You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label munawwar sultana urdu blogging. Show all posts
Showing posts with label munawwar sultana urdu blogging. Show all posts

Sunday, January 17, 2016

مالک حقیقی کی طرف کوچ کر گیا

ہرا دل دستہ کا سپہ سالار   رب دو جہاں کے بلاوے پر لبیک الهم لبیک کہتا مالک حقیقی کی طرف کوچ کر گیا.
إنا لله وإنا اليه راجعون الله
 .. يا حنَّان يا منَّان يا واسع الغفران اغفر له و ارحمه و ـمعافه و اعف عنه
نقاش نائطی 
جناب الحاج عبدالرحیم قریشی صاحب سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ و صدر آل انڈیا مجلس تعمیر ملت و رکن تاسیسی آل انڈیا ملی کونسل ہند کا آج 14 جنوری جمعرات صبح  3.30بجے انتقال ہو گیا ہے۔ انکے انتقال سے ملی حلقوں میں غم و اندوہ کی لہر سی دوڑ گئی یے تو کفار کے خیموں ، سرور و شادمانی پائی جاسکتی ہے.
مشہور زمانہ شاہ بانو تنازع ہو کہ کئی دہائیوں سے عدلیہ ہند کی زنگ آلود الماریوں میں بند پڑا، وقتا فوقتا باہر جھانکنے کی ناکام سعی کرتا،انصاف کو ترستا، بابری مسجد تنازع ہو کہ مسلم پرسنل بورڈ و ملی کونسل کے ہرا دل دستہ کے سپہ سالار جناب الحاج عبدالرحیم قریشی صاحب مرحوم کے قانونی حکمت عملی والے داؤ پیچ کے سبب ہندو فاششت  کی دو تہائی سے زیادە اکثریت والی مودی سرکار کے لئے "جائے بابری مسجد" کو حوالہ رام مندر" سے باز رکھے ہوئے تھا.
کچھ سال قبل محترم مرحوم کی سرپرستی میں مسلمانان ہند میں آگہی و بیداری پیدا کرتا  ہند  بھر سفر پر نکلا وفد بهٹکل پہنچا تو جماعت المسلمین بهٹکل کے ماتحت کام کرنے والے محکمہ شرعیہ کے کئی صد قبل کے دفتری اندراجات  دیکھ کر اور شہر بهٹکل کے عائلی مقدمات صد فیصد محکمہ شرعیہ کے تحت ہوتا دیکھ کر مرحوم قریشی صاحب نے بهٹکل محمکہ شرعیہ کی تمثیل ہند بھر نمونتا پیش کرنے کی بات کہی تھی.         
گو جناب الحاج عبدالرحیم قریشی صاحب کے اس دنیا سے سفرآخرت کوچ کرجانے کے بعد مسلم اقوام ہند کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان لگتا یے لیکن ہم  مسلمان مشیت ایزدی پر یقین کامل رکھنے والوں میں سے ہیں اور یقینا اس نازک دور "سیاست مودی" میں جناب محترم کے مرحومئیت کے مقام فائز ہونے پر بھی اس خالق کائنات کی مسلمانوں کی بھلائی ہی پوشیدہ، ہم  پاتے ہیں اور ان شاءاللە اب دانشوران  مسلم امہ، مسلمانوں کے  دفاعی جنگی ہرا دل دستہ میں قابل "سپہ سالار نو" کا انتخاب کر ہماری دفاعی قانونی جنگ کو ایک نئی جہد عطا کریں گے اور آئے دن مسلمانان ہند کو ہندو شدت پسندوں سے ہونے والی  حزیمت سے ابدی چهٹکارہ کی "جنگ ناتمام" کی سعی پیہم باقی و جاری رکھی جائیگی.انشاءاللہ
اللہ سے دعا یے کی وہ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں رکھے اور مسلم امہ ہند کو ایک نئے جوش ایک نئے ولولہ کے ساتھ اپنی دفاعی قانونی جنگ، ہمت و استقلال کے ساتھ  لڑتے رہنے 

Thursday, June 25, 2015

نائب صدرجمہوریہ کے وقارپرحملہ


        
شایدہندستان کی جمہوری تاریخ کایہ پہلا سانحہ ہوگا جب کسی برسراقتدارپارٹی اوراس کی مذہبی نظریات کی ہمنوا تنظیم کےسینئرلیڈران کے ذریعہ نائب صدرجمہوریہ کی عظمت پر سوالیہ نشان لگانے کی کوشش کی گئی ہو۔۲۱؍جون ۲۰۱۵ء کوعالمی یوم یوگا کے موقع پر محکمہ آیوش کی جانب سے راج پتھ پر منعقدیوگا کی تقریب میں نائب صدرجمہوریہ ڈاکٹرحامدانصاری کی عدم شرکت پربی جے پی کے قومی مجلس عاملہ کے رکن وسینئر لیڈررام مادھونے جواب طلب کرنے کی جسارٹ کرڈالی ۔ انہوںنے ٹویٹ کیاکہ دوسوال؟ ٹیکس پیرس کےپیسے سے چلنے والا راجیہ سبھا ٹی وی نے یوگ دیوس کی تقریب کومکمل طورسے بلیک آوٹ کیوں کیا؟ دوسرا نائب صدرجمہوریہ کسی بھی تقریب میں کیوںشامل نہیں ہوئے ؟
ملک کے اعلیٰ ترین عہدہ پر براجمان شخصیت سے کسی پارٹی کے لیڈرکے ذریعہ کسی بات کا جواب طلب کرنانہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ ملک کی قومی عظمت سے چھیڑچھاڑکرنے کے مترادف بھی ہے۔کیوںکہ نائب صدرجمہوریہ کا عہدہ صدرجمہوریہ کے بعدملک کا سب سے باوقاراوراعلیٰ عہدہ ہے۔نائب صدرجمہوریہ کے دفترسے اس کا جواب دیاگیاکہ اس تقریب میں انہیں مدعونہیں کیاگیاتھا جس کے بعدمحکمہ آیوش کی جانب سےپروٹوکول کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت پیش کی گئی کہ نائب صدرجمہوریہ کواس تقریب میں مدعوہی نہیں کیاگیا کیوںکہ کسی ایسے پروگرام میںنائب صدرکومدعونہیں کیا جاسکتا جہاں وزیراعظم بحیثیت مہمان خصوصی مدعو ہوںچوںکہ یہ تقریب محکمہ آیوش نے منعقدکیاتھا اوراس میں وزیراعظم کومہمان خصوصی کے طورپر مدعوکیاگیاتھا ۔نائب صدرکاعہدہ وزیراعظم کے عہدہ سے بڑاہے اس لئے اس تقریب میں انہیں مدعوکرنا پروٹوکول کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ حکومت کی اس وضاحت کے بعد مسٹرمادھونےاپنی خفگی مٹانے کیلئے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا وہیں ایک اورشرمناک حرکت کربیٹھے۔ انہوں نے دوبارہ ٹویٹ کیاکہ نائب صدرجمہوریہ کی صحت ٹھیک نہیں ہے اس لئے وہ اس یوگادیوس میں شریک نہیں ہوئے جس کے بعدنائب صدرجمہوریہ کے دفترنےیہ وضاحت کرکے ان کے جھوٹ کی قلعی کھول دی کہ نائب صدرجمہوریہ صحت مند ہیں۔محکمہ آیوش کےوزیر مملکت برائے آیوش سری پد نائیک نے نائب صدرسے جواب طلب کرنے کی جسارت کوبھی افسوسناک قراردیا۔

 بہرحال ابھی مسٹرمادھوکے بیان پر گرما گرم بحث کاسلسلہ جاری ہی تھاکہ اس دوران وشوہندوپریشد کی لیڈر سادھوی پراچی کا شرمناک بیان آیاکہ راج پتھ پر کسی لیڈرکی بیٹی کی شادی نہیں تھی جس میں انہیں دعوت نامہ بھیجنے کی ضرورت ہوتی ۔دوقدم آگے بڑھ کروہ یہاں تک کہہ گئیں کہ جولوگ یوگ دیوس کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اس ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں ۔سادھوی پراچی اورمسٹررام مادھوجس خطرناک لہجے میں گفتگوکررہےہیں اسے نظراندازنہیں کیاجاسکتا ہےکیوںکہ ان دونوںکا یہ بیان قومی وملکی عظمت پر حملہ ہے ۔ اگران دونوںلیڈروںکے تنظیمی پس منظرکوذہن میں رکھ کر ان کے بیانات کا تجزیہ کیاجائے توجوخطرناک نتیجہ سامنے آئےگا وہ انتہائی شرمناک اورہندوستان کے جمہوری ڈھانچہ کوکمزورکرنے کی سازش کا اشارہ کررہاہے۔یادرہے کہ رام مادھوآرایس ایس کے پرچارک اورمتنازعہ لیڈررہےہیں ،مرکزمیں مودی حکومت کی تشکیل کے بعد آرایس ایس کی دبائوکے بعدانہیں بی جے پی کی مجلس عاملہ کا رکن نامزدکیاگیا۔اپنی ہرزسرائی کیلئے مشہورسادھوی پراچی کا تعلق فرقہ پرست تنظیم وشوہندوپریشدسے ہےگوکہ دونوںتنظیموںکے نام الگ ہیں تاہم دونوںکا نظریہ اورمقصدایک ہے ۔

Friday, January 30, 2015

My Name is India !



Listen to me, Oh the people of the world,! 
My  name  is  India .  You  must   know; 
I stand  firmly  against   malice and hate, 
The seeds of peace, I want and try to sow.

I face many hurdles day and  night, 
They all  attempt  to  make me slow; 
The force  of my will   paves its way , 
None can succeed to change my flow.

The height of Everest is singing my glory, 
The swirling oceans make a splendid show; 
My enemies attack me with  a strong zeal, 
But my resolve and patience always grow.

I am a cradle of  many faiths and creeds, 
All are    shining like a glittering  snow ; 
Those who desire to tear my bosom apart, 
To them, I am ready to give a lethal blow.

Still I have some spots of anguish and pain, 
Some of my sons still cry like an ugly crow; 
The  time will heal all the scars and wounds, 
'Joy for  all' is my goal: my determined vow.
  
Listen to me, Oh the people of the world,! 
My  name  is  India .! You  must   know; 
Soon the future  will see my happiest day, 
When to me, each of you  will have to bow. 
************ ********* ********* ****** 
 ( Dedicated to Republic Day Parade)
Dr. Mustafa Kamal Sherwani,LL. D. 
Chairman, All India Muslim Forum 
Lucknow ,U.P. India 
sherwanimk@yahoo. com 



Friday, January 16, 2015

Oh the Muslims of the world


  
I share your fury over the blasphemous film,
Which depicts our Prophet in the ugliest haze;
But if you fail to have some deeper thoughts,
Your rage will be just like a mad man's craze.

If you promise not to turn your anger on me ,
Listen to my words during this turbulent phase;
Your greatest foes are roaming in your sleeves,
Those who inflame the deadly sectarian blaze.

If you really love your Prophet and his faith,
Come out forthwith from this murderous maze;
Make a determined vow to excel in learning,
Look at the gloomy horizons with an intent gaze.

This violent spree may be your natural impulse,
But you will keep yourself in a complete daze;
You are in slumber: Your enemies are all awake,
For your ruin , they may devise countless ways.

Pause for a moment my dear brothers and sisters!
Use these wiles as offering you some shining rays,
Lift your heads from the feet of mighty empires,
It is what Prophet had said, and what still he says. 

******************************************************* 

Dr.Mustafa Kamal Sherwani.
Lucknow, U.P.India.
------------------------------------


Friday, March 07, 2014

عام انتخابات میں معمولی سی غفلت جمہوریت اور دستورِ ہند کی تباہی کا سبب بن سکتی ہی

عام انتخابات میں معمولی سی غفلت جمہوریت اور دستورِ ہند کی تباہی کا سبب بن سکتی ہی
اسلام جمخانہ کے جابر ہال میں مختلف تنظیموں کے اشتراک سے منعقد مذاکرہ میں مقررین کا اظہار خیال،سچ کا سفر نامی مہم کا شبنم ہاشمی اور تشار گاندھی کے ہاتھوں افتتاح
مرین لائنس:عام انتخابات میں برسراقتدار آنے کے لیے فرقہ پرست طاقتیں بے چین ہیں اور اس کے لیے تمام حربے استعمال کررہی ہیں۔ جہاں ان کی جانب سے تذبذب کی کیفیت پیدا کی جارہی ہے اور حقائق کو چھپانے کے لیے جھوٹ کا بازار گرم کیا جارہاہے وہیں ان فرقہ پرستوں کے ناپاک منصوبوں کو خاک میں ملانے اور انھیں اقتدار سے دور رکھنے کے لیے ملّی، سماجی اور مذہبی تنظیموں کے علاوہ سیکولرازم میں یقین رکھنے والے افراد اپنی سی کوشش کررہے ہیں۔ اسی تعلق سے جمعرات کو اسلام جمخانہ کے جابر ہال میں ’سچ کا سفر‘ عنوان سے ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حاضرین نے اس سے اتفاق کیا کہ جمہوریت اور دستورِ ہند کا تحفظ وقت کا تقاضا ہی، ہماری معمولی سی غفلت اس کی تباہی کا سبب بن سکتی ہی۔
معروف سماجی خدمتگار اور ’انہد‘ نامی تنظیم کے روح رواں شبنم ہاشمی نے اردو کیجر یوال اور انّا ہزار کے تعلق سے کہا کہ ’’یہ سب آر ایس ایس کے لوگ ہیں اور سب سے زیادہ کنفیوزن اروند کیجریوال نے پیدا کیاہی۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ عام آدمی پارٹی نے جن ۰۲سیٹوں پر اپنے اُمیدوار کھڑا کرنے کا اعلان کیا ہے ان میں سے ۹۱سیٹوں پر سیکولرپارٹیوں کے اُمیدواروں کا نقصان ہوگا۔‘ ‘انھوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس وقت ملک انتہائی نازک دور سے گزررہاہے اور اگر سب نے فکر نہ کی تو جمہوریت کو بچاپانا مشکل ہوگا اور اگر فاشٹ طاقتیں اقتدار میں آئیں تو دستورِ ہند کی جگہ کوڑے دان ہوگی جبکہ یہ طاقتیں سب سے پہلے اقلیتوں اور آدیواسیوں پر حملہ آور ہوں گی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اس وقت وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے دفاتر، آئی بی، میڈیا اور این اائی اے میں آرایس ایس کے لوگ گھس چکے ہیں۔ مودی امریکہ اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کا چہیتا ہے کیونکہ وہ ان کے منصوبوں کو عملی جامہ پہناتاہی۔ اگر وہ سر کے بل بھی معافی مانگے تو میں معاف نہیں کروں گی۔ اس وقت ضرورت سیکولر اُمیدواروں کو کامیاب بنانے کی ہی۔‘‘
مہاتما گاندھی کے پوتے تشارگاندھی نے کہا کہ’’جمہوریت خطرے میں ہے جس کے لیے ہم کو تیاری کرکے فاسٹ طاقتوں کے خلاف عملی طور پر میدان میں آنا ہوگا۔ اس بار ملت کو بھی بانٹنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کسی حد تک فرقہ پرست اپنی اس سازش میں کامیاب بھی نظر آرہے ہیں، ہمیں ان کے نا پاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے حکمت عملی طے کرنی ہوگی۔‘‘
مولانا ظہیر عباس رضوی نے کہا کہ ’’فسطائی طاقتوں کا ایجنڈا کسی مخصوص ذات برادری کے لیے نہیں بلکہ ملک کی سالمیت کے لیے مسئلہ ہے اور اس فکر و نظر یہ کو بڑھاوادیاجارہاہے کہ اس ملک میں وہی لوگ رہیں گے جن کی پرورش آر ایس ایس کررہی ہی، جو انتہائی خطرناک ہی۔ مجھے یہ کہنے میں پس وپیش نہیں ہے کہ ۲۰۰۲ء میں اگر فرقہ پرستوں کے خلاف کسی نے لڑائی لڑی تو وہ ہندو بھائی تھے کیونکہ یہ مسلمانوں کے بس کی بات نہیں تھی۔‘‘
برہانی کالج کی پرنسپل فروغ وارث نے کہا کہ ’’بیداری اور ذہن سازی کے لیے جو پروگرام ترتیب دئیے جارہے ہیں، انھیں فوری طور پر عمل میں لانے کی ضرورت ہی۔‘‘ عظمیٰ ناہید نے کہا کہ ’’فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینے کے لیے بیداری مہم کی ضرورت ہی۔‘‘
مہاڈا کے چیئر مین یوسف ابراہانی نے کہا کہ ’’مودی اینڈ کمپنی کے جھوٹ کو روکا جائی۔وہ میڈیا جو ۷ماہ قبل تک مودی کے خلاف تھا، وہ اسے ہیروبناکر پیش کررہاہی۔ اس کے علاوہ انّا کے دھرنے کو کامیاب بنانے میں آرایس ایس نے اپنا تعاون قبول کیا ہے جس سے انّا اور کیجریوال وغیرہ کو سمجھنا مشکل نہیں ہی۔‘‘
سرفراز آرزو نے کہا کہ ’’مسلم مسائل سے چشم پوشی اور سیکولر ازم سے کھلواڑ کی بناء پر ہی فرقہ پرستوں کو اتنی مضبوطی ملی ہے کہ وہ آج ایک چیلنج بن گئے ہیں ورنہ کانگریس کو یہ دن نہ دیکھنے پڑتی۔‘‘
جمعتہ العلماء مہاراشٹر کے صدر مستقیم احمد عاظمی نے کہا کہ ’’فرقہ پرستوں کو بہر قیمت روکیں اور اپنے درمیان کالی بھیڑوں کو پہچانیں اور مسلمانوں کے ایسے طبقے کو روکیں جو راج ناتھ سنگھ کے معافی مانگنے پر ان کے ساتھ جانے کی بات کررہاہی۔‘‘
سعید خان نے کہا کہ ’’اس وقت ملک آرپار کی لڑائی کی راہ پر کھڑا ہے اور سیکولرازم کے علمبرداروں کے سامنے یہ چیلنج یہ ہے کہ یہ ملک سیکولرازم کو قائم رکھ پائے گا یا فسطائی طاقتیں اسے برباد کردیں گی۔‘‘

عامر ادریسی نے کہا کہ ’’سچ کا سفر‘کے عنوان پر ۴مراحل میں کام کیا جائے گا اور اس کے ذریعہ عوام میں بیداری لانا اور ان کی ذہن سازی کرنا ہے کہ وہ ووٹ دیں اور اپنا ووٹ ضائع ہونے سے بھی بچائیں۔ ان مراحل میں مس کال، ویب سائٹ کا افتتاح اور لوگوں سے ملاقاتیں جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔

Sunday, January 05, 2014

ڈیمیج کنٹرول : متاثرین سے ہمدردی یا ووٹ بینک کی درستگی

ڈاکٹر اسلم جمشید پوری


            یہ زبان بھی کیا عجیب شئے ہی؟ الفاظ، وقت حا لات اور استعمال سے کیسے کیسے معنی دیتے ہیں۔ انگریزی سے دور دور ہنے وا لے اور ہندی اور اردو کا دم بھرنے وا لے بھی انگریزی کے بعض الفاظ کا دھڑ لے سے استعمال کر نے سے خود کو روک نہیں پاتے ہیں۔ سو شل انجینئرنگ سے تو آپ سب وا قف ہو ہی گئے ہو ں گی۔ اب ڈیمیج کنٹرول کا استعمال ہندی اور اردو رو زناموں میں تیزی سے ہو رہا ہی۔ مظفر نگر فساد کے بارے میں قیا فہ شناس بھی حیران ہیں کہ ایسا تو نہیں سو چا تھا۔ مجھے لگتا ہے منصو بہ بنا نے وا لوں کے بھی وہم و گمان میں نہیں ہو گا کہ اونٹ اس کروٹ بیٹھ جا ئے گا۔
            بعض لو گوں کا ماننا ہے کہ چو را سی پریکرما کی طرح مظفر نگر فساد بھی بی جے پی اور سماج وا دی کا ایک منصو بہ بند ڈرامہ تھا۔کچھ لوگوں نے اسی’’فکسڈ‘‘ بھی قرار دیا۔ کچھ نے اسے دو پہلو انوں کی’نو را کشتی‘ سے بھی تعبیر کیا۔۔ چو را سی پریکرما اور مظفر نگر فساد کے ابتدا ئی کے دنوں کے حا لات سے قیاس کرنے وا لوں کی بات میں کچھ دم ضرور نظر آرہا تھا۔ لیکن رو ز بروز بدلتے منظر نامے نے مظفر نگر فساد کی تصویر کو خا صا تبدیل کر کے رکھ دیا ۔ فساد کے متا ثرین کے آ نسو، آہیں، بے دری، بھوک، پیاس، خوف، دہشت وغیرہ نے معمولی فساد سمجھ رہے لوگوں کی آنکھیں کھول کر رکھ دیں۔ اب جو حقیقتیں سامنے آنے لگیں تو پتہ چلا کہ قتلِ عام ہوا ہی۔گھروں اور دکانوں میں آ تش زنی کی گئی ہی۔ عورتوں اور لڑکیوں کی عصمتیں بھی تار تار ہو ئی ہیں اور یہ سب حفاظت کے ذمہ داروں کے سا منی، ان کی شہ اور ان کی شمو لیت کے سا تھ ہوا۔معاملات کی نزاکت اور شدت نے سب کچھ تبدیل کردیا۔ گجرات کا منظر نامہ، نظروں میں زندہ ہو گیا۔ سماج وا دی پارٹی کی آ نکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اتر پردیش کو ہر طرح محفوظ رکھنے کا وعدہ کرنے وا لی سر کار اتنی ناکام کیسے ہو گئی۔ مانا نفرت کی آگ پھیلانے وا لے مخصوص جماعتوں کے تھی، ان کی نشاندہی بھی کی گئی لیکن کوئی بتائے کہ اس قدر بڑے پیمانے پر تبا ہی کیا ایک دو دن میں برپا ہو تی ہی۔ یہ تو مہینوں کی تیاری کا پیش خیمہ ہی۔ ایسے میں سر کاری انتظا میہ، پولس آ فیسران کیا کررہے تھی؟ ملزمین کو قابو میں کیوں نہیں کیا گیا؟ خدا کا شکر ہے کہ ڈی جی پی، اتر پردیش نے پولس افسران کی خامی کو قبول تو کیا لیکن وہ کون سے افسران تھی؟ ان کے خلاف کارروا ئی جلد ہو نی چا ہیی۔ مقدمے قائم ہوں اور ان کی گرفتاریاں ہونی چا ہییں۔ اس سے عوام میں اعتماد بحال ہوگا۔ اس وقت متاثرین کا اعتماد بحال کرنا اولین ضرورت ہی۔
            سماجی ڈیمیج  :
          مظفر نگر میں تقریباً رو زانہ بڑے بڑے سیا سی رہنما ئوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جا ری ہی۔ حکومت کے نما ئندہ سیا سی رہنما، بے گھروں کو بسا ئے جانے کا دلا سہ دے رہے ہیں۔ جلد از جلد انہیں اپنے گائوں میں آباد کیا جائے یا پھر الگ سے بستیاں بسائی جا ئیں۔ پو را منصو بہ منظر عام پر آنا چا ہیے اور ایک ڈیڈ لائن بھی مقرر ہونی چاہیی۔ سر کار اس کا اعلان کرے کہ فلاں تاریخ کے بعد کوئی کیمپ میں نہیں رہے گا۔کیا کیمپوں کو ابھی اس لیے بحال رکھا جارہا ہے کہ آ قا ئوں کو آ نے پر کیا دکھائیں گی۔ سر کار کی دیکھ ریکھ میں ہندو۔ مسلم اور پو لس کے نو جوانوں پر مشتمل کمیٹیاں بنیں اور پناہ گزینوں کو آ باد کر نے کا کام تیزی سے ہو۔ معا وضہ فو راً دیا جائی، جو لوگ بے رو ز گار ہو ئے ہیں، ان کو روزگار کے لیے رقم مہیا کرا ئی جائی۔ اس طرح سماجی سطح پر ہو نے وا لے ڈیمیج کو کنٹرول کیا جا سکتا ہی۔ اس میں سر کار، دو نوں مذا ہب کی رفا حی تنظیموں کا سہا را بھی لے سکتی ہی۔پھر ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بھی کچھ ذمہ دا ری سو نپی جا ئی۔ انہیں بھی ایک ایک گا ئوں سپرد کیے جائیں۔ گا ئوں میں چھوٹی چھوٹی چو کیاں بنا ئی جائیں۔ شا ہرا ہوں سے گا ئوں کو جوڑنے والی سڑکوں کو درست کیا جائے اور پیٹرو لنگ پو لس کی گشت بڑھا ئی جائی۔ آنے وا لے ایام میں بقر عید، دسہرہ اور دیوالی جیسے تہوار کی آمد آ مد ہی۔ ان سے پہلے آپسی نفرت کو بھا ئی چارے میں بدلنا ہو گا تا کہ ان تہوا روں کو ہم پھر سے مل کر منائیں۔ دلوں میں نفرت کا شا ئبہ تک نہ رہی۔ محبت اور اتحاد قائم رکھنے وا لے تہذیبی و ثقا فتی پرو گرام منعقد کرا ئے جائیں۔ حالات معمول پر آئیں گی۔ ہم ایک دوسرے سے مل کر رہیں گی۔ یہ ہما ری سرشت میں شامل ہی۔ ہم ہندوستانی مختلف ہو تے ہوئے بھی متحد ہیں۔یہی ہماری شناخت ہے اور اسے قائم رکھنا ہی ہماری شان ہے اور وقت کا تقاضا بھی۔
            مظفر نگر فساد پر سیا ست  :

            فساد ہوا، خونی ہو لی کھیلی گئی۔ دکانوں کو نذر آتش کیا گیا۔ تبا ہی کی نئی داستان رقم کی گئی۔بچے کھچے لوگوں نے ادھر اُدھر بھاگ کر جان بچا ئی۔ متعدد مدارس میں لوگوں نے قیام کیا۔ عورتیں، بچی، بوڑھی، مریض، حاملائیں،چیختی، کراہتے لوگ، ہمیشہ کے لیے جدا ہو جانے وا لوں کے لیے آہ و بکا، علاج کے فقدان میں تڑپتے زخمی_ایک طرف تو یہ سب تھا دوسری طرف بی جے پی اس پورے معاملے کا سیا سی فا ئدہ اٹھانے کے لیے ہر وقت تیار۔ بی جے پی کے بڑے رہنمائوں کا بیان کہ فساد سماج وا دی کا سو چا سمجھا منصو بہ ہی۔ یہی نہیں ایک اسٹنگ آپریشن نے سماج وا دی کے بڑے مسلم لیڈر اعظم خاں کو ہی کٹہرے میں کھڑا کردیا۔ بس پھر کیا تھا بی جے پی کے رہنمائوں نے محمد اعظم خاں کو فساد کا ذمہ دار قرار دے کر ان کی گرفتاری اور ان پر مقدمہ چلا ئے جانے کی مانگ زور و شور سے کی جانے لگی۔ کئی دن اخبارات کے سر ورق پر یہ خبر جلی حرفوں میں شا ئع ہوئی۔ دوسری طرف بی ایس پی کے رہنما ئوں نے بیان دیا کہ یہ بی جے پی اور سماج وا دی کی ملی جلی سا زش ہی۔ بی ایس پی کے ایک ایم پی پر بھی فساد بھڑ کانے کا الزام ہی۔ راشٹریہ لوک دل، جس کی زمین ہی جاٹ ۔مسلم ووٹ ہیں، اس فساد سے بہت زیا دہ متاثر ہیں۔ ان کے رہنما ئوں کا بیان ہے کہ مظفر نگر فساد سماج وادی کا مسلم ووٹوں پر قبضے کا ایک کھیل ہے اور سماج وا دی نے جاٹ۔ مسلم اتحاد کو توڑنے کی کوشش کی ہی۔ کانگریسی رہنمائوں کے بیان آ رہے ہیں کہ یہ بی جے پی کو فا ئدہ پہنچا نے کے لیے سماج وا دی کی چا ل ہے کہ ووٹ کہیں اور نہ جائی۔ صرف بی جے پی اور سماج وا دی میں ہی تقسیم ہو۔ خود سماج وا دی کے کئی لیڈران بیان دے چکے ہیں کہ یہ فا شسٹ طاقتوں کا کھیل ہی۔ ان بیان با زیوں کے درمیان تھوڑی دیر کے لیے یہ سو چیں کہ کس سیاسی جماعت نے حالات کو قابو میں کرنی، متاثرین کی امداد اور انہیں آباد کیے جانے کے لیے کیا کیا تو آپ کو علم ہوگا کہ یہ سب صرف زبان جمع خرچ کررہے ہیں۔ سر کار ہو یا حزب مخالف سب کے چہرے عوام کے سامنے ہیں۔
            سیا سی ڈیمیج کنٹرول  :
            سماجی اعتبار سے تو ڈیمیج کنٹرول کی کوئی خاص کوشش اب تک نظر نہیںآرہی ہی۔ سماجی اور مذہبی تنظیمیں اپنی اپنی سطح پر امداد و تعاون میں لگی ہوئی ہیں۔ سماج وا دی پا رٹی کے تعلق سے شور ہوا کہ اس فساد کا منفی اثر سب سے سے زیا دہ سماج وا دی پر پڑے گا اور ہوا بھی کچھ ایسا ہی کہ باغپت سے سماج وا دی امید وا ر سوم پال شاستری نے سماج وا دی کا دا من چھوڑ دیا جب کہ وہ ایسے قد آور رہنما تھے کہ وہ اجیت سنگھ کو ایک بار شکست بھی دے چکے ہیں دو بارہ بھی ان سے امید کی جاسکتی تھی۔ سماج وا دی نے راتوں رات سوال خاص کے ایم ایل اے حاجی غلام محمد کو امید وار بنا دیا۔ یہی نہیں کئی سال سے پارٹی سے خا رج عمران مسعود کو بھی نہ صرف پا رٹی میں شامل کیا گیا بلکہ ایم پی کے لیے سہا رنپور سے امید وار بنایا۔ سماج وا دی کے اس اقدام سے دو سری جماعتوں کی را توں کی نیندیں حرام ہو گئیں۔غلام محمد مسلمانوں کے علا وہ جا ٹوں، گوجروں اور دوسرے طبقات میں بھی مقبول ہیں۔وہ اجیت سنگھ کو بھی ٹکر دے سکتے ہیں۔ عمران مسعود نو جوا نوں کی بھر پور نمائندگی کرتے ہیں۔ عمران مسعود کو مظفر نگر فساد میں نا راض مسلمانوں کو منانے کی ذمہ داری دی گئی ۔پھر شیو پال یا دو کو بھی سیا سی ڈیمیج کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی طور پر بھیجا گیا ہی۔معاوضہ کا اعلان، آباد کیے جانے کا بھروسہ اور ملزمین کی گرفتاری سے سماج وا دی اپنے نقصان کو پو را کرنے میں لگی ہی۔ اس پورے معا ملے سے محمد اعظم خاں کو الگ رکھا جا رہا ہی۔ شاید سماج وا دی کے اندر کے ایک حلقے کی منشا یہی تھی۔ یہ وہ حلقہ ہے جو اندرونی طور پر محمد اعظم خاں کے خلاف تھا۔ ایسے میں بخا ری صا حب نے تو کھلم کھلا اعظم خاں کی مخا لفت کرتے ہو ئے انہیں پا رٹی سے بر خواست کرنے تک کی مانگ کی۔
            مظفر نگر فساد سے زیادہ متا ثر ہو نے وا لی دوسری پا رٹی، را شٹریہ لوک دل ہی۔ اس کی مشکل یہ ہے کہ اس کی سیا ست کی بنیاد جاٹ۔مسلم اتحاد ہی پارہ پارہ ہو گیا ہی۔ اس سے مسلم بھی نا راض ہیں اور جاٹ بھی۔ مسلمانوں کی نا راضگی تو شاید اجیت سنگھ برداشت بھی کر لیں لیکن جاٹ نا را ضگی ان کے سیا سی کیرئیر کا زوال ہی ہو گا۔شاید یہی وجہ ہے کہ اجیت سنگھ نے باغپت میں ڈیمیج کنٹرول کے دوران ہی جاٹ ریزرویشن کا اشا رہ بھی عوام کو دیا۔
            بی ایس پی اس پو رے معا ملے میں’ واچ اینڈ ویٹ‘س، کی پا لیسی اپنا رہی ہی۔ اس کے ایک ایم پی کی گرفتاری کا حکم نامہ جا ری ہو گیا ہے اور اب سپریمو کے اشا رے بھی مل گئے ہیں کہ گرفتار ہو جا ئو۔ گرفتاری کا ایک سیا سی فا ئدہ بھی ہے کہ ہمدردی کی ایک لہر عوام میں سرا یت کر جا تی ہی۔ بی جے پی اسی لہر کو کیش کرنا بھی چا ہتی ہی۔ ان سب سے الگ کانگریس مسلم ووٹوں کو پھر سے اپنا نے کے حربے آزما رہی ہی۔ یہ سب یوںہی چلتا رہے گا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈیمیج کنٹرول کے پردے میں کیا کیا گل کھلتے ہیں۔ لوگ فساد متا ثرین کے ڈیمیج کو ٹھیک کرتے ہیں یا پھر اپنے سیا سی نقصانات کی بھر پائی اور یہ بھی قابل غور ہے کہ پناہ گزینوں کے کیمپ کب تک اپنے وجود کے ساتھ بد نما دا غوں کے مصداق مغربی اتر پردیش کے دامن پر نظر آئیں گے اور کب ان بیچا روں کو امن و امان، سکون، گھر بار، کارو بار وغیرہ میسر ہوں گی۔



Dr. Aslam Jamshedpuri
HOD, Urdu CCS University, Meerut

Thursday, December 26, 2013

کیا مسلم قیادت کو انا ہزارے سے سبق نہیںلینا چاہئی؟

 نور محمدخان .ممبئی
     
عالمی سطح سے لیکر مقامی سطح تک قوموں کی قیادت کی لمبی فہرست اور مثال موجود ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی یہودیت اور عیسائیت سے لیکر نیلسن منڈیلا ،سنگھ پریوار نیزبابا صا حب امبیڈکر تک مختلف قوموں کی قیادت نے کامیابی وترقی کے تمام ارتقائی منازل طے کئے ہیں جسے قومیں صدیوں یاد رکھتی ہیں اور اس قیادت کے نقش قدم پر چلتی ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ امت محمدیہ ؐ مسلماںکو جسے ماضی حال اور مستقبل کا کافی علم دیا گیا آج حیران اور ناوقف راہ بھٹک کر دنیا کی تاریکیوں سے روشنی کی بھیک مانگ رہی ہے ؟
            دور رسالتؐ ،دورخلافت راشدہ اوربعد کی مسلم حکومتوں میں مسلمانوں کی قیادت کی روشن مشال موجود ہے لیکن اکیسویں صدی کی مسلم قیادت کا ذکر کریں تو معلوم یہ ہوگا کہ عالمی سطح سے لیکر مقامی سطح تک مسلم قیادت ناکام ثابت ہوئی ہے عالمی سطح کی قیادت کا پس منظر یہ ہے کہ فلسطین میں غاصب ریاست اسرائیل اور یہودیوں کے قیام نے امت محمدیہ مسلمان کو یہ بتا دیا ہے کہ جس قوم میں اتحادہوتا ہے وہ قوم طاقتور ہو تی ہے اور یہودیت نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرکے فلسطین پر قبضہ ہی نہیں کیا بلکہ سیکڑوں مساجد کو شہید کر دیا اور اب مسجد اقصی کو شہید کرکے ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے کی تیاری میں ہی۔ افریقی گاندھی نیلسن منڈیلا نے اپنی قوم کو گورے لوگوں کی اذیتوں سے آزادی اور حقوق کے لئے تحریک چلائی برسوں تک قید خانوںمیں مقید رہنے کے بعدرہائی ہی نہیں ملی بلکہ قوم کو آزادی اور حقوق کی حصولیابی میں کامیابی حاصل کی وطن عزیز میں دیوی دیوتائوں اور پتھروں کی پوجا کرنے والے ہندو کٹر پنتھی آر ایس ایس نے ہندوئوں کو رام کے نام پر متحد کرکے ملک پر حکومت ہی نہیں کی بلکہ قدیم مسلمانوں کی عبادت گاہ بابری مسجد کو شہید کرکے رام مندر کی تعمیر کا آغاز بھی کردیا ۔بابا صاحب بھیم رائو امبیڈ کر نے دلتوں پر ہونے والے مظالم سے مقابلہ کرنے اور حقوق کی حصولیابی کے لئے قوم کو بیدار کیا اور جب یہ قوم بیدار ہوگئی تب ملک کی سیاست میں حصہ داری اور ریاست میں حکومت کی جس کی بدولت دلت قوم ترقی کی جانب قدم بڑھاتی چلی گئی ۔علاوہ اس کے آرٹیکل ۰۷۳ میں سے جب اقلیتوں میں عیسائی، سکھ ،دلتوںاور مسلمانوں کو صدارتی حکم کے مطا بق ریزرویشن سے خارج کر دیا تب اول سکھوں نے تحریک چلا کر ریزرویشن میں شمولیت اختیار کی اس کے بعد دلتوں کی تحریک کے آگے حکومت نے گھٹنے ٹیک کر دلتوں کو ریز رو یشن میں شامل کرلیا لیکن مسلمانوں کی بد نصیبی کہ آج تک مسلمانوں میں پچھڑی قوم کو ریزرویشن میں شامل نہیں کیا گیا گذشتہ ۵۴ برسوں سے جن لوک پال بل کو حکومت نے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا تھا جو ملک میں ہونے والی بدعنوانی و دیگر نکات پر مشتمل بل ملک اور عوام کی مفاد میںتھا اس بل کو نافذ کرنے کے لئے اکیسویں صدی کا گاندھیائی لیڈر انا ہزار ے نے احتجاج کرکے آخر کا ر بل کو نافذ کرانے میں کامیابی حاصل کرلی جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی یہ مختصر سا خاکہ دیگر قوموں کی قیادت کا تاریخی منظر تھا ۔
8
            وطن عزیز میں مسلم لیڈران ،مسلم تنظیمیں ،سیاسی علماء اکرام کو عام مسلمانوں کی قیادت کا خطاب حاصل ہے اور اکیسویں صدی کی مسلم قیادت کا تاریخی پس منظر نہایت ہی المناک ہے  بابری مسجد میں بت رکھے جانے سے لیکر مسجد کی شہادت اور فرقہ وارانہ فسادات سے لیکر بم دھماکوں تک عام مسلمانوں کو ہر محاذ پر مسلم قیادت کی دعویداری کے باوجود ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ۔یہاں تک کہ مسلمانوں کی حالت دلتوں اور پچھڑی ذاتوں سے بھی بدتر ہوگئی ۔لیکن مسلم قیادت ہے کہ ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا مسلمانوں کے مکانوں کوآگ لگا کر اس کی روشنی میں تباہی کا منظرمسلم قیادت کو دکھایا گیا ۔یہی نہیں بلکہ۲۹۹۱ کے بعد بم دھماکوں کے الزامات میں بے قصور تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کوپھنسایا گیا ۰۲ برس کے طویل عرصے میںبم دھماکوں کے بے بنیاد الزامات سے عدالت نے درجنوں افراد کو باعزت بری کردیا جامعہ ٹیچر سولیڈریٹی کی رپورٹ یہ بتا تی ہے کہ عدالت نے رہائی کے دوران ان افسران پر کاروائی کا حکم بھی صادر کیا تھا جن افسران نے بے قصوروں کو گرفتار کرکے ان کا مستقبل خراب کیا اس کے باوجود مسلم لیڈران ،مسلم تنظیمیں اور سیاسی علماء اکرام خاموش ہیں ۔اس ضمن میں آج تک قیادت کی جانب سے کوئی تحریک نہیں چلائی گئی عام مسلمانوں کی حالت کا تذکرہ کیا جائے تو معلوم یہ ہو گا کہ ماضی میں بزرگوں نے اپنی جائداد کو قوم کے نام وقف کردیا تھا تاکہ مستقبل میں عام مظلوم ،مفلس ،مسکین،غریب مسلما ن اس جائداد سے استفادہ کریں ۔ملک میں کم و بیش ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ وقف کی ملکیت ہے جس پر سرکاری قبضہ کے علاوہ ایسے مسلمانوں کا قبضہ ہے جن کو اس جائداد کی حفاظت اور مسلمانوں کے امداد کی ذمہ داری سونپی گئی تھی لیکن غریبوں کی امانت میں خیانت کرنے والے مسلمانوں کی بدولت آج مسلمانوں کی حالت دلتوں اور پچھڑی ذاتوں سے بھی بدتر ہوگئی ہے اب ایسی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات کا ذمہ دار کون ہے ؟
            آخری بات یہ ہے کہ عام مسلمانوں کی قیادت متحرک ہوتی تو یقینی طور پرفرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کی نسل کشی نہیں ہوتی اور نہ ہی فرقہ وارانہ فسادات پر مبنی جانچ کمیشنوںکا قیام عمل میں آتا (جو کہ فسادات سے پیدا ہونے والے عوامی غصے کو کم کرنے کیلئے ہی کیا جاتا ہے )مسلم لیڈران کو اگر عام مسلمانوں کی فکر ہوتی تو وقف بورڈ کی ملکیت سے ہونے والی آمدنی سے مطلقہ اور بیوہ خواتین کو وظیفہ ملتا اورنوجوان لڑکیوں کے ہاتھوں میں مہندی سجنے کی بجائے قحبہ خانوں کی زینت نہ بنتی مسلم تنظیموں اور سیاسی علماء اکرام کو اگر عام مسلمانوں کی فکر ہوتی تو دہشت گردی کے الزامات میں بے قصوروں کی گرفتاری نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کے ماتھے پر دہشت گردی اور دلتوں سے بھی بدتر کا بد نما داغ لگتا اور نہ ہی مسلم قیادت شرمشار ہوتی ۔کاش کہ اناہزارے سے مسلم قیادت سبق حاصل کرتی ۔
نور محمد خان ۔029516236
 

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP