Showing posts with label urdu. Show all posts
Showing posts with label urdu. Show all posts
Saturday, January 26, 2013
Monday, November 05, 2012
ارادے سو گنا بڑھ گۓ ہیں
شمشیر خان پٹھان صاحب
قوم سے والہا نہ محبت
کرنےوالے پر اّثر شخصیت کے مالک ہیں ۔ان
کے عزائم و مقاصد نیک ہیں ۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ انھیں اپنے مقاصد میں کامیابی
عطا کریں ۔ آمین ثمہ آمین ۔
0
comments
Labels:
munawwar snaault urdu blogging,
urdu
Wednesday, August 01, 2012
رفیع صاحب بہت یاد آے
سروں کے بادشاہ انسانیت کے علمبردار اور
لاکھوں دلوں کی دھڑکنوں میں بسنے والے رفیع
کو ہم سے بچھڑے ہوۓ بتیس برس کا طویل عرصہ بیت گیا پھر بھی ان کے پر شباب نغموں کو سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے ۔جیسے آج بھی وہ ہمارے درمیان موجود ہے ۔رفیع صاحب نے
ہندوستان کی ہر زبان کے گیتوں کو اپنی آواز میں بہترین انداز میں ڈھال کر انہیں
امر بنا دیا ۔اور مراٹھی زبان میں جو درد بھرے نغمے صدا بند ہوے ہیں۔اس کا جواب
نہیں وہ وطن کے سچے وفادار اور قومی یکجہتی کے لیے موسیقی کے سپہ سالار تھے۔اور تلفظ کے فیلڈ میں شہنشاہ
تھے۔بتیس برسوں پہلے ماہ رمضان المبارک میں ہی ہم سبھی کے علاوہ ان کی بیوہ بلقیس
بانو ، بیٹے محمد شاہد اور دیگر اہل چانہ نے ان کی وداعی پر آنکھوں کی کوروں کو
بھگودیا ۔ان کے پرستاروں سے استدعا ہے کہ وہ اپنے محبوب فنکار کی مغفرت اور درجات
کے لیے دعاۓ خیر کریں۔
( اثر ستّار ،باندرہ)
Saturday, June 02, 2012
داستان ، افسانہ ، کہانی رنگ اشعار
کہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہے
جو سنتا ہے اسی کی داستان معلوم ہوتی ہے
کہانی ہے تو بس اتنی ،فریب خواب ہستی کی
کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہو جاۓ
خود قصّہ غم اپنا کوتاہ کیا میں نے
دنیا نے بہت چاہا افسانہ بنا دینا
دنیا سے اک افسانہ کہنے کو تھے ،پھر سوچا
دنیا ہے خود افسانہ ، افسانے سے کیا کہیے
بھرے گی ان کو میرے بعد لاکھوں رنگ سے دنیا
خلائيں چھوڑ دی ہیں میں نے کچھ اپنے فسانے میں
مجھے افسوس ہے دنیا کی اس افسانہ سازی پر
کہ اپنی بھی کہانی چھیڑ دی میرے فسانے میں
میں ہوں اک مستقل عنوان ہستی کے فسانے میں
مجھے تاریخ دہراتی رہے گی ہر زمانے میں
( سیماب اکبر آبادی )
0
comments
Labels:
lantrani,
munawwar sultana,
urdu,
urdu blogging
Saturday, May 26, 2012
خدارا غور وفکر کیجئی
ہم اور آپ مسلمان ہونے کی وجہ سے ہمیں اپنی زندگی ہمارے نبی کے بتائے ہوئے راستوں پر ہی گزارنی چاہئے ۔اسی
میں آخرت کی کامیابی ہی۔چند دنوں پہلے ایک خبر شائع ہوئی کہ ۵۲ مسلمان
اجمیر معین الدین چشتی کی درگاہ پر جارہے
تھے ،ایک حادثہ میں ان کی گاڑی میں آگ لگ گئی،اور وہ لوگ جل کر مر گئی۔واضح رہے کہ
ہمیں مسجد حرام (کعبتہ اللہ )،مسجد اقصیٰ اور مسجد نبی ؐ جانے کے لئے خصوصی سفر کرنے
کا حکم ہے ۔قرآن و حدیث کی روشنی میں اجمیر،بغداد یا کسی اور مقام پر جانے کا قطعی
حکم نہیں ہی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان مرنے والے مسلمانوں کا اجمیر سفر کرنا یہ
عمل کیا عین قرآن و حدیث کی روشنی میں تھا؟ ہمیں اس تعلق سے غور و فکر کرنے کی ضرورت
ہی۔دوسری بات یہ ہے کہ اجمیر میں معین الدین چشتی
کے عرس کے موقع پر جنتی دروازہ کھولنے کی تصویر شائع ہوئی ہے ۔ہماری ناقص
معلومات اور دینی کتابوں کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہے کہ دین اسلام میں کسی بھی درگاہ
،خانقاہ پر اس طرح کے جنتی دروازہ کا ذکر نہیں ہی۔البتہ قرآن کی تلاوت نیز حدیثوں کی
کتابوں سے جنت کی معلومات ملتی ہے اور اسکے حاصل کرنے کا واحد راستہ رضائے الٰہی ہے
اور رضائے الٰہی حاصل کرنے کا واحد راستہ بقول قرآن ’’اطیعو اللہ و اطیعو الرسول‘‘
یعنی اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت۔اللہ اس تعلق سے سمجھ عطا کرے اور مختلف مذہبی ادارے
قرآن اور حدیث کی روشنی میں زندگی بسر کرانے کے لئے کم پڑھے لکھے اور انپڑھ مسلمانوں
کی رہنمائی کریں ۔اللہ ہم سبھوں کو عامل قرآن بنائی۔آمین
ہاشم احمد چوگلی
روہا ۔ضلع رائے گڑھ
مہاراشٹر
موبائل ۔22142352
Friday, May 25, 2012
تعلیم کی طرف لوٹتے مسلمان دشواریاں اور خدشات
سیمینار میں اعظم خان کا خطاب۔میڈیکل کالج بھی
قائم کرنے کا عزم
رام پور کے ایک کالج سے طلباء یونین سے اپنے سیاسی کیریئر کا
آغاز کرنے والے اور بعد میں علی گڑھ یونیورسٹی کے طلباء یونین میں اپنی ایک خاص
پہچان بنانے والے اعظم خان جنہوں نے سماج وادی میں بھی اپنی ایک الگ شناخت بنائی
ہے ۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اعظم خان نے سماج وادی سے امر سنگھ چودھری اور
کلیان سنگھ کی چھٹی کرواکر سماج وادی میں ایک مضبوط پوزیشن بنالی ہے ۔پچھلے دنوں
وہ دہلی کی شاہی جامع مسجد کے امام احمد بخاری کی مخالفت کرکے بھی خوب میڈیا کی
توجہ اپنی جانب کرائی تھی ۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اعظم خان میڈیا میں آنے کا فن
خوب جانتے ہیں ۔اس قبل بابری مسجد تحریک اور موقعہ پر متنازعہ بیان دیکر بھی وہ
کافی چرچا میں تھے ۔اس کے بعد دوسرا سر سید بننے کی کوشش میں بھی انہیں خوب میڈیا
کوریج ملا ۔ممبئی کے کچھ انکے بہی خواہوں نے اور کچھ متحرک تعلیمی کارکن نے ان کے
اعزاز میں’’ تعلیم کی طرف لوٹتے مسلمان دشواریاں اور خدشات...... ‘‘کے عنوان سے
سیمینار کا انعقاد کیاتھا۔
اتر پردیس میں سماج وادی کی حکومت بننے کے بعد پہلی مرتبہ
انہوں نے ممبئی کا دورہ کیا یہ دورہ آرگنائز کیا گیا تھا دلی کی دو غیر سرکاری
تنظیموں اردو پریس کلب اورمائناریٹیز فورم آف انڈیا کے ذریعہ۔ انکے ساتھ ا تر
پردیس کے کئی ایم ایل اے اور راجیہ سبھا کے رکن بھی تھے ۔منور سلیم جو کہ مدھیہ
پردیش سے سماج وادی کے رکن راجیہ سبھا ہیں اور جن کی نامزدگی میں اعظم خان پیش پیش
رہے تھے نے اعظم خان کو اپنا قائد کہتے ہوئے کہا کہ اعظم خان اس شخص کا نام ہے جس
نے حکومت میں آنے کے بعد اپنے لئے کسی پیٹرول پمپ کا لائسنس نہیں مانگا نہ ہی کسی
انڈسٹریل ایریا میں کوئی پلاٹ مانگا بلکہ انہوں نے قوم کی تعلیمی پسماندگی کو دور
کرنے لئے محمد علی جوہر یونیور سٹی مانگا ۔پروفیسر آئی یو خان نے کہا کہ ہم کوشش
ہی نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہم پیچھے ہیں ۔گرچہ ہمارے تعلیمی اداروں کے ساتھ کافی
پریشانیاں ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں ہمت نہیں ہارنا چاہئی۔ سید شعیب رضا نے کہا
کہ پینسٹھ سالوں میں چالیس سال تو ہم عالم بے چارگی میں رہے جس میں تعلیم معاش
سمیت مسلمان زندگی کے تمام شعبوں میں پچھڑ گئے لیکن ادھر بیس پچیس سالوں سے تعلیمی
میدان میں ہم نے جو کا کیا ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں جس کی وجہ سے ہم یہ
کہہ سکتے ہیں کہ اب ہم میں صرف انپڑھ اور جاہل ہی نہیں بلکہ اب ہم میں شاندار
تعلیمی تکنیکی مہارت رکھنے والے بے شمار نوجوانوں کی تعداد ہی،جو اپنا راستہ خود
چن سکتے ہیں۔خالد عرفان جو کہ اتر پردیش اسمبلی میں سماجوادی کی طرف سے نمائندگی
کرتے ہیں نے کہا کہ قرآن کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قوم کی حالت اس وقت تک نہیں
بدلتا جب تک خود اسے اپنی حالت کے بدلنے کا خیال نہ ہو۔قرآن کا ہی دوسرا قول ہے
کیا علم والے اور بغیر علم والے برابر ہوسکتے ہیں۔پھر بھی تعلیمی پسماندگی کی وجہ
کیا ہے ۔کسی قوم کی ترقی تعلیم کے بغیر ناممکن ہے ۔اتر پردیش کے مسلمانوں نے ملک
کے مسلمانوں کو یہ اشارہ دیا ہے کہ ہم حالات کا ڑخ بدل ڈالیں ۔انکا اشارہ یقینا اس
بات کی طرف تھا کہ جس کانگریس نے آزادی
کے ۵۶ سالوں میں مسلمانوں کو جہاں
پہنچایا ہے اب مسلمان بھی کانگریس کو وہیں پہنچائیں ۔
اعظم خان نے کہا کہ نبی ؐ پر پہلی وحی ہی اقراء سے شروع ہوئی
اس کے باجود ہم تعلیم میں پچھڑ گئے ۔تعلیم تو اللہ کا حکم ہی۔انہوں نے کہا کہ میری
تربیت مادر علمی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے کی ہی۔ ہم نے محمد علی جوہر یونیورسٹی
اس لئے بنائی ہے کہ قوم کی تعلیمی پسماندگی کو دور کیا جاسکے ۔میں سرسید کے خوابوں
کو پورا کرنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے لیکن سر سید کو جس طرح قوم نے ذلیل کیا میں
اپنے ساتھ ویسا نہیں ہونے دونگا کیوں کہ میں سر سید نہیں ہوں ۔کانگریس کے بارے میں
کہا کہ ۶دسمبر
۲۹۹۱
کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد کانگریس کے وزیر اعظم نرسمہا رائو نے کہا تھا کہ’’
مسلمان اداس نہ ہوں مسجد وہیں بنے گی ‘‘ ۔ہمیں آج بھی اس وعدے کے وفا کا ہونے کا
انتظار ہی۔ہمیں اپنے سیاسی فیصلے خود ہی کرنا ہے ہم آپ کی مردہ نمائندگی نہیں کرتے
ہم آپ کو مایوس نہیں کریں گے آپ نے دیکھا کہ ’]کلیان سنگھ کے ایشو پر ہماری بات
مانی گئی‘‘۔بھارت میں ۲۵
یونیورسٹی ایسی ہے جس کے پرو وائس چانسلر اس کے قائم کرنے والے ہیں لیکن چونکہ میں
مسلمان تھا اس لئے کانگریس کی حکومت نے ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا ۔آپ کو یہ جان کر
حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ اس یونیورسٹی کی مخالفت میں کانگریس سب سے آگے تھی ۔اعظم
خان نے کہا کہ مایا وتی حکومت نے نو سو دو
کروڑ روپیہ جو مدارس کے لئے آئے تھے اس میں سے ایک روپیہ بھی مدارس کو نہیں ملے وہ
پوری رقم اسی طرح واپس ہو گئی۔حج سبسڈی پر انہوں نے کہا کہ حکومت ہند مسلمانوں کو
ذلیل کر رہی ہی۔سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ کہ دس سالوں میں حج سبسڈی ختم کی جائے میرا
کہنا ہے کہ اگر یہ سبسڈی جائز ہے تو اسے جاری رہنا چاہئے اور اگر ناجائز اور خلاف
قانون ہے تو پھر دس سالوں کا انتظار کیوں اسے فی الفور ختم ہونا چاہئی۔آخر میں کہا
کہ میرے جیسا کمزور انسان جب ایک یونیورسٹی بنا سکتا ہے تو پھر ممبئی کے مسلمان تو
ایسی کئی یونیورسٹیاں بناسکتے ہیں۔انہوں نے وعدہ کیا کہ جس دن محمد علی جوہر
یونیورسٹی کا افتتاح ہوگا اسی دن میڈیکل کالج کی بھی بنیاد رکھ دی جائے گی۔اعظم
خان کے مذکورہ بالا بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر اعظم خان
اپنے پرو وائس چانسلر بننے پر نہ اڑتے تو آج محمد علی جوہر یونیورسٹی بن چکی ہوتی
اور جو رقم انہوں نے اس پرائویٹ یونیورسٹی کو بنانے پر خرچ کی ہے اس سے قوم کے
دوسرے فلاحی کام بھی ہوسکتے تھے
Saturday, May 19, 2012
تعزیتی نشست
لنترانی ڈاٹ کام اور بھڑاس نامی ویب سائٹ کے بانی اور
روح رواں
ڈاکٹر روپیش سری واستو کی ناگہانی موت سے
اردو طبقے میں غم کا ماحول بن گیا ہے ۔اسی
موقع پر گل بوٹے فاؤنڈیشن کی جانب سے احمد ذکریا ہال انجمن اسلام
سی ایس ٹی میں تعزیتی نشست کا انعقاد
کیا گیا تھا۔ڈاکٹر کلیم ضیاء نے روپیش سری
واستو کی شخصیت پر قطعات پیش کيۓ۔عرفان جعفری
نے انھیں منظوم خراج پیش کیا ۔جسے
وہاں تمام لوگوں نے پسند کیا ۔گل بوٹے کے
مدیر فاروق سیّد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوۓ بتایا
کہ کس طرح روپیش ان کی علالت کے
موقع پران سے ملنے گۓ ۔اور دواؤں کے ساتھ ساتھ
اپنے خلوص سے انہیں مقروض کردیا ۔اس واقعے کو یاد کرتے ہوۓ فاروق سیّد نے کہا کہ یہ
قرض اتارنے کے لۓ
انہیں کسی بھی مریض کے ساتھ وہی حسن سلوک کرنا ہو گا ۔روزنامہ ہندوستان
کے مدیر سرفراز نے اپنے خیالات کا اظہار
کرتے ہوۓ کہا کہ ہم اپنی
صحت سے متعلق سوچتے ہیں۔ مگر وہی ہوتا ہے ۔جو خدا کو منظور ہوتا ہے ۔ زبیر
اعظم اعظمی نے کہا کہ
اردو کا کوئی بھی پروگرام ہو سکتا تھا ۔یہی روپیش کی خوبی بھی عبدالا حد ساز نے کہا کہ مجھے تو روپیش کی
موت کی خبر سن کرمجھے یقین ہی نہیں آیا ۔اس موقع پر شہر کی
معزز شخصیات موجود تھیں ۔ حامد اقبال صدیقی، ڈاکٹر قاسم امام ، اقبال نیازی،شمشیر
پٹھان ، انجمن کے نائب صدر حسین پٹیل ، ریحانہ اندرے ، شیخ عبداللہ ، ڈاکٹر مصطفی پنجابی ، سلیم الوارے
،افسر دکنی،فاروق سیّد ، مسسز نجمہ قاضی ، نادرہ موٹلیکر، نجمہ امتیاز، غزالہ آزاد ،آیڈوکیٹ زبیر اعظم اعظمی، نجر
بجنوری، آصف پلاسٹک والا شاداب صدیقی، منوج وراڈے ، شاداب رشید ،اجۓ سکسینہ ،اور
مالیگاؤں اور پونہ سے بھی دیگر اشخاص نے شرکت کیں ،آخری میں ڈاکٹرروپیش سری واستو
کی زندگی پر ایک ڈاکیومینٹری دکھائی گئي۔ اوران کے نام پر ہر سال ایوارڈ دینے اور
اردو اسکول کا نام روپیش سری واستو کے نام سے منسوب کرنے کی تجویز رکھی گئی ۔جس کی تائيد سب نے کیں۔
0
comments
Labels:
iqbal niyazi,
munawwar sultana,
Qasim Imam,
urdu,
urdu blogging
Monday, May 14, 2012
ماں‘ میرے لیے خاص کیوں ہے؟
میری ماں میرے لیے خاص کیوں ہے؟ جب میں سخت بارش میں گھر آیا تو میرے بھائی نے استفسار کیا: تم نے چھتری کیوں نہیں لی؟ میری بہن نے کہا: تم نے بارش رکنے کا انتظار کیوں نہ کیا؟ والد صاحب نے تنبیہہ کی کہ تم بیمار ہوئے تو تمہاری خیر نہیں۔ مگر ماں، جو اب تک میرے بال خشک کررہی تھی بولی: اے بارش، میرے بچے کے گھر پہنچنے تک انتظار تو کرلیتی۔ یہ ہے ماں… نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھا کہ میں نے اپنی معذور ماں کو کاندھوں پر بٹھاکر حج کروایا ہے، کیا میرا حق ادا ہوگیا؟ ارشاد فرمایا: ابھی تو اُس ایک رات کا حق ادا نہیں ہوا جس رات تُو نے بستر گیلا کردیا تھا اور تیری ماں نے تجھے خشک جگہ پر سلایا اور خود گیلے میں سوئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب اپنی والدہ کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لیے کوہِ طور پر تشریف لے گئے تو ایک غیبی آواز آئی: ’’اے موسیٰ، اب ذرا سنبھل کے آنا اور سوچ سمجھ کر گفتگو کرنا۔‘‘ حضرت موسیٰ بہت حیران ہوئے اور پوچھا ’’یاباری تعالیٰ وہ کیوں؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اب تمہارے لیے مجھ سے رحم و کرم اور عنایت کی دعا کرنے والی ماں اس دنیا میں نہیں رہی۔‘‘ ماں… احسانات، احساسات، خوبیوں اور جذبات کا وہ مجموعہ ہے جو سارے زمانے کے وار اور موسم کی سختیاں اپنے جسم پر سہتی ہے مگر اس کا ہر لمحہ رشتوں کو پیار کی ڈوری میں پروتے اور اپنی اولاد کے لیے خوشیاں خریدتے گزرتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک دوست کے پاس اُس کی والدہ کی وفات کا افسوس کرنے گیا تو اُس نے بتایا کہ اس کی ماں نے اس کی آسائشوں کی خاطر اس سے آٹھ جھوٹ بولے اور وہ چاہنے کے باوجود اس کے لیے کچھ نہ کرسکا۔ اس نے بتایا کہ ’’اس کی ماں ہمیشہ سچ نہیں بولتی تھی۔ وہ ایک غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اکثر کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا۔ اگر کبھی کچھ مل جاتا تو ماں اپنے حصے کا کھانا بھی اسے دے دیتی اور کہتی تم کھالو مجھے بھوک نہیں ہے۔ یہ اس کی ماں کا پہلا جھوٹ تھا… تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کرکے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے چلی جاتی۔ ایک دن بالآخر اس نے دو مچھلیاں پکڑلیں، انہیں جلدی جلدی پکایا اور اس کے سامنے رکھ دیا۔ وہ کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا بہت لگا رہ جاتا اسے اس کی ماں کھاتی۔ اس نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی۔ اس نے واپس کی اور کہا: بیٹا تم کھالو مجھے مچھلی پسند نہیں ہے۔ یہ اس کی ماں کا دوسرا جھوٹ تھا… جب وہ اسکول جانے کی عمر کا ہوا تو اس کی ماں نے ایک گارمنٹس فیکٹری میں ملازمت اختیار کرلی، سردی کی ایک رات جب بارش زوروں پر تھی، وہ ماں کا انتظار کرتا رہا جو ابھی تک نہیں آئی تھی، بالآخر وہ اسے ڈھونڈنے آس پاس کی گلیوں میں نکلا، دیکھا تو وہ لوگوں کے دروازوں پر کھڑی سامان بیچ رہی تھی، اس نے کہا: ماں اب بس بھی کرو، سردی بھی بہت ہے، رات بھی ہوگئی ہے اور تم تھک بھی گئی ہو، باقی کل کرلینا، تو ماں بولی: بیٹا میں بالکل نہیں تھکی۔ یہ اس کی ماں کا تیسرا جھوٹ تھا… ایک روز اس کا فائنل پیپر تھا، اس کی ماں نے ضد کی کہ وہ بھی اس کے ساتھ چلے گی۔ وہ اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی اس کے لیے دعا کررہی تھی۔ وہ باہر آیا تو اس کی ماں نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا اور ٹھنڈا جوس لے کر دیا۔ اس نے ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھ کر جوس اس کی طرف بڑھایا تو بولی: مجھے پیاس نہیں ہے۔ یہ اس کی ماں کا چوتھا جھوٹ تھا… اس کے باپ کی موت ہوئی تو زندگی مزید مشکل ہوگئی، اکیلے گھر کا خرچ چلانا آسان نہ تھا، اکثر نوبت فاقوں تک آجاتی۔ رشتہ داروں نے ان کی حالت دیکھ کر ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا مگر ماں نے کہا: ’’مجھے کسی سہارے کی ضرورت نہیں‘‘۔ یہ اس کی ماں کا پانچواں جھوٹ تھا… گریجویشن مکمل کرنے پر اچھی ملازمت مل گئی، سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے وہ بہت بوڑھی ہوگئی ہے۔ اس نے ماں کو کام سے روک دیا اور اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ اس کے لیے مختص کردیا۔ ماں نے انکار کیا اور کہا کہ اسے پیسوں کی ضرورت نہیں۔ یہ اس کی ماں کا چھٹا جھوٹ تھا… حصولِ روزگار کے لیے وہ بیرون ملک چلاگیا۔ کچھ عرصے بعد ماں کو اپنے پاس بلایا تو اس نے بیٹے کی تنگی کے خیال سے منع کردیا اور کہا کہ اسے گھر سے باہر رہنے کی عادت نہیں۔ یہ اس کی ماں کا ساتواں جھوٹ تھا… ماں کو کینسر ہوا، وہ بہت لاغر ہوگئی۔ وہ اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھ کر خون کے آنسو رونے لگا، ماں اسے دیکھ کر مسکرائی اور بولی: مت رو بیٹا، میں ٹھیک ہوں۔ یہ اس کی ماں کا آٹھواں جھوٹ تھا، اور پھر اس کی ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرلیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب ماں کی تخلیق کی تو اسے رحمت کی چادر، چاہتوں کے پھول، پاکیزہ شبنم، دھنک کے رنگوں، دعائوں کے خزانوں، زمین و آسمان کی وسعتوں، جذبوں، چاہتوں، چاند کی ٹھنڈک، خلوص، رحمت، راحت، برکت، عظمت، حوصلے اور ہمت کے تمام رنگوں سے مزین کیا، یہاں تک کہ اس کے قدموں میں جنت ڈالی۔ یوں ماں قدرت کا بہترین تحفہ اور عطیہ ہے جس کی قدر ہم پر فرض بھی ہے اور قرض بھی۔ ’’ماں‘‘… یہ لفظ بہت سے معنی اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔ ممتا، پیار، وفا، قربانی، محبت، لگن، سچائی، خلوص، پاکیزگی، سکون، خدمت، محنت، عظمت، دعا، سایہ، دوست، ہمدرد، راہنما، استاد، بے غرضی، معصومیت، عبادت، ایمان، دیانت، جذبہ، جنت، یہ سب ماں کی خوبیوں کی صرف ایک جھلک ہے، ورنہ اس کی خوبیاں تو اس قدر ہیں کہ لفظ ختم ہوجائیں مگر ماں کی تعریف ختم نہ ہوگی۔ پس ’’ماں‘‘… ایک ایسا موضوع ہے کہ قلم بھی جس کا احاطہ نہیں کرپاتا۔ اس موضوع پر بہت ضخیم کتب لکھی جاسکتی ہیں مگر ماں کے احسانات، احساسات اور چاہتوں کا بدلہ تب بھی نہیں چُکتا۔ والدین کے احسانات کے بارے میں سوچنے بیٹھیں بھی، تو سوچ ان کے احسانات کے مقابلے میں بہت پیچھے دکھائی دیتی ہے۔ مائیں عزم و حوصلے اور ایثار و قربانی کا پیکر ہوتی ہیں۔ ہم تو مائوں کی ایک رات کا قرض بھی نہیں چکا سکتے۔ میرزا ادیب اپنی کتاب ’’مٹی کا دیا‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’اباجی مجھے مارتے تھے تو امی بچا لیتی تھیں، ایک دن میں نے سوچا کہ اگر امی پٹائی کریں گی تو اباجی کیا کریں گے؟ یہ دیکھنے کے لیے میں نے امی کا کہا نہ مانا، انہوں نے بازار سے دہی لانے کو کہا میں نے بات نہ مانی، انہوں نے سالن کم دیا میں نے زیادہ پر اصرار کیا، انہوں نے کہا پیڑھی کے اوپر بیٹھ کر روٹی کھائو، میں زمین پر دری بچھاکر بیٹھ گیا، لہجہ بھی گستاخانہ اختیار کررکھا تھا۔ مجھے پوری توقع تھی کہ امی ضرور ماریں گی، مگر انہوں نے مجھے سینے سے لگاکر کہا: کیوں بیٹا! ماں صدقے جائے تم بیمار تو نہیں؟ اُس وقت میرے آنسو تھے کہ شرمندگی کے مارے رکنے میں نہیں آرہے تھے۔ جب بھی میرے دل کی مسجد میں تیری یادوں کی اذان ہوتی ہے اے ماں میں اپنے ہی آنسوئوں سے وضو کرکے تیرے جینے کی دعا کرتا ہوں بلاشبہ ماں کا وجود ایک نعمت اور اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی انسان کامیاب ہے تو اس کے پیچھے اس کی ماں ہی کا ہاتھ ہے جس کا آج وہ ثمر پارہا ہے۔ ان کی مائوں نے پال پوس کر ان پودوں کو تناور درخت بنایا اور اپنی مائوں ہی کے طفیل آج یہ پیڑ عمدہ اور رسیلا پھل دے رہے ہیں۔ ان کی تربیت میں جو خوبیاں ہیں وہ ان کی مائوں ہی کی مرہونِ منت ہیں۔ ماں کا وجود صرف گھر کے لیے ہی نہیں بلکہ ہماری زندگیوں کے لیے بھی مقدس صحیفے کی مانند ہے۔ ماaں تو تپتے صحرا میں بوند برسنے کا نام ہے۔ یہ کڑی، چلچلاتی دھوپ میں ابر کی مانند ہے۔ دعا ہے کہ جن کے والدین حیات ہیں خدا کرے ان کا سایہ ہمیشہ سلامت رہے اور وہ ہر دکھ، پریشانی، آفت اور آزمائش سے محفوظ ہوں۔ اور جو لوگ والدین کی نعمت سے محروم ہیں وہ اس دعا کا ورد کرتے رہا کریں: … رب ارحمھما کما ربینی صغیرا …
Thursday, May 10, 2012
روپیش سری واستو ہمیشہ کے لیے دلوں میں رہیں گے
تین کہانیاں جو کہ بہت ہی مشہور ہیں ۔ایک آدمی تھا جو بہت خوبصورت اور تعلیم یافتہ تھا ۔بہت امیر
تھا ۔ایک دن اچانک وہ مر گیا ۔
دوسری کہانی یہ ہے کہ ایک آدمی تھا جو بہت دولت مند
ہر کام میں ماہر تھا ۔بہت پیسے
والا تھا ۔ لوگوں میں مشہور تھا ۔ غریبوں کا مسیح تھا۔وہ ایک دن مر گیا ۔
تیسری کہانی یہ ہے کہ
ایک آدمی تھا جو بہت غریب تھا ۔ان پڑھ تھا ۔وہ بھی مرگيا ۔
یہ کہانی جو کہ سب کو سنایا کر تا تھا۔ہر
اردو ادب کی محفل کی جان تھا ۔اردو کے فروغ کے لیے کوشش کرتا رہتا تھا ۔اردو ویب سائٹ لنترانی ڈاٹ کام اور لنترانی میڈیا
ہاؤس کا مینیجنگ ڈائریکٹر بروز بدھ مورخہ 9 مئی 2012ء کو حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ
سے اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ان کی عمر 38 سال تھی ۔ لنترنی آٹ کام ،
بھڑاس ڈاٹ کام ،اردھ ستیہ بلاگ ، آیوش
دید ڈاٹ کام جس پر آیوشوید کی مفت صلح دی
جاتی تھی ۔ اہل اردو سے پر تپاک
سے ملنا ، ان کی محفلوں میں شریک
ہونا اور وقت ضرورت ان کے ساتھ تعاون کرنا
ڈاکٹر روپیش سری واستو کا خاصہ تھا
اچانک اس سانحہ سے اردو حلقوں میں دکھ کی لہر دوڑ گئی ہے ۔
Sunday, April 29, 2012
تعزیتی جلسے کی رپورٹ
آج بروز جمعرات بتاریخ ۲۶؍ اپریل ۲۰۱۲ء کوکرناٹک اردو اکیڈمی کے محمود ایاز ہال میں معروف غزل گو شاعر جوہر صدیقی کے سانحہ ارتحال پر ایک تعزیتی نشست رکھی گئی۔ جس کی صدارت کے فرائض حافظ کرناٹکی نے ادا کئے۔ اس تعزیتی نشست میں بنگلور کے بہت سے ادبا و شعرا نے شرکت کی۔ جب کہ بنگلور میں مقیم بنارس کے ادبا و شعرا نے کچھ زیادہ ہی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔
اس نشست میں جن لوگوں نے شرکت کی، ان میں جناب محمد خورشید اکرم کاملی، جناب عبدالقدیر بنارسی، الحاج محمد یسین، الحاج وزیرالدین، اکرم اللہ، جمیل بنارسی خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔
اس نشست کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اہم بات یہ ہوئی کہ اس نشست میں مرحوم جوہر صدیقی کی حمد اور نعت بھی پڑھی گئی۔ اس نشست کی نظامت کے فرائض جناب شفیق عابدی نے ادا کیے۔ تمام شرکا ئے نشست نے مرحوم جوہر صدیقی کے سانحہ ارتحال پر اپنے غم کا اظہار کیا۔ اور ان کی غزل گوئی کی انفرادیت کو سراہا۔
کرناٹک اردو اکیڈمی کے رجسٹرار مرزاعظمت اللہ صاحب نے کہا کہ مرحوم جوہر صدیقی ایک خوش فکر شاعر تھے۔ انہیں اس معنی میں مرحوم نہیں کہا جاسکتا جس معنی میں عام انسانوں کو مرحوم کہاجاتا ہے۔ کیوں کہ میرا احساس ہے کہ شعرائے کرام مر کر بھی زندہ رہ جاتے ہیں۔ اور بعض شعرا تو مرنے کے بعد ہی اپنی زندگی کا احساس دلا پاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جوہرصدیقی کی غزلوں میں جوتازگی اور توانائی ہے وہ انہیں تا دیر زندہ رکھے گی۔
غفران امجد نے جوہر صدیقی مرحوم کے حالات زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کی شاعرانہ انفرادیت اور ان کی غزل گوئی کی ندرت پر کھل کر گفتگو کی۔ اور بتایا کہ جوہر صدیقی صاحب نے نئی نسل کے شعرا کی کس طرح تربیت کی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جناب مرحوم جوہر صدیقی استاد شاعر تھے۔ جس سے کتنے ہی شعرا نے شاعری کی باریکیوں کا علم حاصل کیا۔ اور غزل کی ندرت کا درس لیا۔ ان کے سانحۂ ارتحال نہ صرف یہ کہ اردو شعرو ادب کا نقصان ہوا ہے۔ بلکہ بہت سے نو آموز شاعر ایک مہربان استاد سے محروم ہوگئے ہیں۔
حافظ کرناٹکی نے کہا
اگر یہ کہاجائے کہ پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے اردو زبان و ادب نہایت ہی صبر آزما صورت حال سے گزر رہا ہے۔ تو کوئی مبالغہ نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اس عرصے میں اردو برادری نے تقریباً ایک درجن اہم شعرا و ادبا سے محروم ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے گویا تمام کہنہ بادہ خوار اٹھتے جارہے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ اردو والے ابھی ایک سانحہ سے جانبر نہیں ہوپاتے ہیں کہ دوسرے سانحہ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم عصری حسیت کے تازہ کار شاعر جوہر صدیقی جیسی شخصیت سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ موصوف کو غزل سے عشق تھا اور سچی بات یہ ہے کہ وہ غزل تہذیب کا جیسا شعور رکھتے تھے وہ ان دنوں خال خال ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ وہ آج کے عہد کے ایک عمدہ غزل گو شاعر تھے۔ اور خوب غزلیں کہتے تھے۔ ان کے بعض اشعار تو گویا اردو کے باذوق قارئین کے قلب و نظر پر چسپاں ہو کر رہ گئے ہیں۔ مثلاً
روداد ستم آپ کی ہم اپنے لہو سے
لکھیں گے مگر آپ سے بہتر نہ لکھیں گے
یوں امن کے گلاب کھلائے گئے یہاں
زخموں کی طرح لوگ ہنسائے گئے یہاں
وہ جس خوبصورتی اور نزاکت سے عصری مسائل کو غزل کے لب و لہجے میں ڈھالنے کا ہنر جانتے تھے وہ انہیں کا خاصہ تھا۔
انہوں نے کتنا پیارا شعر کہاتھا۔
ہمارے ڈوب جانے تک لبِ ساحل کھڑے رہنا
کہ میرے دل کے ارمانوں کی دنیا کون دیکھے گا
آج ہم سب لب ساحل کھڑے ہیں۔ جوہر صدیقی لامتناہی حیات کے ساگر میں ڈوب چکے ہیں۔ مگر ہم میں سے کتنے ہیں جو ان کے ارمانوں کی دنیا دیکھ سکتے ہیں۔
ہم مرحوم کے لیے دعاگو ہیں کہ اللہ انہیں غریق رحمت کرے۔ اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے ۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج سے کرناٹک اردو اکیڈمی ایک نئی روایت کا آغاز کر رہی ہے۔ یعنی آئندہ جو بھی اہم شعرا اور ادبا داغ مفارقت دے جائیں گے۔ نہ صرف یہ کہ ان کی شایان شان تعزیت کا اہتمام کیا جائے گا، بلکہ ان کی ایک تصویر بھی اکیڈمی کی محمود ایاز لائبریری میں آویزاں کی جائے گی۔
ہم جوہر صدیقی مرحوم کی تصویر آویزاں کر کے اس روایت کو فروغ دینے کی پہل کر رہے ہیں۔
0
comments
Labels:
Hafiz karnataki,
report,
urdu
Wednesday, November 30, 2011
عصرِ حاضر میں خواتین کا کردار
عصرِ حاضر میں خواتین کا کردار
منور سلطانہ
صدر ذی قدر
شریکانِ بزم
وجودز ن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
( علامہ اقبال)
عزیزانِ گرامی !
اس میں دو رائے نہیں کہ وجود کائنات
سے لے کر اب تک ہزاروں ، لاکھوں برس کی بوڑھی دنیا کی قدیم ترین تاریخ میں عورت کو
دوسرے درجہ کا انسان سمجھا جاتا رہا ہے ۔ کسی زمانہ میں اسے باعث نحوست گردانا گیا
تو کبھی اسے زندہ درگور کیا جاتارہا ،کبھی شوہر کی چتا پر ستی بننے پر مجبور کیا گیا،
جدید تیکنکی و سائنسی انقلاب نے عورت دشمنوں کا کام مذید آسان کیا اور اب اس صنف نازک
کو رحم مادر میں ہی قتل کردیا جاتا ہے۔ ان تمام ظلم و ستم نا انصافیوں اور بد سلوکیوں
کے باوجود عورت نے دنیائے انسانیت کے ہر دور میں اپنی اہمیت ، افادیت اور ضرورت کو
باوقار انداز میں برقرار رکھا۔
جب تک تیری زلفوں میں پروے نہیں جاتے
پھولوں کو مہکنے کی اد ا بھی نہیں
آتی
( قیصر الجعفری)
جہاں تک عصرِ حاضر کی بات ہے تو بتانے
کی ضرورت نہیں کہ آج کی دوڑتی ، بھاگتی دنیا میں صنف نازک نے تعلیمی ، سماجی ، سائنسی
، صحافتی ، سیاسی ، ثقافتی ہر شعبۂ حیات میں اپنی پر وقار موجودگی درج کرا رکھی ہے۔
حضرت مریم سے حضرت ہاجرہ تک ، حضرت خدیجہ سے حضرت فاطمہ تک ، ملکہ زبیدہ سے ہندوستان
کی بیگم حضرت محل تک ، رضیہ سلطانہ سے جھانسی کی رانی تک ، مدر ٹرسیا سے شریں عبادی
تک کتنی پر عزم خواتین کا تذکرہ کروں کہ تاریخ کے صفحات ان خواتین کے کارناموں سے بھرے
پڑے ہیں ۔ ابھی زیادہ دن نہیں گذرے ہماری ایک خاتون کلپنا چاولہ آسمان چھو آئی ۔ اور
یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ آسمان سیاست پر سونیا گاندھی جیسی پر عزم خاتون کس طرح
120کروڑ آبادی والے ملک پر حکمرانی کررہی ہیں ۔ آج سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ہر
دوسری اور تیسری ایجاد کسی نہ کسی خاتون سائنس داں کی مرھون منت ہے۔ آج کے کارپوریٹ
سیکڑ میں بڑی بڑی کمپنیوں کی کمان ہماری خواتین ہی سنبھال رہی ہیں ۔ درس و تدریس کی
بات کریں تو خواتین نے اس شعبہ میں مردوں کو پچھاڑ رکھا ہے ۔ آج ہر تعلیمی ادارہ میں
لیڈی ٹیچرس کو اولیت و فوقیت اس لئے دی جارہی ہے کہ اس طبقہ نے درس و تدریس کو تعلیم
و تربیت سے جوڑ کر ایک صالح معاشرہ کی تشکیل میں اہم کردار نبھایا ہے۔ لیکن اس حقیقت
کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ آزادی نسواں اور حقوق نسواں کے نام پر خواتین کا استحصال
بھی خوب ہورہا ہے ۔ اس سنہری نعرے کی آڑ میں عورت کو شمع محفل اور تسکین نفس کا سامان
بنا کر فلموں اور اشتہارات کے ذریعے خواتین کی مارکیٹنگ ہورہی ہے ۔ مس ورلڈ اور مس
یونیورسٹی جیسے القابات کی آڑ میں عورت کو نمائشی شۂ بنا کر مغربی دنیا نے اس کے اصل
مقام و مرتبہ سے کھلواڑ کر رکھا ہے۔ میں خواتین کے اس ناجائز استعمال کی سخت مذمت کرتی
ہوں ۔ اور آج بھی ہمارے معاشرہ میں بالخصوص مسلم معاشرہ میں خواتین کی عصری و اعلیٰ
تعلیم پر روک لگائی جارہی ہے ۔ جب کہ اقرار کا حکم نامہ پوری انسانیت کیلئے آیا تھا۔
اس میں عورت و مرد کی تمیز نہیں کی گئی ۔ میں پوچھتی ہوں عورت کیوں نہ پڑھے ؟؟
بتائیے ! عورت کیوں نہ پڑھے کہ اسے
معاشرے کی تعمیر کرنا ہے۔
عورت کیوں نہ پڑھے کہ اسے سسکتی انسانیت
کے زخموں پر مرہم رکھنا ہے۔
وہ کیوں نہ پڑھے کہ اسے تعصب کی آندھیوں
میں امن و آشتی کے چراغ روشن کرنا ہے۔
وہ کیوں نہ پڑھے کہ اسے باطل کے اندھیروں
سے نورِ حق کی طرف سفر کرنا ہے۔
وہ کیوں نہ پڑھے کہ یہی حکم ربی ہے
۔ ’’ اقراء باسم ربی ‘‘ یہی حکم نبی ﷺہے ۔ ’’ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے
۔‘‘ وہ کیوں نہ دعا گو ہو۔ ’’ رب زدنی علما ‘‘
وہ پڑھے ضرور پڑھے کہ علم جہالت کے
اندھیرے کو دور کرتا ہے ۔ علم انسانی ذہن کو وسعت دیتا ہے۔ علم زندگی کے ہر شعبے میں
انسان کی رہنمائی کرتا ہے ۔ علم بندے کو اللہ سے قریب سے قریب تر کردیتا ہے ۔ علم عورت
کیلئے بھی ضروری ہے لیکن شرعی حدود میں رہ کر۔ مغربی تہذیب خا تونِ مشرق کیلئے سمِ
قاتل ہے ۔ مغربی تمدن کی شاخِ نازک پر جو آشیانہ بنے گا یقیناًوہ ناپائیدار ہوگا۔ عورت
علم کیلئے جستجو کرے لیکن مردوں سے مقابلہ آرائی کیلئے نہیں ، بلکہ ان کی ہم سفر بننے
کیلئے ۔ وہ تعلیم کا پرچم لہرائے لیکن علم بغاوت بلند نہ کرے۔ وہ چراغ خانہ ہی رہے۔
سبھا کی پری بننے کی کوشش نہ کرے۔ بے شک عورت پڑھے ضرور پڑھے اور آگے بڑھے ۔
میں اتنا ضرور کہوں گی کہ
وہ بس چند لمحوں کی ہمدم نہیں ہے
کہ عورت فقط شہد و شبنم نہیں ہے
تبسم نہیں صرف تلوار بھی ہے
وہ نغمہ نہیں صرف جھنکار بھی ہے
محبت کی مسند پر حسن وجوانی
شجاعت کے میداں میں جھانسی کی رانی
وہ شمع شبستاں وہ نور سحر
وہ ہر گا م پر مرد کی ہم سفر ہے
(علی سردار جعفری)
***
Abdul Haleem Siddiqui
Malegaon
Abdul Haleem Siddiqui
Malegaon
Wednesday, November 09, 2011
نماز میں لذت و حلاوت کے حصول کے لئے دعا(نظم)۔ عرشی ملک
اے خدا میں اندھا و ناکارہ و بد ذوق ہوں
تیری الفت کی حلاوت سے نہیں ہوں آشنا
ہاں مگر سنتا ہوں میں جب بھی ندا
تو تھکے قدموں سے آتا ہوں ترے دربار میں
بے دلی سے سر جھکاتا ہوں تری سرکار میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل میں رہتا ہے خیالوں کا ہجوم
گھیر لیتی ہے مجھے بادِ سموم
بے حضوری سی ہے کیوں تیرے حضور
کیوں نہیں ملتا مجھے لطف و سرور
عادتاً یہ فرض کرتا ہوں ادا
لذتِ گریہ سے ہوں نا آشنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے خدا میری سعی پر کر نظر
کر ہرا بے رنگ کوشش کا شجر
ہو عطا اس پیڑ کو کوئی ثمر
دل پہ اک شعلہ گرا دے نور کا
دیکھ لوں منظر میں کوہ طُور کا
راکھ ہوں عرشیؔ یہ سفلی لذتیں
قرب کی مجھ کو عطا ہوں برکتیں
واسطہ ہے مصطفی ﷺ کے نام کا
تھام لے اب ہاتھ مجھ ناکام کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیری الفت کی حلاوت سے نہیں ہوں آشنا
ہاں مگر سنتا ہوں میں جب بھی ندا
تو تھکے قدموں سے آتا ہوں ترے دربار میں
بے دلی سے سر جھکاتا ہوں تری سرکار میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل میں رہتا ہے خیالوں کا ہجوم
گھیر لیتی ہے مجھے بادِ سموم
بے حضوری سی ہے کیوں تیرے حضور
کیوں نہیں ملتا مجھے لطف و سرور
عادتاً یہ فرض کرتا ہوں ادا
لذتِ گریہ سے ہوں نا آشنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے خدا میری سعی پر کر نظر
کر ہرا بے رنگ کوشش کا شجر
ہو عطا اس پیڑ کو کوئی ثمر
دل پہ اک شعلہ گرا دے نور کا
دیکھ لوں منظر میں کوہ طُور کا
راکھ ہوں عرشیؔ یہ سفلی لذتیں
قرب کی مجھ کو عطا ہوں برکتیں
واسطہ ہے مصطفی ﷺ کے نام کا
تھام لے اب ہاتھ مجھ ناکام کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
0
comments
Labels:
urdu,
urdu blogging,
غزلurdu poetry
Sunday, November 06, 2011
ہو گئی قربانی؛ علیم خان فلکی
الحمد لللہ قربانی ہوگئی۔بکرے کٹے
بھی اور تقسیم بھی ہوگئے۔ گھر گھر سے کلیجی اور بٹ کے پکوان کی خوشبو نے اعلان کیا
کہ امّتِ ابراہیمی کے ہر فرزند نے مزے لے لے کر سنّتِ ابراہیمی کا لطف اٹھایا۔ حضرت
ابراہیمؑ کو تو مفت میں فرشتوں نے دُنبہ پیش کردیا اور بغیر کسی مشقّت کے انہوں نے
ایک اکیلے بکرے کو ذبح کردیا۔لیکن فرزندانِ امتِ ابراہیمی کودو دو اور چار چار بکرے
ڈھونڈھنے، قصّاب کو لانے، اور پھرصاف صفائی میں جتنی محنت اور مشقّت سے دوچار ہونا
پڑا یہ تو حضرتِ ابراہیم ؑ کو بھی نہیںکرنا پڑا۔ اور نہ انہیں علماءسے پوچھنا پڑا کہ
بکرے کی عمر کیا ہو، اسکا رنگ کیسا ہو، اسکی ٹانگ اور کان کیسے ہوں، اور نہ بی بی ہاجرہؑ
کو گوشت صاف کرنے، اچھا والا گوشت صمدھاوے میں بھیجنے ، درمیانی گوشت رشتہ داروں میں
اور کم درجے کا گوشت غریبوں کو دینے کیلئے پیاکٹس بنانے کی زحمت اٹھانی پڑی۔ اور نہ
انہیں مسلمان بستیوں میں سے گزرتے ہوئے ناک پررومال رکھنے کی نوبت آئی جہاںقربانی کرکے
اوجڑی ، خون اور غلاظت گلی میں پھینک دینامسلمانوں کیلئے ثواب میں شامل ہے۔ سلام ہو
حضرت ابراہیمؑ پر کہ جنہوں نے بیٹے کی قربانی پیش کردی اور ہمارے لئے اتنی آسان سنت
چھوڑ گئے کہ ثواب کا ثواب بھی اور لذیذ گوشت کے مزے بھی۔
غیر مسلم بھی دیکھتے ہونگے تو حیرت
میں پڑجاتے ہونگے کہ جس قربانی کو اللہ تعالیٰ ” Êِنَّ ہَذَا لَہُوَ ال ±بَلَاء ال ±مُبِی ±نُ بے شک یہ سب سے بڑی آزمائش
ہے“ کہتا ہے۔ جس قربانی پر اللہ تعالیٰ ” سَلَام µ عَلَی Êِب ±رَاہِی ±م یعنی ابراہیم پر سلام ہو“ کہہ کر انکی قربانی کو سلام
کرتا ہے۔ اور اسکو ذِبحِِ عَظِیم یعنی عظیم ذبیحہ قرار دیتاہے کیا وہ قربانی یہی ہیکہ
اس کی یاد میں ہر سال لاکھوں جانوروں کا خون بہادیاجائے؟ ایک دو وقت کا مزے لے کردستر
خوان سجایاجائے؟ جس قربانی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” Êِنِّی ± جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ Êِمَاماً۔“ یعنی ہم آپ کو تمام انسانوں کی امامت اور قیادت یعنی لیڈرشپ
بخشیں گے۔اگر لاکھوں جانوروں کو ذبح کرنے سے دنیا کی قیادت مل سکتی تھی تو آج مسلمان
چاہے وہ مسلم ملکوں کے تاجدار ہوں کہ دوسرے ملکوں کے خستہ حال، سارے کے سارے امریکیوں،
یہودیوں یا ہندووں کے رحم و کرم پر نہ ہوتے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس گوشت کی تقسیم پر سلام
بھیجنے والا ہوتا تو نہ آج ہندوستانی مسلمان اخلاقی اور معاشی طور پر ہریجنوں سے بد
تر ہوتے اورنہ پاکستانیوں پر دہشت گردی اور کرپٹ ہونے کے الزام ہوتے۔
اس کا سبب صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ
ہم جو ذبیحہ کررہے ہیںوہ تو الحمدلللہ فقہی اعتبار سے مکمل سنتِ ابراہیمی پر مبنی ہے
لیکن اس کی نیّت نیّتِ ابراہیمی و نیّتِ اسماعیلی نہیں۔ آپ کہیں گے یہ کون سی نئی نیّت
ہے؟
جی نہیں۔ یہ کوئی نئی نیّت نہیں ہے۔
یہ قربانی کی اصل روح ہے۔ جو کچھ آپ کررہے ہیں وہ تو صرف ایک جسم ہے۔ جب تک اس میں
روح نہ ہووہ جسم بے جان ہے۔ یہاں بخاریؒ کی حکمت سمجھ میں آتی ہے جنہوں نے ”تمام اعمال
کا دارومدار نیّتوں پر ہے “ والی حدیث کو سرِکتاب رکھا۔ جس وقت حضرت ابراہیمؑ چُھری
پھیرنے لگے تھے اُس وقت اُن کے ، حضرت اسماعیلؑ کے اور بی بی ہاجرہ کے ذہن میں جو عزم
اور ارادہ چل رہا تھاوہ دراصل نیّت ہے جو قربانی کرنے سے پہلے آپ کے ذہن میں سچے دل
سے چلنا چاہئے۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کے ہاں پہنچتی ہے۔ گوشت دنیا والوں کیلئے ہے اور
نیّت اللہ تعالیٰ کیلئے ہے۔ اگر نیّت ہی نہ پہنچے تو زمین پر ایک جانور کا گلا کاٹ
کر آپ نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے آپ کی زندگی میں کوئی انقلاب آئیگا۔ لن یَنَالَ
اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَا ¶ُہَا وَلَکِن یَنَالُہُ التَّق ±وَی مِنکُم۔ سورہ
الحج آیت ۷۳ یعنی ”ا للہ تعالیٰ کے
ہاںقربانی کا نہ گوشت پہنچتا ہے نہ اسکا خون بلکہ اسکے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے“۔
یہ تقویٰ ہی دراصل وہ نیت ہے جو چھری پھیرنے سے پہلے سچے دل سے نکلتی ہے۔ پتہ یہ چلا
کہ جانور کو ذبح کرنا اصل سنّت نہیں بلکہ وہ نیت یا ارادہ اصل سنت ِ ابراہیمی یا سنّتِ
اسماعیلی ہے جسکے بغیر ہم نے اگر دس دس بکرے بھی کاٹ ڈالے تو یہ اللہ کے ہاں پہنچنے
والے نہیں۔چونکہ یہ نیت فقہہ کی کتابوں میں لکھی نہیں ہوتی اور نہ ہمارے مفتی سمجھاتے
ہیں اسلئے یہ بات عجیب سی لگ رہی ہے۔اصل سنت ایک مستحب بن گئی ہے۔ آیئے آئندہ سال کیلئے
اس نیّت کو ابھی سے اپنے دل میں پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ جب یہ یقین ہوجائے کہ واقعی
اس نیّت پر عمل کرنے کی ہمت ہے تو پھر قربانی کریں ۔قربانی صرف جانور کو ذبح کرنے کا
نام نہیں۔ یہ تو اصل قربانی کے عمل کی آخری قسط یا ہEpisode ہے ۔ قربانی کا بکرا
لانے کیلئے بکرا مارکٹ جانے سے پہلے کچھ ہوم ورک بہت ضروری ہے ورنہ آپ کا حال اس طالبِ
علم کا ہوگا جو اسٹیٹ کا Topperبننے کا ارمان تو رکھتاہے لیکن بغیر اسٹڈی کیئے امتحان ہال میں پہنچ
جاتاہے۔ یہ دلیل پیش کرتاہے کہ اسکا لباس، قلم، ہال ٹکٹ، وقت کی پابندی سب کچھ طریقے
کے مطابق ہے، پرچہ بھی اسکا صاف ستھراہے۔ لہذا اسکو پورے نمبر ملنے چاہئے۔
بکرا خریدنے کا پہلا مرحلہ:
اگر آپ نے قربانی دینے کا تہیّہ کرلیا
ہے تو گھر سے نکلنے سے پہلے ذرا گھر کے اندر حضرت ابراہیمؑ کی طرح مانباپ کے عقیدے
اور آمدنی پر نظر ڈالنی ہوگی۔اگر گھر میں ناجائز کاروبار کی آمدنی آرہی ہو، رشوت، زمینوں
پہ قبضے، جھوٹ اور فریب سے کمائی میں اضافہ ہورہاہو، جہیز کا مال جو کہ لڑکی کے باپ
سے سسٹم کے نام پر وصول کیاگیاہو، اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی کھلی نافرمانی ہوتی ہو تو
بکرا خریدنے سے پہلے گھر والوں کو سمجھانافرض ہے۔جب کوئی نہ مانے تو گھر چھوڑدینا سنّتِ
ابراہیمی ؑ ہے۔ یہ ہے بکرا مارکٹ چلنے کا پہلا مرحلہ۔
دوسرا مرحلہ : پھر محلے اور شہر والوں کو دینِ حنیف یعنی ایک
اللہ کی بندگی کی دعوت دینا۔ اور اس بات کیلئے تیار رہنا کہ آپ کو سزائے موت بھی دی
جاسکتی ہے۔ آپ کو قدم قدم پر قانون کا خوف، گھر اور شہر سے نکال دیئے جانے کا خوف،
بچوں کے مستقبل کا خوف راستہ روکیں گے۔ لیکن اگر آپ جانور کی قربانی دینے پر بضد ہیں
تو یہ سب آپ کونہ صرف برداشت کرنا ہے بلکہ اسکا مقابلہ کرنا ہے۔ ضرورت پڑے تو گھر،
محلہ، شہر اور ملک بھی چھوڑنا ہے۔ یہ ہے بکرا مارکٹ کے راستے کا دوسرا مرحلہ۔
تیسرا مرحلہ: اب اولاد رکاوٹ بنے گی۔یہ سب سے اہم مرحلہ ہے۔
انسان اولاد کی محبت میں سب کچھ کرسکتاہے۔ اگر ہم سوتے ہوئے اپنے اپنے اعمال کا احتساب
کریں تو پتہ چلے گا کہ ہمارے 90% بداعمالیاں صرف اس اولاد کے اچھے مستقبل کی خاطرسرزد
ہوی ہیںجسکی خاطر ہم اللہ اور اسکے رسولﷺ کا کوئی بھی حکم ٹال سکتے ہیں۔ انکار تو نہیں
کرتے لیکن جانتے بوجھتے وہ حکم ٹال کر دل میں یہ نیت کرلیتے ہیں کہ اللہ معاف کرنے
والا ہے۔ بعد میںنماز، روزہ یا کوئی وظیفہ یا درود و سلام پڑھ کر، خیرات زکوٰة دے کر،
نفل عمرے و حج کرکے یا کسی بزرگ کی درگاہ پر حاضری دے کر یا میلادالنبی خوب دھوم دھام
سے مناکر اللہ اور اسکے رسول کو منالیں گے۔انہیں ایسے مولوی اور مشائخ بھی آسانی سے
مل جاتے ہیں جو شفاعت اور مغفرت کے ایسے ایسےShortcut وسیلے فراہم کرتے ہیں
کہ علماءبھی دنگ رہ جاتے ہیں۔ شریعت منہ دیکھتی رہ جاتی ہے۔
بکرا خریدنے کا یہ تیسرا مرحلہ بہت
سخت ہے۔ اولاد کو اللہ کے حکم کے آگے ذبح کرنا تو درکنارانسان اولاد کو ایک کانٹا بھی
چبھے یہ برداشت نہیں کرسکتا۔ اور اگر کوئی عزم کربھی لے تو شیطان آکروہی کہتا ہے جو
ابراہیمؑ، اسماعیلؑ اور بی بی ہاجرہ سے کہتا تھا جسے سن کر انہوں نے کنکریاں دے ماریں
۔ آج بھی وہ ایک سچے مسلمان باپ سے کہتاہے ” دوسرے سارے احکام تو پورے کرہی رہے ہیں۔
داڑھی رکھی ہے، بیوی پردہ بھی کرہی لیتی ہے۔ نماز ، روزہ، زکوٰة سب کچھ تو ادا کرتے
ہی ہیںبعض معاملات میں اگر اولاد کی خاطر سمجھوتہ بھی کرنا پڑے تو برائی کیا ہے۔ اللہ
تعالیٰ معاف کرنے والا ہے“۔ اُدھر جاکر اولاد کے دل میں یہ وسوسہ ڈالتاہےکہ ”تمہارا
باپ اپنی مرضی چلانا چاہتاہے چاہے اولاد کا مستقبل تباہ ہوجائے“۔ اور اُدھر بیوی کو
جاکر یہ بھڑکاتاہے اور کہتا ہے ”تمہارے شوہر کو بس دین معلوم ہے، دنیا کیا معلوم۔ اولاد
کیلئے لوگ کیا نہیں کرتے لیکن ایک یہ آدمی ہیکہ غیر ذمہ دار اور لاپروا ہے۔ تم اسکی
ایک بات بھی نہ سننا۔ وہی کرنا جو اولاد کیلئے بہتر ہو۔ اگر شوہر ناراض بھی ہوگا تو
تھوڑی دیر غصّہ کرے گا اور پھر چپ ہوجائیگا“۔
شیطان کی اس طاقتورچال سے بچ کر نکلنا
ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اگر آپ اس سے نکل سکتے ہیں تو چلئے اب بکرا خریدیئے۔ اور
چُھری چلاتے ہوئے یہ دل میں ٹھوس نیّت کیجئے۔
ایک باپ کی نیّت یوں ہوگی: اے اللہ
تیرے حکم کے آگے گھر، مانباپ، شہر اور ملک ہی نہیں اگر اولاد کو بھی چھوڑنا پڑے تو
چھوڑ دونگا، تیر ی مرضی کے آگے اگراولاد کو اس بکرے کی طرح قربان بھی کرنا پڑے تو کردونگا
بسم اللہ اللہ اکبر۔۔۔۔
ایک بیٹے یا بیٹی کی نیّت یہ ہوگی:
اے اللہ، تیری رضا کیلئے اپنی جان بھی لٹادینگے ۔ اگر تیرا حکم ہےکہ والد کی فرمانبرداری
میں اپنا گلا بھی ذبح کرنے کیلئے پیش کردوتو اسماعیل ؑ کی طرح پیش کردینگے ۔ بسم اللہ
اللہ اکبر۔۔۔۔۔۔۔
ایک بیوی کی نیّت: اے اللہ تیری رضا
کی خاطر شوہر کی خواہش یا حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کردونگی۔ تیرے حکم پر اگر وہ اولاد
کو بھی قربان کردینے کا ارادہ کرلے تو میں شیطان کا نہیں اسکا ساتھ دونگی۔ بسم اللہ
اللہ اکبر۔۔۔۔۔۔۔
جب یہ قربانی کا گوشت گھر گھر پہنچ
جائیگا تو یہ اعلان ہوجائیگا کہ اس آدمی نے عہد کرلیا ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے آگے
اولاد کو بھی قربان کرسکتاہے۔ جب اولاد کی بھی وہ پروا نہیں کرے گا تو دوسرے کس شمار
میں۔ اسلئے اب اس آدمی پر اعتبار کیا جاسکتاہےکہ وہ انصاف کرے گا، کبھی جھوٹ دھوکہ
فریب رشوت اور ناجائز کمائی کا سہارا نہیں لے گا۔اگر ہر باپ کا یہ اعلان گھر گھر پہنچے
گا تو کیسے ممکن ہے کہ معاشرہ میں برائیاں پنپیں، لوگ اولاد کی خاطر اللہ کی نافرمانی
کریں؟
جب یہ گوشت گھر گھر پہنچے گا تو لوگوں
کو معلوم ہوجائیگاکہ اس شخص نے اپنے والد کی فرمانبرداری کا اعلان کردیا ہے۔ جسطرح
اسکے والد پر اعتبار کیا جاسکتاہے اس پر بھی اعتبار کیاجاسکتاہے۔ جب یہ اعلان گھر گھر
ہو توپھر کیسے ممکن ہے کہ اولاد آوارہ نکلے، والدین کا دل دکھائے۔ والدین کے دین اور
تہذیب کو چھوڑ کر کسی اور راستے پر نکل پڑے؟لوگ جوڑا جہیز کو جائز سمجھیں، بہویں اپنے
شوہروں کو لے کر ساس سسر سے علہٰدہ ہوجائیں اور ان بوڑھوں کی عزتِ نفس کو تکلیف پہنچے؟
جب یہ گوشت دوسری عورتوںتک پہنچے
گا تو یہ اعلان ہوجائیگا کہ یہ عورت خدا کے بعد اپنے شوہر کو درجہ دینے والی ہے۔ اسکے
ہر حکم پر اپنی جان اور اپنی اولاد کو بھی قربان کرسکتی ہے۔ اگر بیوی ابرا ہیم ؑ کی
اہلیہ حضرت بی بی ہاجرہ ؑ کے نقشِ قدم پر ہوکہ جب ابراہیمؑ نے انہیں مکہ میں جبکہ مکہ
تعمیر بھی نہیں ہوا تھا ایسی جگہ تنہا چھوڑا اور واپس پلٹے تو وہ ایک بیوی کے صبر اور
اللہ کی اطاعت کا عظیم ترین امتحان تھا۔ اس عظیم بیوی نے یہ بحث نہ کی کہ کس کے بھروسے
چھوڑ کر جارہے ہو، اناج، پانی اور گھر کا انتظام کئے بغیر کسطرح جاسکتے ہو۔ صرف اتنا
پوچھا کہ ”کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟“۔ جواب ہاں میں سننے کے بعد انہوں نے فوری سر جھکادیا۔یہی
نہیں بلکہ جتنے سال بعد حضرت ابراہیم ؑ آئے تب تک بیٹے اسماعیل ؑ بڑے ہوچکے تھے۔ اس
دوران ایک بیوی اپنے بیٹے کے کان بھر سکتی تھی کہ دیکھو تمہارا باپ کتنا غیر ذمہ دار
ہے، سوتن کے پاس رہ رہا ہے اور تنہا صحرا میں بے یارو مددگار، بے گھر اور بے روزگار
چھوڑ کر بچے کی کبھی خیریت لینے کا بھی اسے خیا ل نہ آیا۔ بجائے یہ سب کہنے کہ اس عظیم
ماں نے ایسا کیا تربیت کی ہوگی کہ بیٹا ہوش سنبھالنے کے بعد پہلی بار باپ کو دیکھتا
ہے اور ذبح ہونے کیلئے اپنا گلا پیش کردیتاہے۔ اسقدر نووارد باپ پر اعتماد اور یقین
کہاں سے ایک بیٹے کے دل میں آیا۔ یہ دراصل اس عظیم ماں کی تربیت تھی جس نے شوہر کے
غیاب میں بھی اولاد کے ذہن پر باپ کا وہ امیج بنایا کہ اسے یقین ہوگیا کہ ہمارا باپ
اللہ کے حکم سے ہٹ کر کچھ نہیں کرتا۔ ہر وہ عورت جس کے نام کی قربانی آج ہوتی ہے اگر
وہ بھی بی بی ہاجرہ ؑ کی نیت کرے اور شوہر اور اسکے خدا پر ایسا ہی اعتماد و یقین پیدا
کرلے تو پھر کیسے ممکن ہے کوئی بیوی شوہر سے بحث یا حجّت کرے، اسکی مرضی جانتے ہوئے
بھی اسکے خلاف کرکے بچوں کو یہ سبق دے کہ گھر میں صرف ماں کی چلتی ہے باپ کی نہیںباپ
تھوڑی دیر پکارے گا اور پھر چپ ہوجائگا۔ لہٰذا باپ کی خواہش کو نظر انداز بھی کیاجا
سکتا ہے ۔ جس گھر میں بیوی شوہر سے بحث کرنے والی ہو ، شوہر سے اونچی آواز میں غصہ
دکھانے والی ہو، ہر بات میں شکایت اور طنز کرنے والی ہو اس گھر میں کبھی برکت نہیں
ہوتی، اولاد نافرمان نکلتی ہے۔ اور پھر ان کی اولادیں بھی ان کی نافرمان نکلتی ہیں۔شائد
اسی لئے جب حضرت ابراہیم ؑ مکہ تشریف لائے اور بہو سے ملے، خیر خیریت پوچھی تو بہو
نے بجائے صبر و شکر و قناعت کا جواب دینے کے، شوہر اور حالات کی ناشکری بیان کی۔ طنز
و شکایت بیان کرنے لگی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے بیٹے کو مشورہ دیا کہ چوکھٹ بدل دیں۔ یعنی
اس بیوی کو چھوڑ دیں۔ اسماعیلؑ نے ایسا ہی کیا۔ جب اگلی بار ابراہیم ؑ مکہ تشریف لائے
اور دوسری بہو سے خیر خیریت پوچھی تو انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ہر حال میں
قناعت اور شوہر کی فرمانبرداری کا اظہار کیا۔ حضرت ابراہیمؑ نے انہیںدعا دی۔اور آپ
جانتے ہیں کہ بی بی ہاجرہ ؑ اور ان کی فرمانبردار بہو کی کوکھ سے پیغمبروں کی نسل چلی۔
یہی اللہ تعالیٰ کا انعام ہوتا ہیکہ جب بیویاں ہر معروف میں اپنے شوہر کی بلا چوں و
چرا اطاعت کرتی ہیں وہ جن حالات میں رکھیں خوش رہ کر شوہر کو بھی خوش رکھتی ہیں اللہ
تعالیٰ ان کے گھروں میں نہ صرف برکتیں نازل فرماتا ہے بلکہ ان کی گودوں سے صالحین پیدا
ہوتے ہیں۔
مختصر یہ ہیکہ بکرے کی قربانی تو
محض ایک علامت یا Symbolہے اس قربانی کے جذبے
کا جسکے نتیجے میں پورا گھر، معاشرہ اور ملک بدل جاتاہے۔ ایک انقلاب آجاتاہے۔ دنیا
خود آگے بڑھ کر ایسے باپ، ایسی اولاد اور ایسی بیوی کو قیادت پیش کرتی ہے۔یہی لوگ سیاست،
سماج، معیشت اور تہذیب کے اصلی قائد کہلانے کے لائق ہوتے ہیں۔ اور اگر اس نیتِ ابراہیمیؑ
اور نیتِ اسماعیل ؑ اور نیتِ ہاجرہ کے بغیر ذبیحے ہوتے رہے تو انقلاب تو کوئی نہیں
آئیگا۔ البتہ اس قوم کا سیاسی ، سماجی، معاشی اور تہذیبی وجود آج جتنا بدتر ہے اسکی
بدتری میں اور اضافہ ہوتاجائیگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔ آیئے ہم عہد کریں
کہ آئندہ سال کے بکرے کی خریدی کی تیاری ہم آج ہی سے شروع کرتے ہیں۔ انشاءاللہ۔
علیم خان فلکی۔ جدہ
aleemfalki@yahoo.com
www.socioreforms.com
mobile:00966504627452
0
comments
Labels:
urdu,
urdu blogging,
علیم خان فلکی,
ہو گئی قربانی
Subscribe to:
Posts (Atom)


