You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label urdu ghazal. Show all posts
Showing posts with label urdu ghazal. Show all posts

Friday, October 09, 2015

ایک غزل

غزل
عبيد اعظم اعظمى
جو تہہ میں اس کی اتر سکو تو یہ راز بھی آشکار ہوگا
بجز نفاست دماغ و دل میں جو ہوگا گرد و غبار ہوگا
رہِ وفا سے رہِ طلب سے ہر اک سلیقہ ہر ایک ڈھب سے
جو بے تعلق رہے گا سب سے وہ آپ اپنا شکار ہوگا
زہے مقدر بہ فیضِِ قسمت سہارا اب تک ہے تیری رحمت 
یہی اثاثہ ہے کل کی دولت اسی پہ دار و مدار ہوگا
گھرا ہوا ہوں میں کشمکش میں رکوں کہ جاؤں مری طلب میں
تڑپتی صحرا کی دھوپ ہوگی سفر میں دورِ بہار ہوگا
کئی ہیں ساحل کئی سہارے نہیں ہے کچھ بھی یہ تیز دھارے
سفینے اوروں کے لا کنارے ترا سفینہ بھی پار ہوگا
ہے ہر ستم کی سزا مقرر مثال اس کی ملے گی گھر گھر 
کرو گے حملہ اگر کسی پر کہیں سے تم پر بھی وار ہوگا
کرو بھلائی کے کام ہر دم گذشتنی ہے بہارِ عالم 
نہ تم رہوگے عبید اعظم نہ تو نشانِ مزار ہوگا
( عبید اعظم اعظمی)

Sunday, September 04, 2011

غزل : اصغر شمیم


  
غزل اک سنانے کو جی چاہتا ہے
ہر اک دل پہ چھانے کو جی چاہتا ہے

بہت تلخ ہوتی ہیں ماضی کی یادیں
اُسے نہ بھلانے کو جی چاہتا ہے

رہے زندگی میں نہ اب غم کا سایہ
بدل دوں زمانے کو جی چاہتا ہے

فنِ آزری سے میں واقف نہیں ہوں
مگر بُت بنانے کو جی چاہتا ہے

بہت سہہ چکا غم زمانے کا اصغرؔ
کہ اب مسکرانے کو جی چاہتا ہے


اصغرؔ شمیم
12/3/H/1 ۔ پٹوار بگان لین کولکاتہ۔700009 (مغربی بنگال)
asgar.ara@gmail.com
Asgar Shamim
12/3/H/1-Patwar Bagan Lane, Kolkata-9
Mob. 09836224948
asgar.ara@gmail.com

Sunday, August 07, 2011

اک اک گل


اک اک گل کو ہم نے سجایا امن وفادینداری سے
تب جاکر محفوظ ہوا ہے گلشن شعلہ باری سے
غیرت اپنی، عزت اپنی، ہرگز زخمی ہو نہ سکے
خود کو بچائے رکھو ہر دم ذلت کی بیماری سے
آگ بڑھی تو تم بھی گھروگے ہم بھی گھریں گے شعلوں میں
آؤ عزیزو! دیش بچائیں نفرت کی چنگاری سے
علم و ادب کا سورج بن کر چمکیں گے ہر سمت یونہی
کارِ محبت کرتے رہیں گے یونہی دیانتداری سے
زخم، تباہی، اشکِ شبنم، پھولوں کی ہے قسمت کیا
کانٹے بھی اب تاک رہے ہیں گلشن کو بیزاری سے
جس میں بھائی خود اپنے بھائی کے خوں کا پیاسا ہو
مجھ کو نفرت لگنے لگی ہے ایسی رشتہ داری سے
پوچھویوسفؔ آئی کہاں سے دولت اس کے قبضے میں
دیکھو نوٹیں جھانک رہی ہیں لیڈر کی الماری سے
غم کو سکون، رنج کو دل کا قرار لکھ
جینا اگر ہے دورِ خزاں کو بہار لکھ
جس نے دیا تھا راہ سلیمان کے لئے
وہ چنوٹیوں کی دانا تھی لمبی قطار لکھ
دریا کے لب پہ آج بھی صدیوں کی پیاس ہے
سیراب کر رہا ہے مگر بار بار لکھ
محنت کی ہی کمائی پہ اس کا ہے انحصار
مزدور کے پسینے کو بھی مشکبار لکھ
شرمندہ ہوگا موجۂ طوفاں یہ دیکھنا
’’ کشتی مری بچائے گا پروردگار لکھ‘‘
جو شمع کو بجھا کے جلاتا ہے بار بار
ہوگا اسے کسی کا بہت انتظار لکھ
یوسفؔ نے حادثوں کی جھکا دی ہیں گردنیں
تاریخ! مفلسی میں اسے باوقار لکھ
بھائی کو بھی بھائی کہنا کس قدر دشوار ہے
گھر وہی پرکھوں کا لیکن بیچ میں دیوار ہے
اس سلگتے دور میں بچوں کا بچپن کھو گیا
اب کھلونوں کی بجائے ہاتھ میں تلوار ہے
شرط ہے تھوڑی سی ہمت زندگی کے واسطے
ہاتھ میں لاٹھی اگر ہے راستہ ہموار ہے
شہر میں جنگل سی وحشت ناچتی ہے چار سو
کیا قیامت ہے کہ اب تو آدمی خونخوار ہے
ظلم جب ہوتے ہیں مجھ پر صبر کر لیتا ہوں میں
مجھ میں پُرکھوں کی نرالی خوبئ کردار ہے
اور تھوڑی دیر رُکنے کا ہے مطلب صرف موت
تھوڑی محنت کرلو کہ طوفاں سبک رفتار ہے
اہلِ ایماں سے چلو یوسفؔ کریں چل کر سوال
آج دنیا بھر میں ملت کیوں ذلیل و خوار ہے
صبح سنہری ڈھلکا آنچل
کالی راتیںآنکھ کا کاجل
جس کا تبسم اللہ !! اللہ!!
موجۂ دل ہے بیکل بیکل
ایک سراپا تاج محل سا

Friday, August 05, 2011

ایک غزل :عورت-عورت


Wednesday, August 03, 2011

مزاحیہ غزل

اس گلی میں نہ اس کا گھر ہوتاہم کو ہمسایوں کا نہ ڈر ہوتا

آتے جاتے نہ گھورتےیوں لوگ
اس سے ملنا بھی بےخطر ہوتا

کیا کریں ہم سےجان دی نہ گئی
پیار اپنا بھی پھر امر ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔

شیخ جی میکدے میں آ ٹپکے
ورنہ ہڑدنگ رات بھر ہوتا

آہیں ٹھنڈک سے جم گئیں ساری
پھر بھلا کس طرح اثر ہوتا۔۔۔۔

راز الفت نہ فاش ہوتا یوں۔۔۔۔۔۔۔
گونگا بہرا جو نامہ بر ہوتا۔۔۔۔

چارہ گر بولا کرتو دیتا علاج
سینہ میں گر دل و جگر ہوتا

کی نہ ہوتی اگر جبیں سا ئی
تجھ کو لاحق نہ درد سر ہوتا

جانور کہتی پیار سےتو مجھے
میری جاں میں جو تیرا ور ہوتا

عالیہ کردی ان کی مٹّھی گرم
ورنہ اب تک اگر مگر ہوتا
از
عالیہ تقوی،الہ آباد
پیش کش

Sunday, July 24, 2011

محمد رفیع صاحب کو خراج عقیدت


میرے ہندوستاں کی سرزمیں پرکسی اوتار کی صورت تو آیا
گلے میں بانسری کے سر لبوں پرندی کی دھیمی دھیمی گنگناہٹاذانوں کا تقدس صورت تیری
ترے سر تال اک الہامی آہٹتری آواز کے ہر زیروبم میں
فرشتوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹتری آواز جب میں نے سنی تو
یقیں آیا طلسم نغمگی کا
تری آواز کے زیر وبم میںکئی سورج نکلتے میں نے دیکھے
گلے سے پھوٹتی کرنوں کی لے سےزمیں و آسماں ہلتے بھی دیکھے
رفیع جب جب بھی کھولے ہونٹ تو نے
فلک کو جھومتے دیکھا ہے میں نےمگر جب آج تو رخصت ہوا تو
خلش رہ رہ کے اٹھتی ہے جگر میں
ک ہے نظر میں
ستارے بھی یہ کہتے ہیں لرز کر''تجھے ہم بخش دیتے عمر اپنی
کہ تو اے کاش کچھ دن اور جیتا
شاہجہاں جعفری حجاب امروہوی

Sunday, July 17, 2011

نظر ملا کے شراروں سے بات کرتا ہوں

نظر ملا کے شراروں سے بات کرتا ہوں
اکیلا ہو کے ہزاروں سے بات کرتا ہوں

چلا ہوں آج سمجھنے کورازِ حسن وعشق
نگاہِ ناز کے ماروں سے بات کرتا ہوں

روش روش سے گذرتا ہے کاروانِ جنوں
چمن چمن کے نظاروں سے بات کرتا ہوں

کسی سوال کا مشکل نہیں زباں سے جواب
بہ مصلحت میں اشاروں سے بات کرتا ہوں

خزاں کا ذکر نہ کر مجھ سے توکبھی اے دوست
خزاں سے دور بہاروں سے بات کرتا ہوں

مجھے پسند ہے موجوں میں غرق ہوجانا
یہ کیاکہا؟ کہ کناروں سے بات کرتا ہوں

بتاؤں آ میں تجھے اپنی رفعتِ تخیئل
میں پہ رہ کے ستاروں سے بات کرتا ہوں

عجیب ذوق ہے میرا عجب طبیعت ہے
گلوں کو چھوڑ کے خاروں سے بات کرتا ہوں

تخیلات کی دنیا میں کھوکے اے انجم
نظر نواز ستاروں سے بات کرتا ہوں


از: ڈاکٹر حامد الانصاری انجم

پیش کش: سلمان فیصل

Saturday, July 16, 2011

غزل : مجروح سلطانپوری



ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح

اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح

اس کوۓ تشنگی میں بہت ہےکہ ایک جام

ہاتھ آ گیا ہے دولت بیدار کی طرح

وہ تو کہیں ہے اور مگر دل کے آس پاس

پھرتی ہے کوئی شۓ نگہ یار کی طرح

سیدھی ہے راہ شوق ، پہ یونہی کہیں کہیں

خم ہو گئی ہے گیسوۓ دل دار کی طرح

بے تیشئہ نظر نہ چلو راہ رفتگان

ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح

اب جا کے کچھ کھلا ہنر ناخن جنوں

ہم بھی کھڑے ہوۓ ہیں گنہگار کی طرح

مجروح سلطانپوری

Thursday, July 07, 2011

نقوش محبت


محبت حاصل کون ومکاں ہے
نجوم وماہتاب وکہکشاں ہے

محبت حاصل درد جہاں ہے
محبت گلستاں درگلستاں ہے

محبت میکدہ درمیکدہ ہے
محبت گل کدہ انجم کدہ ہے

مگر اک دل جلے کا قول ہے یہ
محبت کیا ہے اک آتش کدہ ہے

محبت سازِ فطرت، ترجماں ہے
محبت حسن غم کی داستاں ہے

محبت روح ملت کی ہے مظہر
بہرسو ایک گنج شائگاں ہے

محبت رحمت رب ہے قسم ہے
مئے تسنیم وکوثر جام جم ہے

جمال طور کی تابندگی ہے
شعاعِ نور کی رخشندگی ہے

محبت حسن معنیٰ کی ہے شبنم
بہارِرنگ وبو کی دلکشی ہے

محبت نور بھی ہے نار بھی ہے
نگاہِ ناز بھی تلوار بھی ہے

محبت قصۂ دار ورسن ہے
بہار گلستاں روحِ چمن ہے

محبت جذب دل بھی سوز دل بھی
محبت موجۂ گنگ وجمن ہے

محبت دوجہاں کی روشنی ہے
محبت اک حیات سرمدی ہے

محبت باعثِ تزئین عالم
محبت اک پیام سرخوشی ہے

محبت بندگی ہی بندگی ہے
محبت شاہراہِ زندگی ہے

محبت علم وعرفاں کی ہے دولت
محبت سوز و ساز آگہی ہے

محبت سوز بھی ہے ساز بھی ہے
نیاز و ناز بھی ہے راز بھی ہے

یہ حسن و عشق کی دنیا میں انجم
''کلیم طور'' کی آواز بھی ہے


از: ڈاکٹر حامدالانصاری انجم

پیش کش: سلمان فیصل

Wednesday, July 06, 2011

شکیل جعفری کی ایک تخلیق

شکیل جعفری کی ایک تخلیق

Tuesday, July 05, 2011

کلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہوجائے





کلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہوجائے


حریم قلب میں رقصاں جمال یار ہوجائے
اگر پیدا کمالِ حسرت دیدار ہوجائے


غم دوراں غم جاناں ہی سے آباد ہے دنیا
نہ ہو یہ سازوساماں زندگی دشوار ہوجائے


بہار نوکے جھرمٹ میں نسیم صبح آتی ہے
یہ کہہ دو سبزۂ پامال سے بیدار ہوجائے


ہمیں نے اپنے خوں سے گلستاں کو رنگ وبو بخشا
تعجب ہے ہمی سے باغباں بیزار ہوجائے


وطن کی آبرو جس نے بچائی نقدجاں دے کر
غضب کا سانحہ ہے وہ ذلیل وخوار ہوجائے


وہ مے اب تیرے میخانے میں کیا باقی نہیں ساقی
جسے پی لے کوئی میخوار تو ہشیار ہوجائے


بہار و سازِ نو پر چھیڑ دو ایسا کوئی نغمہ
کلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہوجائے


کہاں سے لالہ وسرووسمن پر آئے رعنائی
بہاروں میں گلستاں جب خزاں آثا ر ہوجائے


اڑالی ہے ہماری نیند جس جانِ محبت نے
اسے بھی یا الٰہی عشق کا آزار ہوجائے


کرے گی اس کا استقبال منزل دوقدم بڑھ کر
کوئی گھر سے نکلنے کو اگر تیار ہوجائے


خدا پر ناخدا کا ہو بھروسہ پھر تو کیا کہنا
وفور موج وطوفاں سے سفینہ پارہوجائے


پہنچا تابہ منزل کارواں کا غیرممکن ہے
اگر خود راہزن ہی قافلہ سالا ر ہوجائے


خلوص و صدق ہو عزم و یقیں ہو سوز کامل ہو
عجب کیا ہے وہ انساں قوم کا سردار ہوجائے


زمانہ بھول جائے قیس اور فرہاد کے قصے
مرا جوش جنوں انجم اگر بیدار ہوجائے


از : ڈاکٹر حامد الانصاری انجم


پیش کش: سلمان فیصل



ہائے بیچارہ مولوی

ہائے بیچارہ مولوی
طعنہ و تشنیع کا سارا نشانہ مولوی
گالیاں اتنی بھیانک؛ مر ھی جانا مولوی
آپ کو جائز کہ منہ ڈالیں کسی بھی کھیت میں
اپنی جائز خواھشوں کو بھی دبانا مولوی
نفس و دل کے ھر اثر سے مولوی آزاد ھو
مرغ و ماہی، شیر خرمہ بھی نہ کھانا مولوی
مولوی جیسے کہ اترا ہو فلک سے ارض پر
بس فرشتوں کی طرح پاکی سنانا مولوی
مولوی کو کس لئے راتب ملے گی دس ہزار
آٹھہ سو میں ھو سکے تو گھر چلانا مولوی
اور اگر حالات پیچیدہ ھوئے تو مستقل
صحن-مسجد میں بڑی جھاڑو لگانا مولوی
اور جو نگران-مسجد ھو اسی کا وہ غلام
اس کے ذاتی گھر کا ھر سودا بھی لانا مولوی
موٹا جھوٹا ایک کرتا اور پجامہ چاھئے
العیاذ و الاماں ؛ ٹرلن سلانا مولوی؟
پاوں میں چپل ھوائی، نعمت-عظمی ملی
بھول کر باٹا کے چکر میں نہ آنا مولوی
دس ہزاری جھاڑ اور فانوس تو اپنا نصیب
صحنک و بھرکے سے اپنا گھر سجانا مولوی
کاہے کا عالم سیانا اور زیرک مولوی
بس نکھٹّو، آلسی، پاگل ، دوانہ مولوی
پھوٹ پڑتا ھے اگر اس شہر میں دنگا فساد
سامنے آنا اگر تو صرف آنا مولوی
کار، بنگلہ، فون، ٹیلی کام، موبائیل و نٹ
خواب-دیوانہ سمجھہ کر بھول جانا مولوی
روس میں ھو حادثہ یا اندرون- ملک ھو
سب کا ذمہ دار-اول غائبانہ مولوی
یہ تو اسکا حال ہے دانشوروں کے سامنے
گھر میں بھی روتے ھوئے کھانا پکانا مولوی
بجلی جاتی ھے تو جنریٹر چلاتے ھیں امیر
مچھروں کی ھر ادا پر کلبلانا مولوی
مولوی صبر تحمل کے لئے مشہور ھے
آپ تھپّڑ مارنا اور مسکرانا مولوی
ھم امیران-وطن ھیں ؛ باندیاں ھیں موٹریں
ٹوٹی پھوٹی سائیکل پر آنا جانا مولوی
اتنا سب کچھہ کرکے بھی فتوی یہی جمہور کا
بعد مردن آگ میں پائے ٹھکانہ مولوی
ڈاکٹر محمد عمران اعظمی

Tuesday, June 21, 2011




آج کے اشعار
شام فراق کچھ نہ پوچھ آئ اور آکے ٹل گئ
دل تھا کہ پھر بہل گیا جاں تھی کہ پھر سنبھل گئ
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں 
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
مدتیں گزریں تری یاد بھی آئ نہ ہمیں
اور ہم بھول گیۓ ہوںتجھے ایسا بھی نہیں
مرسل         حسن فرخ



Monday, June 20, 2011

Thursday, June 09, 2011

گرچہ نام و نسب سے ہندو ہوں.....کملی والے میں تیرا سادھو ہوں

نعت گوئی کو شاعری کا نگینہ کہا گیاہے۔ لیکن یہ مشکل ترین صنف سخن ہے۔ کیونکہ اس میں ایسی شخصیت کی ثناخوانی کرنی ہے جو خیر البشر ہے۔ جس کا کوئی ثانی ازل تا ابد پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس لئے نعت گوئی میں بے حد احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

نعت گوئی کا آغاز حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ ہی میں ہو گیا تھا۔ اس دور میں حسان بن ثابتؓ جیسے با کمال نعت گو پیدا ہوئے۔ نعت گوئی عربی سے فارسی اور پھر اردو زبان میں آئی۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ عربی کے بعد سب سے زیادہ نعتیں اردو میں لکھی گئی ہیں اوریہاں نعتوں کا بہت بڑا سرمایہ موجود ہے۔

اردو کے غیرمسلم شعرا نے بھی ان کی حیات طیبہ سے متاثر ہو کر کافی تعداد میں نعتیں کہیں اور اس کا کافی بڑا سرمایہ اردو میں موجود ہے ۔ غیر مسلم شعرا کی نعتوں کو جمع کرنے کی سب سے پہلے کوشش مشہور شاعر مرحوم والی آسی نے کی تھی اور اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ یوں تو اردو میں غیرمسلم نعت گو شعرا کی تعداد کئی سو تک پہنچتی ہے۔ لیکن نور میرٹھی نے جو کتاب " بہ ہرزماں بہ ہر زباں" مرتب کی وہ بہت اہمیت کی حامل ہے اس میں انہوں نے 336 ہندو شعراءکی نعتوں کویکجا کیا ہے۔

غیر مسلم شعراءمیں جو نامور سامنے آتے ہیں ان میں پنڈت دیا شنکرنسیم، پنڈت ہری چند اختر، پنڈت لبھو رام جوش ملسیانی، علامہ تربھون ناتھ زار زتشی دہلوی، تلوک چندر محروم، پنڈت بال مکند عرش ملسیانی، گوپی ناتھ امن، پنڈت نوبت رائے نظر، پنڈت امر ناتھ آشفتہ دہلوی، بھگوت رائے راحت کاکوروی، مہاراجہ کشن پرساد، پنڈت برج نرائن دتا تریا کیفی، رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری، کالی داس گپتارضا، اوم پرکاش ساحر ہوشیارپوری، کنور مہندرسنگھ بیدی سحر، کرشن موہن، چندر پرکاش جوہر بجنوری، آنند موہن زتشی، گلزار دہلوی، پنڈت دیا پرساد غوری، اوما شنکر شاداں، اشونی کمار اشرف، ہری مہتا ہری اور چند ر بھان خیال جیسے شعراءکے نام آتے ہیں ۔

کالی داس گپتا رضا کی نعتوں کا مجموعہ "اجالے " کے عنوان سے شائع ہوا تھا اور چند ر بھان خیال نے منظوم سیرت پاک" لولاک "کے عنوان سے شائع کی ۔

ذیل میں کچھ ہندو شعراءکا نعتیہ کلام درج ہے ۔

ہر شاخ میں ہے شگوفہ کاری
ثمرہ ہے قلم کا حمد باری
کرتا ہے یہ دو زباں میں یکسر
حمد حق مدحت پیمبر

پانچ انگلیوں میں یہ حرف زن ہے
یعنی یہ مطیع پنجتن ہے
پنڈت دیا شنکر نسیم

ہو شوق نہ کیوں نعتِ رسولِ دوسرا کا
مضموں ہو عیاں دل میں جو لولاک لما کا
پہنچائے ہے کس اوج سعادت پہ جہاں کو
پھر رتبہ ہو کم عرش سے کیوں غار حرا کا
یوں روشنی ایمان کی ہے دل میں کہ جیسے
بطحا سے ہوا جلوہ فگن نور خدا کا
پنڈت دتا تریا کیفی

انوارہیں بے شمار معدود نہیں
رحمت کی شاہراہ مسدود نہیں
معلوم ہے کچھ تم کو محمد کا مقام
وہ امت اسلام میں محدود نہیں

رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری


سبز گنبد کے اشارے کھینچ لائے ہیں ہمیں
لیجئے دربار میں حاضر ہیں اے سرکار ہم
نام پاک احمد مرسل سے ہم کو پیار ہے
اس لئے لکھتے ہیں اختر نعت میں اشعار ہے
پنڈت ہری چند اختر

سلام اس پر جو آیا رحمت للعالمین بن کر
پیام دوست لے کر صادق و وعدو امیں بن کر
سلام اس پر جو حامی بن کے آیا غم نصیبوں کا
رہا جو بے کسوں کا آسرا مشفق غریبوں کا

جگن ناتھ آزاد

پر تو حسن زاد آئے تھے
پیکر التفات آئے تھے
کذب اور کفر کو مٹانے کو
سرور کائنات آئے تھے
پنڈت آنند موہن گلزارزتشی

گرچہ نام و نسب سے ہندو ہوں
کملی والے میں تیرا سادھو ہوں
تیری توصیف ہے مری چہکار
میں ترے باغ کا پکھیرو ہوں
کرشن موہن


حضرت کی صداقت کی عالم نے گواہی دی
پیغام الہٰی ہے پیغام محمد کا
اوہام کی ظلمت میں اک شمع ہدایت ہے
بھٹکی ہوئی دنیا کو پیغام محمد کا
راجیندر بہادر موج


زندگی میں زندگی کا حق ادا ہو جائے گا
تو اگر اے دل غلام مصطفٰے ہو جائے گا
رحمت للعالمیں سے مانگ کر دیکھو توبھیک
ساری دنیا سارے عالم کا بھلا ہو جائے گا
ہے یہی مفہوم تعلیمات قرآن و حدیث
جو محمد کاہوا اس کا خدا ہو جائے گا
شوق سے نعت نبی لکھتا رہا گر اے خودی
حق میں بخشش کا تری یہ آسرا ہو جائے گا

پنڈت گیا پرساد خودی

Saturday, June 04, 2011

غزل'' ڈاکٹر فریاد آزر



اپنی تباہیوں کا بہانہ بھی میں ہی تھا
شانہ بھی میرا اور نشانہ بھی میں ہی تھا

اس طرح سازشوں نے مجھے دام میں لیا
میں ہی حسیں پرندہ تھا ، دانہ بھی میں ہی تھا

لمحہ بنا دیا مجھے حالات نے مگر
اک دور وہ بھی تھا کہ زمانہ بھی میں ہیں تھا

آدم نے بھی پڑھا تھا مرا نام عرش پر
سب سے نیا ہوں ،سب سے پرانا بھی میں ہی تھا

عبرت لو مجھ سے دیکھو مرا حال کیا ہوا
سوچو ذرا کہ عہد ِ شہانہ بھی میں ہی تھا

لوٹا مجھے تو لوگ مہذب بھی ہو گئے
تہذیب کا حسین خزانہ بھی میں ہی تھا

نکلا جو خلد سے تو چلا دورِ ہست و بود
نادان میں اگر تھا تو دانا بھی میں ہی تھا

ڈاکٹر فریاد آزر

Friday, June 03, 2011

فریاد

از: حامد الانصاری انجم، سنت کبیر نگر، اتر پردیش، ہندوستان

ماحول ہے تاریک فضاؤں میں دھواں ہے
جس سمت نظر اُٹھتی ہے وحشت کا سماں ہے

انجام کی کچھ فکر نہ احساسِ زیاں ہے
یہ میرا زمانہ ہے یہی میرا جہاں ہے

کیا چیز نہیں میرے یہاں خیر سے ہمدم
جنگ و جدل و عصبیَّت و تیغ و سناں ہے

کہنے کے لئے آج ہیں آزاد یقینا
لیکن جبیں پہ ثبت غلامی کا نشاں ہے

گلشن کی تباہی کے یہ آثار ہیں اے دل
لرزیدہ و ترسیدہ بہار اور خزاں ہے

تم کہتے ہو انسانوں کی بستی ہے یہ بستی
لیکن مجھے بتلاؤ تو انسان کہاں ہے

یہ مشق ستم کس لئے اے بانیِ بیدار
ہر لب پہ تشکر کی جگہ آہ و فغاں ہے

باطل تو ہے آزاد مگر حق ہے مقیَّد
’’آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے ‘‘

شہرہ ہے ترقی کا ترانے ہیں خوشی کے
نابود اگر ہے تو فقط امن و اماں ہے

اخلاق و محبت ہو کہ اخلاص و وفا ہو
یہ چیز مرے دیس میں کمیاب وگراں ہے

تم نے کیا شاہین کو پابند نشیمن
ڈنکا یہ بجاتے ہو یہاں امن و اماں ہے

افتادہ سرراہ ہے کس کا یہ جنازہ
پتھرائی ہوئی آنکھ ہے خاموش زباں ہے

یہ کیسا زمانہ ہے اور یہ کیسی روش ہے
ناقوس کی لَے میں ڈھلی آواز اذاں ہے

اب حق و صداقت کے عَلَم دار وہی ہیں
حق بات کی تائید جنھیں بارِ گراں ہے

اربابِ غرض لاکھ مِٹائیں اِسے انجم
یہ مِٹ نہیں سکتی کبھی یہ اردو زباں ہے

پیش کش : سلمان فیصل، نئی دہلی
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP