You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label Hafiz karnataki. Show all posts
Showing posts with label Hafiz karnataki. Show all posts

Tuesday, March 26, 2013

ضرورت ہے عزم و ہمت کی ۔ کامیابی یقینی ہے ۔سہیل لو کھنڈ والا





 ضرورت ہے عزم و ہمت کی ۔ کامیابی    یقینی ہے ۔سہیل لو کھنڈ والا
ڈاکٹر حافظ کرناٹکی ہماری قوم کا اثاثہ  ہے ۔ شمشیر خان پٹھان
کرناٹک میں اردو کو دوسری زبان  بنایا جاۓ ۔ہم یہ مانگ کررہے ہیں۔
لنترانی میڈیا ہاؤس  کے زیر اہتمام  ڈاکٹر حافظ کرناٹکی    کو   بمقام       پرشین دربار ہوٹل بھائیکلہ   میں  ا عزازی استقبالیہ دیا گیا ۔    کیوں کہ حافظ کرناٹکی   کو  گلبرگہ یونیورسٹی  کرناٹک  میں ووکیشنل پروگرام  میں کرناٹک کے گورنر ہنس راج بھار دواج کے ہاتھوں  ان   علمی و  ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوۓ ۔ ڈاکٹریٹ کی ڈگری  تفویض کی گئی ہے ۔ اس  خوشی کے  موقع پر لنترانی میڈیا ہاؤس کی جانب سے سپاس نامہ ، میمینٹو، شال اور پھولوں  سے ان کا استقبال کیا گیا ۔ اس تقریب کی صدارت کمہارواڑہ ویلفیئر کے صدر نصیر پٹھان صاحب نے کی۔مہمان  خصوصی کینسر اینڈ کیر کے ڈائریکٹر  سہیل لو کھنڈوالا صاحب  رہے ۔مہمان اعزازی شمشیر خان پٹھان صاحب ،  نظام الدین راعین صاحب  رہے ۔اس تقریب میں  شہر کی معزّز شخصیات موجود تھیں ، سلیم الوارے ، ارشاد خطیب صاحب ، حسرت سر ،  پروفیسر جمیل کامل ، ڈاکٹر شاہد صدیقی،لوک کلیان کاری سنستھا کے  جنرل سیکریٹری  ناصر خان ، دوردرشن ممبئی سے نیوز ڈائریکٹر  احمد منظور صاحب ، مشہور ومعروف شاعر    عبدالا حد ساز بھائي ، معین الدین شیخ ، نگار سلطا نہ ، ممتاز اقبال نیازی ،    نادرہ موٹلیکر ، ریشماء دلاور بھائی  ، انجم بدایونی ،  سرفراز پٹھان   ،سمیع شیخ اور اشفاق بھائی ، اس تقریب کو اپنے نظامت کے خوبصورت انداز سے  اقبال نیازی سر نے  چار چاند لگا ديئے۔سلیم الوارے صاحب نے ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کو بڑے ہی موثر انداز میں سپاس نامہ پیش کیا ۔اورایک خاص بات کی طرف رجوع کیا کہ  ویسے تو ہزاروں لوگ  ڈگریاں حاصل کرتے ہیں ۔ مگر ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوۓ  صرف 45 لوگوں کو ہی  یہ شرف حاصل ہوا ہے ۔ جس میں ایک ہمارے کرٹاٹکی صاحب ہیں ۔جمیل کامل صاحب نے کرناٹکی صاحب کو بچوں  کے ادب کا امام کہا ہے  سہیل لوکھنڈوالا صاحب نے کہا کہ تنقید کے لیۓ زبان سترگز کی ہوتی ہے پر تعریف کے لیۓ زبان لڑکھڑاتی ہے ۔شمشیر پٹھان صاحب نے کہا کہہم دیا کرتے ہیں کہ مہاراشٹر میں بھی حافظ مہاراشٹروی پیدا ہوجاۓ اور اردو کا بول بالا کردیے ۔ نطام الدین راعین صاحب نے لنترانی کے کاموں کو سراہا  اور مبارکباد دی کہ لنترانی میڈیا ہاؤس کے ذریعے  علمی و ادبی پروگرام کوریج کرکے محتلف ممالک میں دکھاۓ جارہے ہیں  جو کا قابل تعریف ہے ۔لنترانی کی ڈائریکٹر منور سلطانہ نے کہا کہ  انسان اس کے نام سے نہیں بلکہ کاموں سے پہچانا جاتا ہے ۔ لنترانی کی پہچان ہے اور وہ اردو کی خدمات انجام دیتی رہے گي ۔ اس وقت  علمی وادبی او ر سیاسی  اور  علم دوست موجود تھے ۔  پروگرام بہت کامیاب رہا ۔ اس پروگرام کے کنوینر عوامی وکاس پارٹی کے ممبئی پرسیڈینٹ   اعجاز مقادم تھے  ۔پروگرام بہت کامیاب رہا ۔



Saturday, May 05, 2012

سابق وزیر اعلی جناب ایڈیورپا کے ہاتھوں مختلف سرکاری عمارتوں کا افتتاح اور حق پتروں کی تقسیم









آج بتاریخ 05-05-2012کو ضلعی انتظامیہ نے ایک یادگار جلسے کا انعقاد کیا۔ جس میں سابق وزیر اعلی جناب ایڈورپا نے شکاری پور میں ایک سو چالیس کروڑ کی لاگت سے بنی مختلف سرکاری عمارتوں کا افتتاح کیا۔ اور تقریباً ایک ہزار بے گھر لوگوں میں حق پتر تقسیم کیا۔ اس اہم جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ جناب ایڈیورپا نے کہا کہ 
میں نے ہمیشہ کام کرنا چاہا اور کام کیا۔ ان دنوں آپ ٹی وی پر میرے مقدمے سے متعلق کافی خبریں دیکھ رہے ہوں گے۔ میں کورٹ کے فیصلے کا منتظر ہوں اور اس کا ہر فیصلہ ماننے کے لیے ہمہ وقت تیار ہوں۔ آپ جانتے ہیں کہ جب میں یہاں کا ایم ایل اے تھا تب بھی کام ہی میرا مشن تھا۔ اور وزیراعلیٰ بن کر اپنی ریاست اور اپنے ضلع کی ترقی کا خواب دیکھتا تھا، مجھے موقع ملا اور میں نے کام کیا۔ آج کام ہی میری پہچان ہے۔ انہوں نے میڈیا والوں پر اپنی خفگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خبریں شائع کریں۔ سچ لکھیں۔ خبریں گڑھیں اور بنائیں نہیں۔ میرا نام ایڈیورپّا ہے۔ اور آپ مجھے یڈی لکھتے ہیں۔ آخر میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے جو آپ میرا نام بگاڑ رہے ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ میں شکاری پور کو ترقی اور بیداری کی جس مقام پر دیکھنا چاہتا تھا۔ آج شکاری پور اس مقام تک پہنچ چکا ہے۔ میں نے ابھی گھر گھر جا کر شکاری پور کودیکھا ہے۔ ایک ہائی اسکول پاس آدمی کے تین بیٹوں سے ملا ہوں۔ ایک ڈاکٹر ، ایک انجنئیر ہے۔ اورایک ڈگری پڑھ رہا ہے۔ یہی تو میں چاہتا تھا کہ میرا گاؤں تعلیم کے میدان میں آگے آئے۔ سو آج میں کہہ سکتا ہوں کہ میرا خواب بہت حد تک پورا ہوا۔ یہی چیز میرے لیے اطمینان کا باعث ہے۔ 
بی وائی رگھوویندرا ایم پی شیموگا نے کہا کہ 
آج جن نئی سرکاری عمارتوں کا افتتاح ہوا ہے وہ میرے والد کا دیرینہ خواب تھا۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے گاؤں کی ترقی کو اولیت دی۔ وہ چاہتے تھے کہ شکاری پور ریاست کا سب سے ترقی یافتہ تعلق بن جائے اور کہنا چاہیے کہ وہ بن گیا۔آج یہاں ایک ہزار بے گھر لوگوں کو حق پتر بھی تقسیم کیا گیا۔ یہ بھی اس تعلق کی ترقی کی ایک مثال ہے۔ آج شکاری پور کی ہرگلی پختہ ہے۔ ہر سڑک کشادہ ہے۔ اور ایک خوبصورت اور اعلیٰ قسم کا پارک بھی یہاں ہے۔ یہ سب ہمارے سابق وزیراعلیٰ جناب ایڈیورپا صاحب کی محنت کا پھل ہے۔ 
منسٹر بسوراج بومئی نے کہا کہ 
ایڈیورپا جی نے شکاری پور کو سنگاپور بنادیا ہے۔ یہاں کے اوچرا سوامی پارک کو دیکھ کر یقین نہیں آتا ہے کہ ہم ہندوستان کی ایک ریاست کے چھوٹے سے تعلق میں ہیں یا یوروپ کے کسی ترقی یافتہ ملک میں۔ شیموگا ضلع کے کئی لوگ منسٹر اور چیف منسٹر بھی بنے۔ مگر کچھ کام نہیں کرسکے۔ ایڈیورپا جی نے نہ صرف یہ کہ کام کیا۔ بلکہ سیکھ دی کہ اس طرح کام کیا جاتا ہے۔ 
منسٹر جگدیش شٹر نے کہا کہ 
ایڈیورپا جی ہمارے ایسے لیڈر ہیں جن سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اور آگے بھی سیکھتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایڈیورپا جی کی محنت ہی کا پھل ہے کہ آج شکاری پور ریاست کرناٹک کے نقشے پر نمایاں ہے۔ اور اس کی ترقی مثالی سمجھی جاتی ہے۔ 
ایم پی اینور منجوناتھ نے کہا کہ 
آج حکومت کی جن خوبصورت عمارتوں کا افتتاح ہوا ہے اورہم نے جو پنچایت راج کا دفتر دیکھا ہے۔ اسے دیکھ کر بے ساختہ دل چاہنے لگا کہ کاش میں ایم پی نہ ہو کر پنچایت کا کوئی ممبر ہوتا۔ تو آج اس شاندار عمارت کے اس خوبصورت دفتر میں کام کرتا۔ واقعی ایڈیورپا جی نے وہ کر دکھایا جو آج تک کسی سے نہ ہوسکا۔ 
حافظ کرناٹکی چیرمین کرناٹک اردو اکیڈمی نے اس موقع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:
جناب ایڈیورپا جی کی شخصیت کا بڑا وصف یہ ہے کہ وہ اتحاد و مساوات کے حامی ہیں اور ہمیشہ تعمیری کاموں پر توجہ دیتے ہیں۔ ریاست کرناٹک میں آج تک کوئی ایسا لیڈر پیدا نہیں ہوا جو ایڈیورپا جی کی طرح مسلمانوں کے مسائل پر توجہ دیتا ہو۔ اور اسے جلد سے جلد حل کرنے کی کوشش کرتاہو۔ ایڈیورپا جی کی شخصیت مثال ہے۔ کہ اتحاد و اتفاق سے کس طرح ترقی کے کام کیے جاتے ہیں۔ 
اس جلسے میں سی۔ایم اداسی منسٹر P.W.Dمنسٹر وی سومنّا، منسٹر اومیش کٹی، منسٹر نارائن سوامی اور ایم۔ایل سی سدرامنا کے علاوہ ضلع سطح کے تمام بڑے افسر اور ڈائریکٹرس نے شرکت کی۔ اس جلسے کی نظامت ڈی۔ایچ شنکر مورتی سبھا پتی ودھان سودھا نے کی اور انہیں کے شکریہ پر یہ جلسہ اختتام کو پہنچا۔

Sunday, April 29, 2012

تعزیتی جلسے کی رپورٹ



آج بروز جمعرات بتاریخ ۲۶؍ اپریل ۲۰۱۲ء کوکرناٹک اردو اکیڈمی کے محمود ایاز ہال میں معروف غزل گو شاعر جوہر صدیقی کے سانحہ ارتحال پر ایک تعزیتی نشست رکھی گئی۔ جس کی صدارت کے فرائض حافظ کرناٹکی نے ادا کئے۔ اس تعزیتی نشست میں بنگلور کے بہت سے ادبا و شعرا نے شرکت کی۔ جب کہ بنگلور میں مقیم بنارس کے ادبا و شعرا نے کچھ زیادہ ہی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ 

اس نشست میں جن لوگوں نے شرکت کی، ان میں جناب محمد خورشید اکرم کاملی، جناب عبدالقدیر بنارسی، الحاج محمد یسین، الحاج وزیرالدین، اکرم اللہ، جمیل بنارسی خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ 
اس نشست کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اہم بات یہ ہوئی کہ اس نشست میں مرحوم جوہر صدیقی کی حمد اور نعت بھی پڑھی گئی۔ اس نشست کی نظامت کے فرائض جناب شفیق عابدی نے ادا کیے۔ تمام شرکا ئے نشست نے مرحوم جوہر صدیقی کے سانحہ ارتحال پر اپنے غم کا اظہار کیا۔ اور ان کی غزل گوئی کی انفرادیت کو سراہا۔ 
کرناٹک اردو اکیڈمی کے رجسٹرار مرزاعظمت اللہ صاحب نے کہا کہ مرحوم جوہر صدیقی ایک خوش فکر شاعر تھے۔ انہیں اس معنی میں مرحوم نہیں کہا جاسکتا جس معنی میں عام انسانوں کو مرحوم کہاجاتا ہے۔ کیوں کہ میرا احساس ہے کہ شعرائے کرام مر کر بھی زندہ رہ جاتے ہیں۔ اور بعض شعرا تو مرنے کے بعد ہی اپنی زندگی کا احساس دلا پاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جوہرصدیقی کی غزلوں میں جوتازگی اور توانائی ہے وہ انہیں تا دیر زندہ رکھے گی۔ 
غفران امجد نے جوہر صدیقی مرحوم کے حالات زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کی شاعرانہ انفرادیت اور ان کی غزل گوئی کی ندرت پر کھل کر گفتگو کی۔ اور بتایا کہ جوہر صدیقی صاحب نے نئی نسل کے شعرا کی کس طرح تربیت کی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جناب مرحوم جوہر صدیقی استاد شاعر تھے۔ جس سے کتنے ہی شعرا نے شاعری کی باریکیوں کا علم حاصل کیا۔ اور غزل کی ندرت کا درس لیا۔ ان کے سانحۂ ارتحال نہ صرف یہ کہ اردو شعرو ادب کا نقصان ہوا ہے۔ بلکہ بہت سے نو آموز شاعر ایک مہربان استاد سے محروم ہوگئے ہیں۔ 
حافظ کرناٹکی نے کہا 
اگر یہ کہاجائے کہ پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے اردو زبان و ادب نہایت ہی صبر آزما صورت حال سے گزر رہا ہے۔ تو کوئی مبالغہ نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اس عرصے میں اردو برادری نے تقریباً ایک درجن اہم شعرا و ادبا سے محروم ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے گویا تمام کہنہ بادہ خوار اٹھتے جارہے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ اردو والے ابھی ایک سانحہ سے جانبر نہیں ہوپاتے ہیں کہ دوسرے سانحہ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم عصری حسیت کے تازہ کار شاعر جوہر صدیقی جیسی شخصیت سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ موصوف کو غزل سے عشق تھا اور سچی بات یہ ہے کہ وہ غزل تہذیب کا جیسا شعور رکھتے تھے وہ ان دنوں خال خال ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ وہ آج کے عہد کے ایک عمدہ غزل گو شاعر تھے۔ اور خوب غزلیں کہتے تھے۔ ان کے بعض اشعار تو گویا اردو کے باذوق قارئین کے قلب و نظر پر چسپاں ہو کر رہ گئے ہیں۔ مثلاً 
روداد ستم آپ کی ہم اپنے لہو سے 
لکھیں گے مگر آپ سے بہتر نہ لکھیں گے 

یوں امن کے گلاب کھلائے گئے یہاں 
زخموں کی طرح لوگ ہنسائے گئے یہاں 
وہ جس خوبصورتی اور نزاکت سے عصری مسائل کو غزل کے لب و لہجے میں ڈھالنے کا ہنر جانتے تھے وہ انہیں کا خاصہ تھا۔ 
انہوں نے کتنا پیارا شعر کہاتھا۔ 
ہمارے ڈوب جانے تک لبِ ساحل کھڑے رہنا 
کہ میرے دل کے ارمانوں کی دنیا کون دیکھے گا 
آج ہم سب لب ساحل کھڑے ہیں۔ جوہر صدیقی لامتناہی حیات کے ساگر میں ڈوب چکے ہیں۔ مگر ہم میں سے کتنے ہیں جو ان کے ارمانوں کی دنیا دیکھ سکتے ہیں۔ 
ہم مرحوم کے لیے دعاگو ہیں کہ اللہ انہیں غریق رحمت کرے۔ اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج سے کرناٹک اردو اکیڈمی ایک نئی روایت کا آغاز کر رہی ہے۔ یعنی آئندہ جو بھی اہم شعرا اور ادبا داغ مفارقت دے جائیں گے۔ نہ صرف یہ کہ ان کی شایان شان تعزیت کا اہتمام کیا جائے گا، بلکہ ان کی ایک تصویر بھی اکیڈمی کی محمود ایاز لائبریری میں آویزاں کی جائے گی۔ 
ہم جوہر صدیقی مرحوم کی تصویر آویزاں کر کے اس روایت کو فروغ دینے کی پہل کر رہے ہیں۔ 

چند لمحات جناب افتخار امام صدیقی کے ساتھ



آج بروز جمعہ ۲۷؍ اپریل ۲۰۱۲ء کودوپہر بعد چار بجے کرناٹک اردو اکیڈمی نے اردو کے نہایت غیرجانبدار رسالے کے ’’ماہنامہ شاعر‘‘ بمبئی کے ہر دل عزیز مدیر اور نیک انسان جناب افتخار امام صدیقی کی آمد پر محمود ایاز لائبریری میں ایک شاندار اعزازی جلسے کا اہتمام کیا۔
اس جلسے میں ریاست کے کئی اہم شعرا اور ادبا کے علاوہ کئی اہم صحافیوں نے بھی شرکت کی۔ جب کہ شعر وادب سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کی بھی کثیر تعداد ہال میں موجود تھی۔
ریاست کرناٹک کے جوان رعنا شاعر غفران امجد نے مہمانوں کا استقبال کیا اور جناب افتخار امام صدیقی صاحب کی شخصیت اور ان کی خدمات کا اجمالی تعارف پیش کیا۔
روزنامہ راشٹریہ سہارا بنگلور کے ایڈیٹر اسجد نواز نے افتخار امام صدیقی کی آمد، اور کرناٹک اردو اکیڈمی کے اعزاز پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ اور صدیقی صاحب کو ادب دوست مدیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدیقی صاحب نے فنکاروں کے مستور ہونے کے جوبات کہی تھی وہ سچ تھی۔ اللہ کا شکر ہے کہ ان کی محبت سے فضا بدل رہی ہے۔ قاسم سید جو خود بھی روزنامہ راشٹریہ سہارا دہلی سے منسلک ہیں۔ انہوں نے بھی افتخار امام صدیقی کی مدیرانہ صلاحیت اور تخلیقیت شناسی کا اعتراف کیا اور اکیڈمی کے اس اقدام کو نیک فال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو میرے والد مجھے کبھی کبھار مشاعرے میں لے جایا کرتے تھے۔ اسی زمانے میں میں نے ایک مشاعرے میں جناب افتخار امام صدیقی صاحب کو سنا، ان کا انداز اور ان کا ترنم آج بھی میری سماعت میں محفوظ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدیقی صاحب پیشہ ور شاعر نہیں ہیں۔ وہ واقعی ایک فنکار ہیں، اور فنکارانہ شان سے زندگی جیتے ہیں۔ انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب مجھے کرناٹک اردو اکیڈمی کے بجٹ اور عملے کا علم ہوا تو مجھے بے حد افسوس ہوا۔ دہلی اردو اکیڈمی کا بجٹ آٹھ کروڑ ہے اور عملے کی فراوانی ہے۔ یہ یقیناًحیرت انگیز بات ہے کہ کرناٹک اردو اکیڈمی اتنے کم بجٹ اور نہ کے برابر عملے کے ساتھ اتنے بڑے بڑے کارنامے انجام دے رہی ہے۔
حافظ کرناٹکی چیرمین کرناٹک اردو اکیڈمی نے افتخار امام صدیقی کی آمد پر منظوم خراج تحریر کیا جسے ریاست کے مشہور سنگر جناب حمید اکبر صاحب نے گاکر سنایا۔
جناب افتخار امام صدیقی نے کرناٹک کی ادبی صورت حال پر نہایت خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی بات ہے کہ کرناٹک میں دوسری ریاستوں کی بہ نسبت شعرو ادب کا ماحول نہایت خوشگوار ہے۔ انہو ں نے کرناٹک اردو اکیڈمی کے کاموں کی بھی ستائش کی اور کہا کہ مہاراشٹر اردو اکیڈمی کی کارکردگی کی بہ نسبت کرناٹک اردو اکیڈمی کی کاکردگی نہایت ہی تشفی بخش ہے۔ انہوں نے حافظ کرناٹکی ادبی خدمات کابھی ضمنی طور پر ذکر کیا۔ اور اکیڈمی کو فعال بنانے کے لیے انہیں مبارکباد دی۔
اس موقع سے حافظ کرناٹکی صاحب کا لکھا ہوا ایک بڑا سپاس نامہ بھی جناب صدیقی صاحب کی خدمت میں پیش کیا گیا۔
آخر میں حافظ کرناٹکی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
آج کا دن ہمارے لیے بڑا قیمتی اور قابل افتخار ہے۔ کیوں کہ آج ہمارے درمیان محترمی افتخار امام صدیقی صاحب تشریف فرما ہیں۔
حضرت افتخار امام صدیقی صاحب محض ایک تاریخ ساز مدیر کا ہی نہیں بلکہ ایک لازوال تاریخ کا نام ہے جسے اردو دنیا کبھی فراموش نہیں کرسکے گی۔ علامہ سیماب اکبرآبادی کے گھرانے کے اس روشن چراغ سے میرا تعارف آفاق عالم صدیقی نے کرایا۔ یہ تعارف ہمارے لیے نیک فال ثابت ہوا۔ کیوں کہ میں نے پایا کہ افتخار امام صدیقی صاحب محض ایک مدیر اور شاعر ہی نہیں بلکہ ایک نہایت ہی مخلص، فن شناس، اور نورایمانی سے منور اس شخصیت کا نام ہے جس کی قربت کسی بھی انسان کا دل جیب سکتی ہے۔ ان کی شخصیت میں جو صداقت اور اپناپن پایا جاتا ہے اس کی مثال بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ ’’شاعر‘‘ کی ادارت کے علاوہ کسی کام پر توجہ نہیں دیتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ان کے اندر تخلیقیت خیزی کا ایک سیل رواں جاری ہے۔ جس کے باہر آنے کی دیر ہے۔ اب تک نظم ونثر میں ان کی کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ان کی غزلوں کا ایک مجموعہ ’’چاند غزل‘‘ حمدوں کے دو مجموعے ’’اللہم‘‘ اور ’’انک سمیع الدعا‘‘ نعتوں کے چار مجموعے ’’آپؐ‘‘، ’’آقاؐ‘‘، ’’سرداؐر‘‘، ’’سرکاؐر‘‘اور افسانوں کا ایک مجموعہ ’’ربع دیدی آپ کہاں ہیں‘‘ شائع ہوچکے ہیں۔ جب کہ ’’شاعر‘‘ کے ہزاروں صفحات پر بکھرے ان کے ’’جرعات‘‘، ’’انٹرویوز‘‘ اس کے ماسوا ہیں۔ کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ان کے پاس ہزاروں غیرمطبوعہ غزلوں کا مخزونہ محفوظ ہے۔ بقول افتخار امام صدیقی صاحب، جماعت اسلامی کی ڈائری ’’شب و روز‘‘ کی آٹھ جلدیں ان کی شاعری سے بھری پڑی ہیں۔ یہ حالت ہے ان کے تخلیقی وفور کا۔
یہ ہمارے لیے یقیناًخوشی کی بات ہے کہ آج ہم اردو ادب کے باقیات صالحات جیسی شخصیت کے ساتھ یہاں بیٹھے ہیں۔ اور انہیں دیکھنے اور ان سے باتیں کرنے کا شرف حاصل کر رہے ہیں۔ میں یہاں ایک بات جو خاص طور پر کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر جناب افتخار امام صدیقی صاحب اپنی شاعری کی اشاعت کے لیے راضی ہوں تو اکیڈمی ان کا مجموعہ کلام اپنی طرف سے شائع کرکے خوشی محسوس کرے گی۔
یوں بھی جناب صدیقی صاحب کے کلام کو منصہ شہود پر لانا ضروری ہے۔ تاکہ لوگوں کو اندازہ ہوسکے کہ جو مدیر اپنا ہر رسالہ تخلیق کرتا تھا۔ اس نے تخلیق شعر و ادب کی کیسی کیسی منزلیں سرکی ہیں۔ میں جناب افتخار امام صدیقی صاحب کا اپنی اور کرناٹک اردو اکیڈمی کی طرف سے دلی خیرمقدم کرتا ہوں۔ اور اپنی ممنویت کا اظہار کرتا ہوں کہ انہوں نے اکیڈمی میں تشریف لانے کی زحمت گوارہ کی۔
ہمیں یقین ہے کہ ان کی آمد کی برکت سے ہم تمام لوگوں میں زبان و ادب کی خدمت کا انہیں جیسا سچا جذبہ پیدا ہوگا اور ہم سب لوگ ان کے خواب کی (جو تمام اردو والوں کا خواب ہے) کی تعبیر کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
اللہ جناب افتخار امام صدیقی صاحب کی عمر دراز کرے۔ اور انہیں صحت مند رکھے۔ تاکہ اردو زبان و ادب کے سر پر ان کا سایہ تادیر قائم رہے۔ آمین

Tuesday, February 28, 2012

باپو جی ایجوکیشنل سوسائٹی شکاری پور کا افتتاحی جلسہ




آج بروز جمعرات بتاریخ ۲۳؍ فروری ۲۰۱۲ء ؁ کو باپوجی ایجوکیشنل سوسائٹی کے تحت شکاری پور ضلع شیموگا میں تعلیمی جائزہ کے تحت ایک جلسے کا انعقاد کیا گیا، اس موقع سے باپوجی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کا افتتاح بھی کیا گیا جس میں مختلف مذاہب کے مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی اور ہندوستان کی کثرت میں وحدت کی تصویر پیش کی۔
باپوجی پیارا میڈیکل کا افتتاح علاقہ کے ایم پی بی وائی راگھووندرا نے کی اس موقع سے کئی سوامی حضرات نے اپنی خوشی کا اظہار کیا اور سوسائٹی کی خدمات کو سراہا، مقامی چرچ کے فادر نے بھی سوسائٹی کے تعلیمی کار کردگی سے اپنی دلی خوشی کا اظہار کیا۔ ایم پی جناب بی وائی رگھووندرا نے اپنے خطاب میں کہا کہ شکاری پور ایک ماڈل کی سی حیثیت حاصل کرچکا ہے۔ یہاں کی پر امن فضا، اور آپسی میل جول مثالی اہمیت کی حامل ہے۔ یہاں تمام مذاہب کے لوگ مل جل کر تعلیمی میدان میں جس اعتماد اور اخلاص سے آگے بڑھ رہے ہیں وہ ایک مثال ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شکاری پور کا تعلیمی ماحول نہایت تسلی بخش ہے یہاں سرکاری اسکولوں کے علاوہ کئی پرائیویٹ اسکول، کالج اور تعلیمی ادارے سرگرم عمل ہیں۔ حکومت کے عمومی جائزے کے مطابق اس وقت شکاری پور میں باون ہزار چھ سو بہتر (52672)بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن سے یہاں کے اسکول و کالج آباد ہیں۔ جناب رگھووندرا نے اعتماد کے ساتھ کہا کہ ہماری حکومت نے کئی مائناریٹی ہاسٹل قائم کیے ہیں ، ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان بچے بھی اعتماد کے ساتھ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے پتا، شری بی، ایس ایڈیورپّا نے شکاری پور کی گلیوں گلیوں میں نئی ترقی کا چراغ روشن کیا اور اقلیتوں کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دی۔ میں ان کے کاموں کو آگے بڑھاؤں گا، انہوں نے شکاری پور کے تعلیمی ماحول کے خوشگوار ہونے کے تعلق سے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حافظ کرناٹکی صاحب کا تعلیمی ادارہ شکاری پور کی تعلیمی فضا کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔ یہ ایسا ادارہ ہے جسے کرناٹک کے مثالی اداروں میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ جہاں دوسرے ادارے بچوں سے فیس لے کر انہیں داخلہ دیتے ہیں وہیں حافظ کرناٹکی صاحب کا ادارہ غریبوں، بے سہاروں، اور یتیموں کو مفت تعلیم دینے اور ان کی کفالت کرنے میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے۔ چوں کہ شکاری پور میں ہر طرح کی تعلیم کا بہت ہی خوشگوار ماحول ہے۔ اس لیے امید ہے کہ یہاں باہر کے بچے بھی حصول تعلیم کے لیے آئیں گے اور اچھی تعلیم و تربیت سے آراستہ ہو کر جائیں گے۔
اس موقع سے کرناٹک اردو اکادمی کے چیرمین حافظ کرناٹکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ آج ہم تمام مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ یہاں حاضر ہیں اور ہندوستان کی رنگارنگ تہذیب کی مثال پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام تعلیم پر توجہ دینے والا ایسا مذہب ہے جس کی ابتدا ہی تعلیم یعنی پڑھنے کی آیت کے نزول سے ہوا۔ ہمارے نبیؐ نے تعلیم کا حصول ہر مسلمان کے لیے فرض قرار دیا ۔ یہ اور بات ہے کہ ان دنوں ہم تعلیم کے میدان میں ذرا بچھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک زمانہ تھا جب اسلام اور مسلمان ساری دنیا کے لیے علم اور تعلیم کی روشنی کا منبع سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے علم وفن اور سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں مسلمانوں کی دین کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ الجبرا جیسا ریاضی کا فن بھی مسلمانوں کی دین ہے۔ انہوں نے مایوسی سے بچتے ہوئے کہا کہ آج بھی مسلمانوں کے یہاں قابلیت اور صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے۔ وہ آج بھی زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی لیاقت اور قیادت کا خوب خوب مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ ایک بار پھر سے تعلیم کو اپنا نصب العین بنالیں تاکہ وہ دنیا میں علم کا نور پھیلاسکیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلام ایک امن پسند اور نہایت شفاف مذہب ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آپسی اتحاد اور محبت کے رشتے کو قائم رکھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال ہمارا ادارہ شکاری پور تک ہی زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے لیکن اللہ نے چاہا تو ہم پورے ملک میں علم کا پیغام پھیلانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ باپوجی سوسائٹی کے روح رواں پاپیّا نے کہا کہ یہ میرا خواب تھا کہ ہم سب ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور تعلیم پر توجہ مرکوز کریں مجھے خوشی ہے کہ آج وہ خواب پورا ہوا۔شکاری پور کی آپسی اتحاد کی یہ فضا یقیناًدوسروں کے لیے ایک مثال بنے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ باپوجی پیارا میڈیکل، ہندومسلم، سکھ عیسائی سب کا ادارہ ہے۔ یہاں سے ہر کوئی فیض حاصل کرسکتا ہے۔
اس جلسے میں شیک رپّا کا ڈاصدر شیموگا، جیوتی رمیش تعلق پنچایت صدر وینا ملّیش صدر بلدیہ اور نگرمہادیو وپّا کانگریس لیڈر نے بھی شرکت کی۔

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP