You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label mumbai. Show all posts
Showing posts with label mumbai. Show all posts

Thursday, July 25, 2013



۲۲جولائی ۳۱۰۲
شعبۂ اردوجامعہ ملیہ اسلامیہ کے ٹیگورریسرچ اینڈ ٹرانسلیشن اسکیم کے تحت پہلی کتاب ’’ٹیگورشناسی‘‘ شائع ہوکرمنظرعام پرآگئی ہی۔اس کے مصنف اردوکے ممتازنقاداوردانشور شمیم طارق ہیں۔یہ کتاب مکتبہ جامعہ لمیٹیڈنئی دہلی سے شائع ہوئی ہی۔ایک سوستّر صفحات پرمشتمل اس کتاب میں شمیم طارق نے پندرہ ابواب کے تحت ٹیگورکواردوداں حلقے میںروشناس کرانے کی کوشش کی ہی۔انہوںنے ٹیگوراوران کے عہد،خاندان ،پیدائش،بچپن،تعلیم، اسرارِفطرت میںدلچسپی، سیروسیاحت،شادی،گھرگرہستی،سیرت وشخصیت کے علاوہ ٹیگورکے تخلیقی سفرشاعری،موسیقی،ڈرامہ،کہانی،ناول اورمصوری پربھی روشنی ڈالی ہی۔شمیم طارق نے شانتی نکیتن اورٹیگوربطور معلم ،نوبیل پرائز ،ٹیگور فکراورفلسفہ ،قومیت کا تصوراورقومی ترانہ ،ٹیگورکے فن،ان کی شعری بصیرت،ٹیگورکے آخری سفراوران کی تخلیقات وتصنیفات پرمفصل روشنی ڈالی ہی۔ حرف مدعامیںمصنف نے یہ تحریرکیاہے کہ ’’رابندرناتھ ٹیگورنہ صرف آج کی اردودنیاسے متعارف ہیںبلکہ ان کی فکراوراسلوب کی اردودنیامیں پیروی بھی کی گئی ہے اس کے باوجودایک ایسی کتاب کی ضرورت باقی تھی جس کوپڑھنے کے بعدٹیگورکی حیات اورفکروفن کی تمام جہتیںروشن ہوجائیں ۔ یہ کتاب اسی ضرورت کے پیش نظر لکھی گئی ہی۔‘‘شمیم طارق نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلراورٹیگورریسرچ اینڈ ٹرانسلیشن اسکیم کے سرپرست نجیب جنگ صاحب (موجودہ لیفٹیننٹ گورنر دہلی) ، صدر شعبہ اردو پروفیسر وہاج الدین علوی ، سابق صدر شعبہ اردو پروفیسر خالد محمود اور ٹیگور پروجیکٹ کے کو آرڈینیٹر پروفیسر شہزاد انجم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’ تمام مخلص اور علمی شخصیتیں مبارکباد کی بھی مستحق ہیںکہ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اس کے شعبۂ اردو کو نیک نامی اور نئی شناخت دینے کے ساتھ ٹیگور شناسی کی نئی بنیادیں بھی فراہم کی ہیں‘‘۔

        ٹیگور ریسرچ اینڈ ٹرانسلیشن اسکیم کے کو آرڈینیٹر پروفیسر شہزاد انجم نے اس کتاب کے پیش لفظ میں تحریر کیا ہے کہ اردو داں حلقہ میں ٹیگور کی شخصیت اور فکر و فن کے ہمہ جہت تعارف کے لیے ایک ایسی کتاب کی ضرورت باقی تھی ۔شمیم طارق نے اس ضرورت کو اس خوبی سے پورا کیا ہے کہ اس موضوع پر مذکورہ کتاب کو پہلی کتاب قرار دیا جا سکتا ہے کیوں کہ ٹیگور کی شخصیت اور فکر و فن کا شاید ہی کوئی ایسا پہلو ہو جس پر شمیم طارق نے ٹیگور شناسی میں بحث نہ کی ہو۔ شمیم طارق نے اس کتاب کا انتساب ’قومی تصورات کے نام جن کی خوبصورت تعبیر جامعہ ملیہ اسلامیہ ہی‘ کیا ہی۔ امید ہے رابندر ناتھ ٹیگور پر تحریر کردہ یہ کتاب پوری دنیا میں اعلی اور اہم مقام حاصل کرے گی۔  واضح ہو کہ کتاب کی دس ہزار کاپیاں شائع ہوئی ہیں اور وزارت ثقافت حکومت ہند کے معاہدے کے تحت یہ کتابیں اردو کے علمی ادبی حلقوں  اور اسکالرز کے درمیان مفت تقسیم کی جائیں گی۔جامعہ ملیہ اسلامیہ ، ٹیگورپروجیکٹ کے زیرِ اہتمام’’ ٹیگورشناسی‘‘ شائع ہوکرمنظرعام پرآگئي ہے ۔جامعہ ملیہ اسلامیہ ، ٹیگورپروجیکٹ کے زیرِ اہتمام’’ ٹیگورشناسی‘‘ شائع ہوکرمنظرعام پرآگئی



Monday, September 10, 2012

سادگی والی شادی

ہم اور آپ شادی کا اہم فریضہ ادا کرتے وقت اسلامی اصولوں کو بالاۓ طاق رکھ کر بے جا اور ہندوانہ رسوم پر عمل کرتے ہیں ۔ ہلدی ، سہرا ، ڈی جے ، ناچ گنے ، سنگیت بڑے بڑے ہالوں یا ہوٹلوں میں مختلف کھانوں کا اہتمام کرتے ہیں ۔ اور بلا شبہ اللہ اور رسول کو اپنے اس عمل سے ناراض کرتے ہیں ۔مگر اس دور پرفتن اور نام و نمود کے زمانے میں بھی کچھ شادیاں الحمدللہ سادگی سے ہوتی ہیں ۔

جس کی ایک مثال ہم پیش کررہے ہیں ۔وہ ہے نا مور ڈ اکٹر و سماجی خدمتگار عبدالکریم نائک کی نواسی نامور اسکا لر ڈاکٹر ذاکر نائک کی بھانجی اور مشہور ومعروف نامور ماہر تعلیم جناب مبارک کاپڑی صاحب کی دختر ڈاکٹر مذنہ ( جس نے دو سال قبل ایم ڈی کے امتحان میں اول پوز یشن پورے مہاراشٹر میں حاصل کی اور اسے دو گولڈ میڈل ملے تھے ۔) کا نکاح پونا کے ڈاکٹر عرفان شیخ ایم ڈی ایس کے ساتھ بروز اتوار 2 ستمبر کو ڈونگری ممبئي کے قیصر باغ ہال میں ہوا ۔کوئی ہار پھول نہیں ۔ بلکہ ڈاکٹر ذاکر نائک نے قرآن کی کئی آیتیں اور حدیث کے کے کئی حصے سادگی والی شادی کے تعلق سے پیش کئے ، اور آخر مہمانان کو آئسکریم پیش کی گئی ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس طرز کی شادیاں ہم اور آپ اپنے اپنے محلوں میڑ منعقد کریں تاکہ نکاح کرنا آسان ہو جاۓ ۔اور غریب والدین اپنی اولاد کی شادی آشانی سے کر سکیں

Saturday, September 01, 2012

غئز ل


مشکل ہے اب یہ کام تری یاد کے بغیر
گزرے جو صبح  و شام  تری یاد کے بغیر
اب تک یہاں  جو زیست کے لمحے گذر گۓ
وہ  سب تھے  تشنہ کام   تری  یاد  کے بغیر
لکھنے  کو لکھ  تو دوں میں  حکایات  زندگی
ہوگی  وہ ناتمام    تری      یا  د  کے     بغیر   
بے       کیف و بے  سرور  ہے  صہباۓ زندگی
گردش   میں   گو  ہے    جام    تری  یاد  کے بغیر
پینے کو پی رہا ہوں  شب و روز  خون  دل
پھر بھی  ہوں  تشنہ  کام  تری  یاد کے    بغیر





Sunday, August 26, 2012

کامیابی مبارک ہو

کامیابی مبارک ہو

عوامی وکاس پارٹی کے صدر شمشیر خان پٹھان صاحب ریاست کے اقلیتوں پر ہورہی نا انصافی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں ۔ ریا ست مہاراشٹر کے اقلیتی چئرمین کی تقرری کے بعد عوامی وکاس پارٹی نے ریاست کی اردو اکادمی ، حج کمیٹی اور وقف بورڈ کے چیئرمین ودیگر عہدے داران کی تقرری کی فوری مانگ کی ہے ۔شمشیر پٹھان نے اقلیتی چيئرمین کی تقرری کو عوامی وکاس کے زبردست احتجاج اور اسے عوامی حمایت کا نتیجہ ہے ۔ اقلیتوں کی فلاح و بہبودی کے لیے ان کے مسائل کے حل کے لیے عوامی وکاس پارٹی کے قیام کا عمل میں آنا وقت کی خاص ضرورت ہے ۔اور شمشیر پٹھان صاحب اور ان کے ہم عصروں کو ہم دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔ اور اللہ ربالعزت سے دعا کرتے ہیں کہ وہ انھیں اپنے نیک مشن میں کامیابی عطا کریں ۔


Wednesday, May 02, 2012

مسلم اور دلت اتحاد کے ساتھ ہی عوامی وکاس پارٹی کا قیام









 محروم طبقات کو انکے حقوق دلانے کا عزم یکم مئی مزدوروں کا بین ا لاقوامی دن اور یوم مہاراشٹر کے موقع پر مہراشٹر کے مسلمانوں اور دلتوں نے ایک نئے عزم کے ساتھ ایک سیاسی پارٹی کی بنیاد ڈالی ئجس کا اعلان آج یکم مئی کو ممبئی کے کنگ سرکل میں واقع شان مکھانند ہال میں سبک دوش اسسٹنٹ پولس کمشنر ممئی شمشیر خان پٹھان (صدر ) اور ببن کامبلے (نائب صدر) نے کیا ۔اس تاریخی اجلاس کا افتتاح بچوں کے ذریعہ بنے ماڈل سے ہوا جس میں کوئی شیوا جی تھا تو کوئی مولانا آزاد ۔ایم اے خالد جو کہ ایک آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ ہیں نے اپنے افتتاحی کطاب میں کہا کہ مسلمانوں دلتوں اور دیگر محروم طبقات کے لئے یہ ایک متحدہ پلیٹ فارم ہے۔عام طور پر سیاسی پارٹیاں دو وجوہات کی بنا پر بنا کرتی ہیں ایک تو اس پارٹی بغاوت کرکے ایک الگ پارٹی بناتے ہیں دوسرے اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے ۔انہوں کہا کہ جب ہمارے مقدر کا فیصلہ پارلیمنٹ ،اسمبلی اور کارپوریشن میں ہوا کرتا ہے تو کیوں نہیں ہم اپنے نمائندے وہاں بھیجیں جو ہمارے حقوق کی حفاظت کریں۔انہوں کیرل کی مثال دی کہ وہاں مسلمان حکومت میں شراکت دار ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ وہاں مسلمانوں کے سات میڈیکل کالج ہیں۔کیرل کے مسلمانوں کی حیثیت پورے ملک کے مسلمانوں اور محروم طبقات کیلئے رہنما کی سی ہے۔ڈی ساونت نے کہا کہ سنجیدگی سے پورے عزم و حوصلے کے ساتھ قدم آگے بڑھائیں تو یقیناًکامیابی ملے گی۔امتیاز پیر زادہ (پونے) نے اپنے مسائل خود کے زریعہ بنائے گئے سیاسی پلیٹ فارم سے ہی ممکن ہے ۔ہم نے کانگریس کو ووٹ دیا لیکن کانگریس نے ہمیں TADA,POTA,MCOCA جیسے ظالمانہ قانون دیئے انہوں نے ہمیں بھیونڈی ،ممبئی سمیت انگنت فساد دئے ۔ہم نے انہیں ووٹ دیا انہوں نے ہمیں دہشت گرد اور غداری کا لیبل دیا۔ہماری یہ بری حالت کس نے بنائی اسی کانگریس اور این سی پی کی حکومت نے ،ہم اپنی کوئی مانگ لیکر جاتے ہیں تو کلکٹر ہمارے سامنے تو یہ کہتا ہے کہ ہم غور کریں گے ،لیکن ہمارے وہاں سے ہٹتے ہی وہ ہمارے مطالبات والی فہرست یا درخواست کچڑے میں پھینک دیتا ہے ۔اس لئے ہم بیداری کا ثبوت دیں عوامی وکاس پارٹی کا ساتھ دیں جو ہمارے حقوق کے لئے لڑیں گے۔ مبارک کاپڑی نے کہا کہ جو قوم قوالی میں پانچ پانچ گھنٹے دیتی تھی آج وہ تعلیمی لیکچر میں اس سے زیادہ وقت دے رہی ہے جو قوم کے اندر تبدیلی کا اشارہ ہے۔جس دن سے عوامی وکاس پارٹی کا اعلان ہوا ہے مجھے جو ای میل اور sms ملے ہیں اس میں سے نوے فیصد لوگوں نے میری حمایت کی ہے باقی جو دس فیصد مخالف ہیں انہوں نے بھی اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ کہیں سیاست میں پھنس کر تعلیمی تحریک سے میں پیچھے نہ ہٹ جاؤں ،میں وعدہ لرتا ہوں کہ میں اسی طرح اپنی تعلیمی تحریک میں جٹا رہوں گا ۔اس پارٹی میں ہوں لیکن میں کبھی الیکشن نہیں لڑوں گا ۔انہوں نے کہا کہ پچھلے کئی دہائیوں سے میں تعلیمی تحریک سے جڑا ہوا ہوں مجھے اندازہ ہے کہ ہمارے بچوں میں ذہانت کی کمی نہیں ہے لیکن چونکہ مسلمان مالی طور پر پسماندہ ہے اس لئے وہ انجینیئر بننے کے بجائے میکنک بن جاتا ہے ۔مسلمانوں کو اسکولر شپ دینے میں بھی ٹال مٹول اور آنا کانی سے کام لیا جاتا ہے ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق دو لاکھ سے زائد درخواست مولقانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن میں پڑا ہوا ہے جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ماہر تعلیم مبارک کاپڑی نے کہا کہ ہمارے دکھ ایک ہیں ہمارے دشمن بھی ایک ہیں ۔ہماری ترقی کی راہوں میں سیاست داں اور برہمنی بیورو کریسی روڑا ہے۔ سرفراز آرزو ایڈیٹر روزنامہ ہندوستان نے کہا کہ شیو سینا بی جے پی حکومت میں وزیر اعلیٰ منوہر جوشی نے اردو اکیڈمی کا بجٹ تیس لاکھ کیا اور انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ اس کو ایک کروڑ تک کر دیں گے لیکن اس وقت سے بجائے بجٹ میں اضافہ ہونے کہ ہر سال بجٹ میں کمی ہی کی جاتی رہی ہے۔مسلم یونیورسٹی کی شاخ کے لئے جس میں ریاستی حکومت کو ایک پائی بھی خرچ نہیں کرنا ہے لیکن اقلیتوں کی ہمدردی کا دعویٰ کرنے والی حکومت اس کے لئے زمین بھی مہیا نہیں کروارہی ہے۔جبکہ کیرلا بہار اور مغربی بنگال کی حکومت نے زمین مہیا کرادی ۔مہاراشٹر میں مسلمانوں کا ایک بھی میڈیکل کالج نہیں ہے۔سیاست کی بساط پر جو طئے کر دیا گیا ہے اس سے ہم ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھاپارہے ہیں ۔نئی سیاسی پارٹی کیوں اس پر انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسی کوشش ہوئی لیکن وہ بار آور نہیں ہو سکی ۔یہ دوسری کوشش ہے ہم پچھلی ناکامی سے سبق لیکر اس کو ناکامی سے بچانے کی کوشش کریں گے۔ جاوید پاشا نے کہا کہ جب تک غلاموں کو غلامی کا احساس نہیں کریا جائے تب تک بیداری نہیں آتی۔ڈاکٹر ایمبیڈکر نے کہا تھا کہ جو سماج سیاست میں شریک نہیں ہوتا وہی غلط سیاست کا سب سے پہلا شکار ہوتا ہے۔ہم نے آزادی کے بعد سے جسے ووٹنگ کرتے رہے اسی نے ہمارا کردار بدنماء بنانے کی کوشش کی آج حالت یہ ہے کہ سرکاری نوکریوں میں تو ہمارا تناسب دو فیصد ہے لیکن جیلوں میں ہمارا تناسب پینتیس فیصد سے زیادہ ہے۔اگر ہم نے ہوشمندی سے کام لیا ہوتا تو نقشہ اس کا الٹا ہوتا ۔انہوں نے کہا کہ یہاں جوش خروش دکھانے سے کچھ نہیں ہوگا یہ بات آپ کے دل میں بیٹھنی چاہیئے کہ ہماری پسماندگی کا ذمہ دار کون ہے اور اس کا علاج کیا ہے ۔ہم آپ کو اس پارٹی کے ذریعہ ووٹ کی لاٹھی دینے آئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی پہلی پارٹی ہے جو یہ اعلان کرتی ہے کہ کسی بھی مجرمانہ بیک گراؤنڈ والے کو نہ تو اس پارٹی میں جگہ ملیگی اور نہ ہی ایسے شخص کو ٹکٹ دیا جائے گا ۔یہ ایک دو دن کی ایک دو سال کی لڑائی نہٰں ہے ۔یہ لمبی لڑائی ہے اس میں قربانی دیجئے گا جب ہی کامیابی ملیگی قربانی اور کامیابی ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں ۔ہم پوری مثبت انداز فکر کے ساتھ اس میں آئے ہیں ۔ارشاد خطیب نے کہا کہ وقف کی زمینوں پر جو قبضہ ہے ہم انہیں واپس لیں گے یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ہمارے پاس حکومت کی طاقت ہو۔ ببن کامبلے جو کہ اس پارٹی کے نائب صدر ہیں نے کہا کہ اس حکومے اور انتظامیہ نے مسلمانوں کی ایس صورت بنادی ہے کہ مسلمان کی پہچان دہشت گرد کی سی بن گئی ہے ،جو لوگ یہ سمجھتے ہیں انسے میرا سوال ہے کہ کیا سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر مسلمان ہے؟مسلمان بھی اس ملک میں اتنا ہی حق رکھتے ہیں جتنا دوسری قومیں اور یہ ضمانت ہمیں یہاں کے دستور نے دی ہے۔انہوں نے پرجوش انداز میں سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج سے اگر کسی دلت پر کوئی پریشانی آتی ہے تو مسلمان اس کی مدد کریں اور اگر کسی مسلمان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو دلت اپنے مسلمان بھائی کی مدد کریں ۔اپنی طاقت کو سمجھئے آپ کی تعداد ۳۹ فیصد ہے اگر آپ بیدار ہوگئے تو حکومت آپ کی ہی ہوگی اس سے کم ووٹ حاصل کرنے والے آپ پر حکومت کرتے ہیں ۔پہلے حکومت پر قبضی کیجئے اور پھر اپنے لئے ریزرویشن مانگئے اس وقت آپ کو بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔صرف مسلمانوں نے اتر پردیس میں مایا کا ساتھ چحوڑ دیا تو مایا کی حکومت چلی گئی تو کیا یہا مہاراشٹر میں دلت مسلم اور ایمبیڈکر سماج ملکر حکومت پر قبضہ نہیں کر سکتے۔ شمشیر خان پٹھان نے کہا کہ میڈیا پولس اور سیاست دانوں کی ملی بھگت سے مسلمانوں کی تصویر بگاڑی گئی ہے ۔ہر ہندو تیو ہاروں کے موقع پر آئی بی کی طرف سے یہ الرٹ جاری کیا جاتا ہے کہ دو یا چار یا چھ دہشت گرد بھارت میں گھس آئے ہیں ۔انکے اسکیچ بھی جاری کئے جاتے ہیں ۔جو کہ گنپتی یا کسی بھی پوجا پنڈالوں کے باہر بھی لگائے جاتے ہیں عام ہندو داخل ہوتے ہوئے اور نکلتے ہوئے اسے دیکھتا ہے اور اس کے دل میں مسلمانوں سے بھر جاتی ہے ۔لیکن یہ دہشت گرد کبھی پکڑے نہیں جاتے ایسا صرف ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خلیج کو گہرا کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔حکومت عوام کو شراب اور جوئے میں پھنسا کر بنیادی ضروریات کی طرف سے انکے ذہن کو موڑ رہی ہے۔میں عزم مصمم لیکر آیا ہوں جو باتیں کہہ رہا ہوں صدق دل سے کہہ رہا ہوں یہ محض گفتار نہیں ہے ۔میں کرکے دکھاؤں گا ۔اگر ہمیں موقع ملے گا تو ہم شراب اور لاٹری پر مکمل پابندی لگا دینگے۔کیوں کہ شراب اور لاٹری کے ذریعہ غریب اور جاہل عوام کا پیسہ سفید کالر غنڈوں کے جیب میں چلا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس ریکارڈ ہے کے سیاست دانوں نے مختلف بہانوں سے ہزاروں ایکڑ زمینیں ہتھیا رکھی ہیں ۔لیکن ہم ہمارا اسمٰعیل یوسف کالج کی ۵۔۶۲ ایکڑ زمیں مانگتے ہیں لیکن حکومت ہمیں ہماری زمین نہیں لوٹاتی ۔آج کے بعد میری زندگی قوم کے لئے وقف ہے اب چاہے ان راہوں میں کتنی ہی مشکلات سے گزرنا پڑے خواہ جان ہی کیوں نہ گنوانی پڑے۔ اس سلسلے میں ہم نے شرکاء میں سے بھی کچھ لوگوں کی رائے جاننے کی کوشش کی ۔محمد مسرت جو کہ رے روڈ سے آئے تھے اور جن کا تعلق اتر پردیس سے ہے نے اپنے خیالات کچھ اس طرح بیان کئے’’یہ عوامی وکاس پارٹی اس لئے ہے کہ ہم اپنے قدموں پرکھڑے ہوسکیں ،آخر کب تک ہم دوسروں پر انحصار کریں ۔مسلم عوام کی بھی رائے یہی ہے کہ مسلمانوں کی اپنی سیاسی پارٹی ہو جو ہمارے حقوق کی لڑائی لڑے ۔کانگریس نے آزادی کے بعد سے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔تریمبک جادھو جو کہ کوپر کھیڑا نئی ممبئی سے اس افتتاحی اجلاس میں شریک ہوئے تھے کا خیال ہے کہ دلت مسلم اتحاد وقت کی ضرورت ہے اگر ہم دلت اور مسلم متحد ہوجائیں ظلم و استحصال کا خاتمہ ہوجائے گا پچھلے پینسٹھ سالوں سے مسلمان اور دلت جس ظلم کو سہتے آرہے ہیں اب اس کے اختتام کا وقت آگیا ہے۔کرلا سے آئے ہوئے خان صاحب نے کہا کہ یہ ایک اچھی کوشش ہے ہماری خواہش ہے کہ یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہو اور دشمنوں کی نظر بد سے یہ محفوظ رہے۔جبکہ بھیوانڈی سے آئے ہوئے ڈاکٹر سعید انصاری کی رائے مختلف ہے ان کا کہنا ہے کہ کسی نئی یا مسلم سیاسی پارٹی کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔پہلے سے ہی بہت سی سیاسی پارٹیاں موجود ہیں ۔اتنی ساری پارٹیوں کی موجودگی میں اس پارٹی کا اقتدار میں آنا مشکل ہے۔مسلمانوں کی بھی کئی سیاسی پارٹیاں موجود ہیں ۔مسلمان اور دلت پہلے سے ہی کئی خانوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔یہ لوگ کس سے اتحاد کریں گے یہ ابھی سمجھ میں نہیں آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس مسلمانوں کے لئے کم نقصاندہ ہے ۔اس سوال پر کہ آزادی کے بعد سے کانگریس ہی بر سر اقتدار رہی ہے اور مسلمانوں کی حالت کسی سے مخفی نہیں ہے ،پھر بھی آپ یہ کہتے ہیں کہ کانگریس ہی بہتر ہے ۔اس پر انہوں نے کہا کہ مسلمان ہی اس کے لئے ذمہ دار ہیں ۔ 

Monday, August 15, 2011

یہ کیسی ترقی؟



ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک کہا جانے لگا ہے ۔لیکن یہاں تو گھپلے گھٹالوں میں ترقی ہو رہی ہے اتنے بڑے بڑے گھپلے اور گھٹالے کے معاملے ہو جاتے ہیں لیکن کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی اور سب کچھ ہو جانے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اتنا کچھ ہو گیا ۔بد عنوانی پر نظر رکھنے والے ادارے آخر کیوں خاموشی سے سب کچھ دیکھتے رہتے ہیں ۔آخر کیسے اقتدار میں بیٹھے نمائندے اتنے سارے ناجائز کام کرتے چلے جاتے ہیں اور کوئی آواز نہیں اٹھاتا ۔ریاستی اور مرکزی سطح کے لیڈر بھی سب کچھ دیکھتے رہتے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور غالباً جب حصہ پورا نہیں ملتا تب بھانڈا پھوٹتا ہے کہ ملک کو ہزاروں اور لاکھوں کروڑ کا چونا لگایان جا چکا۔یہ رجحان ملک کی ترقی کے راستے میں ایک رکاوٹ ہی تو ہے جب تک ملک اس طرح کے بد عنوان لوگوں سے پاک نہیں ہوتا ملک کی ترقی نا ممکن ہے بھلا وہ ملک کس طرح ترقی یافتہ کہلا سکتا ہے جس کی آدھی سے زیادہ آبادی غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو ،جہاں ہر روز پانچ ہزار بچے مناسب غذا اور علاج کی عدم دستیابی سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہوں ۔کیا ایسا ملک ہی ترقی یافتہ کہلاتا ہے؟
تین بندر لاپتہ
گاندھی جی اپنے میز پر تین بندر رکھتے تھے۔برا مت بولو،برا مت دیکھواور برا مت سنو۔مگر آج ہر شخص برا بول رہا ہے ،برا سن رہا ہے اور برا دیکھ رہا ہے۔رشوت لے رہا ہے رشوت دے رہا ہے۔گاندھی جی جن باتوں کے خلاف تھے وہی کام ہو رہا ہے۔اب تو مارکیٹ سے بھی گاندھی جی کے ان بندروں کا ماڈل غائب ہوگیا ہے۔

Thursday, August 11, 2011

اردو کمپیوٹر ورک شاپ


بروز جمعرات 4 اگست 2011ء کو انجمن اسلام گرلز ہائی اسکول بلاسس روڈ ممبئی میں کمپیوٹر لیٹریسی کا ورک شاپ منعقد کیا ۔اردو ویب سائٹ لنترانی ڈاٹ کام ولنترانی میڈیا ہاؤس کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر روپیش سریواستو نے اسکول ھذا کے تیس اساتذہ کو اپنے کمپیوٹر پر بغیر کسی اردو کے دوسرے سافٹ ویئرڈاؤن لوڈ کرے ۔ آپریٹنگ سسٹم ونڈوز کے ذریعے ہی سیدھے اردو ایکٹی ویٹ کرکے اردواوردوسری مختلف زبانوں کو لکھنے کی ٹرینینگ دی ۔یہ ورک شاپ دو سیشن پر مشتمل تھا ۔ پہلے سیشن میں پروجیکٹر کے ذریعے اسکرین پر سمجھایا گیا ۔ اہم باتوں کی ٹیپس دی گئی ۔ ڈاکٹر روپیش سریواستو نے اپنے لیکچر میں کہا کہ اس ٹیکنالوجی کے دو ر میں ہم اساتذہ کو
اپنے درس وتدریس کے کاموں میں زیادہ سے زیادہ ٹیکنیک کا استعمال کرنا چاہیۓ۔ جیسے لیسن ہم پاور پائنٹ پر بنا کر کمپیوٹر کے ذریعے لے سکتے ہی ۔جس سے وقت بھی بچے گا اور تدریس بھی موثر ہو گی۔اور دوسرے سیشن میں کمپیوٹر روم میں باقاعدہ پریکٹیکل کرواتے ہوۓ رہنمائی کی گئی اس ورک شاپ کا انغقاد انجمن اسلام گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کی پرنسپل مسسز نجمہ قاضی کی ذاتی دلچسپی سے عمل میں آیا۔ یہ ایک اچھی شروعات ہے ۔

Wednesday, August 03, 2011

دلّی جو ایک شہرتھا‘ : فیاض رفعت

’’مجھے اس کتاب (علم) نے بچالیا۔‘‘ فیاض رفعت
’سیوا اور گُل بوٹے‘ کے زیر اہتمام ’دلّی جو ایک شہرتھا‘ کی اسلام جمخانہ میں تقریب اِجرا
ممبئی: ’’میں نے ریڈیو اور ٹی وی میں عمر گزاری ہے اور دیکھا کہ ان کے ڈائریکٹرز کے نہ جانے کس کس طرح کے معاملات سامنے آئے، کسی کے گھر سے کروڑوں روپے برآمد ہوئے تو کسی کے ہاں اس سے بھی زیادہ مگر مجھے اس کتاب(علم) نے بچالیا۔‘‘یہ باتیں گزشتہ سنیچر کی شام اسلام جمخانہ (مرین لائنس) میں مشہور ادیب و شاعر فیاض رفعت نے اپنی مرتب کردہ کتاب ’دلّی جو ایک شہر تھا‘ کی رسم رونمائی کی تقریب میں کیں۔ یہ تقریب شہر کے مشہور ادارے سیوا اور گُل بوٹے کے زیر اہتمام منعقد کی گئی تھی۔ جس میں شہر اور بیرون شہر کی ممتاز، سرکردہ شخصیات اور علی گیر ین حضرات نے شرکت کر کے اس کی رونق میں اضافہ کیا۔
بھیونڈی کی ممتاز شخصیت اور مشہور وکیل یاسین مومن نے اس موقع پر تقریرکرتے ہوئے اپنے علیگیرین دوست فیاض رفعت کے تعلق سے باتیں کرتے ہوئے اُردو زبان اور بالخصوص درس و تدریس کے پیشے سے تعلق رکھنے والوں کے حوالے سے کچھ ایسی باتیں کیں جو آج کی تلخ حقیقت ہیں۔انھوں نے ایک ٹیچر کا واقعہ سنایا جس کے لیے زبانی انٹرویوکے دوران لفظ کشمکش ایک کشمکش بن گیا۔ اس نے کئی بار اس لفظ کو اداکرنے کی سعی کی مگر ہر باروہ کسمکس ہی کہہ پایا۔ یاسین مومن نے اپنی تقریر میں بڑے دُکھ کے ساتھ کہا کہ ہم اُردو والے ہی اپنے بچوں کو اُردو اسکولوں سے دور کرتے ہوئے انگریزی میڈیم میں داخل کر رہے ہیں۔ قاسم امام نے اپنی تقریر میں فیاض رفعت کے تعلق سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ یہاں زبان و ادب کی خوب خوب پذیرائی ہوتی ہے، جو دورِ حاضر میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہ کتاب جس کا موضوع اور تعلق دِلّی ہے اور اس کا اجرا عروس البلاد ممبئی میں ہو رہا ہے جو میری بات کی دلیل سے کم نہیں۔ فیاض رفعت کی اس کتاب کا اجرا اس شہر میں ہو نا ہم سب کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔ مشہور دانشور اور سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ڈاکٹر محمود الرحمان جو اس تقریب میں شرکت کے لیے خاص طور پر شہر آئے تھے۔ انھوں نے نہایت شستہ اور بلا تکلف گفتگومیں فیاض رفعت کے تعلق سے اچھی باتیں کیں۔انھوں نے کہا کہ فیاض رفعت کا اس کتاب کا ترتیب دینا کسی بھی طرح سے عجب نہیں کہ ایک علیگیرین کا کسی کتاب کامرتب ہونا عجب نہیں ہوتا کہ ترتیب و تہذیب تو اس کا حق ہو تا ہے۔ موصوف نے کتاب کے تعلق سے کہا کہ یہ (کتاب) ایک بڑے علمی کام کی ترتیب و تہذیب ہے۔ ڈاکٹر محمود الرحمان نے ایڈوکیٹ یاسین مومن کی بات کے پس منظر میں کہا کہ آج اُردو پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس زبان سے کچھ ملنا ملانا نہیں ہے۔ اب تو یوپی ایس سی امتحانات میں بھی اُردو مضمون شامل ہے۔ اس جلسے کی کامیابی میں مشہور شاعر عرفان جعفری کی شگفتہ نظامت کا بھی دخل رہا۔ شہر کے مقررین میں ممتاز، طاہر اشرفی نے بھی جلسے کی ابتدامیں تقریر کی اور اپنی قوتِ کلام کا مظاہرہ کیا۔سابق رُکن پارلیمان وسیم احمد نے تقریر میں اپنے سینئر علی گیرین فیاض رفعت کے تعلق سے بڑی دلچسپ باتیں کیں اور اُن (فیاض رفعت) کی کچھ مخفی باتیں بھی دلچسپ پیرائے میں بیان کیں۔ وسیم احمد نے بھی اُردو کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اُردو چھوڑکر اپنی بدقسمتی کو دعوت دی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ افسوس آج ہمارا کلچر نہیں رہا بلکہ اگریکلچر ہوگیا ہے۔ انھوں نے فیاض رفعت کی گوناگوں خصوصیات کے حوالے سے کہا کہ ان کی خدمات کے پیش نظر انھیں مؤقر ایوارڈ دیا جانا چاہیے کہ وہ ان کا حق ہے۔
وسیم احمد کی تقریر کے بعد ناظم جلسہ عرفان جعفری نے کہا کہ میں یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس کررہاہوں۔ جیسا کہ ابھی وسیم احمد نے کہا کہ ’فیاض رفعت کو ایوارڈ دیا جانا چاہیے‘ تو سیوا کی جانب سے آج اور اسی جلسے میں ایوارڈ دیے جانے کا اعلان کیا جاتا ہے اور پھر فیاض رفعت کو ’’سیوا ایوارڈ‘‘ تفویض کیا گیا۔ صدرجلسہ ڈاکٹر ظہیر قاضی نے، جلسے میں کہے گئے اس جملے کہ’ظہیر قاضی تو ہر جگہ حاضر رہتے ہیں، کہ پس منظر میں کہا یقیناًمیں ایک مصروف آدمی ہوں مگر اُردو کے نام پر ہر وقت حاضر ہو جا تا ہوں اور حاضر ہوتا رہوں گا۔ انجمن اسلام جیسے ادارے کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی نے ایڈوکیٹ یٰسین مومن کی چھیڑی ہوئی بات پر کہا کہ ’’جو صورت حال وکیل صاحب نے بیان کی ہے وہ اُردو ہی کی نہیں ہے، ہر زبان کی ہے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اُردو کی جو صورت حال عام طور پر بیان کی جاتی ہے ایسا نہیں ہے۔ اُردو کی صورت حال مثبت ہے۔ ڈاکٹر موصوف نے انجمن اسکولوں اور تھانے کے ایک اسکول کی مثال بھی دی۔مگر ہم نے محسوس کیا کہ ہماری زبان کی اس بڑی بیماری کو ڈاکٹر صاحب نے دوربین سے نہیں بلکہ خوردبین (مائکرواسکوپ) سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ فیاض رفعت کی کتاب کی رسم اجرا ڈائس پر موجود تمام اشخاص کے ہاتھوں انجام پائی۔ جلسے سے اور بھی کئی اشخاص نے خطاب کیا اور ’سیوا‘ کے تعلق سے یوسف ابراہانی کی غیر حاضری میں سیوا کے ممتاز نمائندے یعقوب میمن نے حاضرین سے خطاب کیا۔ گُل بوٹے کے مدیر فاروق سیّد نے شکریے کی رسم اداکی۔جلسے کا اختتام پر تکلف عشائیہ پر ہوا۔

Tuesday, July 12, 2011

مشہور صحافی ساجد رشید نہیں رہے

نامور اردو صحافی اور روزنامہ ''صحافت '' کے ممبئی ایڈیشن کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر ساجد رشید کل سواپانچ بجے حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے اس دار فانی سے رخصت ہوگۓ ۔ گزشتہ دنوں پرنس علی خان اسپتال میں ان کا قلب کا آپریشن ہوا تھا جس کے بعد ان کی حالت میں افاقہ ہی نہیں ہوا ۔مرحوم ساجد رشید ''صحافت ''سے قبل دس برسوں تک روز نامہ ''اردو ٹائمز '' کے فیچر ایڈیٹر تھے ۔پھر انھوں نے اردو روز نامہ ''مہانگر '' نکالا تھا ناگریز وجوہات کی بناء پر بند کرنہ پڑا ۔مہاراشٹر ساہتیہ ارود اکیڈمی کے چیئرمین کے عہدے پر بھی وہ فائز تھے ۔ انھیں مختلف قوی وبین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ ممبئی سے وہ اپنا خود کا ایک ادبی رسالہ ''نیا ورق '' نکالتے تھے ۔ جو آج بھی جاری ہے ۔ وہ ایک بہترین کارٹونسٹ بھی تھے ۔ صحافت کے علاوہ ادبی دنیا میں بھی انھوں نے خدمات انجام دی ہیں ۔ساجد رشید کا ناول ''رگوں میں جمی پرت '' کافی مشہور ہوا ۔افسانوں کا مجموعہ 'ریل گھڑی 'چھوٹا سا جہنم اور سونے کے داغ نے کافی شہرت حاصل کی ان کا کالم زندگی نامہ 'بھی لوگوں کو کافی پسند آیا ۔صحافت کے میدان میں بھی انہیں کئی ایوارڈ ديۓ گۓ ۔جن میں ساہتیہ اکیدمی ایوارڈ بھی شامل ہے ان کی تحریر کو مد نظر رکھتے ہوۓ انہیں ''ہندی کلچرل ڈائریکٹوریٹ کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔ساجد صاحب اپنے مضامین اور راۓ میں بھر پور بیباکی و بے لاگی کا انداز اختیار کرتے تھے ۔نجی ملاقاتوں میں بھی وہ اس کی پوری کوشش کرتے کہ لوگ ان کی سب سے مختلف راۓ پر گفتگو شروع کریں ۔ مرحوم نے ہمیشہ اپنی قلم کے ذریعے مسلم مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی تھیں ۔ آج بروز منگل بعد ظہر ناریل واڑی قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئيں ۔ان کے انتقال پر صحافی ، ادبی ، سماجی اور سیاسی حلقوں میں رنج و غم کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ مرحوم کو جنت میں مقام عطا فرماۓ اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرماۓ اور انہیں اپنی رحمت خاص سے بہتر بدلا عطاکرے
۔

Monday, June 20, 2011

محترمہ نورالعین علی






پچھلے سال کی بات ہے کہ بال بھارتی اردو پاٹھیہ پستک کے اسپیشل آفیسر خان نویدالحق اور ان کی اہلیہ خان عارفہ نویدالحق نے جب سے نورانی آپا کا ذکر کیا تھا ۔اس روز سے مجھ میں نورانی آپا ( محترمہ نورالعین علی ) سےملنے کی خواہش پیدا ہو گئی تھی ۔ مگر مصروفیت کی بناء پر ان سےملاقات نہ ہو سکی ۔مگر آج میری آرزو پوری ہو گئی ۔ جب ہم ان سے ملنے ان کے گھر گۓ ۔نورانی آپا بہت ہی ملنسار شخصیت کی مالک ہے ۔انھوں نےاپنی پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے بچپن کی بہت سی باتیں بتائی ۔ کہ کس طرح پہلی بار انھوں نے پانچ سال کی عمر میں ڈرامے راجہ ہرش چندر میں سادھو کا کردار نبھایا تھا ۔ اور ان کے کام کی تعریف کی گئ ۔ اس کے بعد انھوں نے اسکول اور کالج کے زمانے میں کئی ڈراموں میں کام بھی کیا ۔اور انھیں ڈرامے لکھنے کا شوق پیدا ہوا ۔نورلعین علی کی پیدائش 27 فروری 1930ء کو امراوتی میں ہوئی ۔
محترمہ نورا
لعین علی ایسے علمی گھرانے سے تعلق رکدھتی ہیں ۔جس میں میرٹھی
تہذیب اور انسانی اقدار کی پاسداری اپنے پورے وقار اور توانائی کے ساتھ جلوہ گر رہی ہے ۔ آپ کا تعلق بچوں کے مشہور شاعر مولوی اسمعیل میرٹھی کے خاندان سے ہیں ۔ مّثالی
تہذیبی ماحول ۔ اعلی تعلیم حیرت انگیز مطالعہ ،تجزیے کی صلاحیت اور استدلال کی قوت نے ان کی شخصیت کو اعتبار کا درجہ دیا ہے ۔ان کے ڈراموں کا پہلا مجموعہ '' بہو کی تلاش ''ہے ۔انھوں نے مختلف جماعتوں کی درسی کتابوں کے کہانیاں ، مضامین ،نظمیں ،مکالمے ،ڈرامے ،سوانحی خاکے وغیرہ لکھے ۔نیز سماجی ومعاشرتی مسائل پر ڈرامے لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ان کے لکھے ہوۓ اردو ڈرامے ''سوچ لیجیے " اور ڈرامے "" کینسر ''' کو اول انعام دیا گیا اور آج بھی وہ ممبئی یونیورسٹی اور ناگپور نیورسٹی میں ایم اے کے نصاب میں شامل ہیں ۔ دوران ملازمت نورانی آپا آکاش وانی کے لۓ بھی لکھتی رہی ہیں ساٹھ سے زائد ڈرامے اور خاکے ریڈیو پر پیش کر چکی ہیں ۔ اور یہ ڈرامے اور خاکے خود ان کی اپنی آواز میں نشر کۓ جاتے تھے ۔ ان کے ڈرامے ''ہے اور کوئی راستہ ؟''اور وہ بولتے کیوں نہیں ؟'' اور ڈرامے سراب کی خصوصیت یہ ہے کہ سب کی تھیم ایک ہی ہے یعنی سب انسانی حقوق سب کے لۓ '' ان ڈراموں میں انھوں نے ایک نئ تکنیک اپنائی ہے ۔
نورانی آپا کے ڈرامے طبعزاد ہوتے ہیں ۔ان کے تمام ڈراموں میں اوریجنلٹی ہے اور ایک اہم خوبی ان کی مقصیدیت ہے انھوں نے کسی نہ
کسی سماجی ، معاشی یا معاشرتی مسئلے کو موضوع بحث بنایا ہے ۔ انھیں عورتوں کے مسائل سےخصوصی دلچسپی رہی ہے وہ اصولی طور پر مساوات مرد وزن کی قائل ہیں ۔۔ سماج میں جہاں اور جب عورتوں کے حقوق غصب کۓ گۓ انھوں نے جلد ہی اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ان کا ہر ڈراما ایک جراءت مند مثالی خاتون کے تشخیص کا تعین کرنے میں سرگرداں نظر آتا ہے ۔ ان کے ڈراموں کی سب سے اہم خوبی یہ ہےکہ انھیں اسٹیج کیا جاسکتا ہے ۔یہ خوبی اردو کے بہت کم و بیش ڈراما نگاروں میں پائی جاتی ہے ۔

Saturday, May 28, 2011

Friday, May 06, 2011

ماہنامہ ’’تریاق‘‘ کی رسم رونمائی


ماہنامہ ’’تریاق‘‘ کی رسم رونمائی پر اردو کے مشاہیر دانشوروں کی تقاریر
افتخار امام صدیقی
،شمیم طارق،شاہد لطیف اور مجاہد حسین حسینی نے پذیرائی کی

مورخہ ۵؍مئی ۲۰۱۱ ؁ء شام پانچ بجے بمقام ایچ پی کیلوسکر مارگ، میونسپل اردو اسکول کرلا کے ہال میں ماہنامہ’’ تریاق‘‘ کا اجراء ہوا۔یہ تقریب اس لحاظ سے بھی پر وقار ہے کہ ا س میں ممبئی کے اہل قلم اور اہل ذوق نے شرکت کی۔تقریب کی ابتدا تلاوت قرآن پاک سے ہوئی۔صاحب حسن نے مہمانان کا تعارف کرایا۔ صدارت کے فرائض مجاہد حسین حسینی صاحب نے انجام دے۔اس پر وقار تقریب کے چیف گیسٹ عالی جناب نواب ملک صاحب تھے۔مدیر صاحب حسن صاحب نے اپنی تقریر میں تریاق کے وجود میں آنے کی وجہ تسمیہ بیان کی۔شمیم طارق کے ہاتھوں ’’تریاق‘‘ کا اجراء زبردست تالیو ں کے ساتھ ہوا۔ شمیم طارق نے اپنے تاثرات دلکش انداز میں بیان کیے۔’’تریاق‘‘ اور تریاک دونوں کے املے کو درست قرار دیا۔اپنی عالمانہ تقریر میں اہم نکات بیان کیے اور اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
محتر م افتخار
امام نے اردو ادب کی تاریخ ترقی پسندوں سے جدیدیت تک بیان کی۔ماہنامہ شاعر ممبئی کے مدیر کی حیثیت سے اپنے تجربات بیان کیے اور تریاق کے لئے ہر ممکن تعاون کا وعدہ فرمایا۔دوران تقریر افتخار امام صدیقی بہت جذباتی ہوگئے تھے۔اپنے تقریر میں انھوں نے اپنے تجربات کا نچوڑ پیش کیا۔بعد از اں ڈاکٹر شیخ عبد اللہ کے ہاتھوں ڈاکٹر ارشاد خاں کی تحریر کردہ بچوں کی تقریروں کا مجموعہ’’ دیکھنا تقریر کی لذت‘‘ کا اجراء عمل میں آیا۔ڈاکٹر شیخ عبد اللہ نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔افتخار امام صدیقی نے برملا کہا آپ اس کتاب کو ضرور پڑھیں۔
مدیر اعلیٰ
تریاق جناب ضمیر کاظمی صاحب نے’’ تریاق ‘‘کی پالیسی کے بارے میں سیر حاصل تبصرہ کیا۔انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ’’تریاق ‘‘گھر کا ہر فرد پڑھے۔یہ کسی ایک طبقے یا کسی ایک مکتب فکر کے اصحاب کے لئے مخصوص نہیں۔ہم نے کوشش یہی کی ہے کہ ’’تریاق‘‘ میں ایک انفرادیت ہو۔اس میں ہر وہ چیز پروئی گئی ہے، دیدہ زیب و جاذب نظر ہو۔ہم نے عام ڈگر سے ہٹ کر اپنی الگ شناخت بنانے کی کوشش کی ہے۔ہم اس میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں یہ قاری پر چھوڑتے ہیں۔آپ کی آرا اور مشوروں کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔
سامعین سے اسکول کا ہال کچا کچ بھرا تھا۔ڈاکٹرقاسم امام کی نظامت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔آپ نے معزز مہمان عالی جناب نواب ملک کو آواز دی نواب ملک اپنے مخصوص دھیمے اور ٹھہرے ہوئے انداز میں بول رہے تھے کہ مہاراشٹر میں تقریبا ۵۰ ہزار اساتذہ ہیں۔کشمیر وہ صوبہ ہے جہاں کی سرکاری زبان اردو ہے۔ہندوستان کے دیگر صوبہ جات میں اردو پڑھی اور بولی جاتی ہے۔ہماری ریاست مہاراشٹرمیں اردوکے لیے فضا بہت سازگا ر ہے۔خصوصا ممبئی اردو علم و ادب کا گہوارہ ہے۔انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ رسالے اشتہارات حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل نہ ہوں بلکہ وہ ایسا مواد پیش کریں کہ قاری اسی رسالے کی مطالعے کا عادی ہو جائے۔نواب ملک نے بہت سے قیمتی مشوروں سے نوازا۔اس کے بعد فاروق سید ایڈیٹر ’’گل بوٹے ‘‘نے اپنی تقریر میں اس بات کا اعادہ کیا کہ اردو رسالے زیادہ سے زیادہ اردو قارئین تک پہنچا یا جائے۔انھوں نے ’’تریاق‘‘ کے تئیں اپنی نیک خواہشا ت کا اظہار کیا۔
شاہد ل
طیف(مدیر روزنامہ انقلاب) نے تازہ مردم شماری کے تناظر میں زبانوں کے اعداد وشمار پیش کیے ۔یہ ہماری بدنصیبی نہیں تو اورکیا ہے کہ ہماری آبادی لگ بھگ اٹھارہ کروڑ ہے جس میں اردو کا مقام چھٹا ہے ۔شاہد لطیف نے اپنی عالمانہ تقریر میں بہت سی باتیں پیش کیں آخر میں بزرگ شعراء جمعیل مرصعپوری اور اسیر برہانپوری صاحب کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے انھیں مومینٹو ،شال اور گلہائے عقیدت پیش کیے گئے۔صدر محترم جناب مجاہد حسین حسینی صاحب نے اپنی روایتی سادگی کے انداز میں کہا کہ جوکچھ میں کہنے والا تھا وہ سب کچھ دیگر مقررین نے پیش کردی ہیں ۔انھوں نے تریاق کو مسموم فضاؤں کی مسیحائی کرنے والا قرار یا۔اپنی نیک خواہشات ’’تریاق‘‘ کے لیے پیش کیں۔مہمانوں کی خدمت میں گلہائے عقیدت پیش کیے گئے۔ایڈیٹر ’’تریاق‘‘صاحب حسن نے مہمانوں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔اسی کے ساتھ رات ساڑے نو بجے اس یادگار ادبی تقریب کا اختتام ہواجسے برسوں یاد رکھا جائے گا۔
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP