You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label مالیگاؤں. Show all posts
Showing posts with label مالیگاؤں. Show all posts

Thursday, September 22, 2011

مالیگاؤں کی تعلیمی ، مذہبی اور ادبی بیداری سے ایک جہاں روشن ہوا


ناگپور کی علمی ادبی سماجی شخصیت وکیل پرویز کے اعزاز میں محفل مشاعرہ کا اہتمام
مالیگاؤں ، ۲۱ ؍ ستمبر ، نامہ نگار
مالیگاؤں کی مسجدوں کے پر شکوہ مینارے اگر اس شہر محنت کشاں کی عظمت کو چار چاند لگارہے ہیں تو اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ مالیگاؤں کے شعراء اس کے ادبی مینار بن کر دنیائے اردو کو اپنی روشنی سے منور کررہے ہیں ۔ ان توصیفی کلمات کا اظہار سنتروں کے شہر میں علم و ادب کے حوالوں سے معروف و معتبر شخصیت جناب وکیل پرویز نے کیا۔ گذشتہ روز وہ خانوادۂ جلال صابر کی دعوت پر جشن شادی میں شرکت کی غرض سے مسجدوں ، میناروں کے شہر میں مقیم تھے ۔ اور اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے ۔ غالب نواز شخصیت ماسٹر سعید پرویز ( سبکدو ش صدر مدرس ) کی ایماء پر وکیل پرویز کے اعزاز میں کائنات نجم النساء میں قالینِ نظر بچھائی گئی ۔ معروف اسلامی اسکالر مولانا جلال الدین قاسمی کی صدارت میں پرتکلف اعزازی شعری نشست کا اہتمام ہوا جسے اثر صدیقی کی معیاری نظامت نے ادبی وقار کی معراج عطا کی ۔ محفل مشاعرہ میں عروس البلاد سے تشریف فرما جاوید حیدری کے علاوہ ممتاز عالم دین جامعہ محمدیہ منصورہ کے شیخ الحدیث مولانا دکتور فضل الرحمن المدنی ، ہارون بی اے ، سبکدوش پرنسپال لئیق انصاری ، شبیر رمضان ، قریشی مختار احمد ، پروفیسر ارشد حسین ، رفیق مقادم ، ڈاکٹر احتشام دانش ، انیس اظہر ، نہال غفران ، عبدالرحیم فاروقی بطور مہمان شریک تھے۔
صاحب اعزاز وکیل پرویز نے اس موقع پر اپنے دلی تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ جب دہشت گروں نے اس شہر کے معصوموں کو نشانہ بنایا۔ تو ہم لوگ انگشت بدنداں رہ گئے۔ ہم نے برملا یہ بات کہی تھی کہ مالیگاؤں کے سیدھے سادے محنت کش لوگ جو چائے کی ایک پیالی پر ہی خوش ہوجاتے ہیں ۔ جومہمانوں کیلئے دل و جان نکال کر رکھ دیتے ہیں ، ایسے سادہ لوح لوگوں کے خون میں دہشت گری نہیں ہوسکتی۔ انھوں نے اپنے مرحوم بھائی جلیل ساز کے حوالے سے کہا اسی سر زمین سے معاشی ترقی کے حوصلے اور تعلیمی ، مذہبی ، بیداری کی چنگاری لے کر ناگپور لوٹے تھے۔ وکیل پرویز کے مطابق ہندوستان کے کسی شہر کو یہ اعزاز نہیں کہ جہاں اتنی کثرت سے مسجدیں اور مدرسے ہوں اور ان میں سے چند مدرسے تو عالمی سطح پر اپنی شناخت رکھتے ہیں ۔ بالخصوص جامعہ محمدیہ منصورہ ، جامعتہ الصالحات جیسے مدرسوں کی شہرت و مقبولیت مغربی ملکوں کو بھی فتح کررہی ہے ۔ اپنے اعزاز میں منعقدہ محفل مشاعرہ کے بعض شعراء کے حوالے سے آپ نے کہا کہ اتنے اچھے اشعار تو ہمیں بڑ ے بڑے کل ہند مشاعروں میں بھی سننا نصیب نہیں ہوتے ۔ اس اعزازی مشاعرہ میں بزرگ شاعر امین صدیقی ، رفعت صدیقی ، پرواز اعظمی ، جمیل ساحر اور اثر صدیقی نے اپنے کلام بلاغت سے سامعین کومحظوظ کیا۔
فوٹو کیپشن : محفل مشاعرہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے صاحب اعزاز وکیل پرویز
***

Friday, August 12, 2011

عبدالرشید صدیقیکا انتقال


مالیگاؤں ، ۱۳؍ اگست ، پریس ریلیز
مالیگاؤں کی معروف علمی ادبی شخصیت عبدالرشید صدیقی آج اچانک انتقال کرگئے ان کی عمر 57برس تھی اور اے ٹی ٹی ہائی اسکول میں بحیثیت سپر وائزر تدریسی و انتظامی خدمات انجام دے رہے تھے کچھ عرصہ سے وہ شوگر اور عارضہ قلب میں مبتلا تھے ۔ ان کے بڑے بھائی پروفیسر عبدالمجید صدیقی ( صدر سی سی آئی) نے بتایا کہ گذشتہ روز انجیو گرافی کیلئے انھیں ناسک کے ایک نجی اسپتال میں لے جایا گیا تھا جمعہ کی شب وہیں آخری سانس لی ۔ سنیچر 13اگست کو بڑا قبرستان میں ہزاروں سو گواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔
عبدالرشید صدیقی نے پیشہ درس و تدریس سے منسلک رہتے ہوئے اردو زبان و ادب کی ترقی کیلئے بنیادی کام انجام دئیے ۔ انھوں نے تعلیم و تعلم کے مختلف عنوانات سے چھوٹی بڑی 15کتابیں لکھیں جس میں مضمون نویسی ، املا نویسی ، اردو گرامر ، تقاریر کا مجموعہ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔ آپ ترقی تعلیم پبلی کیشن سے بھی جڑے رہے اور بال بھارتی کی نصابی تدوین کے کاموں میں بھی حصہ لیا
۔ اور مالیگاؤں کے تیسرا محاذ پالمینٹری بورڈ کے فعال رکن کی حیثیت سے کام کیا ۔

چھوٹے بیت المال کا بڑا کام






ماسڑمحمد یعقوب ایوبی

مسجدوں اور میناروں کے شہر مالیگاؤں کی ایک قدیم مسجد ’’ انگنو سیٹھ کی مسجد موتی پورہ ‘‘ میں آج سے 25برس قبل مسجدی سطح پر بیت المال کا نظام قیام کیا گیا۔ محلہ کے چند بزرگ سر جوڑ کر بیٹھے اور آپس میں باتیں کرنے لگے کہ اکثر ہماری مسجد میں کوئی پریشان حال مسافر نماز کے بعد کھڑا ہوکر مصلیوں سے فریاد کرتا ہے ۔ ایک وقت کے کھانے کا سوال تو کبھی اپنے وطن تک واپس لوٹنے کے کرایہ کا سوال کبھی کبھار محلے کی غریب خاتون سرکاری اسپتال میں زچگی کے ٹیبل پر صرف اس لئے دم توڑ دیتی ہے کہ اس کے مزدور پیشہ خاوند کے پاس فوری آپریشن کیلئے دو پانچ ہزار کا نظم نہیں ہوتا۔ اس طرح کے چند واقعات نے بزرگوں کو سوچنے پر مجبور کردیا اور بالآخر انہی لوگوں نے آپس میں چندہ کرکے سات آٹھ سو روپیہ جمع کرلیا۔ جمعہ کی نما زمیں بیت المال کے قیام کا اعلان ہوا تو مذید سات آٹھ سو روپئے آگئے ۔ پھر اسی طرح دن گذرتا رہا اور مسجد کی باقائدہ بیت المال کمیٹی بنا لی گئی جو پریشان حال سوالیوں کی جانچ پڑتال کرکے ان کی پوری پوری مدد کردیتے تھے ، مسجد انگنو سیٹھ کا یہ بیت المال اس قدر کامیاب اور مقبول و معتبر ہوا کہ لوگ عطیات کے علاوہ ماہ رمضان کی زکوۃ اور چرم قربانی سے بھی اس نظام کو مضبوط کرتے رہے مفکر ملت مولانا ادریس عقیل ملی قاسمی کی سرپرستی میں بیت المال کا نظام اس قدر مستحکم ہوا کہ اس میں کافی رقم سلک رہنے لگی ۔ حالانکہ مسجد سے ملحق محلوں میں ہی اس کیلئے فنڈ اکھٹا کیا جاتا ہے ۔ مسجد انگنو سیٹھ کے بیت المال کی کامیابی کے اثرات پڑوس کے محلوں کی مسجدوں میں بھی ہوئے اور آس پاس کئی مسجدوں میں بیت المال بن گیا۔بیت المال کمیٹی مسجد انگنو سیٹھ کے جہاندیدہ فکر مند ذمہ داران نے زکوۃ کی رقومات اسکے مستحقین تک پہنچانے کیلئے سروے کا نظام بنایا اور آس پاس کے پانچ چھ محلوں قلعہ ، غالب نگر، قلعہ جھوپڑپٹی ، رسول پورہ ،اسلام آباد اور موتی پورہ میں غریب خاندانوں کی بیوہ ہونے والی عورتوں اور بیوہ عورتوں کے یتیم بچوں کی ضرورتوں کا خیال شروع کیا۔ محلے کے پڑھے لکھے ہنر مند نوجوانوں کو روزگار کیلئے مالی مدد، ہنر مند لڑکیوں کیلئے سلائی مشین کی فراہمی ، مسافروں کی داد رسی جیسے کاموں کی انجام دہی خوش اسلوبی سے ہوتی رہی۔
25ویں سال کی سالانہ رپورٹ اس وقت میرے سامنے ہے جس میں درج ہے کہ امسال 15جولائی 2011تک دو لاکھ ساٹھ ہزار روپئے بیت المال میں جمع ہوئے اور اسے مختلف مدوں میں خرچ کیا گیا۔ رمضان کے آغاز سے قبل ایک سو پچاس بیواؤں کو لفافہ میں نقد رقم خاموشی کے ساتھ پہنچائی گئی اور دیگر اخراجات کی تفصیل کمیٹی نے ذمہ داران کے روبرو پیش کیا۔ حساب کی جانچ پڑتال کے بعد ذمہ داران نے اپنے اطمینان کا اظہار کیا اور جو صاحب اس رجسٹر کا مشاہدہ کرنا چاہے اسے دکھانے کی اجازت دی گئی ۔
فی زمانہ مسلم تنظیموں اور مسلم شخصیات کے ذریعے جو کچھ فلاحی کام ہوتے ہیں ان میں اکثریت سے نمائشی ہوتے ہیں ۔ طلبہ کو بیاضیں حاصل کرنے کیلئے قطار لگانا پڑتا ہے ۔ تو بیواؤں کو بھی عید کے کپڑے کیلئے قطار میں آنا پڑتا ہے ۔ ان مناظر سے دل بڑا کڑھتا ہے ۔ لیکن مسجد انگنو سیٹھ موتی پورہ مالیگاؤں کے بیت المال کا نظام دیکھ کر یقیناًدل خوش ہوتا ہے اور ذمہ داران ہی نہیں محلے والوں کیلئے بھی دل سے دعائیں نکلتی ہیں ۔ا س تحریر کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ محلہ محلہ اس طرح کے چھوٹے چھوٹے نظام قائم کر لئے جائیں۔
***

Sunday, August 07, 2011

مالیگاؤں میں ماہِ رمضان کی رونقیں


پاور لوم صنعت کی بھیانک مندی کے سبب رمضان عید کی خریداری متاثر
مالیگاؤں (عبدالحلیم صدیقی )

پاورلوموں اور میناروں کے شہر میں ماہِ مقدس کے پہلے عشرہ پر پاور لوم صنعت کی بھیانک مندی کے اثرات نمایاں نظر آرہے ہیں ۔ تاہم مسجدوں کی رونق حسب سابق دو بالا سۂ بالا ہے ۔ کسی حکومتی دباؤ اور ضابطے کی بندش کے بغیر یہاں کے پاور لوم کارخانہ دار اپنے مزدور بھائیوں کو ماہِ رمضان کے پہلے یا دوسرے عشرہ میں ’’حق رضا‘‘ کے نام سے اتنی مالی معاونت ضرور کرتے ہیں کہ مزدور کا دستر خوان وسیع ہوجائے ۔؛ یہ رقم سات سو سے پندرہ سو روپئے تک ہوتی ہے حق رضا کی ادائیگی کے معاملے میں مقامی کارخانہ دار کبھی بھی پس و پیش نہیں کرتے نہ ہی اس سلسلے میں کسی تنظیم کی سفارش مطالبہ یا یونین بازی کی کوئی گنجائش ہوتی ہے۔ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے ’’ حق رضا‘‘ یہ مزدور اور سیٹھ کی آپسی رضا مندی کا اظہار ہے۔ان دنوں پاور لوم صنعت مسلسل آٹھ دس ماہ سے مندی کی لپیٹ میں ہے کارخانہ داروں کو ماہانہ 25سے50ہزار نقصان اٹھانا پڑرہا ہے ۔ اسی خسارے کے سبب سینکڑوں پاور لوم کارخانے بند پڑ چکے ہیں ۔ ہزاروں مزدور خاندان اپنا بوریا بستر لپیٹ کر وطن جاچکے اور جو مقامی مزدور بے روزگار ہوئے تاہم جو کارخانے کسی نہ کسی طور پر جاری ہیں وہاں مزدور اور سیٹھ آپسی سوجھ بوجھ کے ساتھ مشکل وقت کاٹ رہے ہیں۔
مالیگاؤں میں رمضان کی دوسری بڑی رونق سفرائے مدارسِ دینیہ کی چہل پہل ہے یہ پورے ملک سے یہاں تشریف لاتے ہیں اور اپنے مدرسہ کیلئے زکوۃ ، صدقات ، عطیہ وغیرہ کی رقومات وصول کرتے ہیں ان سفراء مدارس کو ہر سال سابقہ کے مقابلے میں کچھ فی صد رقم بڑھ کر بھی ملتی ہے ۔ لیکن اس بار سابقہ برس کے ہی مطابق پاوتی پھٹ جائے تو غنیمت ہے نئے آنے والے سفراء کیلئے یہ سال اچھا نہیں گذر رہا۔ پرانے لوگوں کو بھی بڑی مشکلات کا سامنا ہے ۔ تاہم یہ بات ہے کہ کوئی خالی ہاتھ نہیں جاتا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ہر خاص و عام آدمی کا بجٹ بگاڑ رکھا ہے ۔ اشیائے ضروریہ کی خریداری میں ہی جیب خالی ہوجائے تو دستر خوان کی رونق کہاں سے بڑھے یہی وجہ ہے کہ پھل فروٹ اور افطار بازار میں پہلے کی طرح چہل پہل نہیں نظر آتی سب سے سستا فروٹ مانا جارہا کیلابھی آج کل مہنگا ہوچلا ہے ۔ اور اسی پر امیر غریب سب ٹوٹ رہے ہیں اسلئے عمدہ کیلئے کی قیمت 25سے 30روپیہ درجن بولی جارہی ہے ۔ سیب انار اور تربوز پر مہنگائی کے اثرات نمایاں ہیں ۔
رمضان کی راتوں کی رونق یہاں کے ہوٹلوں اور کھانا ولوں سے ہے شہر کے مشہور چٹوری چوک ، مشاورت چوک ، انصار روڈ ، مچھلی بازار ، خیابان نشاط میں بڑی بڑی دیگ کی جگہ بڑے بھگونوں نے لے لی ہے دکاندار خود کہتے ہیں کہ کاروبار لگ بھگ آدھا ہوگیا ہے۔ بڑے کے گوشت کی قیمت 60,70روپئے کلو سے بڑھ کر 100 روپئے کلو عین رمضان سے قبل پہنچی ہے اسی لئے ٹکیہ پلاؤ اور کباب کے چاٹ اسٹال ماند پڑ گئے ہیں ۔ گھروں پر پارسل لے جانے کا رواج بھی کم ہوا ہے اور تراویح سے سحری تک لگاتار کھانے کھلانے کی روایت بھی ٹوٹ گئی۔
جہاں تک عید کے کپڑوں کاسوال ہے اس شعبہ میں بھی مندی کے اثرات صاف دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ بڑ ے بڑے شوروم جہاں اونچی کمپنیوں کے مہنگے کپڑے لوگ شوق سے خریدتے تھے آج یہ شوروم ٹھنڈے پڑ گئے ہیں ۔ جہاں کپڑوں کے خصوصی رعایتی سیل کا بورڈ لگا ہوا ہے وہیں لوگ گھوم پھر کر پہنچ رہے ہیں تاکہ عید کے کپڑوں پر 30سے 50فی تک رعایت حاصل کرکے اپنے گھر والوں کی عید سدھار دیں ۔ کچھ لوگوں نے تین چار جوڑی کپڑے بنانے کی بجائے ایک دو جوڑی کپڑے بنانے پر اکتفاء کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔الغرض ماہِ رمضان کی رونق جس کیلئے مالیگاؤں کبھی مشہور تھا مندی کے سائے سے اس کی رونق بڑی حد تک پھیکی پڑی ہوئی ہے ۔ البتہ مسجدوں میں تراویح سننے سنانے کا اہتمام حسب معمول ہے رواں سال میں رمضان کے آغاز سے قبل مالیگاؤں میں سات نئی مسجدوں کا آغاز ہوا ہے اس کے باوجود مسجدوں میں جگہ کی قلت کا رونا باقی ہے۔ تراویح کیلئے یہاں کے انصار جماعت خانہ بڑا قبرستان کا جنازہ ہال ، حمیدیہ مسجد کا ہال اور بہت سے بلڈنگوں کی ٹریس پر نماز تراویح کا اہتمام ہورہا ہے کچھ جگہوں پر خواتین کیلئے بھی اجتماعی تراویح ہوتی ہے ۔ مسجدوں اور مدرسوں کے اس شہر میں حفاظ کرام کی اس قدر بتہتات ہے کہ ہر مسجد میں دو سے تین حفاظ کرام موجود ہوتے ہیں اور اکثر جگہوں پر دو حفاظ مل کر تراویح سنا رہے ہیں۔ خواتین اسلام میں حفظ قرآن کا ذوق شوق بڑھ رہا ہے کئی مدرسوں میں لڑکیاں حافظہ بن کر فارغ ہورہی ہیں ۔ اور اپنے اپنے گھر خاندان والوں کے ساتھ یہ لڑکیاں بھی تراویح سنانے میں مشغول ہیں۔ بعض مساجد میں شبینہ تراویح او رتہجد کی نماز با جماعت کا اہتمام بھی ہوتا ہے ۔ جہاں نصف شب کے بعد ہند گان خدا کی رقت آمیز دعاؤں اور آہ وز اری سے پر صداؤں سے ماحول نہایت پاکیزہ و نورانی ہوجاتا ہے ۔ خدا کی ذات سے امید ہے کہ ان دعاؤں کی لاج رکھے گا۔ اور مانگنے والوں کی ہر جائز دعا کو قبول کرے گا۔
***

مالیگاؤں ایجوکیشنل فورم کی انگلش مراٹھی اسپیکنگ کلا س کا افتتاح

سننے سے بولنا آتا ہے بولنے کی مہارت مشق سے آتی ہے ان جملوں کا اظہار آل انڈیا سیکنڈری ٹیچرس فیڈریشن کے قومی صدر فیروز حسین بادشاہ نے مالیگاؤں ایجوکیشنل فورم کی انگلش مراٹھی اسپیکنگ کلاس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا اور حاضرین کو بتلایا کہ میں نے عمر کے ساٹھ سال بعد مراٹھی زبان کو سیکھا ۔ لہذا سیکھنے والوں کو بلا جھجھک سیکھنا چاہئے۔ اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کلاسیز کے انچارج اور کنوینر سابق پرنسپال لئیق انصاری سر نے کہا کہ زبان ایک قدرتی چیز ہے ۔ اچھا سننے والا ہی اچھابولنے والا بن سکتا ہے آپ نے موجود طلبہ و طالبات کہ کو ٹی وی چینلز پر مراٹھی انگریزی نیوز دیکھنے کی صلاح دی ۔ انھوں نے کہا کہ مالیگاؤں ایجوکیشنل فورم کے تحت تعلیمی ترقیات کے مختلف النوع پروگرام ہوتے رہے ۔ جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ۔ انھوں نے کہا کہ آج ہمارے طلبہ کے سامنے نہ صرف تعلیمی سطح پر بلکہ انتظامی سطح پر بھی مراٹھی ، انگلش زبانوں کا چیلنج کھڑا ہے ان زبانوں کا جاننا اور برتنا لازمی ہوچکاہے ۔ موصوف نے بتایا کہ فورم کے تحت جاری ہورہی انگلش مراٹھی اسپیکنگ کلاسیز کیلئے ماہر اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں یہ کلاسیز ہر اتوار کو چلے گی ۔ انگلش ٹیچر جاوید اختر سر نے خاص انگریزی زبان میں کی گئی تقریر کے دوران بتایا کہ انگریزی آج عالمی زبان بن چکی ہے ۔ تجارت و معاشرت میں بھی اسے فوقیت حاصل ہے ۔ جدید مواصلاتی انقلاب نے ٹی وی ، موبائیل کے ذریعے انگریزی کو بالکل عام آدمی تک پہنچا دیا ہے ۔ مراٹھی ٹیچر یوگیش گنپت آہیر نے عصر حاضرمیں مراٹھی کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔ آخیر میں خطبہ صدارت فورم کے چئیرمن ڈاکٹر منظور حسن ایوبی نے پیش کرتے ہوئے کہا کہ مالیگاؤں ایجوکیشنل فورم کا مشن ہے کہ مالیگاؤں میں شرح خواندگی سو فیصد تک پہنچے ۔ اور ہم یہ بھی خواہش رکھتے ہیں کہ جس طرح گجرات کا مسلمان رواں طور پر گجراتی میں بات کرتا ہے اسی طرح مہاراشٹر کا ہر مسلمان رواں مراٹھی میں بھی بات کرے۔ ہماری برقع پوش لڑکیاں انگریزی و مراٹھی میں ایسی مہارت حاصل کریں کہ دنیا دنگ رہ جائے انھوں نے کہا کہ مراٹھی ہماری سرکاری زبان ہے لیکن المیہ ہے کہ مسلمان مراٹھی سے خوفزدہ ہیں ۔آپ نے کہا کہ اس زبان کو سیکھ کر ہم بردران وطن میں اسلام کی تبلیغ کا فریضہ بھی انجام دے سکتے ہیں ۔تقریب افتتاح میں دہم جماعت کی طالبہ صدیقی زینب فاطمہ نے بہ زبان انگریزی اردو اپنے تجربات پیش کئے اور بتلایا کہ صرف ایک ماہ کی مشق سے لئیق انصاری سر اور جاوید سر کی بدولت ہمارے بیچ کے طلبہ نے انگریزی زبان بولنا سیکھا۔ ان ماہر اساتذہ سے فیض اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ آخیر میں رسم شکریہ شبیر رمضان نے انجام دی ۔ اپنی پر مزاح نظامت سے افتتاحی تقریب کو ظہیر قدسی نے چار چاند لگائے۔
فوٹو کیپشن: مالیگاؤں ایجوکیشنل فورم کے تحت انگلش مراٹھی اسپیکنگ کلاس کی افتتاحی تقریب کا ایک منظر
***

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP