You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label urdu literarture. Show all posts
Showing posts with label urdu literarture. Show all posts

Sunday, April 29, 2012

چند لمحات جناب افتخار امام صدیقی کے ساتھ



آج بروز جمعہ ۲۷؍ اپریل ۲۰۱۲ء کودوپہر بعد چار بجے کرناٹک اردو اکیڈمی نے اردو کے نہایت غیرجانبدار رسالے کے ’’ماہنامہ شاعر‘‘ بمبئی کے ہر دل عزیز مدیر اور نیک انسان جناب افتخار امام صدیقی کی آمد پر محمود ایاز لائبریری میں ایک شاندار اعزازی جلسے کا اہتمام کیا۔
اس جلسے میں ریاست کے کئی اہم شعرا اور ادبا کے علاوہ کئی اہم صحافیوں نے بھی شرکت کی۔ جب کہ شعر وادب سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کی بھی کثیر تعداد ہال میں موجود تھی۔
ریاست کرناٹک کے جوان رعنا شاعر غفران امجد نے مہمانوں کا استقبال کیا اور جناب افتخار امام صدیقی صاحب کی شخصیت اور ان کی خدمات کا اجمالی تعارف پیش کیا۔
روزنامہ راشٹریہ سہارا بنگلور کے ایڈیٹر اسجد نواز نے افتخار امام صدیقی کی آمد، اور کرناٹک اردو اکیڈمی کے اعزاز پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ اور صدیقی صاحب کو ادب دوست مدیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدیقی صاحب نے فنکاروں کے مستور ہونے کے جوبات کہی تھی وہ سچ تھی۔ اللہ کا شکر ہے کہ ان کی محبت سے فضا بدل رہی ہے۔ قاسم سید جو خود بھی روزنامہ راشٹریہ سہارا دہلی سے منسلک ہیں۔ انہوں نے بھی افتخار امام صدیقی کی مدیرانہ صلاحیت اور تخلیقیت شناسی کا اعتراف کیا اور اکیڈمی کے اس اقدام کو نیک فال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو میرے والد مجھے کبھی کبھار مشاعرے میں لے جایا کرتے تھے۔ اسی زمانے میں میں نے ایک مشاعرے میں جناب افتخار امام صدیقی صاحب کو سنا، ان کا انداز اور ان کا ترنم آج بھی میری سماعت میں محفوظ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدیقی صاحب پیشہ ور شاعر نہیں ہیں۔ وہ واقعی ایک فنکار ہیں، اور فنکارانہ شان سے زندگی جیتے ہیں۔ انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب مجھے کرناٹک اردو اکیڈمی کے بجٹ اور عملے کا علم ہوا تو مجھے بے حد افسوس ہوا۔ دہلی اردو اکیڈمی کا بجٹ آٹھ کروڑ ہے اور عملے کی فراوانی ہے۔ یہ یقیناًحیرت انگیز بات ہے کہ کرناٹک اردو اکیڈمی اتنے کم بجٹ اور نہ کے برابر عملے کے ساتھ اتنے بڑے بڑے کارنامے انجام دے رہی ہے۔
حافظ کرناٹکی چیرمین کرناٹک اردو اکیڈمی نے افتخار امام صدیقی کی آمد پر منظوم خراج تحریر کیا جسے ریاست کے مشہور سنگر جناب حمید اکبر صاحب نے گاکر سنایا۔
جناب افتخار امام صدیقی نے کرناٹک کی ادبی صورت حال پر نہایت خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی بات ہے کہ کرناٹک میں دوسری ریاستوں کی بہ نسبت شعرو ادب کا ماحول نہایت خوشگوار ہے۔ انہو ں نے کرناٹک اردو اکیڈمی کے کاموں کی بھی ستائش کی اور کہا کہ مہاراشٹر اردو اکیڈمی کی کارکردگی کی بہ نسبت کرناٹک اردو اکیڈمی کی کاکردگی نہایت ہی تشفی بخش ہے۔ انہوں نے حافظ کرناٹکی ادبی خدمات کابھی ضمنی طور پر ذکر کیا۔ اور اکیڈمی کو فعال بنانے کے لیے انہیں مبارکباد دی۔
اس موقع سے حافظ کرناٹکی صاحب کا لکھا ہوا ایک بڑا سپاس نامہ بھی جناب صدیقی صاحب کی خدمت میں پیش کیا گیا۔
آخر میں حافظ کرناٹکی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
آج کا دن ہمارے لیے بڑا قیمتی اور قابل افتخار ہے۔ کیوں کہ آج ہمارے درمیان محترمی افتخار امام صدیقی صاحب تشریف فرما ہیں۔
حضرت افتخار امام صدیقی صاحب محض ایک تاریخ ساز مدیر کا ہی نہیں بلکہ ایک لازوال تاریخ کا نام ہے جسے اردو دنیا کبھی فراموش نہیں کرسکے گی۔ علامہ سیماب اکبرآبادی کے گھرانے کے اس روشن چراغ سے میرا تعارف آفاق عالم صدیقی نے کرایا۔ یہ تعارف ہمارے لیے نیک فال ثابت ہوا۔ کیوں کہ میں نے پایا کہ افتخار امام صدیقی صاحب محض ایک مدیر اور شاعر ہی نہیں بلکہ ایک نہایت ہی مخلص، فن شناس، اور نورایمانی سے منور اس شخصیت کا نام ہے جس کی قربت کسی بھی انسان کا دل جیب سکتی ہے۔ ان کی شخصیت میں جو صداقت اور اپناپن پایا جاتا ہے اس کی مثال بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ ’’شاعر‘‘ کی ادارت کے علاوہ کسی کام پر توجہ نہیں دیتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ان کے اندر تخلیقیت خیزی کا ایک سیل رواں جاری ہے۔ جس کے باہر آنے کی دیر ہے۔ اب تک نظم ونثر میں ان کی کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ان کی غزلوں کا ایک مجموعہ ’’چاند غزل‘‘ حمدوں کے دو مجموعے ’’اللہم‘‘ اور ’’انک سمیع الدعا‘‘ نعتوں کے چار مجموعے ’’آپؐ‘‘، ’’آقاؐ‘‘، ’’سرداؐر‘‘، ’’سرکاؐر‘‘اور افسانوں کا ایک مجموعہ ’’ربع دیدی آپ کہاں ہیں‘‘ شائع ہوچکے ہیں۔ جب کہ ’’شاعر‘‘ کے ہزاروں صفحات پر بکھرے ان کے ’’جرعات‘‘، ’’انٹرویوز‘‘ اس کے ماسوا ہیں۔ کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ان کے پاس ہزاروں غیرمطبوعہ غزلوں کا مخزونہ محفوظ ہے۔ بقول افتخار امام صدیقی صاحب، جماعت اسلامی کی ڈائری ’’شب و روز‘‘ کی آٹھ جلدیں ان کی شاعری سے بھری پڑی ہیں۔ یہ حالت ہے ان کے تخلیقی وفور کا۔
یہ ہمارے لیے یقیناًخوشی کی بات ہے کہ آج ہم اردو ادب کے باقیات صالحات جیسی شخصیت کے ساتھ یہاں بیٹھے ہیں۔ اور انہیں دیکھنے اور ان سے باتیں کرنے کا شرف حاصل کر رہے ہیں۔ میں یہاں ایک بات جو خاص طور پر کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر جناب افتخار امام صدیقی صاحب اپنی شاعری کی اشاعت کے لیے راضی ہوں تو اکیڈمی ان کا مجموعہ کلام اپنی طرف سے شائع کرکے خوشی محسوس کرے گی۔
یوں بھی جناب صدیقی صاحب کے کلام کو منصہ شہود پر لانا ضروری ہے۔ تاکہ لوگوں کو اندازہ ہوسکے کہ جو مدیر اپنا ہر رسالہ تخلیق کرتا تھا۔ اس نے تخلیق شعر و ادب کی کیسی کیسی منزلیں سرکی ہیں۔ میں جناب افتخار امام صدیقی صاحب کا اپنی اور کرناٹک اردو اکیڈمی کی طرف سے دلی خیرمقدم کرتا ہوں۔ اور اپنی ممنویت کا اظہار کرتا ہوں کہ انہوں نے اکیڈمی میں تشریف لانے کی زحمت گوارہ کی۔
ہمیں یقین ہے کہ ان کی آمد کی برکت سے ہم تمام لوگوں میں زبان و ادب کی خدمت کا انہیں جیسا سچا جذبہ پیدا ہوگا اور ہم سب لوگ ان کے خواب کی (جو تمام اردو والوں کا خواب ہے) کی تعبیر کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
اللہ جناب افتخار امام صدیقی صاحب کی عمر دراز کرے۔ اور انہیں صحت مند رکھے۔ تاکہ اردو زبان و ادب کے سر پر ان کا سایہ تادیر قائم رہے۔ آمین

Sunday, September 18, 2011

،،گُل کو معلوم ہے، کیا دستِ صبا چاہتا ہے،،


بقراط اور شیفتہ کو چمن میں چہل قدمی کرتے دیکھ ہم بھی شامل ہوگئے۔ گفتگو سنی تو پتہ چلا بقراط پر موجودہ عالمی سیاست کا  بھوت  سوار ہے اور حضرتِ شیفتہ پر شعر وسخن کا غلبہ طاری ہے۔ ہم نے کہا بات کچھ بنتی نظر نہیں آتی اور موضوع ہے کہ بٹاجارہا ہے۔ شیفتہ نے کہا حضور اور دم ہے کہ گُھٹا جارہا ہے، سیاست پر بحث فضول ہے اور وقت کا زیاں ہے، اماں ایک زہرِ ہلاہل ہے سیاست۔ بقراط نے کہا لیکن جناب حالات سے باخبر رہنا بھی اشد ضروری ہے۔ ہم نے کہا ایسا کیجیے سیاست کے زہر کو  ادب و سخن کے آبِ حیات میں گھول دیجیے۔ فرمایا ،  ایسا ہے تو پھرخوب ہے ۔

 بقراط نے کہا، ذرائع ابلاغ میں آجکل ایک امریکی تحقیقی مقالہ زیرِ بحث ہے جس میں بی جے پی کی صوبائی حکومتوں کے ، کام کاج،  پر تعریف کے پل باندھے جارہے ہیں۔  پتہ نہیں کانگریس سے کسی اختلاف  کی وجہ سے یا پھر ،لہو گرم رکھنے کا ہے ایک بہانا۔  لیکن اہلِ ہند امریکہ کی محبت سے واقفیت رکھتے ہیں۔ اب کتنی واقفیت رکھتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو ممالک ایک بار امریکہ کی ،زلفِ پیچاں، کے اسیر ہوئے وہ پھر نکل نہ سکے جب تک کہ سب کچھ لٹا نہ بیٹھے۔ ظالم پیری میں بھی اپنے خد و خال کو مصنوعات سے سنبھالے ہوئے ہے اور ایک عالم کو دیوانہ بنا رکھا ہے۔

 شیفتہ نے فرمایا ، غالباً بقراط صاحب امریکا کی  اہلِ ہند کے ساتھ ،خاصکر گجرات اور بہار کےصوبوں کےساتھ  محبتوں کا ذکر فرما رہے ہیں اور ہمیں پروین شاکر کا مصرعہ یاد آگیا کہ ۔  ،گُل کو معلوم ہے ،کیا دستِ صبا چاہتا ہے،۔ بلکہ ہمیں تو یہ محبت میں دست درازی کا معاملہ لگے ہے۔  بی جے پی کی چُنری میں تو پہلے ہی سے داغ لگا ہے اس لیے عصمت پر حرف آنے کا سوال ہی نہیں۔ ہاں بی جی پی   سیاستداں  اس محبت میں آنکھیں موند کر دل ہی دل خوش ہو رہے ہیں اور انکی امریکا کے تئیں یہ کیفیت کسی بلبلہ کی طرح  ہے کہ۔
موند رکھنا چشم کا ہستی میں عینِ دید ہے
کچھ نہیں آتا نظر، جب آنکھ کھولے ہے حباب
فرمایا،  ناخدائے سخن میر کایہ فصاحت و بلاغت سے معمور شعر ان اہلِ ادب کو کرارا جواب ہے جنھیں میر کی سادہ بیانی کا گِلہ رہتاہے۔ ہم نے کہا حضور میر کا یہ لقب ،ناخدائے سخن،  بھی ان اہلِ ادب کے لیے نصیحت ہے جو اکثر و بیشتر اس لقب سے ،نا، کو حدف کر اپنی شامتِ اعمال کو دعوت دیتے ہیں۔

 بقراط نے کہا، بی جے پی کے ساتھ ساتھ مودی بھی اس امریکی تعریف و توصیف  پر پھولے نہیں سما رہے ہیں اور مغرب زدہ ذرائع ابلاغ نے مودی کی بڑ  کو سرخیوں میں رکھا ہے۔ بلکہ بی جے پی کو اپنے ،پی ایم، امیدوار کے لیے جس ،چہرہء نازیبا، کی تلاش تھی یہی میڈیا مودی کی تصویرمیں وہ چہرہ پیش  کر رہا ہے اور ہندوستان کا دردناک مستقبل تشکیل کر رہا ہے۔ ۔ مودی اب اقلیتوں کو لبھانے  میں لگے ہیں۔ شیفتہ نے  ناگواری سے فرمایا  ۔
،، شش جِہت سے اس میں ظالم! بوئے خوں کی راہ ہے
تیرا کوچہ، ہم سے تو کہہ، کس کی بسمل گاہ ہے۔،،
بقراط نے کہا، اب ناز واندام دیکھیے کہ مودی گاندھی جی کی تقلید میں برت بھی رکھ رہے ہیں۔ ایک تو یہ پھلوں کے رسں سے بھرپور روزہ یا برت آج تک ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔ اور کیا مجال ہے جو یہ  سیاستداں ،مرن برت، یا ،مون برت، رکھیں۔ مر نہ جاویں بے موت۔ شیفتہ نے فرمایا تقلید پر ایک شعر یاد آیا کہ۔
تری تقلید سے کبکِ دری نے ٹھوکریں کھائیں
چلا جب جانور انساں کی چال، اسکا چلن بگڑا
بقراط نے کہا، عدالتِ عالیہ کے مودی پر مقدمہ میں دئے گئے حالیہ فیصلے کو بی جے پی اسی طرح میڈیا کے ذریعہ پیش کررہی ہے اور عوام کو گمراہ کررہی ہے جس طرح بابری مسجد کی شہادت کے فیصلے پر  پچھلی بار پیش کیا تھا۔ شیفتہ نے فرمایا جناب مودی کے معاملہ میں ہم جیسوں کو تو عدالت کا رخ یہ لگے ہے جیسے کہہ رہی ہو۔
خود مسیحا، خود ہی قاتل ہیں، تو وہ بھی کیا کریں
زخمِ دل پیدا کریں، یا زخمِ دل اچھا کریں
اور مسلمانانِ ہند عدالت سے مذکورہ دونوں مقدمات میں یہ توقع وابستہ کئے ہوئے  ہیں کہ۔
اسی امید پر باندھے ہوئے ہیں ٹکٹکی مئےکش
کفِ نازک پہ اک دن رکھ کے ساقی جام آئے گا
  بقراط نے کہا حضور اڈوانی پر کیا کہیے گا کہ وہ پھر آخری بار رتھ یاترا پر بیٹھنے جارہے ہیں کہ چاہے اب یاترا شمشان پر ختم ہو یا پی ایم کی کرسی پر۔ فرمایا انکی رتھ یاترا پر یہ شعر یاد آیا کہ۔
خوشی سے اپنی رسوائی گوارا ہو نہیں سکتی
گریباں پھاڑتا ہے، تنگ جب دیوانا آتا ہے۔
اور انکی پی ایم بننے کی آخری خواہش کا حال یہ ہے کہ۔
مانگا کریں گے اب سے دعا ہجرِ یار کی
آخر کو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ
  بقراط نے کہا حضور کانگریس کی نیم مردہ حالت دیکھیے جو اسکے اندر بسے  خاموش ،شدت پسند خیمہ، کا کیا دھرا ہے۔ موجودہ سیاسی حالات دیکھکر کانگریس مسلمانوں کو پھربہلا پھسلارہی ہے۔ شیفتہ نے فرمایا مسلمان سب سمجھتا ہے اس شعر کے مصداق۔
چاہتا ہے مجھکو تو، بھولے، نہ بھولوں میں تجھے۔
تیرے اس طرزِ تغافل کے فدا ہو جائیے۔
بقراط نے کہا، لیکن جناب کانگریسی مسلم رہنماوں کو ابھی تک یہ پتہ نہیں ہے کہ امت کے مسائل کیا ہیں اور وہ تو یہ کہے ہے کہ۔
تو کہاں جائیگی کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے
ہم تو کل خوابِ عدم میں، شبِ ہجراں ہونگے
اور بی جے پی مسلم رہنما یہ کہے ہے کہ۔
مکّدر یا مصفّا، جسکو یہ دونوں ہی یکساں ہوں
حقیقت میں وہی مہ خوار ہے، پینا اسی کا ہے
یہ سنتے ہی شیفتہ طیش میں آکر گویا ہوئے۔ بی جے پی کے نام نہاد مسلمانوں سے کہیے۔
وہ فریب خوردہ شاہین، کہ پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے، رہ و رسمِ شاہبازی
اور کانگریسی مسلم رہنماؤں کو جواب یہ ہے کہ۔
ایک ہم ہیں، کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
ایک وہ ہیں، کہ جنہیں چاہ کے ارمان ہونگے۔
اور سلمان خورشید صاحب کے تعلق سے عرض ہے کہ۔
لوگوں کو ہے خورشیدِ جہاں تاب کا دھوکہ
ہر روز دکھاتا ہوں میں ایک داغِ نہاں اور
 بقراط نے کہا ، جناب کانگریسی رہنماؤں کا بی جے پی کے سامنے یہ حال ہوجاتا ہے مانو لڑ لڑ کر تھک چکے ہوں۔یاجیسے کوئی سفید پوش کسی برہنہ دیوانے سے تنگ آکر راستہ بدلنے پر غور کررہا ہو۔ شیفتہ نے فرمایا حضور ٹی وی پر بحث و مباحثہ میں کانگریسیوں کی نحیف و نادار دلیلیں سن کر لگتا ہے کہ۔
سر کھجاتا ہے جہاں زخمِ سر اچھا ہو جائے
لذت سنگ بہ اندازہء تقریر نہیں
بقراط نے کہا دونوں خیموں میں صنفِ نازک کے مسائل پر نالاں خواتین سیاستدانوں کایہ حال ہے کہ۔
داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی ہے، سو وہ بھی خموش ہے
بی جے پی  میں ایک خاتون ہیں ، جن کو بی جے پی نے مسلمانوں کے ساتھ تجدیدِ وفا کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے۔ وہ اکثر ٹی وی پرجلوہ نما ہوتیں ہیں ایک کہنہ مشق بزرگ بی جے پی سیاستداں کا سہارا  لیے یا پتہ نہیں سہارا بنے ۔ شیفتہ نے کہا ہاں انہیں دیکھکر یہ خیال آیا کہ۔
ہوئے ہیں پاؤں پہلے ہی نبردِ عشق میں زخمی
نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے، نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے
بقراط نے کہا ، جناب بی جے پی این ڈی اے گٹھ جوڑ میں چند اعتدال پسند بھی ہیں اور اقلیتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں لیکن زیادہ تعداد شدت پسندوں کی ہے۔  بی جے پی کو ایک عرصہ لگے گا اپنی دشمنی کے داغ  دھونے اور اگر وہ دھو بھی ڈالیں تو بی جے پی کے شدت پسند انہیں  مٹنے نہیں دیں گے۔ شیفتہ نے فرمایا اس لیے مسلمان یہی سوچتا ہے کہ۔
راضی ہیں، ہمکو دوست سے ہو دشمنی، مگر
دشمن کو، ہم سے دوست بنایا نہ جائے گا
اور کانگریس کے متعلق یہ بھی خیال رکھتا ہے کہ۔
بگڑیں نہ بات بات پہ کیوں، جانتے ہیں وہ
ہم وہ نہیں، کہ ہم کو منایا نہ جائے گا
  بقراط نے کہا ، حضور ویسے یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستان کی سیاسی جماعتیں ،بھکاری، اور  ،قلندر فقیر، کا فرق سمجھ نہیں پائیں۔ ان جماعتوں سے مسلمان کے ،مزاجِ فقیرانہ، کو سمجھنے میں کوتاہی ہوئی ہے پھر چاہے وہ بی جے پی ہو یا کانگریس ہو یا سماج وادی یا کوئی اور۔ شیفتہ نے فرمایا، سماج وادی کے امر سنگھ کا حال دیکھیے، کیا بد حال  ہیں آجکل جو کبھی بادشاہ گر کہلاتے تھے۔ آج جیسے کہہ رہے ہوں کہ۔
دیکھو مجھے، جو دیدہء عبرت نگاہ ہو
میری سنو، جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
 بقراط نے کہا، اور امرسنگھ کے تعلق سے ملائم جی شاید یہ سوچتے ہوں کہ۔
میں بھی کچھ خوش نہیں وفا کرکے
تم نے اچھا کیا، نباہ نہ کی
 شیفتہ نے فرمایا کئی سیاستداں ہیں جو رشوت خوری، بد عنوانی اور اوچھے سیاسی ہتھکنڈوں کی پاداش میں قید و بند میں ہیں اور جنکا حال بقول میر۔
دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انھیں
تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا
کئی بڑے سیاستداں و صنعتکار اور اداکار امر سنگھ کے تعلق سے یہ سوچ رہے ہوں گے کہ۔
تو مجھے بھول گیا ہو تو پتہ بتلا دوں
کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
بقراط نے کہا ،  خود بی جے پی کے اعتدال پسند لیڈر جناب اٹل بہاری واجپائی کا یہ حال ہے کہ بہت عرصہ قبل انکی اعتدال پسندی کی وجہ سے انھیں آرام کرنے کا کہہ کر سیاست سے دور رکھ دیا گیا۔  اور  وہ بے چارے خود شاعر بھی ہیں۔ شیفتہ نے فرمایا یہی کہتے ہونگے کہ۔
گو ہاتھ کو جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا، مرے آگے
  فرمایا، ویسے تو ہندوستان کے زیادہ تر بزرگ سیاستدانوں کا یہی حال ہے۔ البتہ پاکستان کے سیاستدانوں کی عمر کا اوسط بہتر ہے اور وہ دن بدن اور بہتر کرنے میں کوشاں ہیں۔  لیکن انکی سیاست کی عمر کا اللہ ہی حافظ ہے۔  امریکا سے تعلقات پر پاکستانی سیاست کی یہ سوچ ہے کہ۔
آنکھ اسکی پھر گئی تھی، دل اپنا بھی پھر گیا
یہ اور انقلاب ہوا، انقلاب میں
زرداری صاحب سوچ رہے ہیں کہ۔
گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے
خوش ہوں، کہ میری بات سمجھنا محال ہے
پاکستان کے چند مغرب زدہ سیاستداں ایسے بھی ہیں جو آج بھی امریکا سے تعلقات پر اسی خوش فہمی میں ہیں کہ۔
ہے ہے! خدانخواستہ، وہ اور دشمنی
اے شوق، منفعل، یہ تجھے کیا خیال ہے
بقراط نے کہا، حضور  امریکہ میں مقیم پاکستانی اہلِ خرد کا کچھ اور ہی خیال ہے۔ انھوں نے نو گیارہ کی برسی پر مقامی اخباروں میں امریکیوں کو یہ  باور کرانے میں تن من دھن لگا دیا کہ پاکستان دہشت گرد ملک نہیں بلکہ خود دہشت کا شکار ہےلیکن امریکیوں کا رد عمل ایسا تھا کہ ان اہلِ خرد کو کہنا پڑا کہ۔
جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
اے کاش! جانتا نہ تری راہ گزر کو میں
 کچھ نے تھک ہار کر اب یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ۔ 
یارب! وہ نہ سمجھے ہیں، نہ سمجھیں گے مری بات
دے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور
شیفتہ نے فرمایا، جناب چند سال قبل تک عرب ممالک کے توسط سے بگڑی باتیں بن جایا کرتی تھی لیکن اب تو جدید عربی نسل بہ اندازِ چکیدن سر نگوں ہیں۔  اکثر پاکستانی اہلِ فکر و نظر اور اہلِ علم و ادب اب یہ سوچتے ہونگے کہ ۔
تیری وفا سے کیا ہو تلافی؟ کہ دہر میں
تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
لکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خونچکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
عرب ممالک  خود بھی خوابِ خرگوش سے چھٹکارا کہاں پاسکے ہیں۔  ہاں امریکہ کے تئیں یہ خیال ضرور ہے کہ۔
اے پیکرِ محبوبی! میں کس سے تجھے پوچھوں
جس نے تجھے دیکھا ہے، وہ دیدہء حیراں ہے
سو بار ترا دامن ہاتھوں میں میرے آیا
جب آنکھ کھلی، دیکھا، اپنا ہی گریباں ہے
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP