You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label nehal sagheer. Show all posts
Showing posts with label nehal sagheer. Show all posts

Wednesday, March 05, 2014

ملک عزیز میں عدل اور عدالت کا مطلب


عدالت کا تعلق عدل سے ہے ۔جب کوئی لفظ عدالت اپنی زبان سے ادا کرتا ہے تو مخاطب کو یہ سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی کہ یہ عدل و انصاف کی وہ جگہ ہے جہاں کسی معاملے کا تشفیہ عدل کے معیار پر ہوگا اور حق دار کو اس کا حق مل جائے گا ۔پر ملک عزیز کے عدالت کی ادا ہی نرالی ہے ۔اول تو یہاں جو عدالتوں کا معاملہ ہے وہ یہاں برسوں سے التواء میں پڑے ہوئے لاکھوں مقدمات سے پتہ چلتا ہے کہ عدالتیں اور منصف عدل کی حساسیت سے کس قدر واقف ہیں ۔18 ؍فروری کو سپریم کورٹ نے راجیو کی قتل کی سازش میں ملوث قرار دیئے گئے لوگوں کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا اور عدالت نے ریاستی حکومت کو یہ مشورہ بھی دے دیا کہ اگر وہ چاہے تو اپنے اختیارات کا استعمال کرکے ان مجرموں کو رہا بھی کرسکتی ہے ،کیوں کہ عمر قید کی سزا کے مطابق 23 سال جیل میں گذار چکے ہیں۔ٹھیک دوسرے دن تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ نے اپنے کابینی فیصلہ میں اس کو منظوری دیدی کہ جنکی پھانسی کو سپریم کورٹ نے عمر قید میں تبدیل کی ہے انہیں رہا کردیا جائے ۔اب وہ مرکز کو اس کی سفارش بھیجیں گی ۔اگر مرکز نے اجازت دینے میں آنا کانی کی تو وہ اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے انہیں رہا کردیں گی۔یہ ایک قانونی اور انسانی پہلو ہے اس پر نہ مجھے اعتراض ہے اور نہ کسی کو ہونا چاہئے ۔کیوں کہ جب کوئی شخص کسی فوری ہیجان سے مجبور ہو کر کوئی قدم اٹھاتا ہے تو یہ اس کا فوری اور ذاتی رد عمل ہوتا ہے ۔ موجودہ ظلم اور نا انصافی سے بھری دنیا میں یہ کہیں بھی اور کبھی بھی ہوسکتا ہے۔اس پر ضرور غور کیا جانا چاہئے لیکن اس میں کسی خاص عینک سے معاملات نہ دیکھا جانا چاہئے۔لیکن جب بات انتہائی اقدام کی ہو جس کے اثرات پورے معاشرے پر پڑنے کا خدشہ ہو تو اس کی سزا اوراس کے بارے میں تھوڑا اس نکتہ نظر سے سوچتے اور عمل کرتے ہیں کہ معاشرہ اس کے منفی عمل سے کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے ۔اسی زمرے میں قتل اور زنا جیسی بھیانک واردات آتی ہے ۔اسلام نے قتل کی سزا قتل ہی رکھی ہے اور اس کو قوم اور معاشرے کی زندگی سے تعبیر کیا ہے ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر معاشرے میں قتل اور خونریزی کی سزا سخت نہ ہو تو قاتلوں کے حوصلے بڑھ جائیں گے اور وہ بات بات پر کسی کو بھی قتل کر ڈالیں گے جس سے سماج میں انارکی پھیل جائے گی ۔آج ہم ان معاشرے میں جہاں اسلام کا عمل دخل نہیں ہے اسی انارکی کا مشاہدہ کررہے ہیں ۔اخبار اٹھا کر دیکھ لیں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اخبارات قتل و خونریزی اور زنا بالجبر کے واقعات سے بھرے نہ ہوتے ہیں ۔راجیو گاندھی کا قتل بھی اسی انارکی اور افراتفری اور ناانصافی کے ماحول کی پیدا وار ہے ۔
بات لمبی ہو جائے گی لیکن ہم اصل بات کی طرف آتے ہیں ۔راجیو گاندھی کے قاتلوں کو معافی جن کا جرم ثابت ہو گیا کہیں مقدمات میں کسی کمی یا فرضی دستاویزات پیش کرکے فرضی چارج شیٹ کا کوئی معاملہ کہیں روشنی میں نہیں آیا یعنی کہ وہ واقعی قتل کی سازش میں ملوث ہیں ۔اب سے ایک سال قبل بڑی افراتفری میں افضل گورو کو پھانسی دیدی گئی اور اس کی لاش بھی اس کے گھر والوں کو نہیں سونپی گئی ۔افضل گورو کا گناہ صرف یہ تھا کہ اول تو وہ کشمیری تھا اوردوئم وہ مسلمان بھی تھا۔اور ملک عزیزمیں یہ دونوں نام اور کردار والے لوگ معتوب ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسے پھانسی دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی گئی نہ کسی کو کوئی رحم آیا اور نہ ہی کسی نے اس پر احتجاج کیا ۔جنہوں نے اس پر احتجاج کیا ان کی باتوں کو ان سنا کردیا گیا اور کافی عرصے سے ایسا ہی ہو رہا ہے ۔اگر آپ کی بات میں دم ہے اور آپ اس کو مضبوط دلائل کی روشنی میں لوگوں کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں تو اسے نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔ہمارے سامنے دو مثالیں موجود ہیں ۔مثالیں تو اور ہوں گی لیکن اس پر نہ توتحقیق ہوئی اور نہ وہ منظر عام پر آئیں۔ ایک معاملہ تو یہی افضل گورو کا ہے جس کو پھانسی کی سزا سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کوئی واضح ثبوت نہیں ہوتے ہوئے بھی عوام کی اجتماعی ضمیر کی تسکین کیلئے اس کو پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے ۔اب یہ اجتماعی ضمیر ہے کیا اور اس کی تخلیق کس طرح ہوئی یہ بھی ایک دلچسپ اور عدلیہ اور انتظامیہ کی مسلمانوں کے تئیں گھناؤنے نفرت اور نسلی امتیاز کو دکھاتا ہے ۔افضل غورو کو گرفتار کرنے کے بعد اسے سخٹ اذیت دیکر اس سے ایک ویڈیو بیان لیا گیا اور اس ویڈیو بیان کو ٹی وی چینلوں پر نشر کیا گیا ۔یہ ویڈیو بیان اسے اس دھمکی کے ساتھ لیا گیا تھا اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس کا انجام اس کے گھر والوں کو بھگتنا ہوگا ۔سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے پر مشہور مصنفہ اور سماجی کارکن اروندھتی رائے نے سخت احتجاج کیا لیکن اسے نظر انداز کردیا گیا۔دوسری مثال ممبئی کے26/11 دہشت گردانہ حملہ پر مہاراشٹر پولس کے سابق آئی جی ایس ایم مشرف کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالات ہیں جس پر انہوں نے ایک پوری تحقیقاتی کتاب بھی لکھ ڈالی ’’ہو کلڈ کرکرے‘‘ جو کہ اردو میں ’’کرکرے کے قاتل کون‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی اور بھی کئی ہندوستانی زبانوں میں اسے اشاعت کا شرف حاصل ہوا ۔مشرف کی مذکورہ کتاب پر بامبے ہائی کورٹ میں ایک شخص نے پی آئی ایل بھی داخل کیا کورٹ نے حکومت کو نوٹس بھی جاری کیا لیکن اس کے بعد پتہ نہیں کہ کیا ہوا ۔عوام کو اس قدر الجھا دیا گیا ہے کہ اس کے ذہنوں پر کسی نئے واقعہ کی دھول جم جاتی ہے اور پچھلا واقعہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔برسوں سے یہی ہوتا آرہا ہے ۔پولس ،نام نہاد دہشت گردی مخالف دستوں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ایسے مکروہ اور ذلیل کارنامے کئی بار منظر عام پر آگئے ہیں ۔لیکن نہ تو حکومت نے بیان بازی سے ہٹ کر کوئی ٹھوس قدم اٹھایا ،نہ ہی معمولی معمولی واقعات پر جن عدالتوں کا ضمیر بیدار ہوتا ہے اور وہ سو موٹو لیکر حکومت اور انتظامیہ کے کان پکڑنے والی عدالتوں نے اس پر کبھی اپنے ضمیر میں جھانکنے کی کوشش کی اور نہ ہی مسلم لیڈروں اور تنظیموں نے خوف کی نفسیات سے نکل کر اس پر کسی طرح کی ٹھوس کارروائی کی۔
راجیو گاندھی کے قتل کی سازش میں ملوث افراد کی سزا عمر قید میں تبدیل کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ’’جس آدمی کے سر پر پھانسی کا پھندہ لٹکتا رہے ،جس کی رحم کی درخواست پر پہلے ہی اتنی دیر ہو چکی ہے، ظاہر ہے اسے بہت تکلیف برداشت کرنی پڑی ہے ۔ان حالات میں اس کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنا ہی درست ہے‘‘ ۔جو سپریم کورٹ ان پر اتنی مہربان ہے وہ افضل گورو کے معاملے میں وہ نرمی وہ ہمدردانہ رویہ کیوں نہیں اپنا پائی؟کیا صرف اس لئے کہ وہ مسلمان تھا اور ساتھ میں کشمیری بھی ۔وہ بھی تو پھانسی کی سزا کا کافی دنوں سے منتظر تھا ۔اسے بھی تو انہی اذیتوں میں زندگی گزارنی پڑی جس میں بقول سپریم کورٹ راجیو گاندھی قتل کے مجرمین نے گزاری ہے ۔جبکہ خود سپریم کورٹ کے ہی مطابق پارلیمنٹ پر حملے کی سازش میں ملوث ہونے کا کوئی واضح ثبوت بھی نہیں تھا ۔سپریم کورٹ نے دوسرا مشورہ دیتے ہوئے ریاستی حکومت کو یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنی عمر کی مدت پوری کر چکے ہیں جبکہ یہی سپریم کورٹ ممبئی بم دھماکہ کیس میں عمر کی معیاد پوری زندگی متعین کرتا ہے ۔ اب جو لوگ جے للیتا کے خلاف مورچہ کھولے ہوئے ہیں خاص طور پر کانگریسی ورکرجنہوں نے جے للیتا کے پتلے جلائے اور احتجاج کیا ،یہ ان کا حق ہے لیکن انہیں یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ جے للیتا نے وہی کیا جو اس وقت کا تقاضہ ہے یعنی تمل باشندوں کی ہمدردی حاصل کرنا ۔کوئی بھی سیاسی پارٹی وہی کرتی جو جے للیتا نے کیاہے۔ اصل معاملہ تو سپریم کورٹ کے اس مشورے کا ہے کہ’’ حکومت چاہے تو انہیں رہا بھی کرسکتی ہے کیوں کہ وہ اپنی عمر قید کی مدت پوری کر چکے ہیں‘‘ ۔ عدالتوں سے لیکر حکومتوں تک اور انتظامیہ سے لے کر مقننہ تک مسلمانوں کے ساتھ یہ ظلم اور نا انصافی کیا رخ لے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔ہم تو صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ملک کے اتحاد اور سا لمیت کیلئے خطرناک ہے ۔اس کا تدارک کرنا اور مسلمانوں سمیت سبھی فرقوں میں یہ احساس بیدارکرانا کہ یہ ان کا اپنا ملک ہے اور اس کی ترقی اور بقا میں ہی ان کی اپنی ترقی اور بقا بھی ہے ۔لیکن یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب ارباب اقتدار ،مسلم تنظیمیں اور مسلم لیڈران اخلاس کے ساتھ عمل کریں ۔ منافقت سے نہ ملک کا اتحاد سلامت رہے گا نہ اس کے بقا کی ضمانت دی جاسکتی ہے اور نہ ہی و نئے عالمی منظر نامے میں اپنا منفرد مقام بنا پائے گا۔


http://mail.google.com/mail/u/0/images/cleardot.gif


Sunday, August 21, 2011

حکومت کی بے حسی اور ہمارے نمائندوں کی منافقت!!!!


7
؍اگست کو خیر امت ٹرسٹ میں ایک میٹنگ اس مقصد کے تحت رکھی گئی تھی کہ مسلمانوں کے خلاف روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک پر کوئی لائحہ عمل مرتب کیا جائے اور متحد ہوکر اپنے حقوق کی لڑائی لڑی جائے میٹنگ کا انعقاد مسلمس این جی اوز کی ایک مشترکہ کمیٹی نے کیا تھا جس کا قیام تقریباً ایک سال قبل عمل میں آیا تھا ۔میٹنگ اس اضطرابی حالات کے بعد منعقد ہوئی تھی جو کہ مالیگاؤں بلاسٹس میں گرفتار بھگوا دہشت گردوں کو ممبئی ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت دئے جانے سے پیدا ہوا تھا ۔اس میٹنگ سے قبل بھی ایک آدھ میٹنگ منعقد ہو چکی تھی۔یہ اضطراب اور بے چینی جائز ہی تھی اس میں کوئی برائی نہیں تھی اور نہ اب ہے ۔عوام کا حافظہ کمزور ہوتا ہے لیکن اتنا بھی نہیں کہ وہ چند ماہ قبل کی باتوں کو بھول جائیں۔میرا اشارہ چند ماہ قبل اسی عنوان اور اسی مقصد سے آزاد میدان میں منعقد اس احتجاجی جلسہ کی جانب ہے۔ اسیمانندکے اقبال جرم اور اس کے بعد حیدر آباد کے محمد کلیم کی رہائی سے پیدا شدہ صورت حال اور مہاراشٹر و مرکزی حکومت پر دباؤ بنانے کے لئے یہ ایک اچھی کوشش کہی جاسکتی تھی لیکن اس میں سوائے پرجوش تقریروں اور چیخ و پکار کے کچھ نہیں ہوا حد تو یہ ہے کہ اس جلسہ میں جو تجاویز پاس ہوئیں اس پر بھی عمل آوری کی توفیق کسی کو نہیں ہوئی جب کہ اس وقت عوامی مزاج بھی حکومت کے خلاف مظاہروں کا بن گیا تھا ۔ حکومت دباؤ میں آسکتی تھی لیکن جانے کیا ہوا کہ سب خاموش بیٹھ گئے بعد میں کچھ یوں معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو ایوان سیاست میں قوم کے دلال کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ،کو حکومت نے جھاڑ پلائی کہ تمہارے رہتے ہوئے ایسا کیوں ہو رہا ہے اور انہوں نے کچھ لیڈروں سمیت عوامی اشتعال کو یہ کہہ کر ٹھنڈا کردیا کہ حکومت نے مسلمانوں کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے کا وعدہ کیا ہے اور یہ کہ حکومت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتی ہے۔
لیجئے صاحب مسلم لیڈروں نے اسے سچ سمجھ کر مان لیا مسلمانوں کے اشتعال کو خوبصورت الفاظ کے کولڈ اسٹوریج میں ڈال کر ٹھنڈا کردیا گیا۔لیکن مسلمانوں کا یہ نشہ اس وقت اترا جب اسی مالیگاؤں والے مقدمہ میں گرفتار بھگوا دہشت گردوں کی رہائی ممبئی ہائی کورٹ کے ذریعہ دی گئی ضمانت سے ہو گئی ۔بہر حال ایک اورمیٹنگ کے لئے سارے قائدین اکٹھا ہوئے کیوں کہ انہیں ڈر تھا کہ کہیں امت کاکوئی بیدار طبقہ انکا احتساب نہ شروع کر دے کہ تم نے تو ہم سے وعدہ کیا تھا کہ حکومت ہمارے جذبات کی قدر کرتی ہے ۔یہ اس کی کون سی قدر دانی ہے کہ بے گناہ تو جیلوں میں ایڑیاں رگڑیں اور گناہ گار رہا ہوتے رہیں ۔بہر حال اس میٹنگ میں پھر ایک بار مسلمانوں کو انکے ہی قائدین نے لالی پاپ دیا کہ ایک مشترکہ کمیٹی بنائی جائے گی جس میں ریٹائرڈ ججز،وکلاء اور دوسرے ماہرین اپنی خدمات پیش کریں گے ۔حسب توقع اس میں بھی سیاست دانوں عوامی نمائندوں اور خصوصی طور پر مسلم نام والے عوامی نمائندوں کو جی بھر کوسا گیا ۔بظاہر یہ کوئی برائی بھی نہیں ہے۔کیوں کہ ان مسلم نام والے عوامی نمائندوں نے مسلمانوں کو سب سے زیادہ زخم دئے ہیں ۔مسلمان اتنا سادہ لوح ہے کہ انہیں اپنا نمائندہ سمجھنے کی بھول پچھلے پینسٹھ سالوں سے کر رہا ہے۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ مسلم نام کی وجہ سے اپنی پارٹی کے نمائندے ہیں مسلمانوں کے درمیان ۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جاتا‘‘ یہاں تو بات صرف دوبارہ کی ہے لیکن ہم تو بار بار ڈسے جاتے ہیں ۔آقا ﷺ کے اس ارشاد کی روشنی میں ہم کیا ہیں اسکا اندازہ ہم خود ہی لگا سکتے ہیں۔
خیر امت ٹرسٹ کی اس میٹنگ میں وہ مشترکہ لائحہ عمل کو ترتیب تو نہیں دیا جاسکا لیکن فاروق ماپکر کی تجویز کا بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا اور اتفاق رائے سے سیاسی افطار پارٹیوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا ۔ عام مسلمانوں کی طرح میں بھی سادہ لوح ہی واقع ہوا ہوں اسی لئے تو جب اٹھارہ رمضان المبارک اور انیس رمضان المبارک کو بالتر تیب کانگریس اور این سی پی کی سیاسی افطار پارٹی میں ان میں سے کچھ کی شرکت نے چونکادیا کہ وہ بھی تو اس میں شامل تھے جس میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ بطور احتجاج سیاسی افطار پارٹی کا بائیکاٹ کیا جائے۔حد تو یہ ہوگئی کہ جمیعتہ العلماء جو کہ بے گناہ مسلمانوں کے مقدمات کی وجہ سے جانی پہچانی جاتی ہے کہ بھی ذمہ دار اس سیاسی افطار پارٹی میں موجود تھے ایک ذمہ دار نے تو اپنا بچاؤ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عارف نسیم خان سے کچھ بات کرنا تھی لیکن اسے تسلیم کرنے میں قباحت ہے کہ ان سے ملاقات کی یہی ایک جگہ تھی ؟حالانکہ انہی بزرگ نے مسلم نام والے نمائندوں کا سب سے زیادہ رونا رویا تھا اور کہا تھا کہ ان کا جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔
میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ تاوقت کہ ان نوجوانوں کی رہائی نہیں ہو جاتی یہ بائیکاٹ جاری رہے گا۔تو کیا وہ بے قصور نوجوان رہا ردئے گئے یا مسلمانوں کے ساتھ انصاف کیا جائے گا اس کا ہمیں پختہ یقین ہو گیا ہے یا ہمارے بے عمل اور بدعمل سیاست دانوں نے اپنا دل ناانصافیوں کی آلودگی سے پاک کرلیا ہے جو ہمارے یہ نام نہاد قائدین اس وعدہ کو توڑنے پر مجبور ہو گئے جس کا وعدہ انہوں نے قوم سے کیا تھا۔اسی کو کہتے ہیں لاشوں کی تجارت قوم کی لاشوں سے یہ اپنے محلوں میں آرائش و زیبائش کرتے ہیں ہماری لاشوں پر یہ اپنے اقتدار کی مسند جماتے ہیں ۔مولانا عبد الحمید ازہری نے کہا تھا کہ ہم یقین دہانیوں سے اوب چکے ہیں ۔لیکن اس وفد میں وہ بھی شامل تھے جو وزیر اعلیٰ کی قیادت میں چدمبرم سے ملنے گیا تھا اور چدمبرم نے ایک مخصوص جملہ کہہ کر بات ختم کردی کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے پتہ نہیں کسی نے ان سے یہ بات کہی کہ نہیں آپ اس بات کو کتنی بار کہہ چکے ہیں کہ ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی لیکن یہاں تو مسلمانوں کے ساتھ مسلسل ناانصافی ہو رہی ہے اور وہ مسلسل ظلم برداشت کررہا ہے۔ آپ کس ناانصافی کی بات کر رہے ہیں ۔مجھے کہہ لینے دیجئے کہ وزارت داخلہ سے لیکر وزیر اعظم تک ہر مقتدر اعلیٰ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور اس پر ہونے والے ظلم میں برابر کا شریک ہے۔اگر ہم اس کو صرف بیورو کریسی کی شرارت کہیں تو یہ ایک اور سادہ لوحی ہوگی۔کیوں کہ سچر کمیٹی میں شامل ایک مسلم سکریٹری نے یہ بات قبول کی ہے کہ مسلمانوں کی یہ حالت مرکزی حکومت کی پالسی کا حصہ ہے۔اس بات کو سچر کمیٹی میں صرف مصلحتاً شامل نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن جب وہ بھی مسلمانوں کے فلاح و بہبود سے متعلق مرکزی حکومت کے سرد مہرانہ رویہ سے مایوس ہو گئے تو اس بات کو عام کردیا۔
سیاسی افطار پارٹیوں کے بائیکاٹ کے فیصلے کا یہ حشر دیکھ کر مجھے اسی میٹنگ میں شامل عوامی بھارت کے فرید خان کا وہ جملہ یاد آگیا کہ ’’ہماری بے وقعتی کی واحد وجہ ہماری بے عملی ہے۔ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں نتیجہ کے طور پر ہماری باتیں ناقابل اعتبار ہو گئیں۔‘‘کتنی صحیح باتیں ہیں ہم دوسروں کا گلہ کس منہ سے کریں کہ جن کو ہم اپنا سمجھتے ہیں وہی اپنے نہیں ہیں ۔ضرورت ہے ہمیں ایک بے مثال اتحاد و یگانگت کی جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی پہچان ہوا کرتی تھی ۔اور اسی سے وہ ساری دنیا میں چھاگئے تھے ۔وہ کیا لوگ تھے جس کا ایک ادنیٰ سا فرد بھی کوئی بات کہہ دیتا یا کسی سے کوئی وعدہ کرلیتا تھا تو سارے مسلمانوں پر اس کی پابندی لازم ہوجاتی تھی لیکن آج ہماری بے وقعتی کی اس سے بری بھی کوئی مثال ہو سکتی ہے کہ ہم اپنی ہی باتوں وعدوں پر قائم نہیں رہ پاتے ۔اللہ اس قوم کی حالت پر رحم و کرم فرمائے۔



نہال صغیر۔سلفی گلی نمبر ۳۔گاندھی نگر۔چار کوپ۔کاندیولی(مغرب)Nehal sagheer.salfigalino.3Gandhi Nagar Charkop,Kandivali(W)Mumbai400067 Mo.9987309013

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP