Monday, September 19, 2011
بخش دے
Sunday, September 18, 2011
کبھی بہت تھی انہیں ، زندگی
وہ لوگ جن کو ہے اب خود کشی سے دلچسپی
کبھی بہت تھی انہیں ، زندگی ۔۔۔ سے دلچسپی
ہے رسم و راہ بس اپنے مفاد کی حد تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں کہاں ہے کسی کو کسی سے دلچسپی
یہ زیر بحث جو ہے ۔۔۔۔۔۔۔ عارضہ مرے دل کا ۔۔۔۔۔۔۔۔
غرض اضافے سے ہے یا کمی سے دلچسی؟
معاملات ، کیٔے جایٔیں اب سپرد ان کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معاملات میں جو لیں ۔۔۔ خوشی سے دلچسپی
نہ سمت دیکھی نہ رستہ ، عجیب عالم تھا ۔۔۔۔ !
ہمیں تھی صرف ۔۔۔۔۔ تری ہمر ہی سے دلچسپی
قبول اندھیرا ، خوشی سے کوئی نہیں کرتا
کسے نہیں ہے بھلا روشنی سے دلچسپی!
ادھر جھکاؤ تو ہوتا ہے جا کے برسوں میں!؟
ہے جِن امور میں تم کو ابھی سے دلچسپی
نعیم ۔ سارے ہی انساں ہیں لایٔق تکریم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبھی سے انس ہے ہم کو ، سبھی سے دلچسپی
امیرالاسلام ہاشمی
سنا ہے وہ تو بھڑکتا ہے بات کرنے سے،
سو پیار اس پہ ذرا سا چھڑک کے دیکھتے ہیں،
نظر میں اسکی کھٹکتے ہیں چاہنے والے،
سو اسکی آنکھوں میں ہم بھی کھٹک کے دیکھتے ہیں،
سنا ہے اوجِ ثریا پہ ہے دماغ اسکا،
سو آج حوصلے ہم بھی فلک کے دیکھتے ہیں،
کوئی تو بات ہے اسکی غزالی آنکھوں میں،
غزالِ دشت جبھی تو ٹھٹک کے دیکھتے ہیں،
سنا ہے وہ تو قیامت کی چال چلتا ہے،
تو آؤ چلتے ہیں اسکو لپک کے دیکھتے ہیں،
وہ جب بھی جھوم کے چلتا ہے اسکے پیکر سے،
وہ موج اٹھتی ہے ساغر چھلک کے دیکھتے ہیں،
سنا ہے وہ تو بدکتا ہے رِیش والوں سے،
جبھی تو شیخ جی اسکو تھپک کے دیکھتے ہیں،
سنا ہے وہ تو سبھی موسموں کی ملکہ ہے،
سو اس سے رنگ ملا کے دھنک کے دیکھتے ہیں،
سنا ہے بھول بھلیاں ہیں اسکی قربت میں،
سو جان بوجھ کے ہم بھی بھٹک کے دیکھتے ہیں،
سنا ہے موڈ میں بارہ بجے وہ آتا ہے،
سو اسکے موڈ سے پہلے کھسک کے دیکھتے ہیں،
وہ گود لیتا ہے یا گود میں وہ لیتا ہے،
سو اسکے سامنے ہم بھی ہمک کے دیکھتے ہیں،
سنا ہے اسکی تو آنکھیں بھی بات کرتی ہیں،
سو بے جھجک بھی اسے کچھ جھجک کے دیکھتے ہیں،
سنا ہے اسکو ہمارا خیال رہتا ہے،
سو ہم خیال کا دامن جھٹک کے دیکھتے ہیں،
یہ بات راز کی ہے راز ہی میں رہنے دیں،
کہ وہ جھجکتا ہے یا ہم جھجک کے دیکھتے ہیں،
سنا ہے حسنِ تکلم پہ ناز ہے ا سکو،
سو اس کے لہجے میں ہم بھی لہک کے دیکھتے ہیں،
سو آج پیڑ سے الٹا لٹک کے دیکھتے ہیں،
فراز تک تو پہنچنے میں وقت لگتا ہے،
تو پھر نشیب کی جانب لڑھک کے دیکھتے ہیں۔
Monday, September 05, 2011
Monday, August 29, 2011
چاند
پاکستان ایک ایسا ملک بن چکا ہے کہ جہاں ہر طرف مسائل ہی مسائل ہیں۔ پانی کا مسئلہ ' بجلی کا مسئلہ ' آٹے کا مسئلہ' چینی کا مسئلہ' جس طرح ہم اپنے سر کے بالوں اور آسمان کے تاروں کو گننے سے قاصر ہیں۔ اسی طرح ہم پاکستان کے مسائل کو گننے سے قاصر ہیں۔ ہمیں اپنے بچپن کا زمانہ یاد ہے کہ ہم روزانہ مزدوروں کی طرح روزہ رکھنے جاتے تھے اور روزہ کھولنے کے بعد گھر والوں سے کہتے کہ ہمارے اتنے روزے ہو گئے ہیں۔ روزوں کے اختتام پر لوگ اپنی اپنی چھتوں پر چڑھ کر چاند دیکھتے اس دور کا چاند بڑا وفادار' ملنسار' روزہ داروں کا طرف دار اور وقت کا پابند تھا۔ وہ اپنا پتہ خود بتا دیتا تھا اور یہ ہر گز نہیں سوچتا تھا کہ " میرے پتے سے لوگوں کو کیوں "میرا گھر" ملے ہمارے صاف شفاف ذہن کی سکرین پر صرف یہ الفاظ موجود ہوتے تھے۔ پہلے روزے رکھیں گے۔ پھر چاند چھت پر دیکھیں گے ساری رات اپنے نئے کپڑے تکیوں کے نیچے رکھ کر جاگتے رہیں گے۔ اس دور میں آسمان اپنی مرضی سے نیلے رنگ کا ہوتا تھا' رکشوں' بسوں اور ٹرکوں کے دھوئیں سے نیلا نہیں ہوتا تھا اور چاند بھی بروقت نظر آنے کے لئے پوری منصوبہ بندی کر لیتا تھا اور روزہ داروں سے یہ نہیں کہتا تھا کہ
اپنی آنکھیں اگلے دن تک اٹھا رکھئے۔ چاند سے ہمیں سارا سال ایک ہی تو کام پڑتا تھا کہ اسے دیکھ کر عید کر لیتے تھے۔ جب ہم بڑے ہوئے تو مردان کے چاند نے مہنگائی کی طرح پہلے بازار میں آنا شروع کر دیا۔ ہم سوچا کرتے تھے کہ مردان کے لوگوں کی بینائی اتنی تیز ہے کہ وہ اسے قبل از وقت دیکھ لیتے ہیں۔ پھر ایک وقت آیا کہ چاند نے پورے پاکستان کو غچے دینے شروع کر دئیے۔ کہیں سے نکلتا تھا اور کہیں سے نکلتا ہی نہیں تھا۔ پھر اس پر ریسرچ شروع ہو گئی۔ پوری رویتِ ہلال کمیٹی وجود میں آ گئی۔ چاند کی نفسیات تک کا مطالعہ شروع ہو گیا۔ پاکستان میں ایک مسئلے کا اضافہ ہو گیا۔ اب چاند بھی ایک مسئلہ ہے۔ جس طرح پاکستان بہت بحرانوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ہر سال چاند کا بحران پیدا ہو جاتا ہے۔ بہت سے علماءچاند کی بدولت ایک دوسرے سے روٹھ جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے گھر سے آنے والی سویوں کو واپس لوٹا دیتے ہیں۔
چاند کا دیکھنا ایک شرعی مسئلہ ہے اور ہمارے علماءحضرات کی اس مسئلے پر گرفت بھی بڑی مضبوط تھی بلکہ اس موضوع پر علماءکی اجارہ داری تھی۔ رفتہ رفتہ یہ چاند شعراءحضرات کے ہاتھوں میں کھیلنے لگا۔ شعراءنے چاند کے موضوع پر ایسی طبع آزمائی کی کہ ہر شاعر کا چاند دور سے پہنچانا جانے لگا اب چاند کا موضوع علماءحضرات کے قبضہ ¿ قدرت سے نکل کر مزاح نگاروں کے ہتھے چڑھا ہوا ہے ہر سال چاند کے حوالے سے بہت سے مزاحیہ اشعار تخلیق ہوتے ہیں۔ کالم نگار' چاند کے مسائل پر خامہ فرسائی کرتے نظر آتے ہیں۔ بڑے بڑے پ ±رمغز اور چاند کی طرح خوبرو کالم معرض وجود میں آتے ہیں۔ ذمہ دار غیر ذمہ دار چاند چڑھانے کے بجائے چاند دیکھنے پر توجہ مرکوز رکھیں تو آئندہ ایک ہی عید ہوسکتی ہے
تنویر حسین ۔۔۔
Monday, August 15, 2011
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
فرمایا اللہ تعالیٰ نے آیت قرآن مجید میں ’’جبرئیل امین آسمانوں پر معزز ہیں اور جبرئیل نے سیدھی
سیدھی وحی آپ تک پہونچائی ہے‘‘ اور میں نے (اللہ تعالیٰ نے)پیغمبر کو شاعری نہیں سکھائی ہے، اور علم کہتا ہے کہ آپﷺ نے اپنے خطبات اللہ کی رہنمائی میں بیان فرمائے ہیں مطلب آپ کا فرمان بھی فرمان خدا ہی ہے۔کہیں بھی آیات میں زیر و زبر میں تبدیلی نہیں فرمائی ہے، ماشاء اللہ ہمارے معزز و محترم علماء کرام آپ ﷺ کی اتباع کرنے والے ہیں اور آپ کے پرنور بیانات کی روشنی میں ہی آپ کے انداز بیان میں بیان فرمائے ہیں ۔الحمد اللہ۔جو کہ مصلحت اور دور اندیشی کا بے نظیر ثبوت ہے۔لیکن ملت کی یہ بد نصیبی ہے کہ خبط عظمت اقتدار پسند ایجنڈوں اور سیاسی پروپیگنڈوں کے نام نہاد نصابی ناصح دانشور آپ ﷺ کے پرنور بیانات کی مصلحت اور دور اندیشی بالائے طاق رکھکر دنیاوی اوٹ پٹانگ تحریروں کے نامعقول قلابوں سے مزین مضر لیکچر بھی دیتے رہتے ہیں ، ناقص اصلاحی کارنامے انجام دیتے ہیں حتیٰ کہ مقتد یوں کو علماء کرام کے خلاف بحث و مباحثہ کیلئے مامور بدکردار بد اخلاقی اور بد تمیزی کا ماحول فروغ دیتے رہتے ہیں اور اخبار میں بنے رہتے ہیں افرا تفری کا عالم قائم کرتے ہیں جس پر پابندی عائد کیا جانا ضروری ہے۔
ماضی میں تمیز کئے بغیر بھیونڈی کی پردہ نشین خواتین و طالبات کو بد کردار و بد معاش قرار دیکر شرفاء کے خانہ افراد کو سوال وجواب و تفتیش کا نشانہ بنایا گیا ۔اخبار کے پروپیگنڈے اور ناجائز شہرت کے لئے نام نہاد رضا کاروں کی ٹیم بنائی گئی اور بر وقت علماء کرام کی مداخلت کے ہاتھوں شرفاء کے گھرانوں کی طرف اٹھنے والی انگلیوں کو موڑ دیا گیا جس کے لئے ہم علماء کرام اور مخلص اور دیانتدار ایک ہفت روزہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔
کئی سالوں سے یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ زکوٰۃ کے مستحقوں کو بھی بہتان تراش غلط فہمی پیدا کرنیکے کے پرو پیگنڈہ کی وجہ سے حق بجانب فرض زکوٰۃ سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔اخبار کے ذ ریعے یہ چرچا عام کیا گیا کہ غیر مسلمین مسلم لباس برقع ڈاڑھی ٹوپی وغیرہ کا استعمال کرکے ناجائز زکوٰۃ وصولتے ہیں اور مافیا کے ریکٹ کے تحت معصوم بچے ،بیوہ ،ضعیف بزرگ اور اپاہجوں کے ذریعہ زکوٰۃ وصولی جعل سازی کی جاتی ہے۔اس لئے علماء کرام زکوٰۃ کے خلاف ناکہ بندی کی صحیح تصویر پیش کریں اور معاشرے میں پھیلی گندگی پر ممکن پابندی عائد کریں ۔ناچیز کا مشورہ ہے کہ دینا ہے تو رونا نہیں اور رونا ہے تو دینا نہیں اور نہ دینے والے سے بڑا گناہ گار دینے والے کو منع کرنے والا ہے ۔مگر حق بجانب۔
علم یہ بھی کہتا ہے کہ ماہ رمضان المبارک ہمارے اور ہمارے مسلم معاشرے کی اصلاح کے لئے ہے،عبادات،احکامات و ارکانات کی پابندی کیلئے ہے لیکن میڈیا کے ایک کیپٹن نے ماہ رمضان المبارک کو compansassion (ہرجانے)اور amnesty scheme (دنیاوی زمین و جائداد کے سیاسی قانون کے ٹیکس کی رعایت )کا موقع certify کیا ہے۔
خبر یوں بھی ہے کہ ماہ رمضان سے قبل کے ہفتہ میں یعنی ماہ شعبان المکرم کے آخری ہفتے میں افطار ی بازار اور عید بازار میں اچانک دہشت گردانہ بم دھماکوں کے خطرات سے آگاہ کر نے کا پروپیگنڈہ شروع کیا گیا اور افرا تفری کا مضر ماحول تیار کیا گیا ۔محلے کی کمیٹیوں کے محسنین کو اتنا وقت ہی نہیں ملا کہ سال بھر سے افطاری بازار اور عید بازار سے سالانہ اخراجات پورا کرنیکی امید لگائے غریب اور متوسط طبقے کے مزددور اور خوانچہ فروشوں کو حق بجانب جگہوں پر قائم کرنے کا انتظام کیا جاسکے ۔نتیجہ یہ ہے کہ حق بجانب خوانچے کاروبار کے لائسنس بہم نہ پہونچائے جانے والوں کو ہفتہ وصولی رشوت ادا کرکے ،مع اہل عیال گزارہ کرنے کا حق ملا کرتا تھا ،سخت سیکیورٹی اور تعصب کا نشانہ بناکر انکی محنت مزدوری کی آمدنی سے محروم اور زکوٰۃ کا حق دار بنایا گیا ۔اور جہاں مینارہ مسجد یا دیگر افطاری بازار اور عید بازار میں قدم جمانا مشکل تھا اب وہاں مزدور خوانچہ فروشوں کی کمی واقع ہوئی ہے۔
اس حقیقت کو بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا ہے کہ ماہ رمضان المبارک میں کئی غیر مسلم بھی روزہ کا اہتمام کے لئے افطاری بازار کا رخ کرتے ہیں اور اللہ جسے ہدایت دیتا ہے وہ مسلمان بھی ہوجاتا ہے۔جن کی فکر اور حفاظت ہمارا اولین فریضہ ہے ۔لیکن سبھی پر دہشت بھی طاری ہے۔
خبر یہ بھی ہے کہ چند مسلم علاقوں کے اطراف ہیضہ کے اثرات ہیں جس کے لئے بھی افطاری بازار کو ہی نشانہ بنایا گیا اور بی ایم سی صفائی عملے کی غیر ذمہ داری کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی گئی ۔تعجب ہے کہ ملیریا سے بچنے کے لئے عوام الناس کو چاند پر آباد کرنے کا مشورہ کیوں نہیں دیا جارہا ہے؟
بہر حال غیر مسلموں کو نظر انداز کرکے اڈیشنل کمیشنر قیصر خالد صاحب کو افطاری بازار اور عید بازار کی سیکیورٹی کے لئے مدارس و مساجد ،قبرستان اور درگاہوں کی سیکیورٹی کے لئے میمورنڈم پیش کیا گیا ہے جبکہ ہمارا تجربہ اور مشاہدہ کہتا ہے کہ سرکاری سیکیورٹی مکمل قابل اعتماد نہیں ہے۔بھیڑ کی کھال میں بھیڑیئے بھی ہوتے ہیں ۔سلیمان عثمان بیکری کا سانحہ فراموش نہیں کرنا چاہئے ۔سرکاری سیکیورٹی عملے کی حرکات و سکنات پر بھی رضا کارانہ نظر قائم کرنی چاہئے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اور ووکیشنل گائڈ ینس کی وکالت کرنیوالوں کو فہم دین عطا کرے اور شیطان کے شر سے محفوظ رکھے ۔آمین ۔بے اللہ تعا لیٰ اور عوام الناس کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہے۔
محمد رفیق عثمان منصوری،روپون اپارٹمنٹ،چنے بوری ،پاپڑی ،وسئی ضلع تھانے۔مہاراشٹر۔موبائل۔09930888140
Sunday, August 07, 2011
عزیز نبیل کے شعری مجموعہ’خواب سمندر’ پر دہلی میں مذاکرہ

Friday, August 05, 2011
کچھ ایسے لفظ مجھ کو ڈھونڈنا ہیں جو
Wednesday, August 03, 2011
مزاحیہ غزل
آتے جاتے نہ گھورتےیوں لوگ
اس سے ملنا بھی بےخطر ہوتا
کیا کریں ہم سےجان دی نہ گئی
پیار اپنا بھی پھر امر ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔
شیخ جی میکدے میں آ ٹپکے
ورنہ ہڑدنگ رات بھر ہوتا
آہیں ٹھنڈک سے جم گئیں ساری
پھر بھلا کس طرح اثر ہوتا۔۔۔۔
راز الفت نہ فاش ہوتا یوں۔۔۔۔۔۔۔
گونگا بہرا جو نامہ بر ہوتا۔۔۔۔
چارہ گر بولا کرتو دیتا علاج
سینہ میں گر دل و جگر ہوتا
کی نہ ہوتی اگر جبیں سا ئی
تجھ کو لاحق نہ درد سر ہوتا
جانور کہتی پیار سےتو مجھے
میری جاں میں جو تیرا ور ہوتا
عالیہ کردی ان کی مٹّھی گرم
ورنہ اب تک اگر مگر ہوتا
از
عالیہ تقوی،الہ آباد
پیش کش
Saturday, July 16, 2011
غزل : مجروح سلطانپوری
اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح
اس کوۓ تشنگی میں بہت ہےکہ ایک جام
ہاتھ آ گیا ہے دولت بیدار کی طرح
وہ تو کہیں ہے اور مگر دل کے آس پاس
پھرتی ہے کوئی شۓ نگہ یار کی طرح
سیدھی ہے راہ شوق ، پہ یونہی کہیں کہیں
خم ہو گئی ہے گیسوۓ دل دار کی طرح
بے تیشئہ نظر نہ چلو راہ رفتگان
ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح
اب جا کے کچھ کھلا ہنر ناخن جنوں
ہم بھی کھڑے ہوۓ ہیں گنہگار کی طرح
مجروح سلطانپوری
Thursday, July 07, 2011
نقوش محبت
نجوم وماہتاب وکہکشاں ہے
محبت حاصل درد جہاں ہے
محبت گلستاں درگلستاں ہے
محبت میکدہ درمیکدہ ہے
محبت گل کدہ انجم کدہ ہے
مگر اک دل جلے کا قول ہے یہ
محبت کیا ہے اک آتش کدہ ہے
محبت سازِ فطرت، ترجماں ہے
محبت حسن غم کی داستاں ہے
محبت روح ملت کی ہے مظہر
بہرسو ایک گنج شائگاں ہے
محبت رحمت رب ہے قسم ہے
مئے تسنیم وکوثر جام جم ہے
جمال طور کی تابندگی ہے
شعاعِ نور کی رخشندگی ہے
محبت حسن معنیٰ کی ہے شبنم
بہارِرنگ وبو کی دلکشی ہے
محبت نور بھی ہے نار بھی ہے
نگاہِ ناز بھی تلوار بھی ہے
محبت قصۂ دار ورسن ہے
بہار گلستاں روحِ چمن ہے
محبت جذب دل بھی سوز دل بھی
محبت موجۂ گنگ وجمن ہے
محبت دوجہاں کی روشنی ہے
محبت اک حیات سرمدی ہے
محبت باعثِ تزئین عالم
محبت اک پیام سرخوشی ہے
محبت بندگی ہی بندگی ہے
محبت شاہراہِ زندگی ہے
محبت علم وعرفاں کی ہے دولت
محبت سوز و ساز آگہی ہے
محبت سوز بھی ہے ساز بھی ہے
نیاز و ناز بھی ہے راز بھی ہے
یہ حسن و عشق کی دنیا میں انجم
''کلیم طور'' کی آواز بھی ہے
از: ڈاکٹر حامدالانصاری انجم
پیش کش: سلمان فیصل
Wednesday, July 06, 2011
Tuesday, July 05, 2011
ہائے بیچارہ مولوی
ہائے بیچارہ مولوی
طعنہ و تشنیع کا سارا نشانہ مولوی
گالیاں اتنی بھیانک؛ مر ھی جانا مولوی
آپ کو جائز کہ منہ ڈالیں کسی بھی کھیت میں
اپنی جائز خواھشوں کو بھی دبانا مولوی
نفس و دل کے ھر اثر سے مولوی آزاد ھو
مرغ و ماہی، شیر خرمہ بھی نہ کھانا مولوی
مولوی جیسے کہ اترا ہو فلک سے ارض پر
بس فرشتوں کی طرح پاکی سنانا مولوی
مولوی کو کس لئے راتب ملے گی دس ہزار
آٹھہ سو میں ھو سکے تو گھر چلانا مولوی
اور اگر حالات پیچیدہ ھوئے تو مستقل
صحن-مسجد میں بڑی جھاڑو لگانا مولوی
اور جو نگران-مسجد ھو اسی کا وہ غلام
اس کے ذاتی گھر کا ھر سودا بھی لانا مولوی
موٹا جھوٹا ایک کرتا اور پجامہ چاھئے
العیاذ و الاماں ؛ ٹرلن سلانا مولوی؟
پاوں میں چپل ھوائی، نعمت-عظمی ملی
بھول کر باٹا کے چکر میں نہ آنا مولوی
دس ہزاری جھاڑ اور فانوس تو اپنا نصیب
صحنک و بھرکے سے اپنا گھر سجانا مولوی
کاہے کا عالم سیانا اور زیرک مولوی
بس نکھٹّو، آلسی، پاگل ، دوانہ مولوی
پھوٹ پڑتا ھے اگر اس شہر میں دنگا فساد
سامنے آنا اگر تو صرف آنا مولوی
کار، بنگلہ، فون، ٹیلی کام، موبائیل و نٹ
خواب-دیوانہ سمجھہ کر بھول جانا مولوی
روس میں ھو حادثہ یا اندرون- ملک ھو
سب کا ذمہ دار-اول غائبانہ مولوی
یہ تو اسکا حال ہے دانشوروں کے سامنے
گھر میں بھی روتے ھوئے کھانا پکانا مولوی
بجلی جاتی ھے تو جنریٹر چلاتے ھیں امیر
مچھروں کی ھر ادا پر کلبلانا مولوی
مولوی صبر تحمل کے لئے مشہور ھے
آپ تھپّڑ مارنا اور مسکرانا مولوی
ھم امیران-وطن ھیں ؛ باندیاں ھیں موٹریں
ٹوٹی پھوٹی سائیکل پر آنا جانا مولوی
اتنا سب کچھہ کرکے بھی فتوی یہی جمہور کا
بعد مردن آگ میں پائے ٹھکانہ مولوی
ڈاکٹر محمد عمران اعظمی
Tuesday, June 21, 2011
Monday, June 20, 2011
Tuesday, June 07, 2011
ایک غزل : اقبال مرزا ,لندن
ہیں انتظار کی گھڑیاں تو دل جلانے کو
یہ مار دھاڑ یہ لشکر کشی یہ چھین جھپٹ
خطائیں اپنی ہیں کیا دوش دیں\ زمانے کو
پرانے وقت کی تہذیب پہلے آپ جناب
کہاں پہ دفن کیا تم نے اس خزانے کو
یہ دور دورِ یزیدی دکھائی دیتا ہے
حسینیت کی ضرورت ہے اس زمانے کو
اداس اداس چمن ہے بجھی بجھی کلیاں
نظر کسی کی لگی میرے آشیانے کو
امید امید ہے پوری ہو یا نہ پوری ہو
کوئی تو آئیگا انسانیت بچانے کو
نہ طول دو کہ کہاں تک سناؤ گے قصے
یہیں پہ ختم کرو آج اس فسانے کو
یہ دور دورِ قیامت سے کم نہیں مرزا
شریف لوگ کہاں جائیں سر چھپانے کو
Saturday, June 04, 2011
غزل'' ڈاکٹر فریاد آزر
اپنی تباہیوں کا بہانہ بھی میں ہی تھا
شانہ بھی میرا اور نشانہ بھی میں ہی تھا
اس طرح سازشوں نے مجھے دام میں لیا
میں ہی حسیں پرندہ تھا ، دانہ بھی میں ہی تھا
لمحہ بنا دیا مجھے حالات نے مگر
اک دور وہ بھی تھا کہ زمانہ بھی میں ہیں تھا
آدم نے بھی پڑھا تھا مرا نام عرش پر
سب سے نیا ہوں ،سب سے پرانا بھی میں ہی تھا
عبرت لو مجھ سے دیکھو مرا حال کیا ہوا
سوچو ذرا کہ عہد ِ شہانہ بھی میں ہی تھا
لوٹا مجھے تو لوگ مہذب بھی ہو گئے
تہذیب کا حسین خزانہ بھی میں ہی تھا
نکلا جو خلد سے تو چلا دورِ ہست و بود
نادان میں اگر تھا تو دانا بھی میں ہی تھا
ڈاکٹر فریاد آزر



