You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Sunday, January 17, 2016

مالک حقیقی کی طرف کوچ کر گیا

ہرا دل دستہ کا سپہ سالار   رب دو جہاں کے بلاوے پر لبیک الهم لبیک کہتا مالک حقیقی کی طرف کوچ کر گیا.
إنا لله وإنا اليه راجعون الله
 .. يا حنَّان يا منَّان يا واسع الغفران اغفر له و ارحمه و ـمعافه و اعف عنه
نقاش نائطی 
جناب الحاج عبدالرحیم قریشی صاحب سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ و صدر آل انڈیا مجلس تعمیر ملت و رکن تاسیسی آل انڈیا ملی کونسل ہند کا آج 14 جنوری جمعرات صبح  3.30بجے انتقال ہو گیا ہے۔ انکے انتقال سے ملی حلقوں میں غم و اندوہ کی لہر سی دوڑ گئی یے تو کفار کے خیموں ، سرور و شادمانی پائی جاسکتی ہے.
مشہور زمانہ شاہ بانو تنازع ہو کہ کئی دہائیوں سے عدلیہ ہند کی زنگ آلود الماریوں میں بند پڑا، وقتا فوقتا باہر جھانکنے کی ناکام سعی کرتا،انصاف کو ترستا، بابری مسجد تنازع ہو کہ مسلم پرسنل بورڈ و ملی کونسل کے ہرا دل دستہ کے سپہ سالار جناب الحاج عبدالرحیم قریشی صاحب مرحوم کے قانونی حکمت عملی والے داؤ پیچ کے سبب ہندو فاششت  کی دو تہائی سے زیادە اکثریت والی مودی سرکار کے لئے "جائے بابری مسجد" کو حوالہ رام مندر" سے باز رکھے ہوئے تھا.
کچھ سال قبل محترم مرحوم کی سرپرستی میں مسلمانان ہند میں آگہی و بیداری پیدا کرتا  ہند  بھر سفر پر نکلا وفد بهٹکل پہنچا تو جماعت المسلمین بهٹکل کے ماتحت کام کرنے والے محکمہ شرعیہ کے کئی صد قبل کے دفتری اندراجات  دیکھ کر اور شہر بهٹکل کے عائلی مقدمات صد فیصد محکمہ شرعیہ کے تحت ہوتا دیکھ کر مرحوم قریشی صاحب نے بهٹکل محمکہ شرعیہ کی تمثیل ہند بھر نمونتا پیش کرنے کی بات کہی تھی.         
گو جناب الحاج عبدالرحیم قریشی صاحب کے اس دنیا سے سفرآخرت کوچ کرجانے کے بعد مسلم اقوام ہند کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان لگتا یے لیکن ہم  مسلمان مشیت ایزدی پر یقین کامل رکھنے والوں میں سے ہیں اور یقینا اس نازک دور "سیاست مودی" میں جناب محترم کے مرحومئیت کے مقام فائز ہونے پر بھی اس خالق کائنات کی مسلمانوں کی بھلائی ہی پوشیدہ، ہم  پاتے ہیں اور ان شاءاللە اب دانشوران  مسلم امہ، مسلمانوں کے  دفاعی جنگی ہرا دل دستہ میں قابل "سپہ سالار نو" کا انتخاب کر ہماری دفاعی قانونی جنگ کو ایک نئی جہد عطا کریں گے اور آئے دن مسلمانان ہند کو ہندو شدت پسندوں سے ہونے والی  حزیمت سے ابدی چهٹکارہ کی "جنگ ناتمام" کی سعی پیہم باقی و جاری رکھی جائیگی.انشاءاللہ
اللہ سے دعا یے کی وہ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں رکھے اور مسلم امہ ہند کو ایک نئے جوش ایک نئے ولولہ کے ساتھ اپنی دفاعی قانونی جنگ، ہمت و استقلال کے ساتھ  لڑتے رہنے 

ایک ن‏ی کھوج

آج ایک نئی چیز آپ کو دکھاتا ھوں۔ اس چیز پر پہلے کسی نے نہیں لکھا اور نہ آپ کی اس جانب کسی نے توجہ دلائی ھے۔ اس تصویر میں ایک جگہ ایک تخت پر ملکہ برطانیہ کی تاج پوشی کی جا رھی ہے ۔ دوسری تصویر میں اس خالی تخت کی تصویر ھے اس تصویر میں میں نے تیر کے نشان سے ایک پتھر کی نشاندھی کی ہے جو اس کرسی یا تخت کے بالکل عین نیچے ہے۔ یہ مقدس پتھر وہ ہے جس پر بٹھا کر حضرت داؤد علیہ السلام کی تاج پوشی کی گئی تھی۔ اسے تخت داؤد کہا جاتا ھے۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے ھیکل سلیمانی تعمیر کیا تو یہ پتھر دوسری مقدس اشیاء کے ساتھ ھیکل سلیمانی میں رکھا گیا۔ جب سنہ ء 70 میں رومیوں نے فلسطین پر حملہ کیا تو لاکھوں یہودیوں کے قتل عام کے ساتھ ساتھ ھیکل سلیمانی کو بھی گرا کر تباہ کر دیا ، ٹائٹس نے یہی پتھر بھی ساتھ لیا اور اسے روم میں لا کر رکھ دیا۔ روم کے بعد یہ پتھر آئرلینڈ لایا گیا، آئرلینڈ سے سکاٹ لینڈ لایا گیا ، آئرش اور سکاٹش بادشاہ اسی مقدس پتھر پر بیٹھ کر تاج پوشی کی رسم ادا کیا کرتے تھے۔ اسکاٹ لینڈ سے یہ پتھر انگلینڈ لایا گیا ، انگلینڈ میں بھی برطانوی بادشاہ اسی تخت داؤد پر تاج پوشی کی رسم ادا کیا کرتے ھیں۔ یہ پتھر اس وقت ویسٹ منسٹر ایبے، برطانوی پارلیمنٹ کے ساتھ چرچ میں موجود ہے۔
اس پتھر کی اگلی منزل کہاں ہے؟۔
یہودی اس تخت داؤد کو اس کی اپنی پرانی جگہ یعنی تیسری بار تعمیر کئے جانے والے ھیکل سلیمانی میں دوبارہ رکھنا چاھتے ھیں۔ یہودیوں کے عقیدے کے مطابق اسی تخت داؤد پر ان کا مسیحا آ کر بیٹھے گا اور ساری دنیا پر حکومت کرے گا۔ وہ مسیحا جسے ھم مسلمان دجال کے نام سے جانتے ھیں۔ عیسائیوں کا عقیدہ ھے کہ اس تخت پر ان کے مسیح حضرت عیسیٰ علیہ السلام آ کر بیٹھیں گے ۔
یہ تو آپ کو بھی علم ھوگا کہ اس ھیکل کے تمام حصے یہودیوں نے تیار کر رکھے ھیں صرف ان کو نصب کرنا باقی ھے۔ یہ ھیکل عین اسی جگہ تعمیر کیا جائے گا جہاں اس وقت مسجد اقصیٰ موجود ھے ، اس مقصد کے لئے گنبد صخریٰ اور مسجد اقصیٰ کو شہید کیا جائے گا۔ اور یہ بھی آپ نے سنا ھوگا کہ یہودیوں نے مسجد اقصیٰ کی بنیادوں کو خفیہ طریقے سے مشینری استعمال کرکے کمزور کر دیا ھے۔
کیا یہ سب آسان ھوگا؟۔ ھرگز نہیں۔ جب مسجد اقصیٰ جو کہ مسلمانوں کا قبلہ اول ھے گرائی جائے گی تو کمزور اور بکھرے ھونے کے باوجود مسلمان اٹھ کھڑے ھونگے۔
میری آواز کسی تک پہنچے یا نہ پہنچے کسی کے دل پر اثر کرے یا نہ کرے میں کوشش کرکے اپنے حصے کا فرض ادا کرتا رھوں گا میری ایسی تحریریں پرنٹ یا الیکٹرونک میڈیا آپ تک نہیں پہنچا سکتا کیونکہ سارے میڈیا پر وہ قابض ھیں جن کے بارے یہ سب لکھتا ھوں۔۔

Friday, December 25, 2015

کوکن ٹیلنٹ فورم کے بین المدارس تعلیمی مقابلے حلقہ تھانہ و پالگھر اضلاع





        تصویر الگ سے بھیج رہا ہوں
        آئیڈیل فاؤنڈیشن کا تعلیمی شعبہ کوکن ٹیلنٹ فورم 1997 ء سے کوکن پٹی کے مختلف اضلاع میں طلبہ و طالبات میں تعلیمی مسابقت کی نشوونما کے لیے اپنے سالانہ  دس مقابلوں  اور جلسۂ تقسیم انعامات کا انعقادکامیابی کے ساتھ کرتا آرہا ہے۔
        امسال کے تین روزہ سلسلہ وار مقابلوں کی پہلی کڑی تھانہ اور پالگھر اضلاع کے مقابلے تھے جو  رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج بھیونڈی کے ہال میں 15 دسمبر  2015 کے روز منعقد ہوئے۔اس پروگرام کی سرپرستی محترم ثناء اللہ عبدالرحمٰن ( مروڈ  جنجیرہ)نے کی۔ اس پروگرام کی جزوی کفالت  محترم لائن سمیر شاہنواز فقہی نے کی۔
         K.T.F  کے اس پروگرام میں  اردو،  مراٹھی اور انگریزی مضمون نویسی، انگلش گرامر ٹسٹ، انگلش ورڈ فورمیشن، ذہنی آزمائش تحریری امتحان برائے پرائمری اور سیکنڈری، جنرل نالج کوئیز مقابلہ، تقاریر مقابلہ اور جونئیر کالج کے لیے DEBATE مباحثہ  بعنوان  ”ریزرویشن ختم کرنا چاہیے یا نہیں؟“ جیسے کل 10 مقابلے منعقد کیے گیے ساتھ ہی ساتھ اول دوم سوم مقام پانے والے طلبہ و طالبات کو دلکش اور جاذب نظر ٹرافی اور نقد انعامات سے نوازا گیا۔ تمام مقابلوں میں نمایاں کارکردگی پیش کرنے والی  K.M.E.S  ہائی اسکول پڑگہ کو کیپٹن فقیر محمد مستری گشتی ٹرافی سے نوازہ گیا۔









        جلسہ تقسیم انعامات کی صدارت ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر محترم جان عالم رہبرنے فرمائی۔آئیڈیل فاونڈیشن کے جنرل سیکریٹری محترم داود چوگلے صاحب نے مہمانان کا تعارف اور شکریہ ادا کیا۔ محترم دلاور چوگلے نے KTF  ٹیم کا تعارف کرایا الطاف ناٹوسکر اور محمد عارف مہمطولے نے نظامت سنبھالی۔ مہمانان میں رئیس ہائی اسکول کے پرنسپل محترم  ضیاء الرحمٰن انصاری،اسی اسکول کے چیئرمین محترم شفیع مقری صاحب، لا ئن سمیر فقہی، پروفیسر محترمہ وحیدہ اورپرنسپل حسنہ انصاری،نے طلباء کی کاوشوں کو سراہا۔K.T.F  صدر (تھانہ و پالگھر) ڈاکٹر سراج الدین چوگلے صاحب نے کارکردگی اور اعداد و شمار پیش کیے۔مہاراشٹرا کالج کے (H.O.D URDU)محترم ماجد قاضی صاحب  نے  نہایت عمدہ انداز میں تقسیم انعامات کے اعلان کی ذمہ داری نبھائی۔پروفیسر اعجاز راؤت صاحب نے جونئیر کالج کے مباحثہ ناظرین کے سامنے پیش کیا۔محترم امان اللہ چھاپیکر،جناب عبدالحمید عرف باوا چوگلے محترم حنیف سرکھوت،جناب مصدر ملّا جی،عارف چوگلے،عادل چوگلے اور نیہا دلاور چوگلے وغیرہ نے انتھک محنت کر کے پروگرام کو کامیابی کی چوٹی تک پہنچایا۔ محترم جاوید مقصود،  جناب ضیاء الدین قمرالدین، عارف مہمطولے اور محترمہ نشاط مانڈلیکر صاحبہ نے جج کے فرائض انجام دیے۔اس مقابلے میں تھانہ و پالگھر کی 20 اسکولوں اور 5 جونیئر کالجوں نے حصہ  لیا۔KTF  کی پوری ٹیم کی کاوشوں اور بے لوث محنت اور اللہ کے فضل کی بناء پر یہ پروگرام کامیاب  ہوا۔

Sunday, December 06, 2015

ماریشس میں منعقدہ عالمی کانفنرس کی رپورٹ ،


ایک غزل



میں اپنی بات پہ گل اپنی جان دیتاہوں 
میں جب کبھی بھی کسی کو زبان دیتا ہوں 

جو ظلم وجبر میں جینے کا حوصلہ رکھیں 
دل غریب میں اُن کو امان دیتا ہوں
اگر جوچاہو کہ تسخیر کر سکو مجھ کو 
فضائے دل! میں برائے اُڑان دیتا ہوں 

مرے وجود کو پیروں تلے کچلتا ہے 
وہ جس کو رہنے کو اپنا مکان دیتا ہوں 

کرے جوبات کوئی گل مرے تقدس کی 
شعورِ ذات میں اُس پر دھیان دیتا ہوں 

        بخشالوی                                             



Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP