You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label urdu blogging urdu mumbai. Show all posts
Showing posts with label urdu blogging urdu mumbai. Show all posts

Tuesday, August 28, 2018

فراق گورکھپووری

*_ 28 / اگست / 1896ء... _*

*بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں شمار، ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، اپنے بصیرت افروز تنقیدی تبصروں کے لئے مشہور شاعر” فراقؔ  گورکھپوری صاحب “ کا یومِ پیدائش...*

نام *رگھوپتی سہائے*، تخلص *فراقؔ*، *28 اگست 1896ء* کو *گورکھپور (اترپردیش)* میں پیدا ہوئے۔ گھر میں شعرو شاعری کا چرچا عام تھا۔ ان کے والد *منشی گورکھ پرشاد عبرتؔ* بھی مشہور شاعر تھے ۔فراق نے تعلیم آلہ آباد میں حاصل کی اور اردو اور فارسی کے علاوہ انگریزی میں بھی اعلی لیاقت حاصل کی۔ بعد میں انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوگئے۔ کچھ مدت تک *جواہر لعل نہرو* کے ساتھ کام کیا۔ جیل بھی گئے۔انگریزی میں ایم۔ اے کرنے کے بعد الہ آباد یونیورسٹی میں انگریزی کے استاد ہوگئے ۔یہیں سے 1959میں ریٹائر ہوئے۔ فراق گورکھپوری کے کلام کے کئی مجموعے شائع ہوئے۔ ان میں *’’روحِ کائنات‘‘ ،’’رمز و کنایات‘‘،’’غزلستان‘‘، ’’شبنمستان‘‘* اور *’’گلِ نغمہ‘‘* خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ *’’اندازے‘‘* اور ان کی کتاب *’’اردو کی عشقیہ شاعری‘‘* بہت اہمیت رکھتی ہے ۔ شاعری میں *فراقؔ*  کی غزل اور ان کی رباعی کاانداز سب سے الگ ہے ۔ انہوں نے رباعی کی صنف کو ہندوستانی ثقافت کا ترجمان بنادیا۔
*3 مارچ 1982ء کو فراق گورکھپوری انتقال کر گئے* ٠

💢  *فراقؔ  گورکھپوری صاحب کے یومِ ولادت پر منتخب اشعار بطورِ خراجِ تحسین...* 💢

آج بھی  قافلۂ عشق رواں ہے  کہ جو تھا
وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا
-----
ہے ترے کشف و کرامات کی دنیا قائل
تجھ سے اے دل نہ مگر کام ہمارا نکلا
-----
*دیدار میں اک طرفہ دیدار نظر آیا*
*ہر  بار  چھپا  کوئی  ہر  بار  نظر   آیا*
-----
رفتہ رفتہ عشق کو تصویر غم کر ہی دیا
حسن بھی کتنا خراب گردشِ  ایّام تھا
-----
*طور  تھا  کعبہ  تھا  دل تھا  جلوہ  زار یار تھا*
*عشق سب کچھ تھا  مگر پھر عالمِ اسرار  تھا*
-----
*حسن کافر سے کسی کی نہ گئی پیش فراقؔ*
*شکوہ  یاروں  کا  نہ  شکرانۂ  اغیار چلا*
-----
تری  نگاہ  کی  صبحیں  نگاہ  کی   شامیں
حریمِ راز یہ دنیا جہاں نہ دن ہیں نہ رات
-----
*پھر  وہی  رنگِ تکلّم  نگۂ  ناز  میں ہے*
*وہی انداز وہی حُسنِ بیاں ہے کہ جو تھا*
-----
ہر  جنبشِ  نگاہ  میں  صد  کیف   بے  خودی
بھرتی پھرے گی حسن کی نیت کہاں کہاں
-----
*نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا*
*حجاب اہل محبت کو آئے ہیں کیا کیا*
-----
چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں
نگاہ   نرگسِ   رعنا   ترا   جواب     نہیں
-----
*شامِ غم کچھ  اس نگاہِ ناز کی باتیں کرو*
*بے خودی بڑھتی چلی ہے راز کی باتیں کرو*
-----
کیوں انتہائے ہوش کو کہتے ہیں بے خودی
خورشید ہی کی آخری منزل تو رات ہے
-----
شریک شرم و حیا کچھ ہے بد گمانی‌ٔ حسن
نظر اٹھا یہ جھجک سی نکل تو سکتی ہے
-----
*کوئی  پیغامِ  محبت  لبِ  اعجاز    تو   دے*
*موت کی آنکھ بھی کھل جائے گی آواز تو دے*
-----
*مجھ کو تو غم نے فرصتِ غم بھی نہ دی فراقؔ*
*دے  فرصتِ  حیات  نہ  جیسے   غمِ  حیات

     🔰  *فراقؔ  گورکھپوری*  🔰

        *انتخاب : اعجاز زیڈ ایچ*

🌺🌺

Saturday, July 20, 2013

دنیا کا تبدیل ہوتا ہوا منظر نامہ

دنیا کا تبدیل ہوتا ہوا منظر نامہ
        اٹھارہویں صدی کے سائنسی انقلاب اور لادینی نظریات کے وجود کے بعد اربوں کھربوں ڈالر اور سرمائے کی طاقت سے اشتراکیت ،آمریت ،کمیونزم،کپیٹلزاور لبرل جمہوریت کو وجود میں لایا گیا تاکہ بیسویں صدی میں خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد ایک بار پھر اسلامی طرز سیاست اور خلافت کو غالب آنے سے روکا جاسکے ۔مگر جس طرح آندھی اور طوفان کی طرح یہ جدید لبرل اور لادینی سیاست اپنے وجود میں آئی اسی رفتار سے فنا کی دہلیز پر قدم رکھ چکی ہے اور اکیسویں صدی میں ایک بار پھر پاکستان سے لیکر افغانستان ایران ترکی مصر اور شام میں تحریکات اسلامی کے عروج سے اسی طرح خوفزدہ ہے جیسے روئے زمین پر جبرئیل کا نزول ہونے والا ہو یا شیطان کرہ ارض پر کسی نبی اور رسول کی آمد سے لرزہ بر اندام ہو جایا کرتا تھا ۔
        ہو سکتا ہے یہ کسی دیوانے کی بکواس ہو مگر تاریخ پر نظر دوڑائیے اور دیکھئے کہ اٹھارہویں صدی جدید ٹکنالوجی ،لادینی نظریات اور جدید طرز سیاست کے عروج کا دور ضررور تھا مگر صالحیت اور دین و مذہب کے خاتمہ کا نہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ بیسویں صدی کے خاتمے سے پہلے اور نوے کی دہائی میں ہی اشتراکیت ،کمیونزاور سوشلزم کے ان سارے بتوں کو منہدم کرنے کیلئے کسی حضرت ابراہیم  کو آنے کی ضرورت نہیں پڑی بلکہ وقت کے آزروں نے خود اپنے ہاتھوں سے ان مجسموں کو تہس نہس کردیا ۔اور امریکہ جس کارپوریٹ جمہوری نظام کی کامیابی کے بعد پوری دنیا میں یکساں طور پر نیو ورلڈ آرڈر کو نافذ کرنے کی بات کررہا تھا 2001 یعنی 9/11 کے بعد بیسویں صدی کے خاتمے اور اکیسویں صدی کے آغاز میں خود اس چرچہ کا موضوع بن گیا ہے کہ کیا یہ امپائر خود اپنے پیروں پر کھڑا رہ پائے گا ؟001 میں جس تیزی کے ساتھ وہ افغانستان میں داخل ہوا تھا القاعدہ اور طالبان کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا اور اسی رو میں عراق پر چڑھائی کی صدام حسین کو پھانسی پر چڑھادیا ،ایسا لگ رہا تھا کہ دنیا سے تحریکات اسلامی ،اسلام اور بیباک مسلم قیادت کا خاتمہ ہو جائے گا ،مگر کیا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکا ؟دنیا دیکھ رہی ہے کہ قطر میں وہ
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP