You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Tuesday, August 16, 2016

☄  نظیر اکبر آبادی  ☄

  آج نظیر اکبر آبادی کا یوم پیدائش ہے. نظیر نے اردو ادب میں عوامی موضوعات کو مرکزی نقطہ نظر سے پیش کیا اور عوامی شاعری کو موضوع سخن بنایا اگر نظیر اکبر آبادی اردو زبان کو ہندوستان کے گلی کوچوں اور میلوں ٹهیلوں سے واقف نہ کراتے تو شاید آج اردو زبان کا بھی وہی حال ہوتا جو سنسکرت کا ہوا ہے جسکے بولنے، لکھنے اور پڑھنے والے صرف پنڈت ہی رہ گئے ہیں. نظیر کے اس احسان کو اردو اور اردوداں طبقہ ہمیشہ یاد رکھے گا ان ہی ایک نظم موسم کی مناسبت سے خراج عقیدت کے ساتھ واٹسپ گروپ کے لئے پیش خدمت ہے.

           🌨🌨برسات کی بہاریں  🌨🌨

ہیں اس ہوا میں کیا کیا برسات کی بہاریں
سبزوں  کی  لہلہاہٹ  باغات    کی  بہاریں
بوندوں کی جهم جهماہٹ قطرات کی بہاریں
ہر بات کے   تماشے   ہر گھات  کی بہاریں
                      کیا کیا مچی ہے یاروں برسات کی بہاریں

بادل  ہوا کے اوپر   ہو مست   چها   رہے   ہیں
جهڑیوں کی مستیوں سے جهومیں مچا رہے ہیں
پڑتے    ہیں   پانی   ہرجا جل   تھل بنا رہے ہیں
گلزار   بھیگتے   ہیں   سبزے   نہا   رہے   ہیں
                       کیا کیا مچی ہے یاروں برسات کی بہاریں

جنگل سب اپنے تن پر ہریالی سج رہے ہیں
گل بوٹے جھاڑ بونے کر اپنی دهج رہے ہیں
بجلی چمک   رہی  ہے  بادل گرج    رہے ہیں
اللہ  کے  نقارے نوبت  کے   بج  رہے   ہیں
                        کیا کیا مچی ہے یاروں برسات کی بہاریں

سبزوں کی لہلہاہٹ کچھ   ابر   کی   سیاہی
اور چها رہی   گھٹائیں  سرخ اور سفید کاہی
سب بھیگتے ہیں گھر گھر لے ماہ تا بہ ماہی
یہ   رنگ   کون   رنگے   تیرے   سوا   الہی
                         کیا کیا مچی ہے یاروں برسات کی بہاریں

کیا کیا رکھے ہے یارب سامان تیری قدرت
بدلے ہے  رنگ کیا  کیا   ہر آن تیری قدرت
سب مست  ہو رہے ہیں  ہر آن تیری  قدرت
تیتر  پکارتے  ہیں  ہر سبحان  تیری  قدرت
                        کیا کیا مچی ہے یاروں برسات کی بہاریں

یہ رت وہ ہے کہ جس میں خورد و کبیر خوش ہیں
ادنی   غریب   مفلس   شاہ   و    وزیر خوش ہیں
معشوق   شاد   و   خرم  عاشق  اسیر  خوش ہیں
جتنے ہیں  اب  جہاں  میں سب اے نظیر خوش ہیں
                         کیا کیا مچی ہے یاروں برسات کی بہاریں

Wednesday, August 10, 2016

کرار نوری کی وفات

🌸 آج کے دن 🌸

*کرار نوری کی وفات*
Aug 08, 1990

8 اگست 1990ء کو اردو کے ممتاز شاعر،ادیب، مترجم اور صحافی کرار نوری کراچی میں وفات پاگئے۔
کرار نوری کا اصل نام سید کرار میرزا تھا۔ وہ غالب کے شاگرد آگاہ دہلوی کے پر پوتے تھے اور 30 جون 1916ء کو جے پور دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پہلے راولپنڈی اور پھر کراچی میں اقامت اختیار کی جہاں وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے۔
کرار نوری کا شعری مجموعہ ’’میری غزل‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے اس کے علاوہ ان کی نعتوں کا مجموعہ ’’میزان حق‘‘ کے نام سے ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔
وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

کرار نوری کا ایک شعر ملاحظہ ہو:

اعتراف اپنی خطائوں کا میں کرتا ہی چلوں
جانے کس کس کو ملے میری سزا، میرے بعد

( *پیشکش : شفیق جے ایچ* )

🍁

Friday, August 05, 2016

رئیس فروغ کی برسی

 آج کے دن  
رئیس فروغؔ کی برسی
Aug 05, 1982
آج جدید اردو غزل و نظم کے معروف شاعر رئیس فروغؔ کی برسی ہے-
محمد یونس حسن نام اور فروغ تخلص تھا۔۱۵؍فروری۱۹۲۶ء کو مرادآباد میں پید اہوئے۔ دوران تعلیم محفلوں، انجمنوں اور مشاعروں میں شرکت کے باعث رئیس فروغ کو شاعری کا شوق پیدا ہوا۔ شروع میں انھوں نے قمر مراد آبادی کی شاگردی اختیار کی۔تقسیم ہند کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔۱۵سال کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ملازم رہے۔ اس کے بعد ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوگئے او راسکرپٹ رائٹرمقرر ہوئے۔آخری وقت تک اسی ادارے سے وابستہ رہے۔ رئیس فروغ نے غزلوں کے علاوہ بچوں کے لیے نظمیں اور نثری نظمیں بھی لکھی ہیں۔۱۵؍اگست۱۹۸۲ء کو کراچی میں رئیس فروغ انتقال کرگئے۔
منتخب کلام :
منزلوں سے شکستہ پا گزرے
جلوہ جلوہ ادا ادا گزرے
آج موج سرور یوں گزری
جس طرح کوئی سانحہ گزرے
داغ دل تو مہک ہی اٹھتا ہے
تم گزر جاؤ یا صبا گزرے
دل کی راہیں کسی پہ بند نہیں
اجنبی ہو کہ آشنا گزرے
ساغر و لب کے درمیاں بھی کئی
مرحلے صبر آزما گزرے
ہم سے کچھ فاصلے پہ کتنے ہی
دلبران گریز پا گزرے
جو خود میں سمٹ کے بیٹھ رہوں
راستوں پر نہ جانے کیا گزرے
( پیشکش :  شفیق جے ایچ )

Sunday, July 31, 2016

*آج 31 جولائی اردو اورہندی کے معروف ادیب و افسانہ نگار پریم چند کا یوم پیدائش* نام و جائےپیدائش.... دھنپت رائے سری واستو31 جولائی 1880 لمہی، شمال مغربی صوبہ، برطانوی ہند وفات.... 8 اکتوبر 1936 (عمر 56 سال)وارانسی، برطانوی ہند کے متحدہ صوبے، برطانوی ہند پیشہ... ناول نگار، افسانہ نگار، انشائیہ نگار زبان.... اردو-ہندی قومیت... برطانوی ہند نمایاں کام... گودان، بازار حسن، کرم بھومی، شطرنج کے کھلاڑی شریک حیات شِوا رانی دیوی اولاد سری پتھ رائے، امرت رائے، کملہ دیوی نام دھنپت رائے لیکن ادبی دنیا میں پریم چند مشہور ہیں 1885ء میں منشی عجائب لال کے ہاں موضع پانڈے پور ضلع بنارس میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ایک ڈاک خانے میں کلکرک تھے۔ پریم چند ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے تقریباً سات آٹھ برس فارسی پڑھنے کے بعد انگریزی تعلیم شروع کی۔ پندرہ سال کی عمر میں شادی ہوگئی ۔ایک سال بعد والد کا انتقال ہوگیا۔ اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ پورے گھر بار کا بوجھ آپ پرہی پڑ گیا۔ فکر معاش نے زیادہ پریشان کیا تو لڑکوں کو بطور ٹیوٹر پڑھانے لگے اور میٹرک پاس کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں ملازم ہوگئے۔ اسی دوران میں بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔ پریم چند کو ابتدا سے ہی کہانیاں پڑھنے اور سننے کا شوق تھا اور یہی شوق چھوٹے چھوٹے افسانے لکھنے کا باعث بنا۔ان کی باقاعدہ ادبی زندگی کا آغاز 1901ء سے ہوا۔ جب آپ نے رسالہ (زمانہ) کانپور میں مضامین لکھنے شروع کیے۔ اول اول مختصر افسانے لکھے اور پھر ناول لیکن مختصرافسانہ نویسی کی طرح ناول نگاری میں بھی ان کے قلم نے چار چاند لگا دئیے۔ انہوں نے ناول اور افسانے کے علاوہ چند ایک ڈرامے بھی یادگار چھوڑے ہیں۔ پریم چند مہاتما گاندھی کی تحریک سے متاثر ہوئے اور ملازمت سے استعفی دے دیاتھا۔ وہ دل و جان سے ملک کی آزادی کے یے لڑنا چاہتے تھے ۔ لیکن اپنی مجبوریوں کی بنا پر کسی تحریک میں عملی حصہ نہ لے سکے۔ پریم چند کو اردو ہندی دونوں زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ 1936ء میں بنارس میں انتقال ہوا۔ *پیشکش...طارق اسلم*(بشکریہ ویکیپیڈیا)

Thursday, July 28, 2016

مغل شہنشاہ اورنگ زیب

اورنگ زیب عالمگیربڑا مشہور مغل شہنشاہ گزرا ہے اس نے ہندوستان پر تقریباً 50سال حکومت کی تھی۔ ایک دفعہ ایک ایرانی شہزادہ اسے ملنے کے لئے آیا۔ بادشاہ نے اسے رات کو سلانے کا بندوبست اس کمرے میں کرایا جو اس کی اپنی خوابگاہ سے منسلک تھا۔

ان دونوں کمروں کے باہر بادشاہ کا ایک بہت مقرب حبشی خدمت گزار ڈیوٹی پر تھا۔ اس کا نام محمد حسن تھا۔ اور بادشاہ اسے ہمیشہ محمد حسن ہی کہا کرتاتھا
اس رات نصف شب کے بعد بادشاہ نے آواز دی’’حسن! ‘‘۔ نوکر نے لبیک کہا اور ایک لوٹا پانی سے بھرکر بادشاہ کے پاس رکھا اور خود واپس باہر آگیا۔ ایرانی شہزادہ بادشاہ کی آواز سن کر بیدار ہوگیا تھا اور اس نے نوکر کو پانی کا لوٹا لیے ہوئے بادشاہ کے کمرے میں جاتے دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ نوکر لوٹا اندر رکھ کر باہر واپس آگیا ہے۔ اسے کچھ فکر لاحق ہوگئی کہ بادشاہ نے تو نوکر کو صرف آواز دی تھی اور نوکر پانی کا لوٹا اس کے پاس رکھ کر واپس چلا گیا ہے۔ یہ کیا بات ہے؟

صبح ہوئی شہزادے نے محمد حسن سے پوچھا کہ رات والا کیا معاملہ ہے؟ مجھے تو خطرہ تھا کہ بادشاہ دن نکلنے پر تمہیں قتل کرادے گا کیونکہ تم نے بادشاہ کے کسی حکم کا انتظار کرنے کی بجائے لوٹا پانی سے بھر کر رکھ دیا اور خود چلے گئے۔

نوکر نے کہا:’’عالی جاہ !ہمارے بادشاہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم گرامی بغیر وضو نہیں لیتے۔ جب انہوں نے مجھے حسن کہہ کر پکارا تو میں سمجھ گیا کہ ان کا وضو نہیں ہے ورنہ یہ مجھے ’’محمد حسن‘‘ کہہ کر پکارتے
اس لیے میں نے پانی کا لوٹا رکھ دیا تاکہ وہ وضوکرلیں۔

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP