You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label urdu poem. Show all posts
Showing posts with label urdu poem. Show all posts

Friday, August 05, 2011

او گريبداس سن

گھاس کاٹ کر نہر کے پاس ،
کچھ اداس -- اداس سا
چلا جا رہا تھا
گريبداس.
کہ کیا ہوا اچانک...

دکھائی دیے سامنے
دو مسٹڈے ،
جو امیروں کے لئے شریف تھے
پر غریبوں کے لئے غنڈے.
ان کے ہاتھوں میں
تیل پے ہوئے ڈنڈے تھے ،
اور كھوپڑيو میں
ہزاروں هتھكڈے تھے.
بولے --

او گريبداس سن!
اچھا مهورت ہے
اچھا سگن.
ہم تیرے دلددر مٹائیں ،
غربت کی لکیر سے
اوپر اٹھائیں گے.
گريبداس ڈر گیا بچارا ،
اس نے دل میں وچارا --
انہوں نے گاؤں کی
کتنی ہی لڑکیاں اٹھا دیں.
کتنے ہی لوگ
زندگی سے اٹھا دیے
اب مجھے اٹھانے والے ہیں ،
آج تو
بھگوان ہی ركھوالے ہیں.

-- ہاں بھئی گريبداس
چپ کیوں ہے؟
دیکھ معاملہ یوں ہے
کہ ہم تجھے
غربت کی لکیر سے
اوپر اٹھائیں گے ،
لائن نیچے رہ جائے گی
تجھے اوپر لے جائیں گے.

گريبداس نے پوچھا --
كتتا اوپر؟

-- ایک بتتا اوپر
پر گھبراتا کیوں ہے
یہ تو خوشی کی بات ہے ،
ورنہ کیا تو
اور کیا تیری اوقات ہے؟
جانتا ہے غربت کی لکیر؟
-- هجور ہم نے تو
کبھی نہیں دیکھا.

-- ه ه ، پگلے ،
گھاس پہلے
نیچے رکھ لے.
گريبداس!
تو آدمی مزے کا ہے ،
دیکھ سامنے دیکھ
وہ غربت کی لکیر ہے.

-- کہاں ہے هجور؟

-- وہ کہاں ہے هجور؟
-- وہ دیکھ ،
سامنے بہت دور.

-- سامنے تو
بنجر زمین ہے بےهساب ،
یہاں تو کوئی
هےمامالني
یا لائن نئیں ہے ساب.
-- واہ بھئی واہ ،
سبھانللاه.
گريبداس
تو بندہ شوقین ہے ،
اور پسند بھی تیری
بڑی نمکین ہے.
هےمامالني
اور ریکھا کو
جانتا ہے
غربت کی لکیر کو
نہیں جانتا ،
بھئی ، میں نہیں مانتا.

-- سچی میرے استادو!
میں نئیں جانتا
اپي بتا دو.
-- اچھا سامنے دیکھ
آسمان دکھائی دیتا ہے؟

-- دکھتا ہے.

-- زمین دکھائی دیتی ہے؟

-- یہ دونوں جہاں ملتے ہیں
وہ لائن دکھائی دیتی ہے؟
-- دکھتی ہے ساب
اسے تو بہت بار دیکھا ہے.

-- بس گريبداس
یہی غربت کی لکیر ہے.
سات جنم بیت جائیں گے
تو دوڑتا جائے گا ،
دوڑتا جائے گا ،
لیکن وہاں تک
کبھی نہیں پہنچ پائے گا.
اور جب
پہنچ ہی نہیں پائے گا
تو اٹھ کیسے پائے گا؟
جہاں ہے
وہیں -- کا -- وہیں رہ جائے گا.

لیکن
تو اپنا بچا ہے ،
اور مهورت بھی
اچھا ہے!
آدھے سے تھوڑا زیادہ
کمیشن لیں گے
اور تجھے
غربت کی لکیر سے
اوپر اٹھا دیں گے.

غريبداس!
افق کا یہ نظارہ
ہٹ سکتا ہے
پر افق کی لکیر
نہیں ہٹ سکتی ،
ہمارے ملک میں
ریکھا کی غربت تو
مٹ سکتی ہے ،
پر غربت کی لکیر
نہیں مٹ سکتی.
تو ابھی تک
اس بات سے
آنکھیں ميچے ہے ،
کہ ریکھا تیرے اوپر ہے
اور تو اس کے نیچے ہے.
ہم اس کا الٹا کر دیں گے
تو زندگی کے
لپھت اٹھائے گا ،
لائن نیچے ہوگی
تو افلاس سے
اوپر آ جائے گا.

غریب بھولا تو تھا ہی
تھوڑا اور بھولا بن کے ،
بولا سہم کے --
کیا غربت کی لکیر
ہمارے زمیندار ساب کے
چبوترے جتتي اونچی ہوتی ہے؟

-- ہاں ، کیوں نہیں بیٹا.
زمیندار کا چبوترا تو
تیرا باپ کی بپوتي ہے
ابے اتنی اونچی نہیں ہوتی
ریکھا غربت کی ،
وہ تو سمجھ
صرف اتنی اونچی ہے
جتنی اونچی ہے
پیر کی ایڑی تیری بیوی کی.
جتنا اونچا ہے
تیری بھینس کا كھوٹا ،
یا جتنا اونچا ہوتا ہے
کھیت میں ٹھوٹھا ،
جتنی اونچی ہوتی ہے
پرات میں پٹٹھي ،
یا جتنی اونچی ہوتی ہے
تسلے میں مٹی
بس اتنی ہی اونچی ہوتی ہے
غربت کی لکیر ،
پر اتنا بھی
ذرا اٹھ کے دکھا!

كودےگا
پر دھمم سے گر جائے گا
ایک سےكڈ بھی
غربت کی لکیر سے
اوپر نہیں رہ پائے گا.
لیکن ہم تجھے
پورے ایک مہینے کے لئے
اٹھا دیں گے ،
كھوٹے کی
اونچائی پہ بٹھا دیں گے.
بعد میں کہے گا
آہا کیا سکھ بھوگا....

گريبداس بولا --
لیکن کرنا کیا ہوگا؟
-- بتاتے ہیں
بتاتے ہیں ،
ابھی اصل موضوع پر آتے ہیں.
پہلے بتا
کیوں لایا ہے
یہ گھاس؟

-- هجور ،
ایک بھینس ہے ہمارے پاس.
تیری اپنی کمائی کی ہے؟

نئیں هجور!
جورو کے بھائی کی ہے.

براہ راست کیوں نہیں بولتا کہ
سالے کی ہے ،
مطلب یہ کہ
تیرے ہی كسالے کی ہے.
اچھا ،
اس کا ایک کان لے آ
کاٹ کے ،
پیسے ملیں گے
تو موج کریں گے بانٹ کے.
بھینس کے کان سے پیسے ،
هجور ایسا کیسے؟

یہ ایک الگ کہانی ہے ،
تجھے کیا بتانی ہے!
ايارڈيپي کا لون ملتا ہے
اس سے تو بھینس کو
خریدا ہوا دكھاےگے
پھر کان کاٹ کے لے جائیں گے
اور بھینس کو مرا بتائیں گے
بیمے کی رقم لے آئیں گے
آدھا افسر کھائیں گے
آدھے میں سے
کچھ ہم پچاےگے ،
باقی سے
تجھے
اور تیرے سالے کو
غربت کی لکیر سے
اوپر اٹھائیں گے.

سالا بولا --
جان دے دوں گا
پر کان نہ دینے کا.

کیوں نا دینے کا؟

-- پہلے تو وہ
کاٹنے ای نا دے گی
اڑ جائے گی ،
دوسری بات یہ کہ
کان كٹنے سے
میری بھینس کی
سو بگڑ جائے گی.
اچھا ، تو...
شو کے چکر میں
کان نہ دے گا ،
تو کیا اپنی بھینس کو
بیوٹی كمپيٹيشن میں
جاپان بھیجے گا؟
کون سے لڑکے والے آ رہے ہیں
تیری بھینس کو دیکھنے
کہ شادی نہیں ہو پائے گی؟
ارے بھینس تو
تیرے گھر میں ہی رہے گی
باہر تھوڑے ہی جائے گی.

اور کون سی
كاري ہے تیری بھینس
کہ مرا ہی جا رہا ہے ،
ابے کان طلب کر لیا ہے
مکان تھوڑے ہی طلب کر لیا ہے
جو گھبرا رہا ہے.
کان كٹنے سے
کیا دودھ دینا
بند کر دے گی ،
یا سننا بند کر دے گی؟
ارے او کرم کے چھاتے!
ہزاروں سال ہو گئے
بھینس کے آگے بین بجاتے.
آج تک تو اس نے
ڈسکو نہیں دکھایا ،
تیری سمجھ میں
آیا کہ نہیں آیا؟
ارے کوئی پر تھوڑے ہی
کاٹ رہے ہیں
کہ اڑ نہ پائے گا پرندا ،
صرف کان كاٹےگے
بھینس تیری
جوں کی توں زندہ.

خیر ،
جب گريبداس نے
سالے کو
کان کے بارے میں
کان میں سمجھایا ،
اور ایک مسٹڈے نے
تیل پیا ڈنڈا دکھایا ،
تو سالا مان گیا ،
اور بھینس کا
ایک کان گیا.

اس کا ہوا اچھا نتیجہ ،
غربت کی لکیر سے
اوپر آ گئے
سالے اور بہنوئی.
چار ہزار میں سے
چار سو پا گئے ،
مزے آ گئے.

ایک -- ایک دھوتی کا جوڑا
دال آٹا تھوڑا -- تھوڑا
ایک ایک گڑ کی بھےلي
اور ایک ایک بنیان لے لی.

بچے -- كھچے روپے کی
تاڑی چڑھا گئے ،
اور دسویں ہی دن
غربت کی لکیر کے
نیچے آ گئے.
---
جیوتی سمبھونی

باپ کا خطاب بیٹے سے


(میرے بیٹے معین نیازیؔ کے گھر سے پہلی بار باہر قدم نکلنے پر۔۔)


ہم نے تجھے بھیڑ میں جھونک دیا ہے مو نوؔ !!
زندگی کی پٹری پر دوڑتی
کر ئیر کی ٹرین میں سوار کر کے
تازہ دم حوصلوں اور اُمنگوں کے ساتھ۔۔
ہم نے تجھے بھیڑ میں جھونک دیا ہے مو نوؔ
کندھے سے کندھے چھلیں گے ہر دم
بو پسینے کی ،سانسوں کی دُرگندھ
سانس اٹکے گی سینے میں۔۔مگر تجھ کو
سانس لینا ہے۔۔اسی طرح سے جینا ہے۔۔
کو ئی پیچھے سے، کو ئی آگے سے
تجھ کو ہر دم ڈھکیلتا رہے گا
بال بکھریں گے ترے ۔۔بیگ بھی پھنس جائے گا
جیب خالی ہو گی تری اور کپڑے۔۔
شکنوں سے بھر جا ئیں گے
بھیڑ کچلے گی تجھے ، غراّے گی، دھمکائے گی
بھیڑ سے ڈرنا نہیں ، لڑنا ہے مسلسل تجھ کو
بھیڑ بھڑکائے گی ، ستائے گی، گا لیاں دے گی،
بھیڑ پیروں پہ ترے پیر رکھ کر کھڑی ہو گی
مگر غصّہ کو اپنی طاقت بنا لینا ہے تجھے
کیوں کہ اپنے ہی پیروں پہ کھڑے ہونا ہے تجھے۔۔
تجھ کو ہر حال میں جدّو جہد مگر کرنی ہے
اپنی منزل کی طرف تجھ کو نظر رکھنی ہے
تھام کر زندگی کی اُنگلی کو
اسڑ گل کر کے تجھے آگے آگے بڑھنا ہے!
سیدھے سیدھے سپاٹ رستوں پر
بے فکر ہو کے چلنا بھی کو ئی چلنا ہے؟؟
اپنے خوابوں کے ہجوم کو ساتھ لے کر بھیڑ کے ساتھ اُلجھنا ہے تجھے
اپنی خوش آئندزندگی کا تصّور کر کے
بھیڑ کو چیرنا ، ٹھیلنا، نکلنا ہے تجھے
کیا ہو ا جو تجھے ہم نے
بھیڑ میں جھونک دیا ہے مو نو؟؟
مانا مجبوریاں ہماری ہیں۔۔
ہم کہاں تجھ کو اکیلے روانہ کر سکتے ہیں؟؟
ہم کار ، بائیک دے کر تجھے
جھوٹی خوشیوں کی نمائش نہیں کر سکتے ہیں ؟؟
ہم نے بھی بس میں کھائے ہیں دھکّے
برسوں ٹرینوں کے پُر ہجوم جہنم میں
خود کو جھونکا ہے، بکھیرا ہے، سمیٹا بھی ہے۔۔
ہم بھی بہت خرچ ہو ئے ، اس بھیڑ میں مگر ہم نے
خود کو اس بھیڑ کے حوالے نہیں کیا ہے کبھی
ہاں! لوگ ہمارے بھی پیروں پہ کھڑے ہوتے تھے
لیکن ہم نے اُن کو نہیں کُچلا ہے کبھی۔۔
گالیا ں کھاتے تھے، دھکّے سہے، پسینے میں نہائے تھے ہم بھی
پھر بھی اس بھیڑ کو اپنے اندر
جذب ہونے نہیں دیا ہے کبھی
بھیڑ چھٹ جائے گی جب میرے بچّے!!
تو ہر منظر نیا نیا ہو گا
بھیڑ سے نکلو گے تو بھر پور آسماں ہوگا
بھیڑ سے ہٹتے ہی ایک نیا دروا ہوگا
بھیڑ چھٹ جائے گی تو
مستی پرواز کا سماں ہوگا
بھیڑ کو روندنے کا فن سیکھو
بھیڑ سے بِھڑ نے کا چلن سیکھو
بھیڑ کو چیر کر نکلنا سیکھو
بھیڑ ڈھکیلے تو سنبھلنا سیکھو
بھیڑ میں ہم نے تجھے جھونک دیا مو نو ؔ !
یاد رکھنا یہ میری بات میر ے بچّے تم!
بھیڑ کے ریوڑسے الگ ہونا ہے
دور سے شور تو سننا ہے، سنبھلنا ہے، نکل جانا ہے۔
بھیڑ میں سب سے الگ دکھنا ہے۔
بھیڑ کا حصّہ نہیں بننا ہے!!
بھیڑ کا حصّہ نہیں بننا ہے!!

اقبال نیازی
۲۵۔جولائی۔ ۲۰۱۱

Saturday, June 18, 2011

چاندنی


آج سے چھہ عشرے قبل گورنمنٹ کالج جھنگ میں موضوعاتی نظمیں لکھنے کا آغاز ہوا۔اس کے بنیاد گزاروں میں وزیر آغا،جابر علی سید،سید غلام بھیک نیرنگ،محمد شیر افضل جعفری،سید جعفرطاہر ،مجید امجد،رفعت سلطان،خادم مگھیانوی،حفیظ ہوشیارپوری اور امیر اختر بھٹی شامل تھے۔دسمبر کی ایک چاندنی رات میں ایک ایسی ہی نشست میں رام ریاض سے فرمائش کی گئی کہ وہ چاندنی پر کچھ اشعار پڑھے ۔رام ریاض (ریاض احمد شگفتہ )نے یہ اشعار ارتجالاً لکھے تو سما ں بندھ گیا
دل کو حسرت رہی ہے بڑی چاندنی
کاش تو مل سکے دو گھڑی چاندنی
جانے کس چاند کی راہ تکتی رہی
سرد راتوں میں پہروں کھڑی چاندنی
بزم گلشن میں اک برگ گل کے لیے
کتنی شاخوں کے پاوءں پڑی چاندنی
پھر کسی دیس تیرا پتا مل گیا
چاند تارے لیے چل پڑی چاندنی
جب بھی موسم کا اس کو خیال آ گیا
پھول کملا گئے رو پڑی چاندنی
رام میرے شب و روز کو ڈس گئے
چلچلاتا اجالا ،کڑی چاندنی
--
Prof.Dr.Ghulam Shabbir Rana

Tuesday, June 07, 2011

غزل : افتخار راغب

Sunday, May 22, 2011

ڈاکٹر اظہر کی غزل

aa.jpg

Thursday, January 27, 2011

جشن یوم جمہوریہ

میرے ہاتھ میں ہے جھنڈا،

میرے دیش کا ترنگا
لہرا رہا ہے

ایسے ،جیسے ہوا میں گنگا

یہی میری اک تمنّا

،یہی میں نے دل میں سوچا
پرچم یہ اپنا پیارا

،رہے سارے جگ میں اونچا


آؤ خوشی میں جھومیں ، جھنڈے کو اپنے چومیں


پھولوں سا آج کھل کے ، بولیں یہ سارے مل کے

جۓ ہند۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جۓ ہند۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جۓ ہند۔۔۔۔۔

چھبیس جنوری کا دن ہے بڑی خوشی کا

تہوار کا یہ دن ہے ہر ایک بھارتی کا

ہندو ہو یا مسلماں ، سکھ ہو ں کہ یا عیسائی

چھبیس جنوری تو سارے مناتے ہیں بھائی

اسکول میں ہمارے جو ہورہا ہے فنکشن

چھبیس جنوری کا دکھلا رہے ہیں درپن

دیکھو ہر ایک چہرہ ، کیسے کھلا ہوا ہے

سچّی خوشی کا جیسے تحفہ ملا ہوا ہے

رنگین سب کے کپڑے ،جگ مگ ڈریس دیکھو

دل کو لبھانے والے دلکش یہ بھیس دیکھو

تعریف میں وطن کی گاتے ہیں سب ترانے

دیں گے وطن کی خاطر ہم جان بھی دیوانے


اپنے وطن سے ہم کو بے لوث ہے محبت

دھرتی پہ جیسے کوئی اتری ہوئی ہو جنت

میرے ہاتھ میں جھنڈا میرے دیش کا ترنگا
( شبنم کارواری)


Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP