You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Monday, August 20, 2018

قریش نگر کرلا کتب خانہ کے افتتاح کے موقع پر شعری نشست

قریش نگر کرلا کتب خانہ کے افتتاح کے موقع پر شعری نشست کا انعقاد

بروز اگست ۲۰۱۸ء یوم آزادی کے موقع پر قریش نگر ٹکٹ گھر کےقریب نگر سیوک کپتان ملک کے ذریعے کتب خانے کا افتتاح کیا گیا اور ایک شری نشست کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اس نشست کا اہتمام سلام بن عثمان نے کیا۔ عارف اعظمی صاحب کو نظامت کی ذمہ داری دی گئی اور بہت ہی بہترین نظامت کی۔ ممبئی اور مضافات کے کئی شعراء حضرات آئے اور کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ شعری نشست کا آغاز حمد و نعت کے ذریعے نور شاد صاحب نے کی بہت پیاری حمد و نعت سنائی۔دیگر شعراء حضرات میں احسان شیوانی، ایاز بستوی، نور شادانی، سید فیصل، عارف اعظمی کے علاوہ بھی دیگر شعراء حضرات نے اپنے بہترین کلام سنائیں اور لوگوں سے داد و تحسین لیتے رہے۔حنیف شیخ جو ایک بہت ہی بہترین سنگر ہیں انھوں نے مننا ڈے کا ایک دیش بھکتی گانا بھی گایا اور لوگوں نے بہت پسند کیا۔ لن ترانی میڈیاکی جانب سےمنور سلطانہ نے نگر سیوک کپتان ملک کو کتب خانہ کی افتتاح پر مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ سلام بن عثمان افسانہ نگار کپتان ملک کو پھولوں کا گلدستہ اور شال پیش کی۔ فواد صاحب کو منور سلطانہ اور حنیف شیخ نے پھولوں کا گلدستہ اور شال پیش کی۔ آخر میں نگر سیوک کپتان ملک نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کتب خانہ بنانے کا خیال اس لئے آیا کہ یہ روڈ بہت ہی گندہ تھا عمر دراز لوگوں کا چلنا بہت ہی محال تھا، ساتھ ہی یہ روڈ ریلوے کی جگہ ہے ان کے نگرانی میں آتا ہے میں نے اپنے ذاتی فنڈ سے اس روڈ اور کتب خانہ کوبنایا ہے، کارپوریشن کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ بزرگ اور ماں بہنیں اس روڈسے جب گزرتی ہیں تو کہیں بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی یہ ان لوگوں کےلئے بنایا گیا ہے اور نوجوان طبقہ بھی یہاں بیکار نہ بیٹھے یہاں پر اخبار اور رسالہ رہے گا تاکہ لوگ آئے اخبار پڑھنے سے لوگوں میں مطالعہ کا شوق پیدا ہوگا۔ آخر میں حنیف شیخ اور یاسمین شیخ نے لن ترانی میڈیا کی جانب سے کپتان ملک کا ایک انٹر ویو بھی لیا گیا۔ رسم شکریہ عارف اعظمی صاحب نے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور شعری نشست کا اختتام عمل میں آیا۔

فلم ’’اُنماد‘‘ پریس پریمیر شو

فلم ’اُنماد‘ کا پریس پریمیر شو

ماپ لنچنگ اور ہُجومی تشدّد آج ملک کا سب سے سنگین مسئلہ ہے جس میں بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔ اس موضوع 
پر کچھ کہنا یا لکھنا مُتنازعہ ہے مگرتعریف کرنی پڑے گی رائٹر ڈائرکٹر کبیر شاہد کی جنہوں نے اِس سخت موضوع پر ایک فلم بنا ڈالی’’اُنماد‘‘ جس کا پریس پریمیر شو گذشتہ اتوار کو ری پبلک مال، ڈی این نگر کے ملٹی پلیکس تھیٹر میں ہُوا۔ اس موقع پر لن ترانی میڈیا ہاؤس کی ایک مخصوص ٹیم نے ’’اُنماد‘‘کے ستارو ںکے ساتھ ساتھ اِس فلم کو دیکھا اور فلم میں مرکزی کردار نبھانے والے تمام اداکاروں سے بات بھی کی۔ کبیرشاہد نے بتایا کہ وہ اِس موضوع پر فلم بنانے کے لئے جُنون کی حد تک بے چین تھے اور اُنہیں سینسر بورڈ کی طرف سے کافی پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ فلم لوگوں کو ضرور پسند آئے گی جو ماپ لنچنگ کے غلط اثرات کے ساتھ جذبۂ حبّ الوطنی کا بھی پیغام دیتی ہے ۔


Thursday, August 09, 2018

یوم سیاہ

عوامی وکاس پارٹی کی جانب سے  10 اگست کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا گیا ہے

Wednesday, May 09, 2018

Wednesday, March 21, 2018

عالمی یوم شاعری

✅ *۲۱ مارچ، عالمی یومِ شاعری*

یونائیٹیڈ نیشنز سائنٹیفَک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن UNESCO نے پیرس میں منعقدہ تیسویں اجلاس ۱۹۹۹ء میں یہ اعلان کیا تھا کہ ہر سال ۲۱ مارچ کو عالمی یومِ شاعری WORLD POETRY DAY منایا جائے گا۔ اس دن کو منائے جانے کا واضح مقصد تو یہ ہے کہ ساری دنیا میں مطالعہ، تحریر، اشاعت اور تدریس کے ذریعے شاعری کو فروغ دیا جائے لیکن یونیسکو کے اعلانیہ کے مطابق یہ دن شاعری کی علاقائی، قومی اور بین الاقوامی تحریکوں کی شناخت اور محرک کے طور پر منایا جائے گا۔
گو کہ مختف ممالک میں یہ دن مختلف تاریخوں میں منایا جاتا ہے لیکن عالمی سطح پر ۲۱ مارچ کو شاعری کے فروغ کے لیے کئی اہم تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ اس دن کئی ممالک میں شاعری کی ضرورت اور اہمیت پر اسکولوں میں بچوں کو خصوصی معلومات دی جاتی ہے تاکہ صدیوں پرانی اس تہذیب کو زندہ رکھا جائے جس کی وجہ سے ساری دنیا میں محسوسات کی فکری ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے،
شاعری سنانے کا رجحان ہر جگہ تقریباً یکساں ہے اور یہ رابطے اور اظہار کا بہترین وسیلہ ہے۔ جذبات اور محسوسات کو دلکش انداز میں دوسروں تک پہنچانے کا انتہائی موثر تہذیبی ذریعہ ہے۔ درحقیقت شاعری انسان کے فطری آہنگ اور محسوسات کے امتزاج کا نام ہے جو الفاظ کی شکل میں ایک ذہن سے لاتعداد دلوں میں منتقل ہوتی ہے۔
ٹیکنالوجی کے اس دور میں کمپیوٹر، انٹرنیٹ، موبائل فون، ریموٹ کنٹرول سے چلنے والی مشینوں اور دیگر آسائشی وسائل نے ساری دنیا کو تیز رفتار ضرور کردیا ہے لیکن جمالیاتی حس کا فقدان اور فنونِ لطیفہ سے عدم دلچسپی کا مزاج بھی تیزی سے پنپنے لگا ہےاور یہ ضروری ہوگیا ہے کہ دل، دماغ اور روح کو فرحت و انبساط بخشنے کے لیے فطری وسائل استعمال کیے جائیں اور یہ فطری وسائل فنونِ لطیفہ ہی تو ہیںاور ان فنون میں سب سے زیادہ وسیع اور عام فن شاعری ہے.○○

تحریر: حامد اقبال صدیقی

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP