Showing posts with label Aslam Ghazi. Show all posts
Showing posts with label Aslam Ghazi. Show all posts
Saturday, May 28, 2011
Friday, February 04, 2011
E-mail from Aslam Ghaziادب اور اخلاقی اقدار
بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم
ترجمہ: اور شعرا، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں اور وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، جنہوں نے نیک اعمال کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا۔
عَن اُبَّیِ بِن کَعْبٍؓ قَالَ قَا لَ رَسُولُ اللّٰہِ ؐ اِنَّ مِنَ الشِعْرِ حِکْمَۃً (بخاری مسلم۔ کتاب نبوت 3/342) ابی بن کعبؓ نے کہا رسولُ اللہؐ نے فرمایا بے شک بعض اشعار سراس
قرآن انسانی زندگی کے جملہ انفرادی و اجتماعی امور کے لیے ہدایت و رہنمائی ہے۔ ( ہُدًی لِّلنّاسِ۔ البقرہ : 185) اس کی ہدایت آفاقی ہے۔ یعنی یہ ہر زمانے، ہر خطے اور رنگ و نسل کے انسانی سماج کے لیے ہے۔ نیز یہ ہر سماجی سطح کے انسانوں کے لیے ہے۔ چنانچہ اس میں ادیبوں اور شاعروں کی زندگیوں اور ان کی تخلیقات دونوں کے لیے ہر طرح کی رہنمائی موجود ہے۔ قرآن صراط مستقیم یعنی اسلام کی طرف انسانوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ (اِہْدِنَا الصِّراطَ المستقیم ۔ الفاتحہ: 6) یعنی شاعر و ادیب خود بھی مسلمان بنیں اور ان کی تخلیقات بھی مسلمان ہوں۔ تخلیقات کے مسلمان بننے کا مطلب ہے کہ وہ بہترین احساسات و خیالات سے مُزیَّن اور برائیوں سے پاک ادب ہو۔ بقول مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ ''اس میں پاکیزہ جذبات و خیالات کا اظہار ہو۔ جو حقائق بیان کرے۔ جو انسان کو برائیوں کی طرف لے جانے والا نہ ہو۔ جو بھلائی کو نگاہ سے اوجھل نہ کرے۔ ''
قرآن سے اہل علم و ادب کو حسب ذیل اخلاقی رہنمائیاں ملتی ہیں:
قرآن کا آغاز اللہ کے نام اور اس کی حمد و ثنا سے ہوتا ہے۔ (بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم o اَلحَمدُلِلّٰہِ رِبِّ العَالَمِین۔ الفاتحہ:1۔2) اس کے ہر باب کا آغاز بھی بسم اللہ سے ہی ہوتا ہے نیز اس کا ہر صفحہ اللہ کی پاکی اور بڑائی کے بیان سے مزین ہے۔ اس میں ہمارے لیے یہ رہنمائی ہے کہ ہم بھی اپنی نثرو نظم کا آغاز ہمیشہ خدا کے نام سے کیا کریں اور دونوں اصناف میں خدا کی حمد و ثنا، اس کی پاکی و بزرگی اور اس کی قدرتوں کا بیان ہو۔ شعراء کے لیے تو ضروری ہے کہ وہ حمد و مناجات کہا کریں۔ نثر نگاروں کا حال تو اور بھی برا ہے کہ وہ اللہ کی بخشی ہوئی نثرنگاری کی صلاحیت اور دیگر نعمتوں سے فیضیاب ہوتے ہیں مگر خدا کی حمد و ثناء میں چند جملے یا ایک آدھ مضمون بھی کبھی نہیں لکھتے۔ اللہ ہم سب کو توفیق دے۔
0
comments
Labels:
Aslam Ghazi,
E-mail,
urdu,
urdu blogging
Subscribe to:
Posts (Atom)