You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label urdu drama. Show all posts
Showing posts with label urdu drama. Show all posts

Friday, October 21, 2011

اردو ڈرامہ کشمکش




Monday, June 20, 2011

محترمہ نورالعین علی






پچھلے سال کی بات ہے کہ بال بھارتی اردو پاٹھیہ پستک کے اسپیشل آفیسر خان نویدالحق اور ان کی اہلیہ خان عارفہ نویدالحق نے جب سے نورانی آپا کا ذکر کیا تھا ۔اس روز سے مجھ میں نورانی آپا ( محترمہ نورالعین علی ) سےملنے کی خواہش پیدا ہو گئی تھی ۔ مگر مصروفیت کی بناء پر ان سےملاقات نہ ہو سکی ۔مگر آج میری آرزو پوری ہو گئی ۔ جب ہم ان سے ملنے ان کے گھر گۓ ۔نورانی آپا بہت ہی ملنسار شخصیت کی مالک ہے ۔انھوں نےاپنی پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے بچپن کی بہت سی باتیں بتائی ۔ کہ کس طرح پہلی بار انھوں نے پانچ سال کی عمر میں ڈرامے راجہ ہرش چندر میں سادھو کا کردار نبھایا تھا ۔ اور ان کے کام کی تعریف کی گئ ۔ اس کے بعد انھوں نے اسکول اور کالج کے زمانے میں کئی ڈراموں میں کام بھی کیا ۔اور انھیں ڈرامے لکھنے کا شوق پیدا ہوا ۔نورلعین علی کی پیدائش 27 فروری 1930ء کو امراوتی میں ہوئی ۔
محترمہ نورا
لعین علی ایسے علمی گھرانے سے تعلق رکدھتی ہیں ۔جس میں میرٹھی
تہذیب اور انسانی اقدار کی پاسداری اپنے پورے وقار اور توانائی کے ساتھ جلوہ گر رہی ہے ۔ آپ کا تعلق بچوں کے مشہور شاعر مولوی اسمعیل میرٹھی کے خاندان سے ہیں ۔ مّثالی
تہذیبی ماحول ۔ اعلی تعلیم حیرت انگیز مطالعہ ،تجزیے کی صلاحیت اور استدلال کی قوت نے ان کی شخصیت کو اعتبار کا درجہ دیا ہے ۔ان کے ڈراموں کا پہلا مجموعہ '' بہو کی تلاش ''ہے ۔انھوں نے مختلف جماعتوں کی درسی کتابوں کے کہانیاں ، مضامین ،نظمیں ،مکالمے ،ڈرامے ،سوانحی خاکے وغیرہ لکھے ۔نیز سماجی ومعاشرتی مسائل پر ڈرامے لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ان کے لکھے ہوۓ اردو ڈرامے ''سوچ لیجیے " اور ڈرامے "" کینسر ''' کو اول انعام دیا گیا اور آج بھی وہ ممبئی یونیورسٹی اور ناگپور نیورسٹی میں ایم اے کے نصاب میں شامل ہیں ۔ دوران ملازمت نورانی آپا آکاش وانی کے لۓ بھی لکھتی رہی ہیں ساٹھ سے زائد ڈرامے اور خاکے ریڈیو پر پیش کر چکی ہیں ۔ اور یہ ڈرامے اور خاکے خود ان کی اپنی آواز میں نشر کۓ جاتے تھے ۔ ان کے ڈرامے ''ہے اور کوئی راستہ ؟''اور وہ بولتے کیوں نہیں ؟'' اور ڈرامے سراب کی خصوصیت یہ ہے کہ سب کی تھیم ایک ہی ہے یعنی سب انسانی حقوق سب کے لۓ '' ان ڈراموں میں انھوں نے ایک نئ تکنیک اپنائی ہے ۔
نورانی آپا کے ڈرامے طبعزاد ہوتے ہیں ۔ان کے تمام ڈراموں میں اوریجنلٹی ہے اور ایک اہم خوبی ان کی مقصیدیت ہے انھوں نے کسی نہ
کسی سماجی ، معاشی یا معاشرتی مسئلے کو موضوع بحث بنایا ہے ۔ انھیں عورتوں کے مسائل سےخصوصی دلچسپی رہی ہے وہ اصولی طور پر مساوات مرد وزن کی قائل ہیں ۔۔ سماج میں جہاں اور جب عورتوں کے حقوق غصب کۓ گۓ انھوں نے جلد ہی اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ان کا ہر ڈراما ایک جراءت مند مثالی خاتون کے تشخیص کا تعین کرنے میں سرگرداں نظر آتا ہے ۔ ان کے ڈراموں کی سب سے اہم خوبی یہ ہےکہ انھیں اسٹیج کیا جاسکتا ہے ۔یہ خوبی اردو کے بہت کم و بیش ڈراما نگاروں میں پائی جاتی ہے ۔

Wednesday, June 08, 2011

رنگ تمثیل






































کردار آرٹ اکیڈمی کے سلور جبلی کی تقریبات کے موقع پر ساٹھے آڈیئوٹوریم ولے پارلے (ایسٹ) ممبئی ہندوستان میں بروز سنیچر مورخہ 4 جون 2011 ء کو شام پانچ بجے دو روزہ ڈراما فیسٹول کا افتتاح شہرہ آفاق ہدایت کار ، اداکار اور این ایس ڈی کے سابق چیئرمین پدم شری رام گوپال بجاج کے بدست انجام پایا ۔شمع فروزی کے موقع پر بزرگ صحافی لاجپت راۓ ، مشہور ڈراما کار ساگر سرحدی ،کامریڈ اسرار انصاری ، عبدالغفار ملک اور عثمان جوہری ( جلگاؤں ) بھی اسٹیج پر موجود تھے ۔ رفیق گلاب نے حمد وثناء کے اشعار سے فیسٹول کا آغاز کیا ۔ اس موقع پر بجوبھائی '' پدم شری رام گوپال بجاج نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ''ویسے بھی ہماری جمہوریت میں ناٹک بہت ہورہے ہیں ۔ہمارے چاروں طرف لیکن آپ کو منچ پر اچھے اور دعوت فکر دینے والے ڈرامہ دیکھنا چاہیے ۔ہم تقریریں تو کرتے ہیں ہمیں عمل بھی کرنا چاہیۓ ۔ کردار اکیڈمی کے ڈائریکٹر اقبال نیازی نے مہمانان کا خیر مقدم کیا ۔اور اس ڈراما فیسٹول کی ضرورت اور اہمیت پر روشنی ڈالی ۔ کردار کی طرف سے اس فیسٹول میں بزرگ ڈرامہ کاروں کی طویل خدمات کے اعتراف میں خصوصی ایوارڈ اور اعزازات ديے گۓ ۔جن میں محترمہ نورالعین علی ، بانو سرتاج (ناگپور )رشید انجم ( بھوپال) اور سیف حیدر حسن کے نام شامل ہیں ۔پرنسپل سہیل لوکھنڈوالا نے ممبئی میں ہونے والی ڈراما سرگرمیوں پر ماضی کے حوالے سے بے حد معلومات افزا تقریر کی ۔ او کہا کہ میں نے خود کئی ڈراموں میں کام کیا ہے۔اور ڈرامے کو علم و ادب سے جوڑنا ضروری ہے ۔اس موقع پر یاتری گروپ کے ممبئی کے ڈائریکٹر شری اوم کٹارے نے کہا کہ کوئی بھی منچ چھوٹا بڑا نہیں ہوتا ۔انہوں نے کردار کے فنکاروں کی ستائش کی اور کہا پچھلے پچیس برسوں سے یہ گروپ تھیٹر کے ہۓ کام کررہا ہے تو ضرور اس کے فنکار جنونی ہے ۔اور آج ایسے ہی جنون کی ضرورت ہے ۔ یہ دو روزہ ڈراما فیسٹول میں ـآٹھ ڈرامے اسٹیج پرپیش کۓ گۓ ۔ جنہیں شائقین نے بہت پسند کیا ۔
دوسرے روز 5 جون 2011ء کو شام ٹھیک پانـچ بجے
جناب نواب ملک ایم ایل اے کے ہاتھوں سعادت حسن منٹو صدی کے موقع پر خصوصی طور پر منٹو کے لۓ مختص ڈرامہ سیشن کا افتتاح کیا ۔ اور کہا کہ ڈرامہ علم و ادب کا بڑا حصہ ہے اور یہ ہیرا میڈ کے مانند ہوتا ہے ۔ اور علم و شعور عطا کرتا ہے ۔بلکہ شعور کی بنیاد ڈرامہ ہے ۔ انہوں نے ڈرامہ کو درس و تدریس کے عمل مین لازمی قرار دیا ۔ دوسرے دن نظامت کے فرائض نگار سلطانہ اور نیّر حسن نے ادا کۓ ۔ ۔ایکجوٹ تھیٹر کی سربراہ نادرہ طہیر ببّر نے کردار کے پچھلے اور اس سال کے ڈرامے فیسٹول کا ذکر کرتے ہوۓ کہا کہ آج تھیٹر کو قائم رکھنا ۔ بے حد مشکل ہورہا ہے ۔ لیکن کچھ سرپھرے اور تھیٹر سے والہانہ عشق کرنے والے آج بھی اس سے جڑے ہوۓ ہیں ۔ اقبال نیازی اور ان کے ساتھیوں کی جتنی بھی ستائش کی جاۓ وہ کم ہیں ۔ دوسرے دن بطور خاص مرزا نثار بیگ ( ڈپٹی ای او ) پرنسپل امیر خان ، رشیدہ قاضی ،حامد اقبال صدیقی ،خالد شاہین پروفیسر نصرالدین قریشی ، فاروق سیّد اور صغیر احمد چودھری ،آخر تک موجود رہے۔تعلیمی سماجی ، ادبی اور صحافتی خدمات کے اعتراف کرتے ہوۓ پرنسپل سہیل لوکھنڈ والا اور نصیر پٹھان کو بھی خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔اور ساتھ ہی اردو سماج کو انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے جوڑنے کے لۓ ڈاکٹر روپیش سری واستو اور منور سلطانہ کو بھی خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ روزنامہ اردو ٹائمز کے پچاس سال مکمل ہونے پر صحافی خدمات کا اعتراف کرتے ہوۓ کردار آرٹ کی جانب سے خصوصی ایوارڈ امتیاز شیخ صاحب کے لۓ اخبار کے سنیئر رپورٹر جناب اسلم شیخ صاحب نے حاصل کیا ۔ دونوں دن آڈیوٹوریم شائقین ڈرامہ سے کھچاکھچ بھرا رہا ۔ یہ ڈرامہ فیسٹول کافی کامیاب رہا ۔

Friday, March 25, 2011

بھون ، کا لینہ کیمپس

ممبئی یو نیورسٹی کا لینہ میں رنگا ئن و سنت ڈراما میلہ
اردو ڈراما ’’عصمت آپا کے نام !‘‘ کے علاوہ رنگارنگ ڈراموں کی پیشکش ،داخلہ مفت
رپورٹ: اقبال نیازی
ممبئی یونیورسٹی نے کالینہ کیمپس میں’’ اکاڈمی آف تھیٹر آرٹس ‘‘ کے تحت ایک باقا عدہ مکمل شعبہ قائم کر دیا ہے،جہاں تھیٹر اور ڈرامو ں کی تر بیت دی جاتی ہے، پو سٹ گریجویشن سطح کا یہ شعبہ اب تک متعدد ف
نکار اردو ہندی ، مراٹھی اسٹیج کے لیے فراہم کر چکا ہے۔ اس کے ڈائر یکٹر اور صدر شعبہ مشہور ہدایت کار وامن کیندرے ہیں۔یہ شعبہ ہر سال کالینہ کیمپس میں ایک کل ہندسطح کے ڈرا ما فیسٹول کا انعقاد بھی کرتا ہے جس میں ہندوستان کے اہم ہدایت کاروں کے معیاری ڈرامے پیش کیے جاتے ہیں۔ امسال اکاڈمی آف تھیٹر آرٹس کا یہ سالانہ چھٹا ڈراما فیسٹول جسے ’’رنگائین و سنت ڈراما میلہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ویسٹ زون کلچرل سنٹر اودے پورکے تعاون سے ۲۱ مارچ بروز پیر سے ۲۸ مارچ تک کسما گراج مراٹھی بھاشا بھون اور مکت آکاش رنگ منچ کالینہ کیمپس میں ہونے جا رہا ہے۔ اس انوکھے ڈراما میلہ کا افتتاح شریمی و جیا مہتا کر یں گی اور نامور فلم اور تھیٹر اداکار پریش راول مہمانِ خصوصی
ہو ں گے ۔صدارت ممبئی یو نیورسٹی کے وائس کانسلر ڈاکٹر راجن ویلو کر کریں گے ۔ اس فیسٹول میں اردو ، مراٹھی ، ہندی ، انگریزی اور آسامی کے کل ۹ ڈرامے پیش کیے جا ئیں گے۔ اور مشہور ہدایتکار ان، علیق پدمسی ،نصیرالدین شاہ، فیروزعباّس خان،بنسی کول، ڈاکٹر کنک ریلے، کے ڈراموں میں شبانہ اعظمی ،
پری زاد زورابین، نصیرالدین شاہ، حبّہ شاہ، رتنا پا ٹھک شاہ جیسے فنکار اپنی اداکارانہ جو ہر کے خوبصو رت نمو نے اسٹیج پر پیش کر یں گے۔ اس فیسٹول میں اردو ڈراما ’’عصمت آپا کے نام‘‘ بھی پیش کیا جائے گا جس میں عصمت چغتائی کی تین کہانیاں چھوئی مو ئی، بغل بچہ ، اور گھر والی پیش کی جائیں گی۔ ذیل میں ڈراموں فیسٹول کی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔ اس میں داخلہ مفت ہے۔ فری انٹری پاس حاصل کر نے کے لیے ان نمبروں پر رابطہ قا ئم کر یں۔ ڈاکٹر منگیش 9920420388 * ملند انعامدار9820686506
* پیر ۲۱ مارچ شام6.30بجے : فیسٹول کا افتتاح اور مراٹھی ڈراما ’’گھاشی رام کو توال‘‘ ( ہدایت کار وجئے گو وند) مراٹھی بھا شا
* منگل ۲۲ مارچ شام ۷ بجے:’’ڈنر وتھ فرینڈز‘‘ (انگریزی) ہدایت کار فیروز عبّاس خان
* بدھ۲۳ مارچ شام ۷ بجے:رنگ و دوشک کا ہندی ڈراما’’تکّے پہ تکّا ‘‘ (ہدایت کار: بنسی کول ، بھوپال)
* جمعرات۲۴ مارچ شام ۷ بجے:’’بھوائی (گجراتی کے فوک فارم پر مبنی ڈراما) مکت آکاش رنگ منچ
* جمعہ۲۵ مارچ شام ۷ بجے:’’ایک شام عصمت کے نام!‘‘ ( اردو ہدایت کار : نصیرالدین شاہ: مراٹھی بھا شا بھون)
* سنیچر ۲۶ مارچ شام ۷ بجے:’’انیلا ئیٹیڈ ون ۔ ۔ گو تم بدھا‘‘ ڈانس ڈراما (ہدایت کار: ڈاکٹر کنک ریلے)
* اتوار ۲۷ مارچ شام ۴ بجے:گٹی پلھور گموسا( آسامی ڈراما)
* اتوار ۲۷ مارچ شام ۷ بجے:این وسنت اردھیہ راتری (مراٹھی ڈراما شیکسپیر کے مڈ سمر نا ئٹ ڈریم پر مبنی) ہدایت کار : ملند انعامدار
*پیر ۲۸ مارچ شام 6.30 بجے:فیسٹول کا اختتامی پروگرام اور انگریزی ڈراما ’’بروکن امیجیس‘‘ شبانہ اعظمی کا سولو پر فارمنس(ہدایت کار : علیق پدمسی)
اس کے علاوہ ۲۹،۳۰ اور۳۱رمارچ کی شام 6.30بجے اکاڈمی آف تھیٹر آرٹس کے طلبہ ڈرامے ’’ہم رہے نا ہم‘‘اور ’’کورٹ مارشل ‘‘کے شوز مکت آکاش رنگ منچ کا لینہ کیمپس میں ہوں گے۔

Sunday, January 02, 2011

چلڈرن فیسٹیول



ایس آئی او اور جماعت اسلامی ہند ممبئی میٹرو کے اشتراک سے چیلڈرن فیسٹیول پروگرام سنیچر 18 دسمبر2010 ء اور اتوار19دسمبر 2010ءکو جوگیشوری ممبئی میں دو روزہ فیسٹیول پروگرام عمل میں آیا ۔ اس میں 62 اسکولوں کے طلبہ نے حصّہ لیا ۔طالبات کے لۓ ڈرائنگ مقابلے ،کوئيز مقابلے نشانہ بازی کے مقابلے ، فن گیمس ،تعلیمی فلمیں ،سیمینار ،اسٹڈی ٹیکنیک ،گروپ ڈسکشن ،کوئيز فائنل اور ڈرامہ فائنل مقابلہ فن گیمس اور تعلیمی اور ایجوکیشنل نمائش رکھی گئ ۔تھیں ۔آخری دن اختتامی پروگرام میں حصّہ لینے والے اسکولوں کو انعامات سے نوازا گیا ۔ایک مکالماتی پروگرام ''نشہ بالکل نہیں ''کے عنوان پر پیش کیا گیا ۔اس میں بچوں نے کھل کر سوالات کۓ ۔کوئيز مقابلے میں الاتحاد جوگیشوری ،انجمن اسلام کرلا ، پٹیل ہائی اسکول ممبرا ، گلشن اسلام ساکی ناکہ اور مدنی ہائی اسکول ،جوگیشوری ، الفلاح ہائی اسکول ،اور انٹر اسکول ڈرامہ کمپٹیشن میں چار ڈرامے پیش کے گۓ ۔جس میں اقبال نیازی ( کردار آرٹ ) کے دو ڈرامے راکھشیش اور میرا نمبر کب آۓ گا ۔کو انعامات سے نوازا گیا ۔اس کے علاوہ بہترین ماڈلس شوٹنگ پر تھی پرائز دیا گیا ۔یہ فیسٹیول کافی کامیاب رہا ۔
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP