You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label urdu language. Show all posts
Showing posts with label urdu language. Show all posts

Saturday, May 14, 2016

🌼 آج کے دن 🌼 سبط علی صبا کی وفات May 14, 1980 اردو کے خوش گو شاعر سبط علی صباؔ 11 نومبر 1935ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1953ء سے 1960ء تک وہ پاکستان کی بری فوج کے ساتھ وابستہ رہے اور پھر پاکستان آرڈیننس فیکٹری، واہ سے منسلک ہوئے۔ سبط علی صباؔ نے صرف 44 برس عمر پائی۔ ان کا مجموعہ کلام جس کا نام انہوں نے خود ابرسنگ تجویز کیا تھا ان کی وفات کے بعد ان کے احباب نے طشت مراد کے نام سے شائع کیا۔ سبط علی صبا کی کلیات ابر سنگ کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے سبط علی صبا کا ایک شعر اردو ادب میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔ دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنالیے 14 مئی 1980ء کو سبط علی صباؔ واہ کینٹ میں وفات پاگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔ منتخب کلام : ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے دوشیزگانِ صبح نے چہرے چھپا لیے ہم نے تو اپنے جسم پہ زخموں کے آئنے ہر حادثے کی یاد سمجھ کر سجا لیے میزانِ عدل تیرا جھکاؤ ہے جس طرف اس سمت سے دلوں نے بڑے زخم کھا لیے دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے لوگوں کی چادروں پہ بناتی رہی وہ پھول پیوند اس نے اپنی قبا میں سجا لیے ہر حُرملہ کے دوش پہ ترکش کو دیکھ کر ماؤں نے اپنی گود میں بچّے چھپا لیے   سیّد سبطِ علی صبا ( پیشکش : شفیق جے ایچ )

🌼 آج کے دن 🌼

سبط علی صبا کی وفات
May 14, 1980

اردو کے خوش گو شاعر سبط علی صباؔ 11 نومبر 1935ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1953ء سے 1960ء تک وہ پاکستان کی بری فوج کے ساتھ وابستہ رہے اور پھر پاکستان آرڈیننس فیکٹری، واہ سے منسلک ہوئے۔
سبط علی صباؔ نے صرف 44 برس عمر پائی۔ ان کا مجموعہ کلام جس کا نام انہوں نے خود ابرسنگ تجویز کیا تھا ان کی وفات کے بعد ان کے احباب نے طشت مراد کے نام سے شائع کیا۔ سبط علی صبا کی کلیات ابر سنگ کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے
سبط علی صبا کا ایک شعر اردو ادب میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔

دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنالیے

14 مئی 1980ء کو سبط علی صباؔ واہ کینٹ میں وفات پاگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔

منتخب کلام :

ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے
دوشیزگانِ صبح نے چہرے چھپا لیے

ہم نے تو اپنے جسم پہ زخموں کے آئنے
ہر حادثے کی یاد سمجھ کر سجا لیے

میزانِ عدل تیرا جھکاؤ ہے جس طرف
اس سمت سے دلوں نے بڑے زخم کھا لیے

دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے

لوگوں کی چادروں پہ بناتی رہی وہ پھول
پیوند اس نے اپنی قبا میں سجا لیے

ہر حُرملہ کے دوش پہ ترکش کو دیکھ کر
ماؤں نے اپنی گود میں بچّے چھپا لیے

     سیّد سبطِ علی صبا

( پیشکش : شفیق جے ایچ )

Saturday, November 26, 2011

اردو کی کہانی اردو کی زبانیمیں اردو ہوں

میری داستانِ حیات اتنی طویل نہیں کہ اسکو پڑھنے یا سمجھنے میں کسی کو دیر لگے کیونکہ بڑی آزاد مزاج اور ملنسار واقع ہوئی ہوں، اس لئے جو مجھے اپنانا چاہتا ہے میں اس کی ہو جاتی ہوں، جو مجھے پناہ دیتا ہے میں اس سے محبت کرتی ہوں، جو مجھے پڑھتا ہے میں اس کو آگہی بخشتی ہوں، جو مجھے سمجھتا ہے میں اسے رازِ حیات بتاتی ہوں، میرا کہیں قیام نہیں، میری کو ئی حد نہیں، ہر قوم سے میری دوستی ہے، ہر ملّت سے میرا ناطہ ہے، ہر زبان سے میرا رشتہ ہے، انسانیت میرا مذہب ہے، مٹھاس میری شرست ہے، اتحاد میرا نعرہ ہے اوریگانگت میری کوشش ہے۔میرا دامن عربی کی طلاقت ،جامعیت اور قادر الکلامی سے ، فارسی کی شیرینی اور حلاوت سے ،ہندی کے پیار اور انسیت سے دکنی کی نغمگی سے ، پنجابی کے جوش اور ولولوں سے، ترکی کی وسیع القلبی سے اور انگریزی، فرانسیسی و اطا لوی زبانوں کی اصطلاحوں سے بھرا پڑا ہے-  میری طرف سے بے توجہی برتنے والے بھی میری توجہ کے محتاج رہتے ہیں، مجھ سے پیار کرنے والے میرے ہوکر رہ جاتے ہیں، میں جنگ کے میدانوں میں ترانہ بن کر گونجتی ہوں اور علم و ادب کی کی محفلوں میں گنگناتی ہوں، اجنتا اور الورا پر لکھے جانے والے گیتوں اور تاج محل پر لکھی جانے والی پاکیزہ نظموں کو میں نے جنم دیا ہے، آزادی کے متوالوں کو نعرے  دئے ہیںاور امن کے نقیبوں کو پروان چڑھایا ہے۔   حضرت امیر خسروؔ کو مجھ پر فخر تھا، ولیؔ دکنی میرے شریک ِ بزم تھے ، میر تقی میرؔ میرے مرہون منت، اور میر انیسؔ میرے عظیم مداحوں کی فہرست میں شامل ہیں، میں  برصغیر کی دھرتی کو سیراب کرنے والے دریاؤں کے کناروں  پر آباد شہروں اور بستیوں میں قرنوں سے پنپنے اور ان علاقوں سے نکل کر ہر سو پھیلنے والی عظیم برصغیر کی عظیم تر تہذیب و ثقافت کا پس منظر ہوں، اس لئے میں سارے برصغیر کو ایک ہی نظر سے دیکھتی ہوں، میں راجپوتوں کی شجاعت ، پٹھانوں کے عظمت اور مغلوں کی فراست و ثفاقت کی امین ہوں، پورا برصغیر ہر قسم کی حد بندیوں کے باوجود میرا وطن ہے اور میری نظر میں ایک ہے، کیونکہ میرا دستر خوان وسیع تر ہے اور سب کے لئے ہے۔میرؔ، غالبؔ، نظیرؔانیس ؔ،سرشارؔاور چکبستؔ سے لیکر، فراقؔ ،فیضؔ، ، شکیلؔ ، ساحرؔ، فرازؔ، مجروحؔ، خمارؔ، پھر حالی ؔاور ذکاہ اللہ سے کرشن چندر، راجندربیدی ِِ پطرس بخاری ،انتظار حسین اور شمس الرحمن فاروقی تک کون ہے جس کو میرے دستر خوان کا خوشہ چیں ہونے پر ناز نہیں؟ہندؤں کے شنکھوں، مسلمانوں کی اذانوں، سکھوں کی گربا نیوں اور مسیحوںکی عبادتوں کا گدازمیرے اندر جذب ہے، اگر ایک طرف مسلمان برصغیر میں اپنے اثاثوں کا واحد امین مجھے قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف ہند و مجھے اپنی سبھیتااور ثقا فت کے من موہ لینے والے کرداروں کا محافظ مانتے ہیں، ترکوں افغانوں اورمغلوں نے میری سرپرستی کی تو انگریزوں نے مجھے انتظامی امور کا ذریعہ بنایا ۔مجھے جاننے اور سمجھنے والے کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی انکی بولی ہو کوئی بھی انکی زبان ہوجب اپنے اپنے لہجوں میں مجھے بولتے ہیں تو میں انکی بولی میں گنگناتی ہوں انکے گیتوں میں گاتی ہوں اس لئے میرے ان گنت لہجے ہیں ، بنگالی لہجہ کی چاشنی، دکنی لہجہ کا رچاؤ، پنجابی لہجہ کی کھنک ،بلوچی اور سندھی لہجوں کی غنائیت،گجراتی اور مراٹھی لہجوں کی شفا فیت اور ملیالم اورتامل لہجوں کی گونج میں مجھے اپنا ئیت کا احساس ہوتا ہے۔        جی ہاں میں اردو ہوں وہی اردو جسے دِلّی کے گلی کوچوں میں حضرت امیر خسرو نے پروان چڑھا یا،لکھنوء کی علمی و ادبی محفلوں میں جس نے ہوش سنبھالا، حیدر آباد کے ایوانوں میں ہر سو دیکھنے والی نظر پائی، عظیم آباد کلکتہ اور پنجاب کے ادب نوازوں نے  جسے آراستہ کیا اور لاہور کے چھا پہ خانوں اور کتب خانوں نے جسے دور دور تک پہنچا یا اور اب میرے چاہنے والے میری شمع فروزاں کو تھامے ہوئے یورپ و امریکہ کے شہروں کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ کی پھلتی پھولتی بستیوں اور آبادیوں تک جاپہنچے ہیں۔ میں سب کو ساتھ لئے چل رہی ہوں ، میں نے کسی کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑامیں سب کا دل رکھتی چلی آرہی ہوں، میں نے کبھی کسی کی وراثت پر حریصانہ نظر نہیں ڈالی بلکہ ہرایک کی اچھائی کو اپنے اندرجذب کیا ہے اوراس کو دوام بخشا ہے۔

محمد سلیمان دہلوی
                                بانی صدر انڈو قطر اردو مرکز(دوحہ دہلی) ۸۹۷۵، کوچہ رحمن، دہلی ۔

Friday, November 25, 2011

" جان کرمن جملہ خاصانہء میخانہ مجھے......مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے. "

آداب و تسلیماتآپ تمام  حضرات کا بے حد شکریہ جنہوں  نے لفظ "جان کاری"  پر بر محل تبصرہ فرمایا اور قارئین کرام کے علم میں اضافہ فرمایا. فی الحقیقت ایسی علمی بحث اردو زبان کی ترویج و ترسیل کے لئے بے حد ضروری ہے اور بحث معیاری ہو تو کیا کہنے.  
اول بات یہ کہ، اس بحث کا اختتام شاید اس نقطہ پر ہو سکتا ہے کہ جان کاری اور اس طرح کے دیگر  الفاظ عام بول چال میں بھلے استعمال ہوں یا نہ ہوں لیکن اسے ادب میں مستعمل کرنا اور خاص کر  اردو ترقی کے متعلق کام کرنے والے کسی ادارہ کے خط و کتابت میں پایا جانا معیوب بات ہے. ایسے الفاظ شاید اردو ادب کی  فصاحت اور سلاست سے میل نہیں کھاتے . ایسے ہزاروں الفاظ لغت میں موجود ہیں اور ہر دور میں مستعمل بھی رہے ہیں جبکہ انکے متبادل فصیح  الفاظ بھی موجود ہیں جو  ذو معنی بھی ہیں اور مفرد بھی . کسی صاحب لغت کی علمیت پر بحث کرنا انکی عمر بھر کی عرق ریزی سے انکار کرنا  ہے اور ہم جیسے کسی طالب علم کو یہ نا زیبا ہے .
دوم یہ کہ، محترم جناب اعجاز شاہین صاحب سے التماس ہے کہ وہ اردو لغت، الفاظ اور  صرف و نحو  پر اپنا سابقہ سلسلہ پھر سے جاری کریں.  ہم جیسے کئی طالب علم ہیں جو ان سے  استفادہ کرتے رہے ہیں.  ہاں اس بات کا اقرار  کرنا بھی ضروری ہے کہ ہم جیسے قارئین ایسی کسی کوششوں کی تعریف یا شکریہ تو کیا ادا کرتے کبھی ہمت افزائی تک نہیں کرتے.  آخرکار   ایسے سلسلے بند کر دیے جاتے ہیں.
سوم یہ کہ، محبان اردو کو یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ اردو کے کئی متخصص ہیں جنہوں نے فارسی،  عربی، سنسکرت زبانوں میں سے کسی ایک  زبان کو اردو  پر  مسلط  نہ کرنے  پر ہمیشہ زور دیا ہے،  تاکہ اردو زبان میں توازن برقرار رہے اور اردو کی اپنی انفرادیت ختم نہ ہو . معتبر اردو ادبا کا یہ بھی قول ہے کہ بول چال کی زبان اور محاورے اصل قواعد اور صرف ونحو پر بھاری رہے ہیں اور ادب نے اکثر و پیشتر اسے خوشدلی سے قبول کیا ہے۔ لیکن چلن اکثریت کے ساتھ ثابت ہونا ضروری ہے.
اردو زبان کی انفرادیت قائم رکھنے میں بہت سے عناصر کارفرما رہے ہیں جن میں مرکب الفاظ کی اپنی خاصیت ہے. زیادہ تر مرکب الفاظ کسی بھی دو  داخلی یا خارجی الفاظ سے ملکر بنے ہیں.  تبصرہ میں صحیح فرمایا گیا کہ لفظ "جان" ہندی، سنسکرت لفظ سے اخذ کیا گیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ "جن"  یا " گیان" دونوں سے اخذ کیا گیا ہو،  جس میں جن سے جان  بمعنی انسان کے  اور گیان سے جان  بمعنی سمجھ کے شاید لیا گیا ہو. اردو لغت میں جاننا اور جاننا بوجھنا، جان بوجھ کر وغیرہ  محاورے درج ہیں اور  بمعنی واقفیت کے لیے گئے ہیں. بعد میں بطور مترادف الفاظ  جیسے  جان پہچان یا جان بوجھ  جو سمجھ بوجھ  کا متبادل ہے رائج ہوئے ہونگے. اردو و فارسی کے شعرائے کرام جیسے غالب و  اقبال کے اشعار میں لفظ جان فارسی قواعد کے اضافی کے ساتھ بمعنی انسانی جان کے بھی مستعمل رہا ہے اس لئے یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لفظ فارسی زبان میں بھی مستعمل ہو یا اخذ کیا گیا ہو۔           
" لفظ کاری "کار" سے اخذ کیا گیا ہے جو فارسی زبان کا لفظ ہے. لفظ کار  امر ہے کاشتن کا. مصدر کاشتن کے معنی ہیں بونا یا کھیتی باڑی یا زراعت یا کسی قسم کا کام.  اسی طرح مرکب لفظ  "جان کار" رائج ہوا ہوگا. لغت میں جان کار اور جان کاری دونوں الفاظ درج کیے گئے ہیں.
جگر صاحب کے اس شعر سے لفظ جان کا بمعنی سمجھ کے  مستعمل ہونا ثابت  ہے.
"جان کر من جملہ خاصانہء میخانہ مجھے......مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے".
خاکسارزبیر

Tuesday, June 21, 2011

بی بی سی-- 70 ویں سالگرہ پر چند نایاب تصاویر







راشد اشرف
کراچی سے


Saturday, June 04, 2011

ابھی ہے اُدھر بھی ہے

از: حامد الانصاری انجم، سنت کبیر نگر یوپی، انڈیا
زوالِ اوج انسانی اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے
ضیاء حسن ایمانی اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے
کمال فتنہ سامانی اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے
قیامت کی پریشانی اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے
حماقت اور نادانی اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے
جہالت کی فروانی اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے

خزاں نے لوٹ لی ہے آبروئے گلشنِ ہستی
گلوں کی چاک دامانی اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے

عروسِ لالہ وگل پر نہیں پہلی سی شادابی
بہارِ نو کی ویرانی اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے

نرالے کارنامے دورِ حاضر کے نمایا ں ہیں
نگاہ و دل کی حیرانی اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے

نہ اخلاق و مروّت ہے محبت ہے نہ شفقت ہے
تغافل کی رجز خوانی اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے

خباثت ہو حماقت ہو فضیحت ہو رذالت ہو
انھی سب کی ثنا خوانی اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے

کبھی تحسین بت گر ہے کبھی تعریفِ فتنہ جو
غرض بیجا ثنا خوانی اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے

درِ اغیار ہو یا آستانِ یار ہو کچھ ہو
خمیدہ اپنی پیشانی اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے

محبت ہے نہ الفت ہے فقط اک اجنبیت ہے
ہر اک تصویر انجانی اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے

عداوت بغض و کینہ ہے حسدہے ،تر ش روئی ہے
دلوں کی تنگ دامانی اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے

نہیں ہے کوئی شئے محفوظ اے دل اس زمانے میں
ہر اک سو قتل انسانی اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے
یہی بس دیکھتا ہوں روز و شب صبح و مسا ہر جا
ستم گر کی ستم رانی اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے

نہ پوچھو نبضِ دوراں اور رفتار جہاں انجم
زمانے کی پریشانی اِدھر بھی ہے اُدھر بھی ہے

پیش کش : سلمان فیصل، نئی دہلی

Sunday, May 29, 2011

اردو پڑھنا ، لکھنا اور پھر بولنا

مکرمی ۔
بعد از سلام مسنون
آپ نے وہ ہی لکھا جوکہ میرے دل میں تھا ۔
اردو پڑھنا ، لکھنا اور پھر بولنا ، یہ تین شعبہ جات ہیں ، جس میں عام اردو بات چیت کرنے والے گھرانے اور خصوصاً ان کی اولاد اس المیہ سے دوچار ہیں کہ اردو سن لیتے ہیں ،بول لیتے ہیں مگر لکھ اور پڑھ نہیں سکتے
اس لے ایسے گھرانے اس نصف سے نا آشنا ہیں ، وہ نصف جو اردو ادب ہے ، جس کو بولا اورسنا نہیں جاتا ، بلکہ لکھا اور پڑھا جاتا ہے ۔
اور اگر اردو کو زندہ رکھنا ہے تو اردو ادب کو عام اردو داں طبقہ تک پہنچانا ہے ۔
میں چونکہ اردو و عربی پڑھتا پڑھاتا ہوں اس لے اس المیہ کو بخوبی جانتا ہوں ۔
بر صغیر ہندوستان میں یہ بات توہے ،بلکہ پاکستان میں بھی میرےے کی رشتدار ہیں جو اس المیہ سے گزر رہے ہیں ، حالانکہ وہاں اردو کا چلن عام ہے۔
مشرق وسطی میں عربی کا ماحول ہے تو دو فایدے ملے کہ عربی بھی آگی نیز اردو رسم الخظ سے بھی واقف ہوگے۔ بلکہ ایسے بہت سارے ہیں جنہوں نے اردو نہ سکول و کالج میں پڑھی بلکہ عرب ماحول نے انہیں اردو و عربی بولنا ، لکھنا و پڑھنا سکھا دیا ۔
والسلام
خیر اندیش سعداللہ


اُردو زباں



از: حامد الانصاری انجم، سنت کبیر نگر، یوپی، ہندوستان

مرزبوم اس کا ہے ملک ہندوستاں
عہدِ تخلیق ہے عہدِ شا ہِ جہاں
جانِ اہل زباں اسِ کا حسنِ بیاں
اس کی شیرینیت کا ہے سکّہ رواں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
دلکش و دل ربا اسِ کا ہر اک سخن
گوہر بے بہا ہے ادب اور فن
اس میں پوشیدہ ہے پیار کا بانکپن
بحر زخّار ہے اِس کا زورِ بیاں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
گلستاں گلستاں اس کی نیرنگیاں
کیف زا جانفزا اس کی رعنائیاں
راحتِ روح ہیں حسن سامانیاں
ہر طرف ہر جگہ ہے یہ جلوہ فشاں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
چاند تاروں کی اس میں لطافت بھی ہے
لالۂ و گل کی خوشبو ہے رنگت بھی ہے
حسن والوں کی اس میں نزاکت بھی ہے
ہرادا اس کی ہے گلفشاں گلفشاں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
نغمہ زیر و بم اس کی آواز ہے
سوزِ دل کا امیں اس کا ہر ساز ہے
حسن و عشق و محبت کا اک راز ہے
زندگی اس کی ہے داستاں داستاں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
معترف آج ہے اس کا ہندوستاں
گونج اٹھا اس کے نغموں سے سارا جہاں
اِس کی خوبی پہ شیدا ہیں اہل زباں
ساری دنیا میں ہے اس کا سکّہ رواں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
اِس میں وید اور قرآں کا پیغام ہے
حسن اخلاق و اخلاص کا جام ہے
یہ زباں کیا ہے قدرت کا انعام ہے
ساری دنیا میں ایسی زباں ہے کہاں ؟
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
اس میں آزاد و جوہر کی تقدیر ہے
اور سلیمان و سلماں کی تحریر ہے
امجدی طرز، مودودی تفسیر ہے
بوالوفا اور بخاری سے معجز بیاں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
اس میں اقبال کا حسن عنوان ہے
اس میں بابائے اردو کی بھی جان ہے
اِس کی شیرینی خود اِس کی پہچان ہے
اِس کا مشہور عالم ہے حسن بیاں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
اس میں آزاد و سیّد ہیں شبلی بھی ہیں
محسن الملک و اکبر ہیں حالی بھی ہیں
داغ و ناسخ امیراور جلالی بھی ہیں
اس میں غالب سا ہے شاعر نکتہ داں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
ذوق و سودا سے اس کے پر ستار ہیں
آتش و مصحفی سے فداکار ہیں
درد و انشا ظفر اور سرشار ہیں
میر و مومن سے ہیں اس میں جادو بیاں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
جوش و حسرت جگر اور اصغر بھی ہیں
شاد و فانی ، ریاض اور مضطر بھی ہیں
بزم میں اس کی ،مخمور و ساغر بھی ہیں
بیخود و سائل و نوح ہیں پاسباں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
اس میں احساں شفیق اور ماہر بھی ہیں
عندلیب و عدم اور ساحر بھی ہیں
ابر و انور ، حفیظ اور عامر بھی ہیں
صوفی سائب ظفر بھی ہیں رطب اللسان
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
شمس و محوی ، اثر، خوشتر نیک خو
جوش و محروم و مخدوم اور آرزو
شوق و ملاّ سراج اس کی ہیں آبرو
اور انیس و دبیر اس کے ہیں ترجماں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
اس پہ چکبست و محسن، شرر ہیں فدا
اس کے مداح سرشار محوی ہما
ہیں عزیز اور سیماب سے ناخدا
بدر و وحشت جلیل اس کے ہیں مدح خواں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
احسن و تاجور اور گرامی بھی ہیں
ہاں نظیر و جمیل اور نظامی بھی ہیں
اور شکیل و قتیل ایسے نامی بھی ہیں
ہے ہلالی سا شاعر یہاں نغمہ خواں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
اس میں نازش مجاز اور جذبی بھی ہیں
اس میں شعری شفا کیف و کیفی بھی ہیں
عرش و عرشی فضا فیض و فیضی بھی ہیں
ہیں حمید اور بہزاد سے نعت خواں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
شاد و شاداں ہری چند اختر بھی ہیں
کرشن موہن ہیں اور فکر و مضطر بھی ہیں
اور محمود و مفتوں ،منور بھی ہیں
راز اعجاز و آزاد ہیں رازداں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
ہیں سحر اور فراق اور گلزار بھی
ہیں سرور و رشید اور غفار بھی
ہیں رموزی سے کتنے پرستار بھی
اور نیاز ایسے کتنے ہیں روح رواں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
اس میں سازِ نوا اس میں سوزِ سخن
اس کا ذکرحسیں، انجمن انجمن
کوبہ کو جابہ جا پھیلی اس کی کرن
جلوہ گر اس میں انجم کی تابانیاں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں

پیش کش: سلمان فیصل، نئی دہلی

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP