You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label Abdul Haleem Siddiqui. Show all posts
Showing posts with label Abdul Haleem Siddiqui. Show all posts

Friday, November 18, 2011

اہالیان مالیگاؤں








اہالیان مالیگاؤں نے ہم مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرکے اپنی سماجی و ملی بیداری کا ثبوت دیا 

( سات محروسین اور ان کے اہل خانہ سے عبدالحلیم صدیقی کی خصوصی ملاقات کے اقتباسات پیش ہیں ) 


(۱) ہمارا ساتھ بہت ظلم ہوا (شبیر احمد مسیح اللہ)

شبیر احمد مسیح اللہ کے گھر آج ملاقاتیوں کا تانتا بندھا ہوا ہے ۔ ان میں ان کے کاروباری احباب ، تاجر، تعلیم کے زمانے کے دوست اور رشتہ دار و پڑوسی سبھی ہیں ۔ جمعتہ علماء مالیگاؤں کا ایک وفد بھی گلدستہ اور مٹھائیاں لئے ہوئے مفتی آصف انجم کی قیادت میں براجمان ہے اور شبیر احمد انکے بھائی جمیل احمد کا خیر مقدم کیا جارہا ہے ۔
شبیر احمد کے مطابق رات ۳؍ بجے جب ہمارا قافلہ شہر میں داخل ہوا تو ہم یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے کہ پورا شہر جاگ رہا ہے ۔ جگہ جگہ روشنی ہے ، اور خوشی کا ماحول ہے واقعی یہ شہر بیدار شہر ہے ۔ ہم اس کی بیداری کو سلام کرتے ہیں ۔ مشاورت چوک میں جس طرح سے ہمارا استقبال کیا گیا ہم کبھی خواب میں بھی یہ نہیں سوچ سکتے تھے ۔ گھر پہنچتے پہنچتے رات کے چار بج گئے پانچ سال کے بعد اپنے اہل و عیال سے ملنے کی خوشی کیا ہوگی ہم بیان نہیں کرسکتے ۔ میرے بچے اسریٰ ، مجاہد عالم ، ذکرٰی ، معاذ ارقم ، پوری رات جاگتے جاگتے میرا انتظار کررہے تھے ۔ میں سب سے پہلے اپنے والد بزرگوار سے ملا فرط جذبات سے ان کی آنکھیں نم تھیں اور وہ اپنی زبان سے کچھ بھی کہنے سے قاصر تھے ۔ جب مالیگاؤں بلاسٹ ہوا تو میں خود ٹرین بلاسٹ میں جیل میں بند تھا مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مجھے اس دھماکے کا ماسٹر مائنڈ بنا کر پیش کیا گیا ہے جیل کے اندر ابتدائی دنوں میں پوچھ تاچھ اور تحقیقات کے نام پر ہم لوگوں پر جو ظلم کے پہاڑ توڑے گئے وہ ناقابلِ بیان ہے۔ میں ان تلخ یادوں سے آج ان مسرت آگیں لمحات کو برباد کرنا نہیں چاہتا۔ لیکن اللہ نے مجھے صبر دیا اور میں اس مصیبت کو جھیل گیا خدا کا شکر ہے کہ چارج شیٹ کے تمام الزامات کو میں نے دوسرے ہی دن جج کے سامنے مسترد کرتے ہوئے انھیں باور کردیا کہ اعترافی بیان پر دستخط دباؤ اور ظلم کے ذریعے لئے گئے ہیں ۔ جیل جانے سے پہلے کنگ آف بیٹری کہلانے والے شبیر احمد کی معثیت پوری طرح تباہ ہوچکی ہے ۔ میں جلد از جلد اپنے کاروبار کو پھر سے کھڑا کرنا چاہتا ہوں ۔ 
(۲) مالیگاؤں کی عوام نے ثابت کردیا کہ وہ بیدار شہری ہیں (ڈاکٹر سلمان فارسی) 

مضبوط قوت ارادی کے مالک ڈاکٹر سلمان فارسی جیل سے رہا ہونے کے دوسرے ہی دن اپنی بیگم ڈاکٹر نفیسہ کے مطب میں آبیٹھے کل سے وہ باقائدہ مریضوں کی تشخیص اور علاج و معالج کا سلسلہ شروع کررہے ہیں۔ ان کی گود میں اس وقت مطؤنہ موجود ہے ۔ مطۂنہ یہاں کے جے اے ٹی اسکول میں جماعت پنجم کی طالبہ ہے اور بیٹا عدی مقاتر بھی اے ٹی ٹی ہائی اسکول میں پانچویں پڑھ رہا ہے ۔ بڑ ابیٹا تمیم سالک پروگریسیو انگلش اسکول میں آٹھویں کا طالب علم ہے ۔ مالیگاؤں دھماکوں میں پھنسائے گئے ملزمین میں سب سے زیادہ پر جوش انداز ڈاکٹر سلمان فارسی کا نظر آیا انھوں نے جیل سے نکلتے وقت خالص اسلامی حلیہ بنایا تھا ۔ اس نے جمعتہ علماء مہاراشٹر کی ممبئی پریس کانفرنس میں بھی میڈیا کو مخاطب کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم اپنی رہائی کا کریڈیٹ اللہ رب العزت کو دینا چاہتے ہیں ۔ اسکے بعد اس نے کل جماعتی تنظیم ، جمعتہ علماء مہاراشٹر اور ممبئی و مالیگاؤں کی عوام سبھی چھوٹی بڑی تنظیموں کا شکریہ ادا کیا تھا۔ جیل سے نکلتے ہی انھوں نے سب سے پہلے مالیگاؤں میں نہال احمد سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم لوگ رات دیر گئے مالیگاؤں پہنچیں گے ۔ لیکن سب سے پہلے آپ کے دھرنا پنڈال میں مشاورت چوک پہنچ کر آپ لوگوں کا شکریہ ادا کریں گے اور واقعہ یہی ہے کہ پورا کارواں مشاور ت چوک پہنچا اور سبھی ملزمین کی طرف سے ڈاکٹر فارسی نے مالیگاؤں کی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر فارسی نے کہا کہ انھیں جیل میں رہتے ہوئے مالیگاؤں بلاسٹ کیس کی پوری پیش رفت سے اردوٹائمز نے باخبر رکھا۔ ہم نے بہت سارے خطوط جیل سے لکھے ۔ ہمارے ساتھیوں کے خطوط اس میں شائع بھی ہوئے ۔ اردو ٹائمز نے ہمارا درد پوری دنیا تک پہنچانے کا صحافتی فریضہ انجام دیا ہے ۔ ڈاکٹر فارسی نے کہا کہ ہم سب بے گناہ اور پھنسائے گئے لوگ تھے ۔ اگر مالیگاؤں کی عوام کی مخلصانہ جدوجہد اور تعاون نہ ہوتا تو ہم ٹوٹ جاتے ۔ موصوف نے اپنی پر عزم بیگم ڈاکٹر نفیسہ کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے شوہر کی غیر موجودگی کے باوجود گھر کے حالات کو سنبھالے رکھا۔ بچوں کی پڑھائی جاری رہی اور باعزت زندگی گذرتی رہی ۔ آپ نے تمام وکلاء حضرات کا بھی شکریہ ادا کیا۔ مالیگاؤں کی عوام نے ثابت کردیا کہ وہ بیدار شہری ہیں ۔ 
(۳) کیا ہمیں اسلامی تشخص کی سزا مل رہی ہے ؟؟(نورالہدی شمس الضحیٰ )

میں پانچ سال پہلے ایک مزدو تھا لیکن جیل میں پانچ سال گذارنے کے دوران میں نے عربی و اردو زبان کی در س وتدریس کے جو تجربات حاصل کئے ہیں میری خواہش ہے کہ میں اپنی بی اے کی ادھوری تعلیم مکمل کرلوں اور جلد از جلد ایک معلم کی حیثیت سے اپنا کیرئیر شروع کروں ۔یہ باتیں ہیں نورالہدی کی جس نے آج اردو ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم سے میڈیا والے پوچھتے ہیں کہ کیوں اور کس نے پھنسایا ۔ لیکن میں جواب دیتا ہوں کہ یہ سوال تو ان ظالم افسران سے پوچھا جائے جنھوں نے ہم کوپھنسایا۔ اور پوچھا جائے کہ کیوں پھنسایا گیا کیوں اس لئے کہ ہم مسلمان ہیں اور شریعت کے مطابق زندگی گذارنے میں یقین رکھتے ہیں نورالہدی نے اپنی بے گناہی پر دو ٹوک کہاکہ میں کسی بھی معاوضہ و ہر جانے سے بہلنے پھسلنے والا نہیں ہوں ۔ انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ اصل سازش کو بے نقاب کرکے ان کو جیل بھیجا جائے جو قصور وار ہیں۔ 
نورالہدی کے مکان واقع جعفر نگر جھوپڑپٹی میں آج جشن کا سماں ہے اس کے مکان پر پھیکا گلابی آئیل پینٹ کیا گیا ہے ۔ اور پوری گلی میں اور مکان پر چھوٹے بڑے قمقمے گلی محلے کے لوگوں نے اپنی خوشی سے آراستہ کئے ہیں۔ ملنے جلنے والوں کا تانتا لگا ہوا ہے اسی لئے آج گھر کا ہر فرد موجود ہے ۔ بوڑھا باپ شمس الضحیٰ اور دیگر برادران بھی آج یہ خاندان پاورلوم مزدوری کیلئے ڈیوٹی پر نہیں گیا۔ خوشی کا عالم یہ ہے کہ گھر کے سارے بچے اور خواتین نے عید کے اٹھا رکھے گئے نئے کپڑے پہن رکھے ہیں ۔ نورالہدی کے والدنے کہا کہ ہمیں آج ادھوری خوشی ملی ہے سچی اور مکمل خوشی تو اس وقت ملتی جب حکومت سچائی جان لینے کے بعد مقدمہ واپس لے لیتی اور باعزت بری کرنے کا فیصلہ آتا۔ 
(۴) ’’ صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آیا‘‘ ( ابرار احمد غلام احمد )

’’ صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آیا‘‘ ابرار کی اپنے والدین کے گھر واپسی کا سماں اسی قول کی ترجمانی کررہا ہے ۔ 80سالہ بوڑھا باپ فرط مسرت سے روتے ہوئے اپنے لاڈلے بیٹے کو گلے لگا رہا ہے ۔ ایک دن وہ تھا جب اسی غیرت مند باپ نے اعلان کردیاتھا کہ اگر ابرار سرکاری گواہ بن گیا ہے تو اس کا ہمارے خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہم اس کا نام سننا بھی پسند نہیں کرتے ۔ آج وہ دن ہے جب ابرار سب کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا ہے ایک دن وہ تھا جب اس کے سرکاری گواہ بننے کی خبر سے پورے محلے میں غصے کی لہر پھیلی تھی اور اس عمارت کو لوگ نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے ۔ جہاں آج ابرار سے ملنے جلنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے ۔ ابرار کے بھائی فرید نے بتایا کہ پورا محلہ رات بھر جاگتا رہا۔ ابرار گھر پہنچا سبھوں نے اسکا استقبال کرلیا۔ تب لوگ کچھ دیر کیلئے سوگئے صبح سے پھر ملاقاتیوں کا تانتا ہے۔ ابرار نے اپنی بے گناہی کے سلسلے میں کہا کہ جب مجھے چارج شیٹ کے متعلق معلوم ہوا تو میں حیرت زدہ رہہ گیا۔ جن لوگوں کو میرے نام پر پھنسایا جارہا تھا ان میں سے اکثر کو میں تو جانتا تک نہیں تھا۔ سبھی ملزمین سے میری واقفیت کورٹ کی تاریخوں پر ہوئی۔ شبیر مسیح اللہ سے انورٹر کی خریدی کرتا تھا۔ اسی لئے تھوڑا تجارتی تعلق تھا ۔ باقی لوگوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ ابرا ر نے بتایا کہ میری حماقت کی وجہ سے میرے گھر والوں نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور بم دھماکوں کے بعد 30جنوری 2009والے دن میرے بھائی جلیل احمد پہلی بار جیل میں ملاقات کیلئے پہنچے تھے ۔ اس سے قبل تو بالکل اکیلا تھا۔ جیل میں میرا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ ابتدائی مہینوں میں اے ٹی ایس کے سدا نند پاٹل اور انسپکٹر سچن کدم کی جانب سے مجھے جیب خرچی کیلئے منی آرڈر ملا کرتے تھے یہ رقم دو ہزار سے لے کر پندرہ سو یا کبھی ایک ہزار بھی رہا کرتی تھی۔ ابرا رکے مطابق مجھے سرکاری گواہ بنانے کیلئے میرے سالے اور میری بیوی نے پولس سے ساز باز کی تھی اور مجھے تھپتھپائے رکھتے تھے ۔ جس وقت مجھے اپنے بھائی کی ہیبس کارپس رٹ پیٹشن کے عوض ممبئی ہائی کورٹ میں پیش کیا گیا تھا تب میں پولس والوں کی گھیرا بندی اور دباؤ میں تھا ۔ مجھے سچ بولنے سے روکا گیا تھا۔ لیکن جب میں نے سچ بولنے کی ٹھانی اور اپنے گھر پر خطوط لکھے تو کوئی سال دیڑھ سال تک جواب نہیں آیا میرے گھر والے سخت ناراض تھے ۔ میں نے تقریباً 65خطوط لکھے اور معافیاں مانگیں تب 30جنوری 2009کو میرے بھائی پہلی بار جیل میں آئے اور تلقین کی کہ جو بات سچ ہے وہی کہو گے تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے پھر میں نے اپریل مہینے میں نیا حلف نامہ لکھوایا اس سے قبل چار سال تک کیا چلتا رہا مجھے کچھ پتہ نہیں ۔ باہر کی دنیا سے مجھے لاعلم رکھا گیا ۔ بائیکلہ جیل میں مجھے اردو ٹائمز اخبار جون 2010سے ملنا شروع ہوا جس کیلئے میں نے باقاعدہ عریضہ دیا تھا کہ مجھے روز اخبار چاہئے ۔

میں نہ صرف اخبار والوں بلکہ سبھی علماء کرام اور مسلم تنظیمیوں کا کل جماعتی تنظیم و جمعتہ علماء کا شکر گذار ہوں ۔ اس موقع پر ایڈوکیٹ جلیل انصاری نے جمعتہ علماء کے ذمہ داران ارشد مدنی ، محمود مدنی اور شفیق قاسمی وغیرہ کے خصوصی تعاون اور مستقل رابطہ کا ذکر بھی کیا اور سبھی مسلم تنظیموں کا شکریہ اداکیا۔ 
(۵) میں نے زندگی میں کبھی ابرار سے ملاقات نہیں کی تھی ( مولانا زاہد عبدالمجید) 

مولانا زاہدیوں تو جیل سے رہا ہوچکے ہیں لیکن ڈر ، خوف ، مصیبت ان کا پیچھا نہیں چھوڑرہی ہے اس با عمل صالح فکر انسان پر ابھی اور آزمائشوں کا دور باقی ہے آج شام جب ہم نے اس سے عائشہ نگر کے ایک مکان میں ملاقات کی تو وہ اپنی والدہ کا انتطار کرتے بیٹھا تھا۔ جو رہائی ملنے کے بعد اب تک اس سے نہیں مل سکی تھی مولانا زاہد کی سیمی سے وابستگی سے سخت نالاں والد عبدالمجید ماسٹر تو اس قدر ناراض ہیں کہ جیل سے آئے بچے کو اپنے گھر میں داخل ہونے تک کی اجازت نہیں دی۔ مجبوراً زاہد اپنی خالہ کے گھر چلا گیا اور وہیں مقیم ہے ۔ زاہد کو لینے کیلئے ممبئی تک اس کی ساس مونسہ اور بیوی سلمی بھی آئیں تھیں ۔ جو چار پانچ دن تک مفتی اسمعیل کے ایم ایل اے ہاسٹل میں رہائی کی منتظر تھیں ۔ بہرحال ان دونوں مونسہ اور سلمی کا اب اس دنیا میں زاہد کے علاوہ دوسرا سہارا نہیں ہے پانچ برس تک دوسروں کے گھر کے جھوٹے برتن مانجھ کر گذر بسر کرنے اور بہت مرتبہ فاقہ کشی کرنے والی یہ پرعزم خواتین آج بھی سچی خوشی کو ترس رہی ہیں ۔ زاہد کے والد عبدالمجید کو غلط فہمی ہے کہ اس کے سیمی سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ہی ان کے خاندان پر مصیبت کے پہاڑ ٹوٹے ۔ اسلحہ ضبطی کیس کے دوران زاہد کو تلاش کرنے والی پولس نے زاہد کی جگہ چھوٹے بھائی جاوید کو پکڑ لیا۔ لیکن اس غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے زاہد کہتے ہیں کہ پولس نے جان بوجھ کر جاوید کو پھنسایا وہ میرے ساتھ آرتھر روڈ جیل میں ایک ہی کمرے میں بند تھا اسی لئے میں سارے حقائق جانتا ہوں۔ ہم دونوں بھائیوں میں آپسی محبت و اخلاص ہے اور کہیں کوئی غلط فہمی نہیں ہے ۔ زاہد کو آج ساڑھے سات سال کے بعد مالیگاؤں میں داخلہ نصیب ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بار بار کی پولس چھان بین سے وہ 2004میں ہی ہجرت کرکے خاموشی سے پوسد کے قریب ایک گاؤں میں امامت کرنے لگا تھا۔ تب سے اس نے مالیگاؤں کا رخ کرنا چھوڑ دیا تھا۔ لیکن اے ٹی ایس نے اس کو جھوٹے الزام میں جب پھنسایا تو اردو ٹائمز کی ٹیم نے ہی سب سے پہلے پوسد پہنچ کر حقائق کا پتہ لگایا اور گاؤں والوں سے معلوم کرنے پر یہ انکشاف ہوا کہ زاہد مولانا تو بم دھماکے والے دن مسجد میں ہی موجود تھے جس کی گواہی کل جماعتی تنظیم کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کو اجتماعی حلف نامہ کی صورت میں دی گئی۔ جب کہ اے ٹی ایس نے الزام رکھا کہ ابرار کے ساتھ مل کر زاہد نے مشاورت چوک میں بم رکھا۔ آج زاہد نے کہا کہ میں نے زندگی میں کبھی ابرار سے ملاقات نہیں کی تھی ۔ نہ ہی میں اسے نام و شکل سے جانتا تھا۔
پانچ سالہ قید و بند کے دوران زاہد نے حفظ قرآن مکمل کرلیا اور جیل میں گذشتہ دو سال سے ماہِ رمضان میں تراویح کی امامت بھی فرمائی ۔ اب مستقبل میں وہ مالیگاؤں کی ہی کسی مسجد میں امامت و معلمی کا پیشہ اختیار کرنا چاہتے ہیں ۔ 
(۶) پوری ملت کی ترجمانی اردو ٹائمز کے ذریعے ہورہی تھی (رئیس احمد رجب علی) 

انورٹر کے کاروبار میں اپنے بہنوی شبیر احمد مسیح اللہ کا ہاتھ بٹانے کی سزا پانے والے رئیس احمد آج اپنی رہائی پر بہت خوش و خرم ہیں اپنے بچوں کی تعلیمی پیش رفت کو جان کر ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں اور ساتھ ہی ان کے جیل جانے کے چند دنوں بعد ہی ولادت پانے والی معصو م عائشہ اب پانچ سال کی ہوگئی ۔ اور جے اے ٹی اسکول کی جونئیر کے جی میں زیر تعلیم ہے ۔ اس بچی کو پہلی بار اپنے باپ کی گود نصیب ہوئی۔ ان کے دیگر بچوں میں بڑی بیٹی فرحین بارہویں جماعت میں نمایاں نمبرات حاصل کرنے کے بعد ڈی ایڈ کورس میں زیر تعلیم ہے اور معلمہ بننے کی تیاری کررہی ہے۔ بڑا بیٹا دانش بارہویں میں زیر تعلیم ہے ۔ اس نے باپ کی جدائی کے صدمہ کے باوجود SSCمیں اچھی پوزیشن حاصل کی ۔ اور کئی مقابلوں میں حصہ لے کر انعامات حاصل کئے ۔ فائزہ گیارہویں اور اسامہ ساتویں جماعت میں پڑھ رہے ہیں ۔ سارے بچے باپ کو گھیرے ہوئے ہیں اور گھر کے باہر برقی قمقموں کی لڑیاں یہ ظاہر کررہی ہیں کہ رئیس رجب کی رہائی میں پورا محلہ خوش دشرسار ہے ۔ کثیر العیال خاندان کی کفالت کرنے والے رئیس کے خاندان کو اس کے سالے خلیل احمد نے خوب کوب سہارا دیا۔ اور جمیل مسیح اللہ کی مسیحائی بھی رنگ لائی ۔ جنھوں نے تمام قانونی معاملات کو دیکھا۔ جیل کے اندر موقع ملنے پر رئیس نے پہلی بار ناظرۂ ختم قرآن کی سعادت حاصل کی ۔ اور اسلحہ ضبطی کیس کے ملزم بلال کاتب ان کے عربی کے استاذ تھے۔ اس کامیابی میں اردو اخبارات کے کردار پر بات کرتے ہوئے رئیس احمدرجب علی نے تمام اردو اخبارات سمیت اردو ٹائمز کی جم کر تعریف کی اور کہا کہ یہی اخبار ہمیں جیل میں میسر تھا اور ہم اس کی خبروں سے انداز لگا رہے تھے کہ ہماری بے گناہی پر ہم اکیلے آنسو نہیں بہارہے ہیں ۔ بلکہ پوری ملت کی ترجمانی اردو ٹائمز کے ذریعے ہورہی تھی ۔
(۷) قید و بند نے ڈاکٹر فروغ مخدومی کو ایڈوکیٹ کا کردار نبھانے پر مجبور کیا 

اس ساز ش کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پھنسائے گئے سبھی ملزمین میرے لئے انجان تھے سوائے شبیر احمد مسیح اللہ کے میں کسی کو نہیں جانتا تھا۔ا ور شبیر احمد سے بھی معمولی تعلقات تھے اور7مئی 2006کونورالہدی کی شادی کی تقریب میں جس سازشی میٹنگ کا تذکرہ چارج شیٹ میں لگایا گیا ہے اسی دن تو میرے بیٹے حسن کی پیدائش کی خوشی میں تقریب عقیقہ تھی سارے دوست احباب میرے گھر دعوت پر تھے ۔ ڈاکٹر مخدومی نے دعوی کیا کہ اگر سی بی آئی غیر معمولی تاخیر نہ کرتی اور مکوکا پر سپریم کورٹ میں میں دائر جمعتہ علماء کی پٹیشن کے سبب سماعت پر اسٹے آرڈر نہیں ملتا تب میں اپنی ذاتی جرح کی بدولت کیس سے باعزت بری ہوجاتا ۔ لیکن حالات نے ساتھ نہیں دیا اور جمعتہ علماء نے جن وکلاء کی خدمات حاصل کررکھی تھیں ان کو ہمارے مقدمہ پر توجہ دینے کی زیادہ فرصت نہیں تھی اسی لئے میں نے جج کو ڈسچارج عریضہ دے کر خود بحث کا آغاز کیا جو 3ماہ کے دوران پوری ہوئی میری اٹھارہ گھنٹہ کی بحث مجھے بے قصور ثابت کرنے کیلئے کافی تھی ۔ پیشے سے ڈاکٹر رہنے کے باوجود 2003میں LLBمیں داخلہ لینے والے ڈاکٹر مخدومی کو وکالت اور قانون کی تعلیم سے دلچسپی جیل میں خوب کام آئی اس نے جیل کے اندر اسے اپنا مشغلہ بنا لیا۔ بہت سارے ملزمین کیلئے عریضہ تیار کرنا۔ پٹیشن لکھنا اور عدالت سے انصاف دلانا اس کا معمول تھا۔ آرتھر روڈ میں ڈاکٹر فروغ مخدومی ، ایڈوکیٹ مخدومی کے نام سے مشہور ہوئے اپنے ساتھی ملزمین کی خوب مدد کی۔ ڈاکٹر مخدومی نے خود بتایا کہ پہلے ایک سال میں نے اے ٹی ایس کی چارج شیٹ کا مطالعہ کیا اور دوسرے سال اس کا اردو ترجمہ کرکے اپنے دیگر بے قصور ساتھیوں کو بتلایا ۔ میں نے فارغ اوقات میں RTIقانون کا فائدہ لیتے ہوئے اپنے لئے اور دیگر ہندو مسلم ملزمین کیلئے عریضے تیار کرکے ان کی قانونی مدد کی۔
فروغ مخدومی کے والد اقبا ل مخدومی نے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں اپنے ساتھی جمیل مسیح اللہ کے ساتھ مل کر غیر معمولی جدوجہد کی ہے جس کا اعتراف سبھی ملزمین کے رشتہ دار کرتے ہیں۔ اقبال مخدموی نے بتایا کہ میرا بیٹا تصویر کشی نہیں چاہتا اسی لئے جیل سے نکلنے کے بعد ہم لوگ سیدھے اس کے قریبی دوست کے گھر گئے پھر دفتر جمعیت علماء ( امام باڑہ) پہنچے اور وہاں سے مسجد اہلحدیث مومن پورہ گئے پھر مالیگاؤں پہنچ کر مشاورت چوک اور دفتر جمعتہ علماء تک گئے ۔ ہم نے سب سے مل کر شکریہ ادا کیا۔ ہمیں ہر طبقہ کا تعاون ملا ہے۔ 
***

Sunday, October 30, 2011

مسلم یونیورسٹی شاخ : مانگے کا اجالا


عبدالحلیم صدیقی
مسجدوں ، میناروں اور درس گاہوں کے شہر مالیگاؤں میں گذشتہ26اکتوبر کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ کھولے جانے کے خلاف ہندو فرقہ پرست تنظیموں کی جانب سے منظم و منصوبہ بند طریقے پر شرمناک احتجاج درج کرایا گیااور اے ایم یو وائس چانسلر پی کے عبدالعزیز اور ان کی پانچ رکنی ٹیم کو یونیورسٹی برانچ کیلئے مجوزہ تین سو ایکڑ قطعۂ اراضی کا دیدار بھی نصیب نہ ہوا۔ اس عوامی احتجاج پر اے ایم یو ٹیم کا مایوس ہونا فطری تھا ۔ لیکن اس سے بھی شرمناک بات یہ ہوئی کہ موقع پر موجود ضلع کلکٹر اور سپرٹنڈنٹ آف پولس انکے حفاظتی دستے اس سارے ڈرامہ کے دوران خاموش تماشائی بنے رہے ۔ کیا وہ بھی اس ڈرامے کے ایک کردار تھے ؟ اگر کوئی ان سے پوچھے کہ مسلم یونیورسٹی کی بجائے بنارس ہندو یونیورسٹی کی برانچ کھلنے کا معاملہ ہوتا اور احتجاج کرنے والے مظاہرین کلمہ گو ہوتے تو کیا ا ن پر لاٹھی چارج نہیں ہوتا؟؟ کیا بندوقیں نہیں تانیں جاتیں ؟؟ کسی کو حیرت نہ ہوتی اگر مسلمانوں کے خون سے زمین سرخ نہ ہوجاتی ۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ۔ ا ور یہی ہندوستان کی تاریخ رہی ہے کہ یہاں مظاہرین کا مذہب دیکھ کر ان کے ساتھ سلوک ہوتا ہے کرافورڈ مارکیٹ ممبئی میں سلمان رشدی کے خلاف احتجاج کررہے 12مسلمانوں کی شہادت سے لے کر لال گڑھ کے المیہ تک ہزاروں کربناک مثالیں موجود ہیں ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ مالیگاؤں کے قریب کجواڑے دیہات میں اے ایم یو کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو بھون دینا تھا ۔ لیکن دیکھنے والوں نے دیکھا کہ ایک ہزار مظاہرین کے آگے پوری سرکاری مشنری بے بس کھڑی تھی اور جس مقصد کو لے کر پی کے عبدالعزیز اور انکے رفقائے کار بارہ سو کلو میٹر کا لمبا سفر طئے کرکے مالیگاؤں پہنچے تھے وہ مقصد نجی نہیں خالص سرکاری تھا اور مہاراشٹر سرکار کی دعوت پر یہ وفد مالیگاؤں پہنچا تھا ۔ لہذا سرکاری عملہ کو اپنا فرض نبھانا چاہئے تھا۔ سرکاری کام میں مداخلت کرنے پر کوئی ایکشن لینا تو دور بعد میں مظاہرین کے خلاف کیس بھی درج نہیں کیا گیا ، گرفتاریاں بھی نہیں ہوئیں۔ ویسے اس معاملے میں کچھ بنیادی کمزور یاں بھی ابھر کر سامنے آچکی ہیں ۔ اول یہ کہ ضلع کلکٹر نے مالیگاؤں سے متصل جس قطعۂ اراضی کا انتخاب کیا اس سے بددرجہ ہا بہتر جگہ منماڑ ، مالیگاؤں روڈ اور دھولیہ روڈ پر نیشنل ہائی وے سے لگ کر تلاش کی جاسکتی تھی جو زیادہ محفوظ اور سہولت آمیز ہوتی ۔ لیکن اس معاملے میں مالیگاؤں کی سیاسی قیادت کمزور اور بے اثر ثابت ہوئی ۔ اور اگر بالفر ض یونیورسٹی کیمپس وہاں تعمیر ہو بھی جاتا ہے تو فرقہ وارانہ ماحول کے پیش نظر مسلمانوں کیلئے یہ جگہ کسی طرح بھی محفوظ اور اطمینان بخش نہیں ہے ۔ رہا سوال اے ایم یو کی شاخ کا تو یہ خالص سرکاری مسئلہ تھا ۔ مالیگاؤں کے مسلمانوں نے کبھی بھی اس شاخ کا مطالبہ نہیں کیا تھا ۔ یہ تو خود حکومت مہاراشٹر کی پیشکش تھی اور وہ بھی ان حالات میں جب مالیگاؤں 2006کے بم دھماکوں سے لہولہان تھا اور پوری دنیا میں ہندوستان کی شبیہہ خراب ہورہی تھی۔ کچھ دن گذرے نہ تھے کہ ایک بار پھر 2008میں اس شہر کو نشانہ بنایا گیا۔ اور جب ان دھماکوں کے عوض ہیمنت کرکرے نے ہندو دہشت گروں کی گردنیں ناپیں تو حکومت مہاراشٹر کی پیشمانی بڑھ گئی ۔اسے اپنی غلطیوں کا احساس ہوا ۔ اور مالیگاؤں کے معاملے میں محض اپنی خفت اور رسوائی مٹانے کے خیال سے ریاستی حکومت نے اے ایم یو کی مہاراشٹر برانچ کیلئے سب سے پہلے مالیگاؤں کا نام پیش کیا۔ اس دوران ایک صنف نازک جنھیں ریاستی وزیر کا درجہ حاصل ہے لیکن افسوس کہ وہ خود کو علاقائی وزیر بنا بیٹھی ہیں ۔ نے اپنی ٹانگ اڑا دی اور اے ایم یو کی شاخ کیلئے اورنگ آباد کا متبادل بھی پیش کیا اور لگیں ۔ اس کے پیچھے دوڑ بھاگ کرنے ، انھیں مالیگاؤں کے مظلوموں سے کوئی ہمدردی نہیں تھی وہ صرف اپنی سیاسی دکان چمکانے کی فکر میں تھیں ۔محترمہ نے بحیثیت وزیر تعلیم مالیگاؤں کی کبھی کوئی مددد تو کی نہیں نئے اسکولوں کی پرمیشن کا معاملہ ہو یا گرانٹ کے معاملات ان کی ساری توجہ مراٹھواڑہ پر ہی مرکوز رہی ۔ خیر جب معاملہ مذید آگے بڑھا تو اے ایم یو کے پاس مہاراشٹر میں ایک نہیں دو مراکز تجویز کئے گئے آج کے دور میں غریب پسماندہ کالی کلوٹی بے رونق دلہن کون پسند کرتا۔ وہی حال مالیگاؤں کا بھی رہا ۔ اے ایم یو کی ٹیم کو خلد آباد کے تاریخی پر فضاء سیاحتی مرکز کی اراضی زیادہ پسند آگئی اوپر سے مالیگاؤں میں فرقہ پرستوں نے احتجاج کرکے فوزیہ خاں کا کام آسان کردیا۔ اب وہ لے جائیں اس یونیورسٹی کی شاخ ، مالیگاؤں کے لوگوں کو ویسے بھی مانگے کا اجالا پسند نہیں ۔ مالیگاؤں کی تاریخ تو یہ رہی ہے کہ اس شہر کے محنت کش طبقہ نے اپنی دنیا آپ بسائی ہے پہلے انگریزی حکومت اس شہر کو نشانے پر رکھتی تھی ۔ اب ان کی جگہ سیاہ فام انگریز آئے ہیں ۔ مالیگاؤں میں آج تک کوئی سرکاری کالج نہیں کھلا ۔ پھر بھی یہ مہاراشٹر کے اہم تعلیمی مراکز میں شمار ہوتا ہے یہاں کے مسلمانوں نے 1921میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کرکے نہ صرف آزادی حاصل کرلی تھی بلکہ مالیگاؤں کی اپنی عبوری حکومت اور اس کا وزیر اعظم بھی طئے کردیا تھا ۔ یہاں وہ لوگ آباد ہیں جن کے آباء واجداد کے خون سے 1857کی جنگ آزادی کی تاریخ کے ابواب روشنی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزوں نے اس شہر کو ریلوے لائن سے محروم رکھا ۔ آزادی ملتے ہی یہاں کے سادہ لوح ملی رہنماؤں نے مذہبی و عصری تعلیم کے ادارے کھولے ۔ جہاں دنیا کے کونے کونے سے تشنگان علم اپنی پیاس بجھانے پہنچتے ہیں یہی وہ شہر ہے جس کے مدرسہ ملت کو دارالعلوم دیوبند کی شاخ کہا جاتا ہے اور اسی مدرسہ ملت کی درجنوں شاخیں مراٹھواڑہ میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ یہاں کے جامعتہ الصالحات میں امریکہ ، افریقہ ، برطانیہ تک سے طالبات علم داخلہ پاتی ہیں اور جامعتہ الصالحات کی شاخیں لندن ،نیو یارک ، ٹورنٹو ، جیسے شہروں میں بھی قائم ہیں ۔ یہ ادارے خود اپنے آپ میں اے ایم یو جیسی حیثیت رکھتی ہے۔
آج آزادی کے 65سال بعد بھی مالیگاؤں میں گورنمنٹ کے ٹیکنکل کالج میڈیکل کالج ، ڈگری کالج ، نہیں کھلے ۔ چار سال قبل مہاراشٹر حکومت نے مہاراشٹر کے پانچ مسلم اکثریتی شہروں میں گورنمنٹ پالی ٹیکنک و انجینئرنگ کالج کھولنے کا اعلان کیا تھا ۔ فہرست میں مالیگاؤں کا نام بھی تھا لیکن اس وعدے پر آج تک عمل نہیں ہوا۔ ریاستی حکومت جب اپنے حصے کا کام نہیں کرسکی تو علی گڑھ والوں سے کیوں کر امید وابستہ کی جائے ۔ فوزیہ خانم کو مانگے کا اجالا مبارک ہو۔ مالیگاؤں کے اہل دل خلدآباد آکر اس تعلیمی کیمپس کی تعمیر میں تن من دھن سے حصہ لیں گے ۔ یہ نہ بھولا جائے کہ مہاراشٹر سرکار پر مالیگاؤں والوں کا بھروسہ نہیں رہا ہے ۔ وجہ بھی معقول ہے ۔ ہم ضلع کا درجہ 35سال سے مانگ رہے ہیں ۔ لیکن تمام واجبات و معقولات کے باوجود نہیں ملتا ۔ ہم
MIDCاورD+ZONEکی سہولت طلب کرتے ہیں اور حکومت منہ پھیرتی ہے ۔ ہم اپنے سینئر کالج خود چلانا چاہتے ہیں ۔ لیکن حکومت کی طرف سے منظوری نہیں ملتی ۔ پچھلے پانچ برسوں سے تو ہم نے سب کچھ ترک کردیا ہے ۔ ہماری کوئی مانگ نہیں ہے ہم صرف اپنے معصوم بے قصوروں کی رہائی کے طلبگار ہیں وہ تو ملتی نہیں اور جو حکومت اپنے شہریوں کو انصاف سے محروم رکھتی ہو ۔ اس سے کیا امیدیں وابستہ کی جائیں ؟؟ ریاستی حکومت سے ہم یہی چاہیں گے کہ وہ اپنے حصے کا قرض پہلے ادا کرے ۔ رہی بات اے ایم یو برانچ کی ۔ مالیگاؤں کے حوصلہ مند لوگ کسی یونیورسٹی شاخ کا انتظار کئے بغیر خود اپنی یونیورسٹی قائم کرنے کی صلاحیت و ہمت رکھتے ہیں اور کچھ علاقائی وزیر اگر خواہشمند رہیں تو انکے علاقے میں بھی مالیگاؤں یونیورسٹی شاخ کھو ل دیں گے۔
***
 Abdul haleem siddiqui
Malegaon

Thursday, September 22, 2011

مالیگاؤں کی تعلیمی ، مذہبی اور ادبی بیداری سے ایک جہاں روشن ہوا


ناگپور کی علمی ادبی سماجی شخصیت وکیل پرویز کے اعزاز میں محفل مشاعرہ کا اہتمام
مالیگاؤں ، ۲۱ ؍ ستمبر ، نامہ نگار
مالیگاؤں کی مسجدوں کے پر شکوہ مینارے اگر اس شہر محنت کشاں کی عظمت کو چار چاند لگارہے ہیں تو اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ مالیگاؤں کے شعراء اس کے ادبی مینار بن کر دنیائے اردو کو اپنی روشنی سے منور کررہے ہیں ۔ ان توصیفی کلمات کا اظہار سنتروں کے شہر میں علم و ادب کے حوالوں سے معروف و معتبر شخصیت جناب وکیل پرویز نے کیا۔ گذشتہ روز وہ خانوادۂ جلال صابر کی دعوت پر جشن شادی میں شرکت کی غرض سے مسجدوں ، میناروں کے شہر میں مقیم تھے ۔ اور اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے ۔ غالب نواز شخصیت ماسٹر سعید پرویز ( سبکدو ش صدر مدرس ) کی ایماء پر وکیل پرویز کے اعزاز میں کائنات نجم النساء میں قالینِ نظر بچھائی گئی ۔ معروف اسلامی اسکالر مولانا جلال الدین قاسمی کی صدارت میں پرتکلف اعزازی شعری نشست کا اہتمام ہوا جسے اثر صدیقی کی معیاری نظامت نے ادبی وقار کی معراج عطا کی ۔ محفل مشاعرہ میں عروس البلاد سے تشریف فرما جاوید حیدری کے علاوہ ممتاز عالم دین جامعہ محمدیہ منصورہ کے شیخ الحدیث مولانا دکتور فضل الرحمن المدنی ، ہارون بی اے ، سبکدوش پرنسپال لئیق انصاری ، شبیر رمضان ، قریشی مختار احمد ، پروفیسر ارشد حسین ، رفیق مقادم ، ڈاکٹر احتشام دانش ، انیس اظہر ، نہال غفران ، عبدالرحیم فاروقی بطور مہمان شریک تھے۔
صاحب اعزاز وکیل پرویز نے اس موقع پر اپنے دلی تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ جب دہشت گروں نے اس شہر کے معصوموں کو نشانہ بنایا۔ تو ہم لوگ انگشت بدنداں رہ گئے۔ ہم نے برملا یہ بات کہی تھی کہ مالیگاؤں کے سیدھے سادے محنت کش لوگ جو چائے کی ایک پیالی پر ہی خوش ہوجاتے ہیں ۔ جومہمانوں کیلئے دل و جان نکال کر رکھ دیتے ہیں ، ایسے سادہ لوح لوگوں کے خون میں دہشت گری نہیں ہوسکتی۔ انھوں نے اپنے مرحوم بھائی جلیل ساز کے حوالے سے کہا اسی سر زمین سے معاشی ترقی کے حوصلے اور تعلیمی ، مذہبی ، بیداری کی چنگاری لے کر ناگپور لوٹے تھے۔ وکیل پرویز کے مطابق ہندوستان کے کسی شہر کو یہ اعزاز نہیں کہ جہاں اتنی کثرت سے مسجدیں اور مدرسے ہوں اور ان میں سے چند مدرسے تو عالمی سطح پر اپنی شناخت رکھتے ہیں ۔ بالخصوص جامعہ محمدیہ منصورہ ، جامعتہ الصالحات جیسے مدرسوں کی شہرت و مقبولیت مغربی ملکوں کو بھی فتح کررہی ہے ۔ اپنے اعزاز میں منعقدہ محفل مشاعرہ کے بعض شعراء کے حوالے سے آپ نے کہا کہ اتنے اچھے اشعار تو ہمیں بڑ ے بڑے کل ہند مشاعروں میں بھی سننا نصیب نہیں ہوتے ۔ اس اعزازی مشاعرہ میں بزرگ شاعر امین صدیقی ، رفعت صدیقی ، پرواز اعظمی ، جمیل ساحر اور اثر صدیقی نے اپنے کلام بلاغت سے سامعین کومحظوظ کیا۔
فوٹو کیپشن : محفل مشاعرہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے صاحب اعزاز وکیل پرویز
***

Friday, May 20, 2011

محقیقن کو علاقائی ادب اور شخصیات پر تحقیقی کام کرنا چاہئے، آج کی تحقیق محض ڈگری کا اصول بن کر رہ گئی ہے

مالیگاؤں میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے سات افرادکا انجمن ترقی اردو ہند اور اردو لائبریری ٹرسٹ کی جانب سے استقبال کیا گیا


مالیگاؤں

ممبئی یو نیورسٹی کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر صاحب علی نے کہا کہ آج کے دو
ر میں ہورہی تحقیق محض ڈگریوں کے حصول کیلئے محدود ہوگئی ہیں اسلئے زبان و ادب کی ترویج و فروغ کا تصور محال ہے ۔ موصوف گذشتہ روز مالیگاؤں میں انجمن ترقی اردو ہند کے ایک استقبالیہ پروگرام میں بول رہے تھے جہاں صنعتی شہر کے سات نئے پی ایچ ڈی اور ایم فل خواتین و حضرات کا خیر مقدم اردو لائبریری ٹرسٹ اور ادارۂ نثری ادب کے اشتراک سے انجمن ترقی اردو ہند شاخ مالیگاؤں نے کیا۔ صاحب علی نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا بالکل منفرد پروگرام ہے ۔ اس طرح کی کوششوں سے ہم نئی نسل کے طلبہ میں تحقیق کے جذبہ کو فروغ دے سکتے ہیں آپ نے کہا کہ ادبی ،ثقافتی ، اخلاقی اور علمی زوال ہمارے معاشرہ کا المیہ ہے۔
آپ نے مالیگاؤں میں ایک اردو ریسرچ سینٹر کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا کیونکہ مالیگاؤں کے بہت سے طلبہ پی ایچ ڈی یا ایم فل کرنے کیلئے
ممبئی پونہ کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جب کہ مالیگاؤں میں ریاست کے بہترین ریسرچ گائیڈ اور ریسرچ اسکالرس کی قطار موجود ہے ۔ صدر شعبہ اردو ممبئی یونیورسٹی نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ آج لوگ سوال کرتے ہیں کہ آرٹس کی ڈگریاں کس کام کی۔ میں کہتا ہوں کہ ایک انجینئر صرف ایک سڑک اور ایک عمارت کی تعمیر کرتا ہے ایک ڈاکٹر کچھ لوگوں کا علاج کرسکتا ہے لیکن آرٹ ماسٹر پوری قوم و ملت کی تعمیر و علاج کا متحمل ہوسکتا ہے ۔ بشرطیکہ وہ حصول علم کو حصول زر کا ذریعہ نہ بنائے اردو مضامین کے ذریعے UPSCمیں کامیابی کے نمایاں امکانات پر بحث کرتے ہوئے صاحب علی نے کئی عمدہ مثالیں بھی دیں اور نئی نسل کے نوجوان کو سائنس تیکنک کے ساتھ ساتھ شعبہ آرٹس میں دلچسپی لینے کی صلاح دی ۔
اس با مقصد تقریب کے صدر نشین پروفیسر عبدالحفیظ انصاری (سابق پرنسپال سٹی کالج مالیگاؤں )نے کہا کہ مقابلہ جاتی امتحانات کے سوالات کے مقابلے میں آرٹس کے سوالات اور تحقیقی کام زیادہ مطالعہ و محنت طلب ہوتے ہیں انہوں نے مرکزی وزیر کپل سِبّل کے ریسرچ مخالف رویہ پر بھی تنقید کی ۔آپ نے اردو لائبریری مالیگاؤ
ں کی خصوصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ایک ریسرچ سینٹر قائم کیا جاسکتا ہے ۔
اس تقریب میں ڈاکٹر فہمیدہ ہارون انصاری ، ڈاکٹر شیخ ساجدہ عبدالواسع ، ڈاکٹر تحسین کوثر سلیم شہزاد،ڈاکٹر خان یوسف صابر، ڈاکٹر مشاہد حسین رضوی ، عبدالعظیم خان ، عاصم شہزاد عبداللہ فیت والاان سات افراد کو اعزاز دیا گیا۔جن کا تعارف اسحق خضر ، سراج دلار ، یعقوب ایوبی ، عبدالمجید صدیقی ، شبیر آصف ، حسین عاجز اور یسین اعظمی نے پیش کیا۔اس اعزازی تقریب کی غرض و غائیت پروفیسر عبدالمجید صدیقی نے بیان کی اور کہا کہ نئی نسل میں تحقیق و تنقید کے شعبہ سے جڑنے کے جذبہ کو پروان چڑھانے اور اس فیلڈ میں نئے لوگوں
کو خوش آمدید کہنے کیلئے اس طرح کے پروگراموں کی ضرورت ہے انجمن ترقی اردوہند شاخ مالیگاؤں کے سکریٹری اور اس تقریب کے کنوینر خیال انصاری (مدیر خیر اندیش)نے انجمن کی ۱۹ سالہ کارکردگی کا جائزہ پیش کیا ۔ اور بتایا کہ ہمیشہ ہی مالیگاؤں میں انجمن نے نت نئے پروگراموں کا انعقاد کرکے اردو زبان و ادب کے فروغ کی کوشش کی ہے جس کیلئے انجمن کو اردو لائبریری ٹرسٹ اور ادارۂ نثری ادب کا بھی تعاون حاصل رہا کرتا ہے ۔
تقریب کے اولین مقرر ڈاکٹر اشفاق انجم ( پرنسپال اے آئی ٹی سینٹر نائٹ کالج) نے کہا کہ
UGCکے نئے تعلیمی خاکہ کے تحت سینئر کالجوں کے اساتذہ کو نیٹ سیٹ کا مشکل ترین امتحان کامیاب کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔لیکن اگر کوئی معلم پی ایچ ڈی ہے تو اسے اس پابندی سے مشتشنیٰ رکھا گیا ہے چونکہ نیٹ سیٹ کے امتحانات کا رزلٹ بہت خراب ہوتا ہے ہزاروں میں چند افرادہی کامیاب ہوتے ہیں اسلئے لوگ پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول کی طرف متوجہ ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور کے محقیقین کے یہاں تحقیق کا فقدان ہے ۔ اور یہ ڈگری محض مقالہ نگاری بن کر رہ گئی ہے ۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ علاقائی شخصیات پر پی ایچ ڈی کی جائے اور گھسے پٹے موضوعات کی بجائے نت نئے موضوعات کو حاصل کرنا چاہئے ۔اور گردش وقت میں گم ہوتی نایاب شخصیات کو نئی نسل سے متعارف کرانا چاہئے۔ آپ نے اردولائبریری ٹرسٹ کو ریسرچ سینٹر کے سلسلہ میں متوجہ کیا۔ڈاکٹر ایس ایم شکیل (صدر شعبہ اردو سیوا سدن کالج برہانپور) نے بھی علاقائی ادب پر تحقیقی کام کرنے کی ضرورت جتلائی اور صاحب اعزاز محقیقین کو مشورہ دیا کہ اپنی تحقیق کو کتابی شکل میں عام کریں ۔ آپ نے کہا کہ مالیگاؤں اردو کا ایک اہم مرکز ہے جہاں سے ہمیشہ ہی زبان و ادب کی ترویج و اشاعت ہوتی رہی ہے ۔یہاں درجنوں ایسی شخصیات ہیں جن پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا جاسکتا ہے ۔ آپ نے کہا کہ جدید مواصلاتی انقلاب نے تحقیق کی مشکلات میں آسانیاں پیدا کردی ہیں ۔ اس سے استفادہ کی ضرورت ہے۔ اس تقریب میں دھولیہ سے تشریف لائے ڈاکٹر محمد سلیم انصاری( چئیرمن بورڈ آف اسٹڈیز نارتھ مہاراشٹر یونیورسٹی جلگاؤں) ، خالد عمر صدیقی ( چئیرمن اردو لائبریری ٹرسٹ) ، فضل الرحمن حکیم ( سکریٹری اردو لائبریری ٹرسٹ)، سلیم شہزاد ، ڈاکٹر شکیلہ سید ،سلطان سبحانی ، ڈاکٹر الیاس صدیقی ، عمران امین اور دیگر تعلیمی و ادبی شخصیات موجود تھیں ۔ نظامت یسین اعظمی نے کی۔
فوٹو کیپشن : انجمن ترقی اردو ہند شاخ مالیگاؤں کے زیر اہتمام محقیقین ادب کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ تقریب کا ایک
منظر
***
Abdul Haleem Siddiqui
819, Balbag, Malegaon - 423203
Dist. Nasik, Maharashtra, INDIA
Mobile No. : 9325566636
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP