You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label book release. Show all posts
Showing posts with label book release. Show all posts

Friday, April 13, 2012

ممبئی یونیورسٹی میں ''کتاب وسط ہند میں اردو ادب ''پر مذاکرہ













شعبہ ء اردو ممبئی میں یونیورسٹی کے زیر اہتمام ڈاکٹر مہتاب عالم کی علمی و تحقیقی کتاب پر منعقدہ مذاکرہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر عبدالستار دلوی نے کہا کہ تحقیق کا عمل جوۓئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے ۔۔اور اس میں قدم قدم پر ٹھوکر لگنے کا امکان ہوتا ہے ۔ ان تمام باتوں کے باوجود ڈاکٹر مہتاب عالم نے اس راہ پر چلتے ہوئے اعتدال وتوازن برقرار رکھنے کی حتی الامکان کوشش کی ہے ۔جس کے نتیجےم دو ضحیم جلدوں کی کتابیں وجود میں آئيں۔ناگپور سے تشریف لانے والے محقق شرف الدین ساحل نے کتاب کی تصنیف پر مہتاب عالم کو مبارک باد دی ۔ اس پروگرام کی شروعات صدر شعبہء اردو پروفیسر صاحب علی ابتدائی کلمات سے ہوئی۔انہوں نے مہتاب عالم کی اس تحقیقی تصنیف کو گراں قدر علمی و ادبی کار نار نامہ قرار دیتے ہوے کہا انہوں نے اس مشکل ترین کام کو جس حسن و حوبی کے ساتھ پایہء تکمیل تک پہنچایا یہ ان کی علمی صلاحیتوں اور محققانہ بالغ نظری کی دلیل ہے ۔اس کتاب کی رونمائی پروفیسر عبدالستاردلوی کے ہاتھوں عمل میں آئیں۔۔کتاب پر مذاکہ کے بعد ایک شعری نششت کا بھی انعقاد کیا گیا ۔شہر و اطراف کی علمی و ادبی شخصیات موجود تھیں ۔

Friday, March 23, 2012

شعبۂ اردو میں’’ جغرافیہ ابن آدم ‘‘کی رسم اجراء


میرٹھ20؍ مارچ2012ء
طالب زیدی کے انشائیوں کا مجموعہ ’جغرافیہ ابن آدم‘‘ ہمیں ان کی تخلیقی بصیرت اور اظہار کی ایک نئی سطح سے متعارف کراتا ہے۔یہ ایک طرح کی سرا پا نگاری ہے ۔طالب آحب نے ۱۴ عنوانات کے تحت سر سے پا ؤں تک اولاد آدم کا ایک رنگا رنگ مرقع ترتیب دیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے خاص بات یہ ہے کہ سنجیدہ معاملات کی فراوانی کے با وجود اس مرقع کے کسی ورق کو دیکھتے ہوئے اُکتا ہٹ کا احساس نہیں ہو تا۔ ان کے تخیل کی جستجو ا، ان کی لطیف مزاح،بات سے بات نکالنے کا ان کا خا ص انداز پڑھنے وا لوں کے لیے دل بستگی کا سامان پیدا کرتا ہے۔ان خیالات کا اظہار معروف ناقد پرو فیسر شمیم حنفی شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں منعقدہ معروف شاعرو ادیب طالب زیدی کے انشا ئیوں کے مجمو عے ’’جغرا فیہ ابن آ دم ‘‘ کی رسم اجراء کی تقریب کے صدارتی خطبے میں کررہے تھے۔یہ تقریب بزمِ سخنوراں ،میرٹھ اور شعبۂ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے باہمی اشتراک سے آ راستہ کی گئی تھی۔جس میں شیخ الجامعہ محترم وکرم چندر گویل ،جناب اتل کمار سنگھ (فائنانس آفیسر)،ڈاکٹر کمال احمد صدیقی،معروف شاعر اسلم بدر،ڈاکٹر معراج الدین احمد (سا بق وزیر،حکومت اتر پردیش)اورمنظور عثمانی مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہو ئے۔ڈاکٹر خالد حسین خاں(صدر شعبۂ اردو، میرٹھ کالج، میرٹھ) ،ڈاکٹر حسین ماجد اور معروف افسا نہ نگار مسعود اختر نے’جغرافیہ ابن آدم‘ کا تجزیا تی مطا لعہ پیش کیا۔آفاق احمد خاں نے شکریے کی رسم اداکی اورنظامت کے فرائض صدر شعبۂ اردوڈاکٹر اسلم جمشید پو ری اور انجام دیے ۔دورانِ نظامت ڈاکٹر موصوف نے طالب زیدی کی ادبی سرمائے کا مکمل تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ طالب زیدی کے مختصر افسا نچوں کا مجمو عہ’’ پہلا پتھر‘‘ 1969ء میں زیور طباعت سے آراستہ ہوا تھا۔جبکہ نظموں کا مجمو عہ’’سلسلہ‘‘2000 میں منصہ شہود پر آ یا تھا۔انشائیوں کے زیر بحث مجمو عے کے علاوہ غزلوں کا مجمو عہ’’ دشت جاں‘‘ اور مزاحیہ مضامین کا مجمو عہ’’لوٹم لوٹا‘‘ بھی عنقریب قارئین کے سامنے آ نے وا لا ہے۔

تقریب کا آ غاز سعید احمد سہارنپوری نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔شیخ الجامعہ نے مہما نان کے ساتھ مل کر شمع رو شن کی اور مہمانوں کو پھولوں کا نذرا نہ پیش کیا گیا۔
اس مو قع پر شیخ الجامعہ نے طالبؔ زیدی کو مبارک باد دیتے ہو ئے کہا کہ ادب سماج کا آ ئینہ ہو تا ہے۔ادیبوں کو اپنی تخلیقات کے ذریعے معا شرے میں پھیلی برا ئیوں کو ہر ممکن دور کر نے کی کوشش کر نی چا ہیے۔انہوں نے مزید کہا اردو تہذیب اور نفا ست کی علمبردار ہے ،اس کا فروغ معا شرے میں تہذیبی روا یات کے استحکام اور نفاست و شائستگی کا ضامن ہوگا۔ ڈاکٹر کمال احمد صدیقی نے کہاکہ طالب زیدی ایک خوش فکر اور سنجیدہ شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کے انشا ئیوں کا یہ مجمو عہ یہ ثا بت کرتا ہے کہ وہ نثری بالخصوص مزاح جیسے مشکل میدان میں بھی اپنی انفرادی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے مزاح کی خاص بات یہ ہے کہ وہ کم سے کم الفاظ کے استعمال کا ہنر جانتے ہیں۔جمشید پور سے تشریف لائے اسلم بدر نے کہا کہ مزاح میں زبان کو کلیدی حیثیت حاصل ہے، طالب صاحب زبان کو مزاحیہ طریقے سے برتنے پر قدرت رکھتے ہیں۔ وہ واقعات کے بیان میں جزیات نگاری اور موا قع کی ڈرامائیت سے بخوبی کام لیتے ہیں۔انہیں صورت حال کو اپنے طور پر برتنے کا ہنر آ تا ہے۔
سا بق وزیر ڈاکٹر معراج الدین احمد نے کہا کہ طالب زیدی ایک معروف علمی و ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ شعری اور نثری اصناف پر یکساں قدرت رکھتے ہیں۔مجھے امید ہے کہ جس طرح ان کے پہلے افسا نوی اور شعری مجمو عے کو مقبولیت حاصل ہوئی ہے انشائیوں کے اس مجمو عے کو بھی حاصل ہوگی۔
منظور عثمانی نے کہا کہ طالب زیدی کا مشاہدہ عمیق اور مطالعہ وسیع ہے’’جغرافیہ ابن آدم‘‘کا ہر انشائیہ اس کا گواہ ہے۔ انہوں نے انسانی اعضاء کے بیان میں انتہائی احتیاط سے کام لے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ مزاح نگار ،محاکات نگاری اور پیکر ترا شی کے وسائل سے بعض’’ دلچسپ چیزوں‘‘ کی بھی ایسی تصویریں پیش کرسکتا ہے جو ابتذال سے دور ہوں کا ڈاکٹر خالد حسین خاں نے کہا کہ طالب زیدی شائستہ اور نفیس ادب تخلیق کرتے ہیں۔ان کے مزاح میں وہ تندی اور بے باکی نہیں جو طبیعت کو مکدر کرتی ہے۔بلکہ وہ رچا ؤ اور لطافت ہے جو قاری کو کبھی زیر لب اور کبھی بالائے لب مسکرا نے پر مجبور کرتی ہے۔معروف ادیب مسعود اختر نے کہا کہ ادیب کی کامیابی کا ایک ثبوت یہ بھی ہو تا ہے کہ اس کی تخلیقات نصاب میں شامل کی جائیں اس اعتبار سے طالب زیدی انتہائی خوش قسمت ہیں کہ ان کے اس مجمو عے کی دو کہانیاں ،کان اور ناک مہا راشٹر کی ایک تعلیمی انجمن نے اپنے نصاب میں شامل کر لی ہیں۔حسین ماجد نے کہا طالب زیدی کی تخلیقات کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ زندگی کو سماج سے جوڑ کر دیکھنے کے عادی ہیں۔یہی سبب ہے جغرافیہ ابن آ دم کے تمام انشائیوں میں ایک قسم کی تخلیقی فضا پائی جاتی ہے۔
اس مو قع پر پروفیسر وائی وملا، ڈاکٹر الکا وششٹھ، ڈاکٹر اوشا کرن ،ڈاکٹر یونس غازی ،انجینئر رفعت جمالی ڈاکٹر شادب علیم،ڈاکٹر سراج الدین، ڈاکٹر آصف علی، نواب افضال، قائم رضا، ضیاء عباس، سلیم سیفی، حاجی مشتاق سیفی، ڈاکٹر ایشور چند گمبھیر،سید اطہر الدین، ایاز ایڈ وکیٹ،ڈاکٹر جمیل احمد،نایاب زہریٰ زیدی، ریاض ہادی،ڈاکٹر فرزانہ رحمن،جمیل سیانوی، انیس میرٹھی، نذیر مرٹھی، سمنیش سمن، ڈاکٹر ادنیٰ عشق آ بادی،مہرو زیدی، جوہی زیدی،محمد عابدسمیت کثیر تعداد میں دانشوران شہر اور طلبا و طالبات نے شرکت کی ۔

Wednesday, October 05, 2011

فیض فہمی کا ''اجراء''


ڈاکٹر سید تقی عابدی کی چودہ سو صفحات پر پھیلی ہوئی تحقیقی کتاب’’ فیض فہمی ‘‘کی رونمائی
پونہ ، نامہ نگار
۲۴ ؍ ستمبر ۲۰۱۱ء ؁ کی ایک حسین شام تھی جب دیارِ علم اعظم کیمپس پونے کے اسمبلی ہال میں مہاراشٹر کے مختلف علاقوں سے آئے محبان اردو ماہر فیض احمد فیض ڈاکٹر سید تقی عابدی کے فیض کی شاعری پر ہم جہت مدلل و مفصل توسیعی خطبہ کو سننے کیلئے ہمہ تن گوش تھے اس موقع پر ڈاکٹر تقی عابدی کی تخلیق ’’ فیض فہمی‘‘ کی رونمائی کا فریضہ مجاہد اردو منور پیر بھائی نے انجام دیا ۔ ڈیڑھ ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی اس عدیم المثال کتاب میں فیض کی زندگی اور شاعری کے تمام گوشوں پر روشنی پڑتی ہے۔ ۱۳ فروری ۱۹۱۱ء ؁ کو پیدا ہونے والے صدی کے عظیم ترین شاعر کی صد سالہ تقریبات کی کڑی میں یہ کتاب نادر اور سنہری اضافہ ہے کتاب کے مولف کا تعلق کینڈا کے ٹورنٹو شہر سے ہے پیشے سے کارڈیو لوجسٹ ڈاکٹر سید تقی عابدی اپنی ۳۱ ویں ادبی و تحقیقی تخلیق کے اجراء کیلئے ان دنوں ہندوستان کے دورے پر ہیں ۔ فیض پر اپنے جاندار و محققانہ توسیعی خطاب میں آپ نے کہا کہ فیض کی شاعری کو صرف ترقی پسندی کے حصار میں قید کرنا موزوں نہیں ہے ۔ انھوں نے عشقیہ کلام ، غزلیں ، نعتیں اور حمد بھی خوب کہیں ہیں دنیائے اردو میں میر تقی میر ، میر انیس، مرزا غالب اور اقبال کے بعد فیض واحد شاعر ہیں جنھیں سب سے زیادہ پڑ ھا اور گایا جارہا ہے۔ فیض کی پہلی تخلیق ۱۹۴۱ء ؁ میں نقش فریادی منظر عام پر آئی۔ اس کے بعد دست صبا ، زندہ نامہ، میرے دل میرے مسافر ، میزان تک کا سلسلہ ان کی شخصیت شاعری اور جذبات کا آئینہ ہے جیل کی کال کوٹھری سے انھوں نے اپنی انگریز بیوی کو جو ۱۹۲ خطوط لکھے وہ بھی کتابی شکل میں محفوظ ہیں جو نثر کا بہترین نمونہ بھی ہے ڈاکٹر عابدی نے کہا کہ فیض کی شاعری میں علامات و استعارات کے استعمال کا فن موجود ہے۔ منظر کشی ، تشبیہات اور اشارات کا نادر المثال نمونہ ان کی شاعری میں ملتا ہے ۔ ڈاکٹر عابدی کے مطابق فیض نے اپنی ۵۵ سالہ زندگی میں محض اٹھارہ سو اشعار کہے اور اتنے کم اشعار کہنے کے باوجود ان کی آفاقی شاعری مقبولیت کی سرحدوں کو چھو رہی ہے ۔ اس موقع پر صدر تقریب اور حاجی غلام محمد اعظم ٹرسٹ کے چےئرمن منور پیر بھائی نے اردو شاعری و ادب کی تاریخ کا احاطہ کرتے ہوئے اس کے ماضی حال اور مستقبل پر خوبصورت بحث چھیڑی ، اور کہا کہ بلا شبہ فیض کی شاعری دل کو چھوتی ہے ۔ جذبات کی ترجمانی اور حالات کی عکاسی کرتی ہے ۔ تقریبِ اجراء میں وقفہ سوال و جواب کے دوران سامعین کی جانب سے فیض کی شاعری سے متعلق متعدد سوالات اٹھائے گئے ۔ جن کا مفصل جواب ڈاکٹر عابدی نے دیا ۔ بعد ازیں محفل مشاعرہ عروس البلاد کے معروف شاعر عبدالاحد ساز کی صدارت میں آراستہ کی گئی جس میں صدر مشاعرہ کے علاوہ ممتاز پیر ، ڈاکٹر سید تقی عابدی ، نذیر فتح پوری ، فیروز حیدری ، شجاع کامل ، فیروز رشید وغیرہ نے اپنے کلام سنائے ۔ آخر الذکر نے محفل مشاعرہ کی نظامت خوبصورتی سے انجام دیا۔
ڈاکٹر عابدی نے بتایا کہ ان کی کتاب ’’فیض فہمی‘‘ کی رونمائی کیلئے دلی ، حیدر آباد اور کراچی میں اسی ہفتہ کے مختلف ایام میں تقاریب کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ سید تقی عابدی بر صغیر کے ممتاز شاعر و ادیب ہیں انھوں نے مذہبی ادبی تحقیقی تنقیدی موضوعات پر اب تک تیس کتابیں لکھی ہیں ۔ جو زیادہ تر پاکستان سے اشاعت پذیر ہوئیں ۔ ان کی چند شہرہ آفاق ادبی کتب میں دربارِ رسالت ، مصحفِ تغزل ، غالب دیوان ، لغت و منقبت، ادبی معجزہ ، مصحف فارسی ، اقبال کے عرفانی زاوےئے وغیرہ ہیں۔ انھیں ادبی خدمات کے عوض کئی بین الاقوامی ایوارڈس و اعزاز سے نوازا جا چکا ہے ۔ ان میں علامہ اقبال ایوارڈ، رائٹر آف دی ائر ( کینڈا) ، خادم اردو ادب ( نیو یارک) ، فخر اردو انٹرنیشنل ایوارڈ ( کیلی فورینا ) ، ایوارڈ برائے ادبی تحقیقات ( پاکستان) شامل ہیں۔
(ڈاکٹر تقی عابدی سے رابطہ کیلئے :
email taqiabedi@rogers.com 416-318-5540)
***

====================================     ========
27 ستمبر 2011ء کو ممبئی یونیورسٹی میں  ایک توصیفی خطبہ کا اہتمام کیا گیا ۔اس خطبہ کو پیش کرنے کے لۓ تقی عابدی  کو دعوت دی گئی ۔ ان کے خطبہ کا موضوع تھا ۔''فیض کی معنویت اکیسویں صدی میں ''ڈاکٹر تقی عابدی صاحب پیشہ سے کارڈیولوجیسٹ ہیں اور اور جرمنی اور  کینیڈا میں پریکٹس کررہے ہیں ۔ ان کا اردو زبان کا مطالعہ بہت اعلی درجہ کا ہے ۔انھوں نے اردو زبان و ادب پر کئی کتابیں تنصیف کیں ہیں ۔انھوں نے اپنے خطبہ میں کہا کہ فیض کی شاعری علامتی شاعری کا  بہترین نمونہ ہے ۔فیض کے کلام میں عزم ہے ۔ استقلال  اور جاویدانی ہیں ۔ فیض نے ساری زندگانی  رومانیت  اور انقلاب  کے دوراہے پر ختم کردی  ہے ۔ ان کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ غم دوران  اور غم  جناناں کو ساتھ لے کر چلتے تھے ۔بظاہر تو یہ فیض کا کنفیوزن نظر آتا ہے ۔انھوں نے بتایا کہ  فیض  جیسے عظیم شاعر پر صرف 58 کتابیں ہی لکھی گئيں ہیں ۔جو بہت کم ہیں ۔ان پر تو 500 کتابیں لکھی جا سکتی ہیں ۔۔اس پروگرام کی صدارت مشہور اسکالر ڈاکٹر  عبدالستار دلوی صاحب نے کیں ۔ ان کے بدست ڈاکٹر تقی عابدی کی کتاب ''فیض فہمی ''کا آجراء کیا گیا ۔دلوی صاحب نے تقی عابدی کو اس کام کو عالمی طور پر انجام دینے کے لۓ مبارکباد دی ۔اور کہا کہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ غیر ممالک میں  اردو کی ترقی کے لۓ بہت کام ہورہا ہے ۔  اس پروگرام کا تیسرا حصّہ شعری نشست پر مشتمل تھا ۔ اس میں عارف ا‏عظمی ، ذکر خان ذکر، مقصود بستوی۔ زبیر اعظم اعظمی قمر صدیقی ، عبیداعظم اعظمی ، جمال اختر ، شعور اعظمی ، اور مشہور و معروف شاعر عبدالاحد ساز نے  فیض کی خوبصورت غزل سنا کر مجمع کو محظوط کردیا ۔ یہ پروگرام کافی کامیاب رہا ۔شہر کی اہم اور مشہور شخصیات موجود تھیں ۔

Sunday, August 07, 2011

عزیز نبیل کے شعری مجموعہ’خواب سمندر’ پر دہلی میں مذاکرہ




نئی دہلی ۔ 31 جولائی 2011

کل شام ایک ادبی تقریب میں عزیزنبیل کے شعری مجموعہ خواب سمندر کے حوالے سے اردو شاعری کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے مہمان شاعر کی شخصیت اور شاعری کو سمجھنے کی کوشش کی گئی اور ان کے افکار اور اسلوب میں نئے پن کی نشاندہی کی گئی. خاص کر شعروں میں ابھرنے والے خوبصورت پیکروں اور سلجھی ہوئی تخلیقی زبان کو پہچانا گیا.
یہاں غالب اکیڈمی میں خواب سمندر پر مذاکرے کے دوران نہ صرف عزیزنبیل کی شاعری میں اچھی اور معتبر شاعری کے امکانات کو دیکھا گیا بلکہ شعری محاسن، تخلیقیت، عصری حسّیت، مہجر ادب اور اردو کی نئی بستیوں میں زبان اور ادب کے فروغ کے لیے کوشاں اردو والوں کی خدمات پر بھی روشنی ڈالی گئی. اس تقریب کی مجلس ِ صدارت میں ڈاکٹر تقی عابدی (کناڈا)، ممتاز فکشن نگار اور ادیب سید محمد اشرف اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ ء اردو کےسربراہ پروفیسر خالد محمود کے علاوہ مشہور شاعر اعظم عبّاس شامل تھے.
آئیڈیا کمیونیکشن کے زیرِ اہتمام اس تقریب میں مجلس صدارت کے اراکین کے علاوہ جامعہ ملّیہ اسلامیہ کے شعبہ ء اردو کے استاذ اور ممتاز شاعر پروفیسر شہپر رسول، سید راشد حامدی اور آصف اعظمی کے علاوہ مشہور ادیب و صحافی اشہر ہاشمی نے بھی عزیزنبیل اور خواب سمندر کے حوالے سے اس صدی کے ابتدائی دس برسوں کے شعری رجحانات پر اظہار ِ خیال کیا.
پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ عزیزنبیل اچھے اور تازہ کار شاعر ہیں ان کی نظمیں اور غزلیں دونوں متوجّہ کرتی ہیں ان کا لہجہ بدلتے اور بنتے ہوئے نقوش سے مزیّن ہے نیز ان کے یہاں انفرادیت کی آہٹ کو بھی سنا جاسکتا ہے. فنّی تخلیقی اظہار کی مذکورہ سمت قدم بڑھا لینا کوئی معمولی بات نہیں ہے.. انہوں نے مزید کہا کہ عزیزنبیل نیا سوچنے اور نیا کہنے کی دھن میں ضرور رہتے ہیں لیکن عجوبے تخلیق نہیں کرتے وہ لفظ و معنی کے امکان و اظہار پر نظر رکھتے ہیں اور ایک لفظ سے ایک علاقہ آباد کرنے کے خواہاں نظر آتے ہیں.
عزیزنبیل کی شاعری کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر تقی عابدی نے کہا کہ خواب سمندر کی غزلوں اور نظموں میں ایک ذہین فنکار نظر آتا ہے جس کے سوچنے کا ڈھنگ اپنی عمر کے دوسرے شعراء سے ذرا مختلف ہے اور جو اظہار کی سطح پر کوئی بڑا تجربہ نہ کرنے کے باوجود پرانی روایت سے آگے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں جیسے ہجرت پر ان کے اشعار اب تک کے کہے گئے شعروں سے بالکل مختلف ہیں. ڈاکٹر تقی عابدی نے اپنی بہت تفصیلی گفتگو میں موضوع کے آس پاس رہتے ہوئے شعرگوئی اور شعر فہمی پر بھی بات کی اور عزیزنبیل کی دو مکمل غزلوں کے تمام اشعار کا بخوبی تجزیہ پیش کیا.
پروفیسر خالد محمود نے عزیزنبیل کی کتاب کے صوری اور متنی محاسن گناتے ہوئے بتا یا کہ نبیل کے اشعار میں بہت گہرائی اور بشر ط ریاضت ان کے یہاں ایک بڑی شاعری کا امکان صاف نظر آتا ہے.. پروفیسر خالد محمود نے عزیزنبیل کے کئی اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے نبیل کی شاعری کی مختلف جہتوں سے تجزیہ کیا.
ڈاکٹر سید محمد اشرف نے عزیزنبیل کے مجموعے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواب سمندر کا کوئی صفحہ ایسا نہیں کہ جس پر دو یا تین ایسے خوبصورت اشعار نہ موجود ہوں جو آپ کے حافظے میں جگہ بنانے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں.
دہلی کی پرانی روایتوں کے امین حاجی ہوٹل کے مالک حاجی میاں فیاض الدین نے اہلیانِ دہلی کی جانب سے عزیزنبیل کو شال اڑھا کر اور گلدستہ پیش کرکے استقبال کیا...
عزیزنبیل انجمن محبّان ِ اردو ہند قطر کے جنرل سکریٹری اور سالانہ دستاویزی مجلّہ دستاویز کے مدیرِ اعلی بھی ہیں. عزیزنبیل کا آبائی وطن الہ آباد ہے لیکن ان کے خاندان کے افراد مہاراشٹر جاکر بس گئے. انہوں نے جامعہ ملّیہ اسلامیہ سے تعلیم حاصل کی اور قطر میں بسلسلہ ملازمت مقیم ہیں... اس تقریب کے اہم شرکاء میں دہلی اردو اکیڈمی کے سکریٹری انیس اعظمی، اسیر برہان پوری، شہبازندیم ضیائی، عامر قدوائی، معین شاداب، عالمگیر ثانی، بسمل عارفی، شکیل انصاری، ضمیراللہ ضمیر اور شہر کے بہت سارے اہم شعراء و ادباء موجود تھے.

Wednesday, August 03, 2011

دلّی جو ایک شہرتھا‘ : فیاض رفعت

’’مجھے اس کتاب (علم) نے بچالیا۔‘‘ فیاض رفعت
’سیوا اور گُل بوٹے‘ کے زیر اہتمام ’دلّی جو ایک شہرتھا‘ کی اسلام جمخانہ میں تقریب اِجرا
ممبئی: ’’میں نے ریڈیو اور ٹی وی میں عمر گزاری ہے اور دیکھا کہ ان کے ڈائریکٹرز کے نہ جانے کس کس طرح کے معاملات سامنے آئے، کسی کے گھر سے کروڑوں روپے برآمد ہوئے تو کسی کے ہاں اس سے بھی زیادہ مگر مجھے اس کتاب(علم) نے بچالیا۔‘‘یہ باتیں گزشتہ سنیچر کی شام اسلام جمخانہ (مرین لائنس) میں مشہور ادیب و شاعر فیاض رفعت نے اپنی مرتب کردہ کتاب ’دلّی جو ایک شہر تھا‘ کی رسم رونمائی کی تقریب میں کیں۔ یہ تقریب شہر کے مشہور ادارے سیوا اور گُل بوٹے کے زیر اہتمام منعقد کی گئی تھی۔ جس میں شہر اور بیرون شہر کی ممتاز، سرکردہ شخصیات اور علی گیر ین حضرات نے شرکت کر کے اس کی رونق میں اضافہ کیا۔
بھیونڈی کی ممتاز شخصیت اور مشہور وکیل یاسین مومن نے اس موقع پر تقریرکرتے ہوئے اپنے علیگیرین دوست فیاض رفعت کے تعلق سے باتیں کرتے ہوئے اُردو زبان اور بالخصوص درس و تدریس کے پیشے سے تعلق رکھنے والوں کے حوالے سے کچھ ایسی باتیں کیں جو آج کی تلخ حقیقت ہیں۔انھوں نے ایک ٹیچر کا واقعہ سنایا جس کے لیے زبانی انٹرویوکے دوران لفظ کشمکش ایک کشمکش بن گیا۔ اس نے کئی بار اس لفظ کو اداکرنے کی سعی کی مگر ہر باروہ کسمکس ہی کہہ پایا۔ یاسین مومن نے اپنی تقریر میں بڑے دُکھ کے ساتھ کہا کہ ہم اُردو والے ہی اپنے بچوں کو اُردو اسکولوں سے دور کرتے ہوئے انگریزی میڈیم میں داخل کر رہے ہیں۔ قاسم امام نے اپنی تقریر میں فیاض رفعت کے تعلق سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ یہاں زبان و ادب کی خوب خوب پذیرائی ہوتی ہے، جو دورِ حاضر میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہ کتاب جس کا موضوع اور تعلق دِلّی ہے اور اس کا اجرا عروس البلاد ممبئی میں ہو رہا ہے جو میری بات کی دلیل سے کم نہیں۔ فیاض رفعت کی اس کتاب کا اجرا اس شہر میں ہو نا ہم سب کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔ مشہور دانشور اور سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ڈاکٹر محمود الرحمان جو اس تقریب میں شرکت کے لیے خاص طور پر شہر آئے تھے۔ انھوں نے نہایت شستہ اور بلا تکلف گفتگومیں فیاض رفعت کے تعلق سے اچھی باتیں کیں۔انھوں نے کہا کہ فیاض رفعت کا اس کتاب کا ترتیب دینا کسی بھی طرح سے عجب نہیں کہ ایک علیگیرین کا کسی کتاب کامرتب ہونا عجب نہیں ہوتا کہ ترتیب و تہذیب تو اس کا حق ہو تا ہے۔ موصوف نے کتاب کے تعلق سے کہا کہ یہ (کتاب) ایک بڑے علمی کام کی ترتیب و تہذیب ہے۔ ڈاکٹر محمود الرحمان نے ایڈوکیٹ یاسین مومن کی بات کے پس منظر میں کہا کہ آج اُردو پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس زبان سے کچھ ملنا ملانا نہیں ہے۔ اب تو یوپی ایس سی امتحانات میں بھی اُردو مضمون شامل ہے۔ اس جلسے کی کامیابی میں مشہور شاعر عرفان جعفری کی شگفتہ نظامت کا بھی دخل رہا۔ شہر کے مقررین میں ممتاز، طاہر اشرفی نے بھی جلسے کی ابتدامیں تقریر کی اور اپنی قوتِ کلام کا مظاہرہ کیا۔سابق رُکن پارلیمان وسیم احمد نے تقریر میں اپنے سینئر علی گیرین فیاض رفعت کے تعلق سے بڑی دلچسپ باتیں کیں اور اُن (فیاض رفعت) کی کچھ مخفی باتیں بھی دلچسپ پیرائے میں بیان کیں۔ وسیم احمد نے بھی اُردو کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اُردو چھوڑکر اپنی بدقسمتی کو دعوت دی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ افسوس آج ہمارا کلچر نہیں رہا بلکہ اگریکلچر ہوگیا ہے۔ انھوں نے فیاض رفعت کی گوناگوں خصوصیات کے حوالے سے کہا کہ ان کی خدمات کے پیش نظر انھیں مؤقر ایوارڈ دیا جانا چاہیے کہ وہ ان کا حق ہے۔
وسیم احمد کی تقریر کے بعد ناظم جلسہ عرفان جعفری نے کہا کہ میں یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس کررہاہوں۔ جیسا کہ ابھی وسیم احمد نے کہا کہ ’فیاض رفعت کو ایوارڈ دیا جانا چاہیے‘ تو سیوا کی جانب سے آج اور اسی جلسے میں ایوارڈ دیے جانے کا اعلان کیا جاتا ہے اور پھر فیاض رفعت کو ’’سیوا ایوارڈ‘‘ تفویض کیا گیا۔ صدرجلسہ ڈاکٹر ظہیر قاضی نے، جلسے میں کہے گئے اس جملے کہ’ظہیر قاضی تو ہر جگہ حاضر رہتے ہیں، کہ پس منظر میں کہا یقیناًمیں ایک مصروف آدمی ہوں مگر اُردو کے نام پر ہر وقت حاضر ہو جا تا ہوں اور حاضر ہوتا رہوں گا۔ انجمن اسلام جیسے ادارے کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی نے ایڈوکیٹ یٰسین مومن کی چھیڑی ہوئی بات پر کہا کہ ’’جو صورت حال وکیل صاحب نے بیان کی ہے وہ اُردو ہی کی نہیں ہے، ہر زبان کی ہے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اُردو کی جو صورت حال عام طور پر بیان کی جاتی ہے ایسا نہیں ہے۔ اُردو کی صورت حال مثبت ہے۔ ڈاکٹر موصوف نے انجمن اسکولوں اور تھانے کے ایک اسکول کی مثال بھی دی۔مگر ہم نے محسوس کیا کہ ہماری زبان کی اس بڑی بیماری کو ڈاکٹر صاحب نے دوربین سے نہیں بلکہ خوردبین (مائکرواسکوپ) سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ فیاض رفعت کی کتاب کی رسم اجرا ڈائس پر موجود تمام اشخاص کے ہاتھوں انجام پائی۔ جلسے سے اور بھی کئی اشخاص نے خطاب کیا اور ’سیوا‘ کے تعلق سے یوسف ابراہانی کی غیر حاضری میں سیوا کے ممتاز نمائندے یعقوب میمن نے حاضرین سے خطاب کیا۔ گُل بوٹے کے مدیر فاروق سیّد نے شکریے کی رسم اداکی۔جلسے کا اختتام پر تکلف عشائیہ پر ہوا۔

Friday, May 06, 2011

ماہنامہ ’’تریاق‘‘ کی رسم رونمائی


ماہنامہ ’’تریاق‘‘ کی رسم رونمائی پر اردو کے مشاہیر دانشوروں کی تقاریر
افتخار امام صدیقی
،شمیم طارق،شاہد لطیف اور مجاہد حسین حسینی نے پذیرائی کی

مورخہ ۵؍مئی ۲۰۱۱ ؁ء شام پانچ بجے بمقام ایچ پی کیلوسکر مارگ، میونسپل اردو اسکول کرلا کے ہال میں ماہنامہ’’ تریاق‘‘ کا اجراء ہوا۔یہ تقریب اس لحاظ سے بھی پر وقار ہے کہ ا س میں ممبئی کے اہل قلم اور اہل ذوق نے شرکت کی۔تقریب کی ابتدا تلاوت قرآن پاک سے ہوئی۔صاحب حسن نے مہمانان کا تعارف کرایا۔ صدارت کے فرائض مجاہد حسین حسینی صاحب نے انجام دے۔اس پر وقار تقریب کے چیف گیسٹ عالی جناب نواب ملک صاحب تھے۔مدیر صاحب حسن صاحب نے اپنی تقریر میں تریاق کے وجود میں آنے کی وجہ تسمیہ بیان کی۔شمیم طارق کے ہاتھوں ’’تریاق‘‘ کا اجراء زبردست تالیو ں کے ساتھ ہوا۔ شمیم طارق نے اپنے تاثرات دلکش انداز میں بیان کیے۔’’تریاق‘‘ اور تریاک دونوں کے املے کو درست قرار دیا۔اپنی عالمانہ تقریر میں اہم نکات بیان کیے اور اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
محتر م افتخار
امام نے اردو ادب کی تاریخ ترقی پسندوں سے جدیدیت تک بیان کی۔ماہنامہ شاعر ممبئی کے مدیر کی حیثیت سے اپنے تجربات بیان کیے اور تریاق کے لئے ہر ممکن تعاون کا وعدہ فرمایا۔دوران تقریر افتخار امام صدیقی بہت جذباتی ہوگئے تھے۔اپنے تقریر میں انھوں نے اپنے تجربات کا نچوڑ پیش کیا۔بعد از اں ڈاکٹر شیخ عبد اللہ کے ہاتھوں ڈاکٹر ارشاد خاں کی تحریر کردہ بچوں کی تقریروں کا مجموعہ’’ دیکھنا تقریر کی لذت‘‘ کا اجراء عمل میں آیا۔ڈاکٹر شیخ عبد اللہ نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔افتخار امام صدیقی نے برملا کہا آپ اس کتاب کو ضرور پڑھیں۔
مدیر اعلیٰ
تریاق جناب ضمیر کاظمی صاحب نے’’ تریاق ‘‘کی پالیسی کے بارے میں سیر حاصل تبصرہ کیا۔انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ’’تریاق ‘‘گھر کا ہر فرد پڑھے۔یہ کسی ایک طبقے یا کسی ایک مکتب فکر کے اصحاب کے لئے مخصوص نہیں۔ہم نے کوشش یہی کی ہے کہ ’’تریاق‘‘ میں ایک انفرادیت ہو۔اس میں ہر وہ چیز پروئی گئی ہے، دیدہ زیب و جاذب نظر ہو۔ہم نے عام ڈگر سے ہٹ کر اپنی الگ شناخت بنانے کی کوشش کی ہے۔ہم اس میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں یہ قاری پر چھوڑتے ہیں۔آپ کی آرا اور مشوروں کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔
سامعین سے اسکول کا ہال کچا کچ بھرا تھا۔ڈاکٹرقاسم امام کی نظامت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔آپ نے معزز مہمان عالی جناب نواب ملک کو آواز دی نواب ملک اپنے مخصوص دھیمے اور ٹھہرے ہوئے انداز میں بول رہے تھے کہ مہاراشٹر میں تقریبا ۵۰ ہزار اساتذہ ہیں۔کشمیر وہ صوبہ ہے جہاں کی سرکاری زبان اردو ہے۔ہندوستان کے دیگر صوبہ جات میں اردو پڑھی اور بولی جاتی ہے۔ہماری ریاست مہاراشٹرمیں اردوکے لیے فضا بہت سازگا ر ہے۔خصوصا ممبئی اردو علم و ادب کا گہوارہ ہے۔انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ رسالے اشتہارات حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل نہ ہوں بلکہ وہ ایسا مواد پیش کریں کہ قاری اسی رسالے کی مطالعے کا عادی ہو جائے۔نواب ملک نے بہت سے قیمتی مشوروں سے نوازا۔اس کے بعد فاروق سید ایڈیٹر ’’گل بوٹے ‘‘نے اپنی تقریر میں اس بات کا اعادہ کیا کہ اردو رسالے زیادہ سے زیادہ اردو قارئین تک پہنچا یا جائے۔انھوں نے ’’تریاق‘‘ کے تئیں اپنی نیک خواہشا ت کا اظہار کیا۔
شاہد ل
طیف(مدیر روزنامہ انقلاب) نے تازہ مردم شماری کے تناظر میں زبانوں کے اعداد وشمار پیش کیے ۔یہ ہماری بدنصیبی نہیں تو اورکیا ہے کہ ہماری آبادی لگ بھگ اٹھارہ کروڑ ہے جس میں اردو کا مقام چھٹا ہے ۔شاہد لطیف نے اپنی عالمانہ تقریر میں بہت سی باتیں پیش کیں آخر میں بزرگ شعراء جمعیل مرصعپوری اور اسیر برہانپوری صاحب کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے انھیں مومینٹو ،شال اور گلہائے عقیدت پیش کیے گئے۔صدر محترم جناب مجاہد حسین حسینی صاحب نے اپنی روایتی سادگی کے انداز میں کہا کہ جوکچھ میں کہنے والا تھا وہ سب کچھ دیگر مقررین نے پیش کردی ہیں ۔انھوں نے تریاق کو مسموم فضاؤں کی مسیحائی کرنے والا قرار یا۔اپنی نیک خواہشات ’’تریاق‘‘ کے لیے پیش کیں۔مہمانوں کی خدمت میں گلہائے عقیدت پیش کیے گئے۔ایڈیٹر ’’تریاق‘‘صاحب حسن نے مہمانوں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔اسی کے ساتھ رات ساڑے نو بجے اس یادگار ادبی تقریب کا اختتام ہواجسے برسوں یاد رکھا جائے گا۔
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP