You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label urdu journalism. Show all posts
Showing posts with label urdu journalism. Show all posts

Monday, January 09, 2012

لفظ سے کھیلنے والے کو گنہگار کہو









اردو مرکز میں پروفیسر احمد سجاد کا’’تعمیری ادب کا امتیاز‘‘پر اظہارخیال، بندہ مومن کارسم اجرا اور شعری نسشت
گزشتہ شب اردو مرکز میں پروفیسر احمد سجاد کے اعزاز میں ایک ادبی نششت ہوئی۔پروگرام کا آغاز تلاوت سے ہوا۔ صدارت ڈاکٹر خورشید نعمانی نے کی۔اس پروگرام کے دوحصے تھے۔پہلے حصے کی نظامت ندیم جاوید اور شعری نششت کی نظامت یوسف دیوان نے کی۔ جاوید ندیم نے ادارہ ادب اسلامی ہند کاتعارف اور اسکے قیام کی غرض غایت پر روشنی ڈالی۔اسلم غازی نے پروفیسر احمد سجادکی شخصیت اور انکی علمی خدمات پر گفتگو کی۔آل انڈیا مومن کانفرنس کے بانی عاصم بہاری پر پروفیسر احمد سجاد کی تازہ کتاب بندہ مومن کا ہاتھ کی رسم اجرامولانا جنید بنارسی اورڈاکٹر خورشید نعمانی نے کی ۔ پھر اظہار خیال کے لئے پروفیسر احمد سجاد کا نام پکا را گیا۔آپ نے عاصم بہاری اور ان کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ’’آج صرف مولانا ابوالکلام کانام لیاجاتاہے،اور دوسرے لوگوں کانام نہیںٖ لیا جا تا ہے اس میں ہمارا بھی قصور ہے ۔ہم اپنی شخصیات کو بھول جائیں تو دوسرے کیوں یاد رکھیں۔مولانا عاصم بہاری جیسی اہم شخصیت کوبھی ہم نے نظر انداز کیا۔مزدور پیشہ دبے کچلے طبقات بیدار کرنا اور انھے جنگ آزادی کے تیار کرنا مولاناعاصم بہاری صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ ہے ۔انھون نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی کوشش کی ۔اور اسلامی اخوت کی ڈعوت دی۔اسلامی اخوت کو بنیا د بنا کر آل انڈیا مومن کانفرنس کو منظم کیا۔اور آل انڈیا مومن کانفرنس کو مضبوط کیا۔لیکن المیہ یہ ہے کی عاصم بہاری کی وفات یہ جماعت کئی خانوں میں بٹ گئی۔بڑی حد تک عبد القیوم انصاری نے اس جماعت کو کمزور کیاتھا۔اگر آل انڈیا مومن کانفرنس کمزور نہ ہوتی تو ہمیں منقسم ہندوستان میں جائز مقام ملتا۔‘‘انھوں بندہ مومن کا ہاتھ کے بتا یا کہ’’ یہ کتاب بیس سال میں مکمل ہوئی ۔مجھے بیس سال تک عاصم بہاری کی شخصیت پر لکھنے کا جنون سوار رہا۔‘‘اردو کی مقبولیت کے بارے میں انھوں نے کہاکہ ’’اردو نے ہندوستا نی میڈیا کو گرفت میں لے لیا ہے۔کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ اردو الفاظ کا سہار الئے بغیر عوام کے جذبات کی سچی ترجمانی نہیں کی جاسکتی ہے۔اردو کے اساتذہ کی تین ذمہ داریا ں ہیں وہ معلم ،مجاہداورمبلغ بھی ہیں۔‘‘پروفیسر احمد سجاد نے تعمیری ادب کا امتیاز پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ’’ہر ادب کی تین تسلیم شدہ بنیادیں ہیں موضوع کی عظمت ،اسلوب وابلاغ اورہیت ۔تعمیری فکر کا حامل ادیب مثبت قدروں کو ہاتھ جانے نہیں دیتا۔وہ رجائیت پسند ہوتا ہے۔تعمیری ادب غیر مسلموں نے بھی تخلیق کیا ہے۔‘‘ انھو ں نے مزید کہا کہ’’اکیسویں صدی میں تخریبی ادب کا جنازہ نکل گیا۔ادب دوہری تسخیر کامالک ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات کسی فکرکا مخالف بھی شعرو افسانے کی راہ سے لا شعوری پر اس فکر سے متاثر ہوجاتا ہے۔ماضی میں صوفیا نے مقامی زبان ریختہ میں اردو میں اپنے خیالات کے ذریعہ لوگوں کو قبول حق پر آمادہ کیا۔آج کی باطل قوتیں اس کی قوت تاثیر سے واقف ہیں۔چنانچہ کے۔جی۔بی۔اور سی۔آئی ۔اے کے اشاروں پر جدید ذہنوں کو کو مسخر اور ماؤف کیا جاتا رہا ہے۔‘‘
انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’’ اصلاح وانقلاب کے داعیوں کو لفظ کی تاثیر اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہئے کیونکہ یہ لفظ ہی ہے جو حسن میں پھول بھی ہے اور شبنم بھی ۔یہ کاری زخم بھی لگاسکتا ہے اور زخموں پر پھائے بھی رکھ سکتا ہے۔لفظ سے نبیوں نے بھی کام لیا ہے اور ولیوں نے بھی۔یہی الفاظ کبھی کرشن کی بانسری میں گیت بن کر ڈھلے ہیں تو کبھی مہاتما بدھ کے لبوں پر شانتی کا اپدیش بنے ہیں ہے کبھی مسیحؑ کی زبان سے پہاڑی وعظ میں ڈھلے ہیں توکبھی سینت فرانسیس ،نانک اور چشتی کی اثر آفریں دعاؤں میں ابھرے ہیں اور یہی الفاظ مسخ ہو کر مسولینی ،اسٹالین ،ہٹلر ،بش اور اباما کی زبانوں سے موت،نفرت اور ظلم وستم کے زہر اگلنے والے سانپ بھی بنے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر خورشید نعمانی نے صدارتی تقریر کی۔مہمانوں کا شکریہ زبیر اعظمی نے ادا کیا ۔شعری نششت میں جاوید ندیم ،اسلم غازی ،وقار اعظمی،منصف ریاض،عالم ندوی،عارف اعظمی،یوسف دیوان ،جمیل مرصع پوری اور زبیر اعظمی وغیرہ نے اپنا کلام سنایا۔

Tuesday, January 03, 2012

کاوش کے پروگرام کی جھلکیاں

انجمن اسلام کے اشتراک سے'کاوش'نے'' افکتیوے پرنٹنگ'' کے موضوع پر جمہ نو دسمبر کو دوپہر دہائی بجے ایک خصوصی پروگرام کا انقعاد کیا تھا.

اسکی نظامت دوں یوسف صاحب اور منوّر ملک صاحب نے کی.

تلاوات کلام پاک سے اس کا آغاز ھوا اور اس کے بعد باندرا انجمن کی وائس پرنسپل جبیں صاحبہ نے مہمانان نیز والدین کا خیر مقدم کیا.

اخلاق شیخ نے اس وورکشوپ کی اہمیت کے بارے میں معلومات فراہم کی...عبدلمجید صاھب جوجو بھونڈی کےتعلیمیکونسلر ہیں انہوں نے سچولرشپ سکیم

کے بارے میں معلومات دی....آمر انصارا نے مختصر بتایا کے بچچوں کے لئے بجٹ کی تییاری کس طرح کی جا سکتی ہے اور تعلیم کے منظرنامے کو کس

طور سے بہتر بنایا جا سکتا ہے.

غلام عارف صاحب نے بتایا کے الگ الگ طرح کی قابلیت رکھنے والے بچچوں کے مسائل کس طرح کے ہوتے ہیں.

شہود صاحب نےدو دومسایل کرتیفکاتے اور شادی کے کرتیفکاتے بنانے کی ضرورت کے بارے میں بٹن سمجھائیں.

حنیف لداوالا صاحب نے اہم موضوع آرٹ وف پرنٹنگ کے بارے میں تقریر کی.

آمر انصاری اور کاظم ملک نےایک ٹاک شو ترتیب دیا جس میں تکنیک کے سہی اور غلط استمعال کے بارے میں بحس کی گی.اس شو میں طلبہ

نے حصّہ لیا.

اردو راشٹریہ سہارا کے ایڈیٹور سید احمد صاھب،زلیخا علیم نختارے صاحبہ،دوکتور خورشید صاحب اور حنیف لکدوالا صاحب نے والدین کے سوالات کے جوابات

دے

اخیر میں انجمن اسلام باندرا کی پرنسپل سبا پٹیل صاحبا نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا



امان اللہ نظامی کو سدبھاؤنا کا اعزاز


ہندی فلموں کے انسائیکلوپیڈیا امان اللہ نظامی کو سدبھاؤنا کا اعزاز
افغانی نژاد سعودی تاجر کو ممبئی میں ان کے فلمی کارناموں کیلئے ایوارڈ آف ایکسلینس تفویض
بروز پیر، ممبئی۔
سعودی عرب کے شہر جدہ میں مقیم افغانی نژاد بزنس مین امان اللہ نظامی کو۳۱ دسمبر ۲۰۱۱ء کو ناگپاڑہ جنکشن پر منعقدہ کل ہند مشاعرے میں ایوارڈ آف ایکسیلنسسے نوازہ گیا۔ یہ اعزاز انہیں سد بھاؤنا ایسوسی ایشن نے ان کے فلمی جنون کیوجہ سے تفویض کیا ہے۔ امان اللہ نظامی حالانکہ ایک افغانی ہیں ، مگر انہیں بچپن سے ہندی فلموں اور فلمی گانوں نے اپنے دام میں گرفتار کرلیا۔ فلموں کے تعلق سے انکا جنون اس قدر بڑھا کہ اب اسے دیوانہ پن ہی کہا جا سکتا ہے۔ ان کے پاس سن ۱۹۳۰ء سے لیکر سن ۱۹۸۰ء کے درمیان کی ساری ہندی فلموں کا کلیکشن موجود ہے۔ اس دور کے تمام فلمی گانے بھی ان کے ذاتی کلیکشن کا حصہ ہیں۔ان کے پاس موجود فلموں میں بہت سی ایسی فلمیں بھی ہیں کہ جن کا ریکارڈ فلم ڈیویژن اور ملک کے دیگر معروف فلمی اداروں کے پاس بھی نہیں ہے۔ ہندی فلموں سے ان کے والہانہ لگاؤ کیوجہ سے ان کا گھر جدہ میں مقیم ہندوستانی اور پاکستانی فلم شائقین کا مرکز بن چکا ہے۔سعودی عرب میں جہاں تھئیٹرز نہیں ہیں، وہاں ان کا مکان ہی فلمی تفریح کا واحد ذریعہء ہے۔

Tuesday, November 29, 2011

علامہ اقبال کی دوتہائی شاعری فارسی زبان میں موجود بعنوان "اقبال کی فارسی شاعری کا تعارف"


ڈاکٹر ضیاءالدین احمد شکیب کا خطاب
حیدرآباد (ایاز الشیخ) جامع مسجد عالیہ کانفرنس ہال میں محفل اقبال شناسی کی 640 ویں نشست میں علامہ اقبال کی شخصیت کے عنوان سے متعلق دوسرے لکچر میں ڈاکٹر ضیاءالدین احمد شکیب نے "اقبال کی فارسی شاعری" کا تعارف کرایا۔ اگرچہ اقبال نے پہلے اردو زبان میں مہارت پیدا کی لیکن ابتدائی جماعتوں سے ہی انہوں نے فارسی کی تعلیم بھی حاصل کی ۔ یہاں یہ ذکر بے محل نہ ہوگا کہ انکی فارسی اور عربی کی تعلیم ابتداءسے اعلی درجہ تک انکے قابل استاد سید میر حسن صاحب کی مرہون منت ہے۔ مولوی سید میر حسن صاحب مشن اسکول میں پڑھاتے تھے جسکی وجہ سے انگریزوں کی طرز فکر اور جدید تعلیمی اصولوں سے بھی بخوبی واقف تھے۔ ان کی علمی جستجو کا اندازا اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ان کی نوجوانی میں جب مرزا غالب کا آخری زمانہ تھا دہلی جاکر مرزا غالب سے ملاقات کی پھر وہ سر سید احمد کی تحریک سے بہت متاثر ہوئے اور نہ صرف سر سید احمد سے ربط رکھا بلکہ ان کی ذات پنجاب میں علی گڑھ تحریک کا اہم ادارہ بن گئی۔ چنانچہ انکی شخصیت کے ان پہلووں سے اقبال متاثر ہوئے۔ اردو یا فارسی دونوں زبانوں میں شاعری میں اقبال نے اپنے نئے راستے نکالے۔ ہندوستان کا اقبال داں طبقہ آج بھی اقبال کو محض اردو کا بڑا شاعر مانتا ہے لیکن انکی فارسی شاعری سے بے بہرہ ہے۔ جبکہ علامہ اقبال کی دو تہائی شاعری فارسی زبان میں ہے اور صرف ایک تہائی اردو میں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اقبال کے تصورات پہلے فارسی میں پیش کئے گئے لیکن ایک زمانہ تک انکی اردو شاعری میں ان کا کوئی ذکر ہی نہیں ملتا ۔ جب کہ اقبال نے تصور خودی کو اپنی عظیم الشان مثنویوں اسرار خودی اور رموز بے خودی میں پیش کیا جو علی الترتیب 1915 اور 1916 میں شائع ہوئیں۔ یہ مثنویاں دو کتابی صورتوں میں تھیں۔ ان کی وجہ سے نہ صرف ہندوستان کے اعلی طبقہ میں اقبال کا اہم مقام بنا بلکہ اسکی وجہ سے اقبال کے سینئیر انگریز نکلسن نے اسکا انگریزی میں ترجمہ کیااور 1920 میں یہ ترجمہ انگلینڈ میں شائع ہوا۔ اس وقت اقبال کی اردو شاعری کا کوئی مجموعہ اردو میں شائع نہیں ہوا تھا۔ اردو پڑھنے والے شیدائیان اقبال کے ہاتھوں میں صرف شکوہ اور جواب شکوہ تھے اور ا سی سے اردو والوںمیں انکی شہرت تھی۔ جبکہ انکی فارسی شاعری کے وجہ سے وہ یورپ میں نہ صرف مانے گئے بلکہ ایک فلسفی اور مفکر کی حیثیت سے جانے گئے۔ ان ہی کے معاصر پروفیسربراون نے کئی جلدوں میں فارسی ادبیات کی تعریف لکھی تو اس میں اقبال کا ذکر ایک نوجوان مفکر کی حیثیت سے کیا۔ 1922 میں اقبال کی اہم کتاب پیام مشرق شائع ہوئی جو جرمنی کے عظیم شاعر گوئٹے کے جواب میں لکھی گئی۔ پیام مشرق ایک مہتمم بالشان کارنامہ ہے جس میں ایک مشرقی شاعر نے اعتماد کے ساتھاپنے تصورات مغرب کو پیش کئے۔ اس وقت تک بھی اردو میں صرف شکوہ اور جواب شکوہ ہی مروج تھا۔ 1924 میں کہیں جاکر اردو کا پہلا شعری مجموعہ بانگ درا شائع ہوا۔ بانگ درا اردو کی نہایت خوبصورت شاعری کا مجموعہ ہے۔ لیکن اس میں اقبال کے فلسفہ خودی کے بارے میں چند اشعار ہیں۔ اسی طرح 1924 میں فارسی کا چوتھا شعری مجموعہ عجم فلسفہ خودی، فلسفہ بے خودی، مغربی تہذیب و افکار پر انکی تنقید ، فنون لطیفہ کے بارے میں اقبال کے تصورات اور اقبال کے روانی مسلک پوری طرح واضح ہو چکے تھے۔ 1931 میں فارسی شاعری سے ہٹ کر علامہ اقبال نے اپنے تصورات کو اپنی شہرہ آفاق انگریزی تصنیف The Reconstruction of Religious thoughts in Islam پیش کیں ، جسمیں مشرق اور مغرب کے درمیان سونچ کا ایک پل تعمیر کیا ۔ اس وقت اردو میں صرف بانگ درا چھپی تھی۔ 1932 میں اقبال کا ایک عظیم کارنامہ جاوید نامہ سامنے آیا ۔ یہ کتاب بھی جو مغربی شاعر دانتے کی Devine Comdedy کے جواب میں لکھی گئی ہے۔ اس کے بعد کہیں جاکر 1935 میں بال جبرئیل اور 1936 میں ضرب کلیم شائع ہوئی جن میں پہلی دفعہ اقبال کے تصور خودی اور دوسرے اہم تصورات کو پیش کیا گیا۔لیکن اپنی ساری دلکشی کے باوجود ان نظموں میں وہ گہرائی نہیں ہے جو فارسی شاعری کی نظموں میں ہے۔ مثال کے طور پر بال جبرئیل کی نظم روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے ، ایک پوری طرح دلکش اور سادہ ہے۔ اس کی جگہ پیام مشرق می میلاد آدم ایک عظیم الشان فکری اور شعری کارنامہ ہے۔ 1939 میں اقبال کی ایک اور فارسی مثنوی پس چہ باید کرد ، اقوام شرق مع مثنوی مسافرشائع ہوئی جس میں مشرق وسطی کی سیاست کا نہایت بالغ نظری کے ساتھ مشاہدہ کیا گیا ہے۔ اور آخری تصنیف ارمغان حجاز جو آدھی اردو اور آدھی فارسی میں ہے1938 میں شائع ہوئی۔ اس گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ محظ اردو شاعری کے ذریعہ اقبال کے تصورات اور پیام کو سمجھنا ممکن نہیںہے۔ یہ ضروری ہے کہ جو لوگ اقبال کو سمجھنا چاہتے ہوں وہ انکا فارسی کلام ضرور پڑھیں۔ اگر راست طور پر فارسی کلام پڑھنے کی توفیق نہ ہو تو اس کے تراجم پڑھیں ۔ ماہر اقبال مضطر مجاز اور ڈاکٹر سید سراج الدین نے اقبال کے اہم فارسی کارناموں کا اردو ترجمہ کردیا ہے جو بہ سہولت اقبال اکیڈیمی سے حاصلہ کئے جاسکتے ہیں۔
جناب غلام یزدانی سینیر ایڈوکیت و کنوئنیر محافل جامع مسجد عالیہ نے واضح کیا کہ سامعین میں زبان فارسی سیکھنے کا شوق بدرجہ اتم موجود ہے، فارسی درس و تدریس کے لئے بھی ضروری تعاون کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے سامعین سے مقرر کے مشوروں پر عمل کو ضروری قرار دیا۔ مقرر کی درخواست پر نشست برخواست ہوئی۔

Friday, November 18, 2011

اہالیان مالیگاؤں








اہالیان مالیگاؤں نے ہم مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرکے اپنی سماجی و ملی بیداری کا ثبوت دیا 

( سات محروسین اور ان کے اہل خانہ سے عبدالحلیم صدیقی کی خصوصی ملاقات کے اقتباسات پیش ہیں ) 


(۱) ہمارا ساتھ بہت ظلم ہوا (شبیر احمد مسیح اللہ)

شبیر احمد مسیح اللہ کے گھر آج ملاقاتیوں کا تانتا بندھا ہوا ہے ۔ ان میں ان کے کاروباری احباب ، تاجر، تعلیم کے زمانے کے دوست اور رشتہ دار و پڑوسی سبھی ہیں ۔ جمعتہ علماء مالیگاؤں کا ایک وفد بھی گلدستہ اور مٹھائیاں لئے ہوئے مفتی آصف انجم کی قیادت میں براجمان ہے اور شبیر احمد انکے بھائی جمیل احمد کا خیر مقدم کیا جارہا ہے ۔
شبیر احمد کے مطابق رات ۳؍ بجے جب ہمارا قافلہ شہر میں داخل ہوا تو ہم یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے کہ پورا شہر جاگ رہا ہے ۔ جگہ جگہ روشنی ہے ، اور خوشی کا ماحول ہے واقعی یہ شہر بیدار شہر ہے ۔ ہم اس کی بیداری کو سلام کرتے ہیں ۔ مشاورت چوک میں جس طرح سے ہمارا استقبال کیا گیا ہم کبھی خواب میں بھی یہ نہیں سوچ سکتے تھے ۔ گھر پہنچتے پہنچتے رات کے چار بج گئے پانچ سال کے بعد اپنے اہل و عیال سے ملنے کی خوشی کیا ہوگی ہم بیان نہیں کرسکتے ۔ میرے بچے اسریٰ ، مجاہد عالم ، ذکرٰی ، معاذ ارقم ، پوری رات جاگتے جاگتے میرا انتظار کررہے تھے ۔ میں سب سے پہلے اپنے والد بزرگوار سے ملا فرط جذبات سے ان کی آنکھیں نم تھیں اور وہ اپنی زبان سے کچھ بھی کہنے سے قاصر تھے ۔ جب مالیگاؤں بلاسٹ ہوا تو میں خود ٹرین بلاسٹ میں جیل میں بند تھا مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مجھے اس دھماکے کا ماسٹر مائنڈ بنا کر پیش کیا گیا ہے جیل کے اندر ابتدائی دنوں میں پوچھ تاچھ اور تحقیقات کے نام پر ہم لوگوں پر جو ظلم کے پہاڑ توڑے گئے وہ ناقابلِ بیان ہے۔ میں ان تلخ یادوں سے آج ان مسرت آگیں لمحات کو برباد کرنا نہیں چاہتا۔ لیکن اللہ نے مجھے صبر دیا اور میں اس مصیبت کو جھیل گیا خدا کا شکر ہے کہ چارج شیٹ کے تمام الزامات کو میں نے دوسرے ہی دن جج کے سامنے مسترد کرتے ہوئے انھیں باور کردیا کہ اعترافی بیان پر دستخط دباؤ اور ظلم کے ذریعے لئے گئے ہیں ۔ جیل جانے سے پہلے کنگ آف بیٹری کہلانے والے شبیر احمد کی معثیت پوری طرح تباہ ہوچکی ہے ۔ میں جلد از جلد اپنے کاروبار کو پھر سے کھڑا کرنا چاہتا ہوں ۔ 
(۲) مالیگاؤں کی عوام نے ثابت کردیا کہ وہ بیدار شہری ہیں (ڈاکٹر سلمان فارسی) 

مضبوط قوت ارادی کے مالک ڈاکٹر سلمان فارسی جیل سے رہا ہونے کے دوسرے ہی دن اپنی بیگم ڈاکٹر نفیسہ کے مطب میں آبیٹھے کل سے وہ باقائدہ مریضوں کی تشخیص اور علاج و معالج کا سلسلہ شروع کررہے ہیں۔ ان کی گود میں اس وقت مطؤنہ موجود ہے ۔ مطۂنہ یہاں کے جے اے ٹی اسکول میں جماعت پنجم کی طالبہ ہے اور بیٹا عدی مقاتر بھی اے ٹی ٹی ہائی اسکول میں پانچویں پڑھ رہا ہے ۔ بڑ ابیٹا تمیم سالک پروگریسیو انگلش اسکول میں آٹھویں کا طالب علم ہے ۔ مالیگاؤں دھماکوں میں پھنسائے گئے ملزمین میں سب سے زیادہ پر جوش انداز ڈاکٹر سلمان فارسی کا نظر آیا انھوں نے جیل سے نکلتے وقت خالص اسلامی حلیہ بنایا تھا ۔ اس نے جمعتہ علماء مہاراشٹر کی ممبئی پریس کانفرنس میں بھی میڈیا کو مخاطب کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم اپنی رہائی کا کریڈیٹ اللہ رب العزت کو دینا چاہتے ہیں ۔ اسکے بعد اس نے کل جماعتی تنظیم ، جمعتہ علماء مہاراشٹر اور ممبئی و مالیگاؤں کی عوام سبھی چھوٹی بڑی تنظیموں کا شکریہ ادا کیا تھا۔ جیل سے نکلتے ہی انھوں نے سب سے پہلے مالیگاؤں میں نہال احمد سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم لوگ رات دیر گئے مالیگاؤں پہنچیں گے ۔ لیکن سب سے پہلے آپ کے دھرنا پنڈال میں مشاورت چوک پہنچ کر آپ لوگوں کا شکریہ ادا کریں گے اور واقعہ یہی ہے کہ پورا کارواں مشاور ت چوک پہنچا اور سبھی ملزمین کی طرف سے ڈاکٹر فارسی نے مالیگاؤں کی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر فارسی نے کہا کہ انھیں جیل میں رہتے ہوئے مالیگاؤں بلاسٹ کیس کی پوری پیش رفت سے اردوٹائمز نے باخبر رکھا۔ ہم نے بہت سارے خطوط جیل سے لکھے ۔ ہمارے ساتھیوں کے خطوط اس میں شائع بھی ہوئے ۔ اردو ٹائمز نے ہمارا درد پوری دنیا تک پہنچانے کا صحافتی فریضہ انجام دیا ہے ۔ ڈاکٹر فارسی نے کہا کہ ہم سب بے گناہ اور پھنسائے گئے لوگ تھے ۔ اگر مالیگاؤں کی عوام کی مخلصانہ جدوجہد اور تعاون نہ ہوتا تو ہم ٹوٹ جاتے ۔ موصوف نے اپنی پر عزم بیگم ڈاکٹر نفیسہ کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے شوہر کی غیر موجودگی کے باوجود گھر کے حالات کو سنبھالے رکھا۔ بچوں کی پڑھائی جاری رہی اور باعزت زندگی گذرتی رہی ۔ آپ نے تمام وکلاء حضرات کا بھی شکریہ ادا کیا۔ مالیگاؤں کی عوام نے ثابت کردیا کہ وہ بیدار شہری ہیں ۔ 
(۳) کیا ہمیں اسلامی تشخص کی سزا مل رہی ہے ؟؟(نورالہدی شمس الضحیٰ )

میں پانچ سال پہلے ایک مزدو تھا لیکن جیل میں پانچ سال گذارنے کے دوران میں نے عربی و اردو زبان کی در س وتدریس کے جو تجربات حاصل کئے ہیں میری خواہش ہے کہ میں اپنی بی اے کی ادھوری تعلیم مکمل کرلوں اور جلد از جلد ایک معلم کی حیثیت سے اپنا کیرئیر شروع کروں ۔یہ باتیں ہیں نورالہدی کی جس نے آج اردو ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم سے میڈیا والے پوچھتے ہیں کہ کیوں اور کس نے پھنسایا ۔ لیکن میں جواب دیتا ہوں کہ یہ سوال تو ان ظالم افسران سے پوچھا جائے جنھوں نے ہم کوپھنسایا۔ اور پوچھا جائے کہ کیوں پھنسایا گیا کیوں اس لئے کہ ہم مسلمان ہیں اور شریعت کے مطابق زندگی گذارنے میں یقین رکھتے ہیں نورالہدی نے اپنی بے گناہی پر دو ٹوک کہاکہ میں کسی بھی معاوضہ و ہر جانے سے بہلنے پھسلنے والا نہیں ہوں ۔ انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ اصل سازش کو بے نقاب کرکے ان کو جیل بھیجا جائے جو قصور وار ہیں۔ 
نورالہدی کے مکان واقع جعفر نگر جھوپڑپٹی میں آج جشن کا سماں ہے اس کے مکان پر پھیکا گلابی آئیل پینٹ کیا گیا ہے ۔ اور پوری گلی میں اور مکان پر چھوٹے بڑے قمقمے گلی محلے کے لوگوں نے اپنی خوشی سے آراستہ کئے ہیں۔ ملنے جلنے والوں کا تانتا لگا ہوا ہے اسی لئے آج گھر کا ہر فرد موجود ہے ۔ بوڑھا باپ شمس الضحیٰ اور دیگر برادران بھی آج یہ خاندان پاورلوم مزدوری کیلئے ڈیوٹی پر نہیں گیا۔ خوشی کا عالم یہ ہے کہ گھر کے سارے بچے اور خواتین نے عید کے اٹھا رکھے گئے نئے کپڑے پہن رکھے ہیں ۔ نورالہدی کے والدنے کہا کہ ہمیں آج ادھوری خوشی ملی ہے سچی اور مکمل خوشی تو اس وقت ملتی جب حکومت سچائی جان لینے کے بعد مقدمہ واپس لے لیتی اور باعزت بری کرنے کا فیصلہ آتا۔ 
(۴) ’’ صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آیا‘‘ ( ابرار احمد غلام احمد )

’’ صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آیا‘‘ ابرار کی اپنے والدین کے گھر واپسی کا سماں اسی قول کی ترجمانی کررہا ہے ۔ 80سالہ بوڑھا باپ فرط مسرت سے روتے ہوئے اپنے لاڈلے بیٹے کو گلے لگا رہا ہے ۔ ایک دن وہ تھا جب اسی غیرت مند باپ نے اعلان کردیاتھا کہ اگر ابرار سرکاری گواہ بن گیا ہے تو اس کا ہمارے خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہم اس کا نام سننا بھی پسند نہیں کرتے ۔ آج وہ دن ہے جب ابرار سب کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا ہے ایک دن وہ تھا جب اس کے سرکاری گواہ بننے کی خبر سے پورے محلے میں غصے کی لہر پھیلی تھی اور اس عمارت کو لوگ نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے ۔ جہاں آج ابرار سے ملنے جلنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے ۔ ابرار کے بھائی فرید نے بتایا کہ پورا محلہ رات بھر جاگتا رہا۔ ابرار گھر پہنچا سبھوں نے اسکا استقبال کرلیا۔ تب لوگ کچھ دیر کیلئے سوگئے صبح سے پھر ملاقاتیوں کا تانتا ہے۔ ابرار نے اپنی بے گناہی کے سلسلے میں کہا کہ جب مجھے چارج شیٹ کے متعلق معلوم ہوا تو میں حیرت زدہ رہہ گیا۔ جن لوگوں کو میرے نام پر پھنسایا جارہا تھا ان میں سے اکثر کو میں تو جانتا تک نہیں تھا۔ سبھی ملزمین سے میری واقفیت کورٹ کی تاریخوں پر ہوئی۔ شبیر مسیح اللہ سے انورٹر کی خریدی کرتا تھا۔ اسی لئے تھوڑا تجارتی تعلق تھا ۔ باقی لوگوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ ابرا ر نے بتایا کہ میری حماقت کی وجہ سے میرے گھر والوں نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور بم دھماکوں کے بعد 30جنوری 2009والے دن میرے بھائی جلیل احمد پہلی بار جیل میں ملاقات کیلئے پہنچے تھے ۔ اس سے قبل تو بالکل اکیلا تھا۔ جیل میں میرا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ ابتدائی مہینوں میں اے ٹی ایس کے سدا نند پاٹل اور انسپکٹر سچن کدم کی جانب سے مجھے جیب خرچی کیلئے منی آرڈر ملا کرتے تھے یہ رقم دو ہزار سے لے کر پندرہ سو یا کبھی ایک ہزار بھی رہا کرتی تھی۔ ابرا رکے مطابق مجھے سرکاری گواہ بنانے کیلئے میرے سالے اور میری بیوی نے پولس سے ساز باز کی تھی اور مجھے تھپتھپائے رکھتے تھے ۔ جس وقت مجھے اپنے بھائی کی ہیبس کارپس رٹ پیٹشن کے عوض ممبئی ہائی کورٹ میں پیش کیا گیا تھا تب میں پولس والوں کی گھیرا بندی اور دباؤ میں تھا ۔ مجھے سچ بولنے سے روکا گیا تھا۔ لیکن جب میں نے سچ بولنے کی ٹھانی اور اپنے گھر پر خطوط لکھے تو کوئی سال دیڑھ سال تک جواب نہیں آیا میرے گھر والے سخت ناراض تھے ۔ میں نے تقریباً 65خطوط لکھے اور معافیاں مانگیں تب 30جنوری 2009کو میرے بھائی پہلی بار جیل میں آئے اور تلقین کی کہ جو بات سچ ہے وہی کہو گے تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے پھر میں نے اپریل مہینے میں نیا حلف نامہ لکھوایا اس سے قبل چار سال تک کیا چلتا رہا مجھے کچھ پتہ نہیں ۔ باہر کی دنیا سے مجھے لاعلم رکھا گیا ۔ بائیکلہ جیل میں مجھے اردو ٹائمز اخبار جون 2010سے ملنا شروع ہوا جس کیلئے میں نے باقاعدہ عریضہ دیا تھا کہ مجھے روز اخبار چاہئے ۔

میں نہ صرف اخبار والوں بلکہ سبھی علماء کرام اور مسلم تنظیمیوں کا کل جماعتی تنظیم و جمعتہ علماء کا شکر گذار ہوں ۔ اس موقع پر ایڈوکیٹ جلیل انصاری نے جمعتہ علماء کے ذمہ داران ارشد مدنی ، محمود مدنی اور شفیق قاسمی وغیرہ کے خصوصی تعاون اور مستقل رابطہ کا ذکر بھی کیا اور سبھی مسلم تنظیموں کا شکریہ اداکیا۔ 
(۵) میں نے زندگی میں کبھی ابرار سے ملاقات نہیں کی تھی ( مولانا زاہد عبدالمجید) 

مولانا زاہدیوں تو جیل سے رہا ہوچکے ہیں لیکن ڈر ، خوف ، مصیبت ان کا پیچھا نہیں چھوڑرہی ہے اس با عمل صالح فکر انسان پر ابھی اور آزمائشوں کا دور باقی ہے آج شام جب ہم نے اس سے عائشہ نگر کے ایک مکان میں ملاقات کی تو وہ اپنی والدہ کا انتطار کرتے بیٹھا تھا۔ جو رہائی ملنے کے بعد اب تک اس سے نہیں مل سکی تھی مولانا زاہد کی سیمی سے وابستگی سے سخت نالاں والد عبدالمجید ماسٹر تو اس قدر ناراض ہیں کہ جیل سے آئے بچے کو اپنے گھر میں داخل ہونے تک کی اجازت نہیں دی۔ مجبوراً زاہد اپنی خالہ کے گھر چلا گیا اور وہیں مقیم ہے ۔ زاہد کو لینے کیلئے ممبئی تک اس کی ساس مونسہ اور بیوی سلمی بھی آئیں تھیں ۔ جو چار پانچ دن تک مفتی اسمعیل کے ایم ایل اے ہاسٹل میں رہائی کی منتظر تھیں ۔ بہرحال ان دونوں مونسہ اور سلمی کا اب اس دنیا میں زاہد کے علاوہ دوسرا سہارا نہیں ہے پانچ برس تک دوسروں کے گھر کے جھوٹے برتن مانجھ کر گذر بسر کرنے اور بہت مرتبہ فاقہ کشی کرنے والی یہ پرعزم خواتین آج بھی سچی خوشی کو ترس رہی ہیں ۔ زاہد کے والد عبدالمجید کو غلط فہمی ہے کہ اس کے سیمی سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ہی ان کے خاندان پر مصیبت کے پہاڑ ٹوٹے ۔ اسلحہ ضبطی کیس کے دوران زاہد کو تلاش کرنے والی پولس نے زاہد کی جگہ چھوٹے بھائی جاوید کو پکڑ لیا۔ لیکن اس غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے زاہد کہتے ہیں کہ پولس نے جان بوجھ کر جاوید کو پھنسایا وہ میرے ساتھ آرتھر روڈ جیل میں ایک ہی کمرے میں بند تھا اسی لئے میں سارے حقائق جانتا ہوں۔ ہم دونوں بھائیوں میں آپسی محبت و اخلاص ہے اور کہیں کوئی غلط فہمی نہیں ہے ۔ زاہد کو آج ساڑھے سات سال کے بعد مالیگاؤں میں داخلہ نصیب ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بار بار کی پولس چھان بین سے وہ 2004میں ہی ہجرت کرکے خاموشی سے پوسد کے قریب ایک گاؤں میں امامت کرنے لگا تھا۔ تب سے اس نے مالیگاؤں کا رخ کرنا چھوڑ دیا تھا۔ لیکن اے ٹی ایس نے اس کو جھوٹے الزام میں جب پھنسایا تو اردو ٹائمز کی ٹیم نے ہی سب سے پہلے پوسد پہنچ کر حقائق کا پتہ لگایا اور گاؤں والوں سے معلوم کرنے پر یہ انکشاف ہوا کہ زاہد مولانا تو بم دھماکے والے دن مسجد میں ہی موجود تھے جس کی گواہی کل جماعتی تنظیم کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کو اجتماعی حلف نامہ کی صورت میں دی گئی۔ جب کہ اے ٹی ایس نے الزام رکھا کہ ابرار کے ساتھ مل کر زاہد نے مشاورت چوک میں بم رکھا۔ آج زاہد نے کہا کہ میں نے زندگی میں کبھی ابرار سے ملاقات نہیں کی تھی ۔ نہ ہی میں اسے نام و شکل سے جانتا تھا۔
پانچ سالہ قید و بند کے دوران زاہد نے حفظ قرآن مکمل کرلیا اور جیل میں گذشتہ دو سال سے ماہِ رمضان میں تراویح کی امامت بھی فرمائی ۔ اب مستقبل میں وہ مالیگاؤں کی ہی کسی مسجد میں امامت و معلمی کا پیشہ اختیار کرنا چاہتے ہیں ۔ 
(۶) پوری ملت کی ترجمانی اردو ٹائمز کے ذریعے ہورہی تھی (رئیس احمد رجب علی) 

انورٹر کے کاروبار میں اپنے بہنوی شبیر احمد مسیح اللہ کا ہاتھ بٹانے کی سزا پانے والے رئیس احمد آج اپنی رہائی پر بہت خوش و خرم ہیں اپنے بچوں کی تعلیمی پیش رفت کو جان کر ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں اور ساتھ ہی ان کے جیل جانے کے چند دنوں بعد ہی ولادت پانے والی معصو م عائشہ اب پانچ سال کی ہوگئی ۔ اور جے اے ٹی اسکول کی جونئیر کے جی میں زیر تعلیم ہے ۔ اس بچی کو پہلی بار اپنے باپ کی گود نصیب ہوئی۔ ان کے دیگر بچوں میں بڑی بیٹی فرحین بارہویں جماعت میں نمایاں نمبرات حاصل کرنے کے بعد ڈی ایڈ کورس میں زیر تعلیم ہے اور معلمہ بننے کی تیاری کررہی ہے۔ بڑا بیٹا دانش بارہویں میں زیر تعلیم ہے ۔ اس نے باپ کی جدائی کے صدمہ کے باوجود SSCمیں اچھی پوزیشن حاصل کی ۔ اور کئی مقابلوں میں حصہ لے کر انعامات حاصل کئے ۔ فائزہ گیارہویں اور اسامہ ساتویں جماعت میں پڑھ رہے ہیں ۔ سارے بچے باپ کو گھیرے ہوئے ہیں اور گھر کے باہر برقی قمقموں کی لڑیاں یہ ظاہر کررہی ہیں کہ رئیس رجب کی رہائی میں پورا محلہ خوش دشرسار ہے ۔ کثیر العیال خاندان کی کفالت کرنے والے رئیس کے خاندان کو اس کے سالے خلیل احمد نے خوب کوب سہارا دیا۔ اور جمیل مسیح اللہ کی مسیحائی بھی رنگ لائی ۔ جنھوں نے تمام قانونی معاملات کو دیکھا۔ جیل کے اندر موقع ملنے پر رئیس نے پہلی بار ناظرۂ ختم قرآن کی سعادت حاصل کی ۔ اور اسلحہ ضبطی کیس کے ملزم بلال کاتب ان کے عربی کے استاذ تھے۔ اس کامیابی میں اردو اخبارات کے کردار پر بات کرتے ہوئے رئیس احمدرجب علی نے تمام اردو اخبارات سمیت اردو ٹائمز کی جم کر تعریف کی اور کہا کہ یہی اخبار ہمیں جیل میں میسر تھا اور ہم اس کی خبروں سے انداز لگا رہے تھے کہ ہماری بے گناہی پر ہم اکیلے آنسو نہیں بہارہے ہیں ۔ بلکہ پوری ملت کی ترجمانی اردو ٹائمز کے ذریعے ہورہی تھی ۔
(۷) قید و بند نے ڈاکٹر فروغ مخدومی کو ایڈوکیٹ کا کردار نبھانے پر مجبور کیا 

اس ساز ش کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پھنسائے گئے سبھی ملزمین میرے لئے انجان تھے سوائے شبیر احمد مسیح اللہ کے میں کسی کو نہیں جانتا تھا۔ا ور شبیر احمد سے بھی معمولی تعلقات تھے اور7مئی 2006کونورالہدی کی شادی کی تقریب میں جس سازشی میٹنگ کا تذکرہ چارج شیٹ میں لگایا گیا ہے اسی دن تو میرے بیٹے حسن کی پیدائش کی خوشی میں تقریب عقیقہ تھی سارے دوست احباب میرے گھر دعوت پر تھے ۔ ڈاکٹر مخدومی نے دعوی کیا کہ اگر سی بی آئی غیر معمولی تاخیر نہ کرتی اور مکوکا پر سپریم کورٹ میں میں دائر جمعتہ علماء کی پٹیشن کے سبب سماعت پر اسٹے آرڈر نہیں ملتا تب میں اپنی ذاتی جرح کی بدولت کیس سے باعزت بری ہوجاتا ۔ لیکن حالات نے ساتھ نہیں دیا اور جمعتہ علماء نے جن وکلاء کی خدمات حاصل کررکھی تھیں ان کو ہمارے مقدمہ پر توجہ دینے کی زیادہ فرصت نہیں تھی اسی لئے میں نے جج کو ڈسچارج عریضہ دے کر خود بحث کا آغاز کیا جو 3ماہ کے دوران پوری ہوئی میری اٹھارہ گھنٹہ کی بحث مجھے بے قصور ثابت کرنے کیلئے کافی تھی ۔ پیشے سے ڈاکٹر رہنے کے باوجود 2003میں LLBمیں داخلہ لینے والے ڈاکٹر مخدومی کو وکالت اور قانون کی تعلیم سے دلچسپی جیل میں خوب کام آئی اس نے جیل کے اندر اسے اپنا مشغلہ بنا لیا۔ بہت سارے ملزمین کیلئے عریضہ تیار کرنا۔ پٹیشن لکھنا اور عدالت سے انصاف دلانا اس کا معمول تھا۔ آرتھر روڈ میں ڈاکٹر فروغ مخدومی ، ایڈوکیٹ مخدومی کے نام سے مشہور ہوئے اپنے ساتھی ملزمین کی خوب مدد کی۔ ڈاکٹر مخدومی نے خود بتایا کہ پہلے ایک سال میں نے اے ٹی ایس کی چارج شیٹ کا مطالعہ کیا اور دوسرے سال اس کا اردو ترجمہ کرکے اپنے دیگر بے قصور ساتھیوں کو بتلایا ۔ میں نے فارغ اوقات میں RTIقانون کا فائدہ لیتے ہوئے اپنے لئے اور دیگر ہندو مسلم ملزمین کیلئے عریضے تیار کرکے ان کی قانونی مدد کی۔
فروغ مخدومی کے والد اقبا ل مخدومی نے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں اپنے ساتھی جمیل مسیح اللہ کے ساتھ مل کر غیر معمولی جدوجہد کی ہے جس کا اعتراف سبھی ملزمین کے رشتہ دار کرتے ہیں۔ اقبال مخدموی نے بتایا کہ میرا بیٹا تصویر کشی نہیں چاہتا اسی لئے جیل سے نکلنے کے بعد ہم لوگ سیدھے اس کے قریبی دوست کے گھر گئے پھر دفتر جمعیت علماء ( امام باڑہ) پہنچے اور وہاں سے مسجد اہلحدیث مومن پورہ گئے پھر مالیگاؤں پہنچ کر مشاورت چوک اور دفتر جمعتہ علماء تک گئے ۔ ہم نے سب سے مل کر شکریہ ادا کیا۔ ہمیں ہر طبقہ کا تعاون ملا ہے۔ 
***

Thursday, November 10, 2011

پریس ریلیز



علی گڑھ09؍نومبر: ملت بیداری مہم کمیٹی اوردا علی گڑھ موومینٹ میگزین کے مشترکہ تعاون سے یومِ اقبال کے موقعہ پرمزمل منزل کامپلیکس میں واقع میڈیا سینٹر پر ایک سیمینارکا انعقاد عمل میں آیا جس کی صدارت ملت بیداری مہم کمیٹی کے صدرپروفیسر رضأ اللہ خاں نے کی۔اپنے صدارتی خطبہ میں پروفیسر رضأاللہ خاں نے کہا کہ علامہ اقبال سچے ہندوستانی اور اسلامی مفکر تھے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری اسلامی فلسفہ پر محیط ہے۔ انہوں نے علامہ اقبال کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسی عظیم ہستیاں ہزاروں سال میں پیدا ہوا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علامہ نے ہمیشہ حب الوطنی اور بھائی چارہ کا درس دیا۔
دا علی گڑھ موومینٹ میگزین کے مدیرِ اعلیٰ جسیم محمد نے کہا کہ علامہ اقبال دنیا کے واحد شاعر ہیں جن کا کلام چاند پر پڑھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب راکیش شرما چاند پر پہونچے تو اس وقت کی وزیرِا عظم محترمہ اندرا گاندھی نے ا ن سے دریافت کیا کہ وہاں سے ہندوستان کیسا نظر آتا ہے تب راکیش شرما نے علامہ اقبال کا مصرعہ پڑھ کر سنایا ’’ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ‘‘ ۔ جسیم محمد نے کہا کہ علامہ اقبال سچے ہندوستانی تھے اور ان کو اپنے ملک سے روحانی عشق تھا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک کا قومی ترانہ ہندوستان کے قومی ترانہ کا مقابل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے قومی ترانہ کو یہ انفرادیت علامہ کی حب الوطنی نے ہی بخشی ہے۔
جسیم محمد نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہندوستان کو قومی ترانہ دینے والے شاعر کی زبان اردو کے ساتھ آج بھی سوتیلہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے ا ور ہر سطح پر اس زبان کے ساتھ نا انصافی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کاعلامہ اقبال کو سچا خراجِ عقیدت یہی ہوگا کہ حکومت اردو کے ساتھ انصاف کرے اور اردو کے اداروں کو استحکام بخشے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو احسان کا بدل دینا لازم ہوتا ہے ا ور علامہ اقبال کا ہمارے ملک پر جو احسان ہے اس کا بدل یہی ہوگا کہ ان کی ز بان فروغ پائے اور اردو کے اداروں کو استحکام ملے۔
اے ایم یو ٹیچرس ایسو سی ایشن کے سابق سکریٹری ڈاکٹر محمد شاہد نے کہا کہ اقبال کی زبان پر ظلم ڈھاکر اقبال کو خراجِ عقیدت پیش کرنا منافقت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقبال نے قومی یکجہتی اور بھائی چارے کا درس دینا ہی اپنی زندگی کامقصد بنالیا تھا ۔ وہ نہ صرف سچے مسلمان بلکہ ایک آدرش وادی ہندوستانی بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال جیسی ہستیوں پر نسلیں فخر کرتی ہیں۔
ممتاز معالج ڈاکٹر سید محسن رضا نے کہا کہ یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ علامہ اقبال ہندوستانی تھے اور وہ ایسے ہندوستانی تھے جن پر سارا ملک ناز کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال جیسے سپوت ہر قوم کے لئے باعثِ افتخار ہوتے ہیں۔حضرت امیر خسرو ایجوکیشنل سوسائٹی کے سکریٹری پروفیسر سید اقبال علی نے کہا کہ اقبال پرا س قسم کے پروگرام منعقد ہوتے رہنے چاہئیں تاکہ ہماری آنے و الی نسلیں بھی اپنے محسنین کے کارناموں اور ان کی حیات و خدمات سے واقف ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ملت بیداری مہم کمیٹی ا ور دا علی گڑھ موومینٹ میگزین قابلِ مبارکباد ہے کہ ا س نے اتنا شاندار پروگرام علامہ اقبال کے تعلق سے منعقد کیا۔ انہوں نے کہاکہ علامہ پر نہ صرف سرکاری سطح پر پروگرام منعقد ہونے چاہئیں بلکہ یومِ اقبال پر سرکاری تعطیل کا بھی اعلان ہونا چاہئے یہی علامہ کو سچا خراجِ عقیدت ہوگا۔
جامعہ اردو علی گڑھ کے او ایس ڈی مسٹر فرحت علی خاں نے کہا کہ علامہ اقبال کو اردو اور ہندوستان سے عشق کی حد تک پیار تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عظیم ہندوستانی کی زبان کے ساتھ نا انصافی کرنا اور اس کے وجود کو خطرہ میں ڈالنا علامہ ا قبال کی روح کو تکلیف پہونچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ اردو علامہ ا قبال کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے گزشتہ72سال سے اردو کے فروغ کے لئے سرگرمِ عمل ہے مگر آج تک اس ادارہ کو سرکاری سطح پرا ستحکام نہیں ملا جو نہ صرف جامعہ ارود بلکہ علامہ ا قبال کے ساتھ بھی نا انصافی ہے۔
اس موقعہ پراقبال سیفی، عمیر جمال شمسی،دولت رام، ڈاکٹر مجیب شہزر،ڈاکٹر فاطمہ زہرہ، ڈاکٹر جی ایف صابری، سید علی سردار جعفری وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروگرام میں بڑی تعداد میں یونیورسٹی کے ا ساتذہ، طلبأ اور معززین شہر نے شرکت کی۔

( جسیم محمد )
09997063595


Friday, October 21, 2011

اردو ڈرامہ کشمکش




Saturday, September 24, 2011

ہماری میڈیا کتنی ذمہ دار؟



 ہمارے ملک کے اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا نے سیاست اور فلم کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے۔ملک کے تمام روزنامے سال کے تین سو پینسٹھ دن میں سے کم و بیش تین سو دن اور ہفتہ روزہ اخبارات سال کے باون ہفتوں میں سے قریب چالیس ہفتے سیاست اور فلم سے وابستہ خبروں کو سہ سرخی یا کور اسٹوری بناتے ہیں۔مثلاً کسی سیاست داں نے پارٹی بدلی ،اسپتال میں داخل ہوا یا گھوٹالے میں گرفتا ہوکر جیل پہونچا تو اسے رات میں نیند نہیں آئی ۔یہ ساری باتیں مع تصویر کے صفحہ اول پر شائع کی جاتی ہیں ۔اسی طرح کوئی بڑا لیڈر مثلاً راہل گاندھی یا سونیا وغیرہ نے کسی شہر کا دورہ کیا تو انکی ایک ایک منٹ کی خبریں حتیٰ کہ اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے کی باتیں براہ راست دکھنے کی کوشش الیکٹرانک میڈیا والے کرتے ہیں ۔یہاں تک کہ اگر انہیں اسٹیج پر جھپکی آگئی یا اپنی گاڑی روک کر سڑک کنارے ڈھابے والے سے چائے پی لی تو وہ ایک بریکنگ نیوز بن جاتی ہے۔اسی طرح ایک فلمی ہیرو ئن کے ہاں لڑکے کی ولادت ہوئی تو اس بات کو ایک مشہور نیوز چینل نے بریکنگ نیوز کے طور پر دو گھنٹے تک دکھایا ۔اب تو سیاست داں جان بوجھکر کوئی متنازعہ بیان دے ڈالتے ہیں اور پھر سبھی زبانوں کے نیوز چینلوں پر دن بھر اور دوسرے روز ملک کے سارے اخبارات میں صفحہ اول پر مع تصویر وں کے چھائے رہتے ہیں ۔ٹی وی والے ان کے متنازعہ بیان کو لیکر خصوصی پروگرام دکھاتے ہیں تو اخبارات میں مضامین اور اداریے لکھے جاتے ہیں ۔اتنی پبلسٹی کروڑوں روپئے کے اشتہارات کے ذریعے بھی نہیں مل پاتی اور پھر اپنا سیاسی الو سیدھا کرکے یہ اپنے متنازعہ بیان سے ’’توڑ مروڑ‘‘ کا بہانہ کرکے قانونی طور پر صاف بچ نکلتے ہیں ۔
میڈیا کو چاہئے کہ وہ اس طرح کے غیر ضروری اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کو بدلے اور وہ عوامی مسائل کو اپنا موضوع بناتے ہوئے اسے شاہ سرخی بنائے اور اسے اول صفحہ پر نمایاں جگہ دے ۔ساتھ ہی صفحہ اول پر ہی ادارتی کالم تحریر کرکے حکومت اور خود غرض سیاست دانوں کے ہاتھ مروڑ کر اپنا فرض نبھانے پر مجبور کرے ۔کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جن کو ہائی کیا جانا زیادہ ضروری ہوتا ہے ۔لیکن میڈیا اس سے غفلت برتتا ہے۔جیسے گذشتہ دوسالوں میں ریل حادثے زیادہ ہوئے ہیں ان میں سینکڑوں لوگ ہلاک اور ہزاروں زندگی بھر کے لئے معذور ہوگئے۔یہ حادثات کیوں ہوئے ،ان پر بیٹھائی گئی جانچ کمیشنوں کا کیا ہوا ؟جن خرابیوں کی وجہ سے یہ حادثات ہوئے کیا ان کو مستقل طور پر دور کرلیا گیا؟یا پھر عارضی طور پر کام چلاؤ لیپا پوتی کرکے اگلے حادثے کی ایڈوانس میں تیاری کرلی گئی ہے؟ اناج کے بھر پور پیدار کے باوجود ان کی قیمتیں آسمان کیوں چھو رہی ہیں ؟ غذائی اجناس کی کالا بازاری اور سبزیوں کی قیمتوں پر حکومت کا کوئی قابو نہیں ہے اور عوام آدھا پیٹ کھاکر یا ملک کی آدھی سے زیادہ دیہی آبادی بھوکوں سونے پر مجبور ہے۔حتیٰ کی خود کشی تک کر رہے ہیں ۔تو پھر حکومت کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟
اسی طرح ممبئی کے کچھ مضافاتی علاقے جیسے گوونڈی اور مانخوردوغیرہ میں عورتیں اور بچے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر علی الصبح ریل کی پٹریاں پار کرکے پینے کا پانی لیکر آتے ہیں ۔حکومت کیا انکے لئے پانی کا انتظام بھی نہیں کر سکتی؟ یہ بھی اسی ملک کے شہری ہیں بنگلہ دیشی یا پاکستانی نہیں ہیں ۔اسی طرح کروڑوں روپئے خرچ کرکے فسادات پر جانچ کمیشن بنائے گئے اور پھر انکی رپورٹ و سفارشات کو ردی کی ٹوکری میں ڈالدیا گیا۔الیکٹرونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا ان باتوں کو شدت سے اٹھائے تو ملک اس طرح خلفشار اور تنگ نظری سے محفوظ ہو جائے ،لیکن لگتا ہے کہ میڈیا کے ذمے داروں کا ضمیر مردہ ہوچکا ہے ۔جو عوام کی جائز ضروریات اور مظلوموں کی چیخیں بھی اس پر کوئی اثر نہیں ڈال پا رہی ہیں !!!
حفوظ الرحمن انصاری۔نیا نگر
مور لینڈ روڈ۔ممبئی 400008.
موبائل۔09869398281


Tuesday, September 20, 2011

یوم اساتذہ





بروز پیرمورخہ 5 ستمبر کو  آرمی گڈویل اسکول  کھارپورہ  ضلع بانڈی پورہ  اسٹیٹ جمّوں اور کشمیر میں یوم اساتذہ کی تقریب منائی گئی ۔اس وقت وہاں کا ماحول بہت خوشگوار تھا ۔ہر طرف بچے پروگرام کی کی تیاری کررہے تھے ۔ دف اور وہاں کے ڈھول پر بچے پریکٹس کر رہے تھے ۔  سارے ہی اساتذہ مصروف نظر آرہے تھے ۔ سب ہی مسرور تھے ۔میں۔لنترانی ڈاٹ کام کی چیف ایڈیٹر منوّر سلطانہ اور نارتھ ذون ( شمالی علاقے ) کے بیورو چیف نصرالاسلام راتھر وہاں پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے  بڑے ہی پر خلوص انداز میں ان کا استقبال کیا ۔آرمی گڈ ویل اسکول ایک چھوٹے سے گاؤں میں آرمی کے ذریعے چلایا جارہا ہے یہاں پر 250 طلباء تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔او ر بیس ٹیچرس اور نان ٹیچرس کا اسٹاف ہے ۔یہ اسکول آرمی کے ذریعے چلایا  جارہا ہے ۔یہاں پر ہر قسم کی سرگرمیاں انجام دی جارہی ہے ۔ہر طرح کے  پروگرام مناۓ جاتے ہیں ۔ میں پہلی بار1995 میں جب کشمیر آئ تھی اس وقت یہاں کے حالات بہت خراب تھے ۔یہاں کے لوگ گھبراۓ اور سہمے ہوۓ تھے بہت کم لوگ ہندی اور اردو زبان جانتے تھے ۔مگر  اب کی بار یہاں بہت بدلاؤ نظر آیا ۔آرمی اسکول جو کہ ایک انگلش میڈیم اسکول ہے  اور  2004۔میں شروع کیا گیا ہے ۔ یہاں کےلوگ بہت اچھی طرح ہندی اور اردو بولتے ہیں ۔ ہر طرف خوشگوار ماحول ہے ۔ آرمی کے سی ای او  آفیسر ونود نیگی صاحب کی صدارت میں پروگرام کا آغاز کیا گیا ۔  بچوں نے یوم اساتذہ کے موقع پر تقریریں کیں ۔استقبالیہ  گیت پیش کۓ اور کشمیری لوک گیت اور وہاں کا ڈانس پیش کرکے  سامعین کو مسحور کر دیا ۔پھر اسکول کے عارف  سر نے اپنی تقریر کی پھر اسکول ھذا کے کے پرنسپل وانی سر نے سب کا شکریہ ادا کیا  اور سی ای او صاحب نے اپنی تقریر کے بعد اسکول کے تمام اسٹاف  کو یوم اساتذہ کی مبارکباد کے ساتھ تحائف پیش کۓ۔           

Monday, September 12, 2011

اقبال نیازی کو آغا حشرؔ کاشمیری ریاستی ایوارڈ



ممبئی: اردو کے معروف ڈراما نگار ہدایت کار،مدرّس اور کردار آرٹ اکیڈمی کے کر یئٹیو چیئر مین 
اقبال نیازی کو پونے فیسٹول اور عوامی محاذپونے کی جانب سے ریاستی سطح پرآغا حشرؔ کا شمیری 
کے نام سے شروع کیا جانے والا پہلا ایوارڈ تفویض کیا گیا۔
گذشتہ ۲۳ برسوں سے جاری مو قر پونے فیسٹول کے لیے اقبال نیازی کا انتخاب فیسٹول کی مر کزی کمیٹی نے کیا اور اردو ڈراما اور تھیٹر سے ۳۰ سالہ وابستگی اور اردو ڈراما اور زبان کی خدمات کے لیے ایک بیحد خوبصورت ٹرافی اور سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔پونے کے پر شکوہ گنیش کر یڈا کیندر آڈیٹوریم میں ہزاروں افراد کی مو جودگی میں اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔اس مو قع پر جناب عارف نسیم خان(ریاستی وزیر حکومت مہاراشٹر) پی اے انعامدار، منور پیر بھائی اور شری 
ر میش باگوئے (سابق ریاست وزیر) کے علاوہ ریاست مہاراشٹرکی اہم تعلیمی ، سماجی و ادبی شخصیات کی مو جودگی سے اس رنگا رنگ تقریب کی رونق دو با لا ہو ئی ۔پونے کے اس با وقار ایوارڈ کے لیے منتخب ہونے پر شہر ممبئی کے علمی ادبی اور تھیٹر و ڈراما کی اہم شخصیتوں نے مسّرت کا اظہار کیا اور اقبال نیازی کو ہد یہ تہنیت پیش کی ۔واضح ہو کہ اس سے قبل بھی اقبال نیازی کو اردو ہندی ڈراما اور تھیٹر کی طویل خدمات کے اعتراف میں متعدد ریاستی اور قومی سطح کے انعامات و اعزازت مل چکے ہیں جن میں مراٹھی کی مشہور و معروف دو تنظیموں کی جانب سے مہاراشٹر لوک رتن پرسکار اور مہاراشٹر گوروپرسکار بطورِخاص ہیں۔

Sunday, September 11, 2011

ڈاکٹرانصاری نازیہ بلال مالیگاؤں کی پہلی سرجن بنیں


؍ ستمبر ، عبدالحلیم صدیقی

ڈاکٹر انصاری نازیہ بلال (MS gynaeclogy) مالیگاؤں کی اولین ماہر امراض نسوااں بن کر مالیگاؤں کے سول اسپتال میں بطور ماہر امراض نسواں تقرری نامہ لے کر وطن واپس ہوئی ہیں گذشتہ ایک سال سے وہ ممبئی کے گرانٹ میڈیکل کالج میں پوسٹ گریجویشن کررہی تھیں گذشتہ روز جب نتیجہ ظاہر ہوا تو معلوم ہوا کہ گرانٹ میڈیکل کالج میں میں نازیہ آفرین نے تیسرا مقام حاصل کیا ہے۔

مالیگاؤں ، ۱۰ایک وقت تھا جب مالیگاؤں میں ایک بھی مسلم MBBSڈاکٹر نہیں تھا۔ 1945میں ڈاکٹر شیخ سلیم نے یہ معرکہ سر کیا۔ 1952میں ڈاکٹرپیر محمد رحمانی اور ان کے بعد ڈاکٹر خلیل انصاری نے اس اعزاز کو حاصل کیا تھا۔مسلم خواتین میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے والی پہلی خاتون ڈاکٹر شکیلہ چراغ حکیم بنیں ۔ دو دہائیوں کے وقفہ کے بعد ڈاکٹر آصفہ شیخ نے MBBS-MDکی ڈگری لے کر اپنا ذاتی اسپتال شروع کیا۔ لیکن نازیہ بلال نے کامیابی کی ایک نئی تاریخ مرتب کرتے ہوئے MBBS-MS gynaeclogyکا اعزاز حاصل کرلیا ہے ۔ اور اب وہ اگلے چند دنوں میں مالیگاؤں کے واحد سرکاری اسپتال میں اپنی طبی خدمات کا آغاز کرنے والی ہیں ۔ساتھ ہی ڈاکٹر نازیہ نے 2010 کے UPSCپرلم امتحان میں بھی کامیابی درج کررکھی ہے۔
1983میں مدرس پیشہ والدین کے یہاں آنکھ کھولنے والی اس بچی نے اپنی زندگی کیہر امتحان میں امتیازی درجہ کی کامیابی کا ریکارڈ بنایا ہے ۔ کے جی سے پی جی تک وہ سر فہرست ہی رہی 1999کے SSCامتحان میں ناسک ڈیوثرن میں لڑکیوں میں اول میرٹ مقام پایا تھا۔ اس کے بعد MHCET میں نمایاں کامیابی کی بنیاد پر دھولیہ کے گورنمنٹ کالج میں فری سیٹ حاصل کرکے MBBSکے فائنل اےئر میں ٹاپر کا اعزاز حاصل کیا بعد ازیں MHPG.CETمیں بھی میرٹ پوزیشن پاکر گرانٹ میڈیکل کالج میں میرٹ کی بنیاد پر داخلہ حاصل کرلیا ۔ ماہر تعلیم مبارک کاپڑی کے اس قول کے مطابق ’’ اپنی قابلیت کے اجالے سے تعصب کا اندھیرا ختم کردو‘‘ نازیہ نے ہر مقابلہ جاتی امتحان میں سخت محنت ، منصوبہ بند اسٹڈی کے ذریعے فری سیٹ حاصل کرلی ۔ ان کے والدین کو کسی بھی جگہ ڈونیشن ادا کرنے کی نوبت نہیں آئی۔
نازیہ کے والدین بلال احمد انصاری (BSCBEd) مالیگاؤں ہائی اسکول و جونئیر کالج کے سبکدوش پرنسپال ہیں نازیہ کی والدہ نسرین انصاری اسی ہائی اسکول میں انگریزی کی بہترین معلمہ تھیں ۔ اس ٹیچر جوڑے نے مالیگاؤں کی تعلیمی تاریخ میں ایک زبردست ریکارڈ بنایا ہے ان کے سبھی بچے میڈیکل کی اعلی ڈگریوں سے سرفراز ہیں بڑے بیٹے ڈاکٹر آفتاب (F.C.P.S. MS Artho) مالیگاؤں کے اولین مسلم ڈگری ہولڈر آرتھو پیڈک ڈاکٹر ہیں ان دنوں سعودی میں سرکاری ڈاکٹر کی پوسٹ پر مامور ہیں ان کی اہلیہ ڈاکٹر قرۃ العین بھی MBBS DGOہیں ۔ دوسرے بیٹے ڈاکٹر آفاق اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر جمیلہ دونوں BDSہیں اور مالیگاؤں میں دانتوں کا مطب کامیابی سے چلا رہے ہیں ۔ نازیہ کی چھوٹی بہن شمیلہ آفریں نے بھی امسال ہی MBBS کی ڈگری حاصل کرلی ہے اور ان دنوں انٹر نشپ کے دور سے گذر رہی ہے الغرض ایک ہی چھت کے نیچے آدھا درجن MBBSڈاکٹرس موجود ہیں ۔ یہی خانوادۂ بلال سر ہی نہیں مالیگاؤں میں درجنوں خاندان ہیں جن کے قابل سپوتوں نے تعلیم کے حوالوں سے اس شہر کی عظمت کو چار چاند لگانے کا کام کیا ہے۔ واقعی یہ سب ہمارے لئے قابل قدر ہیں انہی کیلئے سرمایہ افتخار کی اصطلاح موزوں تر ہے۔ اوان خاندانوں کی کوششوں سے مالیگاؤں کے محنت کش بنکر طبقہ میں علمی آسودگی کا 
احساس ہوتا ہے۔
فوٹو کیپشن : ڈاکٹر نازیہ بلال






Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP