اردو شاعری میں بلند مقام رکھنے والے شاعر جان نثار اختر کے فرزند جاوید اختر صاحب کا آج یوم پیدائش ہے...17 جنوری 1945 کو خیرآباد(سیتا پور) میں پیدا ہونے والے جاوید اختر ایک بہترین شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بالی ووڈ میں بھی اپنی بے شمار اور گونا گوں خدمات کے حوالوں سے پہچانے جاتے ہیں....انہیں کئی فلم فئیر ایوارڈ کے علاوہ پدم بھوشن اور پدم شری جیسے اعزاز بھی تفویض کئے جا چکے ہیں...موصوف نے انتہائی معیاری نغمہ نگاری کی ہے...فلمی شاعری کے علاوہ بھی جاوید صاحب نے بہت ہی معیاری نظمیں اور غزلیں کہی ہیں...آج موصوف کے یوم ولادت کے موقع پر ان کے کچھ منتخب اشعار احباب کی خدمت میں پیش ہیں...آ مری جان مجھ کو دھوکا دے
ہنر بھی چاہئے الفاظ میں پرونے کا
*جو ہوتا ہے سہہ لیتے ہیں کیسے ہیں بے چارے لوگ*
ایک وہ دن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں
*بہت ہیں فائدے اس میں مگر اچھا نہیں لگتا*
وہ چہرہ جیسے ہو ٹوٹے ہوئے کھلونے کا
*ان چراغوں میں تیل ہی کم تھا*
*کیوں گلہ پھر ہمیں ہوا سے رہے*
*ہونٹوں پہ لطیفے ہیں آواز میں چھالے ہیں*
مجھے پامال رستوں کا سفر اچھا نہیں لگتا
*وہ زمیں ایک ستم گر نے کہا اس کی ہے*
بیٹھے بیٹھے بس آنکھ بھر آئی
*مرے انجام کی وہ ابتدا تھی*
*مجھے دشمن سے بھی خودداری کی امید رہتی ہے*
*کسی کا بھی ہو سر قدموں میں سر اچھا نہیں لگتا*
پھر خموشی نے ساز چھیڑا ہے
پھر خیالات نے لی انگڑائی
*ہر گھر میں بس ایک ہی کمرہ کم ہے*
زندگی کے عجیب میلے تھے
*میں بھی مڑ کے جاتے جاتے دیکھ رہا ہوں*
کچھ لوگ میرے حصے کا سورج بھی کھا گئے
*کل رستے میں اس نے ہم کو پہچانا تو ہوگا*
خوشی ہے پانے کی کوئی نہ رنج کھونے کا
*جب ہوتا ہے کوئی ہمدم ہوتا ہے*
کوئی اس کو جو پکارے تو پکارے کیسے
مرے لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے
*یہی عادت تری اچھی نہیں ہے*
لوگ ہم سے خفا خفا سے رہے