You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Friday, October 28, 2016

آہ موزہ والا صاحب

آہ ہارون موزہ والا

خیرالامت ہارون موزہ والااپنے رب کے حضور میں ۔۔
موت ایک بہت مشہورومعروف فرستادہ ہے جس سے دنیامیں بہت سارے لوگوں کو محبت ہوتی ہے توبہت سارے لوگوں کووحشت ۔ مگریہ فرستادہ آتاہے دونوں قسم کے لوگوں کے پاس ۔ صالحین کو عموما موت سے محبت ہوتی ہے اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ موت ایک پل ہے جس کوعبورکرنےکے بعد آدمی اپنے پیارے رب کے یہاں حاضری کاشرف حاصل کرتاہے ۔
ہمارے محبوب ومحترم جناب الحاح ہارون موزہ والاصاحب جن کوابھی مرحوم لکھتے ہوئے کلیجہ منھ کوآرہاہے ایک طویل عرصہ تک لوگوں کے دلوں میں اپنے پیارے رب اورپیارے رسول سیدناحضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی محبت واطاعت کے جذبوں کی شمع روشن کرتے رہےآج نماز جمعہ سے پہلے موت کا فرستادہ ان کے پاس بھی ( ارجعی الی ربک راضیتہ مرضیہ )کاپیغام لیکر پہونچااورہارون بھائ اپنے پیارے ربا کے حضور زبان حال سے ( ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام )کا پیغام دیتے ہوئےحاضرہوگئے ۔  1941 عیسوی میں ہارون بھائ کے وجودسعودسے خاکدان عالم میں اوران کے خانوادے میں ایک مومن کااضافہ ہوا ۔پرورش کے مراحل سے گذرتے ہوئے شدبدھ کی منزل پراس نومولود مومن نے اللہ کے نام کی نسبت سے تعلیمی بسم اللہ پڑھا اورپھرپڑھتاہی چلاگیا اوراللہ علیم وخبیر بھی اپنے ہارون کونوازتاچلاگیا ۔ یہ ان کے صالح والدین کی دعائیں تھیں کہ ہارون بھائ جوبظاہر جسم وجسہ یاصحت کے اعتبارسے قوی نہ تھے بلکہ نحیف
وکمزور جسم کے حامل مگرقلب دماغ اورفکر کے اعتبارسے قوی اورصالح فکرونظرکے حامل انسان دوست غریب پرور علم اورعلماء نواز  تھے ۔ ان کے دل میں اللہ سبحانہ نے  اپنی محبت اورپیارے حبیب سیدنامحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بدرجئہ کمال ودیعت فرمائ تھی ۔چنانچہ تادم آخر شریعت وسنت پرمداومت بھی رہی اوراس کی محافظت کی فکربھی ۔ اللہ پاک ہم سب کویہ نصیب فرمائے آمین ۔
ہارون بھائ سے خاکسارکاتعارف ممبئ فساد کے دلدوز سانحہ کے بعد مرحوم جناب الحاج عبدالستاریوسف شیخ بانی سکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ نے کروایاتھا ۔ اس کے بعد سے مسلسل دیرینہ تعلقات استوار رہے
فقہ اکیڈمی کے سہ روزہ سمینارآفس بیت النصربینک چونابھٹی میں تقریبا دوماہ تسلسل کے ساتھ استقبالیہ سکریٹری کی حیثیت سے ساتھ میں رہنے۔کاموقع ملا ۔ وہ شاید صدراستقبالیہ تھے اگر وہ کچھ بھی نہ ہوتے تب بھی سبھی کچھ وہ ہوتے ۔ ممبئ کی دنیامیں ہرخیر کاکام کرنے والوں کیلئے وہ میرکارواں تھے ۔ علماء دیوبند کے ممبئ میں متعارف کروانے میں بھی ان کابڑاحکیمانہ رول رہاہے ۔
ہارون بھائ مردم شناس تھے۔ زمانہ سازتھے۔ خیراورنفع کیلئے ہرشخص ان کااپناتھا اورہرتنظیم کے وہ ساتھی تھے ۔ اللہ پاک نے بے شمارخوبیوں سے ان کونوازاتھا ۔
ہارون بھائ ممبئ کے ان گنے چنے لوگوں میں تھے جن کادروازہ ہرشخص کیلئے ہمہ وقت کھلارہتاہے ۔ لوگوں کاتعاون کرتے وقت یاکرواتے وقت ان کااکرام بہت ملحوظ رکھتے ۔ کسی طرح لوگوں کا مدرسہ اورمسجدکا بیواؤں اورمطلقات اورناداروں کاکام ہوجائے یہ فکران پرسواررہتا ۔
ماہنامہ مکہ میگزین ممبئ کی مجلس ادارت کے رکن رکین تھے ۔ کئ مختلف تنظیموں کے بھی رکن تھے ۔ اکثرمضامین جب وہ لکھتے توخاکسار کوبسااوقات فون پرہی پڑھ کرسناتے یا حج میگزین اوربعدمیں مکہ میگزین کی آفس میں تشریف لاتے یاکبھی مضمون کی کاپی بھجوادیتے ۔ حالانکہ ان کاقلم ان کی سوچ وفکرکی طرح پختہ تھا ۔ مگرواہ رے بے نفسی اورحقیقی تواضع کہ ایک چھوٹے آدمی کی اس طرح قدردانی کی جارہی ہے ۔
ہارون بھائ نے رفاہی کاموں کومنظم طریقے سے انجام دینے کیلئے ایک تنظیم بنام خیرامت بھی قائم کیا ۔ اسی میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی سرپرستی میں مسلمانوں کی عائلی قوانین میں پیش آمدہ مسائل کے۔حل کیلئے دارالقضاء بھی قائم کیا ۔ رفاہی وفلاحی کام کرنا اب اس زمانے میں آسان نہیں رہا ۔ اپنوں اورغیروں کے نشتر اور دشنامی وزعفرانی بحران سے گذرناپڑتاہے ۔ ہارون بھائ بھی اس بحران سے گذرے مگرحکمت عملی کے ساتھ بغیرکسی مزاحمت یاشکوے شکایت کے ۔ یہ  فضل ربانی کے۔علاوہ اورکیاہوسکتاہے ۔
علمائے ربانیین سے ہارون بھائ کاخاص تعلق تھا ۔ حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی اور حضرت مولاناعلی میاں ندوی رحمہم اللہ سے خاص تعلق تھا ۔ اورموجودہ علماء میں حضرت پیرذوالفقارصاحب نقشبندی مدظلہ سے بیعت وارادت کاتعلق بھی تھا ۔
بہرحال دنیا اگرچہ خیرسے خالی نہیں ہے مگرجس تیزی کے ساتھ خیرکے حامل مخلص لوگ وفات پاتے جارہے ہیں ان کی جگہ بظاہر پرہوتی نظرنہیں آرہی ہے ۔ اورشاعرکی زبان میں بقائے دوام کی تمنا عبث ہے کہ کائنات اوراس کانظام ہی فانی ہے صرف اس کے چلانے والے خلاق عالم کودوام وبقاء حاصل ہے ۔ہاں عارضی طورپریہ ہست ونیست کاسلسلہ ابد سے جاری ہے اوراللہ علیم وخبیر کوہی معلوم ہے۔کہ کب تک جاری رہے۔گا ۔
تاہم انسان کے اندر جوحس اللہ نے۔رکھی ہے اوربے پناہ انس کاجوجذبہ رکھاہے جس کے نتیجے میں محبت ہوجاتی ہے اس بناءپر ہارون بھائ کی موت سے دل نے شدید صدمہ محسوس کیا اوربے ساختہ  انا لللہ واناالیہ راجعون زبان پرجاری ہوگیا ۔ اللہ پاک ان کی بال بال مغفرت فرمائے اوران کے درجات کوبلندفرمائے۔۔ ان کے پسماندگان اورپوری ملت کوصبرجمیل مرحمت فرمائے آمین احباب مسلمین اورمکہ میگزین کے قارئین سے دعاء کی درخواست ہے ۔ ملتجی اورغمناک ۔ محمدشاہدالناصری الحنفی ۔

Thursday, October 27, 2016

علم و ٹکنا لوجی کی طاقت

☘       طاقتور مومن کے عنوان سے (✍ *مولانا خالد سیف اللہ رحمانی حفظہ اللہ کی چشم کشا تحریر*) پڑھنے کا موقع ملا، افادہ عامہ کی خاطر اس کا خلاصہ پیش خدمت ہے:
        موصوف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: طاقتور مؤمن کمزور مؤمن سے بہتر ہے (صحیح مسلم) کی وسعت اور جامعیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ بہت سے لوگ اس حدیث سے محض جسمانی طاقت مراد لیتے ہیں ؛ لیکن اگر غور کیا جائے تو اِس کا مفہوم اپنے اندر بڑی وسعت رکھتا ہے، طاقت اخلاق و کردار کی بھی ہوتی ہے،طاقت مال و دولت کی بھی ہوتی ہے، طاقت میں سیاسی طاقت بھی آتی ہے،طاقت علم، ٹکنالوجی اور زبان و قلم کی بھی ہوتی ہے۔ برطانیہ کو دیکھیے کہ اگر مغرب میں امریکہ اورکینیڈا تک اس نے حکومت کی ہے تو مشرق میں مشرق بعید کے ممالک بھی اُس کی غلامی کے زیر سایہ زندگی بسر کرتے رہے ہیں؛ حالاں کہ برطانیہ کا رقبہ بہت چھوٹا ہے، برطانیہ کے ایک طرف سے دوسرے طرف کا فاصلہ صرف چھ سو میل یا اُس سے کچھ زیادہ ہے، یہ کس طاقت کا اثر تھا ؟ یہ جسمانی طاقت یا عددی طاقت کا نتیجہ نہیں تھا، یہ علم اور ٹکنالوجی کی طاقت کا نتیجہ تھا، خود جاپان کو دیکھئے کہ ایک چھوٹا سا اور چند جزیروں پر مشتمل ملک ہے؛ لیکن اُس کی ٹکنالوجی کی طاقت کا کرشمہ ہے کہ پوری دنیا اُس کے سامنے سَر جُھکاتی ہے۔ یہودیوں کی تعداد کتنی کم ہے؟ امریکہ جیسے ملک میں اُن کی تعداد پانچ فیصد سے بھی کم ہے ؛ لیکن ذرائع ابلاغ جیسا مؤثر وسیلہ پوری طرح اُن کے ہاتھوں میں ہے ، بینکنگ کا نظام صد فیصد اُن کی گرفت میں ہے ، اسی لیے کسی امریکی صدر کی مجال نہیں کہ وہ یہودیوں پر کُھل کر تنقید کر ے اور جن لوگوں نے دبے لفظوں میں تنقید کی ، اُن کو ناکوں چنے چبوا دیئے گئے، یہ سب تعلیم کا کرشمہ ہے؛ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ نوبل انعام پانے والوں میں اکثریت یہودیوں کی ہے۔ خود ہم اپنے ملک میں برہمنوں کو دیکھ سکتے ہیں، برہمنوں کی تعداد تین چار فیصد سے زیادہ نہیں؛ لیکن عملاً پورے ملک کا اقتدار اُن کے ہاتھوں میں ہے۔ اس لیے ہمیں ایک ایسی اُمت بننا چاہئے جو علم کے زیور سے آراستہ اورصنعت و ٹکنالوجی کی صلاحیت سے مالا مال ہو ؛ تاکہ ہمارا ہاتھ اونچا ہاتھ رہے، تعلیم میں پسماندگی کا بنیادی سبب تعلیمی تسلسل کو برقرار نہ رکھ پاناہے، اِس کے بنیادی اسباب دو ہیں: 1⃣     ایک : یہ کہ غریب ماں باپ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد اُن کا بچہ پچیس پچاس روپئے کمانے لگے اور اپنے ماں باپ کے ہاتھ مضبوط کرے۔ 2⃣     دوسرے: فقر و محتاجی اور مفلسی ، کتابوں کی قیمت ، تعلیم کی فیس، یونیفارم کی خریداری، یہ دو بنیادی اسباب ہیں جو مسلمان بچوں کو تعلیم میں پست سے پست تر کرتے جا رہے ہیں-
樂樂樂
      بنیادی طور پر اس سلسلہ میں تین نکات کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے :
   اول : مسلمانوں کے غریب اور مزدور طبقے کی تربیت اور اُن کو سمجھانا کہ فاقوں کو گوارا کر لو، ذاتی مکان کے بجائے کرائے کی جھونپڑی میں اپنا سر چھپا لو،لیکن کسی قیمت پر اپنے بچوں کو تعلیم سے محروم نہ رہنے دو؛تاکہ بالآخر تم غربت سے مرفّہ الحالی کی طرف اور پستی سے بلندی کی طرف سفر کر سکو۔
   دوسری ضروری بات یہ کہ مسلمانوں میں تعلیمی کفالت کا مزاج پیدا ہو،جو لوگ اصحابِ ثروت اور اربابِ گنجائش ہوں، وہ اپنے خاندان ، اپنے سماج اور اپنے پڑوس کے ایسے ایک دو بچوں کی کفالت اپنے ذمہ لے لیں، جن کا سلسلۂ تعلیم غربت کی وجہ سے منقطع ہو رہا ہو،اس طرح بہت سے بچے علم کے زیور سے آراستہ ہو سکتے ہیں اور اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھ سکتے ہیں ۔
   تیسرا ضروری کام یہ ہے کہ اِس وقت بچوں کی تعلیم کے سلسلہ میں حکومت کی طرف سے جو سہولتیں دی گئی ہیں اور اقلیتوں کے لئے جو خصوصی رعایتیں کی گئی ہیں، غریب اور ناواقف مسلمانوں کے لئے اُن سے فائدہ اُٹھانے کا انتظام کیا جائے اور معلومات فراہم کی جائیں۔
کاش! یہ دعوت کانوں اور آنکھوں سے گذر کر دلوں تک پہنچ سکے اور قلب کی گہرائیوں میں اتر  جاے

*اس بیماری کا علاج کیا ہو ؟*
اگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنی قوم کو طاقتور مؤمن بنائیں، اُس کو ضعف و کمزوری اور پستی سے باہر لائیں، اُس کے لئے باعزت اور آبرو مندانہ زندگی فراہم کریں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ جہالت اور علم سے محرومی کی اس بیماری کو دور کرنے کے لئے اُمت کا ایک ایک فرد اس طرح اُٹھ کھڑا ہو جیسے کسی جاں بلب انسان کو بچانے کے لئے ہر سلیم الفطرت انسان دوڑ پڑتا

Sunday, October 16, 2016

آل انڈیا مشاورت

آل انڈیا  مشاورت ممبیء میں  جو پانچ روزہ پروگرام  سلسلہ جاری ہے. اسکی نہیایت اہم کڑی تعلیمی اور ملی مسایل پر مبنی آل مہاراشٹر میٹینگ انجمن کریمی لایبریری پر منعقد ہوی.
عارف فیاضی co ordinator نے افتتاحی تقریب میں غرضو غایت بیان کیا.
مجتبئ فاروقی جنرل سیکریٹری مشاورت ) جن کا تعلق جمعات اسلامیء ہند نے تعارف پےش کیا.
پروگرام کی تفصیل و اہمیت عامر ادریسی صدر ایم پی. این جی او ممبر آف مشاورت نے پیش کیا.
جناب شمیم قیصر سابق سیکریٹری وقف کاونسل نے نیء قومی تعلیمی پالیسی کے رموز ونکات بیان کیے.اور بتایا کہ کس طرح سماج کے نچلے طبقے کو کس طرح تنزولی اور تعلیم کو براے فروخت بنا کر رکھ دیا ہے.
      شبیر انصاری صدر آل انڈیا او بی سی آرگنایزیشن نے پسمادہ طبقات کی قومی اور سماجی لڑای کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی ساتھ ہی ریزرویشن کے تعلق سے مسایل کو اجاگر کیا.
جناب عبدالقیوم نقوی صاحب قومی ترجمان آل انڈیا او بی سی آرگنایزیشن نے اوقاف کے مسایل 'قومی پیچپدگیوں کی وضاحت کی.
  اور بتایا کہ کیوں اوقاف کا مسلہ مسلمانان ہند کی ترجیحات میں ہونا چاہیے.

پرگرام کے دوسرے سیشن کے آغاز میں افتتاحی کلمات ارا کیے اور مشاورت کی توجہ  اہل ممبیء کی جانب دینے پر اہل  'مشاورت اور  مقامی ٹیم کو پرگرام کی
کامیابی پر مبارکباد دی.
آل انڈیا سیکیولر فورم سے وابستہ پرفیسر رام پنیانی  نے ملک و ریاست  میں تمام سطح پر بدلتی ہوی فرقہ پرستی پر روشنی ڈالی. ساتھ ہی تاریخی حوالہء جات سے یہ ثابت کیا کہ جہاں پر قدیم بھارت میں جو بھی مسلم یا ہندو حکمراں ہوے انہوں نے زمینی یا حکومت کی لڑای لڑی تھی. نا کہ مزہب کی. مگر آج کے فرقہ پرست حاکم سیاست داں اور مورخ ہندوستاں کے شاندار ماضی کو  داغ دار بنانے کی کوشش کی.
سب ہی برادران وطن اس صورت حال کے مردانہ وار مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے. تاکہ سنگھ کے بھارت بنانے کے منصوبے کو ناکام بنایا جا سکے.
آسام سے آے ہوے ایڈوکیٹ   عبدالحفیظ 'رشید اے چودھری ممبر مسلم پرسنل لاء بورڈ صدر آل انڈیا ملی کاونسل آسام یونٹ نے آسام میں مسلمانوں کی حالت زار پر روشنی ڈالی.
حیدرآباد سے آے ہوے مہمان ظہیرالدین احمد ایڈیٹر روزنامہ سیاست نی بھی اظہار خیال کیا.
             صدر آل انڈیا مجلس مشاورت نوید حامد نے اپنے صدارتی خطبے میں مشاورت کی تاریخ اسکی اہم ملی تحریکیں 'اسکی اہمیت و ضرورت کی وضاحت کرتے ہوے کہا کہ مشاورت ہم خیال لوگوں میں بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ مختلف خیال رکھنے والے لوگوں میں بیٹھنے کا نام ہے.
انہوں نے مشاورت کی توسیع کو تنظیمی توسیع نہیں قرار دیا. بلکہ مشاورتی اور تنظیمی توسیع قرار دیا. 
اس اہم اجلاس میں مہاراشٹر کے سب ہی ضلاع سے بڑی تعداد میں مندوبین نے شرکت کی.
اس پروگرام کی نظامت اور کو آرڈینیٹر انتظامی امور اور نظامت فرید خان نے ادا کی...اور رسم شکریہ عبدالحفیظ فاروقی سیکیٹری  رابطہء عامہ نے ادا کیا.غلام پیش امام نے بھی جلسے سے خطاب کیا ...ساتھ ہی بیگم ریحانہ احمد ..بیگم عابدہ انعام دار ..منور پیر بھای ..انیس درانی نیء دہلی ..عظمئ ناہید ..عبدالغفار ..پروفیسر شبانہ خان ..عبدالکریم صدر جلگاوں اور شہر کی دیگر معزز ہستیوں نے شرکت کی.

اے پی جے عبدالکلام

💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐

       *A.P.J ABUL KALAM*  
         ابو الفاخر زین العابدین عبدالکلام
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹   ( مختصراً :- *اے پی جے عبد الکلام* )
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بھارت کے سابق *صدر* اور *معروف جوہری سائنس دان* جو *15 اکتوبر1931ء* کو ریاست *تامل ناڈو*میں پیدا ہوئے، اور *27 جولائی 2015ء* کو دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوا۔

عبد الکلام بھارت کے *گیارہویں صدر* تھے، انہیں بھارت کے اعلٰی ترین شہری اعزازات *پدم بھوشن، پدم وبھوشن اور بھارت رتن* بھی ملے۔

عبد الکلام کی صدارت کا دور *25 جولائی 2007ء* کو اختتام پزیر ہوا۔

✨✨✨ *ابتدائی زندگی* ✨✨✨

*ڈاکٹر عبدالکلام* کا تعلق تامل ناڈو کے ایک متوسط خاندان سے تھا۔ ان کے والد ماہی گیروں کو اپنی کشتی کرائے پر دیا کرتے تھے۔ اگرچہ وہ ان پڑھ تھے، لیکن عبدالکلام کی زندگی پر ان کے والد کے گہرے اثرات ہیں۔

ان کے دیے ہوئے عملی زندگی کے سبق عبدالکلام کے بہت کام آئے۔ غربت کا یہ عالم تھا کہ ابتدائی تعلیم کے دوران بھی عبدالکلام اپنے علاقے میں اخبار تقسیم کیا کرتے تھے ۔

انہوں نے مدراس *انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے خلائی سائنس میں گریجویشن* کی۔ اور اس کے بعد اس *کرافٹ منصوبے* پر کام کرنے والے دفاعی تحقیقاتی ادارے کو جوائن کیا جہاں ہندوستان کے پہلے سیٹلائٹ طیارے پر کام ہو رہا تھا۔

اس سیارچہ کی لانچنگ میں ڈاکٹر عبدالکلام کی خدمات سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ اس کے علاوہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر انہوں نے پہلے سیٹلائٹ جہاز ایسیلوا کی لانچنگ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

✨✨✨ *سیاسی زندگی* ✨✨✨

15 اکتوبر 1931ء کو پیدا ہونے والے ڈاکٹر عبدالکلام نے 1974ء میں بھارت کا پہلا ایٹم بم تجربہ کیا تھا جس کے باعث انہیں *"میزائل مین"* بھی کہا جا تا ہے۔

بھارت کے گیارہویں صدر کے انتخاب میں انھوں نے 89 فیصد ووٹ لے کر اپنی واحد حریف لکشمی سہگل کو شکست دی ہے۔

عبدالکلام کے بھارتی صدر منتخب ہونے کے بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں تھا ، ووٹنگ محض ایک رسمی کارروائی تھی۔

عبدالکلام بھارت کے *تیسرے مسلمان صدر* تھے۔

انھیں ملک کے مرکزی اور ریاستی انتخابی حلقوں کے تقریباً پانچ ہزار اراکین نے منتخب کیا۔

✨✨✨✨ *وفات* ✨✨✨

عبدالکلام 83 برس کی عمر میں 27 جولائی 2015ء بروز پیر *شیلانگ* میں ایک تقریب کے دوران سابق بھارتی صدر کو اچانک دل کا دورہ پڑا جس سے وہ وہیں گرپڑے اور انہیں انتہائی تشویشناک حالت میں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور دم توڑ دیا۔

✨✨✨ *اعزازات* ✨✨✨

عبدالکلام کو حکومت ہند کی طرف سے 1981ء میں *آئی اے ایس* کے ضمن میں *پدم بھوشن اعزاز* سے نوازا گیا تھا۔

عبد الکلام کوبھارت کے سب سے بڑے شہری اعزاز *بھارت رتن* سے 1997ء میں نوازا گیا۔

18 جولائی، 2002ء کو عبد الکلام کو نوے فیصد اکثریت کی طرف سے بھارت کا صدر منتخب کیا گیا اور انہوں نے 25 جولائی کو اپنا عہدہ سنبھالا، اس عہدے کے لیے ان کی نامزدگی اس وقت کی حکمراں قومی جمہوری اتحاد کی حکومت نے کیا تھا جسے انڈین نیشنل کانگریس کی حمایت حاصل تھی۔

صدر کے عہدے کے لئے نامزدگی پر ان کی مخالفت کرنے والوں میں اس وقت سب سے اہم جماعت بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی اور دیگر بائیں بازو کی ساتھی جماعتیں تھیں۔

بائیں بازو کی جماعتوں نے اپنی طرف سے 87 سالہ محترمہ لکشمی سہگل کا اندراج کیا تھا جو سبھاش چندر بوس کے آزاد ہند فوج اور دوسری جنگ عظیم میں اپنے شراکت کے لئےمعروف ہیں💐💐💐💐💐💐💐💐💐

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP