You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Tuesday, June 07, 2016

نعتیہ مشاعرہ(جگر)

منقول
اجمیر میں نعتیہ مشاعرہ تھا، فہرست بنانے والوں کے سامنے یہ مشکل تھی کہ جگر صاحب کو اس مشاعرے میں کیسے بلایا جائے ، 
وہ کھلے رند تھے اورنعتیہ مشاعرے میں ان کی شرکت ممکن نہیں تھی۔
اگر فہرست میں ان کانام نہ رکھا جائے تو پھر مشاعرہ ہی کیا ہوا۔
منتظمین کے درمیان سخت اختلاف پیداہوگیا۔ کچھ ان کے حق میں تھے اور کچھ خلاف۔
دراصل جگر کا معاملہ تھا ہی بڑا اختلافی۔ 
بڑے بڑے شیوخ اور عارف باﷲ ان کی شراب نوشی کے باوجود ان سے محبت کرتے تھے۔  انہیں گناہ گار سمجھتے تھے لیکن لائق اصلاح۔ شریعت کے سختی سے پابند مولوی حضرات بھی ان سے نفرت کرنے کے بجائے افسوس کرتے تھے کہ ہائے کیسا اچھا آدمی کس برائی کا شکار ہے۔  عوام کے لیے وہ ایک اچھے شاعر تھے لیکن تھے شرابی۔ تمام رعایتوں کے باوجود مولوی حضرات بھی اور شاید عوام بھی یہ اجازت نہیں دے سکتے تھے کہ وہ نعتیہ مشاعرے میں شریک ہوں۔
آخر کار بہت کچھ سوچنے کے بعد منتظمین مشاعرہ نے فیصلہ کیا کہ جگؔر کو مدعو کیا جانا چاہیے۔ یہ اتنا جرات مندانہ فیصلہ تھا کہ جگرؔ کی عظمت کا اس سے بڑااعتراف نہیں ہوسکتا تھا۔ جگرؔ کو مدعو کیا گیا تووہ سر سے پاؤں تک کانپ گئے۔ ’’میں رند، سیہ کار، بد بخت اور نعتیہ مشاعرہ! نہیں صاحب نہیں‘‘ ۔
اب منتظمین کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ جگر صاحب کو تیار کیسے کیا جائے۔ ا ن کی تو آنکھوں سے آنسو اور ہونٹوں سے انکار رواں تھا۔ نعتیہ شاعر حمید صدیقی نے انہیں آمادہ کرنا چاہا، ان کے مربی نواب علی حسن طاہر نے کوشش کی لیکن وہ کسی صورت تیار نہیں ہوتے، بالآخر اصغرؔ گونڈوی صاحب نے حکم دیا اور وہ چپ ہوگئے۔
سرہانے بوتل رکھی تھی، اسے کہیں چھپادیا، دوستوں سے کہہ دیا کہ کوئی ان کے سامنے شراب کا نام تک نہ لے۔ دل پر کوئی خنجر سے لکیر سی کھینچتا تھا، وہ بے ساختہ شراب کی طرف دوڑتے تھے مگر پھر رک جاتے تھے، شیرازن سے ہمارا رشتہ فراق کا ہے لیکن شراب سے تو نہیں لیکن مجھے نعت لکھنی ہے ، شراب کا ایک قطرہ بھی حلق سے اتراتو کس زبان سے اپنے آقا کی مدح لکھوں گا۔ یہ موقع ملا ہے تو مجھے اسے کھونانہیں چاہیے، شاید یہ میری بخشش کا آغاز ہو۔ شاید اسی بہانے میری اصلاح ہوجائے، شایدمجھ پر اس کملی والے کا کرم ہوجائے، شایدخدا کو مجھ پر ترس آجائے۔
ایک دن گزرا، دودن گزر گئے، وہ سخت اذیت میں تھے۔ نعت کے مضمون سوچتے تھے اور غزل کہنے لگتے تھے، سوچتے رہے، لکھتے رہے، کاٹتے رہے، لکھے ہوئے کو کاٹ کاٹ کر تھکتے رہے، آخر ایک دن نعت کا مطلع ہوگیا۔ پھر ایک شعر ہوا، پھر تو جیسے بارش انوار ہوگئی۔ نعت مکمل ہوئی تو انہوں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔
مشاعرے کے لیے اس طرح روانہ ہوئے جیسے حج کو جارہے ہوں۔ کونین کی دولت ان کے پاس ہو۔ جیسے آج انہیں شہرت کی سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا ہو۔ انہوں نے کئی دن سے شراب نہیں پی تھی، لیکن حلق خشک نہیں تھا۔ ادھر تو یہ حال تھا دوسری طرف مشاعرہ گاہ کے باہر اور شہرکے چوراہوں پر احتجاجی پوسٹر لگ گئے تھے کہ ایک شرابی سے نعت کیوں پڑھوائی جارہی ہے۔ لوگ بپھرے ہوئے تھے۔ اندیشہ تھا کہ جگرصاحب کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے یہ خطرہ بھی تھاکہ لوگ اسٹیشن پر جمع ہوکر نعرے بازی نہ کریں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے جگر کی آمد کو خفیہ رکھا تھا۔ وہ کئی دن پہلے اجمیر پہنچ چکے تھے جب کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ مشاعرے والے دن آئیں گے۔ جگر اپنے خلاف ہونے والی ان کارروائیوں کو خود دیکھ رہے تھے اور مسکرارہے تھے؎
کہاں پھر یہ مستی کہاں ایسی ہستی
جگرؔ کی جگر تک ہی مے خواریاں ہیں
آخر مشاعرے کی رات آگئی۔ جگر کو بڑی حفاظت کے ساتھ مشاعرے میں پہنچا دیا گیا۔
’’رئیس المتغزلین حضرت جگر مرادابادی!‘‘
اس اعلان کے ساتھ ہی ایک شور بلند ہوا، جگر نے بڑے تحمل کے ساتھ مجمع کی طرف دیکھا…’’آپ لوگ مجھے ہوٹ کررہے ہیں یا نعت رسول پاک ﷺ کو، جس کے پڑھنے کی سعادت مجھے ملنے والی ہے اور آپ سننے کی سعادت سے محروم ہونا چاہتے ہیں‘‘۔شور کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ بس یہی وہ وقفہ تھا جب جگر کے ٹوٹے ہوئے دل سے یہ صدا نکلی ہے
اک رند ہے اور مدحتِ سلطان مدینہ
ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ
جوجہاں تھا ساکت ہوگیا۔ یہ معلوم ہوتا تھا جیسے اس کی زبان سے شعر ادا ہورہا ہے اور قبولیت کا پروانہ عطا ہورہا ہے۔ نعت کیا تھی گناہگار کے دل سے نکلی ہوئی آہ تھی، خواہشِ پناہ تھی، آنسوؤں کی سبیل تھی، بخشش کا خزینہ تھی۔ وہ خود رو رہے تھے اور سب کو رلا رہے تھے، دل نرم ہوگئے، اختلاف ختم ہوگئے، رحمت عالم ﷺ کا قصیدہ تھا، بھلا غصے کی کھیتی کیونکر ہری رہتی۔’’یہ نعت اس شخص نے کہی نہیں ہے، اس سے کہلوائی گئی ہے‘‘۔ مشاعرے کے بعد سب کی زبان پر یہی بات تھی۔ اس نعت کے باقی اشعار یوں ہیں:
دامان نظر تنگ و فراوانیِ جلوہ
اے طلعتِ حق طلعتِ سلطانِ مدینہ
اے خاکِ مدینہ تری گلیوں کے تصدق
تو خلد ہے تو جنت ِسلطان مدینہ
اس طرح کہ ہر سانس ہومصروفِ عبادت
دیکھوں میں درِ دولتِ سلطانِ مدینہ
اک ننگِ غمِ عشق بھی ہے منتظرِ دید
صدقے ترے اے صورتِ سلطان مدینہ
کونین کا غم یادِ خدا ور شفاعت
دولت ہے یہی دولتِ سلطان مدینہ
ظاہر میں غریب الغربا پھر بھی یہ عالم
شاہوں سے سوا سطوتِ سلطان مدینہ
اس امت عاصی سے نہ منھ پھیر خدایا
نازک ہے بہت غیرتِ سلطان مدینہ
کچھ ہم کو نہیں کام جگرؔ اور کسی سے
کافی ہے بس اک نسبت ِسلطان مدینہ

Wednesday, June 01, 2016

رحمتوں کا مہینہ

✨بسم اللہ الرحمن الرحیم
رمضان المبارک کا استقبال کیسے کریں ؟
 چند دنوں کے بعد ہمارے سروں پرنہایت عظیم الشان مہینہ سایہ فگن ہونے والاہے ، جس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں،سرکش شیاطین جکڑدئیے جاتے ہیں، نیکیوں کا اجروثواب بڑھادیاجاتاہے، جس کی ہررات اعلان ہوتا ہے”اے خیر کے متلاشی !آگے بڑھ اور اے شرکے طلبگار ! پیچھے ہٹ“۔ جس کی ایک رات ہزار مہینوں سے افضل ہے ، جواس کے خیرسے محروم رہا وہ واقعی محروم ہے ۔ روزہ ، تلاوت ِقرآن، صدقات وخیرات ، قیام اوردعا واستغفار پرمشتمل نیکیوں کے اس موسم بہار کی آمد آمد ہے۔
جب ہمارے گھروںمیں کسی ہردلعزیز مہمان کی آمد ہوتی ہے تواپنے گھروں کوسجاتے ہیں،اس کی زینت وزیبائش کرتے ہیں،چہرے پر خوشیاں مچل رہی ہوتی ہیں،دل باغ باغ ہوتاہے اورمہمان کے لیے اپنی آنکھیں فرش راہ کیے ہوتے ہیں۔ کیارمضان کی آمد پر ہم اپنے دل میں یہ کیفیت پارہے ہیں؟….
اللہ والے رمضان المبارک کاچھ مہینہ پہلے سے انتظار کرتے تھے ، مشہور تابعی معلی بن فضل  رمضان المبارک کے بارے میں صحابہ کرام کے اشتیاق کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ چھ ماہ پہلے سے یہ دعا کرتے تھے کہ ”اے اللہ ! ہمیں ماہِ رمضان کی سعادت نصیب فرما“ ۔ پھر جب رمضان کا مہینہ گذرجاتا تو بقیہ چھ ماہ دعا کرتے ”اے اللہ!جن اعمال کی تونے توفیق دی وہ قبول بھی فرمالے “۔
کتنے لوگ جو گذشتہ سال ہمارے ساتھ روزے میں شریک تھے آج قبرمیں مدفون ہیں،کتنے چہرے جنہیں ہم نے گذشتہ سال رمضان میں صحیح سلامت دیکھاتھا‘آج بسترِ مرگ پر پڑے موت وحیات کے بیچ ہچکولے کھارہے ہیں ۔ کیاخبرکہ آنے والا رمضان ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو ، اس لیے آنے والے مہینے کا خیروخوبی سے استقبال کریں،ہمارے اوپر طلوع ہونے والارمضان کا چاند خیروبرکت کاچاند ہو،اسے دیکھ کر ہمارا دل جذبہ اشتیاق سے امڈ آئے، ہماری زبان گویاہو: اللھم ا ھلہ علینا بالا من والایمان والسلامة والاسلام ربی وربک اللہ ”اے اللہ! تو یہ چاند ہم پر امن وایمان اورسلامتی واسلام کے ساتھ طلوع کرنا،اے چاند میرا اورتیرا رب اللہ ہے “۔
٭ماہ مبارک کی آمد سے پہلے اس کے مقام ،اس کی عظمت، اس کی فضیلت،اس کے مقصد اوراس کے پیغام کو اپنے ذہن میں تازہ کریں تاکہ اس کی برکات سے بھرپور فائدہ اٹھاسکیں اوراس بات کا پختہ ارادہ کریں کہ ہم اس ماہ مبارک میں اپنے اندر تقوی کی صفت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے جو روزہ کا ماحصل ہے ۔
٭ان معمولات کی تحدید کرلیںجو حقوق اللہ سے متعلق ہیں ،ان معمولات کی بھی تحدید کرلیں جو حقوق العباد سے متعلق ہیں،پھر ان معمولات کی بھی فہرست بنالیں جنہیں رمضان المبارک میں ادا کرنے ہیں، اگرآپ کے ساتھ ڈیوٹی کے تقاضے ہیںاورعبادت کے لیے خودکوبالکلیہ فارغ نہیں کرسکتے تو پھر یہ دیکھیں کہ کن کن کاموں کورمضان کی خاطر چھوڑ سکتے ہیں اور کن کن مصروفیات کو مو خرکر سکتے ہیں۔
 ٭اس ماہ مبارک میں ہم اپنی زندگی ،صحت اورجوانی میں فرصت کو غنیمت جانیں،اپنے سارے گناہوں سے سچی توبہ کریں،واجبات ومستحبات کی ادائیگی اورمنہیات ومکروہات سے اجتناب کرنے کا خود کو عادی بنائیں۔
 پنجوقتہ نمازوںبالخصوص نمازِفجر کی باجماعت ادائیگی کو اپنے اوپر لازم کرلیں۔جن پر زکاة اورحج فرض ہے اور اس کی ادائیگی میں غفلت برت رہے ہیں،وہ یہ فیصلہ کریں کہ پہلی فرصت میںحج اداکریں گے اور اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے غریبوں اورمسکینوں کا حق ادا کریں گے ۔
جولوگ محرمات کا ارتکاب کرکے اللہ کی غیرت کو چیلنج کررہے ہیں،بدکاری،شراب نوشی،ناجائزکاروبار،سودی لین دین جیسے جرائم میں ملوث ہیں وہ توبہ کرکے عزم کریں کہ وہ ان جرائم سے بالکل دورہوجائیں گے اورپھر عمربھر ان کے قریب نہ ہوں گے ۔
قرآن کریم کی تلاوت کا ایک چارٹ بنائیں،ہرفرض نماز کے بعد چند آیات کی تلاوت مع ترجمہ کا معمول بنالیں کہ آنے والا مہینہ قرآن کا مہینہ ہے جس کے لیے ابھی سے تیاری کرنی ہے ۔
معتبرکتابوں اورکیسٹس کی مدد سے روزہ کے احکام ومسائل کی جانکاری حاصل کرلیں ۔
معاشرتی روابط اورحقوق پر خاص طورسے دھیان دیں ،کسی کا کوئی قرض یا دعوی ہے تو اسے فوراً چکادیں اور معاملے کا تصفیہ کرلیں،بروزقیامت وہ شخص بڑا بدنصیب اور مفلس ہوگا جو نماز روزے اور زکاة کے ساتھ آئے گا لیکن اس کے اوپر لوگوں کی طرف سے دعوو ں کا ایک انبار ہوگا ،کسی کو مارا ہوگا، کسی کو گالی دی ہوگی،کسی کی بے عزتی کی ہوگی،لہذا اس کی ایک ایک نیکیاں لے لے کر دعویداروں کو دے دی جائیں گی ،جب اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی اوردعویدار باقی رہ جائیں گے تو دعویداروں کے گناہ ان کے سروں پر تھوپ دئیے جائیں گے پھر انہیں جہنم رسید کردیاجائے گا ۔
اس لیے رمضان کی آمد سے قبل معاشرتی روابط کو مستحکم کرلیں،اوریہ عزم مصمم کرلیں کہ آپ اپنی زبان کی حفاظت کریں گے ،گالي گلوچ ،بدکلامی اورچغل خوری سے دور رہیں گے ،نیکی اور بھلائی کے کاموں میں پیش پیش رہیں گے اورکسی انسان کو ایذا نہ پہنچائیں گے ۔
رات کے سہہ پہر میں قیام اللیل کی عادت ڈالیں، کیونکہ یہ رات کا وہ حصہ ہے جس میں اللہ تعالی سمائے دنیا پر (اپنے شایانِ شان) نزول فرماکر اعلان کرتے ہیں: ”ہے کوئی دعا کرنے والا کہ ہم اس کی دعا قبول کریں ،ہے کوئی سوال کرنے والا کہ ہم اس کے سوال کو پورا کریں، ہے کوئی اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرنے والا کہ ہم اس کے گناہوں کو معاف کردیں ۔ “ (بخاری ومسلم)۔
اس ماہ مبارک میں اپنے سلوک او رکردار پر دھیان دیں،اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پیکر بنائیں، رذائل اخلاق سے دوری اختیار کریں،اخلاق وآداب پر مشتمل کتابوں کا مطالعہ کریں اوراچھے اخلاق کے حامل لوگوں کے پاس بیٹھ کر ان کی خوبیاں اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا عادی بنائیں کہ رمضان مواسات وغم خواری کا مہینہ ہے ،ہمارے حبیب صلى الله عليه وسلم  یوںبھی سخی تھے تاہم رمضان المبارک میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ا ورفیاض بن جاتے تھے۔ اس لیے اللہ پاک نے جس قدربھی دے رکھا ہے اس میں سے غرباءومساکین کے لیے ضرور نکالیں، اورحسب استطاعت  روزہ داروں کو افطار بھی کرائیں کہ اس کا اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا خود روزہ رکھنے کا (ترمذی ) ۔
اس ماہ مبارک میں دعوت الی اللہ کے لیے خود کو تیار کریں،اس مقصد کے لیے ممکنہ وسائل کو کام میں لائیں،کیونکہ اس ماہ مبارک میں انسانی طبیعت میں فطری طور پر قبول حق کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے ،جن غیرمسلموں سے آپ متعارف ہیں کم ازکم ان تک اسلام کا پیغام ضرورپہنچائیں،انہیں تعارف اسلام پر مبنی دعوتی لٹریچرز لاکر دیں،اوراپنے بھائیوں اور نیزاہل خانہ کی اصلاح اور ان کی روحانی تربیت کی طرف پوری توجہ مبذول کریں ۔
اوریہ جذبہ پیدا کرنے کے لیے بہت مفیدہوگا کہ رمضان کی آمد سے پہلے ایک دن تنہائی میں یکسوئی کے ساتھ بیٹھ کر اپنے نفس کا محاسبہ کریں،کہ ہم نے سال بھر کیا کھویا اور کیاپایا،اس دن کو یاد کریں جس دن اچانک موت کا فرشتہ بے دردی کے ساتھ روح نکال لے گا،لوگ غسل دیں گے ، کفن پہنائیں گے، تنگ وتاریک گھروندے میں اتار دیں گے،منوں مٹی تلے دبادیں گے، وہاں دردناک اژدہے نکلیں گے،وہاں جہنم کی دہکتی ہوئی آگ ہوگی ، لاکھ چلائیں،آہیں بھریں، رحمت کے طلبگار ہوں لیکن کوئی سننے والا نہ ہوگا۔ یہ احساس خود میں پیدا کرکے روئیں، گڑگڑائیں ، پھرنئے عزم وحوصلہ کے ساتھ اپنے رب کی مرضیات کے لیے کمرکس لیں اور اللہ تعالی سے دعا بھی کریں کہ وہ ہمیں برکات رمضان کو سمیٹنے کی توفیق دے۔
 رمضان کے فیوض وبرکات سے خاطرخواہ مستفید ہونے کے لیے چوبیس گھنٹے کے اوقات کا ایک چارٹ بنالیں تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کی عبادت میں صرف ہو اور اسے پورے نظم وضبط اور پابندی سے بجالانے کی کوشش کریں۔ ذیل کے سطورمیں ایک مختصر چارٹ پیش خدمت ہے
 ختم قرآن کریم (کم ازکم دو مرتبہ)
دلیل :”قرآن پڑھاکرو کہ یہ اپنے پڑھنے والے کے لیے بروزقیامت سفارش بن کرآئے گا “۔ (مسلم)
  نمازتراویح کی محافظت (29دن )
دلیل :”جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں “ ۔(بخاری ومسلم)
  صلہ رحمی کا اہتمام ،رشتے داروں کی زیارت اور ان سے رابطہ(کم ازکم ہفتہ میں ایک دن )
دلیل : ”رحم عرش سے لٹکاہواہے ،اورکہتا ہے : جس نے مجھے ملایااللہ اسے ملائے اور جس نے مجھے کاٹا اللہ اسے کاٹے “ ۔(مسلم) 
 صدقات وخیرات (کم ازکم ہفتہ میں ایک بار)
دلیل :”اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  نہایت سخی اور فیاض تھے اور رمضان میں آپ کی سخاوت وفیاضی مزید بڑھ جاتی تھی “         (بخاری)
  روزے دار کو افطار کرانا (روزانہ )
دلیل :”جس نے روزے دار کو افطار کرایا اسے روزے دار کے برابر ثواب ملتا ہے اورروزے دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جاتی “۔ (ترمذی )
 جنازے کی نماز میں شرکت (کم ازکم ایک بار)
دلیل :“ جوشخص کسی جنازے پر نماز پڑھے اسکو ایک قیراط ملے گا ،اور جو اس کے پیچھے جائے، یہاں تک کہ اس کی تدفین مکمل ہوجائے تو اسکو دو قیراط ملیں گے جن میں سے ایک قیراط ا  حد پہاڑ کے برابر ہو گا “( ترمذی)
  عمرہ کی ادائیگی (ایک بار)
دلیل :”رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے یا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے “(بخاری )
  ہفتہ میں ایک اسلامی کیسٹ سننا (4 کیسٹس )
 دینی کتابوں کا مطالعہ (روزانہ آدھا گھنٹہ )
  دعوت کے کام میں شرکت اورکم ازکم ایک شخص کی ہدایت کی فکرمند ی۔
دلیل :”اگر اللہ تعالی تیرے ذریعہ ایک شخص کو  راہِ راست پر لادے تو تمہارے لیے (عرب کے ) سرخ اونٹ سے بہتر ہے “۔(مسلم)
نمازفجرکے بعد مسجدمیں اعتکاف اور طلوع آفتاب کے بعد دو رکعت کی ادائیگی ( کم ازکم چار بار )
دلیل : ”جس شخص نے نماز فجر باجماعت ادا کی،پھر اپنی جگہ بیٹھا ذکر میں لگارہا،یہاںتک کہ آفتاب طلوع ہوگیا ، پھر دو رکعت نماز پڑھی تو اسے ایک حج اور ایک عمرہ کا مکمل ثواب ملتا ہے “۔(ترمذی)
 

Tuesday, May 31, 2016

ساحر لدھیا نوی

ساحر لدھیانوی کے جب لتا منگیشکر کے ساتھ اختلافات ہو گئے تو ساحر نے ایک نئی گلوکارہ "سدھا ملہوترہ" کی طرف بڑھانا شروع کیا۔ اسی دوران "سدھا ملہوترہ" سے ان کے عشق کی داستانیں عام ہونے لگیں اور دونوں شادی کرنے کے لئے آمادہ بھی ہو گئے۔ مگر "سدھا ملہوترہ" کے والدین اس شادی کےخلاف تھے۔ لہٰذا انہوں نے "سدھا" کی شادی کہیں دوسری جگہ طے کردی۔ "سدھا ملہوترہ" کی ضد پر ہی ساحر اس کی منگنی میں شریک ہوئے اور انہوں نے وہاں بھری محفل میں اپنی مشہور زمانہ نظم "خوبصورت موڑ )چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں(" سنائی جسے سن کر "سدھا ملہوترہ" دلہن بنی زار وقطار روتی رہی ۔
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دلنوازی کی
نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے
یہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے
نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے
تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سے
مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوئے پرائے ہیں
مرے ہمراہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کی
تمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی راتوں کے سائے ہیں
تعارف روگ ہو جائے تو اس کو بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے تکمیل تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
ساحر لدھیانوی

Saturday, May 28, 2016


Thursday, May 26, 2016

ساغر صدیقی

ساغر صدیقی اردو شاعری کا ایک معتبر اور قدآور نام
ساغر صدیقی1928ءانبالہ بھارت میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنا بچپن سہارنپور اور انبالہ میں گزرا ۔ساغر صدیقی کا اصل نام محمداختر شاہ تھا اور وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے ۔​
ساغر صدیقی نے ایک مرتبہ کہا تھا:​
"میری ماں دلی کی تھی، باپ پٹیالے کا، پیدا امرتسر میں ہوا، زندگی لاہور میں گزاری! میں بھی عجیب چوں چوں کا مربّہ ہوں"
اس قول میں صرف ایک معمولی غلطی کے سوا اور سب سچ ہے۔"
ساغر کو اپنے اکلوتے ہونے کا بھی بہت رنج تھا، وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ
"میں نے دنیا میں خداوندِ رحیم و کریم سے بہن بھائی کا عطیہ بھی نہیں پایا۔ یہ معلوم نہیں کہ خدا کو اِس تنہائی سے یگانہ بنانا مقصود تھا یا بیگانہ؟ بہر حال شاید میری تسکینِ قلبی کے لئے کسی کا نام بھائی رکھ دیا گیا ہوجو سراسر غلط ہے۔ دنیا کی چھ سمتوں پہ نظر رکھنے والے صاحبِ فراست لاہور کی سڑکوں پر مجھے جب چاہیں ٹوٹا ہوا بازو کالی چادر میں چھپائے، احساس کے الٹے پاؤں سے چلتا پھرتا دیکھ سکتے ہیں۔اگر کوئی بہن بھائی ہوتا تو یہ حال نہ ہوتا۔"​
ساغر کا بچپن انتہائی نا مساعد حالات میں گزرا۔ ساغر نے حبیب حسن خاں سے گھر پہ ہی اردو زبان کی تعلیم حاصل کی۔ اسی دور میں ساغر میں شاعری کا جذبہ پروان چڑھا جس نے محمد اختر شاہ کو ساغر صدیقی بنا دیا۔ ساغر نے ابتدا میں ناصر حجازی تخلص رکھا تھا مگر بعد میں ساغر صدیقی رکھ لیا۔ ساغر نے کلام پر اصلاح لینے کے لیے لطیف انور گورداسپوری مرحوم کا انتخاب کیا اور ان سے بہت فیض اٹھایا۔ساغر نے امرتسر میں کنگھیاں بنانے کا کام بھی کیا۔​
ساغر کی اصل شہرت 1944ء میں ہوئی۔ اس سال امرتسر میں ایک بڑے پیمانے پر مشاعرہ قرار پایا۔ اس میں شرکت کے لیے لاہور کے بعض شاعر بھی مدعو تھے۔ ان میں ایک صاحب کو معلوم ہوا کہ یہ "لڑکا" (ساغر صدیقی) بھی شعر کہتا ہے۔ انہوں نے منتظمین سے کہہ کر اسے مشاعرے میں پڑھنے کا موقع دلوا دیا۔ ساغر کی آواز میں بلا کا سوز تھا اور وہ ترنم میں پڑھنے میں جواب نہیں رکھتا تھا۔ بس پھر کیا تھا، اس شب اس نے صحیح معنوں میں مشاعرہ لوٹ لیا۔​
1947ء میں پاکستان بنا تو وہ امرتسر سے لاہور چلا گیا۔ یہاں دوستوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اس کا کلام مختلف پرچوں میں چھپنے لگا۔ سینما فلم بنانے والوں نے اسے گیتوں کی فرمائش کی اور اسے حیرت ناک کامیابی ہوئی۔ اس دور کی متعدد فلموں کے گیت ساغر کے لکھے ہوئے ہیں۔ اس زمانے میں اس کے سب سے بڑے سرپرست انور کمال پاشا (ابن حکیم احمد شجاع مرحوم) تھے۔ جو پاکستان میں فلم سازی کی صنعت کے بانیوں میں ہیں۔ انہوں نے اپنی بیشتر فلموں کے گانے ساغر سے لکھوائے اور یہ بہت مقبول ہوئے۔ساغر نے لکھا تھا کہ​
"تقسیم کے بعدصرف شعر لکھتا ہوں، شعر پڑھتا ہوں، شعر کھاتا ہوں، شعر پیتا ہوں۔"​
ساغر کی شاعری کے سلسلے میں ایک واقعہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ:​
لائل پور کاٹن مل میں ملک گیر طرحی مشاعرہ ہوتا تھا۔ 1958ء میں جگر مراد آبادی کی صدارت میں مشاعرہ ہوا۔ مصرع طرح تھا​
سجدہ گاہ عاشقاں پر نقش پا ہوتا نہیں​
مختلف شعراء کے بعد ساغر صدیقی نے اپنی یہ غزل سنائی​
ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں​

ورنہ ان تاروں بھری راتوں میں کیا ہوتا نہیں​
جی میں آتا ہے الٹ دیں انکے چہرے سے نقاب​
حوصلہ کرتے ہیں لیکن حوصلہ ہوتا نہیں​
شمع جس کی آبرو پر جان دے دے جھوم کر​
وہ پتنگا جل تو جاتا ہے فنا ہوتا نہیں​
اب تو مدت سے رہ و رسمِ نظارہ بند ہے​
اب تو ان کا طُور پر بھی سامنا ہوتا نہیں​
ہر شناور کو نہیں ملتا تلاطم سے خراج​
ہر سفینے کا محافظ ناخدا ہوتا نہیں​
ہر بھکاری پا نہیں سکتا مقامِ خواجگی​
ہر کس و ناکس کو تیرا غم عطا ہوتا نہیں​
ہائے یہ بیگانگی اپنی نہیں مجھ کو خبر​
ہائے یہ عالم کہ تُو دل سے جُدا ہوتا نہیں
بارہا دیکھا ہے ساغرؔ رہگذارِ عشق میں
کارواں کے ساتھ اکثر رہنما ہوتا نہیں​
یہ غزل سن کر جگر جھوم اٹھے اور حاضرین محفل نے خوب داد دی ۔ جگر مرادآبادی نے اپنی باری آنے پر کہا کہ میری غزل کی ضرورت نہیں حاصل مشاعرہ غزل ہو چکی اور اپنی غزل کو اسیٹج پر ہی پھاڑ دیا۔​
ساغر صدیقی نے ہفت روزہ "تصویر" کی ادارت بھی کی۔ ایک اور واقعہ جو وکیپیڈیا سے لیا گیا ہے، پڑھنے اور ساغر کوخراجِ تحسین پیش کرنے کے قابل ہے۔​
اکتوبر 1958ء میں پاکستان میں فوجی انقلاب میں محمد ایوب بر سر اقتدار آگئے اور تمام سیاسی پارٹیاں اور سیاست داں جن کی باہمی چپقلش اور رسہ کشی سے عوام تنگ آ چکے تھے۔ حرف غلط کی طرح فراموش کر دیے گئے۔ لوگ اس تبدیلی پر واقعی خوش تھے۔ ساغر نے اسی جذبے کا اظہار ایک نظم میں کیا ہے، اس میں ایک مصرع تھا:​
کیا ہے صبر جو ہم نے، ہمیں ایوب ملا​
یہ نظم جرنیل محمد ایوب کی نظر سے گزری یا گزاری گئی۔ اس کے بعد جب وہ لاہور آئے تو انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ میں اس شاعر سے ملنا چاہتا ہوں جس نے یہ نظم لکھی تھی۔ اب کیا تھا! پولیس اور خفیہ پولیس اور نوکر شاہی کا پورا عملہ حرکت میں آگیا اور ساغر کی تلاش ہونے لگی۔ لیکن صبح سے شام تک کی پوری کوشش کے باوجود وہ ہاتھ ‍ نہ لگا۔ اس کا کوئی ٹھور ٹھکانہ تو تھا نہیں، جہاں سے وہ اسے پکڑ لاتے۔ پوچھ‍ گچھ‍ کرتے کرتے سر شام پولیس نے اسے پان والے کی دوکان کے سامنے کھڑے دیکھ‍ لیا۔ وہ پان والے سے کہہ رہا تھا کہ پان میں قوام ذرا زیادہ ڈالنا۔ پولیس افسر کی باچھیں کھل گئیں کہ شکر ہے ظلّ سبحانی کے حکم کی تعمیل ہو گئی۔ انہوں نے قریب جا کر ساغر سے کہا کہ آپ کو حضور صدر مملکت نے یاد فرمایا ہے۔ ساغر نے کہا:​
بابا ہم فقیروں کا صدر سے کیا کام! افسر نے اصرار کیا، ساغر نے انکار کی رٹ نہ چھوڑی۔ افسر بے چارا پریشان کرے تو کیا کیونکہ وہ ساغر کو گرفتار کرکے تو لے نہیں جا سکتا تھا کہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا تھا اور اسے کوئی ایسی ہدایت بھی نہیں ملی تھی، جرنیل صاحب تو محض اس سے ملنے کے خواہشمند تھے اور ادھر یہ "پگلا شاعر" یہ عزت افزائی قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔ اب افسر نے جو مسلسل خوشامد سے کام لیا، تو ساغر نے زچ ہو کر اس سے کہا:​
ارے صاحب، مجھے گورنر ہاؤس میں جانے کی ضرورت نہیں۔ وہ مجھے کیا دیں گے۔ دو سو چار سو، فقیروں کی قیمت اس سے زیادہ ہے۔ جب وہ اس پر بھی نہ ٹلا تو ساغر نے گلوری کلے میں دبائی اور زمین پر پڑی سگرٹ کی خالی ڈبیہ اٹھا کر اسے کھولا۔ جس سے اس کا اندر کا حصہ نمایاں ہو گیا۔ اتنے میں یہ تماشا دیکھنے کو ارد گرد خاصی بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔ ساغر نے کسی سے قلم مانگا اور اس کاغذ کے ٹکڑے پر یہ شعر لکھا:​
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس دور کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
(ساغر صدیقی بقلم خود)​
اور وہ پولیس افسر کی طرف بڑھا کر کہا:​
یہ صدر صاحب کو دے دینا، وہ سمجھ جائیں گے اور اپنی راہ چلا گیا۔​
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP