You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Sunday, July 02, 2017

عثمان شیخانی کی ڈائری سے

•••••••••••••••••••••••••••
ایک پانی سے بھرے برتن میں ایک زندہ مینڈک ڈالیں اور پانی کو گرم کرنا شروع کریں - جیسے ہی پانی کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گا ، مینڈک بھی اپنی باڈی کا درجہ حرارت پانی کے مطابق ایڈجسٹ کرے گا اور تب تک کرتا رہے گا جب تک پانی کا درجہ حرارت "بوائلنگ پوائنٹ" تک نہیں پہنچ جاتا ۔۔۔۔
جیسے ہی پانی کا ٹمپریچر بوائلنگ پوائنٹ تک پہنچے گا تو مینڈک اپنی باڈی کا ٹمپریچر پانی کے ٹمپریچر کے مطابق ایڈجسٹ نہیں کر پائے گا اور برتن سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا لیکن ایسا کر نہیں پائے گا کیونکہ تب تک مینڈک اپنی ساری توانائی خود کو "ماحول کے مطابق" ڈھالنے میں صرف کر چکا ہو گا
بہت جلد مینڈک مر جائے گا۔۔۔
یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے
"وہ کونسی چیز ہے جس نے مینڈک کو مارا؟"
سوچیئے!
میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اکثر یہ کہیں گے کہ
مینڈک کو مارنے والی چیز وہ "بے غیرت انسان" ہے جس نے مینڈک کو پانی میں ڈالا
یا پھر کچھ یہ کہیں گے کہ
مینڈک اُبلتے ہوئے پانی کی وجہ سے مرا۔۔۔
لیکن،
سچ یہ ہے کہ مینڈک صرف اس وجہ سے مرا کیونکہ وہ وقت پر جمپ کرنے کا فیصلہ نہ کر سکا اور خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں لگا رہا ۔۔۔
ہماری زندگیوں میں بھی ایسے بہت سے لمحات آتے ہیں جب ہمیں خود کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ کب آپ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا ہے اور کب حالات کو اپنے مطابق ۔۔۔۔
اگر ہم دوسروں کو اپنی زندگیوں کے ساتھ جسمانی، جذباتی، مالی، روحانی اور دماغی طور پر کھیلنے کا موقع دیں گے تو وہ ایسا کرتے ہی رہیں گے
اس لیے وقت اور توانائی رہتے "جمپ" کرنے کا فیصلہ کریں ۔۔۔۔اور ہر دفعہ کنوئیں کا مینڈک بننے سے پرہیز کریں ۔

پھٹی کتاب کی آپ بیتی

میں ایک پھٹی پرانی کتاب ہوں ۔میرے بال وپر نوچ کر مجھے اس حال میں پہنچا دیا گیا ہے کہ آپ سے نظریں ملاتے ہوئے شرم آرہی ہے ۔ میں کس کے دامن میں منہ چھپاؤں ! کتابوں کی الماری کے ایک کونےمیں قید اپنے اس حشر پر آٹھ آٹھ آنسو بہاتی ہوں ۔ دن کی روشنی ،تروتازہ ہوا اور قاری کے ہاتھ کے لمس سے محروم ہوں ۔ دنیا کی بےثباتی دیکھ کر اس بات کی قائل ہوگئی ہوں کہ کبھی یہاں کے دن بڑے کبھی راتیں ۔ ہر عروج کو زوال ہے اور ہر بقا کو فنا ۔ صرف ایک ہی ذات پاک لافانی ولازوال ہے ،جو سب کا مالک و رب ذوالجلال ہے ۔
میں پہلے ایسی نہ تھی ۔ پریس سے نکلی تو سفید براق کاغذ پر سیاہ حروف دیدہ زیب،لباس رنگین وخوشنما ، حسن ظاہری دل فریب ۔ پریس سے نکل کر کتابوں کی دکان پر پہنچی جہاں ایک قدر داں کی نظر مجھ پر پڑی اور میں اسے پہلی ہی نظر میں بھاگئی ۔ میں بڑے اہتمام سے اس کی کتابوں کی الماری کی زینت بنی ۔ اپنی اس قدرو منزلت پر میں پھولے نہ سمائی ۔ میں اپنے آپ کو دیگر کتابوں سب ممتاز سمجھتی ۔ میرا سر ہمیشہ فخر سے بلند رہتا ۔ لیکن وہ کہتے ہیں نا ! غرور کا سر نیچا ، آسمان کا تھوکا منہ پر ۔ میں ایک قدر ناشناس کے ہاتھ پڑگئی جو مجھے مستعار لے گئے ۔ ان کی باتوں سے لگتا تھا وہ کتابوں کے دیوانے اور شمعِ اردو کے پروانے ہیں ۔ مگر ان کا سارا شوق جھوٹا اور ساری لگن دکھاوا نکلی ۔گھر لاکر ایک کونےمیں پٹخ دیا ۔ مہینوں میری خبر نہ لی، ایک جگہ پڑے پڑے میرا دم گھٹنے لگا ۔ وقت کی گرد مجھ پر جمنے لگی ۔میری سفیدی مدھم پڑتی گئی اور مجھ پر زردی مائل رنگ حاوی ہونے لگا ۔ زمانے کی گردش نے اپنا رنگ دکھایا اور ایک وقت ایسا آیا کہ میں خود اپنی پہچان کھو بیٹھی ۔
اپنی اس ناقدری پر چیخی چلائی لیکن میری آواز سننے والا کون ؟۔ میری بپتا سننے والا کون ؟ انہی کرب وبلا کے شب و روز میں اپنے سنہرے دور کو یاد کرتی ، ان خوشگوار لمحوں کو یاد کرکے اپنے آپ کی ڈھارس بندھاتی رہی ۔
ستم بالائے ستم اس قدر ناشناس کے لڑکے نے میرے بال وپر نوچ ڈالے ۔ مجھے اس گوشے میں ڈال دیا گیا جہاں میری طرح دیگر کتابوں کو دیمک چاٹ رہی تھی ۔ تب سے یہاں قید ہوں اور انتظار کررہی ہوں اس چارہ گر کا جو میری داد کو پہنچے اور میری قدرومنزلت کو پہچانے۔

ڈاکٹر ذاکر حسین

✅ 
*آج سابق صدرِ جمہوریہ ہند، ممتاز ماہرِ تعلیم اور ادیب
ڈاکٹر ذاکر حسین کے والد فدا حسین خان کا تعلق قائم گنج ضلع فرخ آباد اتر پردیش سے تھا لیکن وہ حید ر آباد منتقل ہو گئے تھے ۔ ذاکر حسین ۸ فروری ۱۸۹۷ ء کو حیدر آباد میں پیدا ہو ئے ۔ ذاکر حسین صاحب کی ابتدائی تعلیم روایتی انداز سے گھر پر ہی ہو ئی تھی ، خاص کر انگریزی پڑھانے کے لئے ایک معلم کا انتظام کیا گیا تھا ۔ بعد میں انہیں اٹاوہ کے مشہو ر اسلامیہ اسکول بھیج دیا گیا ۔ اسکول کے سر براہ مولوی الطاف حسین کی تربیت اور تعلیم نے ذاکر حسین کی شخصیت کو سنوارنے میں خا ص کردار ادا کیا ۔
ذاکر صاحب اٹاوہ سے کالج کی اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے علی گڑھ چلے گئے ، پھرالہٰ آباد یونیور سٹی کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے آپ نے اعلیٰ کا ر کردگی کا مظاہرہ کیا ۔ علی گڑھ کے قیام کے دوران ہی آپ نے افلا طون کی کتاب ’’ریاست ‘‘کا ارد و تر جمہ کر لیا تھا اور علی گڑھ کے میگزین کے لئے بھی آپ مستعد ی سے لکھتے رہے، پھر علی گڑھ یونیور سٹی سے ایم اے کیا اور وہیں اتدریس کے پیشے سے وابستہ ہوگئے۔ اس دوران انھوں نے گاندھی جی کی تحریک میں بھی حصہ لیا۔جا معہ ملیہ کا قیام ۲۹ اکتوبر ۱۹۲۰ کو عمل میں آیا جامعہ ملیہ کے قیام اور ترقی میں انھوں نے کافی اہم رول ادا کیا ۔پھر مزید تعلی حاصل کرنے کی غرض سے جرمنی گئے ۱۹۲۶ ء میں وہاں سے معاشیات میں پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کی، وہیں انھوں نے مرزا غالب کی انتھالوجی پر بھی کام کیا۔جب دہلی آئے تو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر ہوئے۔ اس دوران تحریکِ آزادی میں بھی فعال حصہہ لیا، تقسیمِ ہند کے بعد ۱۹۴۸ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہوئے اور اس عہدے پر ۱۹۵۶ تک فائز رہے، گو کہ وہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں تھے لیکن ماہرِ تعلیم کی حیثیت سے اسی سال انھیں راجیہ سبھا کی رکنیت حاصل ہوئی۔۱۹۵۷ میں انھیں ریاست بہار کا گورنر نامزد کیا گیا۔۱۹۶۲ میں ذاکر صاحب ملک کے نائب صدر منتخب ہوئے، ۱۹۶۳ میں انھیں ملک کا سب سے بڑا ایوارڈ ’’بھارت رتن‘‘ تفویض ہوا اور پھر ۱۳ مئی ۱۹۶۷ کو تیسرے صدرِ جمہوریہ کے باوقار عہدے پر فائز ہوئے اور اسی عہدے پر رہتے ہوئے ۳ مئی ۱۹۶۹ کو ان کا انتقال ہوگیا، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس میں پورے قومی اعزاز کے ساتھ ان کی تدفین ہوئی۔
ذاکر صاحب ایک اہم ادیب بھی تھے، انگریزی اور اردو میں کئی اہم کتابیں لکھیں، اردو میں انھوں نے بچوں کے ادب کو ایک نئی جہت دی، ان کی کہانی ’’ابو خاں کی بکری‘‘ بہت مقبول ہوئی۔

اساتذہ کے ادب

​​اساتذہ کے ادب کی انتہا​​

​​قومیں.....​​
​ایک دفعہ ابن انشاءٹوکیو کی ایک یونیورسٹی میں مقامی استاد سے محو گفتگو تھے‘ جب گفتگو اپنے اختتام پر پہنچی تو وہ استاد ابن انشاءکو الوداع کرتے ہوئے یونیورسٹی کے باہری صحن تک چل پڑا‘ ابھی یونیورسٹی کی حدود میں ہی تھے کہ دونوں باتیں کرتے کرتے ایک مقام پر کھڑے ہو گئے‘ اس دوران ابن انشاءنے محسوس کیا کہ پیچھے سے گزرنے والے طلباءاچھل اچھل کر گزر رہے ہیں‘ باتیں ختم ہوئیں تو ابن انشاءاجازت لینے سے پہلے یہ پوچھے بغیر نہ رہ سکے کہ محترم ہمارے پیچھے سے گزرنے والا ہر طالب علم اچھل اچھل کر کیوں گزر رہا ہے‘کیا اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟ٹوکیو یونیورسٹی کے استاد نے بآواز بلند قہقہہ لگایا اور ابن انشاءکو بتایا کہ سورج کی روشنی سے ہمارا سایہ ہمارے پیچھے پڑ رہا ہے اوریہاں سے گزرنے والا ہر طالب علم نہیں چاہتا کہ اس کے پاﺅں اس کے استاد کے سایہ پر پڑیں‘ اس لئے ہمارے عقب سے گزرنے والا ہر طالب علم اچھل اچھل کر گزر رہا ہے‘ یہ قوم کیوں نہ ترقی کرے‘ ہمارے معاشرے میں تو استاد کا احترام اس کے گریڈ اورعہدے سے منسلک ہے

Monday, April 10, 2017

شعری نشست ( بطور اعزاز جناب زاہد کونچوری)

٩ اور ١٠ اپریل کی درمیانی شب ایک شعری نشست کا اہتمام جناب زاھد کونچوی کی ممبرا آمد پر بطور اعزاز محفلِ ادب ممبرا کی جانب سے جناب نظر نقشبندی کے دولت کدے پر، محترم مونس اعظمی، نائب صدر محفلِ ادب ممبرا کی صدارت میں کیا گیا. بزم کا آغاز خوش الحان قاری نور شادانی نے تلاوت قرآن پاک سے کیا.

مہمانِ اعزازی زاھد کونچوی کے علاوہ اظہر اعظمی، تابش رامپوری، ایوب امیر، نور شادانی، خورشید عالم، افسر دکنی، نظر نقشبندی، علیم طاہر، زبیر گورکھپوری، مونس اعظمی، اعجاز ھندی جیسے نامور شعراء نے شرکت کی.
مہمان اعزازی جناب زاھد کونچوی کا تعارف پیش کرتے ہوئے نظر نقشبندی صاحب نے بتایا کہ آنجناب جھانسی سے تشریف لائے ہیں اور آپ کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں.

نشست میں پڑھے گئے جن اشعار نے پذیرائی حاصل وہ مندرجہ ذیل ہیں :

رحمت و نور کا شامیانہ ہوا
سَروَرِ دیں (ص) کا دنیا میں آنا ہوا
اظہر اعظمی

زمیں دیکھتے ہیں آسماں دیکھتے ہیں
تُو ہی تُو ہے ہم بس جہاں دیکھتے ہیں
عارف صدیقی

مجھ کو کافی ہے نگاہِ لطف فرمانا ترا
دل بھی نذرانہ ترا ہے جان بھی نذرانہ ترا
تابش رامپوری

دل میں ہو درد تو آنکھوں نمی رہتی ہے
بے سبب دریاؤں میں طوفان نہیں آتے ہیں
ایوب امیر

تیری محبتوں کا شجر اُونگھ رہا ہے
یادوں کے پَتّے جھڑنے لگے ڈال ڈال سے
علیم طاہر

پھولوں کی بزم میں نہ بہاروں کے درمیاں
اپنی تو عمر کٹ گئی خاروں کے درمیاں
نور شادانی

مَیں قطرہ ہوں مجھکو بلاغت ملے تو
سمندر کو ذَوقِ سماعت ملے تو
خورشید عالم

نئے موسم میں سَنَّاٹے مسلط
چمن مغلوب ویرانے مسلط
نظر نقشبندی

تری تلاش میں گھر سے نکل پڑے ہیں قدم
اگرچہ ڈھونڈنے جائیں تو کیا کیا نہیں ملتا
افسر دکنی

پاؤں اُس کے زمین پر ہی ہیں
سر پہ جو آسمان اُٹھائے ہے
ڈاکٹر و ایڈووکیٹ ریکھا 'روشنی'

ملنا جو مجھ سے تم ذرا دل سنبھالنا
آتا ہے مجھ کو سیپ سے موتی نکالنا
زبیر گورکھپوری

شعور و آگہی کم ہو رہا ہے
نئی نسلوں میں پیہم ہو رہا ہے
اعجاز ھندی

نہیں ہے اتنا ضروری یہ زر سنبھال کے رکھ
یہ زر ہنر سے ملا ہے، ہنر سنبھال کے رکھ
زاھد کونچوی

آپ سے پہلے نہ کوئی بانکپن اچھا لگا
آپ کی طرزِ ادا طرزِ سخن اچھا لگا
مونس اعظمی

آخر میں صدر محفلِ ادب ممبرا عبدالرحمن اعظمی نے رات کے تقریباً ایک بجے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اگلی نشست تک کے لئے مجلس کے ملتوی ہونے کا اعلان کیا. نظامت کے فرائض جناب نظر نقشبندی نے بحسن و خوبی انجام دیئے.

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP