You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label aziz nabeel. Show all posts
Showing posts with label aziz nabeel. Show all posts

Sunday, August 07, 2011

عزیز نبیل کے شعری مجموعہ’خواب سمندر’ پر دہلی میں مذاکرہ




نئی دہلی ۔ 31 جولائی 2011

کل شام ایک ادبی تقریب میں عزیزنبیل کے شعری مجموعہ خواب سمندر کے حوالے سے اردو شاعری کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے مہمان شاعر کی شخصیت اور شاعری کو سمجھنے کی کوشش کی گئی اور ان کے افکار اور اسلوب میں نئے پن کی نشاندہی کی گئی. خاص کر شعروں میں ابھرنے والے خوبصورت پیکروں اور سلجھی ہوئی تخلیقی زبان کو پہچانا گیا.
یہاں غالب اکیڈمی میں خواب سمندر پر مذاکرے کے دوران نہ صرف عزیزنبیل کی شاعری میں اچھی اور معتبر شاعری کے امکانات کو دیکھا گیا بلکہ شعری محاسن، تخلیقیت، عصری حسّیت، مہجر ادب اور اردو کی نئی بستیوں میں زبان اور ادب کے فروغ کے لیے کوشاں اردو والوں کی خدمات پر بھی روشنی ڈالی گئی. اس تقریب کی مجلس ِ صدارت میں ڈاکٹر تقی عابدی (کناڈا)، ممتاز فکشن نگار اور ادیب سید محمد اشرف اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ ء اردو کےسربراہ پروفیسر خالد محمود کے علاوہ مشہور شاعر اعظم عبّاس شامل تھے.
آئیڈیا کمیونیکشن کے زیرِ اہتمام اس تقریب میں مجلس صدارت کے اراکین کے علاوہ جامعہ ملّیہ اسلامیہ کے شعبہ ء اردو کے استاذ اور ممتاز شاعر پروفیسر شہپر رسول، سید راشد حامدی اور آصف اعظمی کے علاوہ مشہور ادیب و صحافی اشہر ہاشمی نے بھی عزیزنبیل اور خواب سمندر کے حوالے سے اس صدی کے ابتدائی دس برسوں کے شعری رجحانات پر اظہار ِ خیال کیا.
پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ عزیزنبیل اچھے اور تازہ کار شاعر ہیں ان کی نظمیں اور غزلیں دونوں متوجّہ کرتی ہیں ان کا لہجہ بدلتے اور بنتے ہوئے نقوش سے مزیّن ہے نیز ان کے یہاں انفرادیت کی آہٹ کو بھی سنا جاسکتا ہے. فنّی تخلیقی اظہار کی مذکورہ سمت قدم بڑھا لینا کوئی معمولی بات نہیں ہے.. انہوں نے مزید کہا کہ عزیزنبیل نیا سوچنے اور نیا کہنے کی دھن میں ضرور رہتے ہیں لیکن عجوبے تخلیق نہیں کرتے وہ لفظ و معنی کے امکان و اظہار پر نظر رکھتے ہیں اور ایک لفظ سے ایک علاقہ آباد کرنے کے خواہاں نظر آتے ہیں.
عزیزنبیل کی شاعری کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر تقی عابدی نے کہا کہ خواب سمندر کی غزلوں اور نظموں میں ایک ذہین فنکار نظر آتا ہے جس کے سوچنے کا ڈھنگ اپنی عمر کے دوسرے شعراء سے ذرا مختلف ہے اور جو اظہار کی سطح پر کوئی بڑا تجربہ نہ کرنے کے باوجود پرانی روایت سے آگے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں جیسے ہجرت پر ان کے اشعار اب تک کے کہے گئے شعروں سے بالکل مختلف ہیں. ڈاکٹر تقی عابدی نے اپنی بہت تفصیلی گفتگو میں موضوع کے آس پاس رہتے ہوئے شعرگوئی اور شعر فہمی پر بھی بات کی اور عزیزنبیل کی دو مکمل غزلوں کے تمام اشعار کا بخوبی تجزیہ پیش کیا.
پروفیسر خالد محمود نے عزیزنبیل کی کتاب کے صوری اور متنی محاسن گناتے ہوئے بتا یا کہ نبیل کے اشعار میں بہت گہرائی اور بشر ط ریاضت ان کے یہاں ایک بڑی شاعری کا امکان صاف نظر آتا ہے.. پروفیسر خالد محمود نے عزیزنبیل کے کئی اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے نبیل کی شاعری کی مختلف جہتوں سے تجزیہ کیا.
ڈاکٹر سید محمد اشرف نے عزیزنبیل کے مجموعے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواب سمندر کا کوئی صفحہ ایسا نہیں کہ جس پر دو یا تین ایسے خوبصورت اشعار نہ موجود ہوں جو آپ کے حافظے میں جگہ بنانے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں.
دہلی کی پرانی روایتوں کے امین حاجی ہوٹل کے مالک حاجی میاں فیاض الدین نے اہلیانِ دہلی کی جانب سے عزیزنبیل کو شال اڑھا کر اور گلدستہ پیش کرکے استقبال کیا...
عزیزنبیل انجمن محبّان ِ اردو ہند قطر کے جنرل سکریٹری اور سالانہ دستاویزی مجلّہ دستاویز کے مدیرِ اعلی بھی ہیں. عزیزنبیل کا آبائی وطن الہ آباد ہے لیکن ان کے خاندان کے افراد مہاراشٹر جاکر بس گئے. انہوں نے جامعہ ملّیہ اسلامیہ سے تعلیم حاصل کی اور قطر میں بسلسلہ ملازمت مقیم ہیں... اس تقریب کے اہم شرکاء میں دہلی اردو اکیڈمی کے سکریٹری انیس اعظمی، اسیر برہان پوری، شہبازندیم ضیائی، عامر قدوائی، معین شاداب، عالمگیر ثانی، بسمل عارفی، شکیل انصاری، ضمیراللہ ضمیر اور شہر کے بہت سارے اہم شعراء و ادباء موجود تھے.

Friday, May 13, 2011

ایک سمندر، ہزارو ں خواب

(عزیز نبیل کے مجموعے خواب سمندر پر ایک نظر)

خواب سمندر ، عزیز نبیل کے خوابوں کا ہفت رنگ سمندر ہے، جسکی شناوری کے دوران ماضی اور ماضی قریب کے متعدد شعراء سے ملاقا ت ہو تی ہے مگر اس فنکار نے اتنے کمال کی خواب گری کی ہے کہ سب لہجوں کے تاثر کے باوجود قا ری کے ذہن پر جو آخری تاثر ابھرتا ہے وہ عزیز نبیل کے سوا کسی اور کا نہیں ہوتا اور یہی بات اسکو اپنے ہمعصروں میں ممتاز کرتی ہے۔

خواب سمندر کا شاعر روایت کی پاسداری کے ساتھ ساتھ تجربات کو بھی شجرِممنوعہ نہیں سمجھتااور ہر خیال کو نیا اور چونکا دینے والا بنانے کے لئے الفاظ و تعبیرات کی خوبصورت اور دل آویز کہکشاں تخلیق کرتا ہے اور پوری فنی مہارت کے ساتھ اسکی نوک پلک سنوار کر جب گویا ہوتا ہے تو سننے اور پڑھنے والے کو اچھلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

یہ دریا کچھ زیادہ ہنس رہا ہے

اسے صحرا کی جانب موڑ دوں کیا

یا

برا نہ مانو تو ایک بات کہنا چاہتا ہوں

مجھے تمہا ری محبت سے خوف آتا ہے

خواب سمندر کا شاعر مثبت اور توانا سوچ کا حامل شاعر ہے ۔جسکے لہجے میں کسک تو ہے ،لیکن لچک نہیں ہے ،وہ پر اعتماد ہے اور منزل تک پہنچنے کا یقین رکھتا ہے،وہ صرف لفظوں کی جادوگری نہیں کرتا بلکہ ان میں حقیقت کا رنگ بھر کر زندگی کو قریب سے پیش کرتا ہے ۔جتنا کچھ اسکی آنکھیں دیکھتی اور کان سنتے ہیں اس سے کہیں زیادہ اس کا دل محسوس کرتا ہے۔وہ غزل کے گرتے ہوئے معیار کو بھی نظر انداز نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ

غزل کہنا بھی ایک کارِ بے مصرف سا لگتا ہے

نیاکچھ بھی نہیں ہوتا بس ایک تکرار چلتی ہے

اور آگے بڑھ کر پرانے رستوں پر نئے نقشِ قدم ثبت کرنا چاہتا ہے اور غیر متزلزل یقین کے ساتھ قافلے کی باگ ڈور تھامنے کا اعلان کرتا ہیکہ

میں اگر ٹوٹا تو سارا شہر بکھرے گا نبیل

ایسا پتھر ہوں فصیل شہر کی بنیاد کا

اسکے اس اعلان سے قبیلے کے سردار بھڑک اٹھتے ہیں اور اسکو بغاوت کی خلعت سے نوازتے ہیں اور یہیں سے اس شاعر کی حقیقی دریافت شروع ہوتی ہے اس کے اس اعتراف کے ساتھ کہ

ہم قافلے سے بچھڑے ہوئے ہیں مگر نبیل

ایک راستہ الگ سے نکالے ہوئے تو ہیں

نبیل کا یہ نیا راستہ بہت خوشنما مناظر لئے ہوئے ہے،یہاں ہر جذبہء دل کو تعبیروں کا نیا پیراہن ملتا ہے اور ہر احساسِ نظر کو نئی پوشاک عطا کی جاتی ہے ،یہاں روانی و شگفتگی ہے، معا نی اور شائستگی ہے ،یہاں خواب ِامروز ہے اور تصورِ فردا بھی،یہاں داخلی کیفیات بھی ہیں اور بیرونی واقعات بھی ہیں ، یہاں صبحِ تازہ کی امید ہے اور شب ِ سیاہ کے خاتمہ کی نوید ہے، یہاں محبوب سے محبت کا برملا اظہار بھی ہے اور اپنی خودداری اور انا کا ببانگِ دہل اعلان بھی،یہاں سب کچھ ہے کونکہ یہ سمندر ہے ،خوابوں کا سمندر۔

عزیز نبیل کے اس مجموعے میں ۹۲ غزلیں ،۱۳ نظمیں اور ایک دعائیہ نظم بھی شامل ہے ۔ہر دو صنف میں شاعر کی قادر الکلامی اور صداقت و برجستگی انتہائی نمایاں ہیں۔ ہر غزل میں آپکی سماعت و بصارت کو محیر کردینے والا شعر ضرور موجود ہے اور کئی غزلیں تو پوری کی پوری مرصع اور ذوق آفرین ہیں ۔ نت نئی تعبیریں قاری اور سامع کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں ۔ مثال کے طور پر چند اشعار ۔

راستوں نے قبائیں سی لی ہیں

اب سفر کو مچل رہا ہوں میں

۔۔۔۔

کیوں نہیں دیکھتا ہے وہ مڑ کر

مر گئیں راہ میں صدائیں کیا

معاصر غزل کا دامن کافی وسیع ہوگیا ہے اور وہ محبوب کے لب و رخسار کی ہی بات نہیں کرتی بلکہ سیاست ،معیشت ،معاشرت اور بین الا قوامی تعلقات کوبھی موزوں کرتی ہے ۔ عزیز نبیل نے ان تمام موضوعات کوغزل کی حقیقی حلاوت کے تھال میں سجا کر پیش کیا ہے،اس نے کا نٹوں سے بھی پھولوں کا کام لیا ہے ۔اور جب ضرورت پڑی تو پھولوں کو کانٹوں کے روپ میں ڈھال دیا ہے ۔ تونس اور مصر کے حالیہ واقعات ،اور ان سے پہلے اور بعد کے ایسے ہی منظر نامے دیکھیئے اور پھر یہ شعر پڑھئے کہ۔

تب کہیں جھکایا ہے سر، غرورِ شاہی نے

جب اٹھالیا سر پر تخت ،بے گناہی نے

اسکی وارفتگی بڑے کمال کی ہے اور خود سپردگی غیر مشروط ہے۔

اب ہمیں چاک پہ رکھ یا خس وخاشاک سمجھ

کوز ہ گر ہم تری آواز پہ آئے ہوتے

یہ سجیلا شاعر دو انسانی روحوں کے ملاپ کو اتنی خوبصورتی سے قلم بند کر گیا ہے کہ غزل خود پر اترانے لگتی ہے ،دیکھئے تو سہی

مرے سوال کی برجستگی سے گھبرا کر

نظر جھکانا ، سراپا جواب ہو جانا

اور اسی رشتے کا اظہار ایک اور زاوئیے سے یوں کیا ہے

مرے اشعار میں شامل تری خوشبو ہو جائے

دشتِ افکار میں اے کاش تو آہو جائے

مرا ہر لفظ ترے روپ کی تمہید بنے

کبھی بندیا کبھی کنگن کبھی گھنگھر و ہو جائے

نبیل کی غزلوں میں جذب و مستی اور برجستگی اور سچائی کے عناصر بہت نمایاں ہیں ۔ہجر و فراق ، زمانے کے ستم اور انسانیت کو در پیش محرومیوں اور نا انصافیوں کے تذکرے تو ہیں ،لیکن انکا تناسب وصال و امید اور نوید و عزیمت کے دروس و پیغامات سے کم ہے اور اسی بناء پر میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ شاعر مایو سیوں کا نہیں مسرتوں کا شاعر ہے ،

وہ گرنے والوں پر ہنستا نہیں بلکہ انہیں اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ ظلم کی قصیدہ خوانی نہیں کرتا بلکہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سینہ سپر ہو جاتا ہے اور یہی وہ جذبہ ہے جو اس کی شا عری کو عام شا عری کی صف سے نکال کر با مقصد شاعری کے زمرے میں لا کر کھڑا کر دیتا ہے ۔بطورِ مثال مختلف غزلوں کے چند اشعار دیکھیں۔

تمام شہر کو تاریکیوں سے شکوہ ہے

مگر چراغ کی بیعت سے خوف آتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔

آوٴ سفر کی پھر سے کریں ابتدا نبیل

بیٹھے ہیں کب سے راہ کی دلدل سمیٹ کر

۔۔۔۔۔۔۔۔

حالانکہ کیٴ لوگ ہیں ناراض بھی مجھ سے

جو بات بھی کی میں نے،بہرحال کھری کی

۔۔۔۔۔۔۔۔

مری غیبت تو اسکا مشغلہ ہے

مگرتم نے گوارا کر لیا کیا ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔

اک سفر یوں بھی کیا ہم نے سر جادئہ شوق

دل عقیدت کی طرف، عقل بغاوت کی طرف!

عزیز نبیل عصر حاضر کے ان چند نوجوان شعراء کی صف میں کھڑا ہے جنہیں قدرت نے غزل اور نظم دونوں میں یکساں خوبی کے ساتھ خیالات برتنے کا ہنر دیا ہے بلکہ کہیں کہیں تو اس شاعر کا قد نظموں میں زیادہ کھل کر سامنے آیا ہے۔ اسکی نظمیں انتہایٴ چست اور شستہ ہیں،وہ زبان کا دھنی ہے اور اپنا مدعا بآسانی اور موٴثر ترین الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ سوالوں کا ترکش، نور چہرہ لوگ، شہر دل، ماں اور فلسطین ایسی نظمیں ہیں جو قاری یا سامع کے ذہن و دل پر فوری اثر کرتی ہیں جو دیر تک اسکے حواس پر قائم رہتا ہے۔ نظم فلسطین میں معصوم انسانیت پر ہونے والے تذکرے کے بعد ایک موٴرخ کو مخاطب کرتے ہوئے نبیل کہتا ہے

اے مورخ قلم ہاتھ میں پھر اٹھا

جا بجا روشنائی بکھرنے نہ دے

وہ مقدس لہو جو شہیدوں کا ہے

اسکو مضمون بنا ،کوئی عنوان دے

عہدِ حیوانیت کی ڈگر پر نہ جا

اپنی انسانیت آسمانی بنا

اپنی انسانیت جاودانی بنا

عزیز نبیل کا پہلا مجموعہ اسکی ذمہ داریوں کو بڑھاتاہے اور شائقینِ ادب کی توقعات میں انتہائی اضافہ کرتا ہے ۔

دبنگ لہجے کے اس شاعر کا مستقبل بہت تابناک اور انتہائی شاندار نظر آتا ہے اور کوئی عجب نہیں کہ آج سے پچاس سال کے بعد جب کوئی موٴرخ ادب ِ مہجر کی تاریخ مرتب کرے تو خلیج کے مہجری ادب بالخصوص شاعری کو عہدِ نبیل سے قبل اور عہدِ نبیل کے ما بعد ،کے دو خانوں میں تقسیم کردے۔

عزیز نبیل کا پہلا مجموعہ خواب سمندر اسکی اب تک کی کاوشوں کا کشید ہے ۔اور اگر سرِورق سے اسکی تصویر اور تعارفی خاکے سے تاریخ پیدائش کسی صورت غائب کردی جائے تو یہ مجموعہ کم از کم تیس/چالیس سال کی مسلسل ریاضت کا حاصل لگتاہے ۔

خوابوں کے سمندر کے ایک دعائیہ خواب کے ساتھ اپنی بات ختم کر کے اجازت چاہو ں گا کہ

خدا بچائے کسی کی نظر نہ لگ جائے

ذرا سی عمر میں شہرت سے خوف آتا ہے

عبید طاہر

پروڈیوسر ،اناؤ نسر

ریڈیو قطر ،اردو سروس


Monday, May 17, 2010

رقص حیرت میں ہے

رقص حیرت میں ہے پیروں میں کرن باندھے ہوۓ
جیسے اک شعر،نیا رنگ سخن باندھے ہوۓ
چاند بھی ڈوب رہا تھا ۔مرے دل کے ہمراہ
اپنا غم ،اپنی تھکن ،اپنی جلن باندھے ہوۓ
تو کہاں کھو گئی اے نیند کہ سڑکوں پہ تیری
روز پھرتا ہوں میں خوابوں کا بدن باندھے ہوۓ
-------------ق--------------
رات کی راکھ تلے نیند کا غم دفن کروں
مضمحل پلکوں سے خوابوں کی تھکن باندھے ہوۓ
اک شہکار تراشوں میں تیرے حسن کے نام
ہر رگ سنگ سے فنکار کا فن باندھے ہوۓ
کون یہ میری غزل گات
ا ہے صحرا میں نبیل
اپنی آواز میں صدیوں کی اگن باندھے ہوۓ
( عزیز نبیل---دوحہ ،قطر

---------------------------------------------
زہر کے دانت
زہر کے دانت مرے پاس بھی ہے
زہر تازہ بھی ،پرانا بھی بھرا ہے جن میں
میں مگر موڑ کے محفوظ ہی رکھتا ہوں جن میں
اپنے دہن کے اندر
( نا مناسب مجھے لگتا ہے برتنا ان کا )
پھر بھی احباب سے درخواست ہے، ہشیار رہیں
خیر دم کو ٹھکرا کے گزر جاتے ہیں جو
پاؤں سر پر مرے رکھنے کی زحمت نہ کریں
ڈستے پھرنا ،مری تر جیح نہیں ہے لیکن
مجھ کو آمادہ کیا جاۓ تو ڈس سکتا ہوں
خاص کر ان کو ،جو میرے لۓ کچھ خاص بھی ہے
زہر کے دانت مرے دوست 'مرے پاس بھی ہیں
( عبدالاحد ساز---ممبئی

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP