Monday, November 15, 2010
Sunday, November 14, 2010
By E-mail to Lantrani by Shafiullah

امریکی صدر بارک حسین اوبامہ ممبئی کے دوروزہ دورے پرآئے۔لیکن انہوں نے کسی بھی مسلمان سے ملاقات نہیں کی۔ یاپھر دواہم تقریبات میں جان بوجھ کر سرکار نے مسلمانوں کو الگ رکھا۔ اوبامہ منی بھون گئے،منی بھون کے دس ٹرسٹیوں میں ایک ٹرسٹی مسلمان ہے اسی مسلمان ٹرسٹی نے منی بھون کی پوری تاریخ لکھ کر اوبامہ کوارسال کی تھی جس کی وجہ سے اوبامہ منی بھون دیکھنے کے مشتاق ہوئے۔مگر افسوس کہ اوبامہ کی منی بھون آمد پرجن ٹرسٹیوں کو ان سے ملنے کی اجازت تھی اس میں صرف ۹ٹرسٹیوں کے نام تھے اس مسلمان ٹرسٹی کا نام نہیں تھا۔ ایک سماجی کارکن فرید بھائی بٹاٹا والا نے ہمیں ایس ایم ایس کے ذریعہ یہ حقیقت بتائی. اسی طرح انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہوٹل تاج میں اوبامہ کے ساتھ صنعتکاروں اور تاجرطبقہ کی اہم میٹنگ تھی اسمیں بھی کسی مسلمان صنعتکاروتاجر کو مدعو نہیں کیاگیا۔ کیا مہاراشٹر میں ایک بھی مسلمان صنعتکار نہیں ہے؟ ایک بھی مسلمان بزنس مین نہیں ہے؟ جب کہ یہ حقیقت ہے کہ جے جے اسپتال ،کے ای ایم اسپتال کی زمینیں مسلمانوں نے دی ہیں اس کی تعمیر میں مسلمانوں کا پیسہ لگا ہے مہاراشٹر میں کم وبیش دس ایسے مسلمان صنعتکار ہیں جو ٹاٹا برلاکی برابری کر سکتے ہیں ایک سے بڑھ کر ایک مسلمان بزنس مین ہیں۔ برتنوں کی صنعت، چمڑے کی صنعت، کپڑوں کی صنعت،زردوزی کی صنعت،بیگ ، سوٹ کیس اور پرس کی صنعت مسلمانوں کی ہیں اسکے باوجود کسی بھی مسلمان کو مدعو نہیں کیاگیا۔اس سے یہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ آخراوبامہ مسلمانوں سے کیوں نہیں ملے؟یاپھر اوبامہ سے مسلمانوں کو ملنے نہیں دیاگیا۔ہماری اس تشویش کی خواہ کتنی ہی صفائی کیوں نہ پیش کی جائے مگر ذہن پھر بھی یہی سوال کرے گا کہ اس ملک کی تعمیر وترقی میں سب سے بڑی قربانی مسلمانوں کی رہی ہے اسکے باوجود اوبامہ سے ملاقات کے موقعہ پرمسلمانوں کو نظرانداز کیوں کیاگیا۔دہلی ایئرپورٹ پربھی ایسا ہی ہوا‘جہاں سلمان خورشید رن وے پرکھڑے توتھے اورٹی وی نیوز چینل باربارانہیں دکھا رہے تھے مگر جب اوبامہ آئے تو سلمان خورشید کو ایک مرتبہ بھی نہیں دکھایاگیا نہ ہی انہیں اوبامہ سے ملتے ہوئے دکھایاگیا۔ممبئی میں اوبامہ کی آمد جہاں تاریخ ساز رہی وہیں ذہن میں ٹیس بھی برقراررہے گی کہ آخر اوبامہ مسلمانوں سے کیوں نہیں ملے؟
Thursday, November 04, 2010
خراج عقیدت

ہندی بللاگ بھڑاس ،بی ایٹ ،ایم کے روح رواں اور لنترانی کے ٹیکنیکل مددگار ڈاکٹر روپیش سری واستو کی والدہ کا 29 اکتوبر کو انتقال ہو گیا ۔آشا سری واستو کی عمر 70 سال تھی ۔اور تین مہینوں سے بیمار تھیں ۔مرحومہ بہت ہنس مکھ اور خوش گفتار تھیں ۔تعلیم یافتہ تھیں ۔لنترانی کی شروعات ان کے ہی مشوروں سے ہوئ تھیں ۔ لنترانی پر کام کرتے وقت وہ ساتھ میں بیٹھ کر اپنے مشورے دیا کرتی تھيں ۔آج وہ ہمارے ساتھ نہیں ہیں ۔پر ان کی یادیں او ر دعائيں ہمارے ساتھ ہیں ۔ لنترانی کی ٹیم ڈاکٹر روپیش سری واستو کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔
0
comments
Labels:
condolance,
mother
مبارکباد
مقابلہ آرای کے اس دور میں تعلیم کی جتنی اہمیت ہے ۔اتنی ہی اہمیت اب سماج میں اپنی شناخت منوانے کے لۓ شخصیت سازی کے نام سے منعقد ہونے والے ورکشاپ کو ہو گئی ہے ۔ایسے کئ ورکشاپ نظروں سے گزرے ہیں ۔پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ پونے کے رہنے والے سیّد سعید احمد اردو والوں کے لۓ خاص طور پر یہ کام کر رہے ہیں ۔انھوں نے اب تک 225 و
اردو میڈیم کے طلباء اور اساتذہ کے لۓ اس طرح کے کام کرنا انکی شخصیت سازی کرنا اور اور ان میں بیداری پیدا کر کے ان میں حوصلہ پیدا کر نا تعریف کے قابل ہیں ہم پھر ایک بارسیّد سعید احمد سر کو تہ دل سے مبارک باد دیتے ہیں اور سر سے واعدہ کرتے ہیں کہ لنترانی کی ٹیم ہر موڑ پر آپ کے ساتھ ہیں ۔ ہم ضرور کامیاب ہوں گۓ ۔ ۔
0
comments
Labels:
mumbai,
urdu blogging,
urdu workshop
Subscribe to:
Posts (Atom)
