You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label urdu.urdu blogging. Show all posts
Showing posts with label urdu.urdu blogging. Show all posts

Thursday, May 10, 2012

روپیش سری واستو ہمیشہ کے لیے دلوں میں رہیں گے




تین کہانیاں جو کہ بہت ہی مشہور ہیں ۔ایک   آدمی تھا جو بہت  خوبصورت اور تعلیم یافتہ تھا ۔بہت  امیر  تھا ۔ایک  دن اچانک وہ مر گیا ۔
دوسری کہانی یہ ہے کہ ایک آدمی تھا جو بہت  دولت مند   ہر کام میں ماہر  تھا ۔بہت پیسے والا تھا ۔ لوگوں میں مشہور تھا ۔ غریبوں کا مسیح تھا۔وہ ایک دن مر گیا ۔
تیسری کہانی یہ ہے کہ  ایک آدمی تھا جو بہت غریب تھا ۔ان پڑھ تھا ۔وہ بھی مرگيا ۔
یہ کہانی جو کہ سب کو سنایا کر  تا تھا۔ہر  اردو  ادب  کی محفل کی جان تھا ۔اردو کے فروغ  کے لیے کوشش کرتا رہتا تھا ۔اردو  ویب سائٹ لنترانی ڈاٹ کام اور لنترانی میڈیا ہاؤس کا   مینیجنگ ڈائریکٹر  بروز بدھ مورخہ  9 مئی 2012ء کو حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے  اس دار فانی سے کوچ کر  گئے۔ان کی عمر 38 سال تھی ۔ لنترنی آٹ کام ، بھڑاس     ڈاٹ کام ،اردھ ستیہ بلاگ ، آیوش دید ڈاٹ کام جس پر آیوشوید کی مفت صلح دی  جاتی تھی ۔ اہل اردو سے پر تپاک  سے  ملنا ، ان کی محفلوں میں شریک ہونا اور وقت ضرورت ان کے ساتھ تعاون کرنا  ڈاکٹر روپیش سری واستو کا خاصہ تھا  اچانک اس سانحہ سے اردو حلقوں میں دکھ کی لہر دوڑ گئی ہے ۔

Tuesday, July 21, 2009

مہینے



جنوری، فروری ،مارچ ، اپریل




پہلے پڑ ھائي ،بعد میں کھیل




مئي ، جون ،جولائي ، اگست




ہاتھ نہ آۓ گز را وقت




ستمبر ، اکتوبر ،نومبر ، دسمبر




پڑھ لکھ تو لے چھولے ، امبر




وقت کا ایک ایک لمحہ ،وقت کی اک اک گھڑی




ساٹھ سیکنڈ،ساٹھ منٹوںمیں پروۓ اک لڑی




بارہ لڑکیاں دن کی ہیںاور بارہ لڑیاں رات کی




ہاں مگر کچھ دن بڑے ہیں اور کچھ راتیں ،بڑی

Tuesday, March 03, 2009

وجہ سے مریضہ بن گئی


آج راستے میں دوبارہ میری کل والی سہیلی سے ملاقات ہو گئی ۔اسنے کچھ اپنی زندگی کے گزرے ہوۓ وا‍قعات لکھے ہوۓ کاغذات مجھے دی ۔اور مجھ سے بڑے اعتماد کے ساتھ کہنے لگی کہ میں وہ سارے واقعات یک کے بعد دیگر لنترانی پہ لکھوں
تاکہ اس کے دل کو کچھ سکون نصیب ہو ۔جب اپنے گھر پہنچ کر میں نے اسکے لکھے ہو ۓ مضمون کو پڑھا تو اچانک میری آنکھوں سے بھی آنسو نکل پڑے اس نے اپنے تیسرے بچّے کی ّپیدائش اور اس کی ڈھا ئی مہینے کے بعد موت ہونے کا ذکر کیا تھا ۔دوران حمل وہ ڈیوٹی پر جاتی تھی اپنا ذاتی مکان خریدنے کے لۓ قرض لیا ہوا تھا ۔شوہر کو تو کوئی فکر نہیں تھی ۔اس عورت کا بلڈ پر یشر بڑھنے لگا ۔اور اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا ساتویں مہینے میں ہی آپریشن کیا گیا ۔عورت کی جان کو بڑی مشکل سے بچایا گیا ۔لیکن اس وقت بھی وہ اکیلی تھی اور شوہر دوبئی میں اپنی دوسری بیوی کے پاس تھا ۔ڈھائی مہینے کے بعد بچّے کا انتقال ہو گیا ۔ اور شوہر نے بچّے کی موت کا ذمّہ دار اپنی بیوی کو ٹہرایا ۔اس عورت نے بچے کے لۓ اپنی جان کی بازی لگا دی ۔اس کو شوہر اور سسرال والوں کے پیار اور ہمدردی کی ضرورت تھی ۔کیونکہ ایک ماں کی کوکھ اجڑگئی تھی ۔مگر شوہر نے یہ الزام لگایا کہ اس عورت نے کوئی دوا کھا کر اپنے بچّے کو مار ڈالی اور اس طرح سے مختلیف قسم کی غلط غلط باتیں کر کے اس کو ستانے لگا لۓ ٹینشن کی وجہ سے مریضہ بن گئی ۔
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP