۔ اس سلسلہ کا پاکستان سے شائع ہونے والا پہلا ناول ’’ٹھنڈی آگ‘‘ تھا۔
1960ء سے 1963ء کے دوران ابن صفی شیزوفرینیا کے مرض میں مبتلا رہے جس کی وجہ سے تین سال تک ان کا کوئی ناول شائع نہیں ہوا البتہ اس دوران ان کے نام سے ملتے جلتے قلمی ناموں سے جاسوسی ناولوں کا ایک سیلاب بازار میں آگیا۔ 1963ء میں ابن صفی کی صحت یابی کے بعد ان کا ناول ’’ڈیڑھ متوالے‘‘ شائع ہوا تو ابن صفی کے مداحوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور ناشر کو ایک ہفتے کے اندر اندر اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنا پڑا جو اردو فکشن کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ ابن صفی کے ناول ’’بیباکوں کی تلاش‘‘ پر ایک فلم ’’دھماکہ‘‘ بھی بن چکی ہے مگر یہ فلم کامیاب نہیں ہوسکی۔
26 جولائی 1980ء کو اپنی 52 ویں سالگرہ کے دن ابن صفی دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن اپنے مداحوں کے دلوں میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

Wednesday, July 20, 2016

*آہ.... مرد مجاہد کو سلام* آج علی الصبح یہ غمناک خبر ہندوستانی انصاف پسندوں کی آنکھیں نم کر گئیں کہ بابری مسجد کے سب سے قدیم مدعی.. *جناب ہاشم انصاری صاحب* اب اس دنیا میں نہیں رہے اور صبح کی اولین ساعتوں میں 96 برس کی عمر طویل پاکر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے.... انا للہ و انا الیہ راجعون یہ وہ مرد آہن ہے جس نے زمانے کے سرد و گرم کو جھیل کر خانہ خدا کے حصول کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی.. بابری مسجد کی شہادت سے قبل جب کہ مسجد سیکولر ازم کا لبادہ اوڑھے ہوئے بھیڑیوں کے شکنجے میں آچکی تھی.. اسی مرد مجاہد نے قانونی لڑائی کی ابتداء کی تھی.. اپنی اس طویل عدالتی کارروائیوں کے اخراجات کے لئے جب انصاری صاحب کے پاس سرمایہ ختم ہو گیا تو انہوں نے سنت صدیقیت کو ترجیح دی اور اپنا ذاتی مکان فروخت کر ڈالا اور اس سرمائے کو خانہ خدا کے لئے وقف کر دیا... زندگی کی رمق کے آخری ایام میں انہوں نے اپنی اس ایماندارانہ و مخلصانہ کوشش کے لئے اپنے بیٹے کو جانشین مقرر کر دیا اور آگے بھی بابری مسجد کے حصول و تعمیر کے سلسلے میں قانونی کارروائی جاری رکھنے کی وصیت کی... سلام اس مرد آہن کی روح کو.. کروڑہا رحمتیں اس کی تربت پر ہزارہا سلام اس کی خدمات کو ہم دعا کرتے ہیں کہ بار الہی ان کی قبروں کو نور سے بھر دے ان کے درجات کو بلند فرمائے ان کی سیات کو حسنات سے مبدل فرمائے ان کی قربانیوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور ان کی خدمات کے طفیل بابری مسجد کو دوبارہ تعمیر کے اسباب پیدا فرمائے.. ان کے متعلقین بشمول ہندوستانی مسلمانوں اور انصاف پسندوں کو صبر جمیل عطا. ان کا نعم البدل عطاء فرمائے آمین ثم آمین شریکان غم.. *قائد و سالار حضرت مولانا مفتی محمد اسماعیل قاسمی صاحب دامت برکاتہم* قائد و سالار واٹس اپ گروپ اہلیانِ شہر مالیگاؤں

غریبوں کے ساتھ دسترخوان کی منفرد تقریب

'غریبوں کے ساتھ دسترخوان' کی منفرد عید ملن تقریب
کولکاتا کے کیلا بگان میں ' محمو دو ایاز'ایک ہی دسترخوان پر نعمت خداوندی سے لطف اندوز ہوئے 
کولکاتا20جولائی 
عیدسعید اجتماعی خوشیوںکا پیامبر ہوتی ہے اوراس کا لطف اسی وقت آتا ہے جب ہم سب اجتماعی طور پر اسے منائیں بلاکسی تفریق اور تعصب سبھوں کے ساتھ ایک دسترخوان پر بیٹھیں اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا استعمال کریں ۔ ان خیالات کا اظہار منگل 20جولائی کی شام یہاں مہاجاتی سدن کے پاس 'عید ملن- غریبوں کے ساتھ دسترخوان ' کے عنوان سے منعقد تقریب کے دوران معروف قانون داں اورسماجی کارکن نازیہ الہیٰ خان نے کیا ۔ سرسید احمد ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے منعقد اس تقریب میں محترمہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک تھیں انہوں نے اس موقع پرخوان نعمت کھولتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے شرکائے تقریب میں کھانا سرو کیا ۔ ضیافت میں علاقہ کے معززین ' سیاسی لیڈروں اور بڑے تاجروں کے ساتھ غربا و مساکین نے بھی شرکت کی اور ایک ہی دسترخوان پر بسم اللہ کہا۔
تقریب کے دیگر شرکا میں مقامی کونسلر جسیم الدین ' ترنمول کانگریس لیڈر مختارعلی' سابق ایم ایل اے سنجے بخشی اور دیگر شامل تھے ۔ فورم فارآرٹی آئی ایکٹ اینڈ انٹی کرپشن کی سربراہ نے سوسائٹی کے عہدیدران کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح انہوں نے یہ محفل سجائی ہے اس کی جتنی بھی داد دی جائے کم ہے ۔ سوسائٹی کے ارباب حل و عقد نے عید کے موقع پر 'غریبوں کے ساتھ دسترخوان' کے ان کے تصور کو سنا سمجھا اورا س پر عمل کرکے ایسی منفرد عید ملن تقریب منائی جس کی مثال نہیں ہے اوراس کیلئے مبارک باد کے مستحق ہیں ۔
()()()

Wednesday, June 29, 2016

*مجید امجد* کی شاعری کی جھلک جدید دور کے کئی شعرا کے ہاں بھی نظر آتی ہے۔ بلکہ بعض نے تو مجید امجد کی کچھ نظموں پر ہاتھ صاف کر کے اپنی شہرت کے مینار کھڑے کر لیے ہیں۔ مثال کے طور پر مجید امجد کے ابتدائی دور کی ایک خوبصورت نظم "بُندا" جس سے متاثر ہو کر وصی شاہ نے اپنی مشہور زمانہ نظم کنگن لکھی تھی یاد رہے کہ یہ نظم وصی شاہ کی نظم کنگن لکھنے سے تقریباً 35 سال پہلے لکھی گئی تھی. .

*" بُندا "*

کاش میں تیرے بن گوش کا بندا ہوتا
رات کو بے خبری میں جو مچل جاتامیں
تو ترے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میں
صبح کو گرتے تری زلفوں سے جب باسی پھول
میرے کھو جانے پہ ہوتا ترا دل کتنا ملول
تو مجھے ڈھونڈتی کس شوق سے گھبراہٹ میں
اپنے مہکے ہوئے بستر کی ہر اک سلوٹ میں
جونہی کرتیں تری نرم انگلیاں محسوس مجھے
ملتا اس گوش کا پھر گوشہ مانوس مجھے
کان سے تو مجھے ہر گز نہ اتارا کرتی
تو کبھی میری جدائی نہ گوارا کرتی 
یوں تری قربت رنگیں کے نشے میں مدہوش
عمر بھر رہتا مری جاں میں ترا حلقہ بگوش
کاش میں تیرے بن گوش کا بندا ہوتا!  

"مجید امجد"  

*" کنگن "*

کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا
تو بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھ
اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو 
اور بے تابی سے فرقت کے خزاں لمحوںمیں
تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو
میں ترے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا
جب کبھی موڈ میں آ کر مجھے چوما کرتی
تیرے ہونٹوں کی میں حدت سے د ہک سا جاتا
رات کو جب بھی تو نیندوں کے سفر پر جاتی
مرمریں ہاتھ کا اک تکیہ بنایا کرتی 
میں ترے کان سے لگ کر کئی باتیں کر تا
تیری زلفوں کو ترے گال کو چوما کرتا
جب بھی تو بند قبا کھولنے لگتی جاناں
اپنی آنکھوں کو ترے حسن سے خیرہ کرتا 
مجھ کو بے تاب سا رکھتا تری چاہت کا
نشہ میں تری روح کے گلشن میں مہکتا رہتا
میں ترے جسم کے آنگن میں کھنکتا رہتا
کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا
کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا

*"وصی شاہ"*

.. *( تلاش : شفیق جے ایچ )*..

🍁

Wednesday, June 15, 2016

ایک نظر ادھر بھی

... اس کا تعلق ہر ایک سے ہے . بہت سے لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کھانے پینے کے آداب سے واقف نہیں ہے اور اس عدم واقفیت کی وجہ سے وہ دوسروں کی تکلیف کا باعث بنتے ہیں . میں یہاں کھانے کے کچھ آداب بیان کروں گا اور اگر آپ میں سے کسی کے ذہن میں مزید کوئی ادب ہو تو وہ بھی لکھ سکتا ہے1: پہلا ادب جس سے سب واقف ہیں وہ یہ ہے کہ کھانا اللہ کے نام سے شروع کرنا چاہیے اور دائیں ہاتھ سے کھانا چاہیے . دایاں ہاتھ اچھے کاموں کے لیے ہوتا ہے , اس لیے اسے کبھی ناک میں نہیں ڈالنا چاییے . سوچیے اگر کبھی کسی نے آپ کے دائیں ہاتھ کو آپ کے ناک میں دیکھ لیا تو وہ اس کے بعد کیونکر آپ کے ساتھ کھانے پر آمادہ ہو گا2: اپنے سامنے سے کھانا چاہیے .3: لقمہ چھوٹا لینا چاہیے .4: جب آپ لقمہ منہ میں رکھیں تو پھر اس کے بعد اپنا منہ بند کر کے دانتوں سے چبائیں . اگر آپ منہ کھول کر چبائیں گے تو ایک تو آپ کے منہ سے آواز نکلے گی جو ناپسندیدہ ہوتی ہےاور اگر سامنے والی کی نگاہ آپ کے منہ کی طرف چلی گئی اور اس نے چبایا گیا لقمہ دیکھ لیا تو اسے سخت تکلیف ہو گئی.5:, کھانا کھاتے ہوئے اگر زور سے چھینک آ رہی ہے یا ہنسی آرہی ہے تو اپنا منہ دوسری طرف کر لیں تاکہ آپ کے منہ کا تھوک کھانے میں نہ گرے .6: اگر آپ چاول کھا رہے ہیں تو نوالہ منہ میں ڈال کر اس کے بعد اپنے ھاتھ پلیٹ کے اندر مت چھاڑیے یہ انتہائی بری بات ہے .7:, کہیں لوگ ہاتھ دھو کر کھاتے ہیں لیکن پھر کھانے سے پہلے اسی ہاتھ سے خارش شروع کر دیتے ہیں اس سے بچنا چاہیے .8: اگر آپ چمچ سے کھا رہے ہیں تو اپنا استعمال شدہ چمچ کبھی اپنے ساتھی کے حوالے نہ کیجیے , یا تو نیا چمچ لائیں یا پھراسی چمچ کو دھو لیں .9: اگر کوئی مہمان اکیلے کھانا پسند کرتا ہے تو اسے اکیلے ہی کھانے دیں یہ کوئی ضروری نہیں کہ دو بندے مل کر کھائیں . دوسروں کو تکلیف سے بچانا فرض ہے .10: اگر آپ کے پاس ایک ہی گلاس ہے اور بہت سے بندے ہیں اور آپ کا دائیں ہاتھ آلودہ ہے تو آپ بائیں ہاتھ سے گلاس پکڑیں اور نیچے دائیں ہاتھ کا سہارا دے کر پییے . گلاس آلودہ نہ کریں.11: کھانے کھاتے ہوئے جس طرف سے آپ کھا رہے ہیں وہ طرف مکمل صاف کر کہ اٹھیں کسی دوسرے کے لیے نہ چھوڑیں .12: آخر میں یہ عرض ہے کہ اپنے دانت صاف رکھیں . آج کل سحری اور افطاری میں مسواک یا  ٹوتھ پیسٹ کر لیا کریں . اللہ تعالی کو منہ کی بدبو بالکل بھی پسند نہیں . حدیث میں جو آتا ہے کہ اللہ روزہ دار کی منہ کی بو کو پسند کرتا ہے اس سے مراد وہ مہک ہے جو بھوکے پیٹ رہنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے . دانت نہ صاف کرنے کی وجہ سے جو بو پیدا ہوتی ہے اس سےتو فرشتے بھی بھاگتے ہیں اور دوسرے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے . دوسری بات یہ کہ رمضان میں افطاری میں خاص کر کم کھانا چاہیے تاکہ تراویح میں آپ کے ڈکار سے لوگ تنگ نہ ہوں .(وسیم عبدالستار).

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP