You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label urdu book. Show all posts
Showing posts with label urdu book. Show all posts

Wednesday, August 03, 2011

دلّی جو ایک شہرتھا‘ : فیاض رفعت

’’مجھے اس کتاب (علم) نے بچالیا۔‘‘ فیاض رفعت
’سیوا اور گُل بوٹے‘ کے زیر اہتمام ’دلّی جو ایک شہرتھا‘ کی اسلام جمخانہ میں تقریب اِجرا
ممبئی: ’’میں نے ریڈیو اور ٹی وی میں عمر گزاری ہے اور دیکھا کہ ان کے ڈائریکٹرز کے نہ جانے کس کس طرح کے معاملات سامنے آئے، کسی کے گھر سے کروڑوں روپے برآمد ہوئے تو کسی کے ہاں اس سے بھی زیادہ مگر مجھے اس کتاب(علم) نے بچالیا۔‘‘یہ باتیں گزشتہ سنیچر کی شام اسلام جمخانہ (مرین لائنس) میں مشہور ادیب و شاعر فیاض رفعت نے اپنی مرتب کردہ کتاب ’دلّی جو ایک شہر تھا‘ کی رسم رونمائی کی تقریب میں کیں۔ یہ تقریب شہر کے مشہور ادارے سیوا اور گُل بوٹے کے زیر اہتمام منعقد کی گئی تھی۔ جس میں شہر اور بیرون شہر کی ممتاز، سرکردہ شخصیات اور علی گیر ین حضرات نے شرکت کر کے اس کی رونق میں اضافہ کیا۔
بھیونڈی کی ممتاز شخصیت اور مشہور وکیل یاسین مومن نے اس موقع پر تقریرکرتے ہوئے اپنے علیگیرین دوست فیاض رفعت کے تعلق سے باتیں کرتے ہوئے اُردو زبان اور بالخصوص درس و تدریس کے پیشے سے تعلق رکھنے والوں کے حوالے سے کچھ ایسی باتیں کیں جو آج کی تلخ حقیقت ہیں۔انھوں نے ایک ٹیچر کا واقعہ سنایا جس کے لیے زبانی انٹرویوکے دوران لفظ کشمکش ایک کشمکش بن گیا۔ اس نے کئی بار اس لفظ کو اداکرنے کی سعی کی مگر ہر باروہ کسمکس ہی کہہ پایا۔ یاسین مومن نے اپنی تقریر میں بڑے دُکھ کے ساتھ کہا کہ ہم اُردو والے ہی اپنے بچوں کو اُردو اسکولوں سے دور کرتے ہوئے انگریزی میڈیم میں داخل کر رہے ہیں۔ قاسم امام نے اپنی تقریر میں فیاض رفعت کے تعلق سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ یہاں زبان و ادب کی خوب خوب پذیرائی ہوتی ہے، جو دورِ حاضر میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہ کتاب جس کا موضوع اور تعلق دِلّی ہے اور اس کا اجرا عروس البلاد ممبئی میں ہو رہا ہے جو میری بات کی دلیل سے کم نہیں۔ فیاض رفعت کی اس کتاب کا اجرا اس شہر میں ہو نا ہم سب کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔ مشہور دانشور اور سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ڈاکٹر محمود الرحمان جو اس تقریب میں شرکت کے لیے خاص طور پر شہر آئے تھے۔ انھوں نے نہایت شستہ اور بلا تکلف گفتگومیں فیاض رفعت کے تعلق سے اچھی باتیں کیں۔انھوں نے کہا کہ فیاض رفعت کا اس کتاب کا ترتیب دینا کسی بھی طرح سے عجب نہیں کہ ایک علیگیرین کا کسی کتاب کامرتب ہونا عجب نہیں ہوتا کہ ترتیب و تہذیب تو اس کا حق ہو تا ہے۔ موصوف نے کتاب کے تعلق سے کہا کہ یہ (کتاب) ایک بڑے علمی کام کی ترتیب و تہذیب ہے۔ ڈاکٹر محمود الرحمان نے ایڈوکیٹ یاسین مومن کی بات کے پس منظر میں کہا کہ آج اُردو پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس زبان سے کچھ ملنا ملانا نہیں ہے۔ اب تو یوپی ایس سی امتحانات میں بھی اُردو مضمون شامل ہے۔ اس جلسے کی کامیابی میں مشہور شاعر عرفان جعفری کی شگفتہ نظامت کا بھی دخل رہا۔ شہر کے مقررین میں ممتاز، طاہر اشرفی نے بھی جلسے کی ابتدامیں تقریر کی اور اپنی قوتِ کلام کا مظاہرہ کیا۔سابق رُکن پارلیمان وسیم احمد نے تقریر میں اپنے سینئر علی گیرین فیاض رفعت کے تعلق سے بڑی دلچسپ باتیں کیں اور اُن (فیاض رفعت) کی کچھ مخفی باتیں بھی دلچسپ پیرائے میں بیان کیں۔ وسیم احمد نے بھی اُردو کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اُردو چھوڑکر اپنی بدقسمتی کو دعوت دی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ افسوس آج ہمارا کلچر نہیں رہا بلکہ اگریکلچر ہوگیا ہے۔ انھوں نے فیاض رفعت کی گوناگوں خصوصیات کے حوالے سے کہا کہ ان کی خدمات کے پیش نظر انھیں مؤقر ایوارڈ دیا جانا چاہیے کہ وہ ان کا حق ہے۔
وسیم احمد کی تقریر کے بعد ناظم جلسہ عرفان جعفری نے کہا کہ میں یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس کررہاہوں۔ جیسا کہ ابھی وسیم احمد نے کہا کہ ’فیاض رفعت کو ایوارڈ دیا جانا چاہیے‘ تو سیوا کی جانب سے آج اور اسی جلسے میں ایوارڈ دیے جانے کا اعلان کیا جاتا ہے اور پھر فیاض رفعت کو ’’سیوا ایوارڈ‘‘ تفویض کیا گیا۔ صدرجلسہ ڈاکٹر ظہیر قاضی نے، جلسے میں کہے گئے اس جملے کہ’ظہیر قاضی تو ہر جگہ حاضر رہتے ہیں، کہ پس منظر میں کہا یقیناًمیں ایک مصروف آدمی ہوں مگر اُردو کے نام پر ہر وقت حاضر ہو جا تا ہوں اور حاضر ہوتا رہوں گا۔ انجمن اسلام جیسے ادارے کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی نے ایڈوکیٹ یٰسین مومن کی چھیڑی ہوئی بات پر کہا کہ ’’جو صورت حال وکیل صاحب نے بیان کی ہے وہ اُردو ہی کی نہیں ہے، ہر زبان کی ہے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اُردو کی جو صورت حال عام طور پر بیان کی جاتی ہے ایسا نہیں ہے۔ اُردو کی صورت حال مثبت ہے۔ ڈاکٹر موصوف نے انجمن اسکولوں اور تھانے کے ایک اسکول کی مثال بھی دی۔مگر ہم نے محسوس کیا کہ ہماری زبان کی اس بڑی بیماری کو ڈاکٹر صاحب نے دوربین سے نہیں بلکہ خوردبین (مائکرواسکوپ) سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ فیاض رفعت کی کتاب کی رسم اجرا ڈائس پر موجود تمام اشخاص کے ہاتھوں انجام پائی۔ جلسے سے اور بھی کئی اشخاص نے خطاب کیا اور ’سیوا‘ کے تعلق سے یوسف ابراہانی کی غیر حاضری میں سیوا کے ممتاز نمائندے یعقوب میمن نے حاضرین سے خطاب کیا۔ گُل بوٹے کے مدیر فاروق سیّد نے شکریے کی رسم اداکی۔جلسے کا اختتام پر تکلف عشائیہ پر ہوا۔

Friday, May 27, 2011

چھپکلیوں کا جلوس....... ایک فرضی کتاب پر تبصرہ

اس وقت ہند و پاک میں اور اسکے ساتھ ساتھ ادب کے نئے افق یعنی امریکہ، انگلینڈ اور مشرقی وسطی وغیرہ میں جتنی تخلیقات {میں اس فکری بد ہضمی کو تخلیقات ھی کہنے پر مجبور ھوں کیونکھ ھر شاعر یا ادیب کیلئے اسکی ہر تحریر اسی طرح تخلیق کہلانے کی مستحق ھے جسطرح کسی کالے بھجنگ کو اپنے بیٹے کا نام چاند رکھنے کا رکھنے کا حق ھے۔ } شائع ھورھی ھیں ان کی رفتار وھی ھے جو تیل میں ڈوبے امیر عرب ممالک میں طلاق کی رفتار ھے یعنی ھر پندرہ منٹ میں ایک ۔ ان میں سے نوے فیصد کتابوں کا جائزہ لیا جائے تو اعجاز شاھین کا یھ تبصرہ سمجھنے میں آسانی ھوجائیگی۔ اس مضمون کی خصوصیت یہ ھیکھ انہوں نے صرف آہٹ ٹورانٹوی ھی کو بے نقاب نہیں کیا ہے بلکہ ان کے مجموعہ کلام چپکلیوں کے جلوس پر تبصرہ کرنے والے ان تمام لفاظی کے استادوں کو بے نقاب کیا ہے جو چپکلیوں کے اندر سے بھی کوئی نہ کوئی استعارہ، علامت یا تشبیہہ ڈھونڈہ نکالتے ھیں۔ اور تخلیق کار کے تعارف کی دلالی میں کبھی میروغالب تو کبھی ناتشے، شیکسپیر اور ٹالسٹاے کی قبریں کھود ڈالتے ہیں۔ عہد حاضر میں شائع ہونے والی بے شمار ادبی کتابوں پر چپکلیوں کا جلوس ایک بہترین تبصرہ ھے جو کسی بھی اخبار یا رسالے میں نام بدل کر یعنی چپکلیوں کا جلوس کی جگہ جو بھی کتاب برائے تبصرہ ھے اور آہٹ ٹورانٹوی کی جگہ جو بھی شاعر یا ادیب کا نام ہے وہ لکھ کر شائع کیاجاسکتاھے۔ بہرحال مضمون ایک نشان-عبرت ہے۔ اسکو پڑھنے کے بعد اب میں نے اپنے انتخاب-کلام کو شائع کرنے کا ارادہ ملتوی کردیا ہے۔ معاف کرنا ملتوی نہیں منسوخ کردیا ہے۔ اعجاز شاھین کی یھ تخلیق قابل مبارکباد ہے۔ اس مضمون کے بہانے انہوں نے چپکلی پر تحقیق بھی کرڈالی، کاش بے شمار یونیورسٹیوں میں بیٹھے وہ ڈاکٹر اور پروفیس حضرات جو اپنے چپکلیوں کے جلوس یونیورسٹی کے خرچے پر چھپواکر آھٹ ٹورانٹوی پر تبصرہ کرنے والے دانشوروں سے کہیں زیادہ گہرے دانشوروں سے تبصرے لکھوالیتے ھیں کاش ان تمام کی نظر اس مضمون پر پڑے اور کسی کو اعجاز شاھیں کو اتنے شاندار مضمون پر ڈاکٹریٹ دینے کی توفیق ہو۔ علیم خان فلکی - جد

Friday, May 06, 2011

E-mail from Khan Nawed ul haq : دھو ٗپ کا سایہ:پرویزؔ باغی

This mail was in INPAGE and converted by www.lantrani.com
کتاب ’’دھوپ کا سایہ ‘‘ پرویز ؔ باغی صاحب کا دوسرا شعری مجموعہ ہے ،جس میں غزلوں کا انتخاب نہایت سلیقے سے کیا گیا ہے۔ بقول خودشاعراس مجموعہ کی اشاعت جناب فاروق سیّد مدیر ’’گل بو ٗٹے‘‘ کی مساعیِ جمیلہ کا نتیجہ ہے۔ یہ شعری مجموعہ ایسے وقت میں منظر عام پر آیا ہے جب نئی نسل اپنے شعروادب کی تاریخ سے بڑی حد تک نابلد ہوتی جارہی ہے۔ اس سے قبل پرویزؔ صاحب کا ایک شعری مجموعہ ’’لمحے لمحے کا کرب‘‘ کے عنوان سے چوبیس سال قبل جناب ساحر شیوؔ ی کی کوششوں سے ’کوکن رائٹرز گلڈ‘ کے زیر اہتمام منظر عام پر آچکا ہے۔پرویزؔ باغی بڑے کم گو شاعر ہیں ۔’’ شاعری خیال آرائی کے بجائے جذبات و تجربات کی گہرائی سے پھوٹتی ہے۔ قوس قزح کے رنگ خواہ کتنے ہی خوب صورت اور دلکش ہوں ، وہ بہرحال لمحاتی زندگی لے کر آتے ہیں۔اس کے برعکس جو گہر سمندرکی گہرائی سے برآمدکیا جاتا ہے اس کی تابناکی میں کبھی کمی نہیں آتی‘‘۔پرویز ؔ باغی صاحب ہمیشہ واردات قلبی یعنی آپ بیتی، جگ بیتی اور ذاتی تجربات ومشاہدات کو بنیاد بنا کر ہی شعر کہتے ہیں بلکہ ’’ہر عبارت اور حکایت لہو سے لکھتے ‘‘ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قارئین کو اُن کے دوسرے مجموعہ کے لیے چوبیس برسوں پر محیط ایک طویل عرصہ تک انتظار کرنا پڑا۔
پرویزؔ صاحب کوکن کی سنگلاخ زمین اور مراٹھی زبان کے ماحول میں رہ کر بھی اپنی کاوشوں سے اُردوٗ شاعری کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔وہ تقریباً چالیس برسوں سے غزل کی زلفیں سنوارنے میں مصروف ہیں اور سوجھ بوجھ کے ساتھ فنّی نزاکتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے درست شعر کہنے کی روایت کی پاسداری کررہے ہیں۔ان کی عمر کے مدّ نظران کے کلام کا ذخیرہ کافی محدودہے۔ جب کہ آج شعراء حضرات قلیل مدّت میں آٹھ دس مجموعوں کے خالق اور کچھ صرف مالک بن جاتے ہیں۔مگر پرویزؔ صاحب نے اپنی طویل ادبی عمر میں ’حاصل مرے شعروں کا مِری کم سخنی ہے ‘ کے مصداق صرف دو مختصرشعری مجموعے ہی دیے ہیں۔
دھوپ دکھوں اور پریشانیوں کا استعارہ ہے جبکہ سایہ سُکھ اور راحتوں کی علامت۔برگدکا درخت گھنا سایہ دیتا ہے لیکن پرویزؔ صاحب طویل مدت سے دُکھوں کی جھُلساتی ہوئی دھو ٗپ برداشت کرتے آئے ہیں اور اپنوں کی بے رُخی کے سبب راحتوں کو نہ پاکر انھوں نے دُکھوں سے سمجھوتا کرلیا ہے۔اسی لیے اُن کے یہاں اس قسم کا اظہار ملتا ہے کہ
جب ہمیں برگدوں نے جھُلسایا
دھوپ سے مانگنا پڑا سایا
آج مسلم معاشرہ جس طرح چھوٹے چھوٹے طبقات اور مذہبی و جغرافیائی گروہوں میں بٹ کر اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بنا کراپنے آپ کو تفرقوں میں تقسیم کررہا ہے،اس جانب پرویزؔ صاحب نے بڑی خوبصورتی سے طنز کیا ہے ۔ ان اشعار میں دَورِ غلامی کے خاتمے کا اعلان بھی ہے اور امت مسلمہ کی اپنے رب سے نافرمانی کا گلہ بھی ۔ساتھ ہی قوم میں قائدانہ صلاحیت کے فقدان کا درد بھی۔دیکھیے
کوئی آقا کوئی غلام نہیں
آج ایسا کوئی نظام نہیں
اپنے اپنے گروہ کے قائد سب
کوئی بھی قوم کا امام نہیں
دَورِ حاضر میں منافقت عام ہے۔رشتوں کا تقدس مجروح ہوچکا ہے ۔جرأت، بے باکی اور حق گوئی ناپید ہوتی جارہی ہے۔ پرویزؔ باغی ایک حسّاس شاعر کی حیثیت سے ان باتوں پر بیزاری اور لوگوں کے قول و عمل کے تضاد پر برہمی کا اظہار اس طرح کرتے ہیں۔
اب میرے شہر میں کوئی سچ بولتا نہیں
شاید سبھی کے سامنے میری مثال ہے
اس شخص سے امیدِ رفاقت کیسی
جو خون کے رشتوں سے مُکر جاتا ہے
پرویزؔ صاحب اپنے اسلاف کی اقدار کے پاسبان ہیں۔ ان کے یہاں تہذیبی قدروں اور اقدارکی عظمتوں کے حوالے جا بہ جا دکھائی دیتے ہیں۔ وہ حالاتِ حاضرہ میں اقدار کی پامالی پر دل گرفتہ ہو کر عہدِ رفتہ کو یاد کرکے خون کے آنسو بہاتے ہیں اسی لیے اقدار کے پائمال ہونے کا نوحہ بھی ان کے اشعار میں جھلکتا ہے۔
قدروں کی پائمالی کے صدمے نہ سہہ سکے
کچھ وضع دار وقت سے پہلے ہی مَر گئے
یاد آتا ہے پرویزؔ جو عہدِ رفتہ
خنجر سا میرے دل میں اُتر جاتا ہے
کوئی بھی خوش نہیں ہے نئے دَور سے یہاں
سب چاہتے ہیں پچھلا زمانہ اُتار دے
سارے عالم میں فسادات ، دنگوں اور نفرتوں کا دَور دَورہ ہے، انسان حیوانیت کابرہنہ رقص کرتا پھر رہا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ بجا ہوگا کہ انسان وحشی جانوروں سے زیادہ وحشی پن کا مظاہرہ کرتا نظر آرہا ہے۔ اس نے حیوانوں کو بھی مات دے دی ہے۔درد مند دل رکھنے والے پرویزؔ صاحب اسے یوں بیان کرتے ہیں۔
حیوانوں کی خوں خواری کا کیا شکوہ
انسانوں کی خوں خواری دُکھ دیتی ہے
شاعر اگر حسّاس اور باشعور ہوتو اسے بہت سے پیش آئندہ حادثات و خطرات کی آگہی مل جاتی ہے۔ بہت سے اشعار ان کے اسی اِدراک اور وجدان کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں۔
پتہ نہیں یہ کتنے دن جی پائے
نئی صدی تو برسوں کی بیمار لگے

نہ جانے ٹوٹے گا کب قہر ، وقت کا یارو
جبینِ وقت پہ اب تک تو بَل نہیں کوئی
اور یہی احساس و شعور کبھی کبھی مستقبل کا آئینہ بن جاتا ہے۔
آج گر بُزدلی دکھائے گا
پھر کبھی سر اُٹھا نہ پائے گا
ہوائیں ہر طرف اعلان کرتی پھررہی ہیں
سمندر سے بچو لوگو ، بپھرنا چاہتا ہے
پرویز ؔ باغی صاحب کے لہجہ سے بغاوت کی چنگاریاں بھی پھوٹتی نظر آتی ہیں۔اگران کے شعر کو صرف اور صرف ان کی ذات تک محدود کرکے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ وہ اپنا ایک الگ منفرد مقام بنانے کے چکر میں روایت سے بھی بغاوت کرنا چاہتے ہیں۔
بھیڑ کے ساتھ چلتا نہیں مَیں کبھی
اپنی عادت بدلتا نہیں مَیں کبھی
گلوبلائزیشن کے دَور میں دُنیا سمٹ کر مُٹھی میں آچکی ہے۔ دیکھیے کس طرح اس خیال کو پیش کیا ہے۔ ساتھ ہی جنگ کی تباہ کاری سے عالم انسانیت کو پیش آنے والے نفسیاتی ضرر کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔
چھِڑی ہے جنگ کوسوں دوٗر لیکن
یہاں کے لوگ بھی سہمے ہوئے ہیں
مرد بحیثیت باپ،بیٹا ،شوہر ، بھائی وغیرہ رشتوں کی بناء پر اپنے اقرباء کے لیے زندگی بھر تگ و دو کرتا رہتا ہے۔ اسے اوروں کی فکر اپنی ذات کے لیے سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتی۔دیکھیے کس خوبی سے اس کا اظہار کیا ہے۔
زندگی کٹ گئی اوروں کے لیے
کم ہی آیا مِرے حصّے میں مَیں
عمر بھر اسی بات کا رونا رہا
رونے کی فرصت بہت کم دی مجھے
آج کے شعراء اور ادباء نقادوں کے بل بو ٗتے پر بلندیاں چھو ٗنے کی کوشش کرتے ہیں اور ادب میں مقام حاصل کرتے ہیں۔ یہاں بھی پرویزؔ باغی صاحب کی انانیت اور ان کا باغیانہ لہجہ اپنا اثر دکھاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ
اپنے بل پر بلندی کو چھوٗلیں گے ہم
کیا ضرورت ہے کوئی اُچھالے ہمیں
اِکّا دُکّا ہیں سخن ور وہ بھی چُپ
اب کہاں شورِ ادب ہے شہر میں
اپنی ناقدری و محرومی کا کرب درج ذیل اشعار میں بخوبی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اسباب زندگی کی نامنصفانہ تقسیم اور بے ہنر لوگوں کی قدردانی اور ہنر مندوں کی ناقدری پر کڑھتے ہوئے فرماتے ہیں۔
ہم سے قد میں وہ چھوٹے ہیں پرویزؔ
لوگ دیتے ہیں جن کے حوالے ہمیں
یا
کبھی کبھار یہ بادل بھی ظلم ڈھاتے ہیں
ادھر نہ برسے برسنا جدھر ضروری تھا
کتاب کے آخر میں نو اہم قطعات بھی شامل ہیں جو مختلف موضوعات پر مشتمل ہیں۔جن میں سے دوسرا قطعہ حضور اکرم ﷺکی محبت سے سرشاری ،قلبی و روحانی خلوص اور جوش و جذبہ کا پتہ دیتا ہے ۔یہاں بطور نمونہ وہ قطعہ پیش ہے جس میں پرویزؔ باغی کی عقیدت کا والہانہ انداز ملتا ہے۔
کسی منصب کی تمنّا نہ کروں
کوئی دولت نہ خزینہ مانگوں
میں نے سوچا ہے یہی اے پرویزؔ
اپنے خالق سے مدینہ مانگوں
’’دھوپ کا سایہ‘‘ ایک سو بارہ صفحات پر مشتمل ہے جس میں تین عنوان قائم کیے گئے ہیں اور ان عنوانات کے تحت غزلیں، قطعات اور اشعار درج ہیں۔پہلے عنوان کے تحت پچھہتّر غزلیں،دوسرے عنوان کے تحت نو قطعات اور تیسرے عنوان کے تحت باون اشعار شامل ہیں۔مجموعی طور پر کتاب بہت اچھی ہے۔ اس کی اشاعت سے اردو ادب میں یقیناً اضافہ ہوگا۔ کتاب میں کمپوزنگ کی غلطیاں قابل درگزر ہیں۔ گل بوٹے پبلی کیشنز نے اپنی روایتی نیک نامی کو برقرار رکھتے ہوئے صاف سُتھری طباعت نیز خوبصورت گردپوش کے ساتھ اس کو صوری و نظری اعتبار سے دیدہ زیب بنا دیا ہے۔امید ہے کہ پرویزؔ باغی کے اس شعری مجموعہ کی عوام و خواص میں خوب پذیرائی ہوگی اور اہل ذوق اسے خرید کر پڑھیں گے۔
خان نویدالحق انعام الحق
اسپیشل آفیسر فار اردو
مہاراشٹر راجیہ پاٹھیہ پستک نرمتی و ابھیاس کرم سنشودھن منڈل،
بال بھارتی، سینا پتی باپٹ روڈ، پونہ۔ ۰۰۴ ۴۱۱
موبائل : 9970782076
ای میل: khan18664@gmail.com
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP