You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label satire. Show all posts
Showing posts with label satire. Show all posts

Monday, January 09, 2012

اُف ! یہ ہمارے ڈاکٹرس


ڈاکٹر ! یہ لفظ سنتے ہی ہمارے ذہن میں ایک نہایت متفق باوقار انسان ابھرتا ہے جس کے پاس ہماری تمام بیماریوں کا علاج موجود ہے۔ ہر دور میں ڈاکٹر کو مسیحا کا درجہ عطا رہا ہے۔ بعض لوگ تو انہیں بھگوان کا درجہ دے دیتے ہیں۔ ہندی فلموں کے اکثر ڈائیلاگ تو آپ نے سنے ہی ہوں گے کہ ڈاکٹر صاحب آپ تو بھگوان ہیں یا بھگوان کے بعد آپ ہی میرا سہارا ہے۔ مگر افسوس زمانے کے ساتھ ساتھ یہ باتیں بھی پرانی ہوگئی ہیں۔ اب ڈاکٹرز وہ ڈاکٹرز نہ رہے۔ بلکہ آج کل کے ڈاکٹر تو قصائیوں کو بھی مات دیتے نظر آتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قصائی جانور کے گلے پہ چھری پھیرتا ہے اور ڈاکٹر انسان کی جیب پر۔ بھئی آج کل ڈاکٹری کا پیشہ بطور مسیحائی نہیں بلکہ پیسے کمانے کے لیے اپنایا جارہاہے۔ کئی لوگوں کو تو یہ کہتنے بھی سنا گیا ہے کہ چار پانچ لاکھ پڑھائی پر لگاؤ کوئی فکر نہیں کچھ دنوں میں مع سود واپس مل جائیں گے۔ وہ ڈاکٹر بنتے یا اپنے بچوں کو بناتے ہی اس لیے ہیں کہ انہیں کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہوتا ہے۔
آپ کسی بھی نامور ہاسپٹل میں چلے جائیں۔ مریض کتنا بھی سیریس ہو کاؤنٹر پر پیشگی روپے جمع کرائے بغیر مریض کا علاج نہیں شروع ہوگا۔ اس کے بعد دواؤں کی لمبی فہرست تھمادی جائے گی جس میں مہنگے سے مہنگے انجکشن اور دوائیں شامل ہوں گی اور اس پر مرے ہرسودرے کہ آپ کو اپنے مریض کے پاس ٹھہرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی خاص کر آئی. سی. یو. واڑڈ میں ۔ جہاں اکثر مریض بوڑھے ہتے ہیں۔
ذرا تصور کیجیے بیچارہ بوڑھا مریض اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہا ہے اسے دواؤں سے زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے اسے ایسے وقت میں اکیلا کردینا کتنا بڑا ظلم ہے۔ جب اس کے پاس کوئی رشتہ دار نہ ہو تو اس کا دل اپنوں کو دیکھنے کیسے تڑپتا ہوگا بیچارہ آخری وقت میں کچھ کہنا بھی چاہتا ہوں گا تو کہہ نہیں پاتا ہے اور اسی طرح انتقال کرجاتا ہے۔
بھئی آپ لوگ پورے گھر والوں کو نہ سہی مگر ایک قریبی رشتہ دار مثلاً بیٹا یا بیٹی کو تو رہنے دیجیے اور تو اور اگر مریض انتقال کرجائے تو ہاسپٹل کا بل ادا کرنے تک آپ میت بھی نہیں لے جاسکتے بھلے آپ پیسے کہیں سے بھی کیسے بھی لایئے۔
اگر آپ کو معمولی سردی زکام محسوس ہورہا ہو تو گھبرائیے مت فوراً سے پیشتر ڈاکٹر کے پاس جایئے وہ آپ کے مرض کو اتنا سنگین و مہلک مرض میں مبتلا کردے گا کہ آپ خود کو چند دنوں کا مہمان سمجھنے لگیں گے۔ دسیوں قسم کے ٹیسٹ اور ایکسرے کروائے جائیں گے اور پتہ چلے گا کہ یہ سب ٹیسٹ اور ایکسرے وغیرہ ڈاکٹر ک بیوی کے کلینک میں ہوتے ہیں۔ آخر میں آپ کو چند اینٹی بایوٹک دوائیں دے کر رخصت کردیا جائے گا۔ آہ!
برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی ہے
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا
ہر ایک اتوارے میرا مطلب ہے ایک ڈاکٹر کلینک کھول کر بیٹھا ہے جس کے بورڈ میں ڈاکٹر کا نام مع لمبی چوڑی ڈگریوں کے درج ہے جن کاعام آدمی کوعلم بھی نہیں۔ جو کہ اکثر نقلی بھی نکلتے ہیں اور ایسے لوگوں کی وجہ سے کتنی ہی زندگیاں برباد ہوجاتی ہیں مگر یہ کاروبار پھلتا پھولتا جاتا ہے اور کسی کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی۔
ہمارے پڑوسی عزیز میاں کل پیدل جارہے تھے۔ ہم نے کار کے بارے میں دریافت کیا تو کہنے لگے بیچ دی۔ ہم نے مذاقاً کہا کہ ’’کیوں ڈاکٹر کا مشورہ تھا پیدل چلنا؟‘‘ تو انہوں نے جواب دیا ’’جی نہیں ڈاکٹر کا بل ادا کرنے میں بیچ دی۔‘‘ یہ بات کہہ کر چلتے بنے ، او رہم ہکا بکا وہیں کھڑے رہ گئے۔
کتنے ہی قصے ہیں جو بیان کیے جائیں تو صفحات کے صفحات سیاہ ہوجائیں گے مگر ان ڈاکٹرس کے کرتوت پوری طرح عیاں نہیں ہوپائیں گے۔
ایسی بات نہیں ہے کہ اب دنیا میں اچھے ڈاکٹر نہیں بچے۔ نہیں بھئی اتنا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں اب بھی دنیا میں ایسے ڈاکٹر ہیں جو غریبوں کا علاج مفت کرتے ہیں۔ مریض کو دیکھنے، آدھی رات کو جانے سے بھی نہیں ہچکچاتے ہیں۔ کئی ڈاکٹروں کی تو صرف مسکراہٹ سے ہی مریض آدھا اچھا ہوجاتا ہے۔ مگر افسوس ایسے ڈاکٹروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اللہ رب العالمین سے دُعا ہے کہ وہ تمام ڈاکٹروں کے دل میں مسیحائی کا جذبہ پیدا کردے (آمین)۔
آچھ چھیں! ارے یہ کیا کہیں مجھے بھی تو سردی زکام نہیں ہوگا۔ لو! ڈاکٹروں کی اتنی برائی کرنے کے باوجود مجھے انہی کے پاس جانا پڑے گا کیا کریں زندگی اسی کا نام ہے۔


صادقہ طارق انصاری
رمضانی بلڈنگ، دوسرا مالا، روم نمبر29،
ہنس روڈ، بائیکلہ (ویسٹ)، ممبئی۔موبائل 09892728425..

Saturday, May 28, 2011

چند اشعار برائے تنقید

اک نظر کرم تیری ادھر کب تلک ہوگی


گھنگور اندھیرا ہے سحر کب تلک ہوگی



ہر سمت ہیں طوفان حوادث ہمیں گھیرے


اس تلخ حقیقت سے مفر کب تلک ہوگی


اس شور قیامت میں حقیقت کا بتانا



بازی ہے کڑی ہم سے یہ سر کب تلک ہوگی



جاتی ہے صدا عرش تلک سنتے ہیں مرزا


مظلوم کی آہوں کی خبر کب تلک ہوگی

سوچتا ہوں كہ ميں بهي ليڈر بن جاؤں

ان دنوں مختلف اخبارات اور مجلات ميں سياسى اور سماجي تنظيموں اور رہنماؤں کے تعلق سےو نیز آئے دن لوگوں کے لیڈر بننے کے لئے نت نئے بیانات اور ان کے قوم کی خدمت کرنے کے لئے بلند و بانگ دعوے پڑهكر ميں بہت متاثر ہورها ہوں اور مجهے شدت سے اس بات كا احساس ہورها ہے اور بہت كوفت اور افسوس بهي ہورها ہے كہ ميں نے اب تک اپنى زندگى بيكار ميں گزاردى اس لئے کہ وہ زندگى زندگى كيا جو قوم كي خدمت كرتے هوئے نہ گزارى جائے - يہ بات مجهے بہت بے چين كي هوئى ہے اور ميں راتوں ميں بستر پر كروٹيں بدلتے، ٹهنڈى ٹهنڈى آہيں بهرتے اور بيگم كے خراٹے سنتے يہى سوچتا رہتا هوں كہ اب قوم كى خدمت كرنے کے لئے مجهے بهى ليڈر بن جانا چاهئے.


ويسے بهى پرديس ميں ايک عرصہ گزاردينے كے بعد جب ميں اپنے وطن واپس جاؤں گا تو وہاں كچه تو مصروفيت هونى چاهئے اور ليڈرشپ سے زياده اور اچها كام كيا ہوسكتا ہے، نہ ہنگ لگے نہ پهٹكري ، مفت ميں ليڈر بن سكتے هيں . ليڈرى كرتے ہوئے ميں اپنے آپ كو مصروف تو ركهـ سكوں گا ، ورنہ گهر پر دن تمام بيٹهے بيگم كى صورت ديكهتے ديكهتے، ان كى جهوٹى تعريف كرتے، ان كے ناز نخرے سہتے اور گھر كے تمام كام كرتے ميرى زندگى كے آخرى ايام تو ايسے ہى بيكار ميں گزر جائيں گے اور ميں بروز حشر خدا كو كيا صورت دكهاؤں گا جب وه سوال كرے گا كہ تم دنيا ميں اپنے بهائيوں كى كچهـ خدمت كئے بهى تهے يا نہیں ِ؟

ايک راز كى بات بتاؤں ، كسى سے كہنا نہيں . نہ تو مجهے سياست سے دلچسپى ہے اور نہ ہی سماجى خدمات سے. ميں سچ كهرہا ہوں. مجهے تو اپنے حلقہ كے ايم ايل اے كا نام تک نہيں معلوم ِ معلوم ہو بهى تو كيسے ، ميں خود يہاں پرديس ميں معاش و روزگار كي الجهنوں ميں پهنسا هوا هوں . مجهے تو بس ايسے ہى بيٹهے بيٹهے خيالات آتے رہتے ہيں، ميرے فيملى ڈاكٹر نے اس بيمارى كا كچه اچها سا نام بتايا تها ميں بهول رها ہوں ، كبهي تو ميں شاعر بن جاتا هوں تو كبهى اديب تو كبهي افسانہ نگار تو كبهى انسداد جہیز كميٹى كا ممبر ، اور ان دنوں مجھ پر ليڈر بننے كا بهوت سوار ہے . ميں جو مدرسہ ميں اپنى جماعت كا مانيٹر تک نهيں بن سكا اب ليڈر بننے كے خواب ديكهرہا هوں ِ ۔ زرا ميرى ہمت كى داد تو ديجئے.

مجهے ليڈر بننے كا خيال كبهى نہ آتا ليكن كروں تو كيا كروں ، ميں كيڑا اسپيشلسٹ هوں ۔جى ہاں ۔ مجھے سوائے اپنے تمام لوگوں ميں كيڑے نظر آتے ہیں. ميں آدمى كو ديكهكر ہی اس كے جسم ميں موجود تمام كيڑوں كے نام بتا سكنا هوں. سیاسی جماعتوں کے كيڑے گننے ميں تومیں نے کافی تحقيق کی ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں كہ آج کوئی ایسی پارٹی نہیں جو قوم کی خدمت کرسکے . سب سالوں سے ایسے ہى اپنا اور قوم کا وقت برباد کر رہے ہیں اور قوم کو تباہی اور بربادی کی طرف لئے جا رہے ہیں. اس لئے میں نے اپنی لنگوٹ جو میں كالج کے زمانے میں ورزش کرنے کے لئے استعمال کرتا تھا پرانے صندوق سے نکال کرپهر كس لى ہے اور لیڈری کے میدان میں کودنے کے لئے پورى تیاری میں ہوں تاكہ قوم کی خدمت کر سکوں.

مجھ میں خدمت خلق کا جذبہ پہلے نہیں تھا لیکن ان دنوں میں یہ جذبہ کوٹ کوٹ کر اپنے اندر بھر رہا ہوں. جس کی وجہ سے بعض وقت بدہضمی بھی ہوجارہی ہے اور ہاضمے کے چورن کی ایک شیشی ہمیشہ میری جیب میں پڑى رہتی ہے. بیگم الگ ناراض رہتی ہیں كہ یہ کیا جذبہ نوش کئے جارہے ہو . خدا نہ خواستہ قوم کی خدمت کرتے کرتے تم اوپر چلے گئے تو میرا کیا ہوگا ?. ابھی مجھے تھوڑے دن اور سہاگن رہنا ہے تب تک كہ تم اور دو تین بلڈنگس اور پلاٹس میرے نام نہیں کردیتے . لیکن میرا فیصلہ اٹل ہے . پتھر کی لکیر ہے.

میں اپنی قوم کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں اور جلد از جلد قوم کی قسمت بدلنا چاہتا ہوں . ساحر لدھیانوی صاحب تووہ صبح كب آئيكى کہتے کہتے خود گزر گئے لیکن وہ صبح نہیں آئى . میں اس صبح کو کان سے پکڑ کر قوم کے سامنے لانا چاہتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں كہ دیکھو یہی وہ صبح ہے جس کا تمہیں انتظار تھا اس کے علاوہ میں اپنی قوم کے لئے بہت کچھ کام کرنا چاہتا ہوں جس کی تفصیل آپ کو میری پارٹی کے اجنڈے میں مل جائے گی

ان دنوں میں اپنی پارٹی کے نام اور رجسٹريشن وغیرہ کی ضروری کاروائیوں میں بہت مصروف ہوں . ووٹ کے بھیک کے کشکول کی تياري کے لئے مختلف كمپنيوںسے ٹینڈر بھی منگوایا ہوں بہرحال یہ سب میں اپنی قوم کی خدمت کرنے كے جذبہ كے تحت کر رہا ہوں. اس لئے مجھے آپ لوگوں کا ساتھ چاہیے

میں نے اپنی پارٹی کے لئے ایک گانا بھی تیّار کرلیا ہے آپ لوگ بھی سن لیجئے .

کس طرح بنتے ہیں لیڈر یہ بتادو یارو

گر سیاست کے ہمیں بھی تو سکھادو یارو

خدمت خلق کا جذبہ ہوں بسائے دل میں

کچھ نہیں تو مجھے لیڈر ہی بنادو یارو

آپ کا پيسہ نہیں ساتھ ہی کافی ہے مجھے

قیمتی ووٹوں کو مجھ پر سے لٹادو یارو

پل میں ہی قوم کی قسمت کو بدل کر رکھ دوں

راستے کی سب ہی دیواریں ہٹادو یارو

پارٹی کوئی بھی اب میرے مقابل نہ رہے

گر جو دینا ہے تو اتنی ہی دعا دو یارو

ان دنوں میں خود پردیس میں ہوں اور جب بھی میں انڈیا جاؤنگا اپنی پارٹی کا افتتاح کر کے لیڈر بن جاؤں گا . لیکن میں انڈیا كب جاؤں گا مجھے خود پتہ نہیں اس لئے كہ في الحال میں خود ایک لاکھ ريال جمع کرنے کے چکر میں ہوں اور جب بھی میرے پاس ایک لاکھ ريال جمع ہوجاینگے میں انڈیا جاکر لیڈر بن کر خدمت خلق کے کاموں مے مصروف ہوجاؤنگا.

تب تک کے لئے مجھے اجازت دیں لیکن براه مہربانی اپنا قیمتی ووٹ مجھے دینا نہ بھولیں.

الله حافظ – في امان الله

محمد زاهد علي

الرياض – سعودي عرب

Wednesday, May 25, 2011

پھل فروش کی ضبطِ فغاں (آہ! یہ ضبطِ فغاں غفلت کی خاموشی نہیں۔۔آگہی ہے یہ دلاسائی، فراموشی نہیں

ضبطِ فغاں پھل فروش کی
بقراط صاحب آج پھر پھل فروش سے الجھ پڑے۔ ہم بھی نہتے انکی مددکے لیے پہنچ گئے یہ سوچکر کہ بقراط کی فراست اور زبان خود اوزار ہے اور آزار بھی۔لیکن کسے پتہ تھا کہ دونوں آج چاروں خانے چت ہوجائیں گی۔ حالانکہ ہم ہمیشہ بقول فراز یہ کہتے رہے ہیں ۔ہرایک صاحبِ منزل کو بامراد نہ جان۔۔۔ہر ایک راہ نشیں کو شکستہ پا نہ سمجھ۔ لیکن بقراط آخر بقراط ٹھہرے۔
بقراط صاحب نے کہا یہ جمّن پچھلے سال تک ٹھیک تھا اب اپنے بچوں کی دینی اور عصری تعلیم منقطع کرواکر ٹھیلے پر بٹھانا چاہتا ہے۔ ہم نے جمّن سے کہا۔ کیا سبب تو جو بگڑتا ہے ان سے ہر بار۔ کہنے لگا اماں یہ کیلے کھانے آئے تھے کھا کر اپنا راستہ لیجیو۔ قسم لیجیو جو ریختے میں ہم سے بات کی تو پانچ کِلاس تک پڑھائی کی تھی۔ تمہاری بیس کِلاس سمجھیو اسے۔ میرے بچوں کو دوبارہ نہ ورغلایو۔ خاصکر بڑے کو تو بلکل بھی نہیں۔ بہت علم چاٹ کھایا کمبخت نے۔ اسکی زبان سوکھ گئی اور میرے پھلوں کا صبر۔ بارہ سال پڑھ لیا اب اسے کیلے بیچنے دو۔ آگے پڑھے گاتو سود پر رقم جٹانا پڑے گا۔ چالیس سال سے حلال رزق کھا اور کھلا ریا ہوں خاندان کو۔ آگرے سے آریا ہوں۔ وہاں میرا باپ بھی پھل ہی بیچ ریا تھا۔ ہم سے نہ پوچھیو کون کون دماغ اور دین والا ہم سے ملکر گیا ہے۔ کبھی کوشش نہ کری ان اعلی حضرات نے ورغلانے کی۔ میرے دادا سے "اسیرِ مالٹا" اور "حکیمِ ملت" جیسے بزرگوار پھل خریدا کیے ہیں۔ سب نے میرے خاندان کو دعا دی ہے۔ اور جا پوچھیو بازو کے کالج کے صاحب سے۔ بتاویں گے جمّن زندگی کیسے گزارریا ہے شان سے۔ انہی کے سمجھانے پر اتنا پڑھاریا تھا میں۔
بقراط صاحب نے کچھ کہنا چاہا لیکن جمّن پھر اسی شانِ بے نیازی سے کہنے لگا۔ یہ بڑا بیٹا پچھلے سال تبلیغی جماعت میں رہ کر پانچ وقت کا نمازی ہوریا۔ اور مولانا صاحب مودودی کی بیسیوں کتاب لا کر پڑھ ریاہے۔ دیکھ لیجیو اسکے چہرہ کا نور بتلاریاہے۔ سارا بچپن محرم میں اعلی حضرت بریلی خاندان والوں کے واعظ سنتاریا ہے یہ۔ ارے بیٹا تو ہی تو کہہ ریا تھا کہ مودودی مولانا کہے ہے۔ حلال کی تجارت کرنے والے کا مقام کسی مولانا سے کم نہیں۔ اور اسی لیے تو یہ پیشہ کرریا ہے۔ اب بتایو انکو۔ بقراط صاحب بہت خاکساری سے ڈرتے ہوئےگویا ہوئے۔ صرف چند سال اور پڑھا لیں اور تعلیم مکمل کر والیں اور۔۔۔ جمّن نے بات کاٹ دی اور کہنے لگا۔ پھر اسکے بعد کیا ہوےگا۔ کپڑے ہی پہنے گا اور صابن سے ہی نہائےگا نا۔ جیسے ساری دنیا کرری ہے۔ اماں سارے لوگ پھل ہی کھاوے ہے نا۔ کوئی لعل و گوہر تھوڑی کھاوے ہے۔
ہم نے سوچا پتہ نہیں دخل در معقولات صحیح ہوگی یا دخل در نامعقولات ۔ جمّن کے غصے کی صحیح وجہ کچھ اور ہے اور جاننا ضروری ہے۔ ہم نے ہمت جٹائی اور جمّن کے ہاتھ تھام کر کہا۔ اماں یار جمّن بقراط صاحب ورغلا نہیں رہے، تیرے بچوں کی دین دنیا کی بھلائی چاہتے ہیں اور ہم۔۔۔ جمّن نے پھر بات اچک لی لیکن اب کی بار بہ طرزِ دیگر اور پھوٹ پھوٹکررو پڑا، کہنے لگا۔ یہ علم والوں اور دین والوں کے چکر میں میرا چھوٹا بیٹا پڑھائی چھوڑ جیل میں بیٹھا دیا گِیا۔ بنا کوئی وجہ۔ میری بیوہ بھانجی بمبئی بم بِلاسٹ میں اپنا خاوند گنوا کر میرے گھر معذور آ کر پڑی ہے۔ اماں کیا بتائیں اب تو دونوں طرح کے لوگوں سے بہت ڈر لگ ریا ہے۔ وہ علم والا پروفیسر رضا مر ریا تھا میرے بچوں کو پڑھانے بیچارہ شریف۔ چراغ گل ہوگیا اسکا غریبی میں۔ کالج والوں نے خدا جھوٹ نہ بلوائے پیسہ نہیں دیا علاج کا۔ مروت شرافت میں پھل کھانا چھوڑ ریا تھا بیچارہ۔
میرے جوان لڑکے کو پھنساکر پولیس گھر آکر پگڑی اچھال ری ہے۔ پیسہ اینٹھ ری سو الگ۔ بھانجی کا دکھ دیکھا نہیں جاریا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آریا۔ کون جھوٹ بول ریا کون سچ۔ نہ "اسیرِ مالٹا" رہے نہ ہی"حکیمِ ملت" اور نہ ہی وہ دونوں بڑے مولانا حضرت۔ کس کے پاس جاویں اور سمجھیں کہ اماں ہو کیا ریا ہے۔ مارا مارا کبھی دیوبند جاریا ہوں تو کبھی ندوہ۔ اماں دو چکر تو بریلی شریف کے کاٹ چکا ہوں اور قسم لیجیو ایک بار نظام الدین مرکز سے بھی ہوکر آریا ہوں۔ سب کمیٹیوں اور رہنماوں کی تاریخ پہ تاریخ لے ریا ہوں۔ بس اب مت پوچھیو اچھے برے کی عزت کھوریاہوں۔ یہ کہہ کر جمّن برداشت نہ کرسکا اور بقراط کے گلے لگ کر رو پڑا پھر اپنی فطری بے نیازی کا خیال آتے ہی جھٹ الگ ہوکر کہنے لگا۔ اماں یار توتو دیکھتا ریا ہے میرے چھٹن کو۔ یار اول تھا ہر چیز میں اور کیسا بانکا سجیلا۔ میری بھانجی اور اسکے آدمی کو بھی تو مل چکا ہے۔ اب میری روداد سناییو سبکو۔ میرا چھٹن تو کبھی پٹاخہ بھی نہ پھوڑا اسنے۔ معذور بھانجی کو گلی والے گود میں بم بِلاسٹ کی جگہ سے اسپتال لےگئے تھے۔ اماں یار وہ اسپتال میں سفاکی کا نقشہ تو تو بھی دیکھ چکا ہے میرے ساتھ۔ ہم نے پوچھا حکومت نے کچھ امداد۔۔۔ کہا کیا بتائیں اپنا پرایا ہرکوئی رو ریاہے بے ایمان سیاستدانوں کا نام لیکر۔ اماں وہ اخبار والا روز چلا ریا ہے بد عنوانی کو، لو کر لو بات۔ کوئی عنوان باقی بچ کاں ریاہے زندگی کا۔ اماں حکومت تو خود کسی لوک پال نام کے آدمی کو ڈھونڈ رہی مدد کیلیے ۔ وہ سوامی کیلے لینے آتا ہے، بتا ریا تھا کہ دولت کو پوجنے والی میری قوم میں ایماندار بہت کم ہوری یے ہیں اب۔ اور تیری قوم کے وقف بورڈکا کھربوں پیسہ سب شہدے بانٹ کر کھاریے ہیں۔
بقراط صاحب نے کہا دیکھ جمّن تیری ہر بات صحیح لیکن تو کوشش کر کہ تیری اولاد تعلیم مکمل کرے۔ اور ہم سب مجبور ہیں کہ تیرے دیگر مسائل حل نہیں کرسکتے۔ کہنے لگا مجھے پتہ ہے ہر کوئی مجبور ہے اور سب بے بس پرندوں کی طرح ایکدوسرے کو دیکھتے رہیو۔ کمبخت کسی غنڈے سے نپٹنا ہوتا تو جمّن دکھا ریا ہوتا۔ مقامی شریروں سے نپٹ کر بیٹھا ہے جمّن اور اب ہرکوئی سلام کرریا ہے۔ آدھا خاندان میرا یہاں برباد ہوریا اور وہاں پاکستان میں آدھا خاندان۔ اور میرا سگا بھائی خون میں لت پت ہوریاہے وہاں۔ یہاں میں مشتبہ اور وہاں وہ۔ بڑا بیٹا کہہ ریاہے ہے بابا سب مکافاتِ عمل ہے دعا کریو۔ ساری جماعتیں دعاکر کرری ہے۔ اللہ کی رسی کو تھامنے کو بول ریا ہے ملاّ۔ سب جماعت دعا کرری تو بیٹا کون سی جماعت پھرتیری بہن کو معذور اور بیوہ کرری ہے۔ وہ رسی بارود میں پھر جلا کون ریاہے۔ ایک ہی گھر میں دو دو عیدکون منا ریا ہے۔ ارے بیٹا تیرا وہ ساتھی بغل کی خالی مسجد چھوڑ ایک میل دور مسجد کیوں جاریا ہے۔ اور وہ تیرا چاچا میرا ماں جایا پچھلی جنگ پر پاکستان سے بول ریا تھا تم سب مرگیے اب ہمارے لیے۔ جیسے میں ہی اس پر بم پھینک ریا تھا۔ ارے میں ادھر سب کے لیے دعائیں مانگ ریا ہوں۔ اپنے پرائے سب کے لیے۔ یہی تو وہ بڑے مولانا ، حکیمِ امت، بولے رہے کہ ساری دنیا کی بھلائی چاہتے رہیو۔ اور میں سنتا رہا انکی اور یہی تو چاریا تھا میں۔ اب وہ تو نہیں رہے۔ اتنا بڑا درد سہنے کہہ گئے۔ اب برداشت نہیں ہوریا۔
اماں میری بھانجی کے ذمہ دار نہ تم لوگ ہونہ پروفیسر والے اور نہ میرا وہ سگا بھائی اور ایمان سے نہ ہی میرے بیٹےکی کوئی جماعت والے۔ تو پھر یہ بم کون مارریاہے۔ ارے ساری دنیا کو ختم کرریا ہے کیا۔ پھر وہ مولانا لوگ کا پیغام کسے دیگا۔ ارے کوئی بچ ریا ہےتوپیغام دےگانا۔ اماں قسم لے لیو چالیس سال میں جتنے پھل نہ بیچے اس سے بڑھکر محبت اور ایمان بانٹ ریا تھا۔ اماں غیر بھی سلام بول ریا ہے دیکھ لیجیو کہ ایمان ہوریا ہے کہ نہیں۔ جمّن بھیگی آنکھ لیے تھک کر بیٹھ گیا۔ اور کہا اماں اب جاییو۔ تم سب بے بس لوگ میرے جیسے غریب کے لیے ایک جیسے لگ ریے ہو۔ تم لوگوں کو کبھی کچھ نہیں ہوریا۔ حلال رزق کھانے والا ہی تکلیف اٹھا ریا ہے اور اسکے لیے ملاّ جنت کا دلاسہ دےریاہے باقی تم سب اِدھر بھی جنت مناو اور پتہ نہیں وہاں بھی شاید مناوگے۔ لیکن میری بھانجی کی زندگی برباد کرنے والے کو کدھر جنت ملے گی دیکھوں گامیں۔
ہماری زبانوں پر تالے پڑ گئے۔ ہم دونوں جمّن سے معافی مانگ کر لوٹ آئے۔ بقراط صاحب فرمانے لگے۔
آہ! یہ ضبطِ فغاں غفلت کی خاموشی نہیں۔۔۔آگہی ہے یہ دلاسائی، فراموشی نہیں
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP