You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label Qasim Imam. Show all posts
Showing posts with label Qasim Imam. Show all posts

Saturday, May 19, 2012

تعزیتی نشست









لنترانی ڈاٹ کام  اور بھڑاس نامی ویب سائٹ کے بانی اور 
روح رواں ڈاکٹر روپیش سری واستو  کی ناگہانی موت سے اردو طبقے میں غم کا ماحول  بن گیا ہے ۔اسی موقع پر گل بوٹے  فاؤنڈیشن کی جانب سے  احمد ذکریا ہال  انجمن اسلام  سی ایس ٹی میں تعزیتی نشست  کا انعقاد کیا گیا تھا۔ڈاکٹر کلیم ضیاء نے  روپیش سری واستو  کی شخصیت پر  قطعات پیش کيۓ۔عرفان  جعفری  نے انھیں منظوم خراج   پیش کیا ۔جسے وہاں تمام لوگوں نے پسند کیا ۔گل بوٹے کے  مدیر فاروق سیّد  نے اپنے خیالات  کا اظہار کرتے ہوۓ  بتایا  کہ کس طرح  روپیش ان کی علالت کے موقع پران سے ملنے گۓ ۔اور دواؤں کے ساتھ ساتھ  اپنے خلوص سے  انہیں مقروض کردیا  ۔اس واقعے کو یاد کرتے ہوۓ  فاروق سیّد نے کہا  کہ یہ  قرض  اتارنے  کے لۓ  انہیں کسی بھی  مریض کے ساتھ  وہی حسن سلوک کرنا ہو گا ۔روزنامہ ہندوستان کے  مدیر سرفراز  نے اپنے خیالات  کا اظہار  کرتے ہوۓ  کہا کہ  ہم اپنی  صحت سے متعلق سوچتے ہیں۔ مگر وہی ہوتا ہے ۔جو خدا کو منظور ہوتا ہے ۔ زبیر اعظم اعظمی  نے کہا  کہ  اردو کا کوئی بھی پروگرام ہو سکتا تھا ۔یہی روپیش کی خوبی بھی   عبدالا حد ساز نے کہا کہ مجھے تو روپیش کی موت  کی خبر  سن کرمجھے یقین ہی نہیں آیا ۔اس موقع پر شہر کی معزز شخصیات موجود تھیں ۔ حامد اقبال صدیقی، ڈاکٹر قاسم امام ، اقبال نیازی،شمشیر پٹھان ، انجمن کے نائب صدر حسین پٹیل ، ریحانہ اندرے ، شیخ  عبداللہ ، ڈاکٹر مصطفی پنجابی ، سلیم الوارے ،افسر دکنی،فاروق سیّد ، مسسز نجمہ قاضی ، نادرہ موٹلیکر، نجمہ امتیاز،  غزالہ آزاد ،آیڈوکیٹ زبیر اعظم اعظمی، نجر بجنوری، آصف پلاسٹک والا شاداب صدیقی، منوج وراڈے ، شاداب رشید ،اجۓ سکسینہ ،اور مالیگاؤں اور پونہ سے بھی دیگر اشخاص نے شرکت کیں ،آخری میں ڈاکٹرروپیش سری واستو کی زندگی پر ایک ڈاکیومینٹری دکھائی گئي۔ اوران کے نام پر ہر سال ایوارڈ دینے اور اردو اسکول کا نام روپیش سری واستو کے نام سے منسوب کرنے کی تجویز رکھی  گئی ۔جس کی تائيد سب نے کیں۔    

Thursday, April 16, 2009

اندھیرا


اس اندھیرے میں وہ مرتے ہوۓ جسموں کی کراہ
وہ عزازیل کے کتّوں کی کمیں گاہ
وہ تہذیب کے زخم
خند‍ ‍قیں
باڑھ کے تار
باڑھ کے تاروں میں الجھے ہوۓ انسانوں کے جسم
اور انسانوں کے جسموں پہ وہ بیٹھے ہوے گدھ
وہ تڑختے ہوۓ سر
میتیں ہاتھ کٹی پاؤں کٹی
لاش کے ڈھانچے کے اس پار سے اس پار تلک
سرد ہوا
نوحہ و فریاد کناں
شب کے سناٹے میں رونے کی صدا
کبھی بچّوں کی کبھی ماؤں کی
چاند کے تاروں کے ماتم کی صدا
رات کے ماتھے پہ آزردہ ستاروں کا ہجوم
صرف خورشید درخشاں کے نکلنے تک ہے
رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں
رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں

Thursday, March 05, 2009

دل کا بار کم ہو جاۓ گا


شام خوشبو ،موسم گل ،ان حوالوں کے بغیر
تم سے دل کی بات کہنی ہے ،مثالوں کے بغیر
تشنگی کی جیت میںشامل ہۓ دریا کی شکست
حیثیت پانی کی کیا ہے؟ پیاس والوں کے بغیر
درد کم ہو جاۓگا ،اظہار کم ہو جاۓگا
روز ہم ملتے رہے تو پیار کم ہو جاۓ گا
زندگی تو بھی کبھی مجھ کو شریک غم بنا
مل کے رؤیں گے تو دل کا بار کم ہو جاۓگا
: - Shri Qasim Imam
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP