Sunday, October 26, 2014
Thursday, October 23, 2014
عبد الرشید مومن نہیں رہے
آگری پاڑہ فینسی مارکیٹ ،بی آئی ٹی چال کے ساکن مختلف اخباروں میں مختلف عنوان پر مضامین تحریر کرنے والے عبد الرشید مومن جو جماعت اسلامی ہند مدنپورہ سے وابستہ تھے اور کافی عرصہ سے وہاں لائبریرین کے فرائض انجام دے رہے تھے ۔بروز بدھ 22 ؍اکتوبر کو اچانک صبح انتقال فرماگئے۔انا للہ و نا الیہ راجعون ۔ تدفین ناڑیل واڑی قبرستان میں ہوئی ۔اطراف و اکناف کے دوست احباب اور رشتہ داروں نے نم آ نکھوں کے ساتھ انہیں الواداع کہا۔دعاء کریں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی خطاؤں سے در گزر کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے ۔اور رشتہ داروں اور دوست احباب کو صبر جمیل عطا کرے ۔آمین
آگری پاڑہ فینسی مارکیٹ ،بی آئی ٹی چال کے ساکن مختلف اخباروں میں مختلف عنوان پر مضامین تحریر کرنے والے عبد الرشید مومن جو جماعت اسلامی ہند مدنپورہ سے وابستہ تھے اور کافی عرصہ سے وہاں لائبریرین کے فرائض انجام دے رہے تھے ۔بروز بدھ 22 ؍اکتوبر کو اچانک صبح انتقال فرماگئے۔انا للہ و نا الیہ راجعون ۔ تدفین ناڑیل واڑی قبرستان میں ہوئی ۔اطراف و اکناف کے دوست احباب اور رشتہ داروں نے نم آ نکھوں کے ساتھ انہیں الواداع کہا۔دعاء کریں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی خطاؤں سے در گزر کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے ۔اور رشتہ داروں اور دوست احباب کو صبر جمیل عطا کرے ۔آمین
Wednesday, October 22, 2014
قصہ خضر ؑو موسیٰ
راز
حیات پوچھ لے خضر خستہ گام سی٭ زندہ ہر ایک چیز ہے کوشش ناتمام سی
قصہ
خضر ؑو موسیٰ ؑ
……… عبد العزیز ………
مکہ
معظمہ میں آنحضرت ؐ اور آپ ؐکے ساتھیوں پر جب کفار و مشرکین ہر طرح سے ستانے لگی۔ مار
پیٹ، معاشی دباؤ کے ہتھیار استعمال کرنے لگی، ظلم و ستم اور مزاحمت انتہا کو پہنچ گئی
تو مسلمان حبشہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ اسی وقت مسلمانوں کو اصحاب کہف کا قصہ سنایا
گیا کہ ان کی ہمت بندہے اور ان کو معلوم ہو کہ اہل ایمان اپنا ایمان بچانے کیلئے اس
سے پہلے کیا کچھ کر چکے ہیں۔ اس کے بعد قصہ خضر ؑ و موسیٰ ؑ سنایا گیا یہ بتانے کیلئے کہ مؤمنین کو تسلی ہواور
کفار کو ان کے کئے ہوئے سوال کا ایسا جواب بھی مل جائے جو اس وقت کے حالات پر پورے
کا پورا چسپاں ہوجائی۔ قصہ ذوالقرنین بھی اسی نوعیت کا ہی۔ یہ تینوں سوالوں کا جواب
سورہ کہف میں اختصار کے ساتھ دیا گیا ہی۔
قصہ
اصحاب کہف اور چند بنیادی باتوں کے بعد قصہ خضر ؑ و موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ یوں شروع کرتا ہی:۔
(ذرا ان کو وہ قصّہ سناؤ جو موسیٰ کو پیش آیا تھا) جبکہ موسیٰ نے اپنے خادم
سے کہا تھاکہ ’’میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک کہ دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ
جاؤں، ورنہ میں ایک زمانۂ دراز تک چلتا ہی رہوں گا۔‘‘ پس جب وہ ان کے سنگم پر پہونچے
تو اپنی مچھلی سے غافل ہوگئے اور وہ نکل کر اس طرح دریا میں چلی گئی جیسے کہ کوئی سُرنگ
لگی ہو۔ آگے جاکر موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا ’’لاؤ ہمارا ناشتہ، آج کے سفر میں تو ہم
بُری طرح تھک گئے ہیں۔‘‘ خادم نے کہا آپ نے دیکھا! یہ کیا ہوا؟ جب ہم ا‘س چٹان کے پاس
ٹھہرے ہوئے تھے اس وقت …… مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل
کردیا کہ میں اس کا ذِکر (آپ سے کرنا)بھُول گیا۔ مچھلی تو عجیب طریقے سے نِکل کر دریا
میں چلی گئی۔‘‘ موسیٰ نے کہا ’’اسی کی تو ہمیں تلاش تھی۔‘‘ چنانچہ وہ دونوں اپنے نقشِ
قدم پر پھر واپس ہوئے اور وہاں انہوںنے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم
نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنی طرف سے ایک خاص
علم عطا کیا تھا۔
Saturday, October 18, 2014
سرسیّد ڈے گزشتہ دنوں ایم اے یو ایسوسی ایشن آف مہاراشٹر کے زیر اہتما م ممبرا کوسہ میں'' یوم سرسیّد "کی تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ جس کی صدارت بھیونڈی کی معروف علمی شخصیت ایڈوکیٹ یاسین مومن نے کی ۔اور نظامت کے فرائض ایڈوکیٹ عبدالسلام نے انجام دیۓ ۔تقریب کا آغاز قاری عبدالمالک کی تلاوت سے ہوا ۔سرسید ڈے کی تقریب کے روح رواں تنورعالم نے کہا کہ سر سیّد احمد خان نے تعلیم کا ایک پودا لگایا تھا ۔جو آج تناور درخت ہو گیا ہے ۔جس سے قوم کے ہونہار طلباء مستفیض ہورہے ہیں ۔ہم نے اپنے رفقاء کے ساتھ تعلیم کے میدان میں پیش رفت جاری رکھے ہوۓ ہیں ایڈوکیٹ یا سین مومن نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ مہاراشٹر میں انجمن اسلام جیسے تعلیمی ادارے سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تعلق ہوگیا تو قوم و ملّت کو بہت فائدہ ہوگا۔ اس طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے اپنے اظہار خیال میں کہا کہ سر سید احمدخان نے علی گڑھ یونیورسٹی قائم کرکے جدید تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت کو بھی اپنا مقصد بنایا انہوں نے پچھڑے پن کا م مقابلہ کرنے لیے قوم و ملت کو حصول تعلیم کو اپنا مقصد بنانے کے لیے ہرطرح کی قر بانیاں دیں شہر ممبئی کے مشہور سماجی سوشل ورکر فریداحمد خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج کے حالات بدل رہے ہیں ۔ آج پھر ایک سرسید کی ضرورت ہے ۔انھوں نے ایک معنی خیز شعر کے ساتھ اپنی تقریر کا اختتام کیا جیسے سیاہ رات نام نہیں لیتی ڈھلنے کا یہی وقت ہے سورج کے نکلنے کا جمال اعظمی علیگ نے کہا اعلی تعلیم کے لیے ہم آگے آئيں ۔ پسماندہ لوگوں کی مدد کریں ، مرکزی حج کمیٹی کے رکن الیاس خان نے انتظامیہ کو ممبرا کوسہ میں یوم سرسید کی تقریب منعقد کرنے پر مبارک باد دی ۔ ارشاد احمد نے کہا کہ غدر کے بعد سرسید احمد خان نے مسلمانوں کو مایوسی سے نکالا ۔ اس تقریب میں التمش فیضی ، ڈاکٹر چندرشیکھر ،عبدالحکدیم ندوی ، وغیرہ بھی اظہار خیال کیا ۔مقامی نوجوانوں نے آخر میں ترانہ علی گڑھ ترنم سے پڑھ کر سنایا اس طرح سے اس تقریب کا اختتام ہوا ،
جمہوری حکومت اور عوام کی سوچ
مہاراشٹر اور ہریانہ میں انتخابی عمل ختم ہو چکا ہے ۔
ہزاروں امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ مشین میں بند ہو چکا ہے جو عوام یا ملک کی خدمت
کیلئے نہیں بلکہ انہوں نے جو کچھ سرمایہ کاری اس الیکشن میں کی ہے اس کی سودسمیت
واپسی کی لالچ میں شامل ہوئے اور اسی وجہ سے انہوں نے سرمایہ لگایا اور جیتنے کے
بعد ان کی ترجیح عوامی املاک اور ملکی سرمایہ کی بندر بانٹ اور کروڑ پتی سے ارب
پتی بننے کی طرف پیش قدمی ہی ہوتی ہے۔ ملک میں 65 سال سے یہ تماشہ جاری ہے ۔ اس
درمیان ملک میں ارب پتیوں اور کروڑ پتیوں کی تعداد تو بڑھی ہے لیکن اسی کے ساتھ
غریب اور غریب ہوا اور کسانوں کی حالت اتنی خراب ہوئی کہ انہیں موت کی آغوش میں
ہی سکون مل رہاہے ۔ ایک بار پھر ابھی چار ماہ قبل پارلیمانی انتخاب ہو اتھا ۔ اب
دو ریاستوں کی اسمبلی کیلئے انتخاب ہوا۔
بھاری سرمایہ کاری کرکے سیاسی جماعتیں اور امیدواروں نےملک کی خدمت اور عوام کو بہتر زندگی دینے کے وعدے کے ساتھ طرح طرح کی ترکیبیں اختیار کرکے نئے نئے جدید ذرائع سے عوام میں پہنچ بنانے کی بھرپور کوشش کی ۔ انہوں نے اس میں کتنی کامیابی حاصل کی 19 ؍اکتوبر کو نتیجہ کی آمد کے ساتھ اس کا پتہ چلے گا۔ لیکن اتنا تو طے ہے کہ عوام کی زندگی میں کوئی خاص فرق نہیں آنے والا۔ بدعنوانی کا یونہی بو ل بالا رہے گا کسان اسی طرح خود کشی کرتے رہیں گے ۔سرمایہ دار عوام کا خون اسی طرح چوستے رہیں گے۔سرکاری افسران عوام کو ظلم و ستم کا نشانہ بناتے رہیں گے ۔ اس کی دو وجہ ہیں ۔ اول یہ کہ مغربی جمہوری طریقہ انتخاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کا سارا دارو مدار بھرپور تشہیر پر ہے جس میں کثیر سرمایہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ ملک اور بیرون ملک کے سرمایہ دار اپنے کاروباری مفاد کی خاطر مشروط سرمایہ لگاتے ہیں۔ اس بار آخری دو دن بی جے پی نے تشہیر کے سارے جدید ذرائع کو سرمایہ کی قوت سے خرید لیا ۔ کیا ایسی صورت میں یہ امید کی جاسکتی ہے کہ کوئی عام آدمی اس انتخابی عمل میں شامل ہوکر عوام کی خدمت کرے ۔ دوسری خاص وجہ ہے کہ اس ملک کے لوگ فرقہ وارانہ خطوط اور ذات پات اور لسانی اور علاقائی بنیادوں پر بری طرح تقسیم ہیں۔ جب عوام میں اتنا تفرقہ ہو تو پھر حکومت کے گریبان کون پکڑے ۔ اس لئے آپ اور ہم بس اس نظام کو یونہی چلائے چلئے ۔ آنکھیں بند کرکے جمہوریت کی لاٹھی پکڑ کر آگے بڑھتے رہئے ۔ انتخابی عمل میں حصہ لیتے رہئے ۔ کیوں کہ بڑی بڑی مشہور ہستیوں کے مطابق یہ ملک کا سب سے بڑا تہوار ہے اور اس سے غفلت ملک کی ترقی سے غفلت یا اعراض ہے۔ ان کے لئے تو واقعی یہ صحیح اور نفع بخش ہوسکتا ہے لیکن کیا مقہور ،مجبور اور پسماندہ آبادی کے لئے بھی ایسا ہی معاملہ ہے ۔ یقینا ً جواب نفی میں ہوگا۔ اس کی سچائی کی تصاویر ملک میں ہر طرف بکھڑی پڑی ہیں ۔ آپ بھی اس کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ اگر ہم دیکھ کر بھی ان دیکھی کریں اور اس کے سدھار سے متعلق کسی نکتہ پر پہنچنے کی کوشش نہ کریں تو اس میں کسی کا کیا قصور ۔ تعلیم کا ہر طرف چرچا ہے لوگ نئی نئی ایجادوں سے مستفید ہو رہے ہیں لیکن اپنی سوچ کو آج بھی انہوں نے کسی نہ کسی کا غلام بنا رکھا ہے ۔ نہ جانے یہ غلامی کہاں جا کر رکے گی۔ آج تو جانور بھی سوچنے سمجھنے والا ہو چکا ہے لیکن انسان ہے کہ کچھ سوچنے اور خود کو تبدیل کرنے کو راضی ہی نہیں سکہ کا ایک رخ ہی دیکھ کر فیصلہ کرلیتا ہے ۔ دوسرا رخ دیکھنے کیلئے اس کے پاس وقت ہی نہیں اس کے لئے اسے شاید کسی صور اسرافیل کا انتظار ہے۔ میری باتوں سے اختلاف ہو سکتا ہے اور ہونا بھی چاہئے لیکن بتائیے کہ کیجریوال کو کیوں ناکام مان لیا گیا ۔ اور عوام کیوں ذرائع ابلاغ کے گمراہ کن پروپگنڈہ کی رو میں بہے چلے جارہے ہیں۔ کیجریوال نے تو خالص عوامی خدمت کی تحریک شروع کی تھی ۔ جو وہ آج بھی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔لیکن لوگوں کی ان کے تئیں طرح طرح طنز سنیں تو یہ احساس جاگتا ہے کہ شاید عوام اسی سڑے گلے نظام میں بے حسوں کی زندگی ہی گزارنا چاہتے ہیں ۔ ایک امیدوار کے بارے میں ابھی حالیہ ممبئی انتخاب میں ایک شخص نے کہا کہ امیدوار تو اچھا ہے لیکن پیسہ خرچ نہیں کرتا ۔اب بتائیے جہاں لوگ سترہ پیسہ روز کے حساب سے اپنے ووٹ کو بیچ دیتے ہوں ۔اور اچھے امیدوار کو جتانے کی کوشش کرنے کی بجائے یہ کہتے ہوں کہ یہ پیسہ خرچ نہیں کرتا ۔ بس یہی کمال ہے اس مغربی جمہوری نظام کا ۔جہاں لوگوں کے سوچنے کا انداز بھی بدل جاتا ہے ۔اور اب ایسی سوچ کے ساتھ سوچتے ہیں کہ تبدیلی آجائے اور بد عنوانی ختم ہو جائے تو بھائی یہ ناممکن ہے ۔
بھاری سرمایہ کاری کرکے سیاسی جماعتیں اور امیدواروں نےملک کی خدمت اور عوام کو بہتر زندگی دینے کے وعدے کے ساتھ طرح طرح کی ترکیبیں اختیار کرکے نئے نئے جدید ذرائع سے عوام میں پہنچ بنانے کی بھرپور کوشش کی ۔ انہوں نے اس میں کتنی کامیابی حاصل کی 19 ؍اکتوبر کو نتیجہ کی آمد کے ساتھ اس کا پتہ چلے گا۔ لیکن اتنا تو طے ہے کہ عوام کی زندگی میں کوئی خاص فرق نہیں آنے والا۔ بدعنوانی کا یونہی بو ل بالا رہے گا کسان اسی طرح خود کشی کرتے رہیں گے ۔سرمایہ دار عوام کا خون اسی طرح چوستے رہیں گے۔سرکاری افسران عوام کو ظلم و ستم کا نشانہ بناتے رہیں گے ۔ اس کی دو وجہ ہیں ۔ اول یہ کہ مغربی جمہوری طریقہ انتخاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کا سارا دارو مدار بھرپور تشہیر پر ہے جس میں کثیر سرمایہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ ملک اور بیرون ملک کے سرمایہ دار اپنے کاروباری مفاد کی خاطر مشروط سرمایہ لگاتے ہیں۔ اس بار آخری دو دن بی جے پی نے تشہیر کے سارے جدید ذرائع کو سرمایہ کی قوت سے خرید لیا ۔ کیا ایسی صورت میں یہ امید کی جاسکتی ہے کہ کوئی عام آدمی اس انتخابی عمل میں شامل ہوکر عوام کی خدمت کرے ۔ دوسری خاص وجہ ہے کہ اس ملک کے لوگ فرقہ وارانہ خطوط اور ذات پات اور لسانی اور علاقائی بنیادوں پر بری طرح تقسیم ہیں۔ جب عوام میں اتنا تفرقہ ہو تو پھر حکومت کے گریبان کون پکڑے ۔ اس لئے آپ اور ہم بس اس نظام کو یونہی چلائے چلئے ۔ آنکھیں بند کرکے جمہوریت کی لاٹھی پکڑ کر آگے بڑھتے رہئے ۔ انتخابی عمل میں حصہ لیتے رہئے ۔ کیوں کہ بڑی بڑی مشہور ہستیوں کے مطابق یہ ملک کا سب سے بڑا تہوار ہے اور اس سے غفلت ملک کی ترقی سے غفلت یا اعراض ہے۔ ان کے لئے تو واقعی یہ صحیح اور نفع بخش ہوسکتا ہے لیکن کیا مقہور ،مجبور اور پسماندہ آبادی کے لئے بھی ایسا ہی معاملہ ہے ۔ یقینا ً جواب نفی میں ہوگا۔ اس کی سچائی کی تصاویر ملک میں ہر طرف بکھڑی پڑی ہیں ۔ آپ بھی اس کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ اگر ہم دیکھ کر بھی ان دیکھی کریں اور اس کے سدھار سے متعلق کسی نکتہ پر پہنچنے کی کوشش نہ کریں تو اس میں کسی کا کیا قصور ۔ تعلیم کا ہر طرف چرچا ہے لوگ نئی نئی ایجادوں سے مستفید ہو رہے ہیں لیکن اپنی سوچ کو آج بھی انہوں نے کسی نہ کسی کا غلام بنا رکھا ہے ۔ نہ جانے یہ غلامی کہاں جا کر رکے گی۔ آج تو جانور بھی سوچنے سمجھنے والا ہو چکا ہے لیکن انسان ہے کہ کچھ سوچنے اور خود کو تبدیل کرنے کو راضی ہی نہیں سکہ کا ایک رخ ہی دیکھ کر فیصلہ کرلیتا ہے ۔ دوسرا رخ دیکھنے کیلئے اس کے پاس وقت ہی نہیں اس کے لئے اسے شاید کسی صور اسرافیل کا انتظار ہے۔ میری باتوں سے اختلاف ہو سکتا ہے اور ہونا بھی چاہئے لیکن بتائیے کہ کیجریوال کو کیوں ناکام مان لیا گیا ۔ اور عوام کیوں ذرائع ابلاغ کے گمراہ کن پروپگنڈہ کی رو میں بہے چلے جارہے ہیں۔ کیجریوال نے تو خالص عوامی خدمت کی تحریک شروع کی تھی ۔ جو وہ آج بھی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔لیکن لوگوں کی ان کے تئیں طرح طرح طنز سنیں تو یہ احساس جاگتا ہے کہ شاید عوام اسی سڑے گلے نظام میں بے حسوں کی زندگی ہی گزارنا چاہتے ہیں ۔ ایک امیدوار کے بارے میں ابھی حالیہ ممبئی انتخاب میں ایک شخص نے کہا کہ امیدوار تو اچھا ہے لیکن پیسہ خرچ نہیں کرتا ۔اب بتائیے جہاں لوگ سترہ پیسہ روز کے حساب سے اپنے ووٹ کو بیچ دیتے ہوں ۔اور اچھے امیدوار کو جتانے کی کوشش کرنے کی بجائے یہ کہتے ہوں کہ یہ پیسہ خرچ نہیں کرتا ۔ بس یہی کمال ہے اس مغربی جمہوری نظام کا ۔جہاں لوگوں کے سوچنے کا انداز بھی بدل جاتا ہے ۔اور اب ایسی سوچ کے ساتھ سوچتے ہیں کہ تبدیلی آجائے اور بد عنوانی ختم ہو جائے تو بھائی یہ ناممکن ہے ۔
نہال صغیر
ممبئی ۔ موبائل: 9987309013
Subscribe to:
Posts (Atom)
