دنیا
کا تبدیل ہوتا ہوا منظر نامہ
اٹھارہویں صدی کے سائنسی انقلاب اور لادینی
نظریات کے وجود کے بعد اربوں کھربوں ڈالر اور سرمائے کی طاقت سے اشتراکیت ،آمریت ،کمیونزم،کپیٹلزاور
لبرل جمہوریت کو وجود میں لایا گیا تاکہ بیسویں صدی میں خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد
ایک بار پھر اسلامی طرز سیاست اور خلافت کو غالب آنے سے روکا جاسکے ۔مگر جس طرح آندھی
اور طوفان کی طرح یہ جدید لبرل اور لادینی سیاست اپنے وجود میں آئی اسی رفتار سے فنا
کی دہلیز پر قدم رکھ چکی ہے اور اکیسویں صدی میں ایک بار پھر پاکستان سے لیکر افغانستان
ایران ترکی مصر اور شام میں تحریکات اسلامی کے عروج سے اسی طرح خوفزدہ ہے جیسے روئے
زمین پر جبرئیل کا نزول ہونے والا ہو یا شیطان کرہ ارض پر کسی نبی اور رسول کی آمد
سے لرزہ بر اندام ہو جایا کرتا تھا ۔
ہو سکتا ہے یہ کسی
دیوانے کی بکواس ہو مگر تاریخ پر نظر دوڑائیے اور دیکھئے کہ اٹھارہویں صدی جدید ٹکنالوجی
،لادینی نظریات اور جدید طرز سیاست کے عروج کا دور ضررور تھا مگر صالحیت اور دین و
مذہب کے خاتمہ کا نہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ بیسویں صدی کے خاتمے سے پہلے اور نوے کی
دہائی میں ہی اشتراکیت ،کمیونزاور سوشلزم کے ان سارے بتوں کو منہدم کرنے کیلئے کسی
حضرت ابراہیم کو آنے کی ضرورت نہیں پڑی بلکہ
وقت کے آزروں نے خود اپنے ہاتھوں سے ان مجسموں کو تہس نہس کردیا ۔اور امریکہ جس کارپوریٹ
جمہوری نظام کی کامیابی کے بعد پوری دنیا میں یکساں طور پر نیو ورلڈ آرڈر کو نافذ کرنے
کی بات کررہا تھا 2001 یعنی 9/11 کے بعد بیسویں صدی کے خاتمے اور اکیسویں صدی کے آغاز
میں خود اس چرچہ کا موضوع بن گیا ہے کہ کیا یہ امپائر خود اپنے پیروں پر کھڑا رہ پائے
گا ؟001 میں جس تیزی کے ساتھ وہ افغانستان میں داخل ہوا تھا القاعدہ اور طالبان کو
ختم کرنے کا دعویٰ کیا اور اسی رو میں عراق پر چڑھائی کی صدام حسین کو پھانسی پر چڑھادیا
،ایسا لگ رہا تھا کہ دنیا سے تحریکات اسلامی ،اسلام اور بیباک مسلم قیادت کا خاتمہ
ہو جائے گا ،مگر کیا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکا ؟دنیا دیکھ رہی ہے کہ قطر میں
وہ