You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label urdu poetry. Show all posts
Showing posts with label urdu poetry. Show all posts

Saturday, April 14, 2012

غزل


تم قتل کی خواہش سے گزر کیوں نہیں جاتے


اک بار مجھے مار کے مر کیوں نہیں جاتے


کیوں کرتے ہو حالات کی بھٹّی میں تماشا


سونا ہو تو کندن سے نکھر کیوں نہیں جاتے


گھر جاتے ہو،ڈرجاتے ہو ،کرتے ہی نظر بند


سورج کی شعاعوں سے مکر کیوں نہیں جاتے


خوابوں کے جزیروں سے سفر کرتے ہیں منظر


بے خواب نگاہوں میں اتر کیوں نہیں جاتے


دم گھٹتا ہے رشتوں کی فصیلوں میں تمہارا



سب توڑ کے اس پار اتر کیوں نہیں جاتے


اس پار درختوں سے جدا ہو کے چلے پھل


میں سوچ رہا ہوں کہ شجر کیوں نہیں جاتے


پلکوں کے افق ٹوٹے ستاروں سے منوّر



ہیں ہاتھ دعا شاخ تو بھر کیوں نہیں جاتے


( احمد منظور)


Sunday, September 25, 2011

ساتھ رہو : سعود اندرے



چاہے دن ہو یا رات میرے ساتھ رہو 
رہے نہ رہے کوئی ساتھ میرے ساتھ رہو 
مل رہے ہیں دو دل آہستہ آہستہ 
کہہ رہے ہیں جذبات میرے ساتھ رہو 
رفتہ رفتہ بڑھتے جائنگے تعلقات 
باتوں سے نکلے گی بات میرے ساتھ رہو 
مجھے تم سے ملانے کی سازش میں
کب سے لگی تھی کائنات میرے ساتھ رہو 
عمر بھر نہیں تو کچھ پل ذرا تو ٹھہرو 
دور تلک ہے برسات میرے ساتھ رہو 
ہزاروں سے نہیں بس تم سے وفا کی ہے 
تھام لیا ہے تیرا ہاتھ میرے ساتھ رہو

                   ======

وقت سے پہلے ہی قیامت ہو جاےگی 
ہمیں اگر آپ سے محبّت ہو جاےگی 
اس قدر چاہت سے ہمیں نہ دیکھئے 
جان جو بچی ہے رخصت ہو جاےگی 
میرے ساتھ کسی نے دیکھا ہے تم کو 
کل تک شہر میں آفت ہو جاےگی 
شروع شروع میں دل پر اختیار رہتا ہے 
آگے آگے دیکھنا شرارت  ہو جاےگی 
آج خدا کا درجہ دیا ہے تم کو 
روز نہیں ملنا عادت ہو جاےگی 

سعود اندرے 

Saturday, September 24, 2011

غزل : اسعد بدایونی



سارے خیمے خاک سے اٹ گئے ہو گئی رن میں شام
ایک کہانی ، ایک حقیقت، صدیوں سے ہے عام
ہر سنّاٹا ، ہر محرومی ، میرے گھر کا رزق
سبز مناظر ، روشن لمحے ، سب یاروں کے نام
اب کے سفر سے ہم لوٹے تو ، یوں محسوس ہوا
ایک تھکن ہے جس کے بیاں سے قاصر لفظ تمام
قریۂ وحشت اب کے برس ہے کیوں اتنا خاموش
کیا افتاد پڑی لوگوں پر سوگئے سب سرِ شام
اپنے یقیں کے خون سے اس کو ہم سیراب کریں
ایک مدّت سے سوکھ رہی ہے جو فصلِ اوہام
میں لفظوں کی کوزہ گری میں کب مشّاق ہوا
کاش ودیعت ہوتا مجھ کو اور ہی کوئی کام
۔۔۔۔۔۔۔

میں وحشت خوردہ آہو تھا دنیا نے مجھے زنجیر کیا
مری کھال کو اپنے کمروں کی آرائش سے تعبیر کیا
تھی چہروں کی پہچان مجھے اس جرم پہ ظالم لوگوں نے
مرے سر کو نیزے پر رکّھا ، مرے دل میں ترازو تیر کیا
ہر دھوپ کو تیرے روپ کی چھب، ہر رنگ کو تیرا رنگِ لب
ہر جھیل سمندر دریا کو تری آنکھوں سے تعبیر کیا
میں سیدھا سچّا بندہ تھا مرا کام دکھوں کا دھندا تھا
اک روز اچانک موسم نے مجھ زندہ کو تصویر کیا
میں ایسا دانا کب کا تھا، میں ایسا بندہ کس کا تھا
کچھ خواب دیے اس مالک نے اور ان کو مری تقدیر کیا
۔۔۔۔۔۔۔

جہاں تک نظر جائے برپا جزیروں میں ہیجان دیکھوں
سمندر کی موجوں کو اک روز اپنا نگہبان دیکھوں
سوالوں کے مشکل جوابوں کی جانب مرا ذہن پہنچے
کتابوں میں لکھی عبارت کا مفہوم آسان دیکھوں
مقدر میں میرے گھنے جنگلوں کی شبیں لکھ گئی ہیں
ہواؤں کی سرگوشیوں سے درختوں کو حیران دیکھوں
مکانوں کے آنگن اُجالوں سے خالی میں ہر صبح پاؤں
چراغوں کی لمبی قطاریں سرِ شام بے جان دیکھوں
سفر کس لیے مجھ کو بخشا ہے ساکت سمندر کا یا رب!
مری اصل خواہش تو یہ تھی کہ میں کوئی طوفان دیکھوں
کبھی تو کنول دوستوں کی نگاہوں سے خوشیوں کے جھانکیں
منافق زمانے کا چہرہ کبھی تو پریشان دیکھوں
۔۔۔۔۔۔

بستیوں میں آہ و زاری ہو رہی ہے شام سے
کچھ نہ کچھ نازل تو ہو گا چرخِ نیلی فام سے
دشتِ غربت میں ہوا ساری طنابیں لے اُڑی
میرا خیمہ رہ سکا کب ایک پل آرام سے
اب تو آوازوں کے جمگھٹ ہیں مرے چاروں طرف
رابطہ پہلے تھا میرا بس سُکوتِ شام سے
کارِ دنیا میں کہاں تک عاشقی کوئی کرے
وہ بھی اپنے کام سے ہے میں بھی اپنے کام سے
میری آنکھوں کو اسی منظر کی اب تک جستجو
میرا دل اب تک دھڑکتا ہے اسی کے نام سے
میں بھی سارے مسئلوں سے سرسری گزروں اگر
سوچتا ہوں عمر گزرے گی بڑے آرام سے
 ۔۔۔۔۔۔

زیاں رسیدہ جزیرے بھی میری آنکھیں بھی
بکھر رہے ہیں کنارے بھی میری آنکھیں بھی
یہ دیکھنا ہے کرن کس طرف سے گزرے گی
کھلے ہوئے ہیں دریچے بھی میری آنکھیں بھی
لکھا ہے سب کے مقدر میں تہہ نشیں ہونا
بھنور نصیب، سفینے بھی میری آنکھیں بھی
میں انتشار کا مارا ہوا مسافر ہوں
بھٹک رہے ہیں یہ رستے بھی میری آنکھیں بھی
گداز برف جو خورشید لمس سے پگھلی
تو رو اٹھے کئی چشمے بھی میری آنکھیں بھی
خزاں نے مجھ کو بھی قربت سے ہم کنار کیا
کہ زرد ہو گئے پتّے بھی میری آنکھیں بھی
--
اسعد بدایونی

Thursday, September 22, 2011

ایک غزل یاد آگئی۔۔۔


 بدن کا روح سے رشتہ بحال کرتے ہو، کمال کرتے ہو
لبوں سے چوم کر پتھر کو لعل کرتے ہو، کمال کرتے ہو
سنا ہے صوت کے ساحر ہو اور آنکھوں میں بلا کا جادو ہے
نظر کے تیر سے دشمن نڈھال کرتے ہو، کمال کرتے ہو
تمہی نے چاک پر رکھا ، بنا کے پھر توڑا، تمہیں ہے غم کیسا
مجھے ہی چھین کر مجھ سے ملالکرتے ہو، کمال کرتے ہو
چلو اب مان بھی جاو کہ درمیاں اپنے کوئی تو رشتہ ہے
ذرا سی بات بھی کہنے میں سالکرتے ہو، کمال کرتے ہو
جلا کر راکھ نہ کر دے تمہارے پیکر کو سنبھال کر چلنا
سلگتی آگ کو گلشن خیالکرتے ہو، کمال کرتے ہو
تمہیں آسان ہے شائد فراق لمحوں کا زبان پر لانا
بڑے آرام سے مشکل سوال کرتے ہو، کمال کرتے ہو
تمہیں تو پیار کا حق ہے، اگر سمجھتے ہو تو پھر یہ ڈر کیسا
کرو تم یار جو بہتر خیال کرتے ہو، کمال کرتے ہو
عاطف جاوید عاطف

Monday, September 19, 2011

بخش دے


 بخش دے ساری خطائیں سن لے میری التجا
مانگتا تجھ سے دعا ہے ایک دل ٹوٹا ہوا
کس میں ہے طاقت کرے جو دور میری مشکلیں
بن نہیں سکتا کوئی آدم کبھی مشکل کشا
رشتے ناطے دوستی بیکار سب ثابت ہوۓ ۔
سب سے بڑھکر میرے مالک ہے تیرا آسرا
میری امیديں تو غیروں سے ہی وابستہ رہیں
ورنہ ہر نعمت مجھے تونے ہی کردی تھی عطا
عرض اتنی ہے یا رب وہ گھڑی آسان ہو
جب فرشتہ موت کا ہوگا میرے سر پر کھڑا
اندھا بنا کر روز محشر میں اٹھانا تم مجھے
منہ دکھاؤں کیا میں ہوگا سامنے جب مصطفے
ہے یہی بس آخری خوہش میری یوں موت ہو
نام ہونٹوں پر ہو تیرا ،سر ہو سجدے میں میرا
(اے مجید وانی احمد نگر )

Sunday, September 18, 2011

کبھی بہت تھی انہیں ، زندگی




وہ لوگ جن کو ہے اب خود کشی سے دلچسپی


کبھی بہت تھی انہیں ، زندگی ۔۔۔ سے دلچسپی



ہے رسم و راہ بس اپنے مفاد کی حد تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔




یہاں کہاں ہے کسی کو کسی سے دلچسپی


یہ زیر بحث جو ہے ۔۔۔۔۔۔۔ عارضہ مرے دل کا ۔۔۔۔۔۔۔۔




غرض اضافے سے ہے یا کمی سے دلچسی؟


معاملات ، کیٔے جایٔیں اب سپرد ان کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




معاملات میں جو لیں ۔۔۔ خوشی سے دلچسپی




نہ سمت دیکھی نہ رستہ ، عجیب عالم تھا ۔۔۔۔ !


ہمیں تھی صرف ۔۔۔۔۔ تری ہمر ہی سے دلچسپی


قبول اندھیرا ، خوشی سے کوئی نہیں کرتا




کسے نہیں ہے بھلا روشنی سے دلچسپی!


ادھر جھکاؤ تو ہوتا ہے جا کے برسوں میں!؟




ہے جِن امور میں تم کو ابھی سے دلچسپی


نعیم ۔ سارے ہی انساں ہیں لایٔق تکریم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




سبھی سے انس ہے ہم کو ، سبھی سے دلچسپی

امیرالاسلام ہاشمی


 سنا ہے اسکو بہت سے اچکےدیکھتے ہیں،
سو ہم بھی دامنِ تقویٰ جھٹک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے وہ تو بھڑکتا ہے بات کرنے سے،
سو پیار اس پہ ذرا سا چھڑک کے دیکھتے ہیں،

نظر میں اسکی کھٹکتے ہیں چاہنے والے،
سو اسکی آنکھوں میں ہم بھی کھٹک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے اوجِ ثریا پہ ہے دماغ اسکا،
سو آج حوصلے ہم بھی فلک کے دیکھتے ہیں،

کوئی تو بات ہے اسکی غزالی آنکھوں میں،
غزالِ دشت جبھی تو ٹھٹک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے وہ تو قیامت کی چال چلتا ہے،
تو آؤ چلتے ہیں اسکو لپک کے دیکھتے ہیں،

وہ جب بھی جھوم کے چلتا ہے اسکے پیکر سے،
وہ موج اٹھتی ہے ساغر چھلک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے وہ تو بدکتا ہے رِیش والوں سے،
جبھی تو شیخ جی اسکو تھپک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے وہ تو سبھی موسموں کی ملکہ ہے،
سو اس سے رنگ ملا کے دھنک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے بھول بھلیاں ہیں اسکی قربت میں،
سو جان بوجھ کے ہم بھی بھٹک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے موڈ میں بارہ بجے وہ آتا ہے،
سو اسکے موڈ سے پہلے کھسک کے دیکھتے ہیں،

وہ گود لیتا ہے یا گود میں وہ لیتا ہے،
سو اسکے سامنے ہم بھی ہمک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے اسکی تو آنکھیں بھی بات کرتی ہیں،
سو بے جھجک بھی اسے کچھ جھجک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے اسکو ہمارا خیال رہتا ہے،
سو ہم خیال کا دامن جھٹک کے دیکھتے ہیں،

یہ بات راز کی ہے راز ہی میں رہنے دیں،
کہ وہ جھجکتا ہے یا ہم جھجک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے حسنِ تکلم پہ ناز ہے ا سکو،
سو اس کے لہجے میں ہم بھی لہک کے دیکھتے ہیں،

الٹ پلٹ کے اسے دیکھنا تو مشکل ہے،
سو آج پیڑ سے الٹا لٹک کے دیکھتے ہیں،

فراز تک تو پہنچنے میں وقت لگتا ہے،
تو پھر نشیب کی جانب لڑھک کے دیکھتے ہیں۔

Sunday, August 07, 2011

اک اک گل


اک اک گل کو ہم نے سجایا امن وفادینداری سے
تب جاکر محفوظ ہوا ہے گلشن شعلہ باری سے
غیرت اپنی، عزت اپنی، ہرگز زخمی ہو نہ سکے
خود کو بچائے رکھو ہر دم ذلت کی بیماری سے
آگ بڑھی تو تم بھی گھروگے ہم بھی گھریں گے شعلوں میں
آؤ عزیزو! دیش بچائیں نفرت کی چنگاری سے
علم و ادب کا سورج بن کر چمکیں گے ہر سمت یونہی
کارِ محبت کرتے رہیں گے یونہی دیانتداری سے
زخم، تباہی، اشکِ شبنم، پھولوں کی ہے قسمت کیا
کانٹے بھی اب تاک رہے ہیں گلشن کو بیزاری سے
جس میں بھائی خود اپنے بھائی کے خوں کا پیاسا ہو
مجھ کو نفرت لگنے لگی ہے ایسی رشتہ داری سے
پوچھویوسفؔ آئی کہاں سے دولت اس کے قبضے میں
دیکھو نوٹیں جھانک رہی ہیں لیڈر کی الماری سے
غم کو سکون، رنج کو دل کا قرار لکھ
جینا اگر ہے دورِ خزاں کو بہار لکھ
جس نے دیا تھا راہ سلیمان کے لئے
وہ چنوٹیوں کی دانا تھی لمبی قطار لکھ
دریا کے لب پہ آج بھی صدیوں کی پیاس ہے
سیراب کر رہا ہے مگر بار بار لکھ
محنت کی ہی کمائی پہ اس کا ہے انحصار
مزدور کے پسینے کو بھی مشکبار لکھ
شرمندہ ہوگا موجۂ طوفاں یہ دیکھنا
’’ کشتی مری بچائے گا پروردگار لکھ‘‘
جو شمع کو بجھا کے جلاتا ہے بار بار
ہوگا اسے کسی کا بہت انتظار لکھ
یوسفؔ نے حادثوں کی جھکا دی ہیں گردنیں
تاریخ! مفلسی میں اسے باوقار لکھ
بھائی کو بھی بھائی کہنا کس قدر دشوار ہے
گھر وہی پرکھوں کا لیکن بیچ میں دیوار ہے
اس سلگتے دور میں بچوں کا بچپن کھو گیا
اب کھلونوں کی بجائے ہاتھ میں تلوار ہے
شرط ہے تھوڑی سی ہمت زندگی کے واسطے
ہاتھ میں لاٹھی اگر ہے راستہ ہموار ہے
شہر میں جنگل سی وحشت ناچتی ہے چار سو
کیا قیامت ہے کہ اب تو آدمی خونخوار ہے
ظلم جب ہوتے ہیں مجھ پر صبر کر لیتا ہوں میں
مجھ میں پُرکھوں کی نرالی خوبئ کردار ہے
اور تھوڑی دیر رُکنے کا ہے مطلب صرف موت
تھوڑی محنت کرلو کہ طوفاں سبک رفتار ہے
اہلِ ایماں سے چلو یوسفؔ کریں چل کر سوال
آج دنیا بھر میں ملت کیوں ذلیل و خوار ہے
صبح سنہری ڈھلکا آنچل
کالی راتیںآنکھ کا کاجل
جس کا تبسم اللہ !! اللہ!!
موجۂ دل ہے بیکل بیکل
ایک سراپا تاج محل سا

Friday, August 05, 2011

کچھ ایسے لفظ مجھ کو ڈھونڈنا ہیں جو

کچھ ایسے لفظ مجھ کو ڈھونڈنا ہیں جو
تخیل میں تو ہوں لیکن
زباں ان کو ادا کرنے سے قاصر ہو
اُتر پائے نہیںجو اب تلک کاغذ کے سینے پر
خلاﺅں میں ابھی کھوئی ہوئی کرنیں جنھیں ترتیب دینی ہیں
کچھ ایسے لفظ
کچھ ایسے لفظ مجھ کو ڈھونڈنا ہیں
جنھیں پانی میں ڈالوں اور اس میں آگ لگ جائے
قلم کی نوک جن لفظوں کو لکھے اور جل جائے
کچھ ایسے لفظ مجھ کو ڈھونڈنا ہیں
جنھیں شب میں پکاروں اور شب دن میں بدل جائے
کسی پتھر کو چھُو جائیں ،تو وہ پتھر پگھل جائے
کچھ ایسے لفظ مجھ کو ڈھونڈنا ہیں
لکھوں نا جن کو کاغذ پر
مگر سب کو دکھائی دیں
فقط لب کو ہلاﺅں
اور وہ سب کو سنائی دیں
کچھ ایسے لفظ مجھ کو ڈھونڈناہیں
جنھیں سوچوں تو جملے آپ ہی ترتیب پا جائیں
اور ان جملوں کا ہر اک لفظ
مکمل نعت کا مفہوم دیتا ہو
کچھ ایسے لفظ میری دسترس میں آگئے جس دن
میں اس دن نعت لکھوں گا
--
شکریہ
علی ساحل
مدیر: نظم نو

Sunday, July 31, 2011

لیلتہ القدر


ماہ رمضان ہی تو ہے ۔تنویر قرآن حکیم
معرفت اللہ کی  تحریرقر آن مجید
معنی حب نبی تفسیر قران مجید
تیرکی لاریب دل کی دور ہو کر رہ گئ
جب ہوئی حاصل ہمیں تنویر قرآن  مجید
ہے ھو للمستقیمی   میں سارے آداب کتاب
انّا انزلنا میں ہے توقیر قرآن مجید!
بزم ہو کہ رزم ہو تسکین ملتی ہے مدام
ہے کلید زندگی  تحریر قرآن مجید!
مشکلیں ہوں فرد کی یا الجھنیں ہوں قوم کی
ہوتی ہے مشکل کشا تدبیر قرآن مجید
انقلاب بزم گیتی پارہا ہے پھر نمو !!
 نعرہ تکبیر ہے ،تکبیر قرآن مجید!
المیۓ اقوام عالم کے بھی ہیں اس میں عیاں
چشم عبرت دیکھ لے تصویر قرآن مجید
ہاتھ میں آتانہیں ہے ،اس کا  کوئی اور چھور
ہے یہ بحر بیکراں تفسیر قرآن مجید
بڑھ گۓ  منظور جب بھی زندگی کے یاس و غم
ہم نے پڑھ لی باوضو تحریر قرآن مجید
(  منظور الحسن منظور  پونہ  )
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP