You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Wednesday, November 09, 2016

شاعرہ پروین شاکر

   

پروین شاکر ٢٢ نومبر ١٩٥٢ء کو کراچی پاکستان میں پیدا ہوئی ان کے آبا و اجداد کا آبائی وطن ہندوستان تھا. ان کے والد سید ثاقب حسین خود بھی شاعر تھے اور شاکر تخلص کرتے تھے اسی نسبت سے پروین شاکر بھی اپنے نام کے آگے شاکر لکھا کرتی تھیں برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کے والد ہجرت کر کے پاکستان جا پہنچے . پروین شاکر کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی بعد میں رضیہ  گرلز ہائی اسکول پاکستان میں داخل ہوئی جہاں سے انہوں نے میٹرک کی سند حاصل کی بعد میں انہوں نے سرسید کالج کراچی سے آئی اے اور انگلش لٹریچر کے ساتھ بی اے آنر کا امتحان پاس کیا ١٩٨٢ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کا امتحان  اعلی درجے سے پاس کیا پھر لسانیات کی ماسٹر ڈگری، اس کے بعد پی ایچ ڈی "جنگ میں ذرائع بلاغ کا کردار "کے عنوان کے تحت مقالہ لکھا، اس کے بعد ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ سے ایک اور ماسٹر ڈگری بینک ایڈمنسٹریشن میں پاس کیا پھر پاکستان کے ایک کالج عبداللہ گرلز کالج میں انگریزی کی لیکچرار ہوگئیں نو سال درس و تدریس کے فرائض انجام دینے کے بعد سول سروس کے امتحان میں کامیابی حاصل کر کے محکمہ کسٹمر میں کلیکٹر ہوگئی اس عہدے سے ترقی کرتے ہوئے پرنسپل سیکرٹری پھر سی آر بی آر میں مقرر ہوئیں ١٩٧٩ میں پروین شاکر کی شادی ان کے خالہ ذات بھائی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی اور ١٩٩٤ میں اس شادی کا اختتام طلاق کی صورت میں ہوگیا اور یہ ہی وہ موڑ تھا جہاں پروین شاکر پوری طرح ٹوٹ چکی تھی اور انہوں نے کہا کہ

طلاق دے تو رہے ہو مجھے غرور و قہر کے ساتھ
مرا شباب بھی لوٹا دو مہر کے ساتھ

پروین شاکر کی پوری شاعری ان کے اپنے احساسات اور جذبات کا اظہار ہے جو درد کائنات بن جاتا ہے،اس لیے انہیں دورِ جدید کی شاہرات میں نمایاں مقام حاصل ہے. پروین شاکر نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ محبت کا فلسفہ  میری شاعری کی بنیاد ہے اور اسی کے حوالے سے اس ازلی مثلث یعنی انسان، خدا اور کائنات کو دیکھتی ہوں اور سمجھتی ہوں
پروین شاکر کی شاعری میں عورت کے جذبات و احساسات کی شدت ہے جس کا وہ اعتراف بھی کرتی ہیں وہ اپنے ہم عصروں میں کشور ناہید، پروین فنا سید، فہمیدہ ریاض کو پسند کرتی ہیں لیکن ان کے یہاں احساسات کی جو شدت ہے وہ ان کے ہم عصروں میں نہیں، بلکہ وہ کہتی ہیں کہ اگر میرے ڈکشن میں کوئی روایتی رکھ رکھاؤ ہے تو وہ میرے اپنے مزاج اور مطالعے کی وجہ سے ہے پروین شاکر نے کلاسیکل ادب کا مطالعہ بھی کیا ہے جس کی پہچان ان کے لب و لہجہ احساس ہے جو ان کی نظموں اور غزلوں میں ملتا ہے
جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے
چاند کے ہمراہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے
راستوں کا علم تھا نہ ہم کو سمتوں کی خبر
شہر نا معلوم کی جانب مگر کرتے رہے

اور انہی کھوئے ہوؤں کی جستجو کرتے ہوئے عین جوانی میں وہ چل بسی ٢٦ دسمب١٩٩٤ کو ایک کار حادثے میں انتقال ہو گئیں اس وقت ان کی عمر صرف ٤٢ سال تھی اس کے باوجود پروین شاکر نے شاعری کا قابل قدر سرمایہ چھوڑا ہے جسے کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا

غزل

چارہ سازوں کی اذیت نہیں دیکھی جاتی
تیرے بیمار کی حالت نہیں دیکھی جاتی

دینے والے کی مشیت پہ ہے سب کچھ موقوف
مانگنے والے کی حاجت نہیں دیکھی جاتی

دن بہل جاتا ہے لیکن تیرے دیوانوں کی
شام ہوتی ہے تو وحشت نہیں دیکھی جاتی

تمکنت سے تجھے رخصت تو کیا ہے لیکن
ہم سے ان آنکھوں کی حسرت نہیں دیکھی جاتی

کون اترا ہے یہ آفاق کی پنہائی میں
آئینہ خانے کی حیرت نہیں دیکھی جاتی

پروین شاکر

سبق آموز کہانی


ﺑﮩﺖ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﯿﭩﺎ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ۔ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻓﮑﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﺨﺖ ﻭ ﺗﺎﺝ ﮐﺎ ﻭﺍﺭﺙ ﮐﻮﻥ ﮨﻮ ﮔﺎ ؟ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮔﻮﺩ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﺨﺖ ﻭ ﺗﺎﺝ ﮐﺎ ﻭﺍﺭﺙ ﮨﻮ ﮔﺎ ۔ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﭽﮯ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﯿﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﺮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺑﯿﺞ ﺩﯾﺎ ﺟﺎ ﺋﮯ ﮔﺎ ۔ ﺟﺲ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﺑﻮ ﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﻮﺩﮮ ﭘﺮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮭﻠﮯ ﮔﺎ ، ﻭﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻭﺍﺭﺙ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎ ﺋﮯ ﮔﺎ ۔ ﺳﻮﻧﮓ ﭼﻦ ﻧﺎﻣﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﺞ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﮔﻤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮ ﺩﯾﺎ ۔ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺌﮯ
ﻭﮦ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺍﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺩﯾﺎ ﮐﺮ ﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺍﺳﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﻮﺩﮮ ﭘﺮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭ ﺕ ﭘﮭﻮ ﻝ ﮐﮭﻠﮯ ﮔﺎ ۔ ﺩﻥ ﮔﺰﺭ ﺗﮯ ﮔﺌﮯ ﻣﮕﺮ ﮔﻤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮑﻼ ۔ ﺳﻮ ﻧﮓ ﭼﻦ ﮐﻮ ﺑﮍﯼ ﻓﮑﺮ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﮔﻤﻼ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﭩﯽ ﻻﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺑﯿﺞ ﮐﻮ ﺩﻭ ﺑﺎﺭﮦ ﺍﺣﺘﯿﺎ ﻁ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﻣﮕﺮ ﺩﻭ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﮔﻤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻮﺩﺍ ﻧﮧ ﻧﮑﻼ ۔ ﭘﻠﮏ ﺟﮭﭙﮑﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻟﻮ ﮞ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺋﺶ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺁ ﭘﮩﻨﭽﺎ ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺷﺎﮨﯽ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﺋﮯ ۔ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮ ﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮔﻤﻼ ﻟﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﺎ ۔ ﮔﻤﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻧﮓ ﺑﺮﻧﮕﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮭﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺑﮍﮮ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﮭﮯ ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﭘﮭﻮﻝ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺳﻮﻧﮓ ﭼﻦ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﻟﯽ ﮔﻤﻼ ﻟﯿﮯ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ ۔ ﺳﻮ ﻧﮓ ﭼﻦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺭﮎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮ ﭼﮭﺎ : ” ﺑﯿﭩﮯ ! ﺗﻢ ﺧﺎﻟﯽ ﮔﻤﻼ ﻟﯿﮯ ﮐﯿﻮ ﮞ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ؟ “ ﺳﻮﻧﮓ ﭼﻦ ﻧﮯ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ : ” ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﯿﺞ ﮔﻤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻻ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻮﺩﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮔﺎ ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮔﻤﻼ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮞ ۔ “ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﺎﺩ ﺷﺎﮦ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﺍ ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﺳﭽﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﮨﻮ، ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﺨﺖ ﻭ ﺗﺎﺝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﻢ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﭽﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﺗﮭﯽ ، ﺗﻢ ﮨﯽ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮨﻮ ﮔﮯ ۔ “ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮگ ﺟﻮ ﺑﯿﺞ ﺩﮮ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺍﺑﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﺩﮮ ﮐﺎ ﺍﮔﻨﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ۔ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮭﻼﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎ ﺏ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﺍﭼﮭﮯ ﺑﯿﺞ ﺑﻮ ﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﺳﻮﻧﮓ ﭼﻦ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻏﻠﻂ ﺣﺮﮐﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﮭﻮ ﭦ ﺳﮯ ﮐﺎ ﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ، ﻟﮩﺬﺍ ﺍﺳﮯ ﺳﭽﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ۔

سورج سے حکومت

*```بوقت شام سورج سے حکومت چھین لیتا ھے```*
*```وہ صبحوں میں ستاروں سے قیادت چھین لیتا ھے```*

*```قرینے سیکھ لو اس کی زمیں پہ چلنے پھر نے کے```*
*```تکبرکرنے والوں سے وہ دولت چھین لیتا ھے```*

*```ہراک دانے میں اس کے فیض کی معجزہ نمائی ھے```*
*```نوالوں سےبھی ناقدروں وہ لذت چھین لیتاھے```*

*```بڑی مشکل سے ملتی ہےیہ صفت نیک نامی کی```*
*```ذراساڈگمگاجاؤ توعزت چھین لیتا ھے```*

*```کبھی کشتی بچالیتا ھے طوفانوں کےنرغوں سے```*
*```کبھی ساحل پرتیراکوں سے ھمت چھین  لیتا ھے```*

*```اس کے عدل پر قائم ھے ہر تاریخ انسانی```*
*```وہ کم ظرفوں سے ایوان حکومت چھین لیتاھے```*

*```سبق سیکھوشمیم تاریخ ہجرت کی شہادت سے```*
*```وہ اکثر آنکھ والوں سے  بصارت چھین لیتا ھے...```*

Saturday, October 29, 2016

آہ اردو اکیڈمی کے چئرمین عبدالرؤف خان صاحب


السلام علیکم   ! اردو اکادیمی کے کارگزار صدر عبدالروف خان صاحب کا ناگپورمیں قلب کی دھڑکن بند ہونے کی وجہ سے انتقال ہوگیا ،  تدفین بعد نماز مغرب بھساول میں عمل میں آئے گی، مرحوم خوش مزاج شخصیت کےمالک تھے. اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین لن ترانی کی ٹیم ان کے غم میں برابر کی شریک ہے

بابا تاج الدین ناگپوری رحمتہ اللہ علیہ

بابا تاج الدین ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ کے حیات مبارکہ کا اجمالی خاکہ
مورخہ: ۲۸؍اکتوبر کو عرس کے موقعہ پر خصوصی مضمون ملاحظہ فرمائیں!
مولانا منصور عالم قادری
مولانا منصور عالم قادری
برصغیر پاک و ہند کی ابتداء ہی سے یہ خصوصیت رہی ہے کہ یہ خطہّ توحیدکے فروغ کے لیے مسلمان برگزیدہ روحانی ہستیوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ روحانی بزرگوں نے یہاں کے باشندوں کو اپنی فیوض و برکات سے نوازا۔ ان میں خصوصی طور پر ؒ حضرت داتا گنج بخش ،ؒ حضرت بہاؤ الدین نقشبندی ؒ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ،حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ، حضرت علی احمد صابر کلیریؒ ، حضرت نظام الدین اولیا ؒ محبوب الہیؒ،  حضرت بو علی شاہ قلند رؒ ، حضرت لعل شہباز قلندر ؒ اور دیگر اولیاء کرام ؒ کے نام اس طویل میں فہرست میں شامل ہیں۔ ان ہستیوں  نے اس خطے میں اسلام کی تبلیغ کی، اسلامی تعلیمات کو فروغ دیا اورمخلوق کو خالق کی طرف بلایا۔
20 ویں صدی ہجری میں بھی انسانوں کے لیے فلاح و ترقی کا پیغام لیے چندبرگزیدہ ہستیوں نے اس سرزمین کو منور کیا ۔ ان میں حضرت حاجی وارث علی شاہ صاحب ؒ ، حضرت مولانا فضل ِالرحمن گنج مراد آبادی اور حضرت بابا تاج الدین ؒ ناگپوری کے اسماء گرامی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ہندوستان کے مرکز مہاراشٹر کے شہر ناگپور میں ایک ایسی ہستی نے جنم لیا  جسے مسلمان ہی نہیں بلکہ تمام اقوام کے لوگ اپنا بزرگ مانتے ہیں۔  اس ہستی کے فیض سے ہزاروں افراد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ خود ناگپور کا مہاراجہ جو مرہٹہ خاندان سے تھا، اس  ہستی کا بہت بڑا معتقد ہوا،  اس عظیم روحانی ہستی کو  دنیا بھر میں حضرت باباتاج الدین اولیا ؒ کے نام سے یاد کیاجاتاہے ۔بابا تاج الدین پیدائش کے وقت سے ہی غیرمعمولی  تھے، وہ عام بچوں کی طرح روتے نہیںتھے ۔آپ ؒ کے آبا ؤ اجداد مدینہ سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے تھے۔ خاندانی پیشہ سپہ گری تھا چنانچہ آپ ؒ کے خاندان کے بیشتر بزرگ فوج میں شامل ہوئے۔ آپ ؒ کے والد محترم سیدبدرالدین ؒ آپ کی ولادت کے ایک سال بعد رحلت فرماگئے۔  جبکہ والدہ محترمہ حضرت سیدہ  بی اماں مریم ؒ صاحبہ بھی آٹھ  سال بعد خالق حقیقی سے جاملیں۔
تاج الدین کی پرورش آپ کے نانا حضرت شیخ میراں جو  ایسٹ اندیا کمپنی کی فوج میں صوبیدار میجرتھے  ،   ماموں عبدالرحمٰن اور آپ کی نانی نے کی۔ حضرت تاجِ الاولیاؒنے ابتدا ئی تعلیم کا مٹی کے ایک مدرسے میں حاصل کی۔ آپ ایک روز مکتب میں موجود تھے کہ کا مٹی میں سلسلہ قادریہ کے مشہور مجذو ب بزرگ حضرت عبد اللہ شاہ  قادری  کا مٹی ؒمکتب میں تشریف لائے اور بابا صاحب ؒ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے معلم سے فرمایا کہ ‘‘ا س کو کیا پڑھا رہے ہو ۔ یہ تو پڑھا پڑھایا آیا ہے ‘‘۔اتنا کہہ کر عبداللہ شاہ نے اپنی جھولی سے خرما نکال کر نصف خود کھایا  اور بچا ہوا   تاج الدین کے منہ میں رکھ کر کہا :‘‘کم کھاؤ، کم  سو اور کم بولو اور قرآن شریف پڑھو’’۔کہتے ہیں کہ خرما کھاتے ہی تاج الدین میں تبدیلی آ گئی، اور ان کی اندر کی دنیا ہی بدل گئی، دنیاوی چیزوں میں ان کی دلچسپی بہت کم ہو گئی۔
اس بات کا کوئی سراغ نہیں ملتا کہ بابا تاج الدین   نے کسی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ پھر بھی دو ہستیاں ایسی ہیں جن سے صرف قر بت اور نسبت کا ذکر ملتا  ہے۔ ایک سلسلہ قادریہ کے حضرت عبداللہ شاہ قادری، دوسرے سلسلۂ چشتیہ کے بابا داؤد مکی  ۔حضرت عبداللہ شاہ  قادری  کا مزار کا مٹی اسٹیشن کے پاس ہے۔ نو جوانی کے زمانے میں بابا تاج الدین  حضرت عبداللہ شاہ صاحب کی خد مت میں حاضر ہو تے تھے۔ حضرت عبداللہ شاہ کے سجاد ہ نشین کی روایت کے مطابق جب حضرت عبداللہ شاہ کے وصال کا وقت قریب آیا تو تاج الدین ان کے پاس آئے۔ اس وقت شر بت بنا کر شاہ صاحب کو پیش کیا گیا۔ انہوں نے چند گھونٹ پی کر باقی تاج الدین کو پلا دیا۔روایت ہے کہ سید تاج الدین نے  پندرہ سال کی عمر میں قرآن پڑھ لیا تھا اور اس کے بعد دیگر علوم کی تحصیل کی۔جب تاج الدین  18 سال کے تھے (سن 1879تا 1880) تب كامٹی میں بہنے والے كنہان دریا میں سیلاب آ گیا۔ سیلاب سے ان کے مکان کو بھی کو کافی نقصان پہنچا۔سن 1881 میں ان کے ماموں  عبدالرحمٰن نے انہیں ناگپور کی ریجمنٹ نمبر 13 میں بھرتی کروادیا۔  فوج میں تین سال ملازمت کے بعد انہیں ساگر (مدھیہ پردیش)جانا پڑا۔
ساگر مدراسی پلٹن کے خیمہ (ملٹری کیمپ ) میں پہنچنے کے بعد دورانِ ملازمت وہیں ایک  علاقے پیلی کوٹھی میں سلسلہ چشتیہ کے بزرگ حضرت داؤد مکیؒ  کے مزار  پر تشریف  لے جاتے۔حضرت دا ؤد مکی ؒ ، خواجہ شمس الدین ترک پانی پتی ؒ  کے خلیفہ تھے اور خواجہ شمس الدین ترک ؒ  کو مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری ؒ سے خلافت ملی تھی۔ حضرت داؤد مکی ؒ اپنے  مر شد کے حکم پر سا گر آئے اور یہیں وصال فر ما یا۔جب تاج الدین فوجی ملا ز مت کے سلسلے میں سا گر گئے تو آپ نے بابا داؤد  مکی کے مزار پر تقریباً دو سال ریاضت و مر اقبے میں گزارے ۔ روایت کے مطابق یہیں تاج الدین  کو چشتیہ نسبت اویسیہ طریقے پرمنتقل ہوئی۔اب بابا تاج الدین کا روز کا معمول تھا کہ دن میں کام کے بعد پوری رات داؤدمکی ساگری ؒ کے مزارا قدس پر گزارتے اور  یادالہٰی میں محو رہتے۔کامٹی میں جب نانی کو اس بات کی خبر ہوئی کہ نواسہ راتوں کو غائب رہتا ہے تو خیال آیا کہ کہیں کسی بری صحبت میں نہ پڑ گیا ہو۔ یہ سوچ کر نانی صاحبہ ساگر جاپہنچیں تاکہ یہ معلوم کریں کہ نواسہ راتوں کو کہاں رہتا ہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ تاج الدین خدا کی بندگی میں راتیں گزارتا ہے تو  نانی کے دل کا بوجھ اتر گیا اور وہ نواسے کو دعائیں دیتی ہوئی واپس چلی گئیں ۔
لیکن رفتہ  رفتہ تاج الدین کا وقت داؤد مکی ؒ کی درگاہ پر زیادہ اور ڈیوٹی پر کم رہنے لگا ۔  ایک روز فوج کے کیپٹن  کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ تاج الدین  ڈیوٹی کے اوقات میں پیلی کوٹھی کی درگاہ  پر  دیکھے گئے ہیں۔  اس  کیپٹن  نے تاج الدین  کو تنبیہہ کی اور کہا کہ پورے وقت ڈیوٹی پر حاضر رہا کریں ، میں نوٹکروں گا….!تاج الدین کو ملٹری کیمپ میں اسلحہ خانے پر پہرہ دینے کا کام سونپا گیا ،  ایک رات دو بجے کے قریب فوج کا کیپٹن اچانک معائنے کے لیے آگیا۔ اس نے دیکھا کہ تاج الدین مستعدی سے ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ کیپٹن انہیں دیکھ کر مطمئن  روانہ ہوگیا۔آدھے فرلانگ کے فاصلے پر ایک چھوٹی سی مسجد کے پاس سے گزرا ۔ مسجد کا صحن چاندنی رات میں صاف نظر آرہا تھا۔کیپٹن نے دیکھا کہ وہ جس سپاہی کو پہرہ دیتے دیکھ کر آیا ہے۔  وہ خشوع و خضوع کے ساتھ مسجد کے صحن میں نمازادا کررہا ہے۔  سپاہی کو ڈیوٹی سے غفلت برتتے دیکھ کر اسے سخت غصہ آیا اور وہ واپس اسلحہ خانے آیا۔ اس کے قدموں کی چاپ سن کر سپاہی پکارا ‘‘ہالٹ’’۔  انگریز کیپٹن سپاہی کو اپنی جگہ دیکھ کر سخت حیران ہوا  اور کچھ کہے بغیر مسجد کا رخ کیا اور وہاں جاکر وہ حیران و ششدر رہ گیا کہ تاج الدینؒ اسی طرح محویت کے عالم میں مصروف عبادت تھے۔  وہ ایک بار پھر اسلحہ خانے تصدیق کے لئے گیا اور وہاں ڈیوٹی دیتے دیکھ کر اس نے قریب آکر غور سے دیکھا کہ یہ وہی شخص ہے یا کوئی اور؟ اس نے تاج الدین ؒ سے بات چیت کرکے اپنی پوری تسلی کرلی کہ ہاں یہ وہی شخص ہے۔دوسرے دن ایک افسر کے سامنے تاج الدین کی پیشی ہوئی۔ کیپٹن نے رات کے واقعے کی چشم دیدگواہی دی۔ تاج الدین ؒ سے پوچھا گیا کہ تم ڈیوٹی چھوڑ کر عبادت کررہے تھے یا بیک وقت ڈیوٹی بھی ادا کررہے تھے اور عبادت بھی۔ اگر آخری بات سچ ہے تو صاف صاف بتاؤ تم ایک وقت میں دو کام کس طرح انجام دیتے ہو؟ تم جادوگر تو نہیں ہو؟یہ سننا تھا کہ تاج الدین کو جلال آگیا۔ انہوں نے پیٹی، بندوق ،  وردی سمیت تمام سرکاری سامان لاکر انہوں نے افسر کی میز پر رکھ دیا ’’لوجی حضّت! اب ہم دو دو نوکریاں نہیں کرتے جی حضّت‘‘۔یہ کہہ کر تاج الدین فوراً کمرے سے نکل گئے۔
ملازمت سے سبکدوشی کے بعد بابا تاج الدین  ؒ نے زیادہ تر وقت ناگپور سے متصل واکی کے گھنے جنگلوں میں گزارا ، جہاں قدم قدم پر خونخوار شیر اور جنگلی درندے رہتے تھے اس جنگل کے اژدہے بھی شہرت رکھتے ہیں۔وہاں تاج الدین باباؒ نے کئی برس تک بلا خوف  و خطر ریاضت کی۔ کبھی کبھار ریاضت کے بعد آپ ستپڑا پہاڑ کی بلندیوں اور گھنے جنگلوں سے اُتر کر بستیوں میں آجاتے۔ جذب وکیف کا یہ عالم تھا کہ انہیں کھانے پینے  اور پہننے اوڑھنے کا احساس بھی نہ رہتا۔  ادھر تاج الدین کے استعفیٰ کی خبر فوج کے ذریعے ان کے گھر بھیجی گئی۔ نانی نے پھر ایک مرتبہ ساگر آکر دیکھا تو تاج الدین گلی کوچوں کی خاک چھانتے نظر آئے۔ نانی کو لگا کہ وہ پاگل ہو گئے ہیں اور وہ انہیں اپنے ساتھ كامٹی لے آئیں۔ كامٹی میں ڈاکٹروں، حکیموں کو دکھایا گیا لیکن کوئی بھی آپ کی حالت سمجھ نہ سکا۔
بابا تاج الدین شہر میں واپس آکر خوش نہیں تھے۔ انہیں  جب بھی موقع ملتا  پھر اپنے جنگل میں جانکلتے ۔ عام لوگوں نے انہیں پاگل سمجھ لیا ، بستی کے آوارہ لڑکے انہیں چھیڑتے اور تنگ کرتے۔ کوئی آوازیں کستا تو کوئی پتھر مارتا۔ دوسری طرف بہت سے لوگ عقیدت سے ان کے ہاتھ چومتے لیکن تاج الدین باباؒ فنا کی ان منزلوں پر تھے جہاں پتھروں کی مار اور پھولوں کی بارش میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا ہے۔ بستی میں آپ کادل نہیں لگتا تو آپ جنگلات میں نکل جاتے اور کبھی واپس کامٹی پہنچاتے۔ کچھ عرصے بعد آپ کی کرامات کا چرچا ہوا تو لوگ دور دور سے آپ  کے پاس اپنا درد لے کر آنے لگے۔ بابا صاحب کی دعاؤں  سے لوگوں کے کام ہونے لگے تو سائلین اور عقیدتمندوں کا  ہجوم رہنے لگا ایسے میں کچھ لوگوں نے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی سوچی تو  بابا صاحب نے اعلان کر دیا کہ‘‘ اب ہم پاگل جھونپڑی جائیں’’۔حالات کچھ ایسے بنے کہ  26 اگست، 1892 کو كامٹھی کے كینٹونمنٹ اور ضلع مجسٹریٹ نے انہیں پاگل خانے بھیج دیا۔پاگل خانہ کا سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ما روتی راؤ تھا۔ اس کی پانچ لڑکیاں تھیں، لڑکا کوئی نہیں تھا،اولاد نرینہ کی اسے بہت تمنا تھی۔ ڈاکٹر نے بابا صاحب کی پاگل خانے میں موجودگی کا اپنی بیوی سے ذکر کیا ،اُس کی بیوی کے دل میں خیال آیا کہ میں چل کر حضور بابا صاحبؒ سے عرض کروں۔ اُس نے ایک دن اپنے خاوند سے کہا کہ مجھے باباصاحبؒ کے پاس لے چلو۔ اس کا خاوند چونکہ مذہباً مرہٹہ برہمن تھا،اس لیے اپنی بیوی سے یہ الفاظ سُن کر پہلے تو کچھ ہچکچایا ۔ بعد میں اس نے یہ چاہا کہ کسی طرح بابا صاحب کو اپنے گھر پر بلالے ۔لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکا ۔ آخر ایک دن اُس کی بیوی اپنی پانچوں لڑکیوں کے ساتھ باباصاحب کی خدمت میںپہنچ گئی اورعرض کیا کہ :باباصاحبؒ میرے کوئی لڑکا نہیں ہے ۔ میرے لیے دعاکریں۔بابا صاحبؒ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ ’’ڈاکٹروں کی دوائیاں تو بہت کھاتے جی ، پن لڑکا نہیں ہوتا۔ ‘‘یہ سُن کر وہ بیچاری رونے لگی اور پھر عرض کیا کہ باباصاحبؒ ، لوگوں کی مرادیں پوری ہورہی ہیں، میرے لیے بھی مہربانی فرمائی جائے ۔ آپ نے یہ سُن کر پوچھا :’’لڑکیا ں کتنی جی ؟‘‘ تو اس نے جواب دیا کہ لڑکیاں تو پانچ ہیں…. بابا صاحب نے فرمایا ۔‘‘ اگر لڑکیاں پانچ ہیں تو لڑکے بھی پانچ ہوجاتے جی….!’’، یہ خوشخبری سن کر ڈاکٹر کی بیوی واپس گھر آگئی۔  خدا کی شان کہ ایک سال بعد اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔ڈاکٹر ماروتی راؤ کی بیوی نے غسل کے بعد لڑکے کو حضور بابا صاحبؒ کے قدموں میں رکھ دیا۔ باباصاحبؒ نے ایک نظر دیکھا اور تبسم کے ساتھ فرمایاکہ ‘‘ابھی تو چار اور آتے جی ! لے جانا ، یہ خوش رہے گا ۔’’پاگل خانے میں بند کئے جانے کے بعد  بھی اکثر بابا تاج الدین شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں گھومتے نظر آئے اور ان سے کئی کرامات کا ظہور ہوا۔
اسی دوران ناگپور کے مرہٹہ راجہ مہاراجہ گھوراؤ جی بھونسلے پٹیل کے بیٹے ونائیک راؤ کی بیوی زچگی کے مرحلے میں نازک صورتحال سے دوچار تھیں ۔ بڑے بڑے ڈاکٹر،  وید، حکیم موجود تھے ۔ مگر کسی قسم کا کوئی افاقہ نہیں ہو رہا تھا ۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ حاملہ کے رحم میں بچہ مرچکاتھا اب زچہ کی جان بچانے کیلیے آپریشن کی ضرورت ہوگی۔ جسم میں زہر پھیل گیا تو پھر اس کے زندہ رہنے کی کوئی امید نہیں ۔مہاراجہ ڈاکٹروں کو آپریشن کی اجازت نہیں دے رہا تھا اور ادھر بہو کی طبیعت بگڑتی جارہی تھی ۔ اسی دوران مہاراجہ کے ایک ڈرائیور نے جو بابا صاحب ؒ کا بے حد معتقد تھا۔ مہاراجہ سے کہا کہ:میں ایک مسلمان ولی کو جانتا ہوں۔ آپ ان کے پاس چلیے اور دعاکی درخواست کیجئے ۔ شاید کوئی سبب بن جائے ۔مہاراجہ  نے ڈرائیور کی بات سنتے ہی کہا کہ:ہاں چلو جلدسے جلد ہمیں ان کے پاس لے چلو۔ اور اسی طرح ننگے پیر گاڑی میں بیٹھ گیا، راجہ صاحب کی موٹر پاگل خانے کے صدر دروازے پر جاکر رُکی تو لوگ راجا صاحب کے استقبال کو دوڑے لیکن وہ سب کو نظر انداز کرتے ہوئے تیزی سے اندر داخل ہوگئے۔ اندر پہنچتے ہی انہوں نے بابا صاحب کے قدموں میں خود کو گرالیا۔ ان کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا اور صدمے کی وجہ سے ان کی زبان گنگ تھی۔ بابا نے سر اُٹھا کر انہیں دیکھا اور بولے۔ادھر کیا کرتے جی حضت! ادھر جانا، لڑکا پیدا ہوا ہے تو خوشیاں منانا….! ڈرائیور نے یہ سنتے ہی کہا کہ مہاراجہ جلد واپس چلیے کام ہوگیا۔مہاراجہ جب محل میں پہنچا تو خادموں نے دروازے پر ہی مہاراجہ کو مبارک باد دی اور خوشخبری سنائی کہ آپ کی بہو کو بیٹا ہواہے اور زچہ و بچہ دونوں خیریت سے ہیں۔  مہاراجہ کا اعتقاد بابا صاحب ؒ پر اس قدر پختہ ہو اکہ اس نے اسی وقت چیف کمشنر ناگپور بینجمن رابرٹس کے پاس نقد زرضمانت جمع کرا ئی اور بابا صاحب ؒ سے عرض کہ آپ  میرے ساتھ چلیے۔ آپ ؒ نے اس کی درخواست قبول کر لی۔مہاراجہ نے محل کا ایک حصے میں  بنی ‘‘لال كوٹھی’’  آپ ؒ کے لیے مخصوص کردی ۔ راجہ خود صبح شام ان کو حاضری دیتے تھے ۔لال کوٹھی میں بھی ہروقت عام لوگوں کا ہجوم لگا رہتا اور مہاراجہ کی جانب سے ان عقیدتمندوں کے لیے دونوں وقت چائے اور کھانے کا اہتمام ہوتا ۔ آج بھی یہ محل عوام کے لیے وقف ہے اور زائرین زیارت کے لیے دور دور سےآتے ہیں۔26محرم الحرام بمطابق17اگست 1925ء بروز پیر (چھیاسٹھ برس کی عمر میں )مغرب کے وقت بابا نے ہاتھ اُٹھا کر ایک لمحے کے لیے دعا کی۔ پلنگ سے اُٹھ کر چاروں طرف دیکھا پھر سکون سے آنکھیں بند کرکے لیٹ گئے…. ا سی حالت میں  دارفانی سے کوچ فرمایا۔آپ کا مزار  تاج آباد (تاج باغ) امریڈ روڈ، ناگپور میں  مرجع خلائق ہے۔   آپؒ کا عرس مبارک پاک و ہند اور دنیا میں جہاں جہاں آپ کے عقیدتمند موجود ہیں انتہائی ادب و احترم کے ساتھ منایا جاتاہے۔

(حیا ت بابا تاج ادین سے ماخوذ)
کتاب تاریخ اولیاء ھند صفحہ نمبر 122

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP