You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label lantrani. Show all posts
Showing posts with label lantrani. Show all posts

Thursday, August 27, 2015

شاعر احمد فراز


         آج اردو کے نامور شاعر احمد فراز کی ساتویں برسی ہے ۔احمد فراز کا اصل نام سید احمد شاہ تھا ۔ وہ 12 جنوری 1931ءکو نوشہرہ میں پیدا ہوئے ان کے والد سید محمد شاہ برق کوہائی فارسی کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے تھے۔ احمد فراز نے اردو، فارسی اور انگریزی ادب میں ایم اے کیا اور ریڈیو پاکستان سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ بعدازاں وہ پشاور یونیورسٹی سے بطور لیکچرار منسلک ہوگئے۔ وہ پاکستان نیشنل سینٹر پشاور کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر، اکادمی ادبیات پاکستان کے اولین ڈائریکٹر جنرل اور پاکستان نیشنل بک فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔احمد فراز عہد حاضر کے مقبول ترین شاعروں میں شمار ہوتے تھے۔ انہیں بالعموم رومان کا شاعر کہا جاتا ہے مگر وہ معاشرے کی ناانصافیوں کے خلاف ہر دور میں احتجاج کا پرچم بلند کرتے رہے جس کی پاداش میں انہیں مختلف پابندیاں بھی جھیلنی پڑیں اور جلاوطنی بھی اختیار کرنی پڑی۔احمد فراز کے مجموعہ ہائے کلام میں تنہا تنہا، درد آشوب، نایافت، شب خون، مرے خواب ریزہ ریزہ، جاناں جاناں، بے آواز گلی کوچوں میں، نابینا شہر میں آئینہ، سب آوازیں میری ہیں، پس انداز موسم، بودلک، غزل بہانہ کروں اور اے عشق جنوں پیشہ کے نام شامل ہیں۔ ان کے کلام کی کلیات بھی شہر سخن آراستہ ہے کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔احمد فراز کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا جن میں آدم جی ادبی انعام، کمال فن ایوارڈ، سرارہ امتیاز اور ہلال امتیاز کے نام سرفہرست ہیں۔انہیں جامعہ کراچی نے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری بھی عطا کی تھیاحمد فراز 25 اگست 2008ء کو اسلام آباد میں وفات پاگئے



Saturday, September 15, 2012

باطل کے منصوبے

امریکی فلم  '' انوسینس  مسلمس'' میں  اسلام ، رسول اللہ  اور  مسلمانوں  کے خلاف  گستاخی  کی وجہ سے  دنیا  بھر میں زبردست احتجاج کا سلسلہ  جاری  ہے  اور مسلم دنیا میں  غم و غصہ  کا اظہار کیا جارہا ہے  ہندوستان میں بھی علما ء اور سیاستدانوں نے  مسلمانوں  سے پر امن رہنے کی درخواست کر رہی ہے ۔ اس موقع پر سیاسی  جماعت عوامی وکاس  پارٹی کے  روح رواں  اور سابق اے پی  شمشیر خان پٹھان سر نے بھی اشتعال  انگیز  فلم  پر شدید  ردّ عمل  کا اظہار کیا ہے ۔لیکن  مسلمانوں  سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ  وہ سڑکوں  پر  احتجاج سے  احتراز کریں ۔اور غصہ سے مشتمل  ہونے کی بجاۓ  احتجاج پر امن طریقے   اپنائیں۔  ہمیں باطل کے  منصوبوں  سے ہشیار رہنا بھی ضروری ہے ۔انھوں نے کہا کہ باطل طاقتیں  ہمیشہ  سے مسلم  نوجوانوں  کو تشدّد  کے لیے  اکساتی  رہی ہے ۔اس لیے  ان کی  سازش  کو جاننے  کے بعد مسلمان  ہرگز      ہرگز  مشتعل  نہ ہو ۔کیونک گزشتہ ایک دہائی سے  مغرب والوں کا یہ شیوہ رہا ہے کہ  آزادی  اظہار راۓ  کے نام  پر یو ٹیوب اور انٹرنیٹ پر اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف  اہانت  آمیز مواد اور خاکے  اپلوڈکرکے  فتنہ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کیوں کہ وہ اس بات سے اچھی طرح  واقف ہیں کہ  مسلمان رسول ، قرآن اور خلفاۓ راشدین کی توہین  برداشت  نہیں کر سکتے ہیں ۔اس لیے وقفہ وقفہ سے وہ حرکتیں  کرتے ہیں اور اشتعال دلاتے ہیں ۔اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس بات کو سمجھے اور جلسے جلوس اور مظاہروں سے احتراز کریں اور شر پسندوں اور اسلام  دشمن طاقتوں کی سازش کا شکار نہ ہو۔اور سمجھداری سے کام لیں۔

Wednesday, August 01, 2012

آہ ڈاکٹر روپیش سری واستو


اپنے کسی بھی کام کا چرچا نہیں کیا
اردو زبان کا کبھی سودا نہیں کیا
کیا لنترانی  کہتی ہے کہ سوچو
خاموش  رہ کر تم نے اچھا نہیں کیا
محبت میں رہ کہ اردو کی مدہوش ہو گیا
اک چاند تھا بادلوں میں چھپ گیا
روپیش کیسے آن میں روپوش ہو گیا
( ڈاکٹر کلیم ضیاء )

رفیع صاحب بہت یاد آے


سروں کے بادشاہ انسانیت کے علمبردار اور لاکھوں  دلوں کی دھڑکنوں میں بسنے والے رفیع کو ہم سے بچھڑے ہوۓ بتیس برس کا طویل عرصہ بیت گیا پھر بھی ان کے پر شباب  نغموں کو سن کر ایسا محسوس  ہوتا ہے ۔جیسے آج  بھی وہ ہمارے درمیان موجود ہے ۔رفیع صاحب نے ہندوستان کی ہر زبان کے گیتوں کو اپنی آواز میں بہترین انداز میں ڈھال کر انہیں امر بنا دیا ۔اور مراٹھی زبان میں جو درد بھرے نغمے صدا بند ہوے ہیں۔اس کا جواب نہیں وہ وطن کے سچے وفادار اور قومی یکجہتی کے لیے موسیقی کے  سپہ سالار تھے۔اور تلفظ کے فیلڈ میں شہنشاہ تھے۔بتیس برسوں پہلے ماہ رمضان المبارک میں ہی ہم سبھی کے علاوہ ان کی بیوہ بلقیس بانو ، بیٹے محمد شاہد اور دیگر اہل چانہ نے ان کی وداعی پر آنکھوں کی کوروں کو بھگودیا ۔ان کے پرستاروں سے استدعا ہے کہ وہ اپنے محبوب فنکار کی مغفرت اور درجات کے لیے دعاۓ خیر کریں۔
( اثر ستّار ،باندرہ)

Saturday, June 02, 2012

داستان ، افسانہ ، کہانی رنگ اشعار

کہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہے


جو سنتا ہے اسی کی داستان معلوم ہوتی ہے


کہانی ہے تو بس اتنی ،فریب خواب ہستی کی


کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہو جاۓ


خود قصّہ غم اپنا کوتاہ کیا میں نے


دنیا نے بہت چاہا افسانہ بنا دینا


دنیا سے اک افسانہ کہنے کو تھے ،پھر سوچا


دنیا ہے خود افسانہ ، افسانے سے کیا کہیے


بھرے گی ان کو میرے بعد لاکھوں رنگ سے دنیا


خلائيں چھوڑ دی ہیں میں نے کچھ اپنے فسانے میں


مجھے افسوس ہے دنیا کی اس افسانہ سازی پر


کہ اپنی بھی کہانی چھیڑ دی میرے فسانے میں


میں ہوں اک مستقل عنوان ہستی کے فسانے میں


مجھے تاریخ دہراتی رہے گی ہر زمانے میں


( سیماب اکبر آبادی )


Monday, May 14, 2012

ماں‘ میرے لیے خاص کیوں ہے؟



میری ماں میرے لیے خاص کیوں ہے؟ جب میں سخت بارش میں گھر آیا تو میرے بھائی نے استفسار کیا: تم نے چھتری کیوں نہیں لی؟ میری بہن نے کہا: تم نے بارش رکنے کا انتظار کیوں نہ کیا؟ والد صاحب نے تنبیہہ کی کہ تم بیمار ہوئے تو تمہاری خیر نہیں۔ مگر ماں، جو اب تک میرے بال خشک کررہی تھی بولی: اے بارش، میرے بچے کے گھر پہنچنے تک انتظار تو کرلیتی۔ یہ ہے ماں… نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھا کہ میں نے اپنی معذور ماں کو کاندھوں پر بٹھاکر حج کروایا ہے، کیا میرا حق ادا ہوگیا؟ ارشاد فرمایا: ابھی تو اُس ایک رات کا حق ادا نہیں ہوا جس رات تُو نے بستر گیلا کردیا تھا اور تیری ماں نے تجھے خشک جگہ پر سلایا اور خود گیلے میں سوئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب اپنی والدہ کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لیے کوہِ طور پر تشریف لے گئے تو ایک غیبی آواز آئی: ’’اے موسیٰ، اب ذرا سنبھل کے آنا اور سوچ سمجھ کر گفتگو کرنا۔‘‘ حضرت موسیٰ بہت حیران ہوئے اور پوچھا ’’یاباری تعالیٰ وہ کیوں؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اب تمہارے لیے مجھ سے رحم و کرم اور عنایت کی دعا کرنے والی ماں اس دنیا میں نہیں رہی۔‘‘ ماں… احسانات، احساسات، خوبیوں اور جذبات کا وہ مجموعہ ہے جو سارے زمانے کے وار اور موسم کی سختیاں اپنے جسم پر سہتی ہے مگر اس کا ہر لمحہ رشتوں کو پیار کی ڈوری میں پروتے اور اپنی اولاد کے لیے خوشیاں خریدتے گزرتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک دوست کے پاس اُس کی والدہ کی وفات کا افسوس کرنے گیا تو اُس نے بتایا کہ اس کی ماں نے اس کی آسائشوں کی خاطر اس سے آٹھ جھوٹ بولے اور وہ چاہنے کے باوجود اس کے لیے کچھ نہ کرسکا۔ اس نے بتایا کہ ’’اس کی ماں ہمیشہ سچ نہیں بولتی تھی۔ وہ ایک غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اکثر کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا۔ اگر کبھی کچھ مل جاتا تو ماں اپنے حصے کا کھانا بھی اسے دے دیتی اور کہتی تم کھالو مجھے بھوک نہیں ہے۔ یہ اس کی ماں کا پہلا جھوٹ تھا… تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کرکے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے چلی جاتی۔ ایک دن بالآخر اس نے دو مچھلیاں پکڑلیں، انہیں جلدی جلدی پکایا اور اس کے سامنے رکھ دیا۔ وہ کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا بہت لگا رہ جاتا اسے اس کی ماں کھاتی۔ اس نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی۔ اس نے واپس کی اور کہا: بیٹا تم کھالو مجھے مچھلی پسند نہیں ہے۔ یہ اس کی ماں کا دوسرا جھوٹ تھا… جب وہ اسکول جانے کی عمر کا ہوا تو اس کی ماں نے ایک گارمنٹس فیکٹری میں ملازمت اختیار کرلی، سردی کی ایک رات جب بارش زوروں پر تھی، وہ ماں کا انتظار کرتا رہا جو ابھی تک نہیں آئی تھی، بالآخر وہ اسے ڈھونڈنے آس پاس کی گلیوں میں نکلا، دیکھا تو وہ لوگوں کے دروازوں پر کھڑی سامان بیچ رہی تھی، اس نے کہا: ماں اب بس بھی کرو، سردی بھی بہت ہے، رات بھی ہوگئی ہے اور تم تھک بھی گئی ہو، باقی کل کرلینا، تو ماں بولی: بیٹا میں بالکل نہیں تھکی۔ یہ اس کی ماں کا تیسرا جھوٹ تھا… ایک روز اس کا فائنل پیپر تھا، اس کی ماں نے ضد کی کہ وہ بھی اس کے ساتھ چلے گی۔ وہ اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی اس کے لیے دعا کررہی تھی۔ وہ باہر آیا تو اس کی ماں نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا اور ٹھنڈا جوس لے کر دیا۔ اس نے ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھ کر جوس اس کی طرف بڑھایا تو بولی: مجھے پیاس نہیں ہے۔ یہ اس کی ماں کا چوتھا جھوٹ تھا… اس کے باپ کی موت ہوئی تو زندگی مزید مشکل ہوگئی، اکیلے گھر کا خرچ چلانا آسان نہ تھا، اکثر نوبت فاقوں تک آجاتی۔ رشتہ داروں نے ان کی حالت دیکھ کر ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا مگر ماں نے کہا: ’’مجھے کسی سہارے کی ضرورت نہیں‘‘۔ یہ اس کی ماں کا پانچواں جھوٹ تھا… گریجویشن مکمل کرنے پر اچھی ملازمت مل گئی، سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے وہ بہت بوڑھی ہوگئی ہے۔ اس نے ماں کو کام سے روک دیا اور اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ اس کے لیے مختص کردیا۔ ماں نے انکار کیا اور کہا کہ اسے پیسوں کی ضرورت نہیں۔ یہ اس کی ماں کا چھٹا جھوٹ تھا… حصولِ روزگار کے لیے وہ بیرون ملک چلاگیا۔ کچھ عرصے بعد ماں کو اپنے پاس بلایا تو اس نے بیٹے کی تنگی کے خیال سے منع کردیا اور کہا کہ اسے گھر سے باہر رہنے کی عادت نہیں۔ یہ اس کی ماں کا ساتواں جھوٹ تھا… ماں کو کینسر ہوا، وہ بہت لاغر ہوگئی۔ وہ اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھ کر خون کے آنسو رونے لگا، ماں اسے دیکھ کر مسکرائی اور بولی: مت رو بیٹا، میں ٹھیک ہوں۔ یہ اس کی ماں کا آٹھواں جھوٹ تھا، اور پھر اس کی ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرلیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب ماں کی تخلیق کی تو اسے رحمت کی چادر، چاہتوں کے پھول، پاکیزہ شبنم، دھنک کے رنگوں، دعائوں کے خزانوں، زمین و آسمان کی وسعتوں، جذبوں، چاہتوں، چاند کی ٹھنڈک، خلوص، رحمت، راحت، برکت، عظمت، حوصلے اور ہمت کے تمام رنگوں سے مزین کیا، یہاں تک کہ اس کے قدموں میں جنت ڈالی۔ یوں ماں قدرت کا بہترین تحفہ اور عطیہ ہے جس کی قدر ہم پر فرض بھی ہے اور قرض بھی۔ ’’ماں‘‘… یہ لفظ بہت سے معنی اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔ ممتا، پیار، وفا، قربانی، محبت، لگن، سچائی، خلوص، پاکیزگی، سکون، خدمت، محنت، عظمت، دعا، سایہ، دوست، ہمدرد، راہنما، استاد، بے غرضی، معصومیت، عبادت، ایمان، دیانت، جذبہ، جنت، یہ سب ماں کی خوبیوں کی صرف ایک جھلک ہے، ورنہ اس کی خوبیاں تو اس قدر ہیں کہ لفظ ختم ہوجائیں مگر ماں کی تعریف ختم نہ ہوگی۔ پس ’’ماں‘‘… ایک ایسا موضوع ہے کہ قلم بھی جس کا احاطہ نہیں کرپاتا۔ اس موضوع پر بہت ضخیم کتب لکھی جاسکتی ہیں مگر ماں کے احسانات، احساسات اور چاہتوں کا بدلہ تب بھی نہیں چُکتا۔ والدین کے احسانات کے بارے میں سوچنے بیٹھیں بھی، تو سوچ ان کے احسانات کے مقابلے میں بہت پیچھے دکھائی دیتی ہے۔ مائیں عزم و حوصلے اور ایثار و قربانی کا پیکر ہوتی ہیں۔ ہم تو مائوں کی ایک رات کا قرض بھی نہیں چکا سکتے۔ میرزا ادیب اپنی کتاب ’’مٹی کا دیا‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’اباجی مجھے مارتے تھے تو امی بچا لیتی تھیں، ایک دن میں نے سوچا کہ اگر امی پٹائی کریں گی تو اباجی کیا کریں گے؟ یہ دیکھنے کے لیے میں نے امی کا کہا نہ مانا، انہوں نے بازار سے دہی لانے کو کہا میں نے بات نہ مانی، انہوں نے سالن کم دیا میں نے زیادہ پر اصرار کیا، انہوں نے کہا پیڑھی کے اوپر بیٹھ کر روٹی کھائو، میں زمین پر دری بچھاکر بیٹھ گیا، لہجہ بھی گستاخانہ اختیار کررکھا تھا۔ مجھے پوری توقع تھی کہ امی ضرور ماریں گی، مگر انہوں نے مجھے سینے سے لگاکر کہا: کیوں بیٹا! ماں صدقے جائے تم بیمار تو نہیں؟ اُس وقت میرے آنسو تھے کہ شرمندگی کے مارے رکنے میں نہیں آرہے تھے۔ جب بھی میرے دل کی مسجد میں تیری یادوں کی اذان ہوتی ہے اے ماں میں اپنے ہی آنسوئوں سے وضو کرکے تیرے جینے کی دعا کرتا ہوں بلاشبہ ماں کا وجود ایک نعمت اور اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی انسان کامیاب ہے تو اس کے پیچھے اس کی ماں ہی کا ہاتھ ہے جس کا آج وہ ثمر پارہا ہے۔ ان کی مائوں نے پال پوس کر ان پودوں کو تناور درخت بنایا اور اپنی مائوں ہی کے طفیل آج یہ پیڑ عمدہ اور رسیلا پھل دے رہے ہیں۔ ان کی تربیت میں جو خوبیاں ہیں وہ ان کی مائوں ہی کی مرہونِ منت ہیں۔ ماں کا وجود صرف گھر کے لیے ہی نہیں بلکہ ہماری زندگیوں کے لیے بھی مقدس صحیفے کی مانند ہے۔ ماaں تو تپتے صحرا میں بوند برسنے کا نام ہے۔ یہ کڑی، چلچلاتی دھوپ میں ابر کی مانند ہے۔ دعا ہے کہ جن کے والدین حیات ہیں خدا کرے ان کا سایہ ہمیشہ سلامت رہے اور وہ ہر دکھ، پریشانی، آفت اور آزمائش سے محفوظ ہوں۔ اور جو لوگ والدین کی نعمت سے محروم ہیں وہ اس دعا کا ورد کرتے رہا کریں: … رب ارحمھما کما ربینی صغیرا …

Thursday, May 10, 2012

روپیش سری واستو ہمیشہ کے لیے دلوں میں رہیں گے




تین کہانیاں جو کہ بہت ہی مشہور ہیں ۔ایک   آدمی تھا جو بہت  خوبصورت اور تعلیم یافتہ تھا ۔بہت  امیر  تھا ۔ایک  دن اچانک وہ مر گیا ۔
دوسری کہانی یہ ہے کہ ایک آدمی تھا جو بہت  دولت مند   ہر کام میں ماہر  تھا ۔بہت پیسے والا تھا ۔ لوگوں میں مشہور تھا ۔ غریبوں کا مسیح تھا۔وہ ایک دن مر گیا ۔
تیسری کہانی یہ ہے کہ  ایک آدمی تھا جو بہت غریب تھا ۔ان پڑھ تھا ۔وہ بھی مرگيا ۔
یہ کہانی جو کہ سب کو سنایا کر  تا تھا۔ہر  اردو  ادب  کی محفل کی جان تھا ۔اردو کے فروغ  کے لیے کوشش کرتا رہتا تھا ۔اردو  ویب سائٹ لنترانی ڈاٹ کام اور لنترانی میڈیا ہاؤس کا   مینیجنگ ڈائریکٹر  بروز بدھ مورخہ  9 مئی 2012ء کو حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے  اس دار فانی سے کوچ کر  گئے۔ان کی عمر 38 سال تھی ۔ لنترنی آٹ کام ، بھڑاس     ڈاٹ کام ،اردھ ستیہ بلاگ ، آیوش دید ڈاٹ کام جس پر آیوشوید کی مفت صلح دی  جاتی تھی ۔ اہل اردو سے پر تپاک  سے  ملنا ، ان کی محفلوں میں شریک ہونا اور وقت ضرورت ان کے ساتھ تعاون کرنا  ڈاکٹر روپیش سری واستو کا خاصہ تھا  اچانک اس سانحہ سے اردو حلقوں میں دکھ کی لہر دوڑ گئی ہے ۔

Monday, January 09, 2012

اُف ! یہ ہمارے ڈاکٹرس


ڈاکٹر ! یہ لفظ سنتے ہی ہمارے ذہن میں ایک نہایت متفق باوقار انسان ابھرتا ہے جس کے پاس ہماری تمام بیماریوں کا علاج موجود ہے۔ ہر دور میں ڈاکٹر کو مسیحا کا درجہ عطا رہا ہے۔ بعض لوگ تو انہیں بھگوان کا درجہ دے دیتے ہیں۔ ہندی فلموں کے اکثر ڈائیلاگ تو آپ نے سنے ہی ہوں گے کہ ڈاکٹر صاحب آپ تو بھگوان ہیں یا بھگوان کے بعد آپ ہی میرا سہارا ہے۔ مگر افسوس زمانے کے ساتھ ساتھ یہ باتیں بھی پرانی ہوگئی ہیں۔ اب ڈاکٹرز وہ ڈاکٹرز نہ رہے۔ بلکہ آج کل کے ڈاکٹر تو قصائیوں کو بھی مات دیتے نظر آتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قصائی جانور کے گلے پہ چھری پھیرتا ہے اور ڈاکٹر انسان کی جیب پر۔ بھئی آج کل ڈاکٹری کا پیشہ بطور مسیحائی نہیں بلکہ پیسے کمانے کے لیے اپنایا جارہاہے۔ کئی لوگوں کو تو یہ کہتنے بھی سنا گیا ہے کہ چار پانچ لاکھ پڑھائی پر لگاؤ کوئی فکر نہیں کچھ دنوں میں مع سود واپس مل جائیں گے۔ وہ ڈاکٹر بنتے یا اپنے بچوں کو بناتے ہی اس لیے ہیں کہ انہیں کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہوتا ہے۔
آپ کسی بھی نامور ہاسپٹل میں چلے جائیں۔ مریض کتنا بھی سیریس ہو کاؤنٹر پر پیشگی روپے جمع کرائے بغیر مریض کا علاج نہیں شروع ہوگا۔ اس کے بعد دواؤں کی لمبی فہرست تھمادی جائے گی جس میں مہنگے سے مہنگے انجکشن اور دوائیں شامل ہوں گی اور اس پر مرے ہرسودرے کہ آپ کو اپنے مریض کے پاس ٹھہرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی خاص کر آئی. سی. یو. واڑڈ میں ۔ جہاں اکثر مریض بوڑھے ہتے ہیں۔
ذرا تصور کیجیے بیچارہ بوڑھا مریض اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہا ہے اسے دواؤں سے زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے اسے ایسے وقت میں اکیلا کردینا کتنا بڑا ظلم ہے۔ جب اس کے پاس کوئی رشتہ دار نہ ہو تو اس کا دل اپنوں کو دیکھنے کیسے تڑپتا ہوگا بیچارہ آخری وقت میں کچھ کہنا بھی چاہتا ہوں گا تو کہہ نہیں پاتا ہے اور اسی طرح انتقال کرجاتا ہے۔
بھئی آپ لوگ پورے گھر والوں کو نہ سہی مگر ایک قریبی رشتہ دار مثلاً بیٹا یا بیٹی کو تو رہنے دیجیے اور تو اور اگر مریض انتقال کرجائے تو ہاسپٹل کا بل ادا کرنے تک آپ میت بھی نہیں لے جاسکتے بھلے آپ پیسے کہیں سے بھی کیسے بھی لایئے۔
اگر آپ کو معمولی سردی زکام محسوس ہورہا ہو تو گھبرائیے مت فوراً سے پیشتر ڈاکٹر کے پاس جایئے وہ آپ کے مرض کو اتنا سنگین و مہلک مرض میں مبتلا کردے گا کہ آپ خود کو چند دنوں کا مہمان سمجھنے لگیں گے۔ دسیوں قسم کے ٹیسٹ اور ایکسرے کروائے جائیں گے اور پتہ چلے گا کہ یہ سب ٹیسٹ اور ایکسرے وغیرہ ڈاکٹر ک بیوی کے کلینک میں ہوتے ہیں۔ آخر میں آپ کو چند اینٹی بایوٹک دوائیں دے کر رخصت کردیا جائے گا۔ آہ!
برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی ہے
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا
ہر ایک اتوارے میرا مطلب ہے ایک ڈاکٹر کلینک کھول کر بیٹھا ہے جس کے بورڈ میں ڈاکٹر کا نام مع لمبی چوڑی ڈگریوں کے درج ہے جن کاعام آدمی کوعلم بھی نہیں۔ جو کہ اکثر نقلی بھی نکلتے ہیں اور ایسے لوگوں کی وجہ سے کتنی ہی زندگیاں برباد ہوجاتی ہیں مگر یہ کاروبار پھلتا پھولتا جاتا ہے اور کسی کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی۔
ہمارے پڑوسی عزیز میاں کل پیدل جارہے تھے۔ ہم نے کار کے بارے میں دریافت کیا تو کہنے لگے بیچ دی۔ ہم نے مذاقاً کہا کہ ’’کیوں ڈاکٹر کا مشورہ تھا پیدل چلنا؟‘‘ تو انہوں نے جواب دیا ’’جی نہیں ڈاکٹر کا بل ادا کرنے میں بیچ دی۔‘‘ یہ بات کہہ کر چلتے بنے ، او رہم ہکا بکا وہیں کھڑے رہ گئے۔
کتنے ہی قصے ہیں جو بیان کیے جائیں تو صفحات کے صفحات سیاہ ہوجائیں گے مگر ان ڈاکٹرس کے کرتوت پوری طرح عیاں نہیں ہوپائیں گے۔
ایسی بات نہیں ہے کہ اب دنیا میں اچھے ڈاکٹر نہیں بچے۔ نہیں بھئی اتنا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں اب بھی دنیا میں ایسے ڈاکٹر ہیں جو غریبوں کا علاج مفت کرتے ہیں۔ مریض کو دیکھنے، آدھی رات کو جانے سے بھی نہیں ہچکچاتے ہیں۔ کئی ڈاکٹروں کی تو صرف مسکراہٹ سے ہی مریض آدھا اچھا ہوجاتا ہے۔ مگر افسوس ایسے ڈاکٹروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اللہ رب العالمین سے دُعا ہے کہ وہ تمام ڈاکٹروں کے دل میں مسیحائی کا جذبہ پیدا کردے (آمین)۔
آچھ چھیں! ارے یہ کیا کہیں مجھے بھی تو سردی زکام نہیں ہوگا۔ لو! ڈاکٹروں کی اتنی برائی کرنے کے باوجود مجھے انہی کے پاس جانا پڑے گا کیا کریں زندگی اسی کا نام ہے۔


صادقہ طارق انصاری
رمضانی بلڈنگ، دوسرا مالا، روم نمبر29،
ہنس روڈ، بائیکلہ (ویسٹ)، ممبئی۔موبائل 09892728425..

لفظ سے کھیلنے والے کو گنہگار کہو









اردو مرکز میں پروفیسر احمد سجاد کا’’تعمیری ادب کا امتیاز‘‘پر اظہارخیال، بندہ مومن کارسم اجرا اور شعری نسشت
گزشتہ شب اردو مرکز میں پروفیسر احمد سجاد کے اعزاز میں ایک ادبی نششت ہوئی۔پروگرام کا آغاز تلاوت سے ہوا۔ صدارت ڈاکٹر خورشید نعمانی نے کی۔اس پروگرام کے دوحصے تھے۔پہلے حصے کی نظامت ندیم جاوید اور شعری نششت کی نظامت یوسف دیوان نے کی۔ جاوید ندیم نے ادارہ ادب اسلامی ہند کاتعارف اور اسکے قیام کی غرض غایت پر روشنی ڈالی۔اسلم غازی نے پروفیسر احمد سجادکی شخصیت اور انکی علمی خدمات پر گفتگو کی۔آل انڈیا مومن کانفرنس کے بانی عاصم بہاری پر پروفیسر احمد سجاد کی تازہ کتاب بندہ مومن کا ہاتھ کی رسم اجرامولانا جنید بنارسی اورڈاکٹر خورشید نعمانی نے کی ۔ پھر اظہار خیال کے لئے پروفیسر احمد سجاد کا نام پکا را گیا۔آپ نے عاصم بہاری اور ان کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ’’آج صرف مولانا ابوالکلام کانام لیاجاتاہے،اور دوسرے لوگوں کانام نہیںٖ لیا جا تا ہے اس میں ہمارا بھی قصور ہے ۔ہم اپنی شخصیات کو بھول جائیں تو دوسرے کیوں یاد رکھیں۔مولانا عاصم بہاری جیسی اہم شخصیت کوبھی ہم نے نظر انداز کیا۔مزدور پیشہ دبے کچلے طبقات بیدار کرنا اور انھے جنگ آزادی کے تیار کرنا مولاناعاصم بہاری صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ ہے ۔انھون نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی کوشش کی ۔اور اسلامی اخوت کی ڈعوت دی۔اسلامی اخوت کو بنیا د بنا کر آل انڈیا مومن کانفرنس کو منظم کیا۔اور آل انڈیا مومن کانفرنس کو مضبوط کیا۔لیکن المیہ یہ ہے کی عاصم بہاری کی وفات یہ جماعت کئی خانوں میں بٹ گئی۔بڑی حد تک عبد القیوم انصاری نے اس جماعت کو کمزور کیاتھا۔اگر آل انڈیا مومن کانفرنس کمزور نہ ہوتی تو ہمیں منقسم ہندوستان میں جائز مقام ملتا۔‘‘انھوں بندہ مومن کا ہاتھ کے بتا یا کہ’’ یہ کتاب بیس سال میں مکمل ہوئی ۔مجھے بیس سال تک عاصم بہاری کی شخصیت پر لکھنے کا جنون سوار رہا۔‘‘اردو کی مقبولیت کے بارے میں انھوں نے کہاکہ ’’اردو نے ہندوستا نی میڈیا کو گرفت میں لے لیا ہے۔کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ اردو الفاظ کا سہار الئے بغیر عوام کے جذبات کی سچی ترجمانی نہیں کی جاسکتی ہے۔اردو کے اساتذہ کی تین ذمہ داریا ں ہیں وہ معلم ،مجاہداورمبلغ بھی ہیں۔‘‘پروفیسر احمد سجاد نے تعمیری ادب کا امتیاز پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ’’ہر ادب کی تین تسلیم شدہ بنیادیں ہیں موضوع کی عظمت ،اسلوب وابلاغ اورہیت ۔تعمیری فکر کا حامل ادیب مثبت قدروں کو ہاتھ جانے نہیں دیتا۔وہ رجائیت پسند ہوتا ہے۔تعمیری ادب غیر مسلموں نے بھی تخلیق کیا ہے۔‘‘ انھو ں نے مزید کہا کہ’’اکیسویں صدی میں تخریبی ادب کا جنازہ نکل گیا۔ادب دوہری تسخیر کامالک ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات کسی فکرکا مخالف بھی شعرو افسانے کی راہ سے لا شعوری پر اس فکر سے متاثر ہوجاتا ہے۔ماضی میں صوفیا نے مقامی زبان ریختہ میں اردو میں اپنے خیالات کے ذریعہ لوگوں کو قبول حق پر آمادہ کیا۔آج کی باطل قوتیں اس کی قوت تاثیر سے واقف ہیں۔چنانچہ کے۔جی۔بی۔اور سی۔آئی ۔اے کے اشاروں پر جدید ذہنوں کو کو مسخر اور ماؤف کیا جاتا رہا ہے۔‘‘
انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’’ اصلاح وانقلاب کے داعیوں کو لفظ کی تاثیر اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہئے کیونکہ یہ لفظ ہی ہے جو حسن میں پھول بھی ہے اور شبنم بھی ۔یہ کاری زخم بھی لگاسکتا ہے اور زخموں پر پھائے بھی رکھ سکتا ہے۔لفظ سے نبیوں نے بھی کام لیا ہے اور ولیوں نے بھی۔یہی الفاظ کبھی کرشن کی بانسری میں گیت بن کر ڈھلے ہیں تو کبھی مہاتما بدھ کے لبوں پر شانتی کا اپدیش بنے ہیں ہے کبھی مسیحؑ کی زبان سے پہاڑی وعظ میں ڈھلے ہیں توکبھی سینت فرانسیس ،نانک اور چشتی کی اثر آفریں دعاؤں میں ابھرے ہیں اور یہی الفاظ مسخ ہو کر مسولینی ،اسٹالین ،ہٹلر ،بش اور اباما کی زبانوں سے موت،نفرت اور ظلم وستم کے زہر اگلنے والے سانپ بھی بنے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر خورشید نعمانی نے صدارتی تقریر کی۔مہمانوں کا شکریہ زبیر اعظمی نے ادا کیا ۔شعری نششت میں جاوید ندیم ،اسلم غازی ،وقار اعظمی،منصف ریاض،عالم ندوی،عارف اعظمی،یوسف دیوان ،جمیل مرصع پوری اور زبیر اعظمی وغیرہ نے اپنا کلام سنایا۔

Monday, May 30, 2011

دوحہ قطر میں اردو





Sunday, May 29, 2011

اردو پڑھنا ، لکھنا اور پھر بولنا

مکرمی ۔
بعد از سلام مسنون
آپ نے وہ ہی لکھا جوکہ میرے دل میں تھا ۔
اردو پڑھنا ، لکھنا اور پھر بولنا ، یہ تین شعبہ جات ہیں ، جس میں عام اردو بات چیت کرنے والے گھرانے اور خصوصاً ان کی اولاد اس المیہ سے دوچار ہیں کہ اردو سن لیتے ہیں ،بول لیتے ہیں مگر لکھ اور پڑھ نہیں سکتے
اس لے ایسے گھرانے اس نصف سے نا آشنا ہیں ، وہ نصف جو اردو ادب ہے ، جس کو بولا اورسنا نہیں جاتا ، بلکہ لکھا اور پڑھا جاتا ہے ۔
اور اگر اردو کو زندہ رکھنا ہے تو اردو ادب کو عام اردو داں طبقہ تک پہنچانا ہے ۔
میں چونکہ اردو و عربی پڑھتا پڑھاتا ہوں اس لے اس المیہ کو بخوبی جانتا ہوں ۔
بر صغیر ہندوستان میں یہ بات توہے ،بلکہ پاکستان میں بھی میرےے کی رشتدار ہیں جو اس المیہ سے گزر رہے ہیں ، حالانکہ وہاں اردو کا چلن عام ہے۔
مشرق وسطی میں عربی کا ماحول ہے تو دو فایدے ملے کہ عربی بھی آگی نیز اردو رسم الخظ سے بھی واقف ہوگے۔ بلکہ ایسے بہت سارے ہیں جنہوں نے اردو نہ سکول و کالج میں پڑھی بلکہ عرب ماحول نے انہیں اردو و عربی بولنا ، لکھنا و پڑھنا سکھا دیا ۔
والسلام
خیر اندیش سعداللہ


اُردو زباں



از: حامد الانصاری انجم، سنت کبیر نگر، یوپی، ہندوستان

مرزبوم اس کا ہے ملک ہندوستاں
عہدِ تخلیق ہے عہدِ شا ہِ جہاں
جانِ اہل زباں اسِ کا حسنِ بیاں
اس کی شیرینیت کا ہے سکّہ رواں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
دلکش و دل ربا اسِ کا ہر اک سخن
گوہر بے بہا ہے ادب اور فن
اس میں پوشیدہ ہے پیار کا بانکپن
بحر زخّار ہے اِس کا زورِ بیاں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
گلستاں گلستاں اس کی نیرنگیاں
کیف زا جانفزا اس کی رعنائیاں
راحتِ روح ہیں حسن سامانیاں
ہر طرف ہر جگہ ہے یہ جلوہ فشاں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
چاند تاروں کی اس میں لطافت بھی ہے
لالۂ و گل کی خوشبو ہے رنگت بھی ہے
حسن والوں کی اس میں نزاکت بھی ہے
ہرادا اس کی ہے گلفشاں گلفشاں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
نغمہ زیر و بم اس کی آواز ہے
سوزِ دل کا امیں اس کا ہر ساز ہے
حسن و عشق و محبت کا اک راز ہے
زندگی اس کی ہے داستاں داستاں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
معترف آج ہے اس کا ہندوستاں
گونج اٹھا اس کے نغموں سے سارا جہاں
اِس کی خوبی پہ شیدا ہیں اہل زباں
ساری دنیا میں ہے اس کا سکّہ رواں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
اِس میں وید اور قرآں کا پیغام ہے
حسن اخلاق و اخلاص کا جام ہے
یہ زباں کیا ہے قدرت کا انعام ہے
ساری دنیا میں ایسی زباں ہے کہاں ؟
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
اس میں آزاد و جوہر کی تقدیر ہے
اور سلیمان و سلماں کی تحریر ہے
امجدی طرز، مودودی تفسیر ہے
بوالوفا اور بخاری سے معجز بیاں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
اس میں اقبال کا حسن عنوان ہے
اس میں بابائے اردو کی بھی جان ہے
اِس کی شیرینی خود اِس کی پہچان ہے
اِس کا مشہور عالم ہے حسن بیاں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
اس میں آزاد و سیّد ہیں شبلی بھی ہیں
محسن الملک و اکبر ہیں حالی بھی ہیں
داغ و ناسخ امیراور جلالی بھی ہیں
اس میں غالب سا ہے شاعر نکتہ داں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
ذوق و سودا سے اس کے پر ستار ہیں
آتش و مصحفی سے فداکار ہیں
درد و انشا ظفر اور سرشار ہیں
میر و مومن سے ہیں اس میں جادو بیاں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
جوش و حسرت جگر اور اصغر بھی ہیں
شاد و فانی ، ریاض اور مضطر بھی ہیں
بزم میں اس کی ،مخمور و ساغر بھی ہیں
بیخود و سائل و نوح ہیں پاسباں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
اس میں احساں شفیق اور ماہر بھی ہیں
عندلیب و عدم اور ساحر بھی ہیں
ابر و انور ، حفیظ اور عامر بھی ہیں
صوفی سائب ظفر بھی ہیں رطب اللسان
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
شمس و محوی ، اثر، خوشتر نیک خو
جوش و محروم و مخدوم اور آرزو
شوق و ملاّ سراج اس کی ہیں آبرو
اور انیس و دبیر اس کے ہیں ترجماں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
اس پہ چکبست و محسن، شرر ہیں فدا
اس کے مداح سرشار محوی ہما
ہیں عزیز اور سیماب سے ناخدا
بدر و وحشت جلیل اس کے ہیں مدح خواں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
احسن و تاجور اور گرامی بھی ہیں
ہاں نظیر و جمیل اور نظامی بھی ہیں
اور شکیل و قتیل ایسے نامی بھی ہیں
ہے ہلالی سا شاعر یہاں نغمہ خواں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
اس میں نازش مجاز اور جذبی بھی ہیں
اس میں شعری شفا کیف و کیفی بھی ہیں
عرش و عرشی فضا فیض و فیضی بھی ہیں
ہیں حمید اور بہزاد سے نعت خواں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
شاد و شاداں ہری چند اختر بھی ہیں
کرشن موہن ہیں اور فکر و مضطر بھی ہیں
اور محمود و مفتوں ،منور بھی ہیں
راز اعجاز و آزاد ہیں رازداں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
ہیں سحر اور فراق اور گلزار بھی
ہیں سرور و رشید اور غفار بھی
ہیں رموزی سے کتنے پرستار بھی
اور نیاز ایسے کتنے ہیں روح رواں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں
اس میں سازِ نوا اس میں سوزِ سخن
اس کا ذکرحسیں، انجمن انجمن
کوبہ کو جابہ جا پھیلی اس کی کرن
جلوہ گر اس میں انجم کی تابانیاں
یہ ہے اردو زباں یہ ہے اردو زباں

پیش کش: سلمان فیصل، نئی دہلی

Saturday, May 28, 2011

چند اشعار برائے تنقید

اک نظر کرم تیری ادھر کب تلک ہوگی


گھنگور اندھیرا ہے سحر کب تلک ہوگی



ہر سمت ہیں طوفان حوادث ہمیں گھیرے


اس تلخ حقیقت سے مفر کب تلک ہوگی


اس شور قیامت میں حقیقت کا بتانا



بازی ہے کڑی ہم سے یہ سر کب تلک ہوگی



جاتی ہے صدا عرش تلک سنتے ہیں مرزا


مظلوم کی آہوں کی خبر کب تلک ہوگی

سوچتا ہوں كہ ميں بهي ليڈر بن جاؤں

ان دنوں مختلف اخبارات اور مجلات ميں سياسى اور سماجي تنظيموں اور رہنماؤں کے تعلق سےو نیز آئے دن لوگوں کے لیڈر بننے کے لئے نت نئے بیانات اور ان کے قوم کی خدمت کرنے کے لئے بلند و بانگ دعوے پڑهكر ميں بہت متاثر ہورها ہوں اور مجهے شدت سے اس بات كا احساس ہورها ہے اور بہت كوفت اور افسوس بهي ہورها ہے كہ ميں نے اب تک اپنى زندگى بيكار ميں گزاردى اس لئے کہ وہ زندگى زندگى كيا جو قوم كي خدمت كرتے هوئے نہ گزارى جائے - يہ بات مجهے بہت بے چين كي هوئى ہے اور ميں راتوں ميں بستر پر كروٹيں بدلتے، ٹهنڈى ٹهنڈى آہيں بهرتے اور بيگم كے خراٹے سنتے يہى سوچتا رہتا هوں كہ اب قوم كى خدمت كرنے کے لئے مجهے بهى ليڈر بن جانا چاهئے.


ويسے بهى پرديس ميں ايک عرصہ گزاردينے كے بعد جب ميں اپنے وطن واپس جاؤں گا تو وہاں كچه تو مصروفيت هونى چاهئے اور ليڈرشپ سے زياده اور اچها كام كيا ہوسكتا ہے، نہ ہنگ لگے نہ پهٹكري ، مفت ميں ليڈر بن سكتے هيں . ليڈرى كرتے ہوئے ميں اپنے آپ كو مصروف تو ركهـ سكوں گا ، ورنہ گهر پر دن تمام بيٹهے بيگم كى صورت ديكهتے ديكهتے، ان كى جهوٹى تعريف كرتے، ان كے ناز نخرے سہتے اور گھر كے تمام كام كرتے ميرى زندگى كے آخرى ايام تو ايسے ہى بيكار ميں گزر جائيں گے اور ميں بروز حشر خدا كو كيا صورت دكهاؤں گا جب وه سوال كرے گا كہ تم دنيا ميں اپنے بهائيوں كى كچهـ خدمت كئے بهى تهے يا نہیں ِ؟

ايک راز كى بات بتاؤں ، كسى سے كہنا نہيں . نہ تو مجهے سياست سے دلچسپى ہے اور نہ ہی سماجى خدمات سے. ميں سچ كهرہا ہوں. مجهے تو اپنے حلقہ كے ايم ايل اے كا نام تک نہيں معلوم ِ معلوم ہو بهى تو كيسے ، ميں خود يہاں پرديس ميں معاش و روزگار كي الجهنوں ميں پهنسا هوا هوں . مجهے تو بس ايسے ہى بيٹهے بيٹهے خيالات آتے رہتے ہيں، ميرے فيملى ڈاكٹر نے اس بيمارى كا كچه اچها سا نام بتايا تها ميں بهول رها ہوں ، كبهي تو ميں شاعر بن جاتا هوں تو كبهى اديب تو كبهي افسانہ نگار تو كبهى انسداد جہیز كميٹى كا ممبر ، اور ان دنوں مجھ پر ليڈر بننے كا بهوت سوار ہے . ميں جو مدرسہ ميں اپنى جماعت كا مانيٹر تک نهيں بن سكا اب ليڈر بننے كے خواب ديكهرہا هوں ِ ۔ زرا ميرى ہمت كى داد تو ديجئے.

مجهے ليڈر بننے كا خيال كبهى نہ آتا ليكن كروں تو كيا كروں ، ميں كيڑا اسپيشلسٹ هوں ۔جى ہاں ۔ مجھے سوائے اپنے تمام لوگوں ميں كيڑے نظر آتے ہیں. ميں آدمى كو ديكهكر ہی اس كے جسم ميں موجود تمام كيڑوں كے نام بتا سكنا هوں. سیاسی جماعتوں کے كيڑے گننے ميں تومیں نے کافی تحقيق کی ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں كہ آج کوئی ایسی پارٹی نہیں جو قوم کی خدمت کرسکے . سب سالوں سے ایسے ہى اپنا اور قوم کا وقت برباد کر رہے ہیں اور قوم کو تباہی اور بربادی کی طرف لئے جا رہے ہیں. اس لئے میں نے اپنی لنگوٹ جو میں كالج کے زمانے میں ورزش کرنے کے لئے استعمال کرتا تھا پرانے صندوق سے نکال کرپهر كس لى ہے اور لیڈری کے میدان میں کودنے کے لئے پورى تیاری میں ہوں تاكہ قوم کی خدمت کر سکوں.

مجھ میں خدمت خلق کا جذبہ پہلے نہیں تھا لیکن ان دنوں میں یہ جذبہ کوٹ کوٹ کر اپنے اندر بھر رہا ہوں. جس کی وجہ سے بعض وقت بدہضمی بھی ہوجارہی ہے اور ہاضمے کے چورن کی ایک شیشی ہمیشہ میری جیب میں پڑى رہتی ہے. بیگم الگ ناراض رہتی ہیں كہ یہ کیا جذبہ نوش کئے جارہے ہو . خدا نہ خواستہ قوم کی خدمت کرتے کرتے تم اوپر چلے گئے تو میرا کیا ہوگا ?. ابھی مجھے تھوڑے دن اور سہاگن رہنا ہے تب تک كہ تم اور دو تین بلڈنگس اور پلاٹس میرے نام نہیں کردیتے . لیکن میرا فیصلہ اٹل ہے . پتھر کی لکیر ہے.

میں اپنی قوم کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں اور جلد از جلد قوم کی قسمت بدلنا چاہتا ہوں . ساحر لدھیانوی صاحب تووہ صبح كب آئيكى کہتے کہتے خود گزر گئے لیکن وہ صبح نہیں آئى . میں اس صبح کو کان سے پکڑ کر قوم کے سامنے لانا چاہتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں كہ دیکھو یہی وہ صبح ہے جس کا تمہیں انتظار تھا اس کے علاوہ میں اپنی قوم کے لئے بہت کچھ کام کرنا چاہتا ہوں جس کی تفصیل آپ کو میری پارٹی کے اجنڈے میں مل جائے گی

ان دنوں میں اپنی پارٹی کے نام اور رجسٹريشن وغیرہ کی ضروری کاروائیوں میں بہت مصروف ہوں . ووٹ کے بھیک کے کشکول کی تياري کے لئے مختلف كمپنيوںسے ٹینڈر بھی منگوایا ہوں بہرحال یہ سب میں اپنی قوم کی خدمت کرنے كے جذبہ كے تحت کر رہا ہوں. اس لئے مجھے آپ لوگوں کا ساتھ چاہیے

میں نے اپنی پارٹی کے لئے ایک گانا بھی تیّار کرلیا ہے آپ لوگ بھی سن لیجئے .

کس طرح بنتے ہیں لیڈر یہ بتادو یارو

گر سیاست کے ہمیں بھی تو سکھادو یارو

خدمت خلق کا جذبہ ہوں بسائے دل میں

کچھ نہیں تو مجھے لیڈر ہی بنادو یارو

آپ کا پيسہ نہیں ساتھ ہی کافی ہے مجھے

قیمتی ووٹوں کو مجھ پر سے لٹادو یارو

پل میں ہی قوم کی قسمت کو بدل کر رکھ دوں

راستے کی سب ہی دیواریں ہٹادو یارو

پارٹی کوئی بھی اب میرے مقابل نہ رہے

گر جو دینا ہے تو اتنی ہی دعا دو یارو

ان دنوں میں خود پردیس میں ہوں اور جب بھی میں انڈیا جاؤنگا اپنی پارٹی کا افتتاح کر کے لیڈر بن جاؤں گا . لیکن میں انڈیا كب جاؤں گا مجھے خود پتہ نہیں اس لئے كہ في الحال میں خود ایک لاکھ ريال جمع کرنے کے چکر میں ہوں اور جب بھی میرے پاس ایک لاکھ ريال جمع ہوجاینگے میں انڈیا جاکر لیڈر بن کر خدمت خلق کے کاموں مے مصروف ہوجاؤنگا.

تب تک کے لئے مجھے اجازت دیں لیکن براه مہربانی اپنا قیمتی ووٹ مجھے دینا نہ بھولیں.

الله حافظ – في امان الله

محمد زاهد علي

الرياض – سعودي عرب

چھوٹی بحر کی غزل : شفیق ندوی


Monday, December 27, 2010

دلی مبارکباد ( شادی خانہء آبادی )


مختلف فلاحی و سماجی اداروں سے منسلک کوکن ٹیلینٹ فورم کے چيئرمین جناب اقبال کوارے اورنوری اقبال کوارے کی دخترنیک اختر صباء کوارے کی شادی خانہء آبادی جناب گلزار مستری کے صاحزادے آصف مستری سے بروز اتوار مورخہ 26 دسمبر 2010ء کو شام میں 7 بجے بمقام اکبر پیر بھائ کالج آف ایجوکیشن کے گراؤنڈ واشی نوی ممبئی میں انجام پائی۔اس شاندار تقریب میں مختلف نامور عمائدین شہر اور ہر طبقہ کے معزّزحضرات جن میں مختلف سماجی اداروں کے عہدیداران جیسے ہندوستان کے سب سے بڑے تعلیمی ادارےانجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی ، جوائنٹ سیکریٹری جناب عقیل حفیظ، ڈاکٹر عبدالکریم نائک ،ڈاکٹرعمر قاضی ،ڈاکٹر علی دلوی ،جناب اختر رنگون والا صاحب ،جناب حسن چوگلے ( چيئرمین آف آئی ،ایف ) منوّر پیر بھائی ( چيئرمین آف اینا فاؤنڈیشن )،ڈاکٹر قاسم امام، فاروق سیّد ( گل بوٹے )اور بہت سی مشہور اور اہم شخصیات موجود تھیں۔اور نوی ممبئی بورڈ کے اسکول اور کالج کے ٹیچینگ اور نان ٹیچینگ اسٹاف کی موجودگی نظر آرہی تھی ۔انجمن اسلام نوی ممبئی بورڈ کے زیر تحت اداروں سے منسلک پرنسپل حضرات محترمہ اسماء شیخ ( پرنسپل انجمن اسلام اکبرپیر بھائی کالج اف ایجوکیشن واشی )،محترمہ حمیدہ شیخ ( پرنسپل آف مصطفہ فقیہی ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج تربھے ،مسسز راحیاء بیگ ( ہیڈ مسٹریس آف انجمن اسلام عبدلعظیم کھٹکھٹے انگلش میڈیم پرائمری اسکول اور مسسز حسن آراء خان وارثيہ (ہیڈمسٹریس آف انجمن اسلام زبیدہ طالب اردو پرائمری اسکول تربھے واشی نوی ممبئی ،اور لنترانی کی ٹیم کی جانب سے جناب اقبال کوارے نوری اقبال کوارے کو ان کی لاڈلی اور پیاری بیٹی صباء کی شادی پہ تہہ دل سے دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔اس دعا کے ساتھ کہ اللہ رب العزّت ان بچوں کی ازدواجی زندگی کو مسرت اور شادمانی سے بھر دے ۔ آمین ثمّہ آمین ۔

Tuesday, August 03, 2010

مبارک باد

These e-mails are from shafiullahkhan.cse06@gmail.com and salmanghazi@yahoo.com to "Lantrani"in urdu.
سہراب الدین فرضی مڈبھیڑ معاملے کو کسی اور ریاست میں منتقل کرنے کی سی بی آئی کی درخواست پر گجرات کے وزےر اعلیٰ نرےندر مودی بے حد چراغ پا ہیں۔ مودی کو غصہ کیوں آیا؟ اس کے بھی معقول اساب ہیں دراصل اس معاملے میں سی بی آئی ،مودی سے پ
وچھ گچھ کرنا چاہتی ہے، غالباً مودی اسی بات سے کچھ زیادہ جھنجھلائے ہوئے ہیں۔ ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مودی خود کو شاید قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ ان کے راج میں قانون کے ہاتھ مسلسل مروڑ ے جارہے ہیں گجرات کے مسلم کش فسادات کے متاثرین ومظلومین ان کی حکومت اور اس کے کارندوں کی طرف سے قانون کا پنجہ مروڑنے کی کوششوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھ اور بھگت رہے ہیں۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب گجرات کے معاملات کو دیگر ریاستوں میں منتقل کرنے کی درخواست کی گئی۔ بیسٹ بیکری کیس اس کی زندہ مثال ہے، اس کیس کو ممبئی منتقل کیا گیا تھا۔ بلقیس بانوکیس بھی ممبئی منتقل کیا گیا تھا۔ اسی طرح متعدد دیگر معاملات بھی مہاراشٹر منتقل کئے جاچکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان معاملات کی دیگر ریاستوں میں منتقلی میں بھی مودی حکومت نے روڑے اٹکانے کی کوشش کی تھی اور تو اور سہراب الدین کیس بھی سی بی آئی کو دیا جانا مودی حکومت کو ایک آنکھ نہیں بھارہا تھا۔ امیت شاہ کے خلاف جانچ کا معاملہ سی بی آئی کے ہاتھ میں جانے سے روکنے کے لئے بھی گجرات حکومت کے وکلاءنے طرح طرح کی دلیلیں پیش کی تھیں یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ اسپیشل انویسٹیگیشن ٹیم جب جانچ کررہی ہے تو پھر سی بی آئی جانچ کی کیا ضرورت ہے۔ بہرحال اب مودی نے سی بی آئی کے ہاتھ اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر یہ الزام تراشیاں شروع کردی تھیں کہ سی بی آئی کی درخواست گجرات عدلیہ کی توہین ہے انہوں نے لگے ہاتھوں یہ سوال بھی کر ڈالا کہ کیا گجرات دشمن کا علاقہ ہے جس کی وجہ سے اس پر انصاف کے ساتھ مقدمہ چلائے جانے کے سلسلے میں اعتبار نہیں کیا جارہا ہے۔ آپ اس ریاست کو ہندوستان کا حصہ سمجھتے ہیں یا نہیں ۔کانگریس پر ووٹ بینک کی سیاست کرنے نیز مرکز میں یوپی اے حکومت پر بھی الزام لگانے سے بھی مودی نہیں چوکے ۔انہوں نے کہا کہ یوپی اے حکومت سی بی آئی کا استعمال کرکے گجرات کا ماحول بگاڑ رہی ہے۔ یہ گجرات کے عدالتی نظام کی توہین ہے اس کے ججوں اور وکیلوں کی توہین ہے۔ گزشتہ ۸ برسوں سے میرا نام بدنام کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں مگر اب انہوں نے گجرات کے عدالتی نظام اور ریاست کو بدنام کرنے کی بھی کوششیں شروع کردی ہیں۔ بہرحال مودی کو اس سے قبل گجرات سے دوسری ریاستوں کو منتقل کئے جانے والے مقدمات پر اتنا غصہ نہیں آیا تھا جتنا کہ اب خود پر آنچ آنے کے بعد آرہا ہے۔ مودی نے اس دوران دہشت گردی سے لڑنے میں رکاوٹیں ڈالے جانے کی بات بھی کہی ہے۔ بے گناہوں کو دہشت گرد بتا کر قتل کردینا اسٹیٹ ٹیررزم ہے شاید بات نرےندر مودی کو معلوم نہیں ہے۔ نریندر مودی گجرات کے وزیراعلیٰ ہیں وزرات داخلہ کا قلمدان بھی ان ہی کے پاس تھا امیت شاہ ان کے جونیئر وزیر تھے جیسا کہ لوگ جانتے ہیں گجرات میں مودی ایک عامر کی طرح حکومت کرتے ہیں ان کے مخالفین کو اس کا خوب تجربہ ہے سابق وزیر اعلیٰ کیشو بھائی پٹیل اور ان کے ساتھیوں کو بھی اس کا تلخ تجربہ ہوچکا ہے۔ مودی کی جانکاری کے بغیر یا احکامات پر ان کے دستخط کے بغیر سہراب الدین فرضی مڈبھیڑ یا کوئی اور کارروائی پر عمل درآمد ہوہی نہیں سکتا تھا لہٰذا اس معاملے میں اگر سی بی آئی ، مودی سے بھی پوچھ گچھ کرنا چاہتی ہے تو اس میں غلط کیاہے؟
ان دنوں نرےندر مودی کو سب سے زیادہ غصہ سی بی آئی پر آرہا ہے۔ سی بی آئی کو وہ کانگرےس کا ہتھیار بھی کہہ چکے ہیں ۔ بالکل اسی طرح جیسے بی جے پی سربراہ نتن گڈکری سی بی آئی کو کانگریس بیورو آف انویسٹی گیشن کہہ چکے ہیں مگرستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے ابھی حال ہی میں کامن ویلتھ گیمس کے کاموں میں بدعنوانی پر سینئر بی جے پی لیڈر وجے گویل سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرتے نظر آئے مودی سی بی آئی پر جو اس قدر برہم ہیں شاید یہ بھی بھو ل گئے ہیں کہ سی بی آئی نے ہرین پانڈیا قتل معاملے میں انہیں کلین چٹ دی تھی۔ مودی کو سی بی آئی پر اعتبار نہیں ہ
ے تو پھر انہیں سی بی آئی کے ذریعے خود کو کلین چٹ دئیے جانے کے معاملے پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے تھا اور خود کو کسی اعلیٰ عدالت میں مقدمہ چلائے جانے کے لئے پیش کردینا چاہیے تھا۔
Shafiullahkhan


ڈئر منور ۔ دعائیں۔ یاد دہانی کے لئے بتا دوں کہ سوہن راہی صاحب والے پروگرام میں اردو مرکز میں ملاقات ہوئی تھی اور تم نے اپنا کارڈ دیا تھا۔ تم نے بتایا تھا کہ اگلے دن پروگرام کی تفاصیل ویب پر آ جائینگی لیکن ابھی تک اس پروگرام کے بارے میں کچھ دیکھا نہیں۔ ویسے لن ترانی ویب اچھی سائٹ ہے۔ محنت کرتی رہو۔ سلمان غازی
Salman Ghazi

لنترانی کی ٹیم کو یہ بتاتے ہوۓ بے حد خوشی ہورہی ہے کہ ۔اب ہمیں اردو نستعلیق لیپی میں میل آنے شروع ہو گۓ ہیں ۔ہم تین سالوں سے کئی لوگوں سے رابطہ میں رہے ۔مگر کسی نے بھی اردو میں میل نہیں کیا ۔انگریزی رومن میں ہی لکھا ہے ۔جناب سلمان غازی صاحب اقرائ فاؤنڈیشن کے صدر ہیں ۔انھوں نے اردو میں میل کرکے ایک نئي شروعات کردی ہے ۔ہم انھیں مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔اردو ادب سے تعلق رکھنے والے اور لنترانی کے وزیٹرس سے ہماری گزارش ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعےزیادہ سے زیادہ اردو کا فروغ کریں ۔

Sunday, July 04, 2010

سلسلہ وار قتل

مارچ ، اپریل اور مئی مہینوں میں کمسن بچیوں کی آبروزی اور قتل معاملے میں کرلا ممبئی میں اتنے دنوں تک ممبئی پولس کو ـس قاتل کی تلاش تھی ۔وہ ا چانک پولس کو مل جاتا ہے ۔پولس اسے پکڑ کر لوگوں کے سامنے لے کے آتی ہے ۔کہ بس اب قاتل پکڑا جاچکا ہے اب خاموش بیٹھ جاؤ ۔مگر پولس محکمہ جو کہ سر سے پاؤں تک بد عنوانی میں ملوث ہے ۔۔اس کی بات پر اتنی آسانی سے ـ بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ تین بچیوں کی آبروريزی اور قتل کیا گیا ۔چونکہ نصرت کے قتل کی خبر کو سبھی اخبارات نے اہمیت دی اس لۓ پولس پر یہ دباؤ بن گیا کہ وہ قاتل کو پکڑے ۔کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ایک معصوم کو قاتل بنا کر سب کے سامنے پیش کردیا گیا ۔اور اصلی قاتل بے فکری سے گھوم رہا ہو ؟ اور کسی دوسری بچّی کو نشانہ بنانے کی سازش رچ رہا ہو ۔قریش نگر کرلا میں رہنے والا انیس سالہ جاوید ایک غریب طبقہ سے تعلق رکھتا ہے ۔پہلے کہا گیا کہ تینوں کا قاتل ایک ہی ہے ۔اب کہا جارہا ہے کہ نصرت کا قاتل جاوید ہے ۔تو پہلی دو بچیوں کے قاتل کو اب تک کیوں نہیں پکڑا گیا ۔کہیں پولس اپنی ذمہ داریوں سے پیچھا تو نہیں چھڑارہی ہے ۔وہ کومبنگ آپریشن کر رہی ہے ۔اس واقعہ کے بعد کرلا میں خوف اور تشویش اور برہمی عوام میں نظر آرہی ہے عوام نے پولس کے خلاف شدید احتجاج کیا ۔

Tuesday, June 15, 2010

کریمی لا ئبریری کا احیاء قابل تحسین قدم

انحمن اسلام کامپلیکس ممبئي میں صدر انحمن اسلام و اراکین انجمن نے کریمی لائـبریری کے احیاء کا اہم فیصلہ کیا ہے ۔جس کو لے کر ممبئي کے دنیاۓ اردو سے جڑے افراد بے حد خوش ہیں ۔سب نے انجمن اسلام کے اس اہم فیصلہ کا استقبال کیا ہے ۔اس تاریخی لائـبریری ''کی اہمیت اور اسی مناسبت سے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر اس کے نۓ وجود کے استقبال کے لۓ اہل ذوق مشتاق ہیں ۔اردو'' مرکز اور لنترانی ''فروغ اردو کے اس اہم قدم کو مبارکباد پیش کرتےہیں ۔اور لا ئبریری کے بہتر مستقبل کے لۓ دعاگو ہے ۔ نیز اس تعلق سے خدمت کے لۓ تیار ہے
(ڈائریکٹر اردو مرکز زبیر اعظمی ، )


Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP