بے حد خوب صورت تحریر !!زمانہ تھا نو عمری کا جب ہم لاہور کی گلیوں میں گھوما کرتے تھے، ہمارا ہیڈ کوارٹر تھا ریگل چوک ،دوپہر اور شام کے مخصوص گھنٹوں میں سارے یار دوست جمع ہو جاتے، ٹمپل روڈ کی جانب مڑنے والی سڑک کونے پر بک شاپ کے ساتھ سموسوں کی دکان تھی( جو ابھی تک اسی خستہ حالی اور اسی دیرینہ ویٹر کے ساتھ قائم دائم ہے)، یہاں سے ہمیں ادھار سموسے بھی مل جاتےریگل چوک ہماری بے شمار یادوں کا امین ہے، وہاں گزرا ہوا ہر ہر دن ایک ایک کہانی ہے، اس زمانے میں جو لوگ اس چوک میں روزانہ ملا کرتے وہ سب تاریخی کردار ہیں، ریگل چوک کا بس اسٹاپ بہت اہم تھا، دکھاوے کا زمانہ نہیں تھا، بڑے نام اور بڑے قد کے لوگ بھی بس یا ویگن میں سفر کیا کرتے تھے، قتیل شفائی اور بہت ساری دیگر ہستیوں کے ساتھ منیر نیازی بھی اسی بس اسٹاپ سے گھر واپس لوٹتے، رات سات اور آٹھ بجے کے درمیان منیر نیازی پاک ٹی ہاؤس سے تیز قدموں کے ساتھ چلتے ہوئے یہاں پہنچتے، میرے سلام کے جواب میں وہ روزانہ ایک ہی فقرہ دوہراتےِِ"کاکا، اپنے پیو نوں کویں چنگا ویلہ آون والا اے" میں جواب میں، اچھا چاچا جی،، کہتا اور منیر نیازی کسی بس یا ویگن میں بیٹھ جاتے،کئی بار ان سے پی ٹی وی میں کسی پروڈیوسر کے ساتھ یا اسٹوڈیو فلور پر بھی ملاقات ہو جاتی، منیر نیازی بہت خوبصورت اور وجییہ تھے، گرمیوں کے موسم میں شلوار قمیض میں خوب جچتے ، میں ان دنوں آصف شاہکار کے پنجابی پروگرام نویں رت کے لئے اسکرپٹ اور گیت لکھا کرتا تھا، اس پروگرام کی میزبان ستنام محمود تھیں، یہ خاتون تھوڑی سی ایجڈ ہونے کے باوجود مجھے مسرت نذیر کی طرح خوبصورت لگتی تھی،بے لگام وقت تیزی سے دوڑتا رہا، اچھا زمانہ آنے کی منیر نیازی کی پیش تو پوری نہ ہوئی، البتہ ہاشمی صاحب کی عمر کی نقدی ضرور ختم ہو۔ گئ اور یادیں ہی باقی رہ گئیں ہاشمی صاحب کی برسی کا سلسلہ شروع ہوا تو مصطفی قریشی، رشید ساجد، کرنل سفیر، اعجاز وکی ۔غلام محی الدین، پرویز مہدی ،عالی شاہ، شمیم احمد خان،علامہ صدیق اظہر،طارق وحید بٹ، اجمل نیازی، مسعود باری، اسلم گورداسپوری ،ناصر بھنڈارہ، شیخ اقبال،حفیظ احمد، زاہد عکاسی، قتیل شفائی، غلام مصطفی آرٹسٹ، میجر رشید وڑائچ، عطاء اللہ شاہ ہاشمی، خورشید محمود قصوری اور حبیب صاحب کی طرح منیر نیازی نے بھی باقاعدگی سے آنا شروع کر دیابرسی کی یہ تقریب آہستہ آہستہ فیسٹئول کی شکل اختیار کر گئی ، کئی لوگ تو سال بعد آپس میں یہیں ملا کرتے (یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، بہت سارے لوگ پچھلے 38 سالوں کے دوران ایک ایک کرکے بچھڑتے رہے اور ان کی جگہ نئے لوگ لیتے رہے) برسی والے دن کھانے کے بعد نیازی صاحب اور بعض دوسرے احباب اچھرے والے گھر کی اوپری منزل پر بیٹھ جاتے اور یادیں دہرانے کا پیریڈ شروع ہو جاتا، منیر نیازی سے کلام سنانے کی فرمائش ہوتی تو وہ چند شعر سنا کر احمد ندیم قاسمی اور ان کے چیلوں کے خلاف تقریر شروع کر دیتے، یا سندر بن میں نظر آنے والی اس لڑکی کو یاد کرتے جو ہمیشہ کے لئے ان کے اعصاب پر سوار ہوگئی تھی ، وہ لڑکی جس کی آنکھیں جھیل سے زیادہ گہری تھیں، منیر نیازی خود پر حیرت طاری کرکے ٹھڈا سانس لیتے اور پھر کہتے ،،کیا آنکھیں تھیں وہ،،، ،اگر کوئی بیچ میں بول پڑتا تو منیر نیازی صاحب سخت برہم ہوتے،موت سے پہلے آخری بار جب منیر نیازی برسی کی تقریب میں شریک ہوئے تو علامہ صدیق اظہر نے دانستہ انہیں ناراض کیا، وہ کوئی بھی بات کرتے تو علامہ ٹوک دیتا، ،، خاں صاحب ایسے نہیں ایسےِِ ہوا تھا،،، بالآخر نیازی صاحب ناراضی کے عالم میں میرے گھر کی سیڑھیاں اتر گئے ، دروازے سے باہر نکلے تو یاور حیات کو آتے دیکھ لیا، نیازی صاحب نے یاور صاحب سے پوچھا،، خاور کے گھر جا رہے ہو؟ ،، جی،، منیر نیازی نے مشورہ دیا، نہ جاؤ تو اچھا ہے، وہاں خاور نے بہت سارے بد تمیز بٹھا رکھے ہیں ۔منیر نیازی صاحب میرے بیٹے کی پہلی سالگرہ میں شریک ہوئے تو ٹرپل ایس سسٹرز کے بھائی خلیل احمد نے پہلی بار ان کی اجازت سے کسی محفل میں اپنی اواز کا جادو دکھایا ، اس کے چند مہینوں بعد اس کی غزل بہت پاپولر ہوئی،، کپڑے بدل کے جاؤں کہاں،،نیازی صاحب نے خلیل کو داد اس کی ایک ایس (سسٹر) کو گلے لگا کر دی۔۔۔میں نے 2004 میں نیازی صاحب کی شاعری اور شخصیت پر ڈاکو منٹری بنانے کی ٹھانی تو انہوں نے اس شرط پر حامی بھری کہ میں انہیں پیسے دوں گا، وہ پیسے لئے بغیر کسی مہ لقا کے ساتھ ڈیٹ پر بھی نہیں جاتے تھے، اس ڈاکومنٹری کی تیاری کے دوران ایک دن امجد اسلام امجد کے تاثرات لینے گیا تو اس نے (گالی دے کر) کہا ،، اگر وہ (منیر نیازی) تھوڑا پڑھا لکھا ، ہوتا تو بہت بڑا شاعر ، امجد اسلام امجد کے پاس منیر نیازی کے لئے تاثرات لینے جانا میری غلطی تھی، جس کا احساس مجھے ڈاکٹر انور سجاد نے دلایا۔ڈاکٹر اجمل نیازی نے فیض پر میری رپورٹ کو اپنے کالم میں سراہا تو ضرور، لیکن یہ بھی لکھا کہ غالب اور اقبال کے بعد اردو زبان کا تیسرا بڑا شاعر فیض نہیں منیر ہے۔ایک دن میں فریدہ خانم کے گھر گیا اور ان سے فرمائش کی کہ وہ منیر نیازی کی کوئی غزل گنگنائیں۔۔۔ فریدہ خانم نے غزل شروع کی تو مجھے احساس ہوا کہ وہ ایک مصرعہ غلط بول رہی ہیں، میں نے فورآ نیازی صاحب کو فون کر دیا، نیازی صاحب ، فریدہ خانم آپ کی غزل سنا رہی ہیں ،میرے خیال میں وہ کوئی لفظ غلط کہہ رہی ہیں، نیازی صاحب نے جواب دیا کہ میری اس سے بات کرادو، میں اسے سمجھا تو دوں گا، مگر یاد رکھنا وہ تصیح نہیں کرے گی،، پھر ایسا ہی ہوا نیازی صاحب کےسمجھانے کے باوجودخانم نے درسگی نہ کی۔۔ترقی پسند ادیبوں اورشاعروں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی حکومت بننے کے بعد ان سے ملاقات کاپروگرام بنایا تو منیر نیازی نے یہ کہہ کر ساتھ جانے سے انکار کیا کہ ،، وہسکی پینے کے لئے شاعر کو بادشاہ کے دربار میں نہیں جانا چاہئیے،، میرے خیال میں یہ فلاسفی منیر نیازی کے دماغ کی عارضی کیفیت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس حوالے سے وہ ہرگز ہر گز حبیب جالب نہیں تھے،منیر نیازی میدان شاعری کے چی گویرا تھے، انہوں نے خود تو گروپ بازی نہ کی، لیکن احمد ندیم قاسمی کی وفات تک ان کے گروپ سے آڈا لگائے رکھا، وہ مخالفین اور نا پسندیدہ لوگوں کی ان کے سامنے توہین کر دیا کرتے ۔۔ڈاکٹروں نے ان کے پینے پر پابندی لگائی تو میرے لئے وہ اسی دن مر گئے تھے منیر نیازی ڈاکٹر کے ہتھے نہ چڑھتے تو شاید کچھ دن اور جی لیتے۔۔ ان کی یہ نظم ان کی شناخت تو بنی۔۔ کج شہر دے لوک وی ظالم سن کج سانوں مرن دا شوق وی سی لیکن سچ یہ ہے کہ منیر کو مرنے کا کوئی شوق نہ تھا ۔(خاور نعیم ہاشمی)--
Thursday, June 25, 2015
Behad khubsurat tehrir
Wednesday, March 05, 2014
ملک عزیز میں عدل اور عدالت کا مطلب
بات لمبی ہو جائے گی لیکن ہم اصل بات کی طرف آتے ہیں ۔راجیو گاندھی کے قاتلوں کو معافی جن کا جرم ثابت ہو گیا کہیں مقدمات میں کسی کمی یا فرضی دستاویزات پیش کرکے فرضی چارج شیٹ کا کوئی معاملہ کہیں روشنی میں نہیں آیا یعنی کہ وہ واقعی قتل کی سازش میں ملوث ہیں ۔اب سے ایک سال قبل بڑی افراتفری میں افضل گورو کو پھانسی دیدی گئی اور اس کی لاش بھی اس کے گھر والوں کو نہیں سونپی گئی ۔افضل گورو کا گناہ صرف یہ تھا کہ اول تو وہ کشمیری تھا اوردوئم وہ مسلمان بھی تھا۔اور ملک عزیزمیں یہ دونوں نام اور کردار والے لوگ معتوب ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسے پھانسی دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی گئی نہ کسی کو کوئی رحم آیا اور نہ ہی کسی نے اس پر احتجاج کیا ۔جنہوں نے اس پر احتجاج کیا ان کی باتوں کو ان سنا کردیا گیا اور کافی عرصے سے ایسا ہی ہو رہا ہے ۔اگر آپ کی بات میں دم ہے اور آپ اس کو مضبوط دلائل کی روشنی میں لوگوں کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں تو اسے نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔ہمارے سامنے دو مثالیں موجود ہیں ۔مثالیں تو اور ہوں گی لیکن اس پر نہ توتحقیق ہوئی اور نہ وہ منظر عام پر آئیں۔ ایک معاملہ تو یہی افضل گورو کا ہے جس کو پھانسی کی سزا سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کوئی واضح ثبوت نہیں ہوتے ہوئے بھی عوام کی اجتماعی ضمیر کی تسکین کیلئے اس کو پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے ۔اب یہ اجتماعی ضمیر ہے کیا اور اس کی تخلیق کس طرح ہوئی یہ بھی ایک دلچسپ اور عدلیہ اور انتظامیہ کی مسلمانوں کے تئیں گھناؤنے نفرت اور نسلی امتیاز کو دکھاتا ہے ۔افضل غورو کو گرفتار کرنے کے بعد اسے سخٹ اذیت دیکر اس سے ایک ویڈیو بیان لیا گیا اور اس ویڈیو بیان کو ٹی وی چینلوں پر نشر کیا گیا ۔یہ ویڈیو بیان اسے اس دھمکی کے ساتھ لیا گیا تھا اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس کا انجام اس کے گھر والوں کو بھگتنا ہوگا ۔سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے پر مشہور مصنفہ اور سماجی کارکن اروندھتی رائے نے سخت احتجاج کیا لیکن اسے نظر انداز کردیا گیا۔دوسری مثال ممبئی کے26/11 دہشت گردانہ حملہ پر مہاراشٹر پولس کے سابق آئی جی ایس ایم مشرف کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالات ہیں جس پر انہوں نے ایک پوری تحقیقاتی کتاب بھی لکھ ڈالی ’’ہو کلڈ کرکرے‘‘ جو کہ اردو میں ’’کرکرے کے قاتل کون‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی اور بھی کئی ہندوستانی زبانوں میں اسے اشاعت کا شرف حاصل ہوا ۔مشرف کی مذکورہ کتاب پر بامبے ہائی کورٹ میں ایک شخص نے پی آئی ایل بھی داخل کیا کورٹ نے حکومت کو نوٹس بھی جاری کیا لیکن اس کے بعد پتہ نہیں کہ کیا ہوا ۔عوام کو اس قدر الجھا دیا گیا ہے کہ اس کے ذہنوں پر کسی نئے واقعہ کی دھول جم جاتی ہے اور پچھلا واقعہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔برسوں سے یہی ہوتا آرہا ہے ۔پولس ،نام نہاد دہشت گردی مخالف دستوں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ایسے مکروہ اور ذلیل کارنامے کئی بار منظر عام پر آگئے ہیں ۔لیکن نہ تو حکومت نے بیان بازی سے ہٹ کر کوئی ٹھوس قدم اٹھایا ،نہ ہی معمولی معمولی واقعات پر جن عدالتوں کا ضمیر بیدار ہوتا ہے اور وہ سو موٹو لیکر حکومت اور انتظامیہ کے کان پکڑنے والی عدالتوں نے اس پر کبھی اپنے ضمیر میں جھانکنے کی کوشش کی اور نہ ہی مسلم لیڈروں اور تنظیموں نے خوف کی نفسیات سے نکل کر اس پر کسی طرح کی ٹھوس کارروائی کی۔
راجیو گاندھی کے قتل کی سازش میں ملوث افراد کی سزا عمر قید میں تبدیل کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ’’جس آدمی کے سر پر پھانسی کا پھندہ لٹکتا رہے ،جس کی رحم کی درخواست پر پہلے ہی اتنی دیر ہو چکی ہے، ظاہر ہے اسے بہت تکلیف برداشت کرنی پڑی ہے ۔ان حالات میں اس کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنا ہی درست ہے‘‘ ۔جو سپریم کورٹ ان پر اتنی مہربان ہے وہ افضل گورو کے معاملے میں وہ نرمی وہ ہمدردانہ رویہ کیوں نہیں اپنا پائی؟کیا صرف اس لئے کہ وہ مسلمان تھا اور ساتھ میں کشمیری بھی ۔وہ بھی تو پھانسی کی سزا کا کافی دنوں سے منتظر تھا ۔اسے بھی تو انہی اذیتوں میں زندگی گزارنی پڑی جس میں بقول سپریم کورٹ راجیو گاندھی قتل کے مجرمین نے گزاری ہے ۔جبکہ خود سپریم کورٹ کے ہی مطابق پارلیمنٹ پر حملے کی سازش میں ملوث ہونے کا کوئی واضح ثبوت بھی نہیں تھا ۔سپریم کورٹ نے دوسرا مشورہ دیتے ہوئے ریاستی حکومت کو یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنی عمر کی مدت پوری کر چکے ہیں جبکہ یہی سپریم کورٹ ممبئی بم دھماکہ کیس میں عمر کی معیاد پوری زندگی متعین کرتا ہے ۔ اب جو لوگ جے للیتا کے خلاف مورچہ کھولے ہوئے ہیں خاص طور پر کانگریسی ورکرجنہوں نے جے للیتا کے پتلے جلائے اور احتجاج کیا ،یہ ان کا حق ہے لیکن انہیں یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ جے للیتا نے وہی کیا جو اس وقت کا تقاضہ ہے یعنی تمل باشندوں کی ہمدردی حاصل کرنا ۔کوئی بھی سیاسی پارٹی وہی کرتی جو جے للیتا نے کیاہے۔ اصل معاملہ تو سپریم کورٹ کے اس مشورے کا ہے کہ’’ حکومت چاہے تو انہیں رہا بھی کرسکتی ہے کیوں کہ وہ اپنی عمر قید کی مدت پوری کر چکے ہیں‘‘ ۔ عدالتوں سے لیکر حکومتوں تک اور انتظامیہ سے لے کر مقننہ تک مسلمانوں کے ساتھ یہ ظلم اور نا انصافی کیا رخ لے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔ہم تو صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ملک کے اتحاد اور سا لمیت کیلئے خطرناک ہے ۔اس کا تدارک کرنا اور مسلمانوں سمیت سبھی فرقوں میں یہ احساس بیدارکرانا کہ یہ ان کا اپنا ملک ہے اور اس کی ترقی اور بقا میں ہی ان کی اپنی ترقی اور بقا بھی ہے ۔لیکن یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب ارباب اقتدار ،مسلم تنظیمیں اور مسلم لیڈران اخلاس کے ساتھ عمل کریں ۔ منافقت سے نہ ملک کا اتحاد سلامت رہے گا نہ اس کے بقا کی ضمانت دی جاسکتی ہے اور نہ ہی و نئے عالمی منظر نامے میں اپنا منفرد مقام بنا پائے گا۔
Sunday, January 05, 2014
ek haqiat ek afsana
تحریر شازیہ عندلیبامروز عمران چھٹی کے روز پاجامہ بنیان پہنے باہر پائیں باغ میں اخبار کی مقامی خبروں سے محزوز ہو رہا تھا۔ماہ اپریل میں انار کے درخت کے نیچے ٹھنڈی مست خرام ہوائیں سرور دے رہی تھیں۔لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے وہ باہر چلا گیا تھا۔امروز ایک کاٹج اندسٹری کا مالک تھا۔چھوٹا سا مگر کامیاب کاروبار تھا دو بچے اور ایک خوبرو بیگم کے ساتھ زندگی خوشگوار گزر رہی تھی۔اس نے اخبار کے اندرونی صفحہ پر مقامی خبروں کی سرخیوں پر نظر دوڑائی تو طرح طرح کی ہیجان خیز سرخیوں نے اسکی توجہ مبذول کر لی ۔مگر اس دوران اسے گیٹ پر دستک کی وجہ سے تین مرتبہ اٹھ کر جانا پڑا۔ملازم چھٹی پر تھا ۔بیگم اتوار بازار خریداری کے لیے گئی ہوئی تھی۔وہ ذرا اخبار لے کر بیٹھتا دروازے پر دستک ہوتی۔لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بیل بھی نہیں بج رہی تھی مگر مجال ہے جو لوگوں کو چین ہو ۔صدر دروازے کی دستکیں مسلسل اسکی اخبار بینی میں رخنہ ڈال رہی تھیں۔ضلع ہزارہ سے چھ بچوں کی ماں عاشق کے ساتھ فرار۔میانوالی میں میاں بیوی کے جھگڑے میں پڑوسی زخمی۔شدید ٹھنڈ میں راہ والی کے راستے تودہ گرنے سے بند۔بھمبر میں بجلی کی بندش کے دوران مظاہرین کا بانس بردار مظاہرہ۔نوسر بازحسینہ شادی شدہ مرد سے رقم بٹور کر فرار۔آخری خبر نے امروز عمران کی توجہ کھینچ لی۔خبر کچھ یوں تھی۔اسلام آباد کے پوش علاقے میں ایک الٹرا ماڈرن عورت نے ایف الیون میں گیٹ پر موجود چپڑاسی سے پانی مانگا ۔چوکیدار کی غفلت سے فائدہ اٹھا تے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی وہ اسی قدر پڑھ پایا تھا کہ گیٹ پر پھر دستک ہوئی۔وہ بڑ بڑاتا ہوا اٹھا۔اب تک وہ چار مرتبہ گیٹ پر آ چکا تھا پہلی مرتبہ ودھ ولا تھا دوسری مرتبہ ایک پردہ پوش فقیرنی تیسری مرتبہ ایک بھٹکے ہوئی مسافر کو وہ بھگتا چکا تھا۔پردہ پوش فقیرنی دو مرتبہ آ چکی تھی۔بڑی مشکل سے اس سے جان چھرائی وہ اپنے نادیدہ شوہر کی بیماری کا سرٹیفکیٹ دکھا کر کافی رقم اینٹھ چکی تھی۔پانچویں مرتبہ پھر جب دستک ہوئی وہ انتہائی بیزاری سے اپنا کاندھا کھجاتے ہوئے اٹھا،جس پر ایک مچھر چٹکی کاٹ چکا تھا اس سے پہلے کہ وہ مچھر کا نشانہ لیتا کہ گیٹ کی دستک نے اسکا نشانہ خطا کر دیا۔وہ جیسے ہی گیٹ پر پہنچا اسکی نظر گیٹ کے نیچے کالے لباس پر پڑی۔وہ چونکا اچھا پھر وہی برقعہ پوش فقیرنی ہے اس نے آج میرا ہی گھر دیکھ لیا ہے۔یا پھر مجھے اکیلا دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سوچ کر ہی اسے جھر جھری سی آ گئی آجکل کے زمانے میں عورتیں تو کیا اکیلا مرد بھی محفوظ نہیں۔۔۔مگر اس نے جیسے ہی فقیرنی کو ڈانٹنے کے ارادے سے گیٹ کھولا اسکی نظر خوبصورت ریشمی پھولدار ساڑہی پر پڑی۔ایک نہائیت دلکش درمیانی عمر کی عورت تراشیدہ بالوں اور ہلکے میک اپ میں کھڑی مسکرا رہی تھی۔اسے دیکھ کر امروز کو اپنے پاجامہ بنیان پر ندامت سی محسوس ہوئی ۔اس نے خجالت سے پوچھا جی آپ کون ؟کس سے ملنا ہے؟؟مگر یہ کیا اسکا جواب سنتے ہی اسکے چودہ طبق روشن ہو گئے اور دن میں تارے سے نظر آنے لگے۔یہ تو پردہ پوش بھکارن سے بھی ذیادہ خطرناک نکلی۔ساڑھی میں ملبوس خوش پوش عورت بڑی خوش الحانی سے بولی میں مسز امروز ہوں۔جی میں کسی مسز امروز کو نہیں جانتا مگر میں تو جانتی ہوں اس نے بدستور اک ادائے دلبرانہ سے جواب دیا۔کیا میں آپکی مسز سے مل سکتی ہوں ؟اس نے کھلے گیٹ کے اندر نظ دوڑاتے ہوئے پوچھا ۔گویا چیک کر رہی ہو کہ گھر میں کوئی اور ہے یا نہیں۔امروز کے ذہن میں نو سر بازحسینہ کی خبر گردش کرنے لگی۔اس نے بغور اسکے چہرے کا جائزہ لیا دلکش سراپا پر کشش صورت وہ لمحہ بھر کو اس سے متاثر ہونے لگا مگر یہ سوچ کر سنبھل گیا کہ یہ بھی کوئی حسینہ چار سو بیس یا نو سر باز ہو سکتی ہے۔اگر افزانہ نے اسے یہا ں دیکھ لیا اور اس نے میری مسز ہونے کا دعویٰ کر دیااور جھوٹے ثبوت ۔۔۔جیسا کہ ایسے معاملات میں ہوتا ہے اور اس کے ایک جاننے والے کے ساتھ بھی ہو چکا ہے تو پتہ نہیں کیا ہنگامہ کھڑا ہو جائے ویسے بھی اس کے سسرالی رشتہ دار اس کی بیوی کو بھڑکا کر لڑاتے رہتے ہیں۔انہیں تو موقعہ مل جائے گا۔وہ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ سن گلاسز اور لانگ شرٹ میں ملبوس اسکی بیگم سودا لے کر آ گئی اور آتے ہی بڑے تپاک سے اس ساڑھی پوش عورت سے ملی اور کہنے لگی امروز یہ ہماری نئی پڑوسن ہیں مسز امروز ہاشم ۔امروز خجل سا ہو کر دونوں کو اندر جاتا دیکھتا رہا۔
Saturday, January 26, 2013
Thursday, October 25, 2012
عیدالضحی ( قربانی )
Saturday, September 15, 2012
باطل کے منصوبے
Monday, September 10, 2012
سادگی والی شادی
ہم اور آپ شادی کا اہم فریضہ ادا کرتے وقت اسلامی اصولوں کو بالاۓ طاق رکھ کر بے جا اور ہندوانہ رسوم پر عمل کرتے ہیں ۔ ہلدی ، سہرا ، ڈی جے ، ناچ گنے ، سنگیت بڑے بڑے ہالوں یا ہوٹلوں میں مختلف کھانوں کا اہتمام کرتے ہیں ۔ اور بلا شبہ اللہ اور رسول کو اپنے اس عمل سے ناراض کرتے ہیں ۔مگر اس دور پرفتن اور نام و نمود کے زمانے میں بھی کچھ شادیاں الحمدللہ سادگی سے ہوتی ہیں ۔
Saturday, September 01, 2012
غئز ل
Sunday, August 26, 2012
کامیابی مبارک ہو
کامیابی مبارک ہو
عوامی وکاس پارٹی کے صدر شمشیر خان پٹھان صاحب ریاست کے اقلیتوں پر ہورہی نا انصافی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں ۔ ریا ست مہاراشٹر کے اقلیتی چئرمین کی تقرری کے بعد عوامی وکاس پارٹی نے ریاست کی اردو اکادمی ، حج کمیٹی اور وقف بورڈ کے چیئرمین ودیگر عہدے داران کی تقرری کی فوری مانگ کی ہے ۔شمشیر پٹھان نے اقلیتی چيئرمین کی تقرری کو عوامی وکاس کے زبردست احتجاج اور اسے عوامی حمایت کا نتیجہ ہے ۔ اقلیتوں کی فلاح و بہبودی کے لیے ان کے مسائل کے حل کے لیے عوامی وکاس پارٹی کے قیام کا عمل میں آنا وقت کی خاص ضرورت ہے ۔اور شمشیر پٹھان صاحب اور ان کے ہم عصروں کو ہم دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔ اور اللہ ربالعزت سے دعا کرتے ہیں کہ وہ انھیں اپنے نیک مشن میں کامیابی عطا کریں ۔
صاحب مبارک ہو!“ مگر
خبرآپ نے بھی پڑھی ہوگی کہ گرگام چوپاٹی پر منسے کی جو ریلی نکلی تھی وہ
غیر قانونی ہی نہی ں بلکہ عدا لتی احکام کی خلاف ورزی بھی تھی واضح رہے کہ
پابندی لگا رکھی ہے اور اسی حوالے سے یہ بات کہی جارہی ہے کہ راج ٹھاکرے
کی یہ ریلی نہ صرف حکام کی اجازت کے بغیر نکالی گئی بلکہ یہ عدلیہ کے
احکام کا کھلا ہوا مذاق اُڑا نا بھی تھا۔
اروپ پٹنائک کے تبادلے کومنسے کی اسی غیر قانونی ریلی یا مورچے ہی کا
خمیازہ کہا جارہا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی جتلایا جارہا ہے کہ پٹنائک کا
آزاد میدان کے تشدد میں’غیر معمولی صبر و تحمل‘ سے کام لینا پٹنائک کے
تبادلے کا سبب بن گیا ہے۔ اسے کہتے ہیں کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ !
سچ یہ ہے کہ اس میں شکار اگر کوئی بنا ہے تو صرف مسلمان! عید گزرتے ہی جس
طرح سے پولس نے آزاد میدان تشددکے معاملے میں شہر کے مختلف مقامات سے
گرفتاریاںکی ہیں۔ وہ سب کے علم میں ہیں اور یہ کون نہیں جانتا کہ پولس
اپنی ذمے داری اور اپنی کارکردگی جتلانے کےلئے کس کس طرح گرفتاریاں کرتی
ہے اور اس میں کتنی گرفتاریاں حقیقی مجرموں کی ہوتی ہیں اور کتنے بے
گناہوں کو سلاخوں کے پیچھے پہنچا دِیا جاتا ہے۔ رشدی کے خلاف نکلنے والے
مورچے سے لے کر بم دھماکوں(چاہے لوکل ٹرین کے یا مالیگاو ¿ں قبرستان
دھماکے ہوں) اور اب آزاد میدان تشدد تک کتنے ہی معاملات ہیں جن میں پولس
کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ اچھی یادداشت رکھنے والے قارئین کو یقینا
یاد ہوگا کہ جب تھانے کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں( تھانے شیو سینا کے
چیف) آنند دیگھے کی موت واقع ہوئی تھی تو کس طرح مذکورہ ہسپتال کو تہس
نہس کیا گیا تھا اور اس کے بعد آج تک اس واقعے میں پولس کاروائی کس نتیجے
پر پہنچی؟ کسی کو نہیں پتہ! رُشدی کے خلاف نکلنے والے مسلمانوں کے جلوس
پر کرافورڈ مارکیٹ کے پاس پولس فائرنگ کا یہ جواز پیش کیا گیا تھا کہ یہ
جلوس ممبئی کے صرافے (زویری بازار) کو لوٹنے جارہا تھا۔ واضح رہے کہ
کرافورڈ مارکیٹ کے جس علاقے میں جہاں مسلمانوں کے جلوس پر فائرنگ کی گئی
تھی وہ علاقہ صرافے سے کم و بیش ایک کیلو میٹر دور ہوگا۔ اُس وقت کے ”
د ¾ور اندیش اور نہایت زیرک“ ڈی سی پی شنگھارے نے جس طرح اپنے فرائض
ِمنصبی ادا کیے تھے وہ ایک ریکارڈ بن گیا ہے۔سچ یہ بھی ہے کہ سنیچر ۱۱
اگست کو آزاد میدان میں فرائض منصبی تو ارون پٹنائیک نے بھی ادا کیے تھے
وہ بھی ایک ریکارڈ ہے ۔ ہم کسی اور کی نہیں مانتے صرف اپنے صحافی بھائیوں
کی بیان کردہ باتوں پر یقین کرتے ہیں کہ ان کا آنکھوں دیکھا بیان تھا کہ
واقعی پولس نے اُس دن بڑے تحمل اور صبر کا مظاہرہ کیا ورنہ جو مناظر ہم
نے دیکھے وہ پولس کو مشتعل بلکہ آگ بگولہ کرنے کےلئے کافی تھے۔
تھانے ہسپتال، منسے کی حالیہ ریلی پر بھی پولس کا” صبرو تحمل“ یادگار
تھا اور یادگار رہے گا۔
یہاں یہ یاد دِہانی ضروری ہے کہ شنگھارے کی قیادت میں( کرافورڈ مارکیٹ
میں ) جو فائرنگ ہوئی تھی اُس میں اس طرح کے اشتعال کا کوئی گمان بھی
نہیں کیا جاسکتا۔ مگر اُس وقت پولس فائرنگ میں درجن بھر مسلمان موت کی
نیند سلا دِیے گئے تھے۔ ایک خبر کل ہی کی ہے کہ ائیر ہوسٹس گیتیکا خود
کشی کا ملزم گوپال کانڈا کئی دنوں سے پولس تحویل میں ہے مگر اب تک پولس
اس سے کچھ بھی اُگلوا نہیں سکی مبینہ طور پر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وہ
پولس حراست میں بھی ’ بڑے آرام‘ سے ہے۔ گزشتہ رمضان کے آخری ایام تھے کہ
ایک(مسلم) لڑکے کو ہم نے دیکھا (مبینہ طور پر)جس کے بارے میں بتایاگیا کہ
پولس اسے(آزاد میدان تشدد معاملے میں) دو دن قبل پوچھ تاچھ کےلئے پولس
اسٹیشن لے گئی اور اُس لڑکے نے دو راتیں پولس اسٹیشن میں گزاریں۔ یہ بھی
بتایا گیا کہ جو بھی پولس مَین آتا تھا وہ اس لڑکے پر اپنا ہاتھ صاف کر
تا تھا بیچارے کی قسمت اچھی تھی کہ پولس نے اپنی ” اندر خانہ کارروائی“
کے بعد جب یہ سمجھ لیا کہ یہ ہمارے کام کا نہیں ہے تو اسے وہاں سے رُخصت
کر دِیا گیا۔ اب تک کی اطلاعات ہےں کہ(آزاد میدان تشدد کے اِلزام میں)
پچاس سے زائد مسلم نوجوان پولس کے مہمان بنائے گئے ہیں اور اُن کی جس طرح
خاطر مدارات ہو رہی ہے اس کا جو بھی آپ تصور کر سکتے ہو ں، کریں۔ مگر
ہمار ا ہی ایک” اعلیٰ“ طبقہ ایسا بھی ہے جو نئے پولس کمشنر کو مبارکباد
دینے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں لگا ہواہے اور نئے پولس
سربراہ کا اُن لوگوں سے کہنا ہے کہ ” جو لوگ قصور وار ہیں اُن کی گرفتاری
میں میری مدد کیجیے۔ “عجب نہیں کہ ہمارے ہی لوگ پولس سربراہ کی درخواست
کو ’حکم‘ سمجھ کر کام شروع کر دےں کیوں کہ خاکی وردی والوں سے دوستی کو
بھی’ ہم ‘بڑا اعزاز سمجھتے ہیں ۔ کاش یہ اعزاز ہمارے بے قصوروں کے بھی
کام آجائے۔! مگر آثار و قرائن کچھ اور بتا رہے ہیں جو خدا کرے صرف ہمارے
اندیشے ہی اندیشے ثابت ہوں! ن۔ص
Wednesday, August 01, 2012
Saturday, June 02, 2012
داستان ، افسانہ ، کہانی رنگ اشعار
کہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہے
جو سنتا ہے اسی کی داستان معلوم ہوتی ہے
کہانی ہے تو بس اتنی ،فریب خواب ہستی کی
کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہو جاۓ
خود قصّہ غم اپنا کوتاہ کیا میں نے
دنیا نے بہت چاہا افسانہ بنا دینا
دنیا سے اک افسانہ کہنے کو تھے ،پھر سوچا
دنیا ہے خود افسانہ ، افسانے سے کیا کہیے
بھرے گی ان کو میرے بعد لاکھوں رنگ سے دنیا
خلائيں چھوڑ دی ہیں میں نے کچھ اپنے فسانے میں
مجھے افسوس ہے دنیا کی اس افسانہ سازی پر
کہ اپنی بھی کہانی چھیڑ دی میرے فسانے میں
میں ہوں اک مستقل عنوان ہستی کے فسانے میں
مجھے تاریخ دہراتی رہے گی ہر زمانے میں
( سیماب اکبر آبادی )



