Thursday, August 27, 2015
شاعر احمد فراز
Saturday, September 15, 2012
باطل کے منصوبے
Wednesday, August 01, 2012
رفیع صاحب بہت یاد آے
Saturday, June 02, 2012
داستان ، افسانہ ، کہانی رنگ اشعار
کہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہے
جو سنتا ہے اسی کی داستان معلوم ہوتی ہے
کہانی ہے تو بس اتنی ،فریب خواب ہستی کی
کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہو جاۓ
خود قصّہ غم اپنا کوتاہ کیا میں نے
دنیا نے بہت چاہا افسانہ بنا دینا
دنیا سے اک افسانہ کہنے کو تھے ،پھر سوچا
دنیا ہے خود افسانہ ، افسانے سے کیا کہیے
بھرے گی ان کو میرے بعد لاکھوں رنگ سے دنیا
خلائيں چھوڑ دی ہیں میں نے کچھ اپنے فسانے میں
مجھے افسوس ہے دنیا کی اس افسانہ سازی پر
کہ اپنی بھی کہانی چھیڑ دی میرے فسانے میں
میں ہوں اک مستقل عنوان ہستی کے فسانے میں
مجھے تاریخ دہراتی رہے گی ہر زمانے میں
( سیماب اکبر آبادی )
Monday, May 14, 2012
ماں‘ میرے لیے خاص کیوں ہے؟
میری ماں میرے لیے خاص کیوں ہے؟ جب میں سخت بارش میں گھر آیا تو میرے بھائی نے استفسار کیا: تم نے چھتری کیوں نہیں لی؟ میری بہن نے کہا: تم نے بارش رکنے کا انتظار کیوں نہ کیا؟ والد صاحب نے تنبیہہ کی کہ تم بیمار ہوئے تو تمہاری خیر نہیں۔ مگر ماں، جو اب تک میرے بال خشک کررہی تھی بولی: اے بارش، میرے بچے کے گھر پہنچنے تک انتظار تو کرلیتی۔ یہ ہے ماں… نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھا کہ میں نے اپنی معذور ماں کو کاندھوں پر بٹھاکر حج کروایا ہے، کیا میرا حق ادا ہوگیا؟ ارشاد فرمایا: ابھی تو اُس ایک رات کا حق ادا نہیں ہوا جس رات تُو نے بستر گیلا کردیا تھا اور تیری ماں نے تجھے خشک جگہ پر سلایا اور خود گیلے میں سوئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب اپنی والدہ کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لیے کوہِ طور پر تشریف لے گئے تو ایک غیبی آواز آئی: ’’اے موسیٰ، اب ذرا سنبھل کے آنا اور سوچ سمجھ کر گفتگو کرنا۔‘‘ حضرت موسیٰ بہت حیران ہوئے اور پوچھا ’’یاباری تعالیٰ وہ کیوں؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اب تمہارے لیے مجھ سے رحم و کرم اور عنایت کی دعا کرنے والی ماں اس دنیا میں نہیں رہی۔‘‘ ماں… احسانات، احساسات، خوبیوں اور جذبات کا وہ مجموعہ ہے جو سارے زمانے کے وار اور موسم کی سختیاں اپنے جسم پر سہتی ہے مگر اس کا ہر لمحہ رشتوں کو پیار کی ڈوری میں پروتے اور اپنی اولاد کے لیے خوشیاں خریدتے گزرتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک دوست کے پاس اُس کی والدہ کی وفات کا افسوس کرنے گیا تو اُس نے بتایا کہ اس کی ماں نے اس کی آسائشوں کی خاطر اس سے آٹھ جھوٹ بولے اور وہ چاہنے کے باوجود اس کے لیے کچھ نہ کرسکا۔ اس نے بتایا کہ ’’اس کی ماں ہمیشہ سچ نہیں بولتی تھی۔ وہ ایک غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اکثر کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا۔ اگر کبھی کچھ مل جاتا تو ماں اپنے حصے کا کھانا بھی اسے دے دیتی اور کہتی تم کھالو مجھے بھوک نہیں ہے۔ یہ اس کی ماں کا پہلا جھوٹ تھا… تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کرکے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے چلی جاتی۔ ایک دن بالآخر اس نے دو مچھلیاں پکڑلیں، انہیں جلدی جلدی پکایا اور اس کے سامنے رکھ دیا۔ وہ کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا بہت لگا رہ جاتا اسے اس کی ماں کھاتی۔ اس نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی۔ اس نے واپس کی اور کہا: بیٹا تم کھالو مجھے مچھلی پسند نہیں ہے۔ یہ اس کی ماں کا دوسرا جھوٹ تھا… جب وہ اسکول جانے کی عمر کا ہوا تو اس کی ماں نے ایک گارمنٹس فیکٹری میں ملازمت اختیار کرلی، سردی کی ایک رات جب بارش زوروں پر تھی، وہ ماں کا انتظار کرتا رہا جو ابھی تک نہیں آئی تھی، بالآخر وہ اسے ڈھونڈنے آس پاس کی گلیوں میں نکلا، دیکھا تو وہ لوگوں کے دروازوں پر کھڑی سامان بیچ رہی تھی، اس نے کہا: ماں اب بس بھی کرو، سردی بھی بہت ہے، رات بھی ہوگئی ہے اور تم تھک بھی گئی ہو، باقی کل کرلینا، تو ماں بولی: بیٹا میں بالکل نہیں تھکی۔ یہ اس کی ماں کا تیسرا جھوٹ تھا… ایک روز اس کا فائنل پیپر تھا، اس کی ماں نے ضد کی کہ وہ بھی اس کے ساتھ چلے گی۔ وہ اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی اس کے لیے دعا کررہی تھی۔ وہ باہر آیا تو اس کی ماں نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا اور ٹھنڈا جوس لے کر دیا۔ اس نے ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھ کر جوس اس کی طرف بڑھایا تو بولی: مجھے پیاس نہیں ہے۔ یہ اس کی ماں کا چوتھا جھوٹ تھا… اس کے باپ کی موت ہوئی تو زندگی مزید مشکل ہوگئی، اکیلے گھر کا خرچ چلانا آسان نہ تھا، اکثر نوبت فاقوں تک آجاتی۔ رشتہ داروں نے ان کی حالت دیکھ کر ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا مگر ماں نے کہا: ’’مجھے کسی سہارے کی ضرورت نہیں‘‘۔ یہ اس کی ماں کا پانچواں جھوٹ تھا… گریجویشن مکمل کرنے پر اچھی ملازمت مل گئی، سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے وہ بہت بوڑھی ہوگئی ہے۔ اس نے ماں کو کام سے روک دیا اور اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ اس کے لیے مختص کردیا۔ ماں نے انکار کیا اور کہا کہ اسے پیسوں کی ضرورت نہیں۔ یہ اس کی ماں کا چھٹا جھوٹ تھا… حصولِ روزگار کے لیے وہ بیرون ملک چلاگیا۔ کچھ عرصے بعد ماں کو اپنے پاس بلایا تو اس نے بیٹے کی تنگی کے خیال سے منع کردیا اور کہا کہ اسے گھر سے باہر رہنے کی عادت نہیں۔ یہ اس کی ماں کا ساتواں جھوٹ تھا… ماں کو کینسر ہوا، وہ بہت لاغر ہوگئی۔ وہ اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھ کر خون کے آنسو رونے لگا، ماں اسے دیکھ کر مسکرائی اور بولی: مت رو بیٹا، میں ٹھیک ہوں۔ یہ اس کی ماں کا آٹھواں جھوٹ تھا، اور پھر اس کی ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرلیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب ماں کی تخلیق کی تو اسے رحمت کی چادر، چاہتوں کے پھول، پاکیزہ شبنم، دھنک کے رنگوں، دعائوں کے خزانوں، زمین و آسمان کی وسعتوں، جذبوں، چاہتوں، چاند کی ٹھنڈک، خلوص، رحمت، راحت، برکت، عظمت، حوصلے اور ہمت کے تمام رنگوں سے مزین کیا، یہاں تک کہ اس کے قدموں میں جنت ڈالی۔ یوں ماں قدرت کا بہترین تحفہ اور عطیہ ہے جس کی قدر ہم پر فرض بھی ہے اور قرض بھی۔ ’’ماں‘‘… یہ لفظ بہت سے معنی اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔ ممتا، پیار، وفا، قربانی، محبت، لگن، سچائی، خلوص، پاکیزگی، سکون، خدمت، محنت، عظمت، دعا، سایہ، دوست، ہمدرد، راہنما، استاد، بے غرضی، معصومیت، عبادت، ایمان، دیانت، جذبہ، جنت، یہ سب ماں کی خوبیوں کی صرف ایک جھلک ہے، ورنہ اس کی خوبیاں تو اس قدر ہیں کہ لفظ ختم ہوجائیں مگر ماں کی تعریف ختم نہ ہوگی۔ پس ’’ماں‘‘… ایک ایسا موضوع ہے کہ قلم بھی جس کا احاطہ نہیں کرپاتا۔ اس موضوع پر بہت ضخیم کتب لکھی جاسکتی ہیں مگر ماں کے احسانات، احساسات اور چاہتوں کا بدلہ تب بھی نہیں چُکتا۔ والدین کے احسانات کے بارے میں سوچنے بیٹھیں بھی، تو سوچ ان کے احسانات کے مقابلے میں بہت پیچھے دکھائی دیتی ہے۔ مائیں عزم و حوصلے اور ایثار و قربانی کا پیکر ہوتی ہیں۔ ہم تو مائوں کی ایک رات کا قرض بھی نہیں چکا سکتے۔ میرزا ادیب اپنی کتاب ’’مٹی کا دیا‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’اباجی مجھے مارتے تھے تو امی بچا لیتی تھیں، ایک دن میں نے سوچا کہ اگر امی پٹائی کریں گی تو اباجی کیا کریں گے؟ یہ دیکھنے کے لیے میں نے امی کا کہا نہ مانا، انہوں نے بازار سے دہی لانے کو کہا میں نے بات نہ مانی، انہوں نے سالن کم دیا میں نے زیادہ پر اصرار کیا، انہوں نے کہا پیڑھی کے اوپر بیٹھ کر روٹی کھائو، میں زمین پر دری بچھاکر بیٹھ گیا، لہجہ بھی گستاخانہ اختیار کررکھا تھا۔ مجھے پوری توقع تھی کہ امی ضرور ماریں گی، مگر انہوں نے مجھے سینے سے لگاکر کہا: کیوں بیٹا! ماں صدقے جائے تم بیمار تو نہیں؟ اُس وقت میرے آنسو تھے کہ شرمندگی کے مارے رکنے میں نہیں آرہے تھے۔ جب بھی میرے دل کی مسجد میں تیری یادوں کی اذان ہوتی ہے اے ماں میں اپنے ہی آنسوئوں سے وضو کرکے تیرے جینے کی دعا کرتا ہوں بلاشبہ ماں کا وجود ایک نعمت اور اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی انسان کامیاب ہے تو اس کے پیچھے اس کی ماں ہی کا ہاتھ ہے جس کا آج وہ ثمر پارہا ہے۔ ان کی مائوں نے پال پوس کر ان پودوں کو تناور درخت بنایا اور اپنی مائوں ہی کے طفیل آج یہ پیڑ عمدہ اور رسیلا پھل دے رہے ہیں۔ ان کی تربیت میں جو خوبیاں ہیں وہ ان کی مائوں ہی کی مرہونِ منت ہیں۔ ماں کا وجود صرف گھر کے لیے ہی نہیں بلکہ ہماری زندگیوں کے لیے بھی مقدس صحیفے کی مانند ہے۔ ماaں تو تپتے صحرا میں بوند برسنے کا نام ہے۔ یہ کڑی، چلچلاتی دھوپ میں ابر کی مانند ہے۔ دعا ہے کہ جن کے والدین حیات ہیں خدا کرے ان کا سایہ ہمیشہ سلامت رہے اور وہ ہر دکھ، پریشانی، آفت اور آزمائش سے محفوظ ہوں۔ اور جو لوگ والدین کی نعمت سے محروم ہیں وہ اس دعا کا ورد کرتے رہا کریں: … رب ارحمھما کما ربینی صغیرا …
Thursday, May 10, 2012
روپیش سری واستو ہمیشہ کے لیے دلوں میں رہیں گے
Monday, January 09, 2012
اُف ! یہ ہمارے ڈاکٹرس

ڈاکٹر ! یہ لفظ سنتے ہی ہمارے ذہن میں ایک نہایت متفق باوقار انسان ابھرتا ہے جس کے پاس ہماری تمام بیماریوں کا علاج موجود ہے۔ ہر دور میں ڈاکٹر کو مسیحا کا درجہ عطا رہا ہے۔ بعض لوگ تو انہیں بھگوان کا درجہ دے دیتے ہیں۔ ہندی فلموں کے اکثر ڈائیلاگ تو آپ نے سنے ہی ہوں گے کہ ڈاکٹر صاحب آپ تو بھگوان ہیں یا بھگوان کے بعد آپ ہی میرا سہارا ہے۔ مگر افسوس زمانے کے ساتھ ساتھ یہ باتیں بھی پرانی ہوگئی ہیں۔ اب ڈاکٹرز وہ ڈاکٹرز نہ رہے۔ بلکہ آج کل کے ڈاکٹر تو قصائیوں کو بھی مات دیتے نظر آتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قصائی جانور کے گلے پہ چھری پھیرتا ہے اور ڈاکٹر انسان کی جیب پر۔ بھئی آج کل ڈاکٹری کا پیشہ بطور مسیحائی نہیں بلکہ پیسے کمانے کے لیے اپنایا جارہاہے۔ کئی لوگوں کو تو یہ کہتنے بھی سنا گیا ہے کہ چار پانچ لاکھ پڑھائی پر لگاؤ کوئی فکر نہیں کچھ دنوں میں مع سود واپس مل جائیں گے۔ وہ ڈاکٹر بنتے یا اپنے بچوں کو بناتے ہی اس لیے ہیں کہ انہیں کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہوتا ہے۔
آپ کسی بھی نامور ہاسپٹل میں چلے جائیں۔ مریض کتنا بھی سیریس ہو کاؤنٹر پر پیشگی روپے جمع کرائے بغیر مریض کا علاج نہیں شروع ہوگا۔ اس کے بعد دواؤں کی لمبی فہرست تھمادی جائے گی جس میں مہنگے سے مہنگے انجکشن اور دوائیں شامل ہوں گی اور اس پر مرے ہرسودرے کہ آپ کو اپنے مریض کے پاس ٹھہرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی خاص کر آئی. سی. یو. واڑڈ میں ۔ جہاں اکثر مریض بوڑھے ہتے ہیں۔
ذرا تصور کیجیے بیچارہ بوڑھا مریض اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہا ہے اسے دواؤں سے زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے اسے ایسے وقت میں اکیلا کردینا کتنا بڑا ظلم ہے۔ جب اس کے پاس کوئی رشتہ دار نہ ہو تو اس کا دل اپنوں کو دیکھنے کیسے تڑپتا ہوگا بیچارہ آخری وقت میں کچھ کہنا بھی چاہتا ہوں گا تو کہہ نہیں پاتا ہے اور اسی طرح انتقال کرجاتا ہے۔
بھئی آپ لوگ پورے گھر والوں کو نہ سہی مگر ایک قریبی رشتہ دار مثلاً بیٹا یا بیٹی کو تو رہنے دیجیے اور تو اور اگر مریض انتقال کرجائے تو ہاسپٹل کا بل ادا کرنے تک آپ میت بھی نہیں لے جاسکتے بھلے آپ پیسے کہیں سے بھی کیسے بھی لایئے۔
اگر آپ کو معمولی سردی زکام محسوس ہورہا ہو تو گھبرائیے مت فوراً سے پیشتر ڈاکٹر کے پاس جایئے وہ آپ کے مرض کو اتنا سنگین و مہلک مرض میں مبتلا کردے گا کہ آپ خود کو چند دنوں کا مہمان سمجھنے لگیں گے۔ دسیوں قسم کے ٹیسٹ اور ایکسرے کروائے جائیں گے اور پتہ چلے گا کہ یہ سب ٹیسٹ اور ایکسرے وغیرہ ڈاکٹر ک بیوی کے کلینک میں ہوتے ہیں۔ آخر میں آپ کو چند اینٹی بایوٹک دوائیں دے کر رخصت کردیا جائے گا۔ آہ!
برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی ہے
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا
ہر ایک اتوارے میرا مطلب ہے ایک ڈاکٹر کلینک کھول کر بیٹھا ہے جس کے بورڈ میں ڈاکٹر کا نام مع لمبی چوڑی ڈگریوں کے درج ہے جن کاعام آدمی کوعلم بھی نہیں۔ جو کہ اکثر نقلی بھی نکلتے ہیں اور ایسے لوگوں کی وجہ سے کتنی ہی زندگیاں برباد ہوجاتی ہیں مگر یہ کاروبار پھلتا پھولتا جاتا ہے اور کسی کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی۔
ہمارے پڑوسی عزیز میاں کل پیدل جارہے تھے۔ ہم نے کار کے بارے میں دریافت کیا تو کہنے لگے بیچ دی۔ ہم نے مذاقاً کہا کہ ’’کیوں ڈاکٹر کا مشورہ تھا پیدل چلنا؟‘‘ تو انہوں نے جواب دیا ’’جی نہیں ڈاکٹر کا بل ادا کرنے میں بیچ دی۔‘‘ یہ بات کہہ کر چلتے بنے ، او رہم ہکا بکا وہیں کھڑے رہ گئے۔
کتنے ہی قصے ہیں جو بیان کیے جائیں تو صفحات کے صفحات سیاہ ہوجائیں گے مگر ان ڈاکٹرس کے کرتوت پوری طرح عیاں نہیں ہوپائیں گے۔
ایسی بات نہیں ہے کہ اب دنیا میں اچھے ڈاکٹر نہیں بچے۔ نہیں بھئی اتنا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں اب بھی دنیا میں ایسے ڈاکٹر ہیں جو غریبوں کا علاج مفت کرتے ہیں۔ مریض کو دیکھنے، آدھی رات کو جانے سے بھی نہیں ہچکچاتے ہیں۔ کئی ڈاکٹروں کی تو صرف مسکراہٹ سے ہی مریض آدھا اچھا ہوجاتا ہے۔ مگر افسوس ایسے ڈاکٹروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اللہ رب العالمین سے دُعا ہے کہ وہ تمام ڈاکٹروں کے دل میں مسیحائی کا جذبہ پیدا کردے (آمین)۔
آچھ چھیں! ارے یہ کیا کہیں مجھے بھی تو سردی زکام نہیں ہوگا۔ لو! ڈاکٹروں کی اتنی برائی کرنے کے باوجود مجھے انہی کے پاس جانا پڑے گا کیا کریں زندگی اسی کا نام ہے۔
صادقہ طارق انصاری
رمضانی بلڈنگ، دوسرا مالا، روم نمبر29،
ہنس روڈ، بائیکلہ (ویسٹ)، ممبئی۔موبائل 09892728425..
لفظ سے کھیلنے والے کو گنہگار کہو
اردو مرکز میں پروفیسر احمد سجاد کا’’تعمیری ادب کا امتیاز‘‘پر اظہارخیال، بندہ مومن کارسم اجرا اور شعری نسشت
گزشتہ شب اردو مرکز میں پروفیسر احمد سجاد کے اعزاز میں ایک ادبی نششت ہوئی۔پروگرام کا آغاز تلاوت سے ہوا۔ صدارت ڈاکٹر خورشید نعمانی نے کی۔اس پروگرام کے دوحصے تھے۔پہلے حصے کی نظامت ندیم جاوید اور شعری نششت کی نظامت یوسف دیوان نے کی۔ جاوید ندیم نے ادارہ ادب اسلامی ہند کاتعارف اور اسکے قیام کی غرض غایت پر روشنی ڈالی۔اسلم غازی نے پروفیسر احمد سجادکی شخصیت اور انکی علمی خدمات پر گفتگو کی۔آل انڈیا مومن کانفرنس کے بانی عاصم بہاری پر پروفیسر احمد سجاد کی تازہ کتاب بندہ مومن کا ہاتھ کی رسم اجرامولانا جنید بنارسی اورڈاکٹر خورشید نعمانی نے کی ۔ پھر اظہار خیال کے لئے پروفیسر احمد سجاد کا نام پکا را گیا۔آپ نے عاصم بہاری اور ان کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ’’آج صرف مولانا ابوالکلام کانام لیاجاتاہے،اور دوسرے لوگوں کانام نہیںٖ لیا جا تا ہے اس میں ہمارا بھی قصور ہے ۔ہم اپنی شخصیات کو بھول جائیں تو دوسرے کیوں یاد رکھیں۔مولانا عاصم بہاری جیسی اہم شخصیت کوبھی ہم نے نظر انداز کیا۔مزدور پیشہ دبے کچلے طبقات بیدار کرنا اور انھے جنگ آزادی کے تیار کرنا مولاناعاصم بہاری صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ ہے ۔انھون نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی کوشش کی ۔اور اسلامی اخوت کی ڈعوت دی۔اسلامی اخوت کو بنیا د بنا کر آل انڈیا مومن کانفرنس کو منظم کیا۔اور آل انڈیا مومن کانفرنس کو مضبوط کیا۔لیکن المیہ یہ ہے کی عاصم بہاری کی وفات یہ جماعت کئی خانوں میں بٹ گئی۔بڑی حد تک عبد القیوم انصاری نے اس جماعت کو کمزور کیاتھا۔اگر آل انڈیا مومن کانفرنس کمزور نہ ہوتی تو ہمیں منقسم ہندوستان میں جائز مقام ملتا۔‘‘انھوں بندہ مومن کا ہاتھ کے بتا یا کہ’’ یہ کتاب بیس سال میں مکمل ہوئی ۔مجھے بیس سال تک عاصم بہاری کی شخصیت پر لکھنے کا جنون سوار رہا۔‘‘اردو کی مقبولیت کے بارے میں انھوں نے کہاکہ ’’اردو نے ہندوستا نی میڈیا کو گرفت میں لے لیا ہے۔کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ اردو الفاظ کا سہار الئے بغیر عوام کے جذبات کی سچی ترجمانی نہیں کی جاسکتی ہے۔اردو کے اساتذہ کی تین ذمہ داریا ں ہیں وہ معلم ،مجاہداورمبلغ بھی ہیں۔‘‘پروفیسر احمد سجاد نے تعمیری ادب کا امتیاز پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ’’ہر ادب کی تین تسلیم شدہ بنیادیں ہیں موضوع کی عظمت ،اسلوب وابلاغ اورہیت ۔تعمیری فکر کا حامل ادیب مثبت قدروں کو ہاتھ جانے نہیں دیتا۔وہ رجائیت پسند ہوتا ہے۔تعمیری ادب غیر مسلموں نے بھی تخلیق کیا ہے۔‘‘ انھو ں نے مزید کہا کہ’’اکیسویں صدی میں تخریبی ادب کا جنازہ نکل گیا۔ادب دوہری تسخیر کامالک ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات کسی فکرکا مخالف بھی شعرو افسانے کی راہ سے لا شعوری پر اس فکر سے متاثر ہوجاتا ہے۔ماضی میں صوفیا نے مقامی زبان ریختہ میں اردو میں اپنے خیالات کے ذریعہ لوگوں کو قبول حق پر آمادہ کیا۔آج کی باطل قوتیں اس کی قوت تاثیر سے واقف ہیں۔چنانچہ کے۔جی۔بی۔اور سی۔آئی ۔اے کے اشاروں پر جدید ذہنوں کو کو مسخر اور ماؤف کیا جاتا رہا ہے۔‘‘
انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’’ اصلاح وانقلاب کے داعیوں کو لفظ کی تاثیر اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہئے کیونکہ یہ لفظ ہی ہے جو حسن میں پھول بھی ہے اور شبنم بھی ۔یہ کاری زخم بھی لگاسکتا ہے اور زخموں پر پھائے بھی رکھ سکتا ہے۔لفظ سے نبیوں نے بھی کام لیا ہے اور ولیوں نے بھی۔یہی الفاظ کبھی کرشن کی بانسری میں گیت بن کر ڈھلے ہیں تو کبھی مہاتما بدھ کے لبوں پر شانتی کا اپدیش بنے ہیں ہے کبھی مسیحؑ کی زبان سے پہاڑی وعظ میں ڈھلے ہیں توکبھی سینت فرانسیس ،نانک اور چشتی کی اثر آفریں دعاؤں میں ابھرے ہیں اور یہی الفاظ مسخ ہو کر مسولینی ،اسٹالین ،ہٹلر ،بش اور اباما کی زبانوں سے موت،نفرت اور ظلم وستم کے زہر اگلنے والے سانپ بھی بنے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر خورشید نعمانی نے صدارتی تقریر کی۔مہمانوں کا شکریہ زبیر اعظمی نے ادا کیا ۔شعری نششت میں جاوید ندیم ،اسلم غازی ،وقار اعظمی،منصف ریاض،عالم ندوی،عارف اعظمی،یوسف دیوان ،جمیل مرصع پوری اور زبیر اعظمی وغیرہ نے اپنا کلام سنایا۔
Monday, May 30, 2011
Sunday, May 29, 2011
اردو پڑھنا ، لکھنا اور پھر بولنا
اُردو زباں
Saturday, May 28, 2011
چند اشعار برائے تنقید
اک نظر کرم تیری ادھر کب تلک ہوگی
گھنگور اندھیرا ہے سحر کب تلک ہوگی
ہر سمت ہیں طوفان حوادث ہمیں گھیرے
اس تلخ حقیقت سے مفر کب تلک ہوگی
اس شور قیامت میں حقیقت کا بتانا
بازی ہے کڑی ہم سے یہ سر کب تلک ہوگی
جاتی ہے صدا عرش تلک سنتے ہیں مرزا
مظلوم کی آہوں کی خبر کب تلک ہوگی
سوچتا ہوں كہ ميں بهي ليڈر بن جاؤں
ويسے بهى پرديس ميں ايک عرصہ گزاردينے كے بعد جب ميں اپنے وطن واپس جاؤں گا تو وہاں كچه تو مصروفيت هونى چاهئے اور ليڈرشپ سے زياده اور اچها كام كيا ہوسكتا ہے، نہ ہنگ لگے نہ پهٹكري ، مفت ميں ليڈر بن سكتے هيں . ليڈرى كرتے ہوئے ميں اپنے آپ كو مصروف تو ركهـ سكوں گا ، ورنہ گهر پر دن تمام بيٹهے بيگم كى صورت ديكهتے ديكهتے، ان كى جهوٹى تعريف كرتے، ان كے ناز نخرے سہتے اور گھر كے تمام كام كرتے ميرى زندگى كے آخرى ايام تو ايسے ہى بيكار ميں گزر جائيں گے اور ميں بروز حشر خدا كو كيا صورت دكهاؤں گا جب وه سوال كرے گا كہ تم دنيا ميں اپنے بهائيوں كى كچهـ خدمت كئے بهى تهے يا نہیں ِ؟
ايک راز كى بات بتاؤں ، كسى سے كہنا نہيں . نہ تو مجهے سياست سے دلچسپى ہے اور نہ ہی سماجى خدمات سے. ميں سچ كهرہا ہوں. مجهے تو اپنے حلقہ كے ايم ايل اے كا نام تک نہيں معلوم ِ معلوم ہو بهى تو كيسے ، ميں خود يہاں پرديس ميں معاش و روزگار كي الجهنوں ميں پهنسا هوا هوں . مجهے تو بس ايسے ہى بيٹهے بيٹهے خيالات آتے رہتے ہيں، ميرے فيملى ڈاكٹر نے اس بيمارى كا كچه اچها سا نام بتايا تها ميں بهول رها ہوں ، كبهي تو ميں شاعر بن جاتا هوں تو كبهى اديب تو كبهي افسانہ نگار تو كبهى انسداد جہیز كميٹى كا ممبر ، اور ان دنوں مجھ پر ليڈر بننے كا بهوت سوار ہے . ميں جو مدرسہ ميں اپنى جماعت كا مانيٹر تک نهيں بن سكا اب ليڈر بننے كے خواب ديكهرہا هوں ِ ۔ زرا ميرى ہمت كى داد تو ديجئے.
مجهے ليڈر بننے كا خيال كبهى نہ آتا ليكن كروں تو كيا كروں ، ميں كيڑا اسپيشلسٹ هوں ۔جى ہاں ۔ مجھے سوائے اپنے تمام لوگوں ميں كيڑے نظر آتے ہیں. ميں آدمى كو ديكهكر ہی اس كے جسم ميں موجود تمام كيڑوں كے نام بتا سكنا هوں. سیاسی جماعتوں کے كيڑے گننے ميں تومیں نے کافی تحقيق کی ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں كہ آج کوئی ایسی پارٹی نہیں جو قوم کی خدمت کرسکے . سب سالوں سے ایسے ہى اپنا اور قوم کا وقت برباد کر رہے ہیں اور قوم کو تباہی اور بربادی کی طرف لئے جا رہے ہیں. اس لئے میں نے اپنی لنگوٹ جو میں كالج کے زمانے میں ورزش کرنے کے لئے استعمال کرتا تھا پرانے صندوق سے نکال کرپهر كس لى ہے اور لیڈری کے میدان میں کودنے کے لئے پورى تیاری میں ہوں تاكہ قوم کی خدمت کر سکوں.
مجھ میں خدمت خلق کا جذبہ پہلے نہیں تھا لیکن ان دنوں میں یہ جذبہ کوٹ کوٹ کر اپنے اندر بھر رہا ہوں. جس کی وجہ سے بعض وقت بدہضمی بھی ہوجارہی ہے اور ہاضمے کے چورن کی ایک شیشی ہمیشہ میری جیب میں پڑى رہتی ہے. بیگم الگ ناراض رہتی ہیں كہ یہ کیا جذبہ نوش کئے جارہے ہو . خدا نہ خواستہ قوم کی خدمت کرتے کرتے تم اوپر چلے گئے تو میرا کیا ہوگا ?. ابھی مجھے تھوڑے دن اور سہاگن رہنا ہے تب تک كہ تم اور دو تین بلڈنگس اور پلاٹس میرے نام نہیں کردیتے . لیکن میرا فیصلہ اٹل ہے . پتھر کی لکیر ہے.
میں اپنی قوم کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں اور جلد از جلد قوم کی قسمت بدلنا چاہتا ہوں . ساحر لدھیانوی صاحب تووہ صبح كب آئيكى کہتے کہتے خود گزر گئے لیکن وہ صبح نہیں آئى . میں اس صبح کو کان سے پکڑ کر قوم کے سامنے لانا چاہتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں كہ دیکھو یہی وہ صبح ہے جس کا تمہیں انتظار تھا اس کے علاوہ میں اپنی قوم کے لئے بہت کچھ کام کرنا چاہتا ہوں جس کی تفصیل آپ کو میری پارٹی کے اجنڈے میں مل جائے گی
ان دنوں میں اپنی پارٹی کے نام اور رجسٹريشن وغیرہ کی ضروری کاروائیوں میں بہت مصروف ہوں . ووٹ کے بھیک کے کشکول کی تياري کے لئے مختلف كمپنيوںسے ٹینڈر بھی منگوایا ہوں بہرحال یہ سب میں اپنی قوم کی خدمت کرنے كے جذبہ كے تحت کر رہا ہوں. اس لئے مجھے آپ لوگوں کا ساتھ چاہیے
میں نے اپنی پارٹی کے لئے ایک گانا بھی تیّار کرلیا ہے آپ لوگ بھی سن لیجئے .
کس طرح بنتے ہیں لیڈر یہ بتادو یارو
گر سیاست کے ہمیں بھی تو سکھادو یارو
خدمت خلق کا جذبہ ہوں بسائے دل میں
کچھ نہیں تو مجھے لیڈر ہی بنادو یارو
آپ کا پيسہ نہیں ساتھ ہی کافی ہے مجھے
قیمتی ووٹوں کو مجھ پر سے لٹادو یارو
پل میں ہی قوم کی قسمت کو بدل کر رکھ دوں
راستے کی سب ہی دیواریں ہٹادو یارو
پارٹی کوئی بھی اب میرے مقابل نہ رہے
گر جو دینا ہے تو اتنی ہی دعا دو یارو
ان دنوں میں خود پردیس میں ہوں اور جب بھی میں انڈیا جاؤنگا اپنی پارٹی کا افتتاح کر کے لیڈر بن جاؤں گا . لیکن میں انڈیا كب جاؤں گا مجھے خود پتہ نہیں اس لئے كہ في الحال میں خود ایک لاکھ ريال جمع کرنے کے چکر میں ہوں اور جب بھی میرے پاس ایک لاکھ ريال جمع ہوجاینگے میں انڈیا جاکر لیڈر بن کر خدمت خلق کے کاموں مے مصروف ہوجاؤنگا.
تب تک کے لئے مجھے اجازت دیں لیکن براه مہربانی اپنا قیمتی ووٹ مجھے دینا نہ بھولیں.
الله حافظ – في امان الله
محمد زاهد علي
الرياض – سعودي عرب
Monday, December 27, 2010
دلی مبارکباد ( شادی خانہء آبادی )
مختلف فلاحی و سماجی اداروں سے منسلک کوکن ٹیلینٹ فورم کے چيئرمین جناب اقبال کوارے اورنوری اقبال کوارے کی دخترنیک اختر صباء کوارے کی شادی خانہء آبادی جناب گلزار مستری کے صاحزادے آصف مستری سے بروز اتوار مورخہ 26 دسمبر 2010ء کو شام میں 7 بجے بمقام اکبر پیر بھائ کالج آف ایجوکیشن کے گراؤنڈ واشی نوی ممبئی میں انجام پائی۔اس شاندار تقریب میں مختلف نامور عمائدین شہر اور ہر طبقہ کے معزّزحضرات جن میں مختلف سماجی اداروں کے عہدیداران جیسے ہندوستان کے سب سے
Tuesday, August 03, 2010
مبارک باد
سہراب الدین فرضی مڈبھیڑ معاملے کو کسی اور ریاست میں منتقل کرنے کی سی بی آئی کی درخواست پر گجرات کے وزےر اعلیٰ نرےندر مودی بے حد چراغ پا ہیں۔ مودی کو غصہ کیوں آیا؟ اس کے بھی معقول اساب ہیں دراصل اس معاملے میں سی بی آئی ،مودی سے پوچھ گچھ کرنا چاہتی ہے، غالباً مودی اسی بات سے کچھ زیادہ جھنجھلائے ہوئے ہیں۔ ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مودی خود کو شاید قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ ان کے راج میں قانون کے ہاتھ مسلسل مروڑ ے جارہے ہیں گجرات کے مسلم کش فسادات کے متاثرین ومظلومین ان کی حکومت اور اس کے کارندوں کی طرف سے قانون کا پنجہ مروڑنے کی کوششوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھ اور بھگت رہے ہیں۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب گجرات کے معاملات کو دیگر ریاستوں میں منتقل کرنے کی درخواست کی گئی۔ بیسٹ بیکری کیس اس کی زندہ مثال ہے، اس کیس کو ممبئی منتقل کیا گیا تھا۔ بلقیس بانوکیس بھی ممبئی منتقل کیا گیا تھا۔ اسی طرح متعدد دیگر معاملات بھی مہاراشٹر منتقل کئے جاچکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان معاملات کی دیگر ریاستوں میں منتقلی میں بھی مودی حکومت نے روڑے اٹکانے کی کوشش کی تھی اور تو اور سہراب الدین کیس بھی سی بی آئی کو دیا جانا مودی حکومت کو ایک آنکھ نہیں بھارہا تھا۔ امیت شاہ کے خلاف جانچ کا معاملہ سی بی آئی کے ہاتھ میں جانے سے روکنے کے لئے بھی گجرات حکومت کے وکلاءنے طرح طرح کی دلیلیں پیش کی تھیں یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ اسپیشل انویسٹیگیشن ٹیم جب جانچ کررہی ہے تو پھر سی بی آئی جانچ کی کیا ضرورت ہے۔ بہرحال اب مودی نے سی بی آئی کے ہاتھ اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر یہ الزام تراشیاں شروع کردی تھیں کہ سی بی آئی کی درخواست گجرات عدلیہ کی توہین ہے انہوں نے لگے ہاتھوں یہ سوال بھی کر ڈالا کہ کیا گجرات دشمن کا علاقہ ہے جس کی وجہ سے اس پر انصاف کے ساتھ مقدمہ چلائے جانے کے سلسلے میں اعتبار نہیں کیا جارہا ہے۔ آپ اس ریاست کو ہندوستان کا حصہ سمجھتے ہیں یا نہیں ۔کانگریس پر ووٹ بینک کی سیاست کرنے نیز مرکز میں یوپی اے حکومت پر بھی الزام لگانے سے بھی مودی نہیں چوکے ۔انہوں نے کہا کہ یوپی اے حکومت سی بی آئی کا استعمال کرکے گجرات کا ماحول بگاڑ رہی ہے۔ یہ گجرات کے عدالتی نظام کی توہین ہے اس کے ججوں اور وکیلوں کی توہین ہے۔ گزشتہ ۸ برسوں سے میرا نام بدنام کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں مگر اب انہوں نے گجرات کے عدالتی نظام اور ریاست کو بدنام کرنے کی بھی کوششیں شروع کردی ہیں۔ بہرحال مودی کو اس سے قبل گجرات سے دوسری ریاستوں کو منتقل کئے جانے والے مقدمات پر اتنا غصہ نہیں آیا تھا جتنا کہ اب خود پر آنچ آنے کے بعد آرہا ہے۔ مودی نے اس دوران دہشت گردی سے لڑنے میں رکاوٹیں ڈالے جانے کی بات بھی کہی ہے۔ بے گناہوں کو دہشت گرد بتا کر قتل کردینا اسٹیٹ ٹیررزم ہے شاید بات نرےندر مودی کو معلوم نہیں ہے۔ نریندر مودی گجرات کے وزیراعلیٰ ہیں وزرات داخلہ کا قلمدان بھی ان ہی کے پاس تھا امیت شاہ ان کے جونیئر وزیر تھے جیسا کہ لوگ جانتے ہیں گجرات میں مودی ایک عامر کی طرح حکومت کرتے ہیں ان کے مخالفین کو اس کا خوب تجربہ ہے سابق وزیر اعلیٰ کیشو بھائی پٹیل اور ان کے ساتھیوں کو بھی اس کا تلخ تجربہ ہوچکا ہے۔ مودی کی جانکاری کے بغیر یا احکامات پر ان کے دستخط کے بغیر سہراب الدین فرضی مڈبھیڑ یا کوئی اور کارروائی پر عمل درآمد ہوہی نہیں سکتا تھا لہٰذا اس معاملے میں اگر سی بی آئی ، مودی سے بھی پوچھ گچھ کرنا چاہتی ہے تو اس میں غلط کیاہے؟
ان دنوں نرےندر مودی کو سب سے زیادہ غصہ سی بی آئی پر آرہا ہے۔ سی بی آئی کو وہ کانگرےس کا ہتھیار بھی کہہ چکے ہیں ۔ بالکل اسی طرح جیسے بی جے پی سربراہ نتن گڈکری سی بی آئی کو کانگریس بیورو آف انویسٹی گیشن کہہ چکے ہیں مگرستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے ابھی حال ہی میں کامن ویلتھ گیمس کے کاموں میں بدعنوانی پر سینئر بی جے پی لیڈر وجے گویل سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرتے نظر آئے مودی سی بی آئی پر جو اس قدر برہم ہیں شاید یہ بھی بھو ل گئے ہیں کہ سی بی آئی نے ہرین پانڈیا قتل معاملے میں انہیں کلین چٹ دی تھی۔ مودی کو سی بی آئی پر اعتبار نہیں ہے تو پھر انہیں سی بی آئی کے ذریعے خود کو کلین چٹ دئیے جانے کے معاملے پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے تھا اور خود کو کسی اعلیٰ عدالت میں مقدمہ چلائے جانے کے لئے پیش کردینا چاہیے تھا۔
Shafiullahkhan
لنترانی کی ٹیم کو یہ بتاتے ہوۓ بے حد خوشی ہورہی ہے کہ ۔اب ہمیں اردو نستعلیق لیپی میں میل آنے شروع ہو گۓ ہیں ۔ہم تین سالوں سے کئی لوگوں سے رابطہ میں رہے ۔مگر کسی نے بھی اردو میں میل نہیں کیا ۔انگریزی رومن میں ہی لکھا ہے ۔جناب سلمان غازی صاحب اقرائ فاؤنڈیشن کے صدر ہیں ۔انھوں نے اردو میں میل کرکے ایک نئي شروعات کردی ہے ۔ہم انھیں مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔اردو ادب سے تعلق رکھنے والے اور لنترانی کے وزیٹرس سے ہماری گزارش ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعےزیادہ سے زیادہ اردو کا فروغ کریں ۔
Sunday, July 04, 2010
سلسلہ وار قتل
Tuesday, June 15, 2010
کریمی لا ئبریری کا احیاء قابل تحسین قدم
(ڈائریکٹر اردو مرکز زبیر اعظمی ، )






