You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label غزل. Show all posts
Showing posts with label غزل. Show all posts

Saturday, April 14, 2012

غزل


تم قتل کی خواہش سے گزر کیوں نہیں جاتے


اک بار مجھے مار کے مر کیوں نہیں جاتے


کیوں کرتے ہو حالات کی بھٹّی میں تماشا


سونا ہو تو کندن سے نکھر کیوں نہیں جاتے


گھر جاتے ہو،ڈرجاتے ہو ،کرتے ہی نظر بند


سورج کی شعاعوں سے مکر کیوں نہیں جاتے


خوابوں کے جزیروں سے سفر کرتے ہیں منظر


بے خواب نگاہوں میں اتر کیوں نہیں جاتے


دم گھٹتا ہے رشتوں کی فصیلوں میں تمہارا



سب توڑ کے اس پار اتر کیوں نہیں جاتے


اس پار درختوں سے جدا ہو کے چلے پھل


میں سوچ رہا ہوں کہ شجر کیوں نہیں جاتے


پلکوں کے افق ٹوٹے ستاروں سے منوّر



ہیں ہاتھ دعا شاخ تو بھر کیوں نہیں جاتے


( احمد منظور)


Saturday, September 24, 2011

غزل : اسعد بدایونی



سارے خیمے خاک سے اٹ گئے ہو گئی رن میں شام
ایک کہانی ، ایک حقیقت، صدیوں سے ہے عام
ہر سنّاٹا ، ہر محرومی ، میرے گھر کا رزق
سبز مناظر ، روشن لمحے ، سب یاروں کے نام
اب کے سفر سے ہم لوٹے تو ، یوں محسوس ہوا
ایک تھکن ہے جس کے بیاں سے قاصر لفظ تمام
قریۂ وحشت اب کے برس ہے کیوں اتنا خاموش
کیا افتاد پڑی لوگوں پر سوگئے سب سرِ شام
اپنے یقیں کے خون سے اس کو ہم سیراب کریں
ایک مدّت سے سوکھ رہی ہے جو فصلِ اوہام
میں لفظوں کی کوزہ گری میں کب مشّاق ہوا
کاش ودیعت ہوتا مجھ کو اور ہی کوئی کام
۔۔۔۔۔۔۔

میں وحشت خوردہ آہو تھا دنیا نے مجھے زنجیر کیا
مری کھال کو اپنے کمروں کی آرائش سے تعبیر کیا
تھی چہروں کی پہچان مجھے اس جرم پہ ظالم لوگوں نے
مرے سر کو نیزے پر رکّھا ، مرے دل میں ترازو تیر کیا
ہر دھوپ کو تیرے روپ کی چھب، ہر رنگ کو تیرا رنگِ لب
ہر جھیل سمندر دریا کو تری آنکھوں سے تعبیر کیا
میں سیدھا سچّا بندہ تھا مرا کام دکھوں کا دھندا تھا
اک روز اچانک موسم نے مجھ زندہ کو تصویر کیا
میں ایسا دانا کب کا تھا، میں ایسا بندہ کس کا تھا
کچھ خواب دیے اس مالک نے اور ان کو مری تقدیر کیا
۔۔۔۔۔۔۔

جہاں تک نظر جائے برپا جزیروں میں ہیجان دیکھوں
سمندر کی موجوں کو اک روز اپنا نگہبان دیکھوں
سوالوں کے مشکل جوابوں کی جانب مرا ذہن پہنچے
کتابوں میں لکھی عبارت کا مفہوم آسان دیکھوں
مقدر میں میرے گھنے جنگلوں کی شبیں لکھ گئی ہیں
ہواؤں کی سرگوشیوں سے درختوں کو حیران دیکھوں
مکانوں کے آنگن اُجالوں سے خالی میں ہر صبح پاؤں
چراغوں کی لمبی قطاریں سرِ شام بے جان دیکھوں
سفر کس لیے مجھ کو بخشا ہے ساکت سمندر کا یا رب!
مری اصل خواہش تو یہ تھی کہ میں کوئی طوفان دیکھوں
کبھی تو کنول دوستوں کی نگاہوں سے خوشیوں کے جھانکیں
منافق زمانے کا چہرہ کبھی تو پریشان دیکھوں
۔۔۔۔۔۔

بستیوں میں آہ و زاری ہو رہی ہے شام سے
کچھ نہ کچھ نازل تو ہو گا چرخِ نیلی فام سے
دشتِ غربت میں ہوا ساری طنابیں لے اُڑی
میرا خیمہ رہ سکا کب ایک پل آرام سے
اب تو آوازوں کے جمگھٹ ہیں مرے چاروں طرف
رابطہ پہلے تھا میرا بس سُکوتِ شام سے
کارِ دنیا میں کہاں تک عاشقی کوئی کرے
وہ بھی اپنے کام سے ہے میں بھی اپنے کام سے
میری آنکھوں کو اسی منظر کی اب تک جستجو
میرا دل اب تک دھڑکتا ہے اسی کے نام سے
میں بھی سارے مسئلوں سے سرسری گزروں اگر
سوچتا ہوں عمر گزرے گی بڑے آرام سے
 ۔۔۔۔۔۔

زیاں رسیدہ جزیرے بھی میری آنکھیں بھی
بکھر رہے ہیں کنارے بھی میری آنکھیں بھی
یہ دیکھنا ہے کرن کس طرف سے گزرے گی
کھلے ہوئے ہیں دریچے بھی میری آنکھیں بھی
لکھا ہے سب کے مقدر میں تہہ نشیں ہونا
بھنور نصیب، سفینے بھی میری آنکھیں بھی
میں انتشار کا مارا ہوا مسافر ہوں
بھٹک رہے ہیں یہ رستے بھی میری آنکھیں بھی
گداز برف جو خورشید لمس سے پگھلی
تو رو اٹھے کئی چشمے بھی میری آنکھیں بھی
خزاں نے مجھ کو بھی قربت سے ہم کنار کیا
کہ زرد ہو گئے پتّے بھی میری آنکھیں بھی
--
اسعد بدایونی

Thursday, September 22, 2011

ایک غزل یاد آگئی۔۔۔


 بدن کا روح سے رشتہ بحال کرتے ہو، کمال کرتے ہو
لبوں سے چوم کر پتھر کو لعل کرتے ہو، کمال کرتے ہو
سنا ہے صوت کے ساحر ہو اور آنکھوں میں بلا کا جادو ہے
نظر کے تیر سے دشمن نڈھال کرتے ہو، کمال کرتے ہو
تمہی نے چاک پر رکھا ، بنا کے پھر توڑا، تمہیں ہے غم کیسا
مجھے ہی چھین کر مجھ سے ملالکرتے ہو، کمال کرتے ہو
چلو اب مان بھی جاو کہ درمیاں اپنے کوئی تو رشتہ ہے
ذرا سی بات بھی کہنے میں سالکرتے ہو، کمال کرتے ہو
جلا کر راکھ نہ کر دے تمہارے پیکر کو سنبھال کر چلنا
سلگتی آگ کو گلشن خیالکرتے ہو، کمال کرتے ہو
تمہیں آسان ہے شائد فراق لمحوں کا زبان پر لانا
بڑے آرام سے مشکل سوال کرتے ہو، کمال کرتے ہو
تمہیں تو پیار کا حق ہے، اگر سمجھتے ہو تو پھر یہ ڈر کیسا
کرو تم یار جو بہتر خیال کرتے ہو، کمال کرتے ہو
عاطف جاوید عاطف

Saturday, July 16, 2011

غزل : مجروح سلطانپوری



ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح

اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح

اس کوۓ تشنگی میں بہت ہےکہ ایک جام

ہاتھ آ گیا ہے دولت بیدار کی طرح

وہ تو کہیں ہے اور مگر دل کے آس پاس

پھرتی ہے کوئی شۓ نگہ یار کی طرح

سیدھی ہے راہ شوق ، پہ یونہی کہیں کہیں

خم ہو گئی ہے گیسوۓ دل دار کی طرح

بے تیشئہ نظر نہ چلو راہ رفتگان

ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح

اب جا کے کچھ کھلا ہنر ناخن جنوں

ہم بھی کھڑے ہوۓ ہیں گنہگار کی طرح

مجروح سلطانپوری

Sunday, June 12, 2011

حامد اقبال صدیقی کی تازہ ترین غزل

Saturday, May 28, 2011

غزل : محمد اسلم غازی

Wednesday, May 18, 2011

افتخار راغب : غزل






Monday, May 09, 2011

تازہ ترین غزل


غزل
کسی نےآج پھر ساحل سےجومجھ کو پکاراہے
ڈراتی ہیں یہ موجیں،دور کشتی سے کنارا ہے

شکستہ ہےابھی دلبستگی اس کی بھی لازم ہے
ٹھہر جائیں نہ اس کی دھڑکیں یہ دل بچارا ہے

انھیں سونےدوخودہی گردش دوراںجھنجوڑےگی
ابھی خوابوں کےعادی ہیں حقیقت سے کنارا ہے

مری آراضئ دل کےہو د عوہ داراب پھرکیوں
بحق مالکانہ اس پہ جب قبضہ تمہارا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

بگاڑے دےرہا ہے چہرۂ گیتی کو خود انساں۔۔
جسےمشّاطۂ قدرت نے ہاتھوں سےسنوارا ہے

خود اپنی تیرگئی دل نے رکّھا دور منزل سے
مگریہ نور ایمانی مجھے روشن منا را ہے۔۔۔

زمانہ پھیر لے نظریں رضیّہ غم نہیں اس کا
وہی ہے والی و وارث اسی کا بس سہارا ہے

از
رضیہ کاظمی

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP