You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label najma kazi. Show all posts
Showing posts with label najma kazi. Show all posts

Sunday, December 04, 2011

21 وی صدی کے اساتذہ

 کاوش ( بزم اساتذہ) کے زیر اہتمام 26 نومبر 2011ء کو دوپہر 3بجے نہرو  پلینٹوریم  ہال آف ہارمونی ورلی ممبئی میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد ورکشاپ  کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ جس میں مختلف  عنوانات جیسے (1) اکیسویں صدی  کے طلبا ء اساتذہ کے  لیے   چیلینچ   (2)  سائٹ افیکٹ آف  ٹینالوجی ( 3) ٹیوشن ضرورت یا تجارت ( 4) غیر انگریزی ( اردو ) اسکولوں کا مستقبل  پر سیمینار رکھا گیا ۔سب سے پہلے تلاوت  قران کے بعد استقبال کے وقت پروجیکٹر پر سلائڈس  اور ویڈیو ی  بتاۓ گیے ۔پروگرام کا آغاز   عارف عثمانی سر نے کیا ۔ پورے پروگرام کا لائحہ عمل تر تیب وار  پیش کیا ۔اور ٹیکنالوجی کی مختصر معلومات دی ۔اور یہ بات واضح کرنے کی کوشش کیں ۔    جب بچہ اسکول آتا ہے تو بے پناہ  معلومات  اور تجسس کا سمندر لے کر  آتا ہے ۔اب طلباء اساتذہ سے زیادہ آگے بڑھ رہے ۔ انٹرنیٹ سے معلومات حاصل  کررہے ہیں ۔ یعنی انھوں نے اکیسویں صدی میں قدم رکھا ہے جو کہ ٹیکنیکی دور ہے ۔ ان  کی ذہنی عمر (آئ ،کیو )  بڑھ گئی ہے ۔۔اساتذہ کو بھی خود کو تکنیک سے آراستہ کرنا ہے ۔  گولڈ میڈلسٹ ڈاکٹر ضیاءالرحمان ،سر ( پرنسپل آف رئیس   ہائ اسکول بھیونڈ ی) نے اکیسویں صدی کے اساتذہ  کے  لیے چیلینچ  اس پر بہت اچھے انداز میں گفتگو کیں۔ اور شروعات اس طرح کی کہ پہلے بلیک بورڈ  ( تختہ سیاہ ) کالا ہوتاتھا ۔اب وہ ہرا ہو گیا ۔ہے ۔بچے  زیادہ ایڈوانس ہو گیے ہیں۔  ٹیکنالوجی  جیسی   آندھی کا رخ مثبت  بنانے میں ٹیچرس کوبھی اپنا مزاج  بنانا ہو گا ۔طلباء کا آئي کیو 15سے 18٪ بڑھ گیا ہے ۔اس  لیے اب ٹیچرس کی ذہن سازی ضروری ہے ۔  کاظم ملک اور عامر انصاری نے ایک گھنٹے تک ویڈیو چیٹنگ کے ذریعے ٹاک شو لیا ۔تمام لوگوں نے  اس میں  حصّہ  لیا  ۔   مسسز نجمہ قاضی ، ڈاکٹر رخشندہ،  ڈاکٹر ریحان انصاری،سعید خان پینیلسٹ تھے ۔اس میں تمام سامعین نے حصہ لیا،ا نقلاب کے مدیر شاہد لطیف  سرکے ہاتھوں  تعلیمی ویب سائٹ     رہنمائی     ڈاٹ کام کا افتتاح کیا گیا ۔اور انھوں نےکہا کہ ہمیں  ایک پلیٹ فارم  بنانا ہے ہم میں جو کوالیٹی  ہے اس کو پہچان کر مل جل کر آگے بڑھنا ہے ۔ہر ٹیچر ایک  انجمن ہے سب مل کر کام کریں تو انقلاب لا سکتے ہیں۔  اور اس طرح کے پروگرام مختلف علاقوں میں ہونے چاہیے۔رسم  شکریہ اخلاق سرنے ادا کیں۔اس طرح سے پروگرام کا اختتام ہوا      







 اس ورکشاپ کے لیے پہلے سے ہی اساتذہ کا رجسٹریشن کیا گیا تھا ۔  اس ورکشاپ سے 200 سے  زیادہ اساتذہ نے استفادہ حاصل کیا ۔  پروگرام کے کنوینر مسٹر الطاف ناٹوسکر صاحب تھے ۔ان کا انتظام بہت اچھاتھا ۔پروگرام کافی کامیاب رہا ۔

Friday, August 19, 2011

سی سی ای کے بارے میں افواہ



تعلیمی سال 2010ء سے مسلسل ہمہ جہت ترقی کا پروگرام شروع کیا گیا تھا اور اسکولوں میں یہ سرکیولر دیا گیا کہ اب امتحانات نہیں ہوں گے ۔ بلکہ ہمیں بچوں کی مسلسل ہمہ جہت جانچ تشکیلی وسائل کے ذریعے کرنی ہے ۔ہر بچے کا انفرادی طور پر مشاہدہ کرنا ہے ۔ مگر اب ایک افواہ یہ سننے میں آرہی ہے کہ سی سی ای یعنی مسلسل جانچ کا طریقہ ردّ کردیا گیا ہے اور اب ہمیں بچوں کے ٹیسٹ اور امتحان لینے ہوں گے ۔ اور ٹیچرس پر زیادہ کام کا دباؤ ہوگا ورک لوڈ بڑھے گا ۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں جماعت دوّم سے جماعت ہفتم تک دو مہینوں میں بچوں کی جانچ کرنی ہے اور حکومت کا یہ قدم ( Educational Quality Improvement Programme ) کے ذریعے تعلیم معیار کو بڑھانا ہے ۔ اور اس کا سرکیولر جلد ہی گورنمنٹ مہاراشٹر ( MSCERT) کے طرف سے آۓ گا ۔ اس سے ہمارا کوئی بھی ورک لوڈ نہیں بڑھے گا ۔بلکہ ہمیں اپنے کام کا اندازہ ہو گا ۔کہتے ہیں کہ خوش دلی سے کیاہوا کام کامیابی کا ضامن ہے ۔

Tuesday, January 25, 2011

مسلسل ہمہ جہت قدر پیمائی پروگرام




پرائمری سطح پر لازمی حق تعلیم کے تحت اساتذہ کے لۓ ''مسلسل ہمہ جہت قدر پیمائی پروگرام '' کے لۓ ضلع راۓ گڑھ کے چھ تعلقوں پنویل ، ارن ،پین ، علی باغ ۔کرجت ،اور کھپولی ( کھالا پور ) کے اوّل تا ہشتم کے تمام اساتذہ کے لۓ وی ،کے ہائی اسکول پنویل ضلع راۓ گڑھ میں یک روزہ تربیتی ورکشاپ پروگرام ضلع راۓ گڑھ ضلع پریشد اور راۓ گڑھ ضلع مسلم فلاحی تنظیم کے زیر اہتمام 23 جنوری 2011ء بروز اتوار منعقد کیا گیا ۔اس ورک شاپ کی مقررہ نیشنل یا ایوارڈ یافتہ ماہر تعلیم انجمن اسلام سیف طیّب جی ہائی اسکول کی پرنسپل اور روح رواں محترمہ نجمہ قاضی صاحبہ رہیں ۔ انہوں نے اپنے موّثراور پرخلوص انداز میں مفصّل معلومات دیں ۔ ساتھ ہی جدید ٹیکنا لوجی کا استعمال ہم دوران تدریس کس طرح کریں گے اور اپنی تدریس کو کس طرح آسان اور پر لطف بنا کر پیش کریں گے یہ تمام با تیں او ۔ایچ ، پی اور پرو جیکٹر کے ذریعہ سمجھائی ۔( مسلسل جانچ میں مجموعی قدر پیمائی ۔ مختلف قسم کے سوالات کے نمونے ، تشکیلی قدر پیمائی کا بیانیہ اندراج ، اہم مقاصد اور مہارتیں ، پر وجیکٹ ، تیار کرنا ، طالب علم کا احوال اور ترقی نامہ اس طرح کی ( لازمی حق تعلیم ) سے متعلق مکمل معلومات اس انداز سے پیش کیں جیسے سمندر کو کوزے میں بند کر لیا ہو ۔ اس طرح سے اردو میڈیم کے اسا تذہ کی تشنگی پوری ہو گئی درمیان میں انھوں نے ٹیچرس کے مشکلات اور مختلف سوالات کے تسّلی بخش جوابات بھی دیۓ ۔ اس پروگرام میں پانچ سو سے زیادہ اساتذہ نے شرکت کیں اور استفادہ حاصل کیا ۔ اس ورک شاپ کے تمام انتظامات ضلع راۓ گڑھ میں اردو شیکشن کے وستار ادھیکاری اسلم دیکھاوے صاحب نے اور محمد عمر مستے سر نے کۓ ۔ آخر میں گلپوشی کا پروگرام ہوا ۔اس میں نظامت محمد عمر مستے سر نے کیں جس میں مصطفی پانجیکر ،راۓ گڑھ ضلع کے اقلیتی کیشن کے ممبر ڈاکٹر عارف ، مسلم فلاحی تنظیم کے عبدالحمید پٹیل ( عرف بابو بھائی ) اور راۓ گڑھ کے شیشکن آرو گیہ سبھاپتی بالا رام پاٹل موجود تھے ۔ا ن تمام کی شال اور پھولوں سے گلپوشی کیں گئي ،اور ضیافت کا انتظام بھی کیا گیا ۔یہ تعلیمی ورک شاپ بہت کامیاب رہا ۔

You can watch power point presentation by Najma kazi.
(English) click here.
And here....


Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP