You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label shamsher pathan. Show all posts
Showing posts with label shamsher pathan. Show all posts

Tuesday, March 26, 2013

ضرورت ہے عزم و ہمت کی ۔ کامیابی یقینی ہے ۔سہیل لو کھنڈ والا





 ضرورت ہے عزم و ہمت کی ۔ کامیابی    یقینی ہے ۔سہیل لو کھنڈ والا
ڈاکٹر حافظ کرناٹکی ہماری قوم کا اثاثہ  ہے ۔ شمشیر خان پٹھان
کرناٹک میں اردو کو دوسری زبان  بنایا جاۓ ۔ہم یہ مانگ کررہے ہیں۔
لنترانی میڈیا ہاؤس  کے زیر اہتمام  ڈاکٹر حافظ کرناٹکی    کو   بمقام       پرشین دربار ہوٹل بھائیکلہ   میں  ا عزازی استقبالیہ دیا گیا ۔    کیوں کہ حافظ کرناٹکی   کو  گلبرگہ یونیورسٹی  کرناٹک  میں ووکیشنل پروگرام  میں کرناٹک کے گورنر ہنس راج بھار دواج کے ہاتھوں  ان   علمی و  ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوۓ ۔ ڈاکٹریٹ کی ڈگری  تفویض کی گئی ہے ۔ اس  خوشی کے  موقع پر لنترانی میڈیا ہاؤس کی جانب سے سپاس نامہ ، میمینٹو، شال اور پھولوں  سے ان کا استقبال کیا گیا ۔ اس تقریب کی صدارت کمہارواڑہ ویلفیئر کے صدر نصیر پٹھان صاحب نے کی۔مہمان  خصوصی کینسر اینڈ کیر کے ڈائریکٹر  سہیل لو کھنڈوالا صاحب  رہے ۔مہمان اعزازی شمشیر خان پٹھان صاحب ،  نظام الدین راعین صاحب  رہے ۔اس تقریب میں  شہر کی معزّز شخصیات موجود تھیں ، سلیم الوارے ، ارشاد خطیب صاحب ، حسرت سر ،  پروفیسر جمیل کامل ، ڈاکٹر شاہد صدیقی،لوک کلیان کاری سنستھا کے  جنرل سیکریٹری  ناصر خان ، دوردرشن ممبئی سے نیوز ڈائریکٹر  احمد منظور صاحب ، مشہور ومعروف شاعر    عبدالا حد ساز بھائي ، معین الدین شیخ ، نگار سلطا نہ ، ممتاز اقبال نیازی ،    نادرہ موٹلیکر ، ریشماء دلاور بھائی  ، انجم بدایونی ،  سرفراز پٹھان   ،سمیع شیخ اور اشفاق بھائی ، اس تقریب کو اپنے نظامت کے خوبصورت انداز سے  اقبال نیازی سر نے  چار چاند لگا ديئے۔سلیم الوارے صاحب نے ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کو بڑے ہی موثر انداز میں سپاس نامہ پیش کیا ۔اورایک خاص بات کی طرف رجوع کیا کہ  ویسے تو ہزاروں لوگ  ڈگریاں حاصل کرتے ہیں ۔ مگر ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوۓ  صرف 45 لوگوں کو ہی  یہ شرف حاصل ہوا ہے ۔ جس میں ایک ہمارے کرٹاٹکی صاحب ہیں ۔جمیل کامل صاحب نے کرناٹکی صاحب کو بچوں  کے ادب کا امام کہا ہے  سہیل لوکھنڈوالا صاحب نے کہا کہ تنقید کے لیۓ زبان سترگز کی ہوتی ہے پر تعریف کے لیۓ زبان لڑکھڑاتی ہے ۔شمشیر پٹھان صاحب نے کہا کہہم دیا کرتے ہیں کہ مہاراشٹر میں بھی حافظ مہاراشٹروی پیدا ہوجاۓ اور اردو کا بول بالا کردیے ۔ نطام الدین راعین صاحب نے لنترانی کے کاموں کو سراہا  اور مبارکباد دی کہ لنترانی میڈیا ہاؤس کے ذریعے  علمی و ادبی پروگرام کوریج کرکے محتلف ممالک میں دکھاۓ جارہے ہیں  جو کا قابل تعریف ہے ۔لنترانی کی ڈائریکٹر منور سلطانہ نے کہا کہ  انسان اس کے نام سے نہیں بلکہ کاموں سے پہچانا جاتا ہے ۔ لنترانی کی پہچان ہے اور وہ اردو کی خدمات انجام دیتی رہے گي ۔ اس وقت  علمی وادبی او ر سیاسی  اور  علم دوست موجود تھے ۔  پروگرام بہت کامیاب رہا ۔ اس پروگرام کے کنوینر عوامی وکاس پارٹی کے ممبئی پرسیڈینٹ   اعجاز مقادم تھے  ۔پروگرام بہت کامیاب رہا ۔



Wednesday, May 02, 2012

مسلم اور دلت اتحاد کے ساتھ ہی عوامی وکاس پارٹی کا قیام









 محروم طبقات کو انکے حقوق دلانے کا عزم یکم مئی مزدوروں کا بین ا لاقوامی دن اور یوم مہاراشٹر کے موقع پر مہراشٹر کے مسلمانوں اور دلتوں نے ایک نئے عزم کے ساتھ ایک سیاسی پارٹی کی بنیاد ڈالی ئجس کا اعلان آج یکم مئی کو ممبئی کے کنگ سرکل میں واقع شان مکھانند ہال میں سبک دوش اسسٹنٹ پولس کمشنر ممئی شمشیر خان پٹھان (صدر ) اور ببن کامبلے (نائب صدر) نے کیا ۔اس تاریخی اجلاس کا افتتاح بچوں کے ذریعہ بنے ماڈل سے ہوا جس میں کوئی شیوا جی تھا تو کوئی مولانا آزاد ۔ایم اے خالد جو کہ ایک آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ ہیں نے اپنے افتتاحی کطاب میں کہا کہ مسلمانوں دلتوں اور دیگر محروم طبقات کے لئے یہ ایک متحدہ پلیٹ فارم ہے۔عام طور پر سیاسی پارٹیاں دو وجوہات کی بنا پر بنا کرتی ہیں ایک تو اس پارٹی بغاوت کرکے ایک الگ پارٹی بناتے ہیں دوسرے اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے ۔انہوں کہا کہ جب ہمارے مقدر کا فیصلہ پارلیمنٹ ،اسمبلی اور کارپوریشن میں ہوا کرتا ہے تو کیوں نہیں ہم اپنے نمائندے وہاں بھیجیں جو ہمارے حقوق کی حفاظت کریں۔انہوں کیرل کی مثال دی کہ وہاں مسلمان حکومت میں شراکت دار ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ وہاں مسلمانوں کے سات میڈیکل کالج ہیں۔کیرل کے مسلمانوں کی حیثیت پورے ملک کے مسلمانوں اور محروم طبقات کیلئے رہنما کی سی ہے۔ڈی ساونت نے کہا کہ سنجیدگی سے پورے عزم و حوصلے کے ساتھ قدم آگے بڑھائیں تو یقیناًکامیابی ملے گی۔امتیاز پیر زادہ (پونے) نے اپنے مسائل خود کے زریعہ بنائے گئے سیاسی پلیٹ فارم سے ہی ممکن ہے ۔ہم نے کانگریس کو ووٹ دیا لیکن کانگریس نے ہمیں TADA,POTA,MCOCA جیسے ظالمانہ قانون دیئے انہوں نے ہمیں بھیونڈی ،ممبئی سمیت انگنت فساد دئے ۔ہم نے انہیں ووٹ دیا انہوں نے ہمیں دہشت گرد اور غداری کا لیبل دیا۔ہماری یہ بری حالت کس نے بنائی اسی کانگریس اور این سی پی کی حکومت نے ،ہم اپنی کوئی مانگ لیکر جاتے ہیں تو کلکٹر ہمارے سامنے تو یہ کہتا ہے کہ ہم غور کریں گے ،لیکن ہمارے وہاں سے ہٹتے ہی وہ ہمارے مطالبات والی فہرست یا درخواست کچڑے میں پھینک دیتا ہے ۔اس لئے ہم بیداری کا ثبوت دیں عوامی وکاس پارٹی کا ساتھ دیں جو ہمارے حقوق کے لئے لڑیں گے۔ مبارک کاپڑی نے کہا کہ جو قوم قوالی میں پانچ پانچ گھنٹے دیتی تھی آج وہ تعلیمی لیکچر میں اس سے زیادہ وقت دے رہی ہے جو قوم کے اندر تبدیلی کا اشارہ ہے۔جس دن سے عوامی وکاس پارٹی کا اعلان ہوا ہے مجھے جو ای میل اور sms ملے ہیں اس میں سے نوے فیصد لوگوں نے میری حمایت کی ہے باقی جو دس فیصد مخالف ہیں انہوں نے بھی اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ کہیں سیاست میں پھنس کر تعلیمی تحریک سے میں پیچھے نہ ہٹ جاؤں ،میں وعدہ لرتا ہوں کہ میں اسی طرح اپنی تعلیمی تحریک میں جٹا رہوں گا ۔اس پارٹی میں ہوں لیکن میں کبھی الیکشن نہیں لڑوں گا ۔انہوں نے کہا کہ پچھلے کئی دہائیوں سے میں تعلیمی تحریک سے جڑا ہوا ہوں مجھے اندازہ ہے کہ ہمارے بچوں میں ذہانت کی کمی نہیں ہے لیکن چونکہ مسلمان مالی طور پر پسماندہ ہے اس لئے وہ انجینیئر بننے کے بجائے میکنک بن جاتا ہے ۔مسلمانوں کو اسکولر شپ دینے میں بھی ٹال مٹول اور آنا کانی سے کام لیا جاتا ہے ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق دو لاکھ سے زائد درخواست مولقانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن میں پڑا ہوا ہے جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ماہر تعلیم مبارک کاپڑی نے کہا کہ ہمارے دکھ ایک ہیں ہمارے دشمن بھی ایک ہیں ۔ہماری ترقی کی راہوں میں سیاست داں اور برہمنی بیورو کریسی روڑا ہے۔ سرفراز آرزو ایڈیٹر روزنامہ ہندوستان نے کہا کہ شیو سینا بی جے پی حکومت میں وزیر اعلیٰ منوہر جوشی نے اردو اکیڈمی کا بجٹ تیس لاکھ کیا اور انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ اس کو ایک کروڑ تک کر دیں گے لیکن اس وقت سے بجائے بجٹ میں اضافہ ہونے کہ ہر سال بجٹ میں کمی ہی کی جاتی رہی ہے۔مسلم یونیورسٹی کی شاخ کے لئے جس میں ریاستی حکومت کو ایک پائی بھی خرچ نہیں کرنا ہے لیکن اقلیتوں کی ہمدردی کا دعویٰ کرنے والی حکومت اس کے لئے زمین بھی مہیا نہیں کروارہی ہے۔جبکہ کیرلا بہار اور مغربی بنگال کی حکومت نے زمین مہیا کرادی ۔مہاراشٹر میں مسلمانوں کا ایک بھی میڈیکل کالج نہیں ہے۔سیاست کی بساط پر جو طئے کر دیا گیا ہے اس سے ہم ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھاپارہے ہیں ۔نئی سیاسی پارٹی کیوں اس پر انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسی کوشش ہوئی لیکن وہ بار آور نہیں ہو سکی ۔یہ دوسری کوشش ہے ہم پچھلی ناکامی سے سبق لیکر اس کو ناکامی سے بچانے کی کوشش کریں گے۔ جاوید پاشا نے کہا کہ جب تک غلاموں کو غلامی کا احساس نہیں کریا جائے تب تک بیداری نہیں آتی۔ڈاکٹر ایمبیڈکر نے کہا تھا کہ جو سماج سیاست میں شریک نہیں ہوتا وہی غلط سیاست کا سب سے پہلا شکار ہوتا ہے۔ہم نے آزادی کے بعد سے جسے ووٹنگ کرتے رہے اسی نے ہمارا کردار بدنماء بنانے کی کوشش کی آج حالت یہ ہے کہ سرکاری نوکریوں میں تو ہمارا تناسب دو فیصد ہے لیکن جیلوں میں ہمارا تناسب پینتیس فیصد سے زیادہ ہے۔اگر ہم نے ہوشمندی سے کام لیا ہوتا تو نقشہ اس کا الٹا ہوتا ۔انہوں نے کہا کہ یہاں جوش خروش دکھانے سے کچھ نہیں ہوگا یہ بات آپ کے دل میں بیٹھنی چاہیئے کہ ہماری پسماندگی کا ذمہ دار کون ہے اور اس کا علاج کیا ہے ۔ہم آپ کو اس پارٹی کے ذریعہ ووٹ کی لاٹھی دینے آئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی پہلی پارٹی ہے جو یہ اعلان کرتی ہے کہ کسی بھی مجرمانہ بیک گراؤنڈ والے کو نہ تو اس پارٹی میں جگہ ملیگی اور نہ ہی ایسے شخص کو ٹکٹ دیا جائے گا ۔یہ ایک دو دن کی ایک دو سال کی لڑائی نہٰں ہے ۔یہ لمبی لڑائی ہے اس میں قربانی دیجئے گا جب ہی کامیابی ملیگی قربانی اور کامیابی ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں ۔ہم پوری مثبت انداز فکر کے ساتھ اس میں آئے ہیں ۔ارشاد خطیب نے کہا کہ وقف کی زمینوں پر جو قبضہ ہے ہم انہیں واپس لیں گے یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ہمارے پاس حکومت کی طاقت ہو۔ ببن کامبلے جو کہ اس پارٹی کے نائب صدر ہیں نے کہا کہ اس حکومے اور انتظامیہ نے مسلمانوں کی ایس صورت بنادی ہے کہ مسلمان کی پہچان دہشت گرد کی سی بن گئی ہے ،جو لوگ یہ سمجھتے ہیں انسے میرا سوال ہے کہ کیا سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر مسلمان ہے؟مسلمان بھی اس ملک میں اتنا ہی حق رکھتے ہیں جتنا دوسری قومیں اور یہ ضمانت ہمیں یہاں کے دستور نے دی ہے۔انہوں نے پرجوش انداز میں سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج سے اگر کسی دلت پر کوئی پریشانی آتی ہے تو مسلمان اس کی مدد کریں اور اگر کسی مسلمان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو دلت اپنے مسلمان بھائی کی مدد کریں ۔اپنی طاقت کو سمجھئے آپ کی تعداد ۳۹ فیصد ہے اگر آپ بیدار ہوگئے تو حکومت آپ کی ہی ہوگی اس سے کم ووٹ حاصل کرنے والے آپ پر حکومت کرتے ہیں ۔پہلے حکومت پر قبضی کیجئے اور پھر اپنے لئے ریزرویشن مانگئے اس وقت آپ کو بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔صرف مسلمانوں نے اتر پردیس میں مایا کا ساتھ چحوڑ دیا تو مایا کی حکومت چلی گئی تو کیا یہا مہاراشٹر میں دلت مسلم اور ایمبیڈکر سماج ملکر حکومت پر قبضہ نہیں کر سکتے۔ شمشیر خان پٹھان نے کہا کہ میڈیا پولس اور سیاست دانوں کی ملی بھگت سے مسلمانوں کی تصویر بگاڑی گئی ہے ۔ہر ہندو تیو ہاروں کے موقع پر آئی بی کی طرف سے یہ الرٹ جاری کیا جاتا ہے کہ دو یا چار یا چھ دہشت گرد بھارت میں گھس آئے ہیں ۔انکے اسکیچ بھی جاری کئے جاتے ہیں ۔جو کہ گنپتی یا کسی بھی پوجا پنڈالوں کے باہر بھی لگائے جاتے ہیں عام ہندو داخل ہوتے ہوئے اور نکلتے ہوئے اسے دیکھتا ہے اور اس کے دل میں مسلمانوں سے بھر جاتی ہے ۔لیکن یہ دہشت گرد کبھی پکڑے نہیں جاتے ایسا صرف ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خلیج کو گہرا کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔حکومت عوام کو شراب اور جوئے میں پھنسا کر بنیادی ضروریات کی طرف سے انکے ذہن کو موڑ رہی ہے۔میں عزم مصمم لیکر آیا ہوں جو باتیں کہہ رہا ہوں صدق دل سے کہہ رہا ہوں یہ محض گفتار نہیں ہے ۔میں کرکے دکھاؤں گا ۔اگر ہمیں موقع ملے گا تو ہم شراب اور لاٹری پر مکمل پابندی لگا دینگے۔کیوں کہ شراب اور لاٹری کے ذریعہ غریب اور جاہل عوام کا پیسہ سفید کالر غنڈوں کے جیب میں چلا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس ریکارڈ ہے کے سیاست دانوں نے مختلف بہانوں سے ہزاروں ایکڑ زمینیں ہتھیا رکھی ہیں ۔لیکن ہم ہمارا اسمٰعیل یوسف کالج کی ۵۔۶۲ ایکڑ زمیں مانگتے ہیں لیکن حکومت ہمیں ہماری زمین نہیں لوٹاتی ۔آج کے بعد میری زندگی قوم کے لئے وقف ہے اب چاہے ان راہوں میں کتنی ہی مشکلات سے گزرنا پڑے خواہ جان ہی کیوں نہ گنوانی پڑے۔ اس سلسلے میں ہم نے شرکاء میں سے بھی کچھ لوگوں کی رائے جاننے کی کوشش کی ۔محمد مسرت جو کہ رے روڈ سے آئے تھے اور جن کا تعلق اتر پردیس سے ہے نے اپنے خیالات کچھ اس طرح بیان کئے’’یہ عوامی وکاس پارٹی اس لئے ہے کہ ہم اپنے قدموں پرکھڑے ہوسکیں ،آخر کب تک ہم دوسروں پر انحصار کریں ۔مسلم عوام کی بھی رائے یہی ہے کہ مسلمانوں کی اپنی سیاسی پارٹی ہو جو ہمارے حقوق کی لڑائی لڑے ۔کانگریس نے آزادی کے بعد سے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔تریمبک جادھو جو کہ کوپر کھیڑا نئی ممبئی سے اس افتتاحی اجلاس میں شریک ہوئے تھے کا خیال ہے کہ دلت مسلم اتحاد وقت کی ضرورت ہے اگر ہم دلت اور مسلم متحد ہوجائیں ظلم و استحصال کا خاتمہ ہوجائے گا پچھلے پینسٹھ سالوں سے مسلمان اور دلت جس ظلم کو سہتے آرہے ہیں اب اس کے اختتام کا وقت آگیا ہے۔کرلا سے آئے ہوئے خان صاحب نے کہا کہ یہ ایک اچھی کوشش ہے ہماری خواہش ہے کہ یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہو اور دشمنوں کی نظر بد سے یہ محفوظ رہے۔جبکہ بھیوانڈی سے آئے ہوئے ڈاکٹر سعید انصاری کی رائے مختلف ہے ان کا کہنا ہے کہ کسی نئی یا مسلم سیاسی پارٹی کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔پہلے سے ہی بہت سی سیاسی پارٹیاں موجود ہیں ۔اتنی ساری پارٹیوں کی موجودگی میں اس پارٹی کا اقتدار میں آنا مشکل ہے۔مسلمانوں کی بھی کئی سیاسی پارٹیاں موجود ہیں ۔مسلمان اور دلت پہلے سے ہی کئی خانوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔یہ لوگ کس سے اتحاد کریں گے یہ ابھی سمجھ میں نہیں آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس مسلمانوں کے لئے کم نقصاندہ ہے ۔اس سوال پر کہ آزادی کے بعد سے کانگریس ہی بر سر اقتدار رہی ہے اور مسلمانوں کی حالت کسی سے مخفی نہیں ہے ،پھر بھی آپ یہ کہتے ہیں کہ کانگریس ہی بہتر ہے ۔اس پر انہوں نے کہا کہ مسلمان ہی اس کے لئے ذمہ دار ہیں ۔ 

Sunday, April 29, 2012

شمشیر خان پٹھان قوم کے ہمدرد






شمشیر خان پٹھان قوم کے ہمدرد ،استقبالیہ اور الوداعی تقریب میں معززین کا اظہار خیال۔
شمشیر خان پٹھان جنہوں نے مہاراشٹر پولس میں نمایاں خدمات انجام دیں ، اور انہیں پروموشن دیکر اے سی پی بنایا گیا ہے۔پچھلے کئی دنوں سے وہ اردو داں حلقوں اور اردو میڈیا میں گفتگو کا موضوع ہیں ۔انہوں نے پولس کی ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد بھی سرگرم عوامی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ہے۔وہ مہاراشٹر میں مسلم اور پسماندہ طبقات کے وسیع تر مفاد میں ایک سیاسی پارٹی کی بناڈال رہے ہیں ۔ان کے پولس میں رہتے ہوئے کارناموں اور ریٹائر منٹ کے بعد کے سیاسی عزائم کو دیکھتے ہوئے موو منٹ فار ہیومن ویلفیئر نے الوداعیہ اور استقبالیہ دیا الوداعیہ انکے پولس سے ریٹائر منٹ کے لئے جبکہ استقبالیہ انکے سیاسی عزائم کے لئے ۔اس تقریب میں شہر کی مشہور و معروف شخصیتوں نے شرکت کی اور ان کے ماضی کے کارناموں اور مستقبل کے عزائم کو سراہا۔تقریب میں شریک ایک کانگریسی ترجمان کو مسلمانوں کا کوئی سیاسی پلیٹ فارم بنانا شاید کچھ اچھا نہیں لگا انہوں نے انہیں ڈرانے کی کوشش کی کہ مسلمان اپنے قائد کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے ۔تقریب موجود جہاں اکثر لوگوں نے انکی اس بات پر تالیاں بجائیں وہیں کچھ لوگوں کو اعتراض تھا ۔سامعین میں سے ایک شخص سے اس سلسلے میں استفسار کرنے پر انہوں نے اس نمائندہ کو بتا یا کہ یہ سراسر غلط اور مسلمانوں پر الزام ہے کہ مسلمان اپنے قائد کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے یہ بات کوئی شخص صرف دو وجوہات کی بنا پر کہہ سکتا ہے ۔اول اس کی تاریخی اور مسلمانوں کی حالیہ معلومات صفر ہو ،دوئم وہ کسی سیاسی پارٹی سے وابستہ ہو اور جان بوجھ کر مسلمانوں کی حوصلہ شکنی کے لئے ایسی باتیں کر رہا ہو۔ تقریب میں موجود ایک اور شخص نے یہ کہا، انشاء اللہ اگر لوگ اخلاص نیت کے ساتھ مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کے لئے کام کرنے کے لئے قدم آگے بڑھائیں تو مسلمان انہیں مایوس نہیں کریں گے ۔ اس تقریب میں علی ایم شمشی ،مبارک کاپڑی،ڈاکٹر عبد اللہ ،نظام الدین راعین،ماہر نفسیات ڈاکٹر ماچس والا،سلیم الوارے ،مولانا شعیب کوٹی،فرید شیخ،مولانا محمود دریاآ بادی، مولانا اعجاز احمد کشمیری،ڈاکٹر عظیم الدین اور دیگر کئی معززین نے اپنے خیالات اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP