Friday, April 13, 2012
ممبئی یونیورسٹی میں ''کتاب وسط ہند میں اردو ادب ''پر مذاکرہ
Friday, March 23, 2012
شعبۂ اردو میں’’ جغرافیہ ابن آدم ‘‘کی رسم اجراء
میرٹھ20؍ مارچ2012ء
طالب زیدی کے انشائیوں کا مجموعہ ’جغرافیہ ابن آدم‘‘ ہمیں ان کی تخلیقی بصیرت اور اظہار کی ایک نئی سطح سے متعارف کراتا ہے۔یہ ایک طرح کی سرا پا نگاری ہے ۔طالب آحب نے ۱۴ عنوانات کے تحت سر سے پا ؤں تک اولاد آدم کا ایک رنگا رنگ مرقع ترتیب دیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے خاص بات یہ ہے کہ سنجیدہ معاملات کی فراوانی کے با وجود اس مرقع کے کسی ورق کو دیکھتے ہوئے اُکتا ہٹ کا احساس نہیں ہو تا۔ ان کے تخیل کی جستجو ا، ان کی لطیف مزاح،بات سے بات نکالنے کا ان کا خا ص انداز پڑھنے وا لوں کے لیے دل بستگی کا سامان پیدا کرتا ہے۔ان خیالات کا اظہار معروف ناقد پرو فیسر شمیم حنفی شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں منعقدہ معروف شاعرو ادیب طالب زیدی کے انشا ئیوں کے مجمو عے ’’جغرا فیہ ابن آ دم ‘‘ کی رسم اجراء کی تقریب کے صدارتی خطبے میں کررہے تھے۔یہ تقریب بزمِ سخنوراں ،میرٹھ اور شعبۂ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے باہمی اشتراک سے آ راستہ کی گئی تھی۔جس میں شیخ الجامعہ محترم وکرم چندر گویل ،جناب اتل کمار سنگھ (فائنانس آفیسر)،ڈاکٹر کمال احمد صدیقی،معروف شاعر اسلم بدر،ڈاکٹر معراج الدین احمد (سا بق وزیر،حکومت اتر پردیش)اورمنظور عثمانی مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہو ئے۔ڈاکٹر خالد حسین خاں(صدر شعبۂ اردو، میرٹھ کالج، میرٹھ) ،ڈاکٹر حسین ماجد اور معروف افسا نہ نگار مسعود اختر نے’جغرافیہ ابن آدم‘ کا تجزیا تی مطا لعہ پیش کیا۔آفاق احمد خاں نے شکریے کی رسم اداکی اورنظامت کے فرائض صدر شعبۂ اردوڈاکٹر اسلم جمشید پو ری اور انجام دیے ۔دورانِ نظامت ڈاکٹر موصوف نے طالب زیدی کی ادبی سرمائے کا مکمل تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ طالب زیدی کے مختصر افسا نچوں کا مجمو عہ’’ پہلا پتھر‘‘ 1969ء میں زیور طباعت سے آراستہ ہوا تھا۔جبکہ نظموں کا مجمو عہ’’سلسلہ‘‘2000 میں منصہ شہود پر آ یا تھا۔انشائیوں کے زیر بحث مجمو عے کے علاوہ غزلوں کا مجمو عہ’’ دشت جاں‘‘ اور مزاحیہ مضامین کا مجمو عہ’’لوٹم لوٹا‘‘ بھی عنقریب قارئین کے سامنے آ نے وا لا ہے۔
تقریب کا آ غاز سعید احمد سہارنپوری نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔شیخ الجامعہ نے مہما نان کے ساتھ مل کر شمع رو شن کی اور مہمانوں کو پھولوں کا نذرا نہ پیش کیا گیا۔
اس مو قع پر شیخ الجامعہ نے طالبؔ زیدی کو مبارک باد دیتے ہو ئے کہا کہ ادب سماج کا آ ئینہ ہو تا ہے۔ادیبوں کو اپنی تخلیقات کے ذریعے معا شرے میں پھیلی برا ئیوں کو ہر ممکن دور کر نے کی کوشش کر نی چا ہیے۔انہوں نے مزید کہا اردو تہذیب اور نفا ست کی علمبردار ہے ،اس کا فروغ معا شرے میں تہذیبی روا یات کے استحکام اور نفاست و شائستگی کا ضامن ہوگا۔ ڈاکٹر کمال احمد صدیقی نے کہاکہ طالب زیدی ایک خوش فکر اور سنجیدہ شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کے انشا ئیوں کا یہ مجمو عہ یہ ثا بت کرتا ہے کہ وہ نثری بالخصوص مزاح جیسے مشکل میدان میں بھی اپنی انفرادی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے مزاح کی خاص بات یہ ہے کہ وہ کم سے کم الفاظ کے استعمال کا ہنر جانتے ہیں۔جمشید پور سے تشریف لائے اسلم بدر نے کہا کہ مزاح میں زبان کو کلیدی حیثیت حاصل ہے، طالب صاحب زبان کو مزاحیہ طریقے سے برتنے پر قدرت رکھتے ہیں۔ وہ واقعات کے بیان میں جزیات نگاری اور موا قع کی ڈرامائیت سے بخوبی کام لیتے ہیں۔انہیں صورت حال کو اپنے طور پر برتنے کا ہنر آ تا ہے۔
سا بق وزیر ڈاکٹر معراج الدین احمد نے کہا کہ طالب زیدی ایک معروف علمی و ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ شعری اور نثری اصناف پر یکساں قدرت رکھتے ہیں۔مجھے امید ہے کہ جس طرح ان کے پہلے افسا نوی اور شعری مجمو عے کو مقبولیت حاصل ہوئی ہے انشائیوں کے اس مجمو عے کو بھی حاصل ہوگی۔
منظور عثمانی نے کہا کہ طالب زیدی کا مشاہدہ عمیق اور مطالعہ وسیع ہے’’جغرافیہ ابن آدم‘‘کا ہر انشائیہ اس کا گواہ ہے۔ انہوں نے انسانی اعضاء کے بیان میں انتہائی احتیاط سے کام لے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ مزاح نگار ،محاکات نگاری اور پیکر ترا شی کے وسائل سے بعض’’ دلچسپ چیزوں‘‘ کی بھی ایسی تصویریں پیش کرسکتا ہے جو ابتذال سے دور ہوں کا ڈاکٹر خالد حسین خاں نے کہا کہ طالب زیدی شائستہ اور نفیس ادب تخلیق کرتے ہیں۔ان کے مزاح میں وہ تندی اور بے باکی نہیں جو طبیعت کو مکدر کرتی ہے۔بلکہ وہ رچا ؤ اور لطافت ہے جو قاری کو کبھی زیر لب اور کبھی بالائے لب مسکرا نے پر مجبور کرتی ہے۔معروف ادیب مسعود اختر نے کہا کہ ادیب کی کامیابی کا ایک ثبوت یہ بھی ہو تا ہے کہ اس کی تخلیقات نصاب میں شامل کی جائیں اس اعتبار سے طالب زیدی انتہائی خوش قسمت ہیں کہ ان کے اس مجمو عے کی دو کہانیاں ،کان اور ناک مہا راشٹر کی ایک تعلیمی انجمن نے اپنے نصاب میں شامل کر لی ہیں۔حسین ماجد نے کہا طالب زیدی کی تخلیقات کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ زندگی کو سماج سے جوڑ کر دیکھنے کے عادی ہیں۔یہی سبب ہے جغرافیہ ابن آ دم کے تمام انشائیوں میں ایک قسم کی تخلیقی فضا پائی جاتی ہے۔
اس مو قع پر پروفیسر وائی وملا، ڈاکٹر الکا وششٹھ، ڈاکٹر اوشا کرن ،ڈاکٹر یونس غازی ،انجینئر رفعت جمالی ڈاکٹر شادب علیم،ڈاکٹر سراج الدین، ڈاکٹر آصف علی، نواب افضال، قائم رضا، ضیاء عباس، سلیم سیفی، حاجی مشتاق سیفی، ڈاکٹر ایشور چند گمبھیر،سید اطہر الدین، ایاز ایڈ وکیٹ،ڈاکٹر جمیل احمد،نایاب زہریٰ زیدی، ریاض ہادی،ڈاکٹر فرزانہ رحمن،جمیل سیانوی، انیس میرٹھی، نذیر مرٹھی، سمنیش سمن، ڈاکٹر ادنیٰ عشق آ بادی،مہرو زیدی، جوہی زیدی،محمد عابدسمیت کثیر تعداد میں دانشوران شہر اور طلبا و طالبات نے شرکت کی ۔
Wednesday, October 05, 2011
فیض فہمی کا ''اجراء''
پونہ ، نامہ نگار
۲۴ ؍ ستمبر ۲۰۱۱ء کی ایک حسین شام تھی جب دیارِ علم اعظم کیمپس پونے کے اسمبلی ہال میں مہاراشٹر کے مختلف علاقوں سے آئے محبان اردو ماہر فیض احمد فیض ڈاکٹر سید تقی عابدی کے فیض کی شاعری پر ہم جہت مدلل و مفصل توسیعی خطبہ کو سننے کیلئے ہمہ تن گوش تھے اس موقع پر ڈاکٹر تقی عابدی کی تخلیق ’’ فیض فہمی‘‘ کی رونمائی کا فریضہ مجاہد اردو منور پیر بھائی نے انجام دیا ۔ ڈیڑھ ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی اس عدیم المثال کتاب میں فیض کی زندگی اور شاعری کے تمام گوشوں پر روشنی پڑتی ہے۔ ۱۳ فروری ۱۹۱۱ء کو پیدا ہونے والے صدی کے عظیم ترین شاعر کی صد سالہ تقریبات کی کڑی میں یہ کتاب نادر اور سنہری اضافہ ہے کتاب کے مولف کا تعلق کینڈا کے ٹورنٹو شہر سے ہے پیشے سے کارڈیو لوجسٹ ڈاکٹر سید تقی عابدی اپنی ۳۱ ویں ادبی و تحقیقی تخلیق کے اجراء کیلئے ان دنوں ہندوستان کے دورے پر ہیں ۔ فیض پر اپنے جاندار و محققانہ توسیعی خطاب میں آپ نے کہا کہ فیض کی شاعری کو صرف ترقی پسندی کے حصار میں قید کرنا موزوں نہیں ہے ۔ انھوں نے عشقیہ کلام ، غزلیں ، نعتیں اور حمد بھی خوب کہیں ہیں دنیائے اردو میں میر تقی میر ، میر انیس، مرزا غالب اور اقبال کے بعد فیض واحد شاعر ہیں جنھیں سب سے زیادہ پڑ ھا اور گایا جارہا ہے۔ فیض کی پہلی تخلیق ۱۹۴۱ء میں نقش فریادی منظر عام پر آئی۔ اس کے بعد دست صبا ، زندہ نامہ، میرے دل میرے مسافر ، میزان تک کا سلسلہ ان کی شخصیت شاعری اور جذبات کا آئینہ ہے جیل کی کال کوٹھری سے انھوں نے اپنی انگریز بیوی کو جو ۱۹۲ خطوط لکھے وہ بھی کتابی شکل میں محفوظ ہیں جو نثر کا بہترین نمونہ بھی ہے ڈاکٹر عابدی نے کہا کہ فیض کی شاعری میں علامات و استعارات کے استعمال کا فن موجود ہے۔ منظر کشی ، تشبیہات اور اشارات کا نادر المثال نمونہ ان کی شاعری میں ملتا ہے ۔ ڈاکٹر عابدی کے مطابق فیض نے اپنی ۵۵ سالہ زندگی میں محض اٹھارہ سو اشعار کہے اور اتنے کم اشعار کہنے کے باوجود ان کی آفاقی شاعری مقبولیت کی سرحدوں کو چھو رہی ہے ۔ اس موقع پر صدر تقریب اور حاجی غلام محمد اعظم ٹرسٹ کے چےئرمن منور پیر بھائی نے اردو شاعری و ادب کی تاریخ کا احاطہ کرتے ہوئے اس کے ماضی حال اور مستقبل پر خوبصورت بحث چھیڑی ، اور کہا کہ بلا شبہ فیض کی شاعری دل کو چھوتی ہے ۔ جذبات کی ترجمانی اور حالات کی عکاسی کرتی ہے ۔ تقریبِ اجراء میں وقفہ سوال و جواب کے دوران سامعین کی جانب سے فیض کی شاعری سے متعلق متعدد سوالات اٹھائے گئے ۔ جن کا مفصل جواب ڈاکٹر عابدی نے دیا ۔ بعد ازیں محفل مشاعرہ عروس البلاد کے معروف شاعر عبدالاحد ساز کی صدارت میں آراستہ کی گئی جس میں صدر مشاعرہ کے علاوہ ممتاز پیر ، ڈاکٹر سید تقی عابدی ، نذیر فتح پوری ، فیروز حیدری ، شجاع کامل ، فیروز رشید وغیرہ نے اپنے کلام سنائے ۔ آخر الذکر نے محفل مشاعرہ کی نظامت خوبصورتی سے انجام دیا۔
ڈاکٹر عابدی نے بتایا کہ ان کی کتاب ’’فیض فہمی‘‘ کی رونمائی کیلئے دلی ، حیدر آباد اور کراچی میں اسی ہفتہ کے مختلف ایام میں تقاریب کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ سید تقی عابدی بر صغیر کے ممتاز شاعر و ادیب ہیں انھوں نے مذہبی ادبی تحقیقی تنقیدی موضوعات پر اب تک تیس کتابیں لکھی ہیں ۔ جو زیادہ تر پاکستان سے اشاعت پذیر ہوئیں ۔ ان کی چند شہرہ آفاق ادبی کتب میں دربارِ رسالت ، مصحفِ تغزل ، غالب دیوان ، لغت و منقبت، ادبی معجزہ ، مصحف فارسی ، اقبال کے عرفانی زاوےئے وغیرہ ہیں۔ انھیں ادبی خدمات کے عوض کئی بین الاقوامی ایوارڈس و اعزاز سے نوازا جا چکا ہے ۔ ان میں علامہ اقبال ایوارڈ، رائٹر آف دی ائر ( کینڈا) ، خادم اردو ادب ( نیو یارک) ، فخر اردو انٹرنیشنل ایوارڈ ( کیلی فورینا ) ، ایوارڈ برائے ادبی تحقیقات ( پاکستان) شامل ہیں۔
(ڈاکٹر تقی عابدی سے رابطہ کیلئے : email taqiabedi@rogers.com 416-318-5540)
***
Sunday, August 07, 2011
عزیز نبیل کے شعری مجموعہ’خواب سمندر’ پر دہلی میں مذاکرہ

Wednesday, August 03, 2011
دلّی جو ایک شہرتھا‘ : فیاض رفعت
Friday, May 06, 2011
ماہنامہ ’’تریاق‘‘ کی رسم رونمائی
افتخار امام صدیقی،شمیم طارق،شاہد لطیف اور مجاہد حسین حسینی نے پذیرائی کی
مورخہ ۵؍مئی ۲۰۱۱ ء شام پانچ بجے بمقام ایچ پی کیلوسکر مارگ، میونسپل اردو اسکول کرلا کے ہال میں ماہنامہ’’ تریاق‘‘ کا اجراء ہوا۔یہ تقریب اس لحاظ
محتر م افتخار
مدیر اعلیٰ تری
شاہد لطیف(مدیر رو
