You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label اردو بلاگنگ طارق سلیم. Show all posts
Showing posts with label اردو بلاگنگ طارق سلیم. Show all posts

Wednesday, January 24, 2018

سالگرہ مبارک

*17 جنوری....مشہور و معروف شاعر..نغمہ نگار...مکالمہ نویس...کہانی کار...منظر نامہ نگار جاوید اختر صاحب کا یوم ولادت*
اردو شاعری میں بلند مقام رکھنے والے شاعر جان نثار اختر کے فرزند جاوید اختر صاحب کا آج یوم پیدائش ہے...17 جنوری 1945 کو خیرآباد(سیتا پور) میں پیدا ہونے والے جاوید اختر ایک بہترین شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بالی ووڈ میں بھی اپنی بے شمار اور گونا گوں خدمات کے حوالوں سے پہچانے جاتے ہیں....انہیں کئی فلم فئیر ایوارڈ  کے علاوہ پدم بھوشن اور پدم شری جیسے اعزاز بھی تفویض کئے جا چکے ہیں...موصوف نے انتہائی معیاری نغمہ نگاری کی ہے...فلمی شاعری کے علاوہ بھی جاوید صاحب نے بہت ہی معیاری نظمیں اور غزلیں کہی ہیں...آج موصوف کے یوم ولادت کے موقع پر ان کے کچھ منتخب اشعار احباب کی خدمت میں پیش ہیں...
*آگہی سے ملی ہے تنہائی*
آ مری جان مجھ کو دھوکا دے
اگر پلک پہ ہے موتی تو یہ نہیں کافی
ہنر بھی چاہئے الفاظ میں پرونے کا
*دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگ*
*جو ہوتا ہے سہہ لیتے ہیں کیسے ہیں بے چارے لوگ*
ایک یہ دن جب اپنوں نے بھی ہم سے ناطہ توڑ لیا
ایک وہ دن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں
*غلط باتوں کو خاموشی سے سننا حامی بھر لینا*
*بہت ہیں فائدے اس میں مگر اچھا نہیں لگتا*
ہے پاش پاش مگر پھر بھی مسکراتا ہے
وہ چہرہ جیسے ہو ٹوٹے ہوئے کھلونے کا

*ان چراغوں میں تیل ہی کم تھا*
*کیوں گلہ پھر ہمیں ہوا سے رہے*
*اس شہر میں جینے کے انداز نرالے ہیں*
*ہونٹوں پہ لطیفے ہیں آواز میں چھالے ہیں*
جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا
مجھے پامال رستوں کا سفر اچھا نہیں لگتا
*خون سے سینچی ہے میں نے جو زمیں مر مر کے*
*وہ زمیں ایک ستم گر نے کہا اس کی ہے*
کوئی شکوہ نہ غم نہ کوئی یاد
بیٹھے بیٹھے بس آنکھ بھر آئی
*میں بچپن میں کھلونے توڑتا تھا*
*مرے انجام کی وہ ابتدا تھی*

*مجھے دشمن سے بھی خودداری کی امید رہتی ہے*
*کسی کا بھی ہو سر قدموں میں سر اچھا نہیں لگتا*

پھر خموشی نے ساز چھیڑا ہے
پھر خیالات نے لی انگڑائی
*سب کا خوشی سے فاصلہ ایک قدم ہے*
*ہر گھر میں بس ایک ہی کمرہ کم ہے*
تھیں سجی حسرتیں دکانوں پر
زندگی کے عجیب میلے تھے
*اس کی آنکھوں میں بھی کاجل پھیل رہا ہے*
*میں بھی مڑ کے جاتے جاتے دیکھ رہا ہوں*
اونچی عمارتوں سے مکاں میرا گھر گیا
کچھ لوگ میرے حصے کا سورج بھی کھا گئے
*یاد اسے بھی ایک ادھورا افسانہ تو ہوگا*
*کل رستے میں اس نے ہم کو پہچانا تو ہوگا*
یہ زندگی بھی عجب کاروبار ہے کہ مجھے
خوشی ہے پانے کی کوئی نہ رنج کھونے کا
*غیروں کو کب فرصت ہے دکھ دینے کی*
*جب ہوتا ہے کوئی ہمدم ہوتا ہے*
ہر طرف شور اسی نام کا ہے دنیا میں
کوئی اس کو جو پکارے تو پکارے کیسے
ہمیں یہ بات ویسے یاد تو اب کیا ہے لیکن ہاں اسے یکسر بھلانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
میں قتل تو ہو گیا تمہاری گلی میں لیکن
مرے لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے
*مجھے مایوس بھی کرتی نہیں ہے*
*یہی عادت تری اچھی نہیں ہے*
یہی حالات ابتدا سے رہے
لوگ ہم سے خفا خفا سے رہے

Tuesday, October 24, 2017

یوم ولادت بہادر شاہ ظفر

*بہادر شاہ ظفر کا یوم ولادت*
آج 24 اکتوبر ایک خودار بادشاہ..حوصلہ مند مجاہد آزادی اور بہترین شاعر بہادر شاہ ظفر کا یوم ولادت ہے..تیمور خاندان نے جس  سلطنت مغلیہ کی بنیاد رکھی یہ اس کے آخری بادشاہ تھے....یہ وہ بدنصیب باپ ہے انگریزوں نے جس کے چاروں بیٹوں کے سروں  تن سے جدا کرکے تھال میں سجاکر ان کو پیش کئے گئے....
بہادر شاہ ظفر کو یہ شرف حاصل رہا کہ وہ  ابراہیم ذوق اور مرزا غالب جیسے شعراء کے شاگرد رہے...
موصوف کے کچھ منتخب اشعار احباب کی خدمت میں...

*

‏یہ چمن یونہی رہے گا اور ہزاروں بلبلیں
اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گی

*‏دیکھے جو ہمارے بت مغرور کی گردن*
*غلمان کے تن سے ہو جدا حور کی گردن*

‏خاکساری کیلئے گرچہ بنایا تھا مجھے
کاش , خاک ِ  درِ  جانانہ  بنایا  ہوتا

‏ *صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھہرے*
*ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا*

‏تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں
ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا

*اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل*
*دنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چل*

‏کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل ، کوئی کیا کسی سے لگائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل ، وہ دکان اپنی بڑھا گئے

*‏اِتنا ہی ہُوا حُسن میں وہ شُہرۂ آفاق !*
*جِتنے ہُوئے ہم عِشق میں رُسوائے زمانہ*

‏عمرِ دراز مانگ لائے تھے، چار دن۔
دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں

*‏کانٹوں کو مت نکال چمن سے کہ باغبان*
*یہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں*

‏اے فاتحہ کوئی آئے کیوں، کوئی چار پھول چڑھائے کیوں
کوئی شمع آ کے جلائے کیوں کہ میں بے کسی کا مزار ہوں

*‏یار تھا گلزار تھا باد صبا تھی میں نہ تھا*
*لائق پابوس جاناں کیا حنا تھی میں نہ تھ*ا
                                    
‏کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

*یاں تک عدو کا پاس ہے ان کو کہ بزم میں*
*وہ بیٹھتے بھی ہیں تو مرے ہم نشیں سے دور*

ظفرؔ بدل کے ردیف اور تو غزل وہ سنا
کہ جس کا تجھ سے ہر اک شعر انتخاب ہوا

*بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی*
*جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی*

کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل دغدار میں

*میرے سرخ لہو سے چمکی کتنے ہاتھوں میں مہندی*
*شہر میں جس دن قتل ہوا میں عید منائی لوگوں نے*

*ہم ہی ان کو بام پہ لائے اور ہمیں محروم رہے*
*پردہ ہمارے نام سے اٹھا آنکھ لڑائی لوگوں نے*

سب مٹا دیں دل سے ہیں جتنی کہ اس میں خواہشیں
گر ہمیں معلوم ہو کچھ اس کی خواہش اور ہے

*دولت دنیا نہیں جانے کی ہرگز تیرے ساتھ*
*بعد تیرے سب یہیں اے بے خبر بٹ جائے گی*

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP