Thursday, July 25, 2013
Saturday, January 26, 2013
Monday, September 10, 2012
سادگی والی شادی
ہم اور آپ شادی کا اہم فریضہ ادا کرتے وقت اسلامی اصولوں کو بالاۓ طاق رکھ کر بے جا اور ہندوانہ رسوم پر عمل کرتے ہیں ۔ ہلدی ، سہرا ، ڈی جے ، ناچ گنے ، سنگیت بڑے بڑے ہالوں یا ہوٹلوں میں مختلف کھانوں کا اہتمام کرتے ہیں ۔ اور بلا شبہ اللہ اور رسول کو اپنے اس عمل سے ناراض کرتے ہیں ۔مگر اس دور پرفتن اور نام و نمود کے زمانے میں بھی کچھ شادیاں الحمدللہ سادگی سے ہوتی ہیں ۔
Saturday, September 01, 2012
غئز ل
Sunday, August 26, 2012
کامیابی مبارک ہو
کامیابی مبارک ہو
عوامی وکاس پارٹی کے صدر شمشیر خان پٹھان صاحب ریاست کے اقلیتوں پر ہورہی نا انصافی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں ۔ ریا ست مہاراشٹر کے اقلیتی چئرمین کی تقرری کے بعد عوامی وکاس پارٹی نے ریاست کی اردو اکادمی ، حج کمیٹی اور وقف بورڈ کے چیئرمین ودیگر عہدے داران کی تقرری کی فوری مانگ کی ہے ۔شمشیر پٹھان نے اقلیتی چيئرمین کی تقرری کو عوامی وکاس کے زبردست احتجاج اور اسے عوامی حمایت کا نتیجہ ہے ۔ اقلیتوں کی فلاح و بہبودی کے لیے ان کے مسائل کے حل کے لیے عوامی وکاس پارٹی کے قیام کا عمل میں آنا وقت کی خاص ضرورت ہے ۔اور شمشیر پٹھان صاحب اور ان کے ہم عصروں کو ہم دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔ اور اللہ ربالعزت سے دعا کرتے ہیں کہ وہ انھیں اپنے نیک مشن میں کامیابی عطا کریں ۔
Wednesday, May 02, 2012
مسلم اور دلت اتحاد کے ساتھ ہی عوامی وکاس پارٹی کا قیام
محروم طبقات کو انکے حقوق دلانے کا عزم یکم مئی مزدوروں کا بین ا لاقوامی دن اور یوم مہاراشٹر کے موقع پر مہراشٹر کے مسلمانوں اور دلتوں نے ایک نئے عزم کے ساتھ ایک سیاسی پارٹی کی بنیاد ڈالی ئجس کا اعلان آج یکم مئی کو ممبئی کے کنگ سرکل میں واقع شان مکھانند ہال میں سبک دوش اسسٹنٹ پولس کمشنر ممئی شمشیر خان پٹھان (صدر ) اور ببن کامبلے (نائب صدر) نے کیا ۔اس تاریخی اجلاس کا افتتاح بچوں کے ذریعہ بنے ماڈل سے ہوا جس میں کوئی شیوا جی تھا تو کوئی مولانا آزاد ۔ایم اے خالد جو کہ ایک آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ ہیں نے اپنے افتتاحی کطاب میں کہا کہ مسلمانوں دلتوں اور دیگر محروم طبقات کے لئے یہ ایک متحدہ پلیٹ فارم ہے۔عام طور پر سیاسی پارٹیاں دو وجوہات کی بنا پر بنا کرتی ہیں ایک تو اس پارٹی بغاوت کرکے ایک الگ پارٹی بناتے ہیں دوسرے اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے ۔انہوں کہا کہ جب ہمارے مقدر کا فیصلہ پارلیمنٹ ،اسمبلی اور کارپوریشن میں ہوا کرتا ہے تو کیوں نہیں ہم اپنے نمائندے وہاں بھیجیں جو ہمارے حقوق کی حفاظت کریں۔انہوں کیرل کی مثال دی کہ وہاں مسلمان حکومت میں شراکت دار ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ وہاں مسلمانوں کے سات میڈیکل کالج ہیں۔کیرل کے مسلمانوں کی حیثیت پورے ملک کے مسلمانوں اور محروم طبقات کیلئے رہنما کی سی ہے۔ڈی ساونت نے کہا کہ سنجیدگی سے پورے عزم و حوصلے کے ساتھ قدم آگے بڑھائیں تو یقیناًکامیابی ملے گی۔امتیاز پیر زادہ (پونے) نے اپنے مسائل خود کے زریعہ بنائے گئے سیاسی پلیٹ فارم سے ہی ممکن ہے ۔ہم نے کانگریس کو ووٹ دیا لیکن کانگریس نے ہمیں TADA,POTA,MCOCA جیسے ظالمانہ قانون دیئے انہوں نے ہمیں بھیونڈی ،ممبئی سمیت انگنت فساد دئے ۔ہم نے انہیں ووٹ دیا انہوں نے ہمیں دہشت گرد اور غداری کا لیبل دیا۔ہماری یہ بری حالت کس نے بنائی اسی کانگریس اور این سی پی کی حکومت نے ،ہم اپنی کوئی مانگ لیکر جاتے ہیں تو کلکٹر ہمارے سامنے تو یہ کہتا ہے کہ ہم غور کریں گے ،لیکن ہمارے وہاں سے ہٹتے ہی وہ ہمارے مطالبات والی فہرست یا درخواست کچڑے میں پھینک دیتا ہے ۔اس لئے ہم بیداری کا ثبوت دیں عوامی وکاس پارٹی کا ساتھ دیں جو ہمارے حقوق کے لئے لڑیں گے۔ مبارک کاپڑی نے کہا کہ جو قوم قوالی میں پانچ پانچ گھنٹے دیتی تھی آج وہ تعلیمی لیکچر میں اس سے زیادہ وقت دے رہی ہے جو قوم کے اندر تبدیلی کا اشارہ ہے۔جس دن سے عوامی وکاس پارٹی کا اعلان ہوا ہے مجھے جو ای میل اور sms ملے ہیں اس میں سے نوے فیصد لوگوں نے میری حمایت کی ہے باقی جو دس فیصد مخالف ہیں انہوں نے بھی اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ کہیں سیاست میں پھنس کر تعلیمی تحریک سے میں پیچھے نہ ہٹ جاؤں ،میں وعدہ لرتا ہوں کہ میں اسی طرح اپنی تعلیمی تحریک میں جٹا رہوں گا ۔اس پارٹی میں ہوں لیکن میں کبھی الیکشن نہیں لڑوں گا ۔انہوں نے کہا کہ پچھلے کئی دہائیوں سے میں تعلیمی تحریک سے جڑا ہوا ہوں مجھے اندازہ ہے کہ ہمارے بچوں میں ذہانت کی کمی نہیں ہے لیکن چونکہ مسلمان مالی طور پر پسماندہ ہے اس لئے وہ انجینیئر بننے کے بجائے میکنک بن جاتا ہے ۔مسلمانوں کو اسکولر شپ دینے میں بھی ٹال مٹول اور آنا کانی سے کام لیا جاتا ہے ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق دو لاکھ سے زائد درخواست مولقانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن میں پڑا ہوا ہے جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ماہر تعلیم مبارک کاپڑی نے کہا کہ ہمارے دکھ ایک ہیں ہمارے دشمن بھی ایک ہیں ۔ہماری ترقی کی راہوں میں سیاست داں اور برہمنی بیورو کریسی روڑا ہے۔ سرفراز آرزو ایڈیٹر روزنامہ ہندوستان نے کہا کہ شیو سینا بی جے پی حکومت میں وزیر اعلیٰ منوہر جوشی نے اردو اکیڈمی کا بجٹ تیس لاکھ کیا اور انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ اس کو ایک کروڑ تک کر دیں گے لیکن اس وقت سے بجائے بجٹ میں اضافہ ہونے کہ ہر سال بجٹ میں کمی ہی کی جاتی رہی ہے۔مسلم یونیورسٹی کی شاخ کے لئے جس میں ریاستی حکومت کو ایک پائی بھی خرچ نہیں کرنا ہے لیکن اقلیتوں کی ہمدردی کا دعویٰ کرنے والی حکومت اس کے لئے زمین بھی مہیا نہیں کروارہی ہے۔جبکہ کیرلا بہار اور مغربی بنگال کی حکومت نے زمین مہیا کرادی ۔مہاراشٹر میں مسلمانوں کا ایک بھی میڈیکل کالج نہیں ہے۔سیاست کی بساط پر جو طئے کر دیا گیا ہے اس سے ہم ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھاپارہے ہیں ۔نئی سیاسی پارٹی کیوں اس پر انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسی کوشش ہوئی لیکن وہ بار آور نہیں ہو سکی ۔یہ دوسری کوشش ہے ہم پچھلی ناکامی سے سبق لیکر اس کو ناکامی سے بچانے کی کوشش کریں گے۔ جاوید پاشا نے کہا کہ جب تک غلاموں کو غلامی کا احساس نہیں کریا جائے تب تک بیداری نہیں آتی۔ڈاکٹر ایمبیڈکر نے کہا تھا کہ جو سماج سیاست میں شریک نہیں ہوتا وہی غلط سیاست کا سب سے پہلا شکار ہوتا ہے۔ہم نے آزادی کے بعد سے جسے ووٹنگ کرتے رہے اسی نے ہمارا کردار بدنماء بنانے کی کوشش کی آج حالت یہ ہے کہ سرکاری نوکریوں میں تو ہمارا تناسب دو فیصد ہے لیکن جیلوں میں ہمارا تناسب پینتیس فیصد سے زیادہ ہے۔اگر ہم نے ہوشمندی سے کام لیا ہوتا تو نقشہ اس کا الٹا ہوتا ۔انہوں نے کہا کہ یہاں جوش خروش دکھانے سے کچھ نہیں ہوگا یہ بات آپ کے دل میں بیٹھنی چاہیئے کہ ہماری پسماندگی کا ذمہ دار کون ہے اور اس کا علاج کیا ہے ۔ہم آپ کو اس پارٹی کے ذریعہ ووٹ کی لاٹھی دینے آئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی پہلی پارٹی ہے جو یہ اعلان کرتی ہے کہ کسی بھی مجرمانہ بیک گراؤنڈ والے کو نہ تو اس پارٹی میں جگہ ملیگی اور نہ ہی ایسے شخص کو ٹکٹ دیا جائے گا ۔یہ ایک دو دن کی ایک دو سال کی لڑائی نہٰں ہے ۔یہ لمبی لڑائی ہے اس میں قربانی دیجئے گا جب ہی کامیابی ملیگی قربانی اور کامیابی ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں ۔ہم پوری مثبت انداز فکر کے ساتھ اس میں آئے ہیں ۔ارشاد خطیب نے کہا کہ وقف کی زمینوں پر جو قبضہ ہے ہم انہیں واپس لیں گے یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ہمارے پاس حکومت کی طاقت ہو۔ ببن کامبلے جو کہ اس پارٹی کے نائب صدر ہیں نے کہا کہ اس حکومے اور انتظامیہ نے مسلمانوں کی ایس صورت بنادی ہے کہ مسلمان کی پہچان دہشت گرد کی سی بن گئی ہے ،جو لوگ یہ سمجھتے ہیں انسے میرا سوال ہے کہ کیا سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر مسلمان ہے؟مسلمان بھی اس ملک میں اتنا ہی حق رکھتے ہیں جتنا دوسری قومیں اور یہ ضمانت ہمیں یہاں کے دستور نے دی ہے۔انہوں نے پرجوش انداز میں سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج سے اگر کسی دلت پر کوئی پریشانی آتی ہے تو مسلمان اس کی مدد کریں اور اگر کسی مسلمان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو دلت اپنے مسلمان بھائی کی مدد کریں ۔اپنی طاقت کو سمجھئے آپ کی تعداد ۳۹ فیصد ہے اگر آپ بیدار ہوگئے تو حکومت آپ کی ہی ہوگی اس سے کم ووٹ حاصل کرنے والے آپ پر حکومت کرتے ہیں ۔پہلے حکومت پر قبضی کیجئے اور پھر اپنے لئے ریزرویشن مانگئے اس وقت آپ کو بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔صرف مسلمانوں نے اتر پردیس میں مایا کا ساتھ چحوڑ دیا تو مایا کی حکومت چلی گئی تو کیا یہا مہاراشٹر میں دلت مسلم اور ایمبیڈکر سماج ملکر حکومت پر قبضہ نہیں کر سکتے۔ شمشیر خان پٹھان نے کہا کہ میڈیا پولس اور سیاست دانوں کی ملی بھگت سے مسلمانوں کی تصویر بگاڑی گئی ہے ۔ہر ہندو تیو ہاروں کے موقع پر آئی بی کی طرف سے یہ الرٹ جاری کیا جاتا ہے کہ دو یا چار یا چھ دہشت گرد بھارت میں گھس آئے ہیں ۔انکے اسکیچ بھی جاری کئے جاتے ہیں ۔جو کہ گنپتی یا کسی بھی پوجا پنڈالوں کے باہر بھی لگائے جاتے ہیں عام ہندو داخل ہوتے ہوئے اور نکلتے ہوئے اسے دیکھتا ہے اور اس کے دل میں مسلمانوں سے بھر جاتی ہے ۔لیکن یہ دہشت گرد کبھی پکڑے نہیں جاتے ایسا صرف ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خلیج کو گہرا کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔حکومت عوام کو شراب اور جوئے میں پھنسا کر بنیادی ضروریات کی طرف سے انکے ذہن کو موڑ رہی ہے۔میں عزم مصمم لیکر آیا ہوں جو باتیں کہہ رہا ہوں صدق دل سے کہہ رہا ہوں یہ محض گفتار نہیں ہے ۔میں کرکے دکھاؤں گا ۔اگر ہمیں موقع ملے گا تو ہم شراب اور لاٹری پر مکمل پابندی لگا دینگے۔کیوں کہ شراب اور لاٹری کے ذریعہ غریب اور جاہل عوام کا پیسہ سفید کالر غنڈوں کے جیب میں چلا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس ریکارڈ ہے کے سیاست دانوں نے مختلف بہانوں سے ہزاروں ایکڑ زمینیں ہتھیا رکھی ہیں ۔لیکن ہم ہمارا اسمٰعیل یوسف کالج کی ۵۔۶۲ ایکڑ زمیں مانگتے ہیں لیکن حکومت ہمیں ہماری زمین نہیں لوٹاتی ۔آج کے بعد میری زندگی قوم کے لئے وقف ہے اب چاہے ان راہوں میں کتنی ہی مشکلات سے گزرنا پڑے خواہ جان ہی کیوں نہ گنوانی پڑے۔ اس سلسلے میں ہم نے شرکاء میں سے بھی کچھ لوگوں کی رائے جاننے کی کوشش کی ۔محمد مسرت جو کہ رے روڈ سے آئے تھے اور جن کا تعلق اتر پردیس سے ہے نے اپنے خیالات کچھ اس طرح بیان کئے’’یہ عوامی وکاس پارٹی اس لئے ہے کہ ہم اپنے قدموں پرکھڑے ہوسکیں ،آخر کب تک ہم دوسروں پر انحصار کریں ۔مسلم عوام کی بھی رائے یہی ہے کہ مسلمانوں کی اپنی سیاسی پارٹی ہو جو ہمارے حقوق کی لڑائی لڑے ۔کانگریس نے آزادی کے بعد سے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔تریمبک جادھو جو کہ کوپر کھیڑا نئی ممبئی سے اس افتتاحی اجلاس میں شریک ہوئے تھے کا خیال ہے کہ دلت مسلم اتحاد وقت کی ضرورت ہے اگر ہم دلت اور مسلم متحد ہوجائیں ظلم و استحصال کا خاتمہ ہوجائے گا پچھلے پینسٹھ سالوں سے مسلمان اور دلت جس ظلم کو سہتے آرہے ہیں اب اس کے اختتام کا وقت آگیا ہے۔کرلا سے آئے ہوئے خان صاحب نے کہا کہ یہ ایک اچھی کوشش ہے ہماری خواہش ہے کہ یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہو اور دشمنوں کی نظر بد سے یہ محفوظ رہے۔جبکہ بھیوانڈی سے آئے ہوئے ڈاکٹر سعید انصاری کی رائے مختلف ہے ان کا کہنا ہے کہ کسی نئی یا مسلم سیاسی پارٹی کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔پہلے سے ہی بہت سی سیاسی پارٹیاں موجود ہیں ۔اتنی ساری پارٹیوں کی موجودگی میں اس پارٹی کا اقتدار میں آنا مشکل ہے۔مسلمانوں کی بھی کئی سیاسی پارٹیاں موجود ہیں ۔مسلمان اور دلت پہلے سے ہی کئی خانوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔یہ لوگ کس سے اتحاد کریں گے یہ ابھی سمجھ میں نہیں آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس مسلمانوں کے لئے کم نقصاندہ ہے ۔اس سوال پر کہ آزادی کے بعد سے کانگریس ہی بر سر اقتدار رہی ہے اور مسلمانوں کی حالت کسی سے مخفی نہیں ہے ،پھر بھی آپ یہ کہتے ہیں کہ کانگریس ہی بہتر ہے ۔اس پر انہوں نے کہا کہ مسلمان ہی اس کے لئے ذمہ دار ہیں ۔
Monday, August 15, 2011
یہ کیسی ترقی؟
ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک کہا جانے لگا ہے ۔لیکن یہاں تو گھپلے گھٹالوں میں ترقی ہو رہی ہے اتنے بڑے بڑے گھپلے اور گھٹالے کے معاملے ہو جاتے ہیں لیکن کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی اور سب کچھ ہو جانے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اتنا کچھ ہو گیا ۔بد عنوانی پر نظر رکھنے والے ادارے آخر کیوں خاموشی سے سب کچھ دیکھتے رہتے ہیں ۔آخر کیسے اقتدار میں بیٹھے نمائندے اتنے سارے ناجائز کام کرتے چلے جاتے ہیں اور کوئی آواز نہیں اٹھاتا ۔ریاستی اور مرکزی سطح کے لیڈر بھی سب کچھ دیکھتے رہتے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور غالباً جب حصہ پورا نہیں ملتا تب بھانڈا پھوٹتا ہے کہ ملک کو ہزاروں اور لاکھوں کروڑ کا چونا لگایان جا چکا۔یہ رجحان ملک کی ترقی کے راستے میں ایک رکاوٹ ہی تو ہے جب تک ملک اس طرح کے بد عنوان لوگوں سے پاک نہیں ہوتا ملک کی ترقی نا ممکن ہے بھلا وہ ملک کس طرح ترقی یافتہ کہلا سکتا ہے جس کی آدھی سے زیادہ آبادی غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو ،جہاں ہر روز پانچ ہزار بچے مناسب غذا اور علاج کی عدم دستیابی سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہوں ۔کیا ایسا ملک ہی ترقی یافتہ کہلاتا ہے؟
تین بندر لاپتہ
گاندھی جی اپنے میز پر تین بندر رکھتے تھے۔برا مت بولو،برا مت دیکھواور برا مت سنو۔مگر آج ہر شخص برا بول رہا ہے ،برا سن رہا ہے اور برا دیکھ رہا ہے۔رشوت لے رہا ہے رشوت دے رہا ہے۔گاندھی جی جن باتوں کے خلاف تھے وہی کام ہو رہا ہے۔اب تو مارکیٹ سے بھی گاندھی جی کے ان بندروں کا ماڈل غائب ہوگیا ہے۔
Thursday, August 11, 2011
اردو کمپیوٹر ورک شاپ
بروز جمعرات 4 اگست 2011ء کو انجمن اسلام گرلز ہائی اسکول بلاسس روڈ ممبئی میں کمپیوٹر لیٹریسی کا ورک شاپ منعقد کیا ۔اردو ویب سائٹ لنترانی ڈاٹ کام ولنترانی میڈیا ہاؤس کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر روپیش سریواستو نے اسکول ھذا کے تیس اساتذہ کو اپنے کمپیوٹر پر بغیر کسی اردو کے دوسرے سافٹ ویئرڈاؤن لوڈ کرے ۔ آپریٹنگ سسٹم ونڈوز کے ذریعے ہی سیدھے اردو ایکٹی ویٹ کرکے اردواوردوسری مختلف زبانوں کو لکھنے کی ٹرینینگ دی ۔یہ ورک شاپ دو سیشن پر مشتمل تھا ۔ پہلے سیشن میں پروجیکٹر کے ذریعے اسکرین پر سمجھایا گیا ۔ اہم باتوں کی ٹیپس دی گئی ۔ ڈاکٹر روپیش سریواستو نے اپنے لیکچر میں کہا کہ اس ٹیکنالوجی کے دو ر میں ہم اساتذہ کو
Wednesday, August 03, 2011
دلّی جو ایک شہرتھا‘ : فیاض رفعت
Tuesday, July 12, 2011
مشہور صحافی ساجد رشید نہیں رہے
Monday, June 20, 2011
محترمہ نورالعین علی
پچھلے سال کی بات ہے کہ بال بھارتی اردو پاٹھیہ پستک کے اسپیشل آفیسر خان نویدالحق اور ان کی اہلیہ خان عارفہ نویدالحق نے جب سے نورانی آپا کا ذکر کیا تھا ۔اس روز سے مجھ میں نورانی آپا ( محترمہ نورالعین علی ) سےملنے کی خواہش پیدا ہو گئی تھی ۔ مگر مصروفیت کی بناء پر ان سےملاقات نہ ہو سکی ۔مگر آج میری آرزو پوری ہو گئی ۔ جب ہم ان سے ملنے ان کے گھر گۓ ۔نورانی آپا بہت ہی ملنسار شخصیت کی مالک ہے ۔انھوں نےاپنی پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے بچپن کی بہت سی باتیں بتائی ۔ کہ کس طرح پہلی بار انھوں نے پانچ سال کی عمر میں ڈرامے راجہ ہرش چندر میں سادھو کا کردار نبھایا تھا ۔ اور ان کے کام کی تعریف کی گئ ۔ اس کے بعد انھوں نے اسکول اور کالج کے زمانے میں کئی ڈراموں میں کام بھی کیا ۔اور انھیں ڈرامے لکھنے کا شوق پیدا ہوا ۔نورلعین علی کی پیدائش 27 فروری 1930ء کو امراوتی میں ہوئی ۔
محترمہ نورا
تہذیب اور انسانی اقدار کی پاسداری اپنے پورے وقار اور توانائی کے ساتھ جلوہ گر رہی ہے ۔ آپ کا تعلق بچوں کے مشہور شاعر مولوی اسمعیل میرٹھی کے خاندان سے ہیں ۔ مّثالی تہذیبی ماحول ۔ اعلی تعلیم حیرت انگیز م
نورانی آپا کے ڈرامے طبعزاد ہوتے ہیں ۔ان کے تمام ڈراموں میں اوریجنلٹی ہے اور ایک اہم خوبی ان کی مقصیدیت ہے انھوں نے کسی نہ
Saturday, May 28, 2011
Friday, May 06, 2011
ماہنامہ ’’تریاق‘‘ کی رسم رونمائی
افتخار امام صدیقی،شمیم طارق،شاہد لطیف اور مجاہد حسین حسینی نے پذیرائی کی
مورخہ ۵؍مئی ۲۰۱۱ ء شام پانچ بجے بمقام ایچ پی کیلوسکر مارگ، میونسپل اردو اسکول کرلا کے ہال میں ماہنامہ’’ تریاق‘‘ کا اجراء ہوا۔یہ تقریب اس لحاظ
محتر م افتخار
مدیر اعلیٰ تری
شاہد لطیف(مدیر رو


