You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label urdu blogging. Show all posts
Showing posts with label urdu blogging. Show all posts

Thursday, June 25, 2015

Behad khubsurat tehrir

بے حد خوب صورت تحریر !!


زمانہ تھا نو عمری کا جب ہم لاہور کی گلیوں میں گھوما کرتے تھے، ہمارا ہیڈ کوارٹر تھا ریگل چوک ،دوپہر اور شام کے مخصوص گھنٹوں میں سارے یار دوست جمع ہو جاتے، ٹمپل روڈ کی جانب مڑنے والی سڑک کونے پر بک شاپ کے ساتھ سموسوں کی دکان تھی( جو ابھی تک اسی خستہ حالی اور اسی دیرینہ ویٹر کے ساتھ قائم دائم ہے)، یہاں سے ہمیں ادھار سموسے بھی مل جاتے
ریگل چوک ہماری بے شمار یادوں کا امین ہے، وہاں گزرا ہوا ہر ہر دن ایک ایک کہانی ہے، اس زمانے میں جو لوگ اس چوک میں روزانہ ملا کرتے وہ سب تاریخی کردار ہیں، ریگل چوک کا بس اسٹاپ بہت اہم تھا، دکھاوے کا زمانہ نہیں تھا، بڑے نام اور بڑے قد کے لوگ بھی بس یا ویگن میں سفر کیا کرتے تھے، قتیل شفائی اور بہت ساری دیگر ہستیوں کے ساتھ منیر نیازی بھی اسی بس اسٹاپ سے گھر واپس لوٹتے، رات سات اور آٹھ بجے کے درمیان منیر نیازی پاک ٹی ہاؤس سے تیز قدموں کے ساتھ چلتے ہوئے یہاں پہنچتے، میرے سلام کے جواب میں وہ روزانہ ایک ہی فقرہ دوہراتےِِ
"کاکا، اپنے پیو نوں کویں چنگا ویلہ آون والا اے" میں جواب میں، اچھا چاچا جی،، کہتا اور منیر نیازی کسی بس یا ویگن میں بیٹھ جاتے،
کئی بار ان سے پی ٹی وی میں کسی پروڈیوسر کے ساتھ یا اسٹوڈیو فلور پر بھی ملاقات ہو جاتی، منیر نیازی بہت خوبصورت اور وجییہ تھے، گرمیوں کے موسم میں شلوار قمیض میں خوب جچتے ، میں ان دنوں آصف شاہکار کے پنجابی پروگرام نویں رت کے لئے اسکرپٹ اور گیت لکھا کرتا تھا، اس پروگرام کی میزبان ستنام محمود تھیں، یہ خاتون تھوڑی سی ایجڈ ہونے کے باوجود مجھے مسرت نذیر کی طرح خوبصورت لگتی تھی،
بے لگام وقت تیزی سے دوڑتا رہا، اچھا زمانہ آنے کی منیر نیازی کی پیش تو پوری نہ ہوئی، البتہ ہاشمی صاحب کی عمر کی نقدی ضرور ختم ہو۔ گئ اور یادیں ہی باقی رہ گئیں ہاشمی صاحب کی برسی کا سلسلہ شروع ہوا تو مصطفی قریشی، رشید ساجد، کرنل سفیر، اعجاز وکی ۔غلام محی الدین، پرویز مہدی ،عالی شاہ، شمیم احمد خان،علامہ صدیق اظہر،طارق وحید بٹ، اجمل نیازی، مسعود باری، اسلم گورداسپوری ،ناصر بھنڈارہ، شیخ اقبال،حفیظ احمد، زاہد عکاسی، قتیل شفائی، غلام مصطفی آرٹسٹ، میجر رشید وڑائچ، عطاء اللہ شاہ ہاشمی، خورشید محمود قصوری اور حبیب صاحب کی طرح منیر نیازی نے بھی باقاعدگی سے آنا شروع کر دیا
برسی کی یہ تقریب آہستہ آہستہ فیسٹئول کی شکل اختیار کر گئی ، کئی لوگ تو سال بعد آپس میں یہیں ملا کرتے (یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، بہت سارے لوگ پچھلے 38 سالوں کے دوران ایک ایک کرکے بچھڑتے رہے اور ان کی جگہ نئے لوگ لیتے رہے) برسی والے دن کھانے کے بعد نیازی صاحب اور بعض دوسرے احباب اچھرے والے گھر کی اوپری منزل پر بیٹھ جاتے اور یادیں دہرانے کا پیریڈ شروع ہو جاتا، منیر نیازی سے کلام سنانے کی فرمائش ہوتی تو وہ چند شعر سنا کر احمد ندیم قاسمی اور ان کے چیلوں کے خلاف تقریر شروع کر دیتے، یا سندر بن میں نظر آنے والی اس لڑکی کو یاد کرتے جو ہمیشہ کے لئے ان کے اعصاب پر سوار ہوگئی تھی ، وہ لڑکی جس کی آنکھیں جھیل سے زیادہ گہری تھیں، منیر نیازی خود پر حیرت طاری کرکے ٹھڈا سانس لیتے اور پھر کہتے ،،کیا آنکھیں تھیں وہ،،، ،اگر کوئی بیچ میں بول پڑتا تو منیر نیازی صاحب سخت برہم ہوتے،
موت سے پہلے آخری بار جب منیر نیازی برسی کی تقریب میں شریک ہوئے تو علامہ صدیق اظہر نے دانستہ انہیں ناراض کیا، وہ کوئی بھی بات کرتے تو علامہ ٹوک دیتا، ،، خاں صاحب ایسے نہیں ایسےِِ ہوا تھا،،، بالآخر نیازی صاحب ناراضی کے عالم میں میرے گھر کی سیڑھیاں اتر گئے ، دروازے سے باہر نکلے تو یاور حیات کو آتے دیکھ لیا، نیازی صاحب نے یاور صاحب سے پوچھا،، خاور کے گھر جا رہے ہو؟ ،، جی،، منیر نیازی نے مشورہ دیا، نہ جاؤ تو اچھا ہے، وہاں خاور نے بہت سارے بد تمیز بٹھا رکھے ہیں ۔
منیر نیازی صاحب میرے بیٹے کی پہلی سالگرہ میں شریک ہوئے تو ٹرپل ایس سسٹرز کے بھائی خلیل احمد نے پہلی بار ان کی اجازت سے کسی محفل میں اپنی اواز کا جادو دکھایا ، اس کے چند مہینوں بعد اس کی غزل بہت پاپولر ہوئی،، کپڑے بدل کے جاؤں کہاں،،نیازی صاحب نے خلیل کو داد اس کی ایک ایس (سسٹر) کو گلے لگا کر دی۔۔۔
میں نے 2004 میں نیازی صاحب کی شاعری اور شخصیت پر ڈاکو منٹری بنانے کی ٹھانی تو انہوں نے اس شرط پر حامی بھری کہ میں انہیں پیسے دوں گا، وہ پیسے لئے بغیر کسی مہ لقا کے ساتھ ڈیٹ پر بھی نہیں جاتے تھے، اس ڈاکومنٹری کی تیاری کے دوران ایک دن امجد اسلام امجد کے تاثرات لینے گیا تو اس نے (گالی دے کر) کہا ،، اگر وہ (منیر نیازی) تھوڑا پڑھا لکھا ، ہوتا تو بہت بڑا شاعر ، امجد اسلام امجد کے پاس منیر نیازی کے لئے تاثرات لینے جانا میری غلطی تھی، جس کا احساس مجھے ڈاکٹر انور سجاد نے دلایا۔
ڈاکٹر اجمل نیازی نے فیض پر میری رپورٹ کو اپنے کالم میں سراہا تو ضرور، لیکن یہ بھی لکھا کہ غالب اور اقبال کے بعد اردو زبان کا تیسرا بڑا شاعر فیض نہیں منیر ہے۔
ایک دن میں فریدہ خانم کے گھر گیا اور ان سے فرمائش کی کہ وہ منیر نیازی کی کوئی غزل گنگنائیں۔۔۔ فریدہ خانم نے غزل شروع کی تو مجھے احساس ہوا کہ وہ ایک مصرعہ غلط بول رہی ہیں، میں نے فورآ نیازی صاحب کو فون کر دیا، نیازی صاحب ، فریدہ خانم آپ کی غزل سنا رہی ہیں ،میرے خیال میں وہ کوئی لفظ غلط کہہ رہی ہیں، نیازی صاحب نے جواب دیا کہ میری اس سے بات کرادو، میں اسے سمجھا تو دوں گا، مگر یاد رکھنا وہ تصیح نہیں کرے گی،، پھر ایسا ہی ہوا نیازی صاحب کےسمجھانے کے باوجودخانم نے درسگی نہ کی۔۔
ترقی پسند ادیبوں اورشاعروں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی حکومت بننے کے بعد ان سے ملاقات کاپروگرام بنایا تو منیر نیازی نے یہ کہہ کر ساتھ جانے سے انکار کیا کہ ،، وہسکی پینے کے لئے شاعر کو بادشاہ کے دربار میں نہیں جانا چاہئیے،، میرے خیال میں یہ فلاسفی منیر نیازی کے دماغ کی عارضی کیفیت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس حوالے سے وہ ہرگز ہر گز حبیب جالب نہیں تھے،
منیر نیازی میدان شاعری کے چی گویرا تھے، انہوں نے خود تو گروپ بازی نہ کی، لیکن احمد ندیم قاسمی کی وفات تک ان کے گروپ سے آڈا لگائے رکھا، وہ مخالفین اور نا پسندیدہ لوگوں کی ان کے سامنے توہین کر دیا کرتے ۔۔ڈاکٹروں نے ان کے پینے پر پابندی لگائی تو میرے لئے وہ اسی دن مر گئے تھے منیر نیازی ڈاکٹر کے ہتھے نہ چڑھتے تو شاید کچھ دن اور جی لیتے۔۔ ان کی یہ نظم ان کی شناخت تو بنی۔۔ کج شہر دے لوک وی ظالم سن کج سانوں مرن دا شوق وی سی لیکن سچ یہ ہے کہ منیر کو مرنے کا کوئی شوق نہ تھا ۔
(خاور نعیم ہاشمی)
-- 


Wednesday, March 05, 2014

ملک عزیز میں عدل اور عدالت کا مطلب


عدالت کا تعلق عدل سے ہے ۔جب کوئی لفظ عدالت اپنی زبان سے ادا کرتا ہے تو مخاطب کو یہ سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی کہ یہ عدل و انصاف کی وہ جگہ ہے جہاں کسی معاملے کا تشفیہ عدل کے معیار پر ہوگا اور حق دار کو اس کا حق مل جائے گا ۔پر ملک عزیز کے عدالت کی ادا ہی نرالی ہے ۔اول تو یہاں جو عدالتوں کا معاملہ ہے وہ یہاں برسوں سے التواء میں پڑے ہوئے لاکھوں مقدمات سے پتہ چلتا ہے کہ عدالتیں اور منصف عدل کی حساسیت سے کس قدر واقف ہیں ۔18 ؍فروری کو سپریم کورٹ نے راجیو کی قتل کی سازش میں ملوث قرار دیئے گئے لوگوں کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا اور عدالت نے ریاستی حکومت کو یہ مشورہ بھی دے دیا کہ اگر وہ چاہے تو اپنے اختیارات کا استعمال کرکے ان مجرموں کو رہا بھی کرسکتی ہے ،کیوں کہ عمر قید کی سزا کے مطابق 23 سال جیل میں گذار چکے ہیں۔ٹھیک دوسرے دن تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ نے اپنے کابینی فیصلہ میں اس کو منظوری دیدی کہ جنکی پھانسی کو سپریم کورٹ نے عمر قید میں تبدیل کی ہے انہیں رہا کردیا جائے ۔اب وہ مرکز کو اس کی سفارش بھیجیں گی ۔اگر مرکز نے اجازت دینے میں آنا کانی کی تو وہ اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے انہیں رہا کردیں گی۔یہ ایک قانونی اور انسانی پہلو ہے اس پر نہ مجھے اعتراض ہے اور نہ کسی کو ہونا چاہئے ۔کیوں کہ جب کوئی شخص کسی فوری ہیجان سے مجبور ہو کر کوئی قدم اٹھاتا ہے تو یہ اس کا فوری اور ذاتی رد عمل ہوتا ہے ۔ موجودہ ظلم اور نا انصافی سے بھری دنیا میں یہ کہیں بھی اور کبھی بھی ہوسکتا ہے۔اس پر ضرور غور کیا جانا چاہئے لیکن اس میں کسی خاص عینک سے معاملات نہ دیکھا جانا چاہئے۔لیکن جب بات انتہائی اقدام کی ہو جس کے اثرات پورے معاشرے پر پڑنے کا خدشہ ہو تو اس کی سزا اوراس کے بارے میں تھوڑا اس نکتہ نظر سے سوچتے اور عمل کرتے ہیں کہ معاشرہ اس کے منفی عمل سے کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے ۔اسی زمرے میں قتل اور زنا جیسی بھیانک واردات آتی ہے ۔اسلام نے قتل کی سزا قتل ہی رکھی ہے اور اس کو قوم اور معاشرے کی زندگی سے تعبیر کیا ہے ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر معاشرے میں قتل اور خونریزی کی سزا سخت نہ ہو تو قاتلوں کے حوصلے بڑھ جائیں گے اور وہ بات بات پر کسی کو بھی قتل کر ڈالیں گے جس سے سماج میں انارکی پھیل جائے گی ۔آج ہم ان معاشرے میں جہاں اسلام کا عمل دخل نہیں ہے اسی انارکی کا مشاہدہ کررہے ہیں ۔اخبار اٹھا کر دیکھ لیں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اخبارات قتل و خونریزی اور زنا بالجبر کے واقعات سے بھرے نہ ہوتے ہیں ۔راجیو گاندھی کا قتل بھی اسی انارکی اور افراتفری اور ناانصافی کے ماحول کی پیدا وار ہے ۔
بات لمبی ہو جائے گی لیکن ہم اصل بات کی طرف آتے ہیں ۔راجیو گاندھی کے قاتلوں کو معافی جن کا جرم ثابت ہو گیا کہیں مقدمات میں کسی کمی یا فرضی دستاویزات پیش کرکے فرضی چارج شیٹ کا کوئی معاملہ کہیں روشنی میں نہیں آیا یعنی کہ وہ واقعی قتل کی سازش میں ملوث ہیں ۔اب سے ایک سال قبل بڑی افراتفری میں افضل گورو کو پھانسی دیدی گئی اور اس کی لاش بھی اس کے گھر والوں کو نہیں سونپی گئی ۔افضل گورو کا گناہ صرف یہ تھا کہ اول تو وہ کشمیری تھا اوردوئم وہ مسلمان بھی تھا۔اور ملک عزیزمیں یہ دونوں نام اور کردار والے لوگ معتوب ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسے پھانسی دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی گئی نہ کسی کو کوئی رحم آیا اور نہ ہی کسی نے اس پر احتجاج کیا ۔جنہوں نے اس پر احتجاج کیا ان کی باتوں کو ان سنا کردیا گیا اور کافی عرصے سے ایسا ہی ہو رہا ہے ۔اگر آپ کی بات میں دم ہے اور آپ اس کو مضبوط دلائل کی روشنی میں لوگوں کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں تو اسے نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔ہمارے سامنے دو مثالیں موجود ہیں ۔مثالیں تو اور ہوں گی لیکن اس پر نہ توتحقیق ہوئی اور نہ وہ منظر عام پر آئیں۔ ایک معاملہ تو یہی افضل گورو کا ہے جس کو پھانسی کی سزا سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کوئی واضح ثبوت نہیں ہوتے ہوئے بھی عوام کی اجتماعی ضمیر کی تسکین کیلئے اس کو پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے ۔اب یہ اجتماعی ضمیر ہے کیا اور اس کی تخلیق کس طرح ہوئی یہ بھی ایک دلچسپ اور عدلیہ اور انتظامیہ کی مسلمانوں کے تئیں گھناؤنے نفرت اور نسلی امتیاز کو دکھاتا ہے ۔افضل غورو کو گرفتار کرنے کے بعد اسے سخٹ اذیت دیکر اس سے ایک ویڈیو بیان لیا گیا اور اس ویڈیو بیان کو ٹی وی چینلوں پر نشر کیا گیا ۔یہ ویڈیو بیان اسے اس دھمکی کے ساتھ لیا گیا تھا اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس کا انجام اس کے گھر والوں کو بھگتنا ہوگا ۔سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے پر مشہور مصنفہ اور سماجی کارکن اروندھتی رائے نے سخت احتجاج کیا لیکن اسے نظر انداز کردیا گیا۔دوسری مثال ممبئی کے26/11 دہشت گردانہ حملہ پر مہاراشٹر پولس کے سابق آئی جی ایس ایم مشرف کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالات ہیں جس پر انہوں نے ایک پوری تحقیقاتی کتاب بھی لکھ ڈالی ’’ہو کلڈ کرکرے‘‘ جو کہ اردو میں ’’کرکرے کے قاتل کون‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی اور بھی کئی ہندوستانی زبانوں میں اسے اشاعت کا شرف حاصل ہوا ۔مشرف کی مذکورہ کتاب پر بامبے ہائی کورٹ میں ایک شخص نے پی آئی ایل بھی داخل کیا کورٹ نے حکومت کو نوٹس بھی جاری کیا لیکن اس کے بعد پتہ نہیں کہ کیا ہوا ۔عوام کو اس قدر الجھا دیا گیا ہے کہ اس کے ذہنوں پر کسی نئے واقعہ کی دھول جم جاتی ہے اور پچھلا واقعہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔برسوں سے یہی ہوتا آرہا ہے ۔پولس ،نام نہاد دہشت گردی مخالف دستوں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ایسے مکروہ اور ذلیل کارنامے کئی بار منظر عام پر آگئے ہیں ۔لیکن نہ تو حکومت نے بیان بازی سے ہٹ کر کوئی ٹھوس قدم اٹھایا ،نہ ہی معمولی معمولی واقعات پر جن عدالتوں کا ضمیر بیدار ہوتا ہے اور وہ سو موٹو لیکر حکومت اور انتظامیہ کے کان پکڑنے والی عدالتوں نے اس پر کبھی اپنے ضمیر میں جھانکنے کی کوشش کی اور نہ ہی مسلم لیڈروں اور تنظیموں نے خوف کی نفسیات سے نکل کر اس پر کسی طرح کی ٹھوس کارروائی کی۔
راجیو گاندھی کے قتل کی سازش میں ملوث افراد کی سزا عمر قید میں تبدیل کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ’’جس آدمی کے سر پر پھانسی کا پھندہ لٹکتا رہے ،جس کی رحم کی درخواست پر پہلے ہی اتنی دیر ہو چکی ہے، ظاہر ہے اسے بہت تکلیف برداشت کرنی پڑی ہے ۔ان حالات میں اس کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنا ہی درست ہے‘‘ ۔جو سپریم کورٹ ان پر اتنی مہربان ہے وہ افضل گورو کے معاملے میں وہ نرمی وہ ہمدردانہ رویہ کیوں نہیں اپنا پائی؟کیا صرف اس لئے کہ وہ مسلمان تھا اور ساتھ میں کشمیری بھی ۔وہ بھی تو پھانسی کی سزا کا کافی دنوں سے منتظر تھا ۔اسے بھی تو انہی اذیتوں میں زندگی گزارنی پڑی جس میں بقول سپریم کورٹ راجیو گاندھی قتل کے مجرمین نے گزاری ہے ۔جبکہ خود سپریم کورٹ کے ہی مطابق پارلیمنٹ پر حملے کی سازش میں ملوث ہونے کا کوئی واضح ثبوت بھی نہیں تھا ۔سپریم کورٹ نے دوسرا مشورہ دیتے ہوئے ریاستی حکومت کو یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنی عمر کی مدت پوری کر چکے ہیں جبکہ یہی سپریم کورٹ ممبئی بم دھماکہ کیس میں عمر کی معیاد پوری زندگی متعین کرتا ہے ۔ اب جو لوگ جے للیتا کے خلاف مورچہ کھولے ہوئے ہیں خاص طور پر کانگریسی ورکرجنہوں نے جے للیتا کے پتلے جلائے اور احتجاج کیا ،یہ ان کا حق ہے لیکن انہیں یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ جے للیتا نے وہی کیا جو اس وقت کا تقاضہ ہے یعنی تمل باشندوں کی ہمدردی حاصل کرنا ۔کوئی بھی سیاسی پارٹی وہی کرتی جو جے للیتا نے کیاہے۔ اصل معاملہ تو سپریم کورٹ کے اس مشورے کا ہے کہ’’ حکومت چاہے تو انہیں رہا بھی کرسکتی ہے کیوں کہ وہ اپنی عمر قید کی مدت پوری کر چکے ہیں‘‘ ۔ عدالتوں سے لیکر حکومتوں تک اور انتظامیہ سے لے کر مقننہ تک مسلمانوں کے ساتھ یہ ظلم اور نا انصافی کیا رخ لے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔ہم تو صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ملک کے اتحاد اور سا لمیت کیلئے خطرناک ہے ۔اس کا تدارک کرنا اور مسلمانوں سمیت سبھی فرقوں میں یہ احساس بیدارکرانا کہ یہ ان کا اپنا ملک ہے اور اس کی ترقی اور بقا میں ہی ان کی اپنی ترقی اور بقا بھی ہے ۔لیکن یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب ارباب اقتدار ،مسلم تنظیمیں اور مسلم لیڈران اخلاس کے ساتھ عمل کریں ۔ منافقت سے نہ ملک کا اتحاد سلامت رہے گا نہ اس کے بقا کی ضمانت دی جاسکتی ہے اور نہ ہی و نئے عالمی منظر نامے میں اپنا منفرد مقام بنا پائے گا۔


http://mail.google.com/mail/u/0/images/cleardot.gif


Sunday, January 05, 2014

ek haqiat ek afsana

Shazia Andleeb
                                                             
                                                          
تحریر شازیہ عندلیب
امروز عمران چھٹی کے روز پاجامہ بنیان پہنے باہر  پائیں باغ میں اخبار کی مقامی خبروں سے محزوز ہو رہا تھا۔ماہ اپریل میں انار کے درخت کے نیچے ٹھنڈی مست خرام ہوائیں سرور دے رہی تھیں۔لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے وہ باہر چلا گیا تھا۔امروز ایک کاٹج اندسٹری کا مالک تھا۔چھوٹا سا مگر کامیاب کاروبار تھا دو بچے اور ایک خوبرو بیگم کے ساتھ زندگی خوشگوار گزر رہی تھی۔اس نے اخبار کے اندرونی صفحہ پر مقامی خبروں کی سرخیوں پر نظر دوڑائی تو  طرح طرح کی ہیجان خیز سرخیوں نے اسکی توجہ مبذول کر لی ۔مگر اس دوران اسے گیٹ پر دستک کی وجہ سے تین مرتبہ اٹھ کر جانا پڑا۔ملازم چھٹی پر تھا ۔بیگم اتوار بازار خریداری کے لیے گئی ہوئی تھی۔وہ ذرا اخبار لے کر بیٹھتا دروازے پر دستک ہوتی۔لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بیل بھی نہیں بج رہی تھی مگر مجال ہے جو لوگوں کو چین ہو ۔صدر دروازے کی دستکیں مسلسل اسکی اخبار بینی میں رخنہ ڈال رہی تھیں۔
ضلع ہزارہ سے چھ بچوں کی ماں عاشق کے ساتھ فرار۔
میانوالی میں میاں بیوی کے جھگڑے میں پڑوسی زخمی۔
شدید ٹھنڈ میں راہ والی کے راستے تودہ گرنے سے بند۔
بھمبر میں بجلی کی بندش کے دوران مظاہرین کا بانس بردار مظاہرہ۔
نوسر بازحسینہ شادی شدہ مرد سے رقم بٹور کر فرار۔
آخری خبر نے امروز عمران کی توجہ کھینچ لی۔خبر کچھ یوں تھی۔
اسلام آباد کے پوش علاقے میں ایک الٹرا ماڈرن عورت نے ایف الیون میں گیٹ پر موجود چپڑاسی سے پانی مانگا ۔چوکیدار کی غفلت سے فائدہ اٹھا تے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی وہ اسی قدر پڑھ پایا تھا کہ گیٹ پر پھر دستک ہوئی۔وہ بڑ بڑاتا ہوا اٹھا۔اب تک وہ چار مرتبہ گیٹ پر آ چکا تھا پہلی مرتبہ ودھ ولا تھا دوسری مرتبہ ایک پردہ پوش فقیرنی تیسری مرتبہ ایک بھٹکے ہوئی مسافر کو وہ بھگتا چکا تھا۔پردہ پوش فقیرنی دو مرتبہ آ چکی تھی۔بڑی مشکل سے اس سے جان چھرائی وہ اپنے نادیدہ شوہر کی بیماری کا سرٹیفکیٹ دکھا کر کافی رقم اینٹھ چکی تھی۔پانچویں مرتبہ پھر جب دستک ہوئی وہ انتہائی بیزاری سے اپنا کاندھا کھجاتے ہوئے اٹھا،جس پر ایک مچھر چٹکی کاٹ چکا تھا اس سے پہلے کہ وہ مچھر کا نشانہ لیتا کہ گیٹ کی دستک نے اسکا نشانہ خطا کر دیا۔وہ جیسے ہی گیٹ پر پہنچا اسکی نظر گیٹ کے نیچے کالے لباس پر پڑی۔وہ چونکا اچھا پھر وہی برقعہ پوش فقیرنی ہے اس نے آج میرا ہی گھر دیکھ لیا ہے۔یا پھر مجھے اکیلا دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سوچ کر ہی اسے جھر جھری سی آ گئی آجکل کے زمانے میں  عورتیں تو کیا اکیلا مرد بھی محفوظ نہیں۔۔۔مگر اس نے جیسے ہی فقیرنی کو ڈانٹنے کے ارادے سے گیٹ کھولا اسکی نظر خوبصورت ریشمی پھولدار ساڑہی پر پڑی۔ایک نہائیت دلکش درمیانی عمر کی عورت تراشیدہ بالوں اور ہلکے میک اپ میں کھڑی مسکرا رہی تھی۔اسے دیکھ کر امروز کو اپنے پاجامہ بنیان پر ندامت سی محسوس ہوئی ۔اس نے خجالت سے پوچھا جی آپ کون  ؟کس سے ملنا ہے؟؟
مگر یہ کیا  اسکا جواب سنتے ہی اسکے چودہ طبق روشن ہو گئے اور دن میں تارے سے نظر  آنے لگے۔یہ تو پردہ پوش بھکارن سے بھی ذیادہ خطرناک نکلی۔ساڑھی میں ملبوس خوش پوش عورت بڑی خوش الحانی سے بولی میں مسز امروز ہوں۔جی میں کسی مسز امروز کو نہیں جانتا مگر میں تو جانتی ہوں اس نے بدستور اک ادائے دلبرانہ سے جواب دیا۔کیا میں آپکی مسز  سے مل سکتی ہوں ؟اس نے کھلے گیٹ کے اندر نظ دوڑاتے ہوئے پوچھا ۔گویا چیک کر رہی ہو کہ گھر میں کوئی اور ہے یا نہیں۔امروز کے ذہن میں نو سر بازحسینہ کی خبر گردش کرنے لگی۔اس نے بغور اسکے چہرے کا جائزہ لیا دلکش سراپا پر کشش صورت  وہ لمحہ بھر کو اس سے متاثر ہونے لگا مگر یہ سوچ کر سنبھل گیا کہ یہ بھی کوئی حسینہ چار سو بیس یا نو سر باز  ہو سکتی ہے۔اگر افزانہ نے اسے یہا ں دیکھ لیا اور اس نے میری مسز ہونے کا دعویٰ کر دیااور جھوٹے ثبوت ۔۔۔جیسا کہ ایسے معاملات میں ہوتا ہے اور اس کے ایک جاننے والے کے ساتھ بھی ہو چکا ہے تو پتہ نہیں کیا ہنگامہ کھڑا ہو جائے  ویسے بھی اس کے سسرالی رشتہ دار اس کی بیوی کو بھڑکا کر لڑاتے رہتے ہیں۔انہیں تو موقعہ مل جائے گا۔وہ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ سن گلاسز اور لانگ شرٹ میں ملبوس اسکی بیگم سودا لے کر آ گئی اور آتے ہی بڑے تپاک سے اس ساڑھی پوش عورت سے ملی اور کہنے لگی امروز یہ ہماری نئی پڑوسن ہیں مسز امروز ہاشم ۔امروز خجل سا ہو کر دونوں کو اندر جاتا دیکھتا رہا۔



 
 
 






Thursday, October 25, 2012

عیدالضحی ( قربانی )


قربانی
گزشتہ متعدد سالوں سے عیدالاضحی کے  موقع پر قربانی کے تعلق سے  جانوروں کی قربانی کی خاطر  متعدد سنگین مسائل   ہیں ۔کہ  ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے ہیں ۔ عام قربانی کرنے  والے مسلمانوں  اور  جانوروں کے بیوپاریوں کو بے انتہا  پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔شرپسندوں کی شرپسندی  اور  پولس  و متعلقہ  سرکاری  افسران کی     سرد مہری  سنگین نوعیت میں بدل جاتی ہے  شر پسند عنا صر  بڑے جانوروں  کی دھڑ پکڑ کرواتے ہیں ۔جانوروں کی لاریوں کے مالکان اور ڈرائيوروں  کو پولس کا ڈر بتاکر  ہزاروں روپیے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ہر سال قربانی کے موقع پر  قربانی پر درپیش مسائل  کے  تدارک کی خاطر  لیڈران  قوم  احتجاج کرتے دکھائی  دیتے ہیں ۔اور یہ لیڈران صرف قربانی کے موقع پر ہی جاگتے ہیں ۔قربانی کے  مسائل  کے تدارک  کے وقت سے کئی  ہفتوں  پہلے سے ہی جاگنا اور اور جدو جہد کرنا  ضروری ہے ۔
اس سال عوامی وکاس پارٹی کے سربراہ شمشیر خان  پٹھان  قربانی کے مسائل  کے تدارک کی  خاطر   ہفتوں  پہلے  سے میدان عمل میں ہیں ۔ اس تعلق سے مٹینگيں لے رہے ہیں ۔ دیونار  منڈی  میں  جاکر  عملی سطح  پر بیوپار یوں  مل  کر جائزہ  لے رہے ہیں    بیو پاریوں کو  سر پسندوں  کے  ہاتھوں ،  شر پسندی  کی  شکایت  متعلقہ  پولس  اسٹیشنوں  پر  درج  کروارہے ہیں ۔     جانوروں     کی  کئی لاریوں  کو  انہوں نے  سرپسندوں کے  ہاتھوں سے چھڑ وایا ہے ۔عمل و انصاف کی خاطر  عدالت  سے بھی  رجوع  ہو چکے ہیں ۔شمشیر خان  پٹھان صاحب  نیک نیتی اور   عملی  طور پر  بہتر طریقے سے انجام دے رہے ہیں ۔یہ  کا م  قابل تعریف اور قابل تقلید ہیں ۔  ہم دعاگو ہیں  اللہ انھیں  کامیابی عطا کریں۔

Saturday, September 15, 2012

باطل کے منصوبے

امریکی فلم  '' انوسینس  مسلمس'' میں  اسلام ، رسول اللہ  اور  مسلمانوں  کے خلاف  گستاخی  کی وجہ سے  دنیا  بھر میں زبردست احتجاج کا سلسلہ  جاری  ہے  اور مسلم دنیا میں  غم و غصہ  کا اظہار کیا جارہا ہے  ہندوستان میں بھی علما ء اور سیاستدانوں نے  مسلمانوں  سے پر امن رہنے کی درخواست کر رہی ہے ۔ اس موقع پر سیاسی  جماعت عوامی وکاس  پارٹی کے  روح رواں  اور سابق اے پی  شمشیر خان پٹھان سر نے بھی اشتعال  انگیز  فلم  پر شدید  ردّ عمل  کا اظہار کیا ہے ۔لیکن  مسلمانوں  سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ  وہ سڑکوں  پر  احتجاج سے  احتراز کریں ۔اور غصہ سے مشتمل  ہونے کی بجاۓ  احتجاج پر امن طریقے   اپنائیں۔  ہمیں باطل کے  منصوبوں  سے ہشیار رہنا بھی ضروری ہے ۔انھوں نے کہا کہ باطل طاقتیں  ہمیشہ  سے مسلم  نوجوانوں  کو تشدّد  کے لیے  اکساتی  رہی ہے ۔اس لیے  ان کی  سازش  کو جاننے  کے بعد مسلمان  ہرگز      ہرگز  مشتعل  نہ ہو ۔کیونک گزشتہ ایک دہائی سے  مغرب والوں کا یہ شیوہ رہا ہے کہ  آزادی  اظہار راۓ  کے نام  پر یو ٹیوب اور انٹرنیٹ پر اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف  اہانت  آمیز مواد اور خاکے  اپلوڈکرکے  فتنہ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کیوں کہ وہ اس بات سے اچھی طرح  واقف ہیں کہ  مسلمان رسول ، قرآن اور خلفاۓ راشدین کی توہین  برداشت  نہیں کر سکتے ہیں ۔اس لیے وقفہ وقفہ سے وہ حرکتیں  کرتے ہیں اور اشتعال دلاتے ہیں ۔اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس بات کو سمجھے اور جلسے جلوس اور مظاہروں سے احتراز کریں اور شر پسندوں اور اسلام  دشمن طاقتوں کی سازش کا شکار نہ ہو۔اور سمجھداری سے کام لیں۔

Monday, September 10, 2012

سادگی والی شادی

ہم اور آپ شادی کا اہم فریضہ ادا کرتے وقت اسلامی اصولوں کو بالاۓ طاق رکھ کر بے جا اور ہندوانہ رسوم پر عمل کرتے ہیں ۔ ہلدی ، سہرا ، ڈی جے ، ناچ گنے ، سنگیت بڑے بڑے ہالوں یا ہوٹلوں میں مختلف کھانوں کا اہتمام کرتے ہیں ۔ اور بلا شبہ اللہ اور رسول کو اپنے اس عمل سے ناراض کرتے ہیں ۔مگر اس دور پرفتن اور نام و نمود کے زمانے میں بھی کچھ شادیاں الحمدللہ سادگی سے ہوتی ہیں ۔

جس کی ایک مثال ہم پیش کررہے ہیں ۔وہ ہے نا مور ڈ اکٹر و سماجی خدمتگار عبدالکریم نائک کی نواسی نامور اسکا لر ڈاکٹر ذاکر نائک کی بھانجی اور مشہور ومعروف نامور ماہر تعلیم جناب مبارک کاپڑی صاحب کی دختر ڈاکٹر مذنہ ( جس نے دو سال قبل ایم ڈی کے امتحان میں اول پوز یشن پورے مہاراشٹر میں حاصل کی اور اسے دو گولڈ میڈل ملے تھے ۔) کا نکاح پونا کے ڈاکٹر عرفان شیخ ایم ڈی ایس کے ساتھ بروز اتوار 2 ستمبر کو ڈونگری ممبئي کے قیصر باغ ہال میں ہوا ۔کوئی ہار پھول نہیں ۔ بلکہ ڈاکٹر ذاکر نائک نے قرآن کی کئی آیتیں اور حدیث کے کے کئی حصے سادگی والی شادی کے تعلق سے پیش کئے ، اور آخر مہمانان کو آئسکریم پیش کی گئی ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس طرز کی شادیاں ہم اور آپ اپنے اپنے محلوں میڑ منعقد کریں تاکہ نکاح کرنا آسان ہو جاۓ ۔اور غریب والدین اپنی اولاد کی شادی آشانی سے کر سکیں

Saturday, September 01, 2012

غئز ل


مشکل ہے اب یہ کام تری یاد کے بغیر
گزرے جو صبح  و شام  تری یاد کے بغیر
اب تک یہاں  جو زیست کے لمحے گذر گۓ
وہ  سب تھے  تشنہ کام   تری  یاد  کے بغیر
لکھنے  کو لکھ  تو دوں میں  حکایات  زندگی
ہوگی  وہ ناتمام    تری      یا  د  کے     بغیر   
بے       کیف و بے  سرور  ہے  صہباۓ زندگی
گردش   میں   گو  ہے    جام    تری  یاد  کے بغیر
پینے کو پی رہا ہوں  شب و روز  خون  دل
پھر بھی  ہوں  تشنہ  کام  تری  یاد کے    بغیر





Sunday, August 26, 2012

کامیابی مبارک ہو

کامیابی مبارک ہو

عوامی وکاس پارٹی کے صدر شمشیر خان پٹھان صاحب ریاست کے اقلیتوں پر ہورہی نا انصافی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں ۔ ریا ست مہاراشٹر کے اقلیتی چئرمین کی تقرری کے بعد عوامی وکاس پارٹی نے ریاست کی اردو اکادمی ، حج کمیٹی اور وقف بورڈ کے چیئرمین ودیگر عہدے داران کی تقرری کی فوری مانگ کی ہے ۔شمشیر پٹھان نے اقلیتی چيئرمین کی تقرری کو عوامی وکاس کے زبردست احتجاج اور اسے عوامی حمایت کا نتیجہ ہے ۔ اقلیتوں کی فلاح و بہبودی کے لیے ان کے مسائل کے حل کے لیے عوامی وکاس پارٹی کے قیام کا عمل میں آنا وقت کی خاص ضرورت ہے ۔اور شمشیر پٹھان صاحب اور ان کے ہم عصروں کو ہم دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔ اور اللہ ربالعزت سے دعا کرتے ہیں کہ وہ انھیں اپنے نیک مشن میں کامیابی عطا کریں ۔


صاحب مبارک ہو!“ مگر


صاحب مبارک ہو!“ مگر!
 خبرآپ نے بھی پڑھی ہوگی کہ گرگام چوپاٹی پر منسے کی جو ریلی نکلی تھی وہ
غیر قانونی ہی نہی
 ں بلکہ عدا لتی احکام کی خلاف ورزی بھی تھی واضح رہے کہ
ممبئی ہائی کورٹ نے گرگام چوپاٹی پر کسی بھی طرح کے جلسے جلوس وغیرہ پر
پابندی لگا رکھی ہے اور اسی حوالے سے یہ بات کہی جارہی ہے کہ راج ٹھاکرے
کی یہ ریلی نہ صرف حکام کی اجازت کے بغیر نکالی گئی بلکہ یہ عدلیہ کے
احکام کا کھلا ہوا مذاق اُڑا نا بھی تھا۔
        اروپ پٹنائک کے تبادلے کومنسے کی اسی غیر قانونی ریلی یا مورچے ہی کا
خمیازہ کہا جارہا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی جتلایا جارہا ہے کہ پٹنائک کا
آزاد میدان کے تشدد میں’غیر معمولی صبر و تحمل‘ سے کام لینا پٹنائک کے
تبادلے کا سبب بن گیا ہے۔ اسے کہتے ہیں کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ !
سچ یہ ہے کہ اس میں شکار اگر کوئی بنا ہے تو صرف مسلمان! عید گزرتے ہی جس
طرح سے پولس نے آزاد میدان تشددکے معاملے میں شہر کے مختلف مقامات سے
گرفتاریاںکی ہیں۔ وہ سب کے علم میں ہیں اور یہ کون نہیں جانتا کہ پولس
اپنی ذمے داری اور اپنی کارکردگی جتلانے کےلئے کس کس طرح گرفتاریاں کرتی
ہے اور اس میں کتنی گرفتاریاں حقیقی مجرموں کی ہوتی ہیں اور کتنے بے
گناہوں کو سلاخوں کے پیچھے پہنچا دِیا جاتا ہے۔ رشدی کے خلاف نکلنے والے
مورچے سے لے کر بم دھماکوں(چاہے لوکل ٹرین کے یا مالیگاو
¿ں قبرستان
دھماکے ہوں) اور اب آزاد میدان تشدد تک کتنے ہی معاملات ہیں جن میں پولس
کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ اچھی یادداشت رکھنے والے قارئین کو یقینا
یاد ہوگا کہ جب تھانے کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں( تھانے شیو سینا کے
چیف) آنند دیگھے کی موت واقع ہوئی تھی تو کس طرح مذکورہ ہسپتال کو تہس
نہس کیا گیا تھا اور اس کے بعد آج تک اس واقعے میں پولس کاروائی کس نتیجے
پر پہنچی؟ کسی کو نہیں پتہ! رُشدی کے خلاف نکلنے والے مسلمانوں کے جلوس
پر کرافورڈ مارکیٹ کے پاس پولس فائرنگ کا یہ جواز پیش کیا گیا تھا کہ یہ
جلوس ممبئی کے صرافے (زویری بازار) کو لوٹنے جارہا تھا۔ واضح رہے کہ
کرافورڈ مارکیٹ کے جس علاقے میں جہاں مسلمانوں کے جلوس پر فائرنگ کی گئی
تھی وہ علاقہ صرافے سے کم و بیش ایک کیلو میٹر دور ہوگا۔ اُس وقت کے
د
¾ور اندیش اور نہایت زیرک“ ڈی سی پی شنگھارے نے جس طرح اپنے فرائض
ِمنصبی ادا کیے تھے وہ ایک ریکارڈ بن گیا ہے۔سچ یہ بھی ہے کہ سنیچر
۱۱
اگست کو آزاد میدان میں فرائض منصبی تو ارون پٹنائیک نے بھی ادا کیے تھے
وہ بھی ایک ریکارڈ ہے ۔ ہم کسی اور کی نہیں مانتے صرف اپنے صحافی بھائیوں
کی بیان کردہ باتوں پر یقین کرتے ہیں کہ ان کا آنکھوں دیکھا بیان تھا کہ
واقعی پولس نے اُس دن بڑے تحمل اور صبر کا مظاہرہ کیا ورنہ جو مناظر ہم
نے دیکھے وہ پولس کو مشتعل بلکہ آگ بگولہ کرنے کےلئے کافی تھے۔
         تھانے ہسپتال، منسے کی حالیہ ریلی پر بھی پولس کا” صبرو تحمل“ یادگار
تھا اور یادگار رہے گا۔
        یہاں یہ یاد دِہانی ضروری ہے کہ شنگھارے کی قیادت میں( کرافورڈ مارکیٹ
میں ) جو فائرنگ ہوئی تھی اُس میں اس طرح کے اشتعال کا کوئی گمان بھی
نہیں کیا جاسکتا۔ مگر اُس وقت پولس فائرنگ میں درجن بھر مسلمان موت کی
نیند سلا دِیے گئے تھے۔ ایک خبر کل ہی کی ہے کہ ائیر ہوسٹس گیتیکا خود
کشی کا ملزم گوپال کانڈا کئی دنوں سے پولس تحویل میں ہے مگر اب تک پولس
اس سے کچھ بھی اُگلوا نہیں سکی مبینہ طور پر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وہ
پولس حراست میں بھی ’ بڑے آرام‘ سے ہے۔    گزشتہ رمضان کے آخری ایام تھے کہ
ایک(مسلم) لڑکے کو ہم نے دیکھا (مبینہ طور پر)جس کے بارے میں بتایاگیا کہ
 پولس اسے(آزاد میدان تشدد معاملے میں) دو دن قبل پوچھ تاچھ کےلئے پولس
اسٹیشن لے گئی اور اُس لڑکے نے دو راتیں پولس اسٹیشن میں گزاریں۔ یہ بھی
بتایا گیا کہ جو بھی پولس مَین آتا تھا وہ اس لڑکے پر اپنا ہاتھ صاف کر
تا تھا بیچارے کی قسمت اچھی تھی کہ پولس نے اپنی ” اندر خانہ کارروائی
کے بعد جب یہ سمجھ لیا کہ یہ ہمارے کام کا نہیں ہے تو اسے وہاں سے رُخصت
کر دِیا گیا۔ اب تک کی اطلاعات ہےں کہ(آزاد میدان تشدد کے اِلزام میں)
پچاس سے زائد مسلم نوجوان پولس کے مہمان بنائے گئے ہیں اور اُن کی جس طرح
خاطر مدارات ہو رہی ہے اس کا جو بھی آپ تصور کر سکتے ہو ں، کریں۔ مگر
ہمار ا ہی ایک” اعلیٰ“ طبقہ ایسا بھی ہے جو نئے پولس کمشنر کو مبارکباد
دینے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں لگا ہواہے اور نئے پولس
سربراہ کا اُن لوگوں سے کہنا ہے کہ ” جو لوگ قصور وار ہیں اُن کی گرفتاری
میں میری مدد کیجیے۔ “عجب نہیں کہ ہمارے ہی لوگ پولس سربراہ کی درخواست
کو ’حکم‘ سمجھ کر کام شروع کر دےں کیوں کہ خاکی وردی والوں سے دوستی کو
بھی’ ہم ‘بڑا اعزاز سمجھتے ہیں ۔ کاش یہ اعزاز ہمارے بے قصوروں کے بھی
کام آجائے۔! مگر آثار و قرائن کچھ اور بتا رہے ہیں جو خدا کرے صرف ہمارے
اندیشے ہی اندیشے ثابت ہوں!                                                                      ن۔ص

Wednesday, August 01, 2012

آہ ڈاکٹر روپیش سری واستو


اپنے کسی بھی کام کا چرچا نہیں کیا
اردو زبان کا کبھی سودا نہیں کیا
کیا لنترانی  کہتی ہے کہ سوچو
خاموش  رہ کر تم نے اچھا نہیں کیا
محبت میں رہ کہ اردو کی مدہوش ہو گیا
اک چاند تھا بادلوں میں چھپ گیا
روپیش کیسے آن میں روپوش ہو گیا
( ڈاکٹر کلیم ضیاء )

Saturday, June 02, 2012

داستان ، افسانہ ، کہانی رنگ اشعار

کہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہے


جو سنتا ہے اسی کی داستان معلوم ہوتی ہے


کہانی ہے تو بس اتنی ،فریب خواب ہستی کی


کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہو جاۓ


خود قصّہ غم اپنا کوتاہ کیا میں نے


دنیا نے بہت چاہا افسانہ بنا دینا


دنیا سے اک افسانہ کہنے کو تھے ،پھر سوچا


دنیا ہے خود افسانہ ، افسانے سے کیا کہیے


بھرے گی ان کو میرے بعد لاکھوں رنگ سے دنیا


خلائيں چھوڑ دی ہیں میں نے کچھ اپنے فسانے میں


مجھے افسوس ہے دنیا کی اس افسانہ سازی پر


کہ اپنی بھی کہانی چھیڑ دی میرے فسانے میں


میں ہوں اک مستقل عنوان ہستی کے فسانے میں


مجھے تاریخ دہراتی رہے گی ہر زمانے میں


( سیماب اکبر آبادی )


Saturday, May 26, 2012

خدارا غور وفکر کیجئی


            ہم اور آپ مسلمان ہونے کی وجہ سے ہمیں اپنی زندگی ہمارے نبی  کے بتائے ہوئے راستوں پر ہی گزارنی چاہئے ۔اسی میں آخرت کی کامیابی ہی۔چند دنوں پہلے ایک خبر شائع ہوئی کہ ۵۲ مسلمان اجمیر معین الدین چشتی کی درگاہ پر جارہے تھے ،ایک حادثہ میں ان کی گاڑی میں آگ لگ گئی،اور وہ لوگ جل کر مر گئی۔واضح رہے کہ ہمیں مسجد حرام (کعبتہ اللہ )،مسجد اقصیٰ اور مسجد نبی ؐ جانے کے لئے خصوصی سفر کرنے کا حکم ہے ۔قرآن و حدیث کی روشنی میں اجمیر،بغداد یا کسی اور مقام پر جانے کا قطعی حکم نہیں ہی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان مرنے والے مسلمانوں کا اجمیر سفر کرنا یہ عمل کیا عین قرآن و حدیث کی روشنی میں تھا؟ ہمیں اس تعلق سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہی۔دوسری بات یہ ہے کہ اجمیر میں معین الدین چشتی  کے عرس کے موقع پر جنتی دروازہ کھولنے کی تصویر شائع ہوئی ہے ۔ہماری ناقص معلومات اور دینی کتابوں کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہے کہ دین اسلام میں کسی بھی درگاہ ،خانقاہ پر اس طرح کے جنتی دروازہ کا ذکر نہیں ہی۔البتہ قرآن کی تلاوت نیز حدیثوں کی کتابوں سے جنت کی معلومات ملتی ہے اور اسکے حاصل کرنے کا واحد راستہ رضائے الٰہی ہے اور رضائے الٰہی حاصل کرنے کا واحد راستہ بقول قرآن ’’اطیعو اللہ و اطیعو الرسول‘‘ یعنی اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت۔اللہ اس تعلق سے سمجھ عطا کرے اور مختلف مذہبی ادارے قرآن اور حدیث کی روشنی میں زندگی بسر کرانے کے لئے کم پڑھے لکھے اور انپڑھ مسلمانوں کی رہنمائی کریں ۔اللہ ہم سبھوں کو عامل قرآن بنائی۔آمین
ہاشم احمد چوگلی
روہا ۔ضلع رائے گڑھ
مہاراشٹر
موبائل ۔22142352

Friday, May 25, 2012

تعلیم کی طرف لوٹتے مسلمان دشواریاں اور خدشات

سیمینار میں اعظم خان کا خطاب۔میڈیکل کالج بھی قائم کرنے کا عزم
            رام پور کے ایک کالج سے طلباء یونین سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کرنے والے اور بعد میں علی گڑھ یونیورسٹی کے طلباء یونین میں اپنی ایک خاص پہچان بنانے والے اعظم خان جنہوں نے سماج وادی میں بھی اپنی ایک الگ شناخت بنائی ہے ۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اعظم خان نے سماج وادی سے امر سنگھ چودھری اور کلیان سنگھ کی چھٹی کرواکر سماج وادی میں ایک مضبوط پوزیشن بنالی ہے ۔پچھلے دنوں وہ دہلی کی شاہی جامع مسجد کے امام احمد بخاری کی مخالفت کرکے بھی خوب میڈیا کی توجہ اپنی جانب کرائی تھی ۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اعظم خان میڈیا میں آنے کا فن خوب جانتے ہیں ۔اس قبل بابری مسجد تحریک اور موقعہ پر متنازعہ بیان دیکر بھی وہ کافی چرچا میں تھے ۔اس کے بعد دوسرا سر سید بننے کی کوشش میں بھی انہیں خوب میڈیا کوریج ملا ۔ممبئی کے کچھ انکے بہی خواہوں نے اور کچھ متحرک تعلیمی کارکن نے ان کے اعزاز میں’’ تعلیم کی طرف لوٹتے مسلمان دشواریاں اور خدشات...... ‘‘کے عنوان سے 
سیمینار کا انعقاد کیاتھا۔
            اتر پردیس میں سماج وادی کی حکومت بننے کے بعد پہلی مرتبہ انہوں نے ممبئی کا دورہ کیا یہ دورہ آرگنائز کیا گیا تھا دلی کی دو غیر سرکاری تنظیموں اردو پریس کلب اورمائناریٹیز فورم آف انڈیا کے ذریعہ۔ انکے ساتھ ا تر پردیس کے کئی ایم ایل اے اور راجیہ سبھا کے رکن بھی تھے ۔منور سلیم جو کہ مدھیہ پردیش سے سماج وادی کے رکن راجیہ سبھا ہیں اور جن کی نامزدگی میں اعظم خان پیش پیش رہے تھے نے اعظم خان کو اپنا قائد کہتے ہوئے کہا کہ اعظم خان اس شخص کا نام ہے جس نے حکومت میں آنے کے بعد اپنے لئے کسی پیٹرول پمپ کا لائسنس نہیں مانگا نہ ہی کسی انڈسٹریل ایریا میں کوئی پلاٹ مانگا بلکہ انہوں نے قوم کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے لئے محمد علی جوہر یونیور سٹی مانگا ۔پروفیسر آئی یو خان نے کہا کہ ہم کوشش ہی نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہم پیچھے ہیں ۔گرچہ ہمارے تعلیمی اداروں کے ساتھ کافی پریشانیاں ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں ہمت نہیں ہارنا چاہئی۔ سید شعیب رضا نے کہا کہ پینسٹھ سالوں میں چالیس سال تو ہم عالم بے چارگی میں رہے جس میں تعلیم معاش سمیت مسلمان زندگی کے تمام شعبوں میں پچھڑ گئے لیکن ادھر بیس پچیس سالوں سے تعلیمی میدان میں ہم نے جو کا کیا ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں جس کی وجہ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اب ہم میں صرف انپڑھ اور جاہل ہی نہیں بلکہ اب ہم میں شاندار تعلیمی تکنیکی مہارت رکھنے والے بے شمار نوجوانوں کی تعداد ہی،جو اپنا راستہ خود چن سکتے ہیں۔خالد عرفان جو کہ اتر پردیش اسمبلی میں سماجوادی کی طرف سے نمائندگی کرتے ہیں نے کہا کہ قرآن کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک خود اسے اپنی حالت کے بدلنے کا خیال نہ ہو۔قرآن کا ہی دوسرا قول ہے کیا علم والے اور بغیر علم والے برابر ہوسکتے ہیں۔پھر بھی تعلیمی پسماندگی کی وجہ کیا ہے ۔کسی قوم کی ترقی تعلیم کے بغیر ناممکن ہے ۔اتر پردیش کے مسلمانوں نے ملک کے مسلمانوں کو یہ اشارہ دیا ہے کہ ہم حالات کا ڑخ بدل ڈالیں ۔انکا اشارہ یقینا اس بات کی طرف تھا کہ جس کانگریس نے آزادی 
کے ۵۶ سالوں میں مسلمانوں کو جہاں پہنچایا ہے اب مسلمان بھی کانگریس کو وہیں پہنچائیں ۔
            اعظم خان نے کہا کہ نبی ؐ پر پہلی وحی ہی اقراء سے شروع ہوئی اس کے باجود ہم تعلیم میں پچھڑ گئے ۔تعلیم تو اللہ کا حکم ہی۔انہوں نے کہا کہ میری تربیت مادر علمی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے کی ہی۔ ہم نے محمد علی جوہر یونیورسٹی اس لئے بنائی ہے کہ قوم کی تعلیمی پسماندگی کو دور کیا جاسکے ۔میں سرسید کے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے لیکن سر سید کو جس طرح قوم نے ذلیل کیا میں اپنے ساتھ ویسا نہیں ہونے دونگا کیوں کہ میں سر سید نہیں ہوں ۔کانگریس کے بارے میں کہا کہ ۶دسمبر ۲۹۹۱ کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد کانگریس کے وزیر اعظم نرسمہا رائو نے کہا تھا کہ’’ مسلمان اداس نہ ہوں مسجد وہیں بنے گی ‘‘ ۔ہمیں آج بھی اس وعدے کے وفا کا ہونے کا انتظار ہی۔ہمیں اپنے سیاسی فیصلے خود ہی کرنا ہے ہم آپ کی مردہ نمائندگی نہیں کرتے ہم آپ کو مایوس نہیں کریں گے آپ نے دیکھا کہ ’]کلیان سنگھ کے ایشو پر ہماری بات مانی گئی‘‘۔بھارت میں ۲۵ یونیورسٹی ایسی ہے جس کے پرو وائس چانسلر اس کے قائم کرنے والے ہیں لیکن چونکہ میں مسلمان تھا اس لئے کانگریس کی حکومت نے ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا ۔آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ اس یونیورسٹی کی مخالفت میں کانگریس سب سے آگے تھی ۔اعظم خان نے کہا کہ مایا وتی حکومت نے  نو سو دو کروڑ روپیہ جو مدارس کے لئے آئے تھے اس میں سے ایک روپیہ بھی مدارس کو نہیں ملے وہ پوری رقم اسی طرح واپس ہو گئی۔حج سبسڈی پر انہوں نے کہا کہ حکومت ہند مسلمانوں کو ذلیل کر رہی ہی۔سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ کہ دس سالوں میں حج سبسڈی ختم کی جائے میرا کہنا ہے کہ اگر یہ سبسڈی جائز ہے تو اسے جاری رہنا چاہئے اور اگر ناجائز اور خلاف قانون ہے تو پھر دس سالوں کا انتظار کیوں اسے فی الفور ختم ہونا چاہئی۔آخر میں کہا کہ میرے جیسا کمزور انسان جب ایک یونیورسٹی بنا سکتا ہے تو پھر ممبئی کے مسلمان تو ایسی کئی یونیورسٹیاں بناسکتے ہیں۔انہوں نے وعدہ کیا کہ جس دن محمد علی جوہر یونیورسٹی کا افتتاح ہوگا اسی دن میڈیکل کالج کی بھی بنیاد رکھ دی جائے گی۔اعظم خان کے مذکورہ بالا بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر اعظم خان اپنے پرو وائس چانسلر بننے پر نہ اڑتے تو آج محمد علی جوہر یونیورسٹی بن چکی ہوتی اور جو رقم انہوں نے اس پرائویٹ یونیورسٹی کو بنانے پر خرچ کی ہے اس سے قوم کے دوسرے فلاحی کام بھی ہوسکتے تھے

Sunday, May 20, 2012

مئی ٹیپو سلطان کی شہادت کا مہینہ ہے

-مئی کا مہینہ شہیدان محبت کے امام‘حریت کے پروانے ’’سلطان ابوالفتح علی ٹیپو‘‘کی شہادت کا مہینہ ہے ۔ جس نے غیرملکی اقتدارکوروکنے کے لیے اپنی پوری زندگی مجاہدانہ سرگرمیوں میں بسرکی۔ وطن کوغیرکی غلامی سے بچانے کے لیے اپنا آرام چین بھلادیا اور اپنی زندگی اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے قربان کردیا اور آخرکار خود بھی مردانہ وارلڑتاہوا شہیدہوگیا سلطان ٹیپوکی شہادت پرلارڈہارس بے اختیارپکاراٹھاکہ ’’آج ہندوستان ہماراہے‘‘ تمام بڑے مورخ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ 1764ء میں سندھیا کی وفات کے بعدانگریزہندوستان کی سرزمین پرمکمل قبضہ کی راہ میں صرف ایک شخصیت کو اپنا حریف سمجھتے تھے اوروہ تھا میسورکا مسلم فرمانروا ’’ٹیپوسلطان‘‘ ہندوستان کو غلامی سے بچانے کے لیے ٹیپو نے اس وقت کی ہندوستان کی تمام طاقتوں کو انگریزوں کے خلاف متحدہونے کی دعوت دی۔ حالانکہ اس وقت کے والیان ریاست متحدہ قومیت کے تصورسے بھی آشنا نہیں تھے۔ ٹیپونے مرہٹوں اورنظام دونوں کو آنے والے خطرے سے آگاہ کرنے کی کوششیں کی انہیں متحد ہوکر آزادی کے حفاظت کی ترغیب دلائی لیکن افسوس ذاتی اقتدار اورشخصی مفاد کے خاطر انگریزوں کا ساتھ دیا گیا بالکل اسی طرح جیسے آج اپنے اقتدارکو قائم رکھنے کے لیے امریکیوں کا ساتھ دیا جارہاہے۔ لیکن اقتداررہا نہ حکومت ‘وہاں یہ ہواکہ پوری ہندوستانی قوم غلامی کی دلدل میں دھنس گئی جس پر ہرتاریخ داں نے انہیں غداران قوم کے لقب سے پکارا۔ اقبال نے کہا۔ جعفر از بنگال وصادق از دکن ننگِ آدم ننگ دیں ننگ وطن لیکن افسوس کہ نہ جعفروصادق سبق سیکھتے ہیں نہ ان کے حامی وموالی ہی عقل سے کام لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہی ہے کہ ہم نے اپنی آزادی کے حقیقی ہیروں کو بھلادیا۔ غلامی اورمحکومی سوچ وفکرمیں ایسے بسائی کہ آقائوں کی ہراداکو دل سے لگایا ان کے طورطریقے ادب وآداب تہذیب وثقافت زبان لباس ہرچیزکو اپنایا ان کی خوشی کو اپنی خوشی اور ان کی ناراضگی کو اپنی ناراضی کہا ہی نہیں سمجھابھی لہٰذا ہم نے اپنی تاریخ میں آزادی کے ان تمام ہیرووںکوجگہ نہ دی جنہوں نے انگریزوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ سراج الدولہ‘ حافظ رحمت خان‘ شاہ اسماعیل شہید اورسید احمدشہید سب کو فراموش کردیا۔ یہ سب اس طقبے نے کیا جو اہل دانش کی حیثیت رکھتاہے جس کی بنیادی ذمہ داری قومی زندگی کو استحکام اورقوت فراہم کرناہوتی ہے۔ اقبال نے تاریخ کی گردصاف کرکے ہمیں ان کی یاددلائی لیکن اب تو لگتاہے کہ اقبال کوبھی ہم نے فراموشی کے پردوں سے ڈھانپنے کا ارادہ کرلیاہے۔ مہینوںکیا سالوں گزرجاتے ہیں ریڈیو ٹی وی پر نہ اقبال کی شاعری سنائی دیتے ہیں نہ اس کی فکرسے آگاہی کا کوئی پروگرام کیاجاتاہے۔ یوں نئی نسل اقبال سے ناآشنا سی ہوتی جارہی ہے۔ اقبال ٹیپوسلطان سے اپنی ملاقات کا حال جاوید نامے میں یوں کہتے ہیں ۔ آں شہیدانِ محبت را امام آبروئے ہندوچین وروم وشام نامش از خورشید ومہ تابند تر خاک قبرش از من وتو زندہ تر یعنی اے اقبال! سلطان ٹیپوشہیدانِ محبت کا امام تھا اور مشرقی ممالک کی آبرو(آزادی) اس کی ذات سے وابستہ تھی آج اس کا نام سورج اورچاند سے زیادہ روشن ہے اور اس کی قبرکی مٹی ہندوستان کے رسمی مسلمانوں سے زیادہ زندگی کے خواص اور آثاراپنے اندر رکھتی ہے۔ سیاسی تدبر اور حسن تدبیرمیں ٹیپوسلطان کو تمام ہندوستانی بادشاہوں پربلند مقام حاصل ہے۔ وہ ہندوستان کے مقتدر حلقوں میں پہلا شخص تھا جس نے انگریز بادشاہت کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اس میں پنہاں خطرات کو پوری طرح محسوس کیا اور ان کو روکنے کے لیے بہترین تدابیرجوکچھ ہوسکتیں تھیں کیں۔ اس نے فوجی طاقت کے علاوہ صنعتی اورتجارتی شعبوں کی اہمیت کو محسوس کیاتمام گردونواح کے مسلمانوں کو دعوت دی کہ وہ سمٹ کر اس کی سلطنت میں جمع ہوجائیں۔ کیونکہ مضبوط متحد آبادی کی اہمیت سے واقف تھا۔ اس نے مسلم اورغیرمسلم ریاستوں کو انگریزوں سے مقابلہ کرنے کے لیے متحدکرنے کی بھی حتی الامکان کوشش کی۔ ان تمام حکمتوں اور قابلیت کے باوجود وہ ناکام رہا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ نظرآتی ہے کہ وہ تمام قابلیتیں اورخوبیاں اس کی شخصی تھیں اجتماعی نہیں تھیں…ہندوستان کے لوگ اخلاقی طورپر بری طرح بگڑچکے تھے۔ سب سے بڑھ کرہرفرد اپنے اپنے ذاتی فائدے کے لیے ہرانتہا پرجانے کے لیے تیارتھا۔ لہذا جہاں اجتماعی فائدے کے بجائے ذاتی فائدہ اہم بن جائے فردقوم کے بجائے اپنی ذات کو مقدم رکھے تو وہاں کسی دوسری قوم کو غلبے سے روکنا ممکن نہیں رہتا۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’اوراس فتنے سے بچتے رہو جواگر اٹھا تو اس کی زد انہی پرنہیں پڑے گی جو تم میں ظلم کرنے والے ہیں بلکہ سبھی اس کی لپیٹ میں آجائیں گے۔ (سورہ انفال) حضرت عبداللہ بن عباسؓ جن کو رسول اللہ نے ’’ترجمان القرآن‘‘ کا خطاب دیا تھا’’فتنہ‘‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’لَسّلَطُ الظَلِمَتِہ‘‘ یہ ظالم قوم کا تسلط ہے۔ قرآن میں اسی سورہ میں بھی دوآیت کے بعد اس ظلم کی تفسیر فرمادی گئی کہ کون سی بداعمالی ہے جس کا ارتکاب اگر قوم کے بعض افراد کریں تو تمام قوم کی قوم محکوم بنادی جاتی ہے فرمایاگیا’’مسلمانوں ایسا نہ کروکہ اللہ اور اس کے رسول سے خیانت کرو اور نہ یہ کہ آپس کی امانتوں میں خیانت کرو‘‘ اللہ کی سنت یہ ہی ہے کہ جب کسی قوم کے مقتدر افراد قومی اورملی خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں تو ان کی بداعمالی کی سزامیں تمام قوم کی قوم غلام اور محکوم بنادی جاتی ہے۔ یہ نوشتہ تقدیرہے جسے پڑھااورسمجھانہیں گیا تو غلامی کی دلدل میں دھنسنا پھرمقدرٹھہرے گا۔

Saturday, May 19, 2012

تعزیتی نشست









لنترانی ڈاٹ کام  اور بھڑاس نامی ویب سائٹ کے بانی اور 
روح رواں ڈاکٹر روپیش سری واستو  کی ناگہانی موت سے اردو طبقے میں غم کا ماحول  بن گیا ہے ۔اسی موقع پر گل بوٹے  فاؤنڈیشن کی جانب سے  احمد ذکریا ہال  انجمن اسلام  سی ایس ٹی میں تعزیتی نشست  کا انعقاد کیا گیا تھا۔ڈاکٹر کلیم ضیاء نے  روپیش سری واستو  کی شخصیت پر  قطعات پیش کيۓ۔عرفان  جعفری  نے انھیں منظوم خراج   پیش کیا ۔جسے وہاں تمام لوگوں نے پسند کیا ۔گل بوٹے کے  مدیر فاروق سیّد  نے اپنے خیالات  کا اظہار کرتے ہوۓ  بتایا  کہ کس طرح  روپیش ان کی علالت کے موقع پران سے ملنے گۓ ۔اور دواؤں کے ساتھ ساتھ  اپنے خلوص سے  انہیں مقروض کردیا  ۔اس واقعے کو یاد کرتے ہوۓ  فاروق سیّد نے کہا  کہ یہ  قرض  اتارنے  کے لۓ  انہیں کسی بھی  مریض کے ساتھ  وہی حسن سلوک کرنا ہو گا ۔روزنامہ ہندوستان کے  مدیر سرفراز  نے اپنے خیالات  کا اظہار  کرتے ہوۓ  کہا کہ  ہم اپنی  صحت سے متعلق سوچتے ہیں۔ مگر وہی ہوتا ہے ۔جو خدا کو منظور ہوتا ہے ۔ زبیر اعظم اعظمی  نے کہا  کہ  اردو کا کوئی بھی پروگرام ہو سکتا تھا ۔یہی روپیش کی خوبی بھی   عبدالا حد ساز نے کہا کہ مجھے تو روپیش کی موت  کی خبر  سن کرمجھے یقین ہی نہیں آیا ۔اس موقع پر شہر کی معزز شخصیات موجود تھیں ۔ حامد اقبال صدیقی، ڈاکٹر قاسم امام ، اقبال نیازی،شمشیر پٹھان ، انجمن کے نائب صدر حسین پٹیل ، ریحانہ اندرے ، شیخ  عبداللہ ، ڈاکٹر مصطفی پنجابی ، سلیم الوارے ،افسر دکنی،فاروق سیّد ، مسسز نجمہ قاضی ، نادرہ موٹلیکر، نجمہ امتیاز،  غزالہ آزاد ،آیڈوکیٹ زبیر اعظم اعظمی، نجر بجنوری، آصف پلاسٹک والا شاداب صدیقی، منوج وراڈے ، شاداب رشید ،اجۓ سکسینہ ،اور مالیگاؤں اور پونہ سے بھی دیگر اشخاص نے شرکت کیں ،آخری میں ڈاکٹرروپیش سری واستو کی زندگی پر ایک ڈاکیومینٹری دکھائی گئي۔ اوران کے نام پر ہر سال ایوارڈ دینے اور اردو اسکول کا نام روپیش سری واستو کے نام سے منسوب کرنے کی تجویز رکھی  گئی ۔جس کی تائيد سب نے کیں۔    

Monday, May 14, 2012

ماں‘ میرے لیے خاص کیوں ہے؟



میری ماں میرے لیے خاص کیوں ہے؟ جب میں سخت بارش میں گھر آیا تو میرے بھائی نے استفسار کیا: تم نے چھتری کیوں نہیں لی؟ میری بہن نے کہا: تم نے بارش رکنے کا انتظار کیوں نہ کیا؟ والد صاحب نے تنبیہہ کی کہ تم بیمار ہوئے تو تمہاری خیر نہیں۔ مگر ماں، جو اب تک میرے بال خشک کررہی تھی بولی: اے بارش، میرے بچے کے گھر پہنچنے تک انتظار تو کرلیتی۔ یہ ہے ماں… نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھا کہ میں نے اپنی معذور ماں کو کاندھوں پر بٹھاکر حج کروایا ہے، کیا میرا حق ادا ہوگیا؟ ارشاد فرمایا: ابھی تو اُس ایک رات کا حق ادا نہیں ہوا جس رات تُو نے بستر گیلا کردیا تھا اور تیری ماں نے تجھے خشک جگہ پر سلایا اور خود گیلے میں سوئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب اپنی والدہ کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لیے کوہِ طور پر تشریف لے گئے تو ایک غیبی آواز آئی: ’’اے موسیٰ، اب ذرا سنبھل کے آنا اور سوچ سمجھ کر گفتگو کرنا۔‘‘ حضرت موسیٰ بہت حیران ہوئے اور پوچھا ’’یاباری تعالیٰ وہ کیوں؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اب تمہارے لیے مجھ سے رحم و کرم اور عنایت کی دعا کرنے والی ماں اس دنیا میں نہیں رہی۔‘‘ ماں… احسانات، احساسات، خوبیوں اور جذبات کا وہ مجموعہ ہے جو سارے زمانے کے وار اور موسم کی سختیاں اپنے جسم پر سہتی ہے مگر اس کا ہر لمحہ رشتوں کو پیار کی ڈوری میں پروتے اور اپنی اولاد کے لیے خوشیاں خریدتے گزرتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک دوست کے پاس اُس کی والدہ کی وفات کا افسوس کرنے گیا تو اُس نے بتایا کہ اس کی ماں نے اس کی آسائشوں کی خاطر اس سے آٹھ جھوٹ بولے اور وہ چاہنے کے باوجود اس کے لیے کچھ نہ کرسکا۔ اس نے بتایا کہ ’’اس کی ماں ہمیشہ سچ نہیں بولتی تھی۔ وہ ایک غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اکثر کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا۔ اگر کبھی کچھ مل جاتا تو ماں اپنے حصے کا کھانا بھی اسے دے دیتی اور کہتی تم کھالو مجھے بھوک نہیں ہے۔ یہ اس کی ماں کا پہلا جھوٹ تھا… تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کرکے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے چلی جاتی۔ ایک دن بالآخر اس نے دو مچھلیاں پکڑلیں، انہیں جلدی جلدی پکایا اور اس کے سامنے رکھ دیا۔ وہ کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا بہت لگا رہ جاتا اسے اس کی ماں کھاتی۔ اس نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی۔ اس نے واپس کی اور کہا: بیٹا تم کھالو مجھے مچھلی پسند نہیں ہے۔ یہ اس کی ماں کا دوسرا جھوٹ تھا… جب وہ اسکول جانے کی عمر کا ہوا تو اس کی ماں نے ایک گارمنٹس فیکٹری میں ملازمت اختیار کرلی، سردی کی ایک رات جب بارش زوروں پر تھی، وہ ماں کا انتظار کرتا رہا جو ابھی تک نہیں آئی تھی، بالآخر وہ اسے ڈھونڈنے آس پاس کی گلیوں میں نکلا، دیکھا تو وہ لوگوں کے دروازوں پر کھڑی سامان بیچ رہی تھی، اس نے کہا: ماں اب بس بھی کرو، سردی بھی بہت ہے، رات بھی ہوگئی ہے اور تم تھک بھی گئی ہو، باقی کل کرلینا، تو ماں بولی: بیٹا میں بالکل نہیں تھکی۔ یہ اس کی ماں کا تیسرا جھوٹ تھا… ایک روز اس کا فائنل پیپر تھا، اس کی ماں نے ضد کی کہ وہ بھی اس کے ساتھ چلے گی۔ وہ اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی اس کے لیے دعا کررہی تھی۔ وہ باہر آیا تو اس کی ماں نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا اور ٹھنڈا جوس لے کر دیا۔ اس نے ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھ کر جوس اس کی طرف بڑھایا تو بولی: مجھے پیاس نہیں ہے۔ یہ اس کی ماں کا چوتھا جھوٹ تھا… اس کے باپ کی موت ہوئی تو زندگی مزید مشکل ہوگئی، اکیلے گھر کا خرچ چلانا آسان نہ تھا، اکثر نوبت فاقوں تک آجاتی۔ رشتہ داروں نے ان کی حالت دیکھ کر ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا مگر ماں نے کہا: ’’مجھے کسی سہارے کی ضرورت نہیں‘‘۔ یہ اس کی ماں کا پانچواں جھوٹ تھا… گریجویشن مکمل کرنے پر اچھی ملازمت مل گئی، سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے وہ بہت بوڑھی ہوگئی ہے۔ اس نے ماں کو کام سے روک دیا اور اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ اس کے لیے مختص کردیا۔ ماں نے انکار کیا اور کہا کہ اسے پیسوں کی ضرورت نہیں۔ یہ اس کی ماں کا چھٹا جھوٹ تھا… حصولِ روزگار کے لیے وہ بیرون ملک چلاگیا۔ کچھ عرصے بعد ماں کو اپنے پاس بلایا تو اس نے بیٹے کی تنگی کے خیال سے منع کردیا اور کہا کہ اسے گھر سے باہر رہنے کی عادت نہیں۔ یہ اس کی ماں کا ساتواں جھوٹ تھا… ماں کو کینسر ہوا، وہ بہت لاغر ہوگئی۔ وہ اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھ کر خون کے آنسو رونے لگا، ماں اسے دیکھ کر مسکرائی اور بولی: مت رو بیٹا، میں ٹھیک ہوں۔ یہ اس کی ماں کا آٹھواں جھوٹ تھا، اور پھر اس کی ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرلیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب ماں کی تخلیق کی تو اسے رحمت کی چادر، چاہتوں کے پھول، پاکیزہ شبنم، دھنک کے رنگوں، دعائوں کے خزانوں، زمین و آسمان کی وسعتوں، جذبوں، چاہتوں، چاند کی ٹھنڈک، خلوص، رحمت، راحت، برکت، عظمت، حوصلے اور ہمت کے تمام رنگوں سے مزین کیا، یہاں تک کہ اس کے قدموں میں جنت ڈالی۔ یوں ماں قدرت کا بہترین تحفہ اور عطیہ ہے جس کی قدر ہم پر فرض بھی ہے اور قرض بھی۔ ’’ماں‘‘… یہ لفظ بہت سے معنی اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔ ممتا، پیار، وفا، قربانی، محبت، لگن، سچائی، خلوص، پاکیزگی، سکون، خدمت، محنت، عظمت، دعا، سایہ، دوست، ہمدرد، راہنما، استاد، بے غرضی، معصومیت، عبادت، ایمان، دیانت، جذبہ، جنت، یہ سب ماں کی خوبیوں کی صرف ایک جھلک ہے، ورنہ اس کی خوبیاں تو اس قدر ہیں کہ لفظ ختم ہوجائیں مگر ماں کی تعریف ختم نہ ہوگی۔ پس ’’ماں‘‘… ایک ایسا موضوع ہے کہ قلم بھی جس کا احاطہ نہیں کرپاتا۔ اس موضوع پر بہت ضخیم کتب لکھی جاسکتی ہیں مگر ماں کے احسانات، احساسات اور چاہتوں کا بدلہ تب بھی نہیں چُکتا۔ والدین کے احسانات کے بارے میں سوچنے بیٹھیں بھی، تو سوچ ان کے احسانات کے مقابلے میں بہت پیچھے دکھائی دیتی ہے۔ مائیں عزم و حوصلے اور ایثار و قربانی کا پیکر ہوتی ہیں۔ ہم تو مائوں کی ایک رات کا قرض بھی نہیں چکا سکتے۔ میرزا ادیب اپنی کتاب ’’مٹی کا دیا‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’اباجی مجھے مارتے تھے تو امی بچا لیتی تھیں، ایک دن میں نے سوچا کہ اگر امی پٹائی کریں گی تو اباجی کیا کریں گے؟ یہ دیکھنے کے لیے میں نے امی کا کہا نہ مانا، انہوں نے بازار سے دہی لانے کو کہا میں نے بات نہ مانی، انہوں نے سالن کم دیا میں نے زیادہ پر اصرار کیا، انہوں نے کہا پیڑھی کے اوپر بیٹھ کر روٹی کھائو، میں زمین پر دری بچھاکر بیٹھ گیا، لہجہ بھی گستاخانہ اختیار کررکھا تھا۔ مجھے پوری توقع تھی کہ امی ضرور ماریں گی، مگر انہوں نے مجھے سینے سے لگاکر کہا: کیوں بیٹا! ماں صدقے جائے تم بیمار تو نہیں؟ اُس وقت میرے آنسو تھے کہ شرمندگی کے مارے رکنے میں نہیں آرہے تھے۔ جب بھی میرے دل کی مسجد میں تیری یادوں کی اذان ہوتی ہے اے ماں میں اپنے ہی آنسوئوں سے وضو کرکے تیرے جینے کی دعا کرتا ہوں بلاشبہ ماں کا وجود ایک نعمت اور اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی انسان کامیاب ہے تو اس کے پیچھے اس کی ماں ہی کا ہاتھ ہے جس کا آج وہ ثمر پارہا ہے۔ ان کی مائوں نے پال پوس کر ان پودوں کو تناور درخت بنایا اور اپنی مائوں ہی کے طفیل آج یہ پیڑ عمدہ اور رسیلا پھل دے رہے ہیں۔ ان کی تربیت میں جو خوبیاں ہیں وہ ان کی مائوں ہی کی مرہونِ منت ہیں۔ ماں کا وجود صرف گھر کے لیے ہی نہیں بلکہ ہماری زندگیوں کے لیے بھی مقدس صحیفے کی مانند ہے۔ ماaں تو تپتے صحرا میں بوند برسنے کا نام ہے۔ یہ کڑی، چلچلاتی دھوپ میں ابر کی مانند ہے۔ دعا ہے کہ جن کے والدین حیات ہیں خدا کرے ان کا سایہ ہمیشہ سلامت رہے اور وہ ہر دکھ، پریشانی، آفت اور آزمائش سے محفوظ ہوں۔ اور جو لوگ والدین کی نعمت سے محروم ہیں وہ اس دعا کا ورد کرتے رہا کریں: … رب ارحمھما کما ربینی صغیرا …

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP