Showing posts with label gazal. Show all posts
Showing posts with label gazal. Show all posts
Sunday, June 12, 2011
Sunday, July 04, 2010
غزل
آدمی زندہ ہے لیکن وسوسوں کے درمیان
ایک شیشہ رہ گیا ہے پتھروں کے درمیاں
سب نے اس منظر کو اپنے طور پر برتا مگر
چاند بے چارہ گھرا تھا بدلیوں کے درمیاں
زندگی کی ناؤ کو طوفان جب سے لے گۓ
ساری موجیں سورہی ہیں ساحلوں کے درمیاں
آنکھیں پھر فیشن زدہ ماحول سے پتھرا گئیں
گورے اجلے جسم دیکھیں چند یوں کے درمیاں
کوئی ساعت ،کوئی لمحہ ،کوئی پل اپنا نہیں
وقت شاید پھنس گیا ہے دشمنوں کے درمیاں
نقلی چہرہ اصلی چہرے اغوا کرکے لے گیا
ایک چہرہ گھومتا ہے آئینوں کے درمیاں
آج پھر ماچس کی ڈبیا سازشوں کی زد میں ہے
کانا پھوسی چل رہی ہے تیلیوں کے درمیاں
( ڈاکٹرمحمد کلیم ضیاء )
ایک شیشہ رہ گیا ہے پتھروں کے درمیاں
سب نے اس منظر کو اپنے طور پر برتا مگر
چاند بے چارہ گھرا تھا بدلیوں کے درمیاں
زندگی کی ناؤ کو طوفان جب سے لے گۓ
ساری موجیں سورہی ہیں ساحلوں کے درمیاں
آنکھیں پھر فیشن زدہ ماحول سے پتھرا گئیں
گورے اجلے جسم دیکھیں چند یوں کے درمیاں
کوئی ساعت ،کوئی لمحہ ،کوئی پل اپنا نہیں
وقت شاید پھنس گیا ہے دشمنوں کے درمیاں
نقلی چہرہ اصلی چہرے اغوا کرکے لے گیا
ایک چہرہ گھومتا ہے آئینوں کے درمیاں
آج پھر ماچس کی ڈبیا سازشوں کی زد میں ہے
کانا پھوسی چل رہی ہے تیلیوں کے درمیاں
( ڈاکٹرمحمد کلیم ضیاء )
0
comments
Labels:
gazal,
kaleem zia,
urdu,
urdu blogging
Subscribe to:
Posts (Atom)