Tuesday, July 26, 2016
ارشی قریشی کی گرفتاری بنا ثبوت اور جلدبازی میں کی گئی کارروائی :شمشیر خان پٹھان ممبئی: عوامی وکاس پارٹی کے صدر شمشیر خان پٹھان جو ایک ریٹائرڈ اسسٹنٹ پولیس کمشنر بھی ہیں نے ارشی قریشی کی گرفتاری پر اپنے تاثرات دیتے ہوئے ایک پریس ریلیز کے ذریعے کہا کہ ارشی قریشی کی گرفتاری بنا ٹھوس ثبوت اور جلدبازی میں کی گئی کارروائی ہے انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہندو لڑکی جس نے اپنی خوشی سے اسلام مذہب قبول کر لیا تتھا اور اپنے شوہر یحیی کے ساتھ رہنے لگی لیکن اس کے مذہب بدلنے کے طریقہ کار کو ان کے خاندان کے لوگوں نے ناپسند کیا اور اس کے خلاف ہو گئے ۔ ابھی کچھ روز قبل سے وہ لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ لاپتہ ہے وہ کہاں ہے کیا کر رہی ہے کسی کو بھی پتہ نہیں لیکن اس کے اس لاپتہ ہونے کا فائدہ لڑکی کے بھائی بہن اور مقامی کانگریس ایم ایل اے نے اٹھایا اور اس کی بہن نے کیرالا پولیس کو شکایت کی کہ اس کی بہن کو زبردستی اسلام قبول کرایا گیا وہیں اس کے بھائی نے کہا کہ وہ جب اس وقت ڈاکٹر ذاکر نائیک کے آئی آر ایف کے دفتتر ممبئی گیا تھا اس وقت اس نے سنا کہ کچھ لوگ آئی ایس آئی ایس جوائن کرنے کی بات کر رہے تھے اس میں سب سے بڑا پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس لڑکی کو زبردستی اسلام قبول کرنے کیلئے مجبور کیا گیا تھا جیسا کہ وہ لڑکی نہیں بلکہ اس کے گھر والے کہہ رہے ہیں تو اس وقت اس لڑکی نے یا پھر اس کی بہن نے اس وقت پولیس میں کوئی شکایت کیوں نہیں درج کرائی تھی اور اگر اس وقت شکایت درج ہوتی تو پولیس کارروائی ضرور کرتی لیکن اتنے دنوں بعد یہ الزام لگایا گیا کہ اس لڑکی کو زبردستی اسلام قبول کروایا گیا جو صاف جھوٹ دکھائی دیتا ہے اور ساتھ ہی لڑکی کے بھائی جو الزام آج عائد کیا ہے کہ آئی آر ایفف کے ممبئی دفتتر میں انہوں نے کچھ لوگوں کو آئی ایس آئی ایس میں داخل ہونے کی بات سنی تھی تو انہوں نے اس وقت تمام باتیں اپنے موبائل میں ریکارڈ کر کے پولیس کو دکھانا چاہیئے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہ کرتے ہوئے خاموش رہے اور آج کئی روز بعد اس بات کو ظاہر کر رہے ہیں ۔ شمشیر خان پٹھان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی تنظیم آئی ایس آئی ایس میں شامل ہونے کی باتیں کر رہی ہے تو یہ ایک اچھے شہری کا فرض ہے کہ فورا پولیس میں اس کی شکایت درج کرا کر ایسی ملک مخالف کارروائی کو روکے اور اگر جان بوجھ کر کوئی اس بات کو چھپاتا ہے تو وہ بھی جرم کرتا ہے اور اس بنا ٔ پر اس لڑکی کے بھائی کو فورا گرفتار کیا جائے ۔ ایسے معاملات میں جب تک کہ متاثر افراد خود سے نہیں کہتے ہیں کہ ان کو زبردستی اسلام قبول کرایا گیا اور انہیں آئی ایس آئی ایس میں شامل ہونے کیلئے کہا گیا تب تک کوئی بھی ایف آئی آر نہیں بن سکتا ۔ جبکہ آج تک یہ بات سرکاری طور پر نہیں کہی گئی ہے کہ وہ لاپتہ لڑکی آئی ایس آئی ایس میں شامل ہو کر سیریا یا عراق جا چکی ہے اور اس کی تصدیق کسی نے بھی نہیں کیا ہے تو اس طرح سے ہوئی باتوں پر یقین رکھ کر ایک فرضی ایف آئی آر بنایا گیا اور آنا فانا میں ارشی قریشی کو سیدھے گرفتار کیا گیا جبکہ انہیں اس کیس کی مکمل تفتیش کرنا چاہیئے تھا اور اس گمشدہ لڑکی کو ڈھونڈکر اس کے بیان کی بنا ٔ پر ہی ارشی قریشی کو گرفتار کیا جانا چاہیئے تھا ۔ شمشیر خان پٹھان نے اس کیس کی ایک ایسے مجازی کیس سے نوازنہ کیا کہ یہ تو ایسا کیس ہے کہ جس معاملے میں خون کے جرم میں لاش ملی ہی نہیں اور لاش کا پتہ نہیں اور ملزم کو قتل کی سزا دی جا رہی ہے ۔ شمشیر خان پٹھان نے آخر میں کہا کہ عدلیہ ایسے معاملات میں دخل دینا چاہیئے اور ایسے کیس کو خارج کر دینا چاہیئے ۔ شمشیر خان پٹھان کے مطابق وہ لڑکی اپنے خاندان سے ڈر کے مارے ہندستان میں ہی کسی اور مقام پر رہہ رہی ہو گی اور وہ کبھی بھی اچانک نمودار ہو سکتی ہے تب ارشی قریشی جیسے بے گناہ کو جس طرح جلدی بازی میں گرفتار کر کے اس کی بدنامی کی گئی اس کا خمیازہ کون بھگتے گا اور اگر وہ لڑکی نمودار ہوتی ہے تو اس جھوٹے کیس کی بنا ٔ پر اس لڑکی کے بھائی بہن ، ایم ایل اے اور تفتیش کرنے والے تمام افسران کو گرفتار کیا جائے ۔
ابن صفی کا یوم پیدائش اور یوم وفات Jul 26, 1928 Jul 26, 1980 26 جولائی 1980ء کو اردو کے نامور جاسوسی ناول نگار ابن صفی کراچی میں وفات پاگئے اور کراچی میں ہی پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ ابن صفی 26 جولائی 1928ء کو قصبہ نارہ ضلع الٰہ آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام اسرار احمد تھا۔ انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیا اور اسرار ناروی تخلص اختیارکیا۔ 1948ء میں انہوں نے طغرل فرغان کے نام سے طنزیہ اور مزاحیہ مضامین لکھے جو بے حد مقبول ہوئے۔ 1952ء میں انہوں نے جاسوسی دنیا کے نام سے جاسوسی ناولوں کا ایک سلسلہ تحریر کرنا شروع کیا۔ اس سلسلے کا پہلا ناول ’’دلیر مجرم‘‘ تھا جو 1952ء میں ادارہ نکہت الٰہ آباد کے اہتمام میں شائع ہوا۔ اگست 1952ء میں ابن صفی ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور یہاں سے ’’عمران سیریز‘‘ کے نام سے ایک اور سلسلہ شروع کیا جس کا پہلا ناول ’’خوفناک عمارت‘‘ اکتوبر 1955ء میں کراچی سے اور دسمبر 1955ء میں الٰہ آباد سے شائع ہوا۔ ابن صفی نے اس سلسلے کے مجموعی طور پر 120 ناول تحریر کئے۔ اس سلسلے کا آخری ناول ’’آخری آدمی‘‘ تھا جو ابن صفی کی وفات کے بعد 11 اکتوبر 1980ء کو شائع ہوا۔ اکتوبر1957ء میں انہوں نے عمران سیریز کے ساتھ ساتھ جاسوسی دنیا کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا۔ اس سلسلہ کا پاکستان سے شائع ہونے والا پہلا ناول ’’ٹھنڈی آگ‘‘ تھا۔ 1960ء سے 1963ء کے دوران ابن صفی شیزوفرینیا کے مرض میں مبتلا رہے جس کی وجہ سے تین سال تک ان کا کوئی ناول شائع نہیں ہوا البتہ اس دوران ان کے نام سے ملتے جلتے قلمی ناموں سے جاسوسی ناولوں کا ایک سیلاب بازار میں آگیا۔ 1963ء میں ابن صفی کی صحت یابی کے بعد ان کا ناول ’’ڈیڑھ متوالے‘‘ شائع ہوا تو ابن صفی کے مداحوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور ناشر کو ایک ہفتے کے اندر اندر اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنا پڑا جو اردو فکشن کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ ابن صفی کے ناول ’’بیباکوں کی تلاش‘‘ پر ایک فلم ’’دھماکہ‘‘ بھی بن چکی ہے مگر یہ فلم کامیاب نہیں ہوسکی۔ 26 جولائی 1980ء کو اپنی 52 ویں سالگرہ کے دن ابن صفی دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن اپنے مداحوں کے دلوں میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
ابن صفی کا یوم پیدائش اور یوم وفات
Jul 26, 1928
Jul 26, 1980
26 جولائی 1980ء کو اردو کے نامور جاسوسی ناول نگار ابن صفی کراچی میں وفات پاگئے اور کراچی میں ہی پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
ابن صفی 26 جولائی 1928ء کو قصبہ نارہ ضلع الٰہ آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام اسرار احمد تھا۔ انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیا اور اسرار ناروی تخلص اختیارکیا۔ 1948ء میں انہوں نے طغرل فرغان کے نام سے طنزیہ اور مزاحیہ مضامین لکھے جو بے حد مقبول ہوئے۔
1952ء میں انہوں نے جاسوسی دنیا کے نام سے جاسوسی ناولوں کا ایک سلسلہ تحریر کرنا شروع کیا۔ اس سلسلے کا پہلا ناول ’’دلیر مجرم‘‘ تھا جو 1952ء میں ادارہ نکہت الٰہ آباد کے اہتمام میں شائع ہوا۔ اگست 1952ء میں ابن صفی ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور یہاں سے ’’عمران سیریز‘‘ کے نام سے ایک اور سلسلہ شروع کیا جس کا پہلا ناول ’’خوفناک عمارت‘‘ اکتوبر 1955ء میں کراچی سے اور دسمبر 1955ء میں الٰہ آباد سے شائع ہوا۔ ابن صفی نے اس سلسلے کے مجموعی طور پر 120 ناول تحریر کئے۔ اس سلسلے کا آخری ناول ’’آخری آدمی‘‘ تھا جو ابن صفی کی وفات کے بعد 11 اکتوبر 1980ء کو شائع ہوا۔
اکتوبر1957ء میں انہوں نے عمران سیریز کے ساتھ ساتھ جاسوسی دنیا کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا۔ اس سلسلہ کا پاکستان سے شائع ہونے والا پہلا ناول ’’ٹھنڈی آگ‘‘ تھا۔
1960ء سے 1963ء کے دوران ابن صفی شیزوفرینیا کے مرض میں مبتلا رہے جس کی وجہ سے تین سال تک ان کا کوئی ناول شائع نہیں ہوا البتہ اس دوران ان کے نام سے ملتے جلتے قلمی ناموں سے جاسوسی ناولوں کا ایک سیلاب بازار میں آگیا۔ 1963ء میں ابن صفی کی صحت یابی کے بعد ان کا ناول ’’ڈیڑھ متوالے‘‘ شائع ہوا تو ابن صفی کے مداحوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور ناشر کو ایک ہفتے کے اندر اندر اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنا پڑا جو اردو فکشن کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ ابن صفی کے ناول ’’بیباکوں کی تلاش‘‘ پر ایک فلم ’’دھماکہ‘‘ بھی بن چکی ہے مگر یہ فلم کامیاب نہیں ہوسکی۔
26 جولائی 1980ء کو اپنی 52 ویں سالگرہ کے دن ابن صفی دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن اپنے مداحوں کے دلوں میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
ابن صفی کا یوم پیدائش اور یوم وفات Jul 26, 1928 Jul 26, 1980 26 جولائی 1980ء کو اردو کے نامور جاسوسی ناول نگار ابن صفی کراچی میں وفات پاگئے اور کراچی میں ہی پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ ابن صفی 26 جولائی 1928ء کو قصبہ نارہ ضلع الٰہ آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام اسرار احمد تھا۔ انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیا اور اسرار ناروی تخلص اختیارکیا۔ 1948ء میں انہوں نے طغرل فرغان کے نام سے طنزیہ اور مزاحیہ مضامین لکھے جو بے حد مقبول ہوئے۔ 1952ء میں انہوں نے جاسوسی دنیا کے نام سے جاسوسی ناولوں کا ایک سلسلہ تحریر کرنا شروع کیا۔ اس سلسلے کا پہلا ناول ’’دلیر مجرم‘‘ تھا جو 1952ء میں ادارہ نکہت الٰہ آباد کے اہتمام میں شائع ہوا۔ اگست 1952ء میں ابن صفی ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور یہاں سے ’’عمران سیریز‘‘ کے نام سے ایک اور سلسلہ شروع کیا جس کا پہلا ناول ’’خوفناک عمارت‘‘ اکتوبر 1955ء میں کراچی سے اور دسمبر 1955ء میں الٰہ آباد سے شائع ہوا۔ ابن صفی نے اس سلسلے کے مجموعی طور پر 120 ناول تحریر کئے۔ اس سلسلے کا آخری ناول ’’آخری آدمی‘‘ تھا جو ابن صفی کی وفات کے بعد 11 اکتوبر 1980ء کو شائع ہوا۔ اکتوبر1957ء میں انہوں نے عمران سیریز کے ساتھ ساتھ جاسوسی دنیا کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا۔ اس سلسلہ کا پاکستان سے شائع ہونے والا پہلا ناول ’’ٹھنڈی آگ‘‘ تھا۔ 1960ء سے 1963ء کے دوران ابن صفی شیزوفرینیا کے مرض میں مبتلا رہے جس کی وجہ سے تین سال تک ان کا کوئی ناول شائع نہیں ہوا البتہ اس دوران ان کے نام سے ملتے جلتے قلمی ناموں سے جاسوسی ناولوں کا ایک سیلاب بازار میں آگیا۔ 1963ء میں ابن صفی کی صحت یابی کے بعد ان کا ناول ’’ڈیڑھ متوالے‘‘ شائع ہوا تو ابن صفی کے مداحوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور ناشر کو ایک ہفتے کے اندر اندر اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنا پڑا جو اردو فکشن کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ ابن صفی کے ناول ’’بیباکوں کی تلاش‘‘ پر ایک فلم ’’دھماکہ‘‘ بھی بن چکی ہے مگر یہ فلم کامیاب نہیں ہوسکی۔ 26 جولائی 1980ء کو اپنی 52 ویں سالگرہ کے دن ابن صفی دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن اپنے مداحوں کے دلوں میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
ابن صفی کا یوم پیدائش اور یوم وفات
Jul 26, 1928
Jul 26, 1980
26 جولائی 1980ء کو اردو کے نامور جاسوسی ناول نگار ابن صفی کراچی میں وفات پاگئے اور کراچی میں ہی پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
ابن صفی 26 جولائی 1928ء کو قصبہ نارہ ضلع الٰہ آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام اسرار احمد تھا۔ انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیا اور اسرار ناروی تخلص اختیارکیا۔ 1948ء میں انہوں نے طغرل فرغان کے نام سے طنزیہ اور مزاحیہ مضامین لکھے جو بے حد مقبول ہوئے۔
1952ء میں انہوں نے جاسوسی دنیا کے نام سے جاسوسی ناولوں کا ایک سلسلہ تحریر کرنا شروع کیا۔ اس سلسلے کا پہلا ناول ’’دلیر مجرم‘‘ تھا جو 1952ء میں ادارہ نکہت الٰہ آباد کے اہتمام میں شائع ہوا۔ اگست 1952ء میں ابن صفی ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور یہاں سے ’’عمران سیریز‘‘ کے نام سے ایک اور سلسلہ شروع کیا جس کا پہلا ناول ’’خوفناک عمارت‘‘ اکتوبر 1955ء میں کراچی سے اور دسمبر 1955ء میں الٰہ آباد سے شائع ہوا۔ ابن صفی نے اس سلسلے کے مجموعی طور پر 120 ناول تحریر کئے۔ اس سلسلے کا آخری ناول ’’آخری آدمی‘‘ تھا جو ابن صفی کی وفات کے بعد 11 اکتوبر 1980ء کو شائع ہوا۔
اکتوبر1957ء میں انہوں نے عمران سیریز کے ساتھ ساتھ جاسوسی دنیا کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا۔ اس سلسلہ کا پاکستان سے شائع ہونے والا پہلا ناول ’’ٹھنڈی آگ‘‘ تھا۔
1960ء سے 1963ء کے دوران ابن صفی شیزوفرینیا کے مرض میں مبتلا رہے جس کی وجہ سے تین سال تک ان کا کوئی ناول شائع نہیں ہوا البتہ اس دوران ان کے نام سے ملتے جلتے قلمی ناموں سے جاسوسی ناولوں کا ایک سیلاب بازار میں آگیا۔ 1963ء میں ابن صفی کی صحت یابی کے بعد ان کا ناول ’’ڈیڑھ متوالے‘‘ شائع ہوا تو ابن صفی کے مداحوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور ناشر کو ایک ہفتے کے اندر اندر اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنا پڑا جو اردو فکشن کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ ابن صفی کے ناول ’’بیباکوں کی تلاش‘‘ پر ایک فلم ’’دھماکہ‘‘ بھی بن چکی ہے مگر یہ فلم کامیاب نہیں ہوسکی۔
26 جولائی 1980ء کو اپنی 52 ویں سالگرہ کے دن ابن صفی دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن اپنے مداحوں کے دلوں میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔



