You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label E-mail. Show all posts
Showing posts with label E-mail. Show all posts

Monday, January 09, 2012

اُف ! یہ ہمارے ڈاکٹرس


ڈاکٹر ! یہ لفظ سنتے ہی ہمارے ذہن میں ایک نہایت متفق باوقار انسان ابھرتا ہے جس کے پاس ہماری تمام بیماریوں کا علاج موجود ہے۔ ہر دور میں ڈاکٹر کو مسیحا کا درجہ عطا رہا ہے۔ بعض لوگ تو انہیں بھگوان کا درجہ دے دیتے ہیں۔ ہندی فلموں کے اکثر ڈائیلاگ تو آپ نے سنے ہی ہوں گے کہ ڈاکٹر صاحب آپ تو بھگوان ہیں یا بھگوان کے بعد آپ ہی میرا سہارا ہے۔ مگر افسوس زمانے کے ساتھ ساتھ یہ باتیں بھی پرانی ہوگئی ہیں۔ اب ڈاکٹرز وہ ڈاکٹرز نہ رہے۔ بلکہ آج کل کے ڈاکٹر تو قصائیوں کو بھی مات دیتے نظر آتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قصائی جانور کے گلے پہ چھری پھیرتا ہے اور ڈاکٹر انسان کی جیب پر۔ بھئی آج کل ڈاکٹری کا پیشہ بطور مسیحائی نہیں بلکہ پیسے کمانے کے لیے اپنایا جارہاہے۔ کئی لوگوں کو تو یہ کہتنے بھی سنا گیا ہے کہ چار پانچ لاکھ پڑھائی پر لگاؤ کوئی فکر نہیں کچھ دنوں میں مع سود واپس مل جائیں گے۔ وہ ڈاکٹر بنتے یا اپنے بچوں کو بناتے ہی اس لیے ہیں کہ انہیں کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہوتا ہے۔
آپ کسی بھی نامور ہاسپٹل میں چلے جائیں۔ مریض کتنا بھی سیریس ہو کاؤنٹر پر پیشگی روپے جمع کرائے بغیر مریض کا علاج نہیں شروع ہوگا۔ اس کے بعد دواؤں کی لمبی فہرست تھمادی جائے گی جس میں مہنگے سے مہنگے انجکشن اور دوائیں شامل ہوں گی اور اس پر مرے ہرسودرے کہ آپ کو اپنے مریض کے پاس ٹھہرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی خاص کر آئی. سی. یو. واڑڈ میں ۔ جہاں اکثر مریض بوڑھے ہتے ہیں۔
ذرا تصور کیجیے بیچارہ بوڑھا مریض اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہا ہے اسے دواؤں سے زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے اسے ایسے وقت میں اکیلا کردینا کتنا بڑا ظلم ہے۔ جب اس کے پاس کوئی رشتہ دار نہ ہو تو اس کا دل اپنوں کو دیکھنے کیسے تڑپتا ہوگا بیچارہ آخری وقت میں کچھ کہنا بھی چاہتا ہوں گا تو کہہ نہیں پاتا ہے اور اسی طرح انتقال کرجاتا ہے۔
بھئی آپ لوگ پورے گھر والوں کو نہ سہی مگر ایک قریبی رشتہ دار مثلاً بیٹا یا بیٹی کو تو رہنے دیجیے اور تو اور اگر مریض انتقال کرجائے تو ہاسپٹل کا بل ادا کرنے تک آپ میت بھی نہیں لے جاسکتے بھلے آپ پیسے کہیں سے بھی کیسے بھی لایئے۔
اگر آپ کو معمولی سردی زکام محسوس ہورہا ہو تو گھبرائیے مت فوراً سے پیشتر ڈاکٹر کے پاس جایئے وہ آپ کے مرض کو اتنا سنگین و مہلک مرض میں مبتلا کردے گا کہ آپ خود کو چند دنوں کا مہمان سمجھنے لگیں گے۔ دسیوں قسم کے ٹیسٹ اور ایکسرے کروائے جائیں گے اور پتہ چلے گا کہ یہ سب ٹیسٹ اور ایکسرے وغیرہ ڈاکٹر ک بیوی کے کلینک میں ہوتے ہیں۔ آخر میں آپ کو چند اینٹی بایوٹک دوائیں دے کر رخصت کردیا جائے گا۔ آہ!
برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی ہے
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا
ہر ایک اتوارے میرا مطلب ہے ایک ڈاکٹر کلینک کھول کر بیٹھا ہے جس کے بورڈ میں ڈاکٹر کا نام مع لمبی چوڑی ڈگریوں کے درج ہے جن کاعام آدمی کوعلم بھی نہیں۔ جو کہ اکثر نقلی بھی نکلتے ہیں اور ایسے لوگوں کی وجہ سے کتنی ہی زندگیاں برباد ہوجاتی ہیں مگر یہ کاروبار پھلتا پھولتا جاتا ہے اور کسی کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی۔
ہمارے پڑوسی عزیز میاں کل پیدل جارہے تھے۔ ہم نے کار کے بارے میں دریافت کیا تو کہنے لگے بیچ دی۔ ہم نے مذاقاً کہا کہ ’’کیوں ڈاکٹر کا مشورہ تھا پیدل چلنا؟‘‘ تو انہوں نے جواب دیا ’’جی نہیں ڈاکٹر کا بل ادا کرنے میں بیچ دی۔‘‘ یہ بات کہہ کر چلتے بنے ، او رہم ہکا بکا وہیں کھڑے رہ گئے۔
کتنے ہی قصے ہیں جو بیان کیے جائیں تو صفحات کے صفحات سیاہ ہوجائیں گے مگر ان ڈاکٹرس کے کرتوت پوری طرح عیاں نہیں ہوپائیں گے۔
ایسی بات نہیں ہے کہ اب دنیا میں اچھے ڈاکٹر نہیں بچے۔ نہیں بھئی اتنا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں اب بھی دنیا میں ایسے ڈاکٹر ہیں جو غریبوں کا علاج مفت کرتے ہیں۔ مریض کو دیکھنے، آدھی رات کو جانے سے بھی نہیں ہچکچاتے ہیں۔ کئی ڈاکٹروں کی تو صرف مسکراہٹ سے ہی مریض آدھا اچھا ہوجاتا ہے۔ مگر افسوس ایسے ڈاکٹروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اللہ رب العالمین سے دُعا ہے کہ وہ تمام ڈاکٹروں کے دل میں مسیحائی کا جذبہ پیدا کردے (آمین)۔
آچھ چھیں! ارے یہ کیا کہیں مجھے بھی تو سردی زکام نہیں ہوگا۔ لو! ڈاکٹروں کی اتنی برائی کرنے کے باوجود مجھے انہی کے پاس جانا پڑے گا کیا کریں زندگی اسی کا نام ہے۔


صادقہ طارق انصاری
رمضانی بلڈنگ، دوسرا مالا، روم نمبر29،
ہنس روڈ، بائیکلہ (ویسٹ)، ممبئی۔موبائل 09892728425..

Sunday, November 06, 2011

ہندوستان کا پہلا ’’پانچ کروڑپتی‘‘ اردو کا شیدائی


ان مسلمانوں کو، جو کہتے ہیں کہ اردو پڑھنے سے کیا ہوگا اس سے نوکری نہیں ملتی، سشیل کمار سے سبق سیکھنا چاہیے


قسمت جب مہربان ہوتی ہے تو ایسے ہوتی ہے۔ کل تک چھ ہزار روپے ماہانہ کمانے والا سشیل کمار ایک گھنٹے کے اندر اندر پانچ کروڑ روپے کا مالک بن گیا۔ اس کی زندگی اچانک بدل گئی اور ہندوستان کے کروڑوں گمنام لوگوں میں شامل یہ نوجوان یکلخت پورے ملک کے نوجوانوں کا ہیرو بن گیا۔ اس واقعہ کی تفصیلات پر آگے چل کر روشنی ڈالیں گے۔ پہلے یہ بتا دیں کہ وہ کون سی بات ہے جس نے ہمیں اس موضوع پر لکھنے کے لیے آمادہ کیا۔ در اصل سشیل کمار اردو کا شیدائی ہے۔ اسے اردو زبان بہت اچھی لگتی ہے۔ اسے شاعری پسند ہے اور افسانے بھی اچھے لگتے ہیں۔ وہ گذشتہ کچھ دنوں سے اردو سیکھ رہا ہے اور اس نے ایک نیوز چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اردو سیکھنا اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک کہ وہ پوری طرح اردو لکھ پڑھ نہیں لیتا۔
سشیل کمار کا یہ عزم ان تمام لوگوں کے لیے ایک تازیانہ ہے جو اردو والے ہوتے ہوئے بھی اردو سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ جن کی مادری زبان اردو ہے اور پھر بھی وہ روزمرہ کی زندگی میں ہندی یا انگیزی کو ترجیح دیتے ہیں۔ جو اردو اخبارات کی جگہ پر ہندی اور انگریزی اخبارات خریدتے اور پڑھتے ہیں۔ جو یہ کہتے ہیں کہ اردو پڑھنے سے کیا ہوگا نوکری تو ملے گی نہیں۔ جو اردو میڈیم سے تعلیم کے مخالف ہیں اور جو اپنے بچوں کو اردو کی بجائے دوسری زبانیں پڑھاتے ہیں۔ سشیل کمار ایسے لوگوں کے لیے ’’پریرنا شروت‘‘ ہے جن کے آبا واجداد اردو والے تھے اور جو اب اردو سے اپنا رشتہ توڑ چکے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اس نوجوان سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ایک ایسا نوجوان جس کے پاس اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے پیسے نہیں تھے اور جو بے حد مفلوک الحالی میں پڑھائی کر رہا تھا۔ اس کے باوجود وہ ایک اضافی زبان اردو بھی سیکھ رہا ہے جو کہ نہ تو اس کی مادری زبان ہے اور نہ ہی جسے اس کے اہل خانہ بولتے ہیں۔وہ اسے پوری طرح سیکھنے اور لکھنے پڑھنے کا عزم رکھتا ہے۔ وہ مسلم گھرانے جو اردو سے کنارہ کش ہو گئے ہیں اس نوجوان سے نصیحت پکڑیں اور خود بھی اپنی مادری زبان اردو سیکھیں اور پڑھیں اور اپنی اولاد کو بھی پڑھائیں۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ آپ دوسری زبانیں نہ پڑھیں، پڑھیں اور ضرور پڑھیں لیکن اپنی زبان کو نہ چھوڑیں۔ یہ کوئی معقول دلیل نہیں کہ اردو پڑھنے سے چونکہ نوکری نہیں ملتی اس لیے ہم اردو والے ہو کر بھی اردو نہیں پڑھیں گے۔ کیا سشیل کمار کو اردو زبان سے نوکری ملے گی؟ کیا اس نے اس لیے اس زبان کو سیکھنا شروع کیا کہ وہ اس کو ذریعہ معاش بنائے گا؟ کیا اس نے اردو سے فائدہ اٹھانے کے لیے اسے سیکھنا شروع کیا؟ اور کیا اب قومی ہیرو بن جانے کے بعد بھی اردو پڑھنے کے عزم کے اظہار کے پیچھے کوئی مفاد پرستی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سشیل کمار جہاں اپنی محنت، لگن، اور قابلیت کی وجہ سے ہماری مبارکبادیوں کا مستحق ہے وہیں وہ اس لیے بھی ہماری مبارکبادی اور شکریے کا مستحق ہے کہ وہ اردو والا نہ ہو کر بھی اردو پڑھ رہا ہے، اسے سیکھ رہا ہے اور اردو زبان سے اس کی شاعری سے اور اس کے افسانوں سے محبت رکھتا ہے۔ اگر اس کا یہ جذبہ قائم رہا تو امید کی جانی چاہیے کہ اس ملک میں جہاں اردو والے دن بہ دن کم ہوتے جا رہے ہیں کم از کم اس کے چاہنے والوں اور اس کے پڑھنے والو ں میں ایک قابل ذکر شخصیت کا اضافہ ہو جائے گا۔ یہ نوجوان آئی اے ایس بننا چاہتا ہے۔ ہماری دعائیں اس کے ساتھ ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اگر وہ آئی اے ایس بن گیا تب بھی او رنہیں بنا تب بھی اردو سے پیار کرتا رہے گا۔ میں یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ایک مقبول نیوز چینل ’’ٹائمس ناؤ‘‘ نے اس سے جب ایک طویل انٹرویو کیا اور بہت سارے سوالات کیے تو اسی دوران اس نے اردو سے اپنے عشق کا اظہار کیا۔ حالانکہ چینل کی اینکر نے اس سلسلے میں اس سے کوئی سوال نہیں کیا تھا۔ اس کے باوجود اس نے از خود کہا کہ اسے مطالعے کا شوق ہے اور اسے اردو زبان بہت اچھی لگتی ہے، وہ اردو سیکھ رہا ہے اور اب اسے سیکھنا اور لکھنا پڑھنا مزید جاری رکھے گا۔ اگر اینکر نے اس سلسلے میں اس سے مزید وضاحت چاہی ہوتی تو ہمارا خیال ہے کہ ہم اردو زبان کے بارے میں اس نوجوان کے مزید خیالات جان پاتے۔ لیکن اینکر نے اس سوال کو آگے نہیں بڑھایا۔ بہر حال یہ بہت اچھی اور حوصلہ افزا بات ہے کہ اس ملک میں جہاں اردو سے اس قدر نفرت کی جاتی ہے کہ اسے تقسیم ہند کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے، اسے غیر ملکی زبان کہا جاتا ہے، اس کی تعلیم کے راستے میں جان بوجھ کر دیواریں کھڑی کی جاتی ہیں، اس کے نام پر فسادات برپا کیے جاتے ہیں اور خود اردو والے بھی اس سے بیگانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس واقعہ سے ہمیں ایک اور پیغام ملتا ہے۔ وہ یہ کہ اردو واقعی گنگا جمنی تہذیب کی زبان ہے۔ پیار محبت اور دلوں کو جوڑنے والی زبان ہے۔ وہ اپنی شیرینی اور مٹھاس کی وجہ سے بیگانوں کو بھی اپنی جانب راغب کرنے کا ہنر جانتی ہے۔ اس زبان کے فروغ میں مسلمانوں کے علاوہ ہندووں کا بھی قابل ذکر حصہ ہے، ان کی خدمات ہیں اور ان کی قربانیاں ہیں۔ حالانکہ کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اردو صرف مسلمانوں کی زبان بن کر رہ گئی ہے۔ لیکن جب بھی ایسے خیالات مضبوط ہونے لگتے ہیں تو کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ضرور ہو جاتا ہے جو یہ احساس دلاتا ہے کہ نہیں اردو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں ہے۔ پہلے بھی اس کے چاہنے والوں اور اس سے عشق کرنے والوں میں ہندووں کی بڑی تعداد شامل رہی ہے اور اب بھی ایسے ہندووں کی کمی نہیں ہے جو اردو کے دیوانے ہیں۔ جب تک سشیل کمار جیسے لوگ اس ملک میں ہیں اردو کو کوئی فنا نہیں کر سکتا، اسے کوئی مٹا نہیں سکتا اسے کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ لاکھ مخالفانہ ہوائیں چلیں اور اس کے چراغ کو بجھانے کے لیے کتنی ہی سازشیں کیوں نہ کی جائیں اس کو کوئی نہیں بجھا سکتا۔ اس کا اجالہ ذہن کی تاریکیوں کو دور کرتا رہے گا۔

-
سہیل انجم

تعلیم اور روزگار کے چند بنیادی مسائل.



عمومی طور پہ  دیکھا جائے تو دن بہ دن  تعلیمی معیار پست ہوتا جارہا ہے. سرکاری اسکول ہوں یا پرائیویٹ یا اعلی تعلیمی مراکز سب مادیت پرستی کے شکار ہیں. اکثر اسکول سالانہ نصاب کو جیسے تیسے ختم کرنے پر کار بند ہیں. ٹیوشن کے نام پر صرف ان طلبا کی کھیپ تیّار کی جارہی ہے جو مارکس حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں . نصاب کا حال انتہائی پیچیدہ اور عملی زندگی سے میل نہیں کھاتا. پندرہ سالہ تعلیمی دور کا عملی زندگی میں صحیح اورحقیقی مصرف تلاش کرنے میں اکثر نوجوان کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں. مشکل سے بیس فیصد نصابی تعلیم کا عملی زندگی میں استعمال کر پاتے ہیں. مغربی  طرز تعلیم کے  کچھ    روشن پہلو  ضرور ہیں  لیکن ان میں  اور مغربی طرز تربیت میں  فرق کرنا بے حد ضروری ہے. نفسانفسی کے اس دور میں صرف معقول تربیت ہی ہے جوایسی تعلیم کے لاشے میں جان ڈال سکتی ہے اور آنے والی نسلوں کو تعلیم کا صحیح مصرف عطاکر سکتی ہے.
طلبا اور خاصکر والدین کو طالب علم کے رحجان کے تحت تعلیمی ہدف مقرر کرنا بہتر  ہے نہ  کہ زبردستی کسی تعلیمی نصاب کو تھوپنا. مثلا، ریاضی، سائینس، طب   ،کیمیا  یا کسی اور علوم میں طالب علم کمزور ہے  یا  پڑھا ئی میں مسلسل  ناکام ہو  رہا ہے  یا پڑھا ئی سے دل چرا رہا ہے  تو   دوسرے علوم  میں  اسکی  ہمت  افزائی کی جانی چاہیے .   والدین کو ابتدائی تعلیم کے دوران ہی طالب علم کے رحجان کا کچھ کچھ پتہ چل جاتا ہے لیکن عمر کے ساتھ ساتھ تعلیمی رحجان میں تبدیلی کے امکانات بھی رہتے ہیں. اس ضمن میں بہتر تو یہی ہے کہ نویں جماعت تک رحجان کے بارے میں صحیح معلومات ہوجائے. طالب علم کے رحجان کا غلط اندازہ لگانے میں خوش فہمیوں کا ہاتھ ہوتا ہے.  اکثر گھریلو اور سماجی ماحول بھی  مختلف پیچیدہ  رحجانات کے پنپنے کا باعث ہوتے ہیں . اس لیے  بہتر ہے کہ بچوں میں مخصوص رحجان  کو پروان چڑھایا جائے.  بچپن کی  زرخیززمین  میں  تعلیم کا بیچ بوکر  ماحول کے معتدل موسموں میں  تربیت کےآب زم زم سےآبیاری کی جائےگی تو وہ شجر تنومند اور ہر بھرا  ہوگا.  اگر کوئی  نوجوان  گھریلو  ماحول  کا مارا ہے اور کمزور  بنیادی تعلیم  کا پروردہ  ہے  تب تو اسے  روزگار کے لئے بہت محنت درکار ہے لیکن پھر بھی   ترقی کےمواقع ہر ایک کے لئے موجود   ہیں جس  کا ذکر اس مضمون میں  آگے کیا گیا  ہے.    
غیر انگریزی یا  اردو زبان میں تعلیمیافتہ نوجوانوں کو یہ سچائی خوش دلی سے قبول کرنی ہوگی کہ انگریزی سے لاپرواہی اپنی معاشی اور پیشہ وارانہ ترقی سے لاپرواہی ہوگی اور اردو سے لا پرواہی کرنا اپنی تہذیب و تمدن سے لا پرواہی ہوگی. اس مسئلہ کا سیدھا سادہ حل ہے کہ ان دونوں زبانون میں کڑی محنت اور ذوق و شوق درکار ہے اور جدید دور میں اس مقصد کے حصول کے لئے کافی وسائل اور ذرائع موجود ہیں. کسی قسم کا کوئی بہانہ کرنا کوتاہی اور لاپرواہی کے سوا کچھ نہیں. نوجوانوں کو اس حقیقت کو فراخدلی سے قبول کرنا ہوگا کہ زیادہ سے زیادہ زبانیں سیکھنے سے اپنی مادری زبان  کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوتی.
موجودہ ترقی کی دوڑ میں سہل  پسند تعلیمیافتہ نوجوانوں کو بہت تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے.  اس کے لئے ضروری ہے کے نوجوان خود اپنی شخصیت کا تجزیہ کریں کہ وہ زندگی میں روحانیت اور مادیت میں کسقدراعتدال و توازن چاھتے ہیں. اس توازن کو سمجھنے کے لئے ہماری دانست میں خلفائے راشدین کی سیرت کا اجمالی مطالعہ بے حد سود مند ہو سکتا ہے یا ان تاریخی شخصیات کی سیرت کا جن میں ان خلفاء کا پرتو نظر آتا ہو.ہر ایک نو جوان اپنے بارے میں سب سے بہتر جانتا ہے کہ وہ کسقدر ترقی کی دوڑ میں بھاگ سکتا ہے اور کس مقام کو پا سکتا ہے۔ اور اس مقام سے اسکی جائز خواھشات اور ضرورتوں کی تکمیل ممکن ہے یا نہیں. اور ہے تو کتنی ہے. اور یہ بھی کہ  کیا وہ ایک قناعت پسنداور اولوالعزم شخض ہے یا کاہل یاسہل پسند. کیا وہ دنیا سے صرف بنیادی ضرورتوں کا تقاضا کرتا ہے یا اسے دنیا کی بیشتر یا تمام آسائیش درکار ہے. کیا وہ چاندی کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے گنتی کے چند حضرات کی مثال کو سامنے رکھنا چاہتا ہے.  یا ان بے شمار لوگوں کی مسلسل تگ و دود سے حاصل شدہ کامیابی کو مثال یا معیار بنانا چاہتا ہے جوفطری اور تدریجی طرز عمل کی عکاسی کرتی ہے. اور کیا وہ ایک اولوالعزم شخض ہے اور اپنی اور خاندان اور سماج کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کا حوصلہ رکھتا ہے. اور اپنی تعلیم، قابلیت، عمر اور ذمہ داریوں کے مد نظر روزگار کے ذرائع تلاش کرنا چاھتا ہے.  مذکورہ نکات کا تجزیہ کرنا اور اپنی شخصیت کو سمجھنا  بہت اہم ہے.  ضروری نہیں کے ہر نوجوان ایک جیسے نتیجہ پر پہنچے.  ضروری یہ ہے کے اس تجزیہ کے بعد ہی عملی میدان میں کودے اور پھر مسلسل یہ تجزیہ جاری رکھے کیونکہ وقت اور عمر کے ساتھ ساتھ اس توازن میں اپنی شخصیت اور تربیت کے مطابق کمی بیشی ہوتی رہتی ہے. اچّھی اور مناسب تربیت کے بغیر موجودہ تعلیم زہر  کا کام کرتی ہے، خاصکر کسی ایماندارشخض کے لئے. عقل تو سب کو عطا کی جاتی  ہے لیکن دانشمندی محنت سے  حاصل کرنا پڑتی ہے اور حق سے خالی دانشمندی نری جہالت ہے.
پچھلی دو دہائی میں بی اے، بی کوم، ایم اے ایم کوم، اور بی ایس سی ایم ایس سی  پاس اسناد اتنی عام ہو چکیں  ہیں کہ ان اسناد سے نوکری مشکل سے  ملتی ہے اور   کو ئی اچھا عہدہ پانا  تو بے حد مشکل ہوتا ہے. اس لئے عملی میدان میں کودنے سے پہلے مناسب سرٹیفیکٹ کورسیس کرنا از حد ضروری  ہے . یہی حال انجینیرنگ،  آرٹ اور فن  کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کا ہے. انجینیرنگ اور ٹیکنالوجی کے متخصص آسانی سے ملازمت تو پا لیتے ہیں لیکن معاشیات اور انتظامیہ کے شعبہ سے نابلد ہونے کی بنا پر ترقی کے ابتدائی مقام  پر جا کر رک جاتے ہیں.
گریجویشن کے ساتھ ساتھ مختلف قلیل مدتی کورسیس بے حد ضروری ہوتے ہیں۔ "پرسنالٹی ڈویلوپمنٹ"، "انگلش پروفیشنل  ریڈنگ اینڈ  رایٹنگ"، بنیادی اور خصوصی کمپیوٹر ٹریننگ، لینگویج کورسیس، پی جی ڈی (پوسٹ گریجویشن ڈپلومہ)، پروجیکٹ مینیجمنٹ، فائنانس فار نان فائنانشیئلز”  اور ایسے ہی دیگر اورکئی کورسیس ہیں جو اصل ہدف سے مطابقت رکھتے ہیں اور جن کا حصول ضروری ہے. موجودہ دور میں فاصلاتی تعلیم اور اسناد کا حاصل کرنا مشکل نہیں رہا. کوئی بھی انجینیرنگ،  بی ایس سی،  بی اے یا بی کوم پاس آسانی سے ایم بی اے یا پی جی ڈی کرسکتا ہے.  کوشش کریں کہ ایم بی اے کرنے سے پہلے مناسب تجربہ حاصل کرلیں اور قلیل مدتی ایکزیکٹیو ایم بی اے بھی کیا جا سکتا ہے اور وہ بھی فاصلاتی کورسیس کی بدولت، "مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ". اور یہاں بھی بات وہی اپنی ذات کے تجزیے کی اور مذکورہ توازن کی ہے.
موجودہ دور میں ایم بی اے کی مختلف شاخیں وجود میں آ چکی ہیں. لیکن اس حقیقت کو مد نظر رکھیں کہ آنے والے دور میں ایم بی اے کی اسناد بھی بی اے ڈگری سے زیادہ اہمیت کی حامل نہیں ہوگی. اس لئے جو  نوجوان ابھی اپنے ہدف کو سمجھنے کے مراحل سے گزر رہے ہیں انھیں "پوسٹ گریجویشن" کے ساتھ ساتھ مناسب  قلیل مدتی کورسیس پر دھیان دینا چاہیے. دوسری اہم بات یہ ہے کہ نوکری کرتے ہوئے بھی مختلف طریقوں سے اعلی تعلیم اور قلیل مدتی کورسیس کرنے کا عمل جاری رکھا جا سکتا ہے اور یہ طریقہ کار آزمودہ اور بے حد کار آمد ہوتا ہے. اسناد کے ساتھ تجربہ کی اہمیت بہت ہے اور اس سے خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے اور ترقی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں. اس میں بھی محنت زیادہ کرنی ہوتی ہے لیکن نتایج دور رس ہوتے ہیں.
نوجوانوں  میں یہ بات نقص کے بجائے اوصاف میں شمار ہونے لگی ہے  کہ آپ بے شمار کمپنیوں کا سابقہ تجربہ رکھتے ہو اور آپکی تبدیلیء ملازمت کا اوسط زیادہ ہے. لیکن انھیں اس غلط فہمی کے دائرے سے باہر آنا چاہیے کہ عالمی سطح  کے تجارتی مراکز میں اعلی عہدوں کی امیدواری میں شامل ہونے کے لئے کم از کم پانچ سالہ سابقہ ملازمت کا کامیاب ریکارڈ درکار ہوتا ہے. اس لئے کسی بھی ابتدائی  ملازمت کو کم از کم پانچ سال کے عرصہ تک خوش اسلوبی سے انجام دے کر اور خاطر خواہ تجربہ حاصل کر کے کہیں اعلی عہدے  کے لئے درخواست دینا بہتر ہے. عجلت میں حاصل کی ہوئی ترقی بہت کم پائدار ہوتی ہے. ترقی اور کامیابی حاصل کرتے ہوۓ اکثر کو دیکھا گیا ہے لیکن بہت کم اس مقام پر جمے رہ پاتے ہیں اور آگے بڑھ پاتے ہیں.
اب رہی بات ان داستانوں کی جب "فرسٹ کلاس پوسٹ گریجویٹس اور ایم بی اے" نامور عالمی تجارتی مراکز میں کروڑوں کی ملازمت پاتے تھے اور جسکا اشتہار میڈیا جا بجا کیا کرتا تھا وہ سب پانی کے بلبلے ثابت ہویے ہیں. راقم کے حالیہ تجربہ کی ایک مثال ملاحظہ کریں کہ صرف پانچ مڈل مینیجمنٹ عہدوں کے لئے تقریبا پانچ سو سے زائد درخواست موصول ہوئی تھیں. جن میں پچپن فیصد خواتین پوسٹ گریجویٹس اور ان میں بھی اکثر فرسٹ کلاس اور دو چار گولڈ میڈلسٹ بھی  تھیں. تعجب تو تب ہوا جب چند خواتین بی ٹیک کیساتھ ایم بی اے کی اسناد لئے ہوۓ تھیں. مرد حضرات میں بھی تقریبا تمام پوسٹ گریجویٹس. اج اکثر امیدوار چھوٹے شہروں سے تھے. چند ایسے بھی تھے جو کچھ نہ کچھ عملی تجربہ بھی رکھتے تھے اور ساتھ ہی ایک سے زائد قلیل مدتی کورسیس کی اسنادبھی. انٹرویو کے نتائج کا لب لباب یہ تھا کہ چھانٹ کر جن پانچ امیدواروں کا نام دیا گیا تو پتہ چلا تین خواتین اور صرف  دو حضرات کسوٹی پر پورے اترے. اکثر کمپنیاں اس مشق سے دور رہنے اور وقت کی بچت کرنے کی خاطر بھاری فیس کے عوض یہ کام ٹھیکیدار کمپنیوں کو دے دیاکرتی ہیں. ایچ آر ایم ایس اور "ملازمت کی تلاش ختم" کے نام سے ملازمتیں ملنا آسان تو ہوگئی ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ پیچیدگیاں اور بھی بڑھ گئی ہیں.
اپنے پیشہ ورانہ مقاصد کے حصول کے لئے ایک ہدف، مختلف طریقہ کار و آلہ کار اور سنگ میل کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ مقاصد کے حصول میں آنے والی مشکلوں پر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھنے سے بہتر ہے کے ہدف کو حاصل کرنے کے طریقہ کار و آلہ کار کا مطالعہ اور مشق جاری رکھیں یا کو ئی  بھی عارضی ہدف اپنایا جائے جو اصل ہدف کے قریب تر ہو.  اس کی مثال یوں سمجھ لیجئے کے آپ کسی تیز رفتار سواری کے انتظار میں کھڑے ہیں اور اس مخصوص سواری کو آنے میں  کافی تاخیر ہو رہی ہے.  جو سواریاں آ رہی ہیں وہ مسافروں سے لدی ہوئی ہیں اور آپکے مزاج اور رتبے سے مناسبت نہیں رکھتی۔ یا پھر تل دھرنے کی جگہ نہیں ہے.  یا آپکے  پاس ضروری قوت ارادی اور قابلیت کا فقدان ہے. یا  آپ اپنی مطلوبہ سواری کےانتظار میں وقت ضائع کر رہے ہیں. ٹہل رہے ہیں، فکر مند ہیں اور یا تو خوش فہمی میں مبتلا ہیں یا پھر قسمت سے بدگماں ہیں یا خوابِ خرگوش میں ہیں - جھنجلائے ہوئے بھی ہو سکتے ہیں. ایسے میں بہتر ہے جو بھی سواری ہدف کی سمت جاتے ہوئے ملے اپنے مزاج کو طاق پر رکھ کر اس سواری میں چڑھ جائیں اور اپنے ہدف کا کچھ راستہ طے کرلیں.  لیکن ہدف سے آنکھ نہ ہٹایں اور نہ ہی منہ موڑیں اور نہ ہی طریقہ کار و آلہ کار کے مطالعہ اور مشق سے درگزر کریں. اپنے کیرئیر میں پلیٹ فارم پر کھڑے  رہنے سے بہتر ہے ہمیشہ سفر میں رہیں چاہے سواری جیسی بھی ہو. روزگار اور پیشہ ورانہ سفر میں ہر ایک سواری ہدف کی سمت ہی گامزن ہوتی ہے لیکن عارضی ہدف کو اصل ہدف بھی نہ سمجھ لیں.
معاشی اور پیشہ وارانہ ترقی کا کلیدی پہلو یہ ہے کہ پہلے" کچھ" حاصل کرنا ہوتا ہے. اور اس کے بعد ہی کچھ نہ کچھ  یا "بہت کچھ" ہو سکتا ہے. اس کے یہ معنی بلکل نہیں ہے کے انسان بڑے خواب نہ دیکھے یا بڑی خواہش نہ کرے.  وہ چاند پرگھر بسانے کی خواہش رکھتے ہوۓ صرف زمیں پر اچھل کود سے شروعات نہیں کر سکتا. گنتی کے ان چند کامیاب لوگوں سے متاثر ہونا غلط طرز فکر ہے جن پر قسمت راتوں رات مہربان ہوجاتی ہے یا جنھیں بغیر "کچھ" کیے یا کچھ غلط کیے بہت کچھ مل جاتا ہے. حضرت سعدی شیرازی کی ایک حکایت اپنی ذات کے تجزیے اور  اعتدال و توازن کے مفہوم کو سمجھنے میں کچھ مددگار ثابت ہو سکتی ہے.  ایک فقیر نے سعدی کے محل کے دروازے پر پہونچ کر ایک درہم کا سوال کیا.  سعدی نے فرمایا ہماری حیثیت کے مطابق مانگ،  فقیر نے کہا پھر اپنا محل دے دو. سعدی نے فرمایا ہمنے تجھے ہماری حیثیت یاد رکھنے کہا تھا اپنی حیثیت بھولنے نہیں.
اخلاقی اقدار میں پستی اور عقاید میں اختلافات نے تعصب پسندی کا زہر انسانوں کے دلوں میں بھر دیا ہے اور بہت کم انسان اس زہر کا شکار ہونے سے محفوظ رہتے ہیں. ملازمت پیشہ خواتین و حضرات کو اس کا مقابلہ صبر و تحمل سے کرنا ہوتا ہے اور اپنے ہدف پر نگاہ رکھنی ہوتی ہے. حقیقت پسندی اور تعصب پسندی میں فرق کرنا بے حد ضروری ہے. تعصب تو ویسے بھی ایک خوبصورت شخصیت کے لئے کسی گہن سے کم نہیں لیکن تعلیم اور روزگار کی راہ میں کسی بھی قسم کا تعصب ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے. لسانی تعصّب سے لیکر مذہبی، مسلکی، طبقاتی،  علاقایی، ملکی، نسلی، رنگی، پیشہ ورانہ، اور ہر قسم کے تعصّب سے بھرے لوگ ہر ملک اور علاقہ میں مل جائیں گے. اکثر نوجوانوں کو تعصب کے خوف سے چولا بدلتے یااپنی شناخت کو چھپاتے یا اسمیں تبدیلی کرتے دیکھا گیا ہے جو ایک احمقانہ فعل ہے. شخصیت کے اجمالی مفہوم میں ظاہر اور باطن کے تمام پہلو شامل ہوتے ہیں اور اچّھے باطنی پہلو دور رس نتایج کے حامل ہوتے ہیں. ظاہری شخصیت کے تعلق سے آگے چند اہم باتیں بتائی گئی ہیں. اس سوچ میں رہنا کہ ہر کوئی آپ کے ساتھ تعصّب رکھے گا تو یہ غلط سوچ ہوگی. سب سے زیادہ تعصب کا شکار عورتوں کو بنایا جاتا ہے.  جنکے ساتھ روزگار میں گل اور دست صبا کا معاملہ پیش آتا رہتا ہے.  اس ضمن میں راقم کے سابقہ مضمون "میں بھی مظلومئ نسواں سے ہوں غمناک بہت" میں ایک مطالعہ پیش کیا جا چکا ہے. حقیقت حال یہ ہے کہ تعلیمیافتہ خواتین کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اجمالی طور پر خواتین مردوں کے مقابلہ میں زیادہ تعلیمیافتہ ہو رہی ہیں اور تعصب کا شکار بھی.
عام معلومات کی اہمیت کو سمجھنا بے حد ضروری ہے. موجودہ دور میں معلومات کی نوعیت جتنی اہم ہے اتنی ہی آسانی سے دستیاب بھی ہے بلکہ انگلیوں کی جنبش سے حاصل کی جاسکتی ہیں. اس کے لئےانٹرنیٹ پر مطالعہ اور اسکا مثبت استعمال کیا جاسکتا ہے. نیک جذبات کو اپنے اندر پروان چڑھانا ایک اچّھی شخصیت کی تعمیر کے لئے بے حد ضروری ہے لیکن موجودہ نسل کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وہ مادیت پرستی کے اس دور میں اکثر غیر ضروری جذباتیت کا شکار ہو جاتی ہے.  دیرینہ یاری، بچپن کی دوستی اور ایسے ہی دیگر احساسات کے تحت اکثر تعلیم و روزگار کے مسائل کو دوستوں یاروں کے من مطابق حل کرنا چاہتی ہے. جبکہ ان معاملات میں انھیں بہ نسبت دیگر احباب کے ہم پیشہ و ہم مزاج  احباب کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا ضروری ہوتا ہے نہ کہ ہم پیالہ و ہم نوالہ  کے ساتھ. تعلیم و روزگار کی دوڑ میں کبوتر با کبوتر، باز با باز کی طرز اختیار کرنا بہتر ہے.
مالک حقیقی نے ہر ایک انسان کی صورت کیا خوب اور نقص سے پاک بنائی ہے اور اسکا اعتراف بھی کیا ہے اور اعلان بھی. پھر بھی وہ عبادات کے اوقات میں ملاقات کرنے آنے والے بندوں کو جائز زینت اور بناؤ سنگھار کرنے کی ترغیب دیتا ہے. روزگار کو بھی اپنا فضل بتاتا ہے. پھر کیا وجہ ہے کہ کوئی نوجوان روزگار کے معاملے میں بناؤ سنگھار سے احتراز کرے . مقابلہ بازی کے موجودہ دور میں خوش لباسی روزگار میں ترقی حاصل کرنے کا اہم ہتھیار ہے.  اپنے آپ کو پیش کرنے کا فن سیکھیے اور اس حقیقت کو قبول کیجئے کہ کیرئیر کے لئے اپنی ذات    کی "پیکیجنگ" کا خوبصورت اور مزین ہونا ضروری ہے. جائز زینت و آرایش کا شوق رکھیے کہ زرد پتوں کو اسکا اپنا درخت بھی ساتھ نہیں رکھتا. روزگار کی دوڑ میں شامل نوجوان امیدواروں کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ شخصی "پیکیجنگ" میں ہلکی مسکراہٹ سے لیکر جوتوں کی پالش اور مختلف اعضاء کی جنبش سے لے کر لفظوں کی ادائیگی تک کو انٹرویو میں نوٹ کیا جاتا ہے. عہدوں کی مناسبت سے اپنی "پیکیجنگ" کرنا اچھی  تربیت کا حصّہ ہے.
ترقی کی دوڑ میں اور بھی کئی باتیں ہیں جو انٹرویو،  ذاتی  کوائف  اورکمپنی کے پس منظر سے لیکر عالمی تجارتی مسائل تک 
طویل اور بے شمار موضوعات پر مشتمل ہے اور ان پر پھر کبھی کچھ کہنے کی راقم کوشش  کرے گا.


-
زبیر حسن شیخ

Tuesday, August 30, 2011

تبسم زیر لب-حصہ دوم

1 بشیر بدر فرماتے ہیں: میں لمحہ موجود میں سوچتا ہوں تو فورا میرا ذہن تین سو سال پیجھے اور تین سو سال آگے چلا جاتا ہے۔ ہم نے بشیر بدر کا یہ جملہ استاد لاغر مراد آبادی کو سنایا تو انہوں نے کہا: اس عزیز کو سوچنا نہیں چاہیے۔ سوچنے کے دوران ذہن کا دو حصوں میں تقسیم ہوکر ہجرت کرجانا اچھی بات نہیں، آدمی کا ذہن اس کے پاس رہنا چاہیے۔ (خامہ بگوش)

------

2

کیفی اعظمی ہمیشہ زبانی شاعری سناتے تھے۔ انہوں نے لکھی ہوئی شاعری کبھی نہیں سنائی۔ ایک مرتبہ جب وہ مشاعرہ پڑھنے لگے تو سامعین سے کہا : "میں نے تمام عمر زبانی مشاعرے پڑھے ہیں مگر آج جو کچھ میں نے سنانا ہے وہ لکھ کر لایا ہوں تاکہ آپ لوگ جان لیں کہ میں اَن پڑھ نہیں ہوں بلکہ پڑھا لکھا آدمی ہوں"۔ قتیل شفائی بھی وہاں موجود تھے ، بولے : "حضرات ! کیفی صاحب کے ہاتھ میں جو کاغذ ہے وہ کورا ہے"۔ مجمع تو ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گیا مگر ہنسی تھمتے ہی کیفی صاحب بول اٹھے : "سامعین ! آج معلوم ہوا ہے کہ قتیل بھی اَن پڑھ ہے۔ لکھے ہوئے کو کورا کہہ رہا ہے" !!!

-----

3

پطرس بخاری ریڈیو اسٹیشن کے ڈائریکٹر تھے ایک مرتبہ مولانا ظفر علی خان صاحب کو تقریر کے لئے بلایا تقریر کی ریکارڈنگ کے بعد مولانا پطرس کے دفتر میں آ کر بیٹھ گئے۔ بات شروع کرنے کی غرض سے اچانک مولانا نے پوچھا۔ پطرس یہ تانپورے اور تنبورے میں کیا فرق ہوتا ہے۔ پطرس نے ایک لمحہ سوچا اور پھر بولے۔ مولانا آپ کی عمر کیا ہوگی؟ اس پر مولانا گڑ بڑا گئے اور بولے۔ بھئی یہی کوئی پچھتر سال ہوگی۔ پطرس کہنے لگے۔ مولانا جب آپ نے پچھتر سال یہ فرق جانے بغیر گذار دئے تو دو چار سال اور گزار لیجئے۔ ----

-----

4

دوپہر کے ساڑھے بارہ بجے ہیں ' جون کا مہینہ ہے ' سمن آباد میں ایک ڈاکیہ پسینے میں شرابور بوکھلایا بوکھلایا سا پھر رہا ہے محلے کو لوگ بڑی حیرت سے اس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔۔اصل میں آج اس کی‌ڈیوٹی کا پہلا دن ہے۔۔وہ کچھ دیر ادھر ادھر دیکھتا ہے پھر ایک پرچون والے کی دکان کے پاس سائیکل کھڑی کر کے دکان دار کی طرف بڑھتا ہے 'قاتل سپاہی کا گھر کون سا ہے ' ؟ اس نے آہستہ سے پوچھا۔۔ دکان دار کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔۔اس کی آنکھیں خوف سے ابل پڑیں۔۔ قق قاتل سپاہی۔۔ مم مجھے کیا پتا ؟ اس نے جلدی سے دکان کا شٹر گرا دیا۔۔ ڈاکیہ پھر پریشان ہو گیا۔۔اس نے بہت کوشش کی کہ کسی طریقے سے قاتل سپاہی کا پتا چل جائے لیکن جو کوئی بھی اس کی بات سنتا چپکے سے کھسک جاتا۔۔ڈاکیہ نیا تھا نہ جان نہ پہچان اور اوپر سے قاتل سپاہی کے نام کی رجسٹری آکر وہ کرے تو کیا کرے کہاں سے ڈھونڈھے قاتل سپاہی کو؟؟اس نے پھر نام پڑھا نام اگرچہ انگلش میں تھا لیکن آخر وہ بھی مڈل پاس تھا' تھوڑی بہت انگلش سمجھ سکتا تھا بڑے واضح الفاظ میں۔۔ قاتل سپاہی ' غالب اسٹریٹ ' سمن آباد لکھا ہوا تھا۔۔دو گھنٹے تک گلیوں کی خاک چھاننے کے بعد وہ ہانپنے لگا' پہلے روز ہی اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔۔اب وہ اپنے پوسٹ ماسٹر کو کیا منہ دکھائے گا۔۔اس کا حلق خشک ہو گیا اور پانی کی طلب محسوس ہوئی وہ بے اختیار اٹھا اور گھر کے دروازے پر لگی بیل پر انگلی رکھ دی۔۔اچانک اسے زور دار جٹھکا لگا۔۔جھٹکے کی اصل وجہ یہ نہیں تھی کہ بیل میں کرنٹ تھا بلکہ بیل کے نیچے لگی ہوئی پلیٹ پر انگلش میں ' قاتل سپاہی ' لکھا ہوا تھا۔۔ خوشی کی لہر اس کے اندر دور گئی۔۔اتنی دیر میں دروازہ کھلا اور ایک نوجوان باہر نکلا۔۔ڈاکیے نے جلدی سے رجسٹری اس کے سامنے کر دی۔۔ کیا آپ کا ہی یہ نام ہے ؟ نوجوان نے نام پڑھا اور کہا نہیں یہ میرے دادا ہیں۔۔ ڈاکیے نے جلدی سے پوچھا ۔۔''کیا نام ہے ان کا ؟ نوجوان نے بڑے اطمینان سے کہا '' قتیل شفائی '' Qatil Shiphai -----

----

5

اورئنٹل کالج لاہور میں انور مسعود فارسی کے طالبعلم تھے ان کی کلاس کے پروفیسر وزیر الحسن عابدی نے ایک دفعہ چپڑاسی کو چاک لانے کو کہا ۔ چپڑاسی نے بہت سے چاک جھولی میں ڈالے اور لے کر حاضر ہوگیا۔ اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہتا۔ انور مسعود شرارتی لہجے میں بولے ۔ "سر! دامنِ صد چاک ، اسی کو کہتےہیں۔ "

-----

6

سن 1913 میں پیارے لال شاکر، ایڈیٹر "العصر" لکھنو میں مقیم تھے۔ جب مولانا ارشد تھانوی صاحب وہاں گئے تو انہوں نے پُرتکلف دعوت دی۔ اس میں من جملہ اور اصحاب کے ایک نوعمر صاحب زادی بھی تھیں۔ کھانے کے بعد شعر و شاعری کا آغاز ہوا۔ کسی نے ان کی طرف اشارہ کیا اور کہا "یہ بھی شعر کہتی ہیں"۔ چنانچہ تقاضا ہوا کہ یہ بھی اپنا کلام سنائیں۔ انہوں نے کہا "میں شاعرہ نہیں ہوں' میں تو صرف اپنے ذاتی جذبات کو شعر کا جامہ پہناتی ہوں"۔ کہا گیا کہ آپ وہی سنا دیجیی، چنانچہ انہوں نے ایک نظم سنائی جس کا مفہوم یہ تھا کہ میں اپنی ماں سے بڑی محبت کرتی ہوں اور ان کی خدمت ہی کو اپنا مطمع نظر سمجھتی ہوں۔ اس نظم کا ایک مصرعہ تھا: "قدموں سے جدا تم مجھے لِلّٰہ نہ کرنا" ارشد صاحب فوراً بولے: "میں کہتی ہوں اماں مرا تم بیاہ نہ کرنا

خیر اندیش

راشد اشرف

کراچی سے

Wednesday, June 15, 2011

ترجمانِ اردو کا دو روزہ تعلیمی رہنمائی پروگرام کامیابی سے ہمکنار(by E-Mail)

مالیگاؤں، پریس ریلیز
ادارہ ترجمان اردو، آئی ڈی بی آئی، مالیگاؤں پی ٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن اور انجمن ترقی تعلیم ATT کے اشتراک سے اے ٹی ٹی ہائی اسکول کے گراؤنڈ پر دو روزہ تعلیمی رہنمائی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ یکم جون کو دو سیشن ہوئے۔ پہلے سیشن میں پروگرام کے صدر اور انجمن ترقی تعلیم کے چیئرمن رئیس احمد سیٹھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسی رہنمائی پروگرام کی خاصیت یہ ہے کہ سرپرست و طلباء براہ راست مختلف تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے مستفیض ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام مزید ہونے چاہیں۔ جمیل احمد کرانتی نے کہا کہ آج مسابقتی دور ہے۔ اور ایسے میں پروفیشنل کورسیس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ جن کی مالی حالت کمزور ہے وہ مختصر معیاری ( شارٹ ٹرم) کورسیس کے ذریعے روزگار کے شعبہ میں مضبوط قدم جماسکتے ہیں۔ پروفیسر عبدالمجید صدیقی نے CCIکی کارکردگی حکومت کی پالیسی کے نقطہ نظر سے پیش کی اور طلبہ میں ایک حوصلہ پیدا کیا۔ دوسرے سیشن میں ماہر توانائی حاجی فیاض احمدنے انجینئرنگ کے مختلف شعبہ جات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اپنے اندر چاہت پیدا کریں جتنی چاہت بڑھے گی اتنا ہی آپ دلجمعی کے ساتھ کورس مکمل کریں گے۔ کسی بھی شعبہ میں جس قدر مہارت حاصل ہوگی۔ اسی اعتبار سے عہدوں میں ترقی ہوتی جائے گی۔ حاجی فیاض نے کہا کہ انہوں نے میکانیکل انجینئرنگ (BE) کے بعد ۳؍ ہزار روپئے تنخواہ سے ملازمت شروع کی اور میری کارکردگی کے پیش نظر ۲؍ مہینے کے بعد مجھے سپر وائزر بنادیا گیا۔ اسکے بعد چائنا کمپنی کے ایک پروجیکٹ (پائپ لائن کے وال کا ڈیزائن) پر کام کیا جسے کمپنی نے پسند کیا اس طرح مجھے اسسٹنٹ منیجر کے عہدہ پر ترقی دی گئی۔اس لئے طلبہ اپنے کام لگن کے ساتھ کرتے رہیں یقیناًمحنت کا پھل ملے گا۔ انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر اکاؤنٹنٹ ناسک کے لیکچرار سچن لونارے نے کمپیوٹر کی تعلیم سے متعلق مفصل معلومات فراہم کی۔ اسی طرح انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائننگ اینڈ انٹریئر ڈیزائننگ کے لیکچرار سہاس منڈے سر نے دونوں اہم شعبہ سے متعلق معلومات فراہم کی۔ مبشر انصاری ( ممبئی) نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تعلق سے کہا کہ آج کے دور میں IT کی مانگ ہے انہوں نے اس شعبہ کے جزویات پر سیر حاصل گفتگو کی کورس کہاں سے کیا جائے اس پر بھی تبصرہ کیا۔ دھولیہ کالج آف فائر انجینئرنگ کالج کے لیکچرار سنیل ایس چودھری نے فائراینڈ سیفٹی مینجمنٹ سے متعلق تفصیل پیش کی اور روزگار کے مواقع کہاں کہاں ہیں۔ اس پر تبصرہ کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ سٹانہ، منماڑ اور ایولہ میونسپل کونسلوں نے اپنے اپنے فائر اسٹیشن عملہ کو ٹیکنک اور تربیت سے آشنا کرنے کیلئے اپنے خرچ سے فائر انجینئرنگ کالج میں داخلہ دلواکر سنددلوائی۔ ارینا اینی میشن ڈپارٹمنٹ کے جوگیش شیلار سر نے اینی میشن کی افادیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مختلف فلموں کے مخصوص مناظر کو بطور مثال پیش کرکے طلبہ میں دلچسپی پیدا کردی۔ پہلے سیشن میں انصاری مرتضیٰ سر نے جب کہ دوسرے سیشن میں کے ایف انصاری نے نظامت کے فرائض بخوبی انجام دیئے۔ حاجی سلطان احمد، عبدالغفور سیٹھ کلون فارمیسی کے پرنسپل اویش مارو اور ڈاکٹر شکیل احمد صدر شعبہ اردو سیواسدن کالج برہانپور جیسی اہم شخصیات مہمان خاص کے طور پر مدعو تھے۔ اس پروگرام کے مقصد کے پیش نظر صرف اور صرف لیکچررس کو ہی تاثرات پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ مصطفی آفندی سر، عبدالستار سر، نعیم صدیقی سر، انصاری لئیق احمد (ریٹائرڈ ٹیچر مالیگاؤں ہائی اسکول ) قریشی حیدر ڈاکٹر مشاہد حسین رضوی، سابق کونسلر مختار یوسف سر، محمد صادق سر ( سبکدوش صدر مدرس ) عبدالحلیم صدیقی، ڈاکٹر عارف انجم، حاجی شاہد انجم، احتشام انصاری، خالد سرحدی، اور ادارہ ترجمان سے وابستہ اراکین پروگرام میں حاضر تھے۔آج معلنہ طور پر ایجوکیشن ایکسپو پروگرام کا دوسرا اور آخری روز رہا ، جس کا آغاز صبح 9.30 بجے ہوا ۔جس میں اے ٹی ٹی ہائی اسکول بلڈنگ کے کمروں میں مختلف انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے طلبہ کی رہنمائی کی اور طلبہ میں پمفلٹ اور چارٹوں کی تقسیم کی ۔ اس ضمن میں طالبات میں کافی جوش و خروش دیکھا گیا ۔شہر کے ایم ایل اے مفتی اسماعیل اور آصف شیخ نے تعلیمی رہنمائی نمائش کا معائنہ کیا اور اپنے تاثرات میں خوش آئند اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں یہ سلسلہ برقرار رکھنا چاہئے ، مزید فرمایا کہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق عملی طور پر مختلف اداروں کے ماہرین کے ذریعے طلباء کی رہنمائی ضروری ہے ، ادارہ ترجمان اُردو کے اسٹاف نے بہترین انداز میں اس کااہتمام کیا، نمائش کیلئے چارٹ اور کورس کی معلومات کی بنیاد پر اُردو میں چارٹ بتانے کی رضا مندی مفتی اسماعیل نے دی ، جبکہ آصف شیخ نے مالیگاؤں شہر کے طلباء کیلئے ہر ہر قدم پر ایسے پروگراموں کی حوصلہ افزائی کیلئے اقدام کرنے کا عندیہ ظاہر کیا۔
فوٹو کیپشن: اے ٹی ٹی گراؤنڈ پر منعقدہ دو روزہ تعلیمی رہنمائی پروگرام کا ایک منظر

لیگاؤں اردو اکیڈمی کے زیر اہتمام لائبریری اور ریسرچ سینٹر کے قیام کی سرگرمیاں شروع(by E-Mail)

مالیگاؤں ، ۹؍ جون ، پریس ریلیز
ڈاکٹر منظور حسن ایوبی (چئیرمن سٹی زن کیمپس ) کی چئیرمن شپ میں قائم شدہ ’’مالیگاؤں اردو اکیڈمی کا اولین مقصد‘‘مہاراشٹر میں اردو کیلئے ٹھوس اقدامات اورپائیدار کام کرنا ہے اسی مقصد کے تحت مالیگاؤں اردو اکیڈمی نے ایک شاندار لائبریری اور ریسرچ سینٹر کے قیام کا منصوبہ تیار کیا ہے ۔ جس کی ابتدائی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں ۔ ریسرچ سینٹر کیلئے پونہ یونیورسٹی میں عریضہ بھی کیا جا چکا ہے ۔ ریسرچ سینٹر کے ہمراہ لازماً لائبریری کا ہونا بھی ضروری ہے ۔
اسی مقصد کے تحت مہاراشٹر کے ساتھ ہی ہندوستان کے تمام ادباء و شعراء نقادانِ فن اور دیگر تمام اضاف میں لکھنے والوں سے گذارش ہے کہ اپنی شائع شدہ کتابوں کی ایک ایک جلد مالیگاؤں اردو اکیڈمی کو روانہ کریں۔ آپ کی کتابیں یقیناًریسرچ سینٹر کے طلبا کیلئے کار آمد ثابت ہوں گی ۔ کتابیں اس پتہ پر روانہ کریں ۔
الحاج ڈاکٹر منظور حسن ایوبی (چئیرمن مالیگاؤں اردو اکیڈمی)
سٹی زن کیمپس ، اسلام نگر گرو واروارڈ
مالیگاؤں 423203ضلع ناسک ( ایم ایس)
***

اسکس ہال میں لوک سنگھرش سمیتی کے زیراہتمام تقریب میں(by E-Mail)

مشتاق احمدمشتاقؔ کی معریٰ نظموں کاالبم’پرچھائیں کی آہٹ‘منظرعام پر
مالیگاؤں:پاورلوم شہرکے معروف ترقی پسنداقدارشاعراورمرحوم عبدالسلام اظہرؔ کی جھلک پیش کرنے والے نوجوان کہنہ مشق ہردلعزیزانکسارپسند مشتاق احمدمشتاقؔ کی آزادنظموں کاالبم(سی ڈی)۲۷؍مئی کی شب میں اہل علم ودانش کی موجودگی میں منظر عام پرآیاصدارت شیخ فیروزدلاورنے کی جبکہ رسم اجراء محمدرضوان (بیٹری والا)کے ہاتھوں عمل میں آئی اس موقع پراہم شخصیات میں عتیق احمدکمال،سلیمؔ عبدالرؤف،سلمان ضیاءؔ ،ڈاکٹرانیس بوستانیؔ ،حافظ انیس اظہرؔ ،رئیس قاسمیؔ ،آزادانورؔ ،عبداللہ ہلالؔ مالیگ، فرحان دلؔ ،مجتبیٰ حیدری ذکی،ؔ سہیل انجمؔ ،عامرؔ عبدالقدوس،متین شہزادؔ وغیرہ نے اپنے کلام بلاغت نظام سے ادب نوازوشعرفہم سامعین کو رات دیرگئے تک محظوظ کرتے رہے۔
تقریب اجراء کے بعدتاثرات پیش کرتے ہوئے مختارعدیل(صحافی) نے کہا کہ ’’اُردوزبان وادب کوجدیدیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے زبان وادب کے استحکام کی راہیں آسان کرسکتے ہیں برقیاتی ترقیات کے اِس زمانے میں سیکنڈبھرمیں اُردوکے مشہوراکابرشعراء کی تخلیقات انٹرنیٹ سے میسرآجاتی ہیں اُردوصحافت برقیاتی ترقیات کے سہارے دنیاجہاں میں اپنے قارئین کاحلقہ وسیع کررہی ہے تومشتاق احمدمشتاقؔ نے مجموعہ شائع کرنے کی بجائے البم (سی ڈی)پیش کیاہے توکوئی غلط نہیں کیاہے بلکہ بلاتفریق مذہب زبان کومقبول بنانے کی روایت کوآگے بڑھایاہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ مشتاق احمدمشتاقؔ اس وقت حوصلہ افزائی کاصحیح معنوں میں حقدارہے کیونکہ فنکارتوبہت ہوتے ہیں لیکن حقیقی فنکاروں کوپہچاننے میں زمانے کی آنکھیں اکثردھوکہ کھاجاتی ہیں۔مشتاق احمدمشتاقؔ کی شعرگوئی پراہل کمال ہی نہیں بزرگ شعراء بھی سردھنتے ہیں تخلیق کارعمرسے نہیں تخلیقات سے پہچاناجاتاہے۔ اس موقع پرمقررنے کئی تمثیلات سے واضح کیاکہ اُردوگیتوں،غزلوں،نظموں کوالبم کے کتنی مقبولیت ملی ہے۔
طویل خطاب میں ہاشمی لئیق احمد(استاد شاعر)نے کہا کہ ’’مشتاق احمدمشتاقؔ ایک خودداراورخلاق فنکارہے جس کے شعری سفرکی وسعت طویل اوربلندترین ہے اس شاعر کی ادبی شخصیت میں مرحوم عبدالسلام اظہرؔ کی جھلک نظرآتی ہے ۔مشتاق احمدمشتاق کاپہلاشعری دیوان ’لہوکی روشنی‘دس سال پہلے منظرعام پر آیاتھااب اُن کی آزادنظمیں بیک گراؤنڈموسیقی کے ساتھ پرچھائیں کی آہٹ عنوان سے باذوق سامعین وادب نوازوں کے سامنے پیش کی گئی۔‘‘لئیق ہاشمی نے مزید کہاکہ مشتاق ؔ نے حالات سے حوصلہ منداندازمیں مقابلہ کیاہے غربت تنگ دستی خطرناک بیماریوں سے جنگ کرکے یہ شاعر اُردوشعروادب کی خدمت میں شب وروزمہمک ہے۔

Friday, May 06, 2011

E-mail from Khan Nawed ul haq : دھو ٗپ کا سایہ:پرویزؔ باغی

This mail was in INPAGE and converted by www.lantrani.com
کتاب ’’دھوپ کا سایہ ‘‘ پرویز ؔ باغی صاحب کا دوسرا شعری مجموعہ ہے ،جس میں غزلوں کا انتخاب نہایت سلیقے سے کیا گیا ہے۔ بقول خودشاعراس مجموعہ کی اشاعت جناب فاروق سیّد مدیر ’’گل بو ٗٹے‘‘ کی مساعیِ جمیلہ کا نتیجہ ہے۔ یہ شعری مجموعہ ایسے وقت میں منظر عام پر آیا ہے جب نئی نسل اپنے شعروادب کی تاریخ سے بڑی حد تک نابلد ہوتی جارہی ہے۔ اس سے قبل پرویزؔ صاحب کا ایک شعری مجموعہ ’’لمحے لمحے کا کرب‘‘ کے عنوان سے چوبیس سال قبل جناب ساحر شیوؔ ی کی کوششوں سے ’کوکن رائٹرز گلڈ‘ کے زیر اہتمام منظر عام پر آچکا ہے۔پرویزؔ باغی بڑے کم گو شاعر ہیں ۔’’ شاعری خیال آرائی کے بجائے جذبات و تجربات کی گہرائی سے پھوٹتی ہے۔ قوس قزح کے رنگ خواہ کتنے ہی خوب صورت اور دلکش ہوں ، وہ بہرحال لمحاتی زندگی لے کر آتے ہیں۔اس کے برعکس جو گہر سمندرکی گہرائی سے برآمدکیا جاتا ہے اس کی تابناکی میں کبھی کمی نہیں آتی‘‘۔پرویز ؔ باغی صاحب ہمیشہ واردات قلبی یعنی آپ بیتی، جگ بیتی اور ذاتی تجربات ومشاہدات کو بنیاد بنا کر ہی شعر کہتے ہیں بلکہ ’’ہر عبارت اور حکایت لہو سے لکھتے ‘‘ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قارئین کو اُن کے دوسرے مجموعہ کے لیے چوبیس برسوں پر محیط ایک طویل عرصہ تک انتظار کرنا پڑا۔
پرویزؔ صاحب کوکن کی سنگلاخ زمین اور مراٹھی زبان کے ماحول میں رہ کر بھی اپنی کاوشوں سے اُردوٗ شاعری کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔وہ تقریباً چالیس برسوں سے غزل کی زلفیں سنوارنے میں مصروف ہیں اور سوجھ بوجھ کے ساتھ فنّی نزاکتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے درست شعر کہنے کی روایت کی پاسداری کررہے ہیں۔ان کی عمر کے مدّ نظران کے کلام کا ذخیرہ کافی محدودہے۔ جب کہ آج شعراء حضرات قلیل مدّت میں آٹھ دس مجموعوں کے خالق اور کچھ صرف مالک بن جاتے ہیں۔مگر پرویزؔ صاحب نے اپنی طویل ادبی عمر میں ’حاصل مرے شعروں کا مِری کم سخنی ہے ‘ کے مصداق صرف دو مختصرشعری مجموعے ہی دیے ہیں۔
دھوپ دکھوں اور پریشانیوں کا استعارہ ہے جبکہ سایہ سُکھ اور راحتوں کی علامت۔برگدکا درخت گھنا سایہ دیتا ہے لیکن پرویزؔ صاحب طویل مدت سے دُکھوں کی جھُلساتی ہوئی دھو ٗپ برداشت کرتے آئے ہیں اور اپنوں کی بے رُخی کے سبب راحتوں کو نہ پاکر انھوں نے دُکھوں سے سمجھوتا کرلیا ہے۔اسی لیے اُن کے یہاں اس قسم کا اظہار ملتا ہے کہ
جب ہمیں برگدوں نے جھُلسایا
دھوپ سے مانگنا پڑا سایا
آج مسلم معاشرہ جس طرح چھوٹے چھوٹے طبقات اور مذہبی و جغرافیائی گروہوں میں بٹ کر اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بنا کراپنے آپ کو تفرقوں میں تقسیم کررہا ہے،اس جانب پرویزؔ صاحب نے بڑی خوبصورتی سے طنز کیا ہے ۔ ان اشعار میں دَورِ غلامی کے خاتمے کا اعلان بھی ہے اور امت مسلمہ کی اپنے رب سے نافرمانی کا گلہ بھی ۔ساتھ ہی قوم میں قائدانہ صلاحیت کے فقدان کا درد بھی۔دیکھیے
کوئی آقا کوئی غلام نہیں
آج ایسا کوئی نظام نہیں
اپنے اپنے گروہ کے قائد سب
کوئی بھی قوم کا امام نہیں
دَورِ حاضر میں منافقت عام ہے۔رشتوں کا تقدس مجروح ہوچکا ہے ۔جرأت، بے باکی اور حق گوئی ناپید ہوتی جارہی ہے۔ پرویزؔ باغی ایک حسّاس شاعر کی حیثیت سے ان باتوں پر بیزاری اور لوگوں کے قول و عمل کے تضاد پر برہمی کا اظہار اس طرح کرتے ہیں۔
اب میرے شہر میں کوئی سچ بولتا نہیں
شاید سبھی کے سامنے میری مثال ہے
اس شخص سے امیدِ رفاقت کیسی
جو خون کے رشتوں سے مُکر جاتا ہے
پرویزؔ صاحب اپنے اسلاف کی اقدار کے پاسبان ہیں۔ ان کے یہاں تہذیبی قدروں اور اقدارکی عظمتوں کے حوالے جا بہ جا دکھائی دیتے ہیں۔ وہ حالاتِ حاضرہ میں اقدار کی پامالی پر دل گرفتہ ہو کر عہدِ رفتہ کو یاد کرکے خون کے آنسو بہاتے ہیں اسی لیے اقدار کے پائمال ہونے کا نوحہ بھی ان کے اشعار میں جھلکتا ہے۔
قدروں کی پائمالی کے صدمے نہ سہہ سکے
کچھ وضع دار وقت سے پہلے ہی مَر گئے
یاد آتا ہے پرویزؔ جو عہدِ رفتہ
خنجر سا میرے دل میں اُتر جاتا ہے
کوئی بھی خوش نہیں ہے نئے دَور سے یہاں
سب چاہتے ہیں پچھلا زمانہ اُتار دے
سارے عالم میں فسادات ، دنگوں اور نفرتوں کا دَور دَورہ ہے، انسان حیوانیت کابرہنہ رقص کرتا پھر رہا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ بجا ہوگا کہ انسان وحشی جانوروں سے زیادہ وحشی پن کا مظاہرہ کرتا نظر آرہا ہے۔ اس نے حیوانوں کو بھی مات دے دی ہے۔درد مند دل رکھنے والے پرویزؔ صاحب اسے یوں بیان کرتے ہیں۔
حیوانوں کی خوں خواری کا کیا شکوہ
انسانوں کی خوں خواری دُکھ دیتی ہے
شاعر اگر حسّاس اور باشعور ہوتو اسے بہت سے پیش آئندہ حادثات و خطرات کی آگہی مل جاتی ہے۔ بہت سے اشعار ان کے اسی اِدراک اور وجدان کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں۔
پتہ نہیں یہ کتنے دن جی پائے
نئی صدی تو برسوں کی بیمار لگے

نہ جانے ٹوٹے گا کب قہر ، وقت کا یارو
جبینِ وقت پہ اب تک تو بَل نہیں کوئی
اور یہی احساس و شعور کبھی کبھی مستقبل کا آئینہ بن جاتا ہے۔
آج گر بُزدلی دکھائے گا
پھر کبھی سر اُٹھا نہ پائے گا
ہوائیں ہر طرف اعلان کرتی پھررہی ہیں
سمندر سے بچو لوگو ، بپھرنا چاہتا ہے
پرویز ؔ باغی صاحب کے لہجہ سے بغاوت کی چنگاریاں بھی پھوٹتی نظر آتی ہیں۔اگران کے شعر کو صرف اور صرف ان کی ذات تک محدود کرکے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ وہ اپنا ایک الگ منفرد مقام بنانے کے چکر میں روایت سے بھی بغاوت کرنا چاہتے ہیں۔
بھیڑ کے ساتھ چلتا نہیں مَیں کبھی
اپنی عادت بدلتا نہیں مَیں کبھی
گلوبلائزیشن کے دَور میں دُنیا سمٹ کر مُٹھی میں آچکی ہے۔ دیکھیے کس طرح اس خیال کو پیش کیا ہے۔ ساتھ ہی جنگ کی تباہ کاری سے عالم انسانیت کو پیش آنے والے نفسیاتی ضرر کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔
چھِڑی ہے جنگ کوسوں دوٗر لیکن
یہاں کے لوگ بھی سہمے ہوئے ہیں
مرد بحیثیت باپ،بیٹا ،شوہر ، بھائی وغیرہ رشتوں کی بناء پر اپنے اقرباء کے لیے زندگی بھر تگ و دو کرتا رہتا ہے۔ اسے اوروں کی فکر اپنی ذات کے لیے سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتی۔دیکھیے کس خوبی سے اس کا اظہار کیا ہے۔
زندگی کٹ گئی اوروں کے لیے
کم ہی آیا مِرے حصّے میں مَیں
عمر بھر اسی بات کا رونا رہا
رونے کی فرصت بہت کم دی مجھے
آج کے شعراء اور ادباء نقادوں کے بل بو ٗتے پر بلندیاں چھو ٗنے کی کوشش کرتے ہیں اور ادب میں مقام حاصل کرتے ہیں۔ یہاں بھی پرویزؔ باغی صاحب کی انانیت اور ان کا باغیانہ لہجہ اپنا اثر دکھاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ
اپنے بل پر بلندی کو چھوٗلیں گے ہم
کیا ضرورت ہے کوئی اُچھالے ہمیں
اِکّا دُکّا ہیں سخن ور وہ بھی چُپ
اب کہاں شورِ ادب ہے شہر میں
اپنی ناقدری و محرومی کا کرب درج ذیل اشعار میں بخوبی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اسباب زندگی کی نامنصفانہ تقسیم اور بے ہنر لوگوں کی قدردانی اور ہنر مندوں کی ناقدری پر کڑھتے ہوئے فرماتے ہیں۔
ہم سے قد میں وہ چھوٹے ہیں پرویزؔ
لوگ دیتے ہیں جن کے حوالے ہمیں
یا
کبھی کبھار یہ بادل بھی ظلم ڈھاتے ہیں
ادھر نہ برسے برسنا جدھر ضروری تھا
کتاب کے آخر میں نو اہم قطعات بھی شامل ہیں جو مختلف موضوعات پر مشتمل ہیں۔جن میں سے دوسرا قطعہ حضور اکرم ﷺکی محبت سے سرشاری ،قلبی و روحانی خلوص اور جوش و جذبہ کا پتہ دیتا ہے ۔یہاں بطور نمونہ وہ قطعہ پیش ہے جس میں پرویزؔ باغی کی عقیدت کا والہانہ انداز ملتا ہے۔
کسی منصب کی تمنّا نہ کروں
کوئی دولت نہ خزینہ مانگوں
میں نے سوچا ہے یہی اے پرویزؔ
اپنے خالق سے مدینہ مانگوں
’’دھوپ کا سایہ‘‘ ایک سو بارہ صفحات پر مشتمل ہے جس میں تین عنوان قائم کیے گئے ہیں اور ان عنوانات کے تحت غزلیں، قطعات اور اشعار درج ہیں۔پہلے عنوان کے تحت پچھہتّر غزلیں،دوسرے عنوان کے تحت نو قطعات اور تیسرے عنوان کے تحت باون اشعار شامل ہیں۔مجموعی طور پر کتاب بہت اچھی ہے۔ اس کی اشاعت سے اردو ادب میں یقیناً اضافہ ہوگا۔ کتاب میں کمپوزنگ کی غلطیاں قابل درگزر ہیں۔ گل بوٹے پبلی کیشنز نے اپنی روایتی نیک نامی کو برقرار رکھتے ہوئے صاف سُتھری طباعت نیز خوبصورت گردپوش کے ساتھ اس کو صوری و نظری اعتبار سے دیدہ زیب بنا دیا ہے۔امید ہے کہ پرویزؔ باغی کے اس شعری مجموعہ کی عوام و خواص میں خوب پذیرائی ہوگی اور اہل ذوق اسے خرید کر پڑھیں گے۔
خان نویدالحق انعام الحق
اسپیشل آفیسر فار اردو
مہاراشٹر راجیہ پاٹھیہ پستک نرمتی و ابھیاس کرم سنشودھن منڈل،
بال بھارتی، سینا پتی باپٹ روڈ، پونہ۔ ۰۰۴ ۴۱۱
موبائل : 9970782076
ای میل: khan18664@gmail.com

Friday, February 04, 2011

E-mail from Aslam Ghaziادب اور اخلاقی اقدار

بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم

ترجمہ: اور شعرا، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں اور وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، جنہوں نے نیک اعمال کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا۔
عَن اُبَّیِ بِن کَعْبٍؓ قَالَ قَا لَ رَسُولُ اللّٰہِ ؐ اِنَّ مِنَ الشِعْرِ حِکْمَۃً (بخاری مسلم۔ کتاب نبوت 3/342) ابی بن کعبؓ نے کہا رسولُ اللہؐ نے فرمایا بے شک بعض اشعار سراس
ر حکمت ہوتے ہیں۔
قرآن انسانی زندگی کے جملہ انفرادی و اجتماعی امور کے لیے ہدایت و رہنمائی ہے۔ ( ہُدًی لِّلنّاسِ۔ البقرہ : 185) اس کی ہدایت آفاقی ہے۔ یعنی یہ ہر زمانے، ہر خطے اور رنگ و نسل کے انسانی سماج کے لیے ہے۔ نیز یہ ہر سماجی سطح کے انسانوں کے لیے ہے۔ چنانچہ اس میں ادیبوں اور شاعروں کی زندگیوں اور ان کی تخلیقات دونوں کے لیے ہر طرح کی رہنمائی موجود ہے۔ قرآن صراط مستقیم یعنی اسلام کی طرف انسانوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ (اِہْدِنَا الصِّراطَ المستقیم ۔ الفاتحہ: 6) یعنی شاعر و ادیب خود بھی مسلمان بنیں اور ان کی تخلیقات بھی مسلمان ہوں۔ تخلیقات کے مسلمان بننے کا مطلب ہے کہ وہ بہترین احساسات و خیالات سے مُزیَّن اور برائیوں سے پاک ادب ہو۔ بقول مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ ''اس میں پاکیزہ جذبات و خیالات کا اظہار ہو۔ جو حقائق بیان کرے۔ جو انسان کو برائیوں کی طرف لے جانے والا نہ ہو۔ جو بھلائی کو نگاہ سے اوجھل نہ کرے۔ ''
قرآن سے اہل علم و ادب کو حسب ذیل اخلاقی رہنمائیاں ملتی ہیں:
قرآن کا آغاز اللہ کے نام اور اس کی حمد و ثنا سے ہوتا ہے۔ (بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم o اَلحَمدُلِلّٰہِ رِبِّ العَالَمِین۔ الفاتحہ:1۔2) اس کے ہر باب کا آغاز بھی بسم اللہ سے ہی ہوتا ہے نیز اس کا ہر صفحہ اللہ کی پاکی اور بڑائی کے بیان سے مزین ہے۔ اس میں ہمارے لیے یہ رہنمائی ہے کہ ہم بھی اپنی نثرو نظم کا آغاز ہمیشہ خدا کے نام سے کیا کریں اور دونوں اصناف میں خدا کی حمد و ثنا، اس کی پاکی و بزرگی اور اس کی قدرتوں کا بیان ہو۔ شعراء کے لیے تو ضروری ہے کہ وہ حمد و مناجات کہا کریں۔ نثر نگاروں کا حال تو اور بھی برا ہے کہ وہ اللہ کی بخشی ہوئی نثرنگاری کی صلاحیت اور دیگر نعمتوں سے فیضیاب ہوتے ہیں مگر خدا کی حمد و ثناء میں چند جملے یا ایک آدھ مضمون بھی کبھی نہیں لکھتے۔ اللہ ہم سب کو توفیق دے۔

Friday, October 08, 2010

By E-mail to Lantrani

By E-mail to Lantrani

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP