You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label ghazal. Show all posts
Showing posts with label ghazal. Show all posts

Sunday, September 25, 2011

ساتھ رہو : سعود اندرے



چاہے دن ہو یا رات میرے ساتھ رہو 
رہے نہ رہے کوئی ساتھ میرے ساتھ رہو 
مل رہے ہیں دو دل آہستہ آہستہ 
کہہ رہے ہیں جذبات میرے ساتھ رہو 
رفتہ رفتہ بڑھتے جائنگے تعلقات 
باتوں سے نکلے گی بات میرے ساتھ رہو 
مجھے تم سے ملانے کی سازش میں
کب سے لگی تھی کائنات میرے ساتھ رہو 
عمر بھر نہیں تو کچھ پل ذرا تو ٹھہرو 
دور تلک ہے برسات میرے ساتھ رہو 
ہزاروں سے نہیں بس تم سے وفا کی ہے 
تھام لیا ہے تیرا ہاتھ میرے ساتھ رہو

                   ======

وقت سے پہلے ہی قیامت ہو جاےگی 
ہمیں اگر آپ سے محبّت ہو جاےگی 
اس قدر چاہت سے ہمیں نہ دیکھئے 
جان جو بچی ہے رخصت ہو جاےگی 
میرے ساتھ کسی نے دیکھا ہے تم کو 
کل تک شہر میں آفت ہو جاےگی 
شروع شروع میں دل پر اختیار رہتا ہے 
آگے آگے دیکھنا شرارت  ہو جاےگی 
آج خدا کا درجہ دیا ہے تم کو 
روز نہیں ملنا عادت ہو جاےگی 

سعود اندرے 

Thursday, June 02, 2011

حامد اقبال صدیقی کی تازہ ترین غزل


ذراسی بات ہو کیا ،کیا سوال کرتا ہے

میرا ہنر مجھے اکثر نڈھا ل کرتا ہے

وہ چاٹ لیتا ہے ۔ دیمک کی طرح مستقبل

تمہیں پتہ نہیں ماضی جو حال کرتا ہے

بڑے قریب سے ہو کر گزر گئی دنیا

ملا نہ اس سے میرا دل کمال کرتا ہے

میں چاہتا ہوں مراسم بس ایک سمت چلے

مگر وہ خود ہی جنوب و شمال کرتا ہے

میرے وجود کو صدیوں کا سلسلہ دے کر

وہ کون ہے جو مجھے لا زوال کر تا ہے

: حامد اقبال صدیقی

Wednesday, June 01, 2011

غزل'' قیصرالجعفری

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے

ہم بھی پاگل ہو جائي گے ایسا لگتا ہے

کتنے دن کے پیاسے ہوں گے یاروں سوچو تو

شبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے

آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن

آتے جاتے جو ملتا ہے تم سا لگتا ہے

اس بستی میں کون ہمارے آنسو پوچھے گا

جو ملتا ہے اس کا دامن بھیگا لگتا ہے

دنیا بھر کی یادیں ہم سے ملنے آتی ہے

شام ڈھلے اس سونے گھر میں میلہ لگتا ہے

کس کو پتھر ماروں قیصر کون پرایا ہے

شیش محل میں اک اک چہرا ، اپنا لگتا ہے

Saturday, May 28, 2011

غزل : محمد اسلم غازی

Sunday, May 22, 2011

ڈاکٹر اظہر کی غزل

aa.jpg

Thursday, May 19, 2011

احمد وصی کی ایک غزل


وہ زندگی ہے تو آنکھوں میں جھلملاۓ تو
اگر وہ موت ہے تو بھی قریب آۓ تو
پڑھانے والوں نے کچھ فلسفے پڑھاۓ تو
مگر وہ ذہنوں میں پھر بھی نہیں سماۓ تو
چمک کے دھوپ نے چمکاديۓ ہمارے نشاں
ہمیں زمیں پہ نظر آۓ اپنے ساۓ تو
خود اپنے آپ پر ہنستا ہے صرف دل والا
کوئی میری طرح اپنی ہنسی اڑاۓ تو
میں بے وطن ہوا جنکے سلوک بے جا سے
اگر یہاں بھی وہی لوگ بسنے آۓ تو
سیاہ پلکوں پہ آنسوں کسی سبب سے سہی
چلو چراغ اندھیروں میں جگمگاۓ تو
میں کیفیت کو دکھاتا ہوں اپنے شعروں میں
میری طرح اوئ تصویر یوں بنا ۓ تو

Monday, May 16, 2011

احمد فراز کی ایک مقبول عام غزل



سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو ہم بھی اس کے شہر میں ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز ا س کی
سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے
سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں
سو اس کو سارے ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبایٔں کتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بامِ فلک سےاتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے آیٔنہ تمثال ہے جبیں اس کی
جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت
مکیں اِدھر کے بھی جلوے اُدھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ امکاں میں
پلنگ زاویٔے اپنی کمر کے دیکھتے ہیں
کِسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے
کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں
کہانیاں ہی سہی اب مبالغے ہی سہی
اگر یہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں
اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جایٔں
فراز آؤ ستارے سحر کے دیکھتے ہیں
*نجیب احمد نجیب*

Sunday, May 15, 2011

غزل - ڈاکٹر ندوی شفعق احمد


Dr.Nadwi Shafiq Ahmed

Thursday, March 17, 2011

ایک غزل

جستجومیں قیس کی اک دن جو صحراآۓ گا
لیلی محمل کو پھر ذوق تماشا آۓ گآ
تا فلک پھیلا ہوا ہے پھر غبار ناتواں
دیکھنا ہے اس گلی سے کب بلاوا آۓ گآ
اے جنوں ! پھر دیکھیو ہم کو کبھی مستے وجود
آسماں پھر آنکھ میں ، مٹھی میں صحرا آۓ گا
سطح دریا پر تو کتنے نقش بن کر مٹ چکے
آئنہ بھی دیکھنا ،اب مّثل دریا آۓ گا
پھر بکھرتی ، ٹوٹی جاتی ہے ۔یہ تسبیح زیست
کیا پرونے اس کے دانوں کو وہ دھاگا آۓ گآ
( محمد مجاہد سیّد ، جدّہ)

Monday, May 17, 2010

رقص حیرت میں ہے

رقص حیرت میں ہے پیروں میں کرن باندھے ہوۓ
جیسے اک شعر،نیا رنگ سخن باندھے ہوۓ
چاند بھی ڈوب رہا تھا ۔مرے دل کے ہمراہ
اپنا غم ،اپنی تھکن ،اپنی جلن باندھے ہوۓ
تو کہاں کھو گئی اے نیند کہ سڑکوں پہ تیری
روز پھرتا ہوں میں خوابوں کا بدن باندھے ہوۓ
-------------ق--------------
رات کی راکھ تلے نیند کا غم دفن کروں
مضمحل پلکوں سے خوابوں کی تھکن باندھے ہوۓ
اک شہکار تراشوں میں تیرے حسن کے نام
ہر رگ سنگ سے فنکار کا فن باندھے ہوۓ
کون یہ میری غزل گات
ا ہے صحرا میں نبیل
اپنی آواز میں صدیوں کی اگن باندھے ہوۓ
( عزیز نبیل---دوحہ ،قطر

---------------------------------------------
زہر کے دانت
زہر کے دانت مرے پاس بھی ہے
زہر تازہ بھی ،پرانا بھی بھرا ہے جن میں
میں مگر موڑ کے محفوظ ہی رکھتا ہوں جن میں
اپنے دہن کے اندر
( نا مناسب مجھے لگتا ہے برتنا ان کا )
پھر بھی احباب سے درخواست ہے، ہشیار رہیں
خیر دم کو ٹھکرا کے گزر جاتے ہیں جو
پاؤں سر پر مرے رکھنے کی زحمت نہ کریں
ڈستے پھرنا ،مری تر جیح نہیں ہے لیکن
مجھ کو آمادہ کیا جاۓ تو ڈس سکتا ہوں
خاص کر ان کو ،جو میرے لۓ کچھ خاص بھی ہے
زہر کے دانت مرے دوست 'مرے پاس بھی ہیں
( عبدالاحد ساز---ممبئی

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP