You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Thursday, May 26, 2016

ساغر صدیقی

ساغر صدیقی اردو شاعری کا ایک معتبر اور قدآور نام
ساغر صدیقی1928ءانبالہ بھارت میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنا بچپن سہارنپور اور انبالہ میں گزرا ۔ساغر صدیقی کا اصل نام محمداختر شاہ تھا اور وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے ۔​
ساغر صدیقی نے ایک مرتبہ کہا تھا:​
"میری ماں دلی کی تھی، باپ پٹیالے کا، پیدا امرتسر میں ہوا، زندگی لاہور میں گزاری! میں بھی عجیب چوں چوں کا مربّہ ہوں"
اس قول میں صرف ایک معمولی غلطی کے سوا اور سب سچ ہے۔"
ساغر کو اپنے اکلوتے ہونے کا بھی بہت رنج تھا، وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ
"میں نے دنیا میں خداوندِ رحیم و کریم سے بہن بھائی کا عطیہ بھی نہیں پایا۔ یہ معلوم نہیں کہ خدا کو اِس تنہائی سے یگانہ بنانا مقصود تھا یا بیگانہ؟ بہر حال شاید میری تسکینِ قلبی کے لئے کسی کا نام بھائی رکھ دیا گیا ہوجو سراسر غلط ہے۔ دنیا کی چھ سمتوں پہ نظر رکھنے والے صاحبِ فراست لاہور کی سڑکوں پر مجھے جب چاہیں ٹوٹا ہوا بازو کالی چادر میں چھپائے، احساس کے الٹے پاؤں سے چلتا پھرتا دیکھ سکتے ہیں۔اگر کوئی بہن بھائی ہوتا تو یہ حال نہ ہوتا۔"​
ساغر کا بچپن انتہائی نا مساعد حالات میں گزرا۔ ساغر نے حبیب حسن خاں سے گھر پہ ہی اردو زبان کی تعلیم حاصل کی۔ اسی دور میں ساغر میں شاعری کا جذبہ پروان چڑھا جس نے محمد اختر شاہ کو ساغر صدیقی بنا دیا۔ ساغر نے ابتدا میں ناصر حجازی تخلص رکھا تھا مگر بعد میں ساغر صدیقی رکھ لیا۔ ساغر نے کلام پر اصلاح لینے کے لیے لطیف انور گورداسپوری مرحوم کا انتخاب کیا اور ان سے بہت فیض اٹھایا۔ساغر نے امرتسر میں کنگھیاں بنانے کا کام بھی کیا۔​
ساغر کی اصل شہرت 1944ء میں ہوئی۔ اس سال امرتسر میں ایک بڑے پیمانے پر مشاعرہ قرار پایا۔ اس میں شرکت کے لیے لاہور کے بعض شاعر بھی مدعو تھے۔ ان میں ایک صاحب کو معلوم ہوا کہ یہ "لڑکا" (ساغر صدیقی) بھی شعر کہتا ہے۔ انہوں نے منتظمین سے کہہ کر اسے مشاعرے میں پڑھنے کا موقع دلوا دیا۔ ساغر کی آواز میں بلا کا سوز تھا اور وہ ترنم میں پڑھنے میں جواب نہیں رکھتا تھا۔ بس پھر کیا تھا، اس شب اس نے صحیح معنوں میں مشاعرہ لوٹ لیا۔​
1947ء میں پاکستان بنا تو وہ امرتسر سے لاہور چلا گیا۔ یہاں دوستوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اس کا کلام مختلف پرچوں میں چھپنے لگا۔ سینما فلم بنانے والوں نے اسے گیتوں کی فرمائش کی اور اسے حیرت ناک کامیابی ہوئی۔ اس دور کی متعدد فلموں کے گیت ساغر کے لکھے ہوئے ہیں۔ اس زمانے میں اس کے سب سے بڑے سرپرست انور کمال پاشا (ابن حکیم احمد شجاع مرحوم) تھے۔ جو پاکستان میں فلم سازی کی صنعت کے بانیوں میں ہیں۔ انہوں نے اپنی بیشتر فلموں کے گانے ساغر سے لکھوائے اور یہ بہت مقبول ہوئے۔ساغر نے لکھا تھا کہ​
"تقسیم کے بعدصرف شعر لکھتا ہوں، شعر پڑھتا ہوں، شعر کھاتا ہوں، شعر پیتا ہوں۔"​
ساغر کی شاعری کے سلسلے میں ایک واقعہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ:​
لائل پور کاٹن مل میں ملک گیر طرحی مشاعرہ ہوتا تھا۔ 1958ء میں جگر مراد آبادی کی صدارت میں مشاعرہ ہوا۔ مصرع طرح تھا​
سجدہ گاہ عاشقاں پر نقش پا ہوتا نہیں​
مختلف شعراء کے بعد ساغر صدیقی نے اپنی یہ غزل سنائی​
ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں​

ورنہ ان تاروں بھری راتوں میں کیا ہوتا نہیں​
جی میں آتا ہے الٹ دیں انکے چہرے سے نقاب​
حوصلہ کرتے ہیں لیکن حوصلہ ہوتا نہیں​
شمع جس کی آبرو پر جان دے دے جھوم کر​
وہ پتنگا جل تو جاتا ہے فنا ہوتا نہیں​
اب تو مدت سے رہ و رسمِ نظارہ بند ہے​
اب تو ان کا طُور پر بھی سامنا ہوتا نہیں​
ہر شناور کو نہیں ملتا تلاطم سے خراج​
ہر سفینے کا محافظ ناخدا ہوتا نہیں​
ہر بھکاری پا نہیں سکتا مقامِ خواجگی​
ہر کس و ناکس کو تیرا غم عطا ہوتا نہیں​
ہائے یہ بیگانگی اپنی نہیں مجھ کو خبر​
ہائے یہ عالم کہ تُو دل سے جُدا ہوتا نہیں
بارہا دیکھا ہے ساغرؔ رہگذارِ عشق میں
کارواں کے ساتھ اکثر رہنما ہوتا نہیں​
یہ غزل سن کر جگر جھوم اٹھے اور حاضرین محفل نے خوب داد دی ۔ جگر مرادآبادی نے اپنی باری آنے پر کہا کہ میری غزل کی ضرورت نہیں حاصل مشاعرہ غزل ہو چکی اور اپنی غزل کو اسیٹج پر ہی پھاڑ دیا۔​
ساغر صدیقی نے ہفت روزہ "تصویر" کی ادارت بھی کی۔ ایک اور واقعہ جو وکیپیڈیا سے لیا گیا ہے، پڑھنے اور ساغر کوخراجِ تحسین پیش کرنے کے قابل ہے۔​
اکتوبر 1958ء میں پاکستان میں فوجی انقلاب میں محمد ایوب بر سر اقتدار آگئے اور تمام سیاسی پارٹیاں اور سیاست داں جن کی باہمی چپقلش اور رسہ کشی سے عوام تنگ آ چکے تھے۔ حرف غلط کی طرح فراموش کر دیے گئے۔ لوگ اس تبدیلی پر واقعی خوش تھے۔ ساغر نے اسی جذبے کا اظہار ایک نظم میں کیا ہے، اس میں ایک مصرع تھا:​
کیا ہے صبر جو ہم نے، ہمیں ایوب ملا​
یہ نظم جرنیل محمد ایوب کی نظر سے گزری یا گزاری گئی۔ اس کے بعد جب وہ لاہور آئے تو انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ میں اس شاعر سے ملنا چاہتا ہوں جس نے یہ نظم لکھی تھی۔ اب کیا تھا! پولیس اور خفیہ پولیس اور نوکر شاہی کا پورا عملہ حرکت میں آگیا اور ساغر کی تلاش ہونے لگی۔ لیکن صبح سے شام تک کی پوری کوشش کے باوجود وہ ہاتھ ‍ نہ لگا۔ اس کا کوئی ٹھور ٹھکانہ تو تھا نہیں، جہاں سے وہ اسے پکڑ لاتے۔ پوچھ‍ گچھ‍ کرتے کرتے سر شام پولیس نے اسے پان والے کی دوکان کے سامنے کھڑے دیکھ‍ لیا۔ وہ پان والے سے کہہ رہا تھا کہ پان میں قوام ذرا زیادہ ڈالنا۔ پولیس افسر کی باچھیں کھل گئیں کہ شکر ہے ظلّ سبحانی کے حکم کی تعمیل ہو گئی۔ انہوں نے قریب جا کر ساغر سے کہا کہ آپ کو حضور صدر مملکت نے یاد فرمایا ہے۔ ساغر نے کہا:​
بابا ہم فقیروں کا صدر سے کیا کام! افسر نے اصرار کیا، ساغر نے انکار کی رٹ نہ چھوڑی۔ افسر بے چارا پریشان کرے تو کیا کیونکہ وہ ساغر کو گرفتار کرکے تو لے نہیں جا سکتا تھا کہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا تھا اور اسے کوئی ایسی ہدایت بھی نہیں ملی تھی، جرنیل صاحب تو محض اس سے ملنے کے خواہشمند تھے اور ادھر یہ "پگلا شاعر" یہ عزت افزائی قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔ اب افسر نے جو مسلسل خوشامد سے کام لیا، تو ساغر نے زچ ہو کر اس سے کہا:​
ارے صاحب، مجھے گورنر ہاؤس میں جانے کی ضرورت نہیں۔ وہ مجھے کیا دیں گے۔ دو سو چار سو، فقیروں کی قیمت اس سے زیادہ ہے۔ جب وہ اس پر بھی نہ ٹلا تو ساغر نے گلوری کلے میں دبائی اور زمین پر پڑی سگرٹ کی خالی ڈبیہ اٹھا کر اسے کھولا۔ جس سے اس کا اندر کا حصہ نمایاں ہو گیا۔ اتنے میں یہ تماشا دیکھنے کو ارد گرد خاصی بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔ ساغر نے کسی سے قلم مانگا اور اس کاغذ کے ٹکڑے پر یہ شعر لکھا:​
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس دور کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
(ساغر صدیقی بقلم خود)​
اور وہ پولیس افسر کی طرف بڑھا کر کہا:​
یہ صدر صاحب کو دے دینا، وہ سمجھ جائیں گے اور اپنی راہ چلا گیا۔​

Wednesday, May 25, 2016

شاھین بنو

ایک شاہین کا انڈا ایک مرغی کے نیچے رکھ دکیا گیا ۔جب شاہین پیدا ہوا تو دوسرے چوزوں کو دیکھ کر وہ اپنے آپ کو بھی چوزہ سمجھنے لگا۔ دوسرے چوزے جو کچھ کرتے، وہ بھی وہی کرتا۔ وہ انہی کی طرح کچرے کو کرید کر دانہ ڈھونڈتا اور انہی کی طرح آوازیں نکالتا وہ چند فٹ سے زیادہ نہیں اڑتا تھا۔
ایک دن اس نے آسمان پر شاہین کو اڑتے دیکھا تو اس نے اپنے ساتھ والے چوزوں سے پوچھا ، اس خوبصورت پرندے کا نام کیا ہے؟
چوزوں نے کہا کہ "یہ شاہین ہے۔ یہ ایک نادر پرندہ ہے۔ تم اسکی طرح نہیں اڑ سکتے کیوں کےتم چوزے ھو۔" اس نے دوسرے چوزوں کے کہے کو سچ مان لیا -
آپ اسلام کے داعی ہو !
آپ دنیا کو کچھ دینے آئے ہو !
اپنے مقام کو نہ بھولو !


شاہین کے بچے نے اس بات پر غور ہی نہیں کیا کے وہ چوزہ ہے یا نہیں۔اس نے ایک چوزے سی زندگی گزاری اور مر گیا۔۔۔
یوں اس نے اپنے آپ کو اس بلند پرواز سے روکے رکھا اور اپنے اس عظیم الشان ورثہ سے محروم رہ گیا جو اسےشاہین کی زندگی کی صورت میں ملتا -
کتنا بڑا نقصان ھے کے وہ اونچی اڑان کےلئےپیدا ہوا تھا ، فتح کرنے کے لئے پیدا ہوا تھا لیکن اس کے ذہن میں ڈالا گیا کے وہ ہارنے کے لئے پیدا ہوا ہے۔
بیشتر لوگوں پر یہ مثال صادق اتی ہے۔
اگر شاہین کی طرح اونچی پرواز کرنا چاھتے ہو تو شاہین کی طور طریقے سیکھنے ہونگے ۔
اگر آپ لینے والے لوگوں سے تعلق رکھوگے تو خود بھی لینے والے بن جاؤگے ۔اگر آپ دینے والوں سے تعلق رکھو گے تو خود بھی دینے والے بن جاؤگے-
یاد رکھئے ۔۔۔۔
منفی ( Negative ) لوگوں کو موقع نہ دو کے وہ آپکو نیچے گھسیٹ لیں ۔۔۔۔۔۔ !!!

داغ دہلوی کایوم پیدائش

 آج کے دن 
داغؔ دہلوی کا یومِ پیدائش
May 25, 1831
والد کا نام شمس الدین خاں تھا. جو فیروز پور جھتکہ کے رئیس اور احمد بخش خاں کے بیٹے تھے، یہ خاندان دہلی کا مشہور و معروف خاندان تھا، غالب کے خسر الٰہی بخش انہیں شمس الدین خاں کے چچا اور امین الدین خاں و ضیاءالدین خاں نیرورخشاں ان کے چھوٹے بھائی تھے.
آپ کے والد شمس الدین خاں نے اپنے ملازم کریم خاں سے ولیم فریزر کو قتل کرادیا اور اسی الزام میں انگریزوں نے ان پر سرسری مقدمہ چلا کر 3، اکتوبر 1838ء کو کشمیری دروازے کے قریب فوج کی نگرانی میں پھانسی دے دی اور ان کے سوتیلے بھائیوں نے فیروز پور جھرکہ اور ان کی ساری جائیداد پہ قبضہ کر لیا.
والد کے انتقال کے بعد آپ کی والدہ نے آپ کو اپنی بڑی بہن عمدہ خانم کے پاس رام پور بھیج دیا. رام پور پہنچ کر داغ نے مولوی غیاث الدین (صاحبِ غیاث اللغات) سے فارسی پڑھنی شروع کی. جب داغ کی والدہ نے مرزا فخرو خلف بہادر شاہ ظفر و ولی عہد سے نکاح کر لیا اور قلعہ معلی میں پہنچ گئیں تو انہوں نے داغ کو بھی اپنے پاس بلا لیا.
یہاں آپ کو مولوی سید احمد ابن میر غلام حسین شکیبا نے درسی کتابیں پڑھائیں اور سید امیر پنجہ کس نے خطاطی سکھائی.
اردو زبان نے جب دنیا میں آنکھ کھولی تو قطب شاہ نے اسے گودوں کھلایا پھر ولی، میر و سودا، غالب و مومن اور ذوق جیسے نامور شعراء نے اسے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا.. مانا کہ مذکورہ بالا سبھی حضرات نے اردو کو ہنسنا، بولنا، سکھایا. پھر 25 مئی 1831ء کو پیدا ہونے والی ہستی نے اس زبان کو نا صرف گودوں کھلایا، بلکہ اسے اپنے قدم مضبوط کرنے میں مدد دی. اردو ان کا عشق تھا، جبھی وہ کہتے ہیں..
** اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے.
" داغ کی اردو اتنی عمدہ ہے کہ کسی کی کیا ہوگی!ذوق نے اردو کواپنی گو دمیں پالا تھا. داغ اس کو نہ صرف پال رہا ہے بلکہ اس کو تعلیم بھی دے رہا ہے."
داغ چھ برس کے تھے جب والد محترم کا سایہ سر پر سے اٹھا گیا. آپ کی والدہ نے بہادر شاہ ظفر کے پوتے مرزا فخرو سے شادی کی، تو داغ دہلوی کو بہادر شاہ ظفر اور ابراہیم ذوق جیسی ہستیوں کی صحبت نصیب ہوئی. جس اردو کو ذوق نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا اسی کو داغ نے اپنے قدموں پہ دوڑنا سکھایا. داغ کی اردو سنوارنے میں ذوق کا بڑا حصہ ہے. غالب نے داغ کے بارے میں جو کہا وہ آپ نے پڑھ لیا، اب دیگر قدردان کیا کہہ گئے، آئیے پڑھتے ہیں:
"خاص کر داغ نے غزل کی زبان میں نہایت وسعت اور صفائی اور بانکپن پیدا کر دیا ہے." حالی.
امیر مینائی کہتے ہیں:
"میرے سامنے جو داغ کو برا کہتا ہے میرا جی چاہتا ہے کہ میں اس کا منہ نوچ لوں. ایسا مطلع کون کہہ سکتا ہے، کوئی کہہ کر تو دکھائے."
** خار حسرت بیان سے نکلا.
دل کا کانٹا زبان سے نکلا.
اور مولانا عبدالسلام ندوی کچھ یوں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں:
"نواب مرزا داغ جیسا برجستہ گو شاعر پیدا ہوا جس کی ذات پر اردو شاعری کے آخری دور میں دل کو ناز تھا."
مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے
سنتا ہوں اب کہ روز طلب قصہ خواں کی ہے
میری زباں کی ہے نہ تمہاری زباں کی ہے
آج مقبول ترین شاعر داغؔ دہلوی کا یومِ پیدائش.
داغ دہلوی 12،ذی الحجہ 1246 ہجری مطابق 25، مئی 1831ء کو چہار شنبہ کے روز دن کے دو بجے چاندنی چوک دہلی میں پیدا ہوئے نام نواب مرزا خان تھا اور داغ تخلص استعمال کرتے.
یہاں ذکر ہے "نواب مرزا خان داغ دہلوی" جنہوں نے اردو کو نیا رتبہ اور الگ مقام عطا کیا. وہیں ارود نے انہیں بھی بہت سے جگمگاتے ستاروں میں قطب ستارہ بنایا. مرزا غالب نے ان کے بارے میں یوں کہا:
منتخب کلام:
کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے
سن کر مرا فسانہ انہیں لطف آگیا
پیغامبر کی بات پر آپس میں رنج کیا
کچھ تازگی ہو لذتِ آزار کے لئے
ہر دم مجھے تلاش نئے آسماں کی ہے
جانبر بھی ہوگئے ہیں بہت مجھ سے نیم جان
کیا غم ہے اے طبیب جو پوری وہاں کی ہے
حسرت برس رہی ہے ہمارے مزار پر
کہتے ہیں سب یہ قبر کسی نوجواں کی ہے
وقتِ خرامِ ناز دکھا دو جدا جدا
یہ چال حشر کی یہ روش آسماں کی ہے
فرصت کہاں کہ ہم سے کسی وقت تو ملے
دن غیر کا ہے رات ترے پاسباں کی ہے
قاصد کی گفتگو سے تسلی ہو کس طرح
چھپتی نہیں وہ بات جو تیری زباں کی ہے
جورِ رقیب و ظلمِ فلک کا نہیں خیال
تشویش ایک خاطرِ نامہرباں کی ہے
سن کر مرا فسانہء غم اس نے یہ کہا
ہوجائے جھوٹ سچ یہی خوبی بیاں کی ہے
دامن سنبھال باندھ کمر آستیں چڑھا
خنجر نکال دل میں اگر امتحاں کی ہے
ہر ہر نفس میں دل سے نکلنے لگا غبار
کیا جانے گردِ راہ یہ کس کارواں کی ہے
کیونکر نہ آتے خلد سے آدم زمین پر
موزوں وہیں وہ خوب ہے جو سنتے جہاں کی ہے
تقدیر سے یہ پوچھ رہا ہوں کہ عشق میں
تدبیر کوئی بھی ستمِ ناگہاں کی ہے
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
..........( پیشکش :   ایچ )...........

Sunday, May 22, 2016

فضیلت شب برات

شب برات کی حقیقت اور فضیلت
مفتی تقی عثمانی صاحب دام اقبالہ [ماخوذ از : ماہنامہ البلاغ اگست 2010ئ]
شب ِ برات کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں جن میں نبی کریم ﷺ نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی، ان میں سے بعض احادیث سند کے اعتبار سے بیشک کچھ کمزور ہیں اور ان احادیث کے کمزور ہونے کی وجہ سے بعض علماءنے یہ کہہ دیا کہ اس رات کی فضیلت بے اصل ہے، لیکن حضرات محدثین اور فقہاءکا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو لیکن اس کی تایید بہت سی احادیث سے ہوجائے تو اسکی کمزوری دور ہوجاتی ہے، اور جیساکہ میں نے عرض کیا کہ دس صحابہ کرام سے اسکی فضیلت میں روایات موجود ہیں لہٰذا جس رات کی فضیلت میں دس صحابہ کرام سے روایات مروی ہوں اس کو بے بنیاد اور بے اصل کہنا بہت غلط ہے۔
شب برات میں عبادت :۔
امت مسلمہ کے جو خیرالقرون ہیں یعنی صحابہ کرام کا دور ، تابعین کا دور، تبع تابعین کادور، اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے،لوگ اس رات میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے رہے ہیں، لہٰذا اس کو بدعت کہنا، یا بے بنیاد اور بے اصل کہنا درست نہیں ، صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے، اس رات میں عبادت کرنا باعث ِ اجر و ثواب ہے اور اسکی خصوصی اہمیت ہے۔
البتہ یہ بات درست ہے کہ اس رات میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کہ فلاں طریقے سے عبادت کی جائے ، جیسے بعض لوگوں نے اپنی طرف سے ایک طریقہ گھڑ کر یہ کہہ دیا کہ شب ِ برات میں اس خاص طریقے سے نماز پڑھی جاتی ہے ، مثلاََ پہلی رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے، دوسری رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے وغیرہ وغیرہ، اسکا کوئی ثبوت نہیں، یہ بالکل بے بنیاد بات ہے، بلکہ نفلی عبادت جس قدر ہوسکے وہ اس رات میں انجام دی جائے، نفل نماز پڑھیں ، قرآن کریم کی تلاوت کریں ، ذکرکریں ، تسبیح پڑھیں ، دعائیں کریں ، یہ ساری عبادتیں اس رات میں کی جاسکتی ہیں لیکن کوئی خاص طریقہ ثابت نہیں۔
اس رات میں ایک اور عمل ہے جو ایک روایت سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ جنت البقیع میں تشریف لے گئے، اب چونکہ حضور ﷺ اس رات میں جنت البقیع میں تشریف لے گئے اس لئے مسلمان اس بات کا اہتمام کرنے لگے کہ شبِ برات میں قبرستان جائیں ، لیکن میرے والد ماجد حضرت مفتی محمد شفیع صاحب قدس اللہ سرہ ایک بڑی کام کی بات بیان فرمایا کرتے تھے، جو ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے، فرماتے تھے کہ جو چیز رسول کریم ﷺ سے جس درجہ میں ثابت ہو اسی درجے میں اسے رکھنا چاہئے، اس سے آگے نہیں بڑھنا چاہئے، لہٰذا ساری حیاتِ طیبہ میں رسول کریمﷺ سے ایک مرتبہ جانا مروی ہے، کہ آپ شبِ برات میں جنت البقیع تشریف لے گئے ، چونکہ ایک مرتبہ جانا مروی ہے اس لئے تم بھی اگر زندگی میں ایک مرتبہ چلے جاو تو ٹھیک ہے ، لیکن ہر شب برات میں جانے کا اہتمام کرنا،التزام کرنا، اور اسکو ضروری سمجھنا اور اسکو شب برات کے ارکان میں داخل کرنا اور اسکو شب برات کا لازمی حصہ سمجھنا اور اسکے بغیر یہ سمجھنا کہ شب برات نہیں ہوئی ، یہ اسکو اسکے درجے سے آگے بڑھانے والی بات ہے۔
ایک مسئلہ شب برات کے بعد والے دن یعنی پندرہ شعبان کے روزے کاہے، اسکو بھی سمجھ لینا چاہئے، وہ یہ کہ سارے ذخیرہ حدیث میں اس روزہ کے بارے میں صرف ایک روایت میں ہے کہ شب برات کے بعد والے دن روزہ رکھولیکن یہ روایت ضعیف ہے لہٰذا اس روایت کی وجہ سے خاص پندرہ شعبان کے روزے کو سنت یا مستحب قرار دینا بعض علماءکے نزدیک درست نہیں البتہ پورے شعبان کے مہینے میں روزہ رکھنے کی فضیلت ثابت ہے لیکن 28اور29 شعبان کو حضور ﷺ نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، کہ رمضان سے ایک دو روز پہلے روزہ مت رکھو، تاکہ رمضان کے روزوں کےلئے انسان نشاط کے ساتھ تیا ر رہے۔
شب برات میں مسجدوں جمع ہو کر تقریر بازی کرنا یا سڑکوں پر جمع ہونا یہ خلاف سنت عمل ہے کسی صحابی سے اس رات میں جمع ہونا ثابت نہیں ہے کیونکہ یہ ایک نفلی عبادت ہے نفلی عبادت ہمیشہ مخفی ہونا چاہیے جیسا کہ بعض روایات میں ملتا ہے .


شب برات کی فضیلت کی حقیقت :۔
عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں :۔
شبِ برات میں قبرستان جانا:۔
15 شعبان کا روزہ:۔
شب برات میں مسجدوں میں جمع ہو کر عبادت کرنا ۔
والله أعلم

Saturday, May 14, 2016

🌼 آج کے دن 🌼 سبط علی صبا کی وفات May 14, 1980 اردو کے خوش گو شاعر سبط علی صباؔ 11 نومبر 1935ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1953ء سے 1960ء تک وہ پاکستان کی بری فوج کے ساتھ وابستہ رہے اور پھر پاکستان آرڈیننس فیکٹری، واہ سے منسلک ہوئے۔ سبط علی صباؔ نے صرف 44 برس عمر پائی۔ ان کا مجموعہ کلام جس کا نام انہوں نے خود ابرسنگ تجویز کیا تھا ان کی وفات کے بعد ان کے احباب نے طشت مراد کے نام سے شائع کیا۔ سبط علی صبا کی کلیات ابر سنگ کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے سبط علی صبا کا ایک شعر اردو ادب میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔ دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنالیے 14 مئی 1980ء کو سبط علی صباؔ واہ کینٹ میں وفات پاگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔ منتخب کلام : ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے دوشیزگانِ صبح نے چہرے چھپا لیے ہم نے تو اپنے جسم پہ زخموں کے آئنے ہر حادثے کی یاد سمجھ کر سجا لیے میزانِ عدل تیرا جھکاؤ ہے جس طرف اس سمت سے دلوں نے بڑے زخم کھا لیے دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے لوگوں کی چادروں پہ بناتی رہی وہ پھول پیوند اس نے اپنی قبا میں سجا لیے ہر حُرملہ کے دوش پہ ترکش کو دیکھ کر ماؤں نے اپنی گود میں بچّے چھپا لیے   سیّد سبطِ علی صبا ( پیشکش : شفیق جے ایچ )

🌼 آج کے دن 🌼

سبط علی صبا کی وفات
May 14, 1980

اردو کے خوش گو شاعر سبط علی صباؔ 11 نومبر 1935ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1953ء سے 1960ء تک وہ پاکستان کی بری فوج کے ساتھ وابستہ رہے اور پھر پاکستان آرڈیننس فیکٹری، واہ سے منسلک ہوئے۔
سبط علی صباؔ نے صرف 44 برس عمر پائی۔ ان کا مجموعہ کلام جس کا نام انہوں نے خود ابرسنگ تجویز کیا تھا ان کی وفات کے بعد ان کے احباب نے طشت مراد کے نام سے شائع کیا۔ سبط علی صبا کی کلیات ابر سنگ کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے
سبط علی صبا کا ایک شعر اردو ادب میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔

دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنالیے

14 مئی 1980ء کو سبط علی صباؔ واہ کینٹ میں وفات پاگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔

منتخب کلام :

ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے
دوشیزگانِ صبح نے چہرے چھپا لیے

ہم نے تو اپنے جسم پہ زخموں کے آئنے
ہر حادثے کی یاد سمجھ کر سجا لیے

میزانِ عدل تیرا جھکاؤ ہے جس طرف
اس سمت سے دلوں نے بڑے زخم کھا لیے

دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے

لوگوں کی چادروں پہ بناتی رہی وہ پھول
پیوند اس نے اپنی قبا میں سجا لیے

ہر حُرملہ کے دوش پہ ترکش کو دیکھ کر
ماؤں نے اپنی گود میں بچّے چھپا لیے

     سیّد سبطِ علی صبا

( پیشکش : شفیق جے ایچ )

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP