You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Sunday, July 28, 2013

جما عت اسلامی کا رمضان کٹجما عت اسلامی کا رمضان کٹ


ممبئی سے شائع ہونے والے سبھی اردو روزناموں کے 7 جولائی کی اشاعت میں جماعت اسلامی ہند ممبئی میٹرو کی جانب سے صفحہ اول پر ایک اعلان شائع ہوا ہے جس کے تحت جماعت اسلامی مستحقین تک ایک ہزار روپئے کا رمضان کٹ پہنچائے گی ۔جس سے کہ غریب خاندان سکون سے سحری و افطاری کرسکتا ہے ۔اس کٹ میں تیل ،گھی ،شکر ،چاول ،کھجور اور دیگر ضروریات کی چیزیں ہون گی ۔واقعی یہ کام نہایت ہی دردمندی اور فکرمندی سے ہونے ہونے جارہا ہے ۔اس لئے صاحب ثروت لوگوں سے پر خلوص گذارش ہے کہ وہ اس کار خیر میں ایک ہی کیا تین تین ،یا چار چار ،یا پانچ پانچ خاندانوں کی کفالت کریں ۔وضح رہے کہ یہ کام رمضان کے پیش نظر ہو رہا ہے اور ماہ رمضان میں ہر عمل کا اجر و ثواب سات سو گنا اور اس سے زیادہ بھی ہوتا ہے ۔اس تعلقات سے جناب فیروز پٹیل سے 9820703020 پر رابطہ قائم کریں یا جماعت اسلامی ہند کے اپنے علاقائی دفتر سے رجوع ہوں۔
ہاشم احمد چوگلی
نور ایڈور ٹائزر
مومن پورا۔مولانا آزاد روڈ
ممبئی ۔00011
موبائل۔22142352

Thursday, July 25, 2013



۲۲جولائی ۳۱۰۲
شعبۂ اردوجامعہ ملیہ اسلامیہ کے ٹیگورریسرچ اینڈ ٹرانسلیشن اسکیم کے تحت پہلی کتاب ’’ٹیگورشناسی‘‘ شائع ہوکرمنظرعام پرآگئی ہی۔اس کے مصنف اردوکے ممتازنقاداوردانشور شمیم طارق ہیں۔یہ کتاب مکتبہ جامعہ لمیٹیڈنئی دہلی سے شائع ہوئی ہی۔ایک سوستّر صفحات پرمشتمل اس کتاب میں شمیم طارق نے پندرہ ابواب کے تحت ٹیگورکواردوداں حلقے میںروشناس کرانے کی کوشش کی ہی۔انہوںنے ٹیگوراوران کے عہد،خاندان ،پیدائش،بچپن،تعلیم، اسرارِفطرت میںدلچسپی، سیروسیاحت،شادی،گھرگرہستی،سیرت وشخصیت کے علاوہ ٹیگورکے تخلیقی سفرشاعری،موسیقی،ڈرامہ،کہانی،ناول اورمصوری پربھی روشنی ڈالی ہی۔شمیم طارق نے شانتی نکیتن اورٹیگوربطور معلم ،نوبیل پرائز ،ٹیگور فکراورفلسفہ ،قومیت کا تصوراورقومی ترانہ ،ٹیگورکے فن،ان کی شعری بصیرت،ٹیگورکے آخری سفراوران کی تخلیقات وتصنیفات پرمفصل روشنی ڈالی ہی۔ حرف مدعامیںمصنف نے یہ تحریرکیاہے کہ ’’رابندرناتھ ٹیگورنہ صرف آج کی اردودنیاسے متعارف ہیںبلکہ ان کی فکراوراسلوب کی اردودنیامیں پیروی بھی کی گئی ہے اس کے باوجودایک ایسی کتاب کی ضرورت باقی تھی جس کوپڑھنے کے بعدٹیگورکی حیات اورفکروفن کی تمام جہتیںروشن ہوجائیں ۔ یہ کتاب اسی ضرورت کے پیش نظر لکھی گئی ہی۔‘‘شمیم طارق نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلراورٹیگورریسرچ اینڈ ٹرانسلیشن اسکیم کے سرپرست نجیب جنگ صاحب (موجودہ لیفٹیننٹ گورنر دہلی) ، صدر شعبہ اردو پروفیسر وہاج الدین علوی ، سابق صدر شعبہ اردو پروفیسر خالد محمود اور ٹیگور پروجیکٹ کے کو آرڈینیٹر پروفیسر شہزاد انجم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’ تمام مخلص اور علمی شخصیتیں مبارکباد کی بھی مستحق ہیںکہ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اس کے شعبۂ اردو کو نیک نامی اور نئی شناخت دینے کے ساتھ ٹیگور شناسی کی نئی بنیادیں بھی فراہم کی ہیں‘‘۔

        ٹیگور ریسرچ اینڈ ٹرانسلیشن اسکیم کے کو آرڈینیٹر پروفیسر شہزاد انجم نے اس کتاب کے پیش لفظ میں تحریر کیا ہے کہ اردو داں حلقہ میں ٹیگور کی شخصیت اور فکر و فن کے ہمہ جہت تعارف کے لیے ایک ایسی کتاب کی ضرورت باقی تھی ۔شمیم طارق نے اس ضرورت کو اس خوبی سے پورا کیا ہے کہ اس موضوع پر مذکورہ کتاب کو پہلی کتاب قرار دیا جا سکتا ہے کیوں کہ ٹیگور کی شخصیت اور فکر و فن کا شاید ہی کوئی ایسا پہلو ہو جس پر شمیم طارق نے ٹیگور شناسی میں بحث نہ کی ہو۔ شمیم طارق نے اس کتاب کا انتساب ’قومی تصورات کے نام جن کی خوبصورت تعبیر جامعہ ملیہ اسلامیہ ہی‘ کیا ہی۔ امید ہے رابندر ناتھ ٹیگور پر تحریر کردہ یہ کتاب پوری دنیا میں اعلی اور اہم مقام حاصل کرے گی۔  واضح ہو کہ کتاب کی دس ہزار کاپیاں شائع ہوئی ہیں اور وزارت ثقافت حکومت ہند کے معاہدے کے تحت یہ کتابیں اردو کے علمی ادبی حلقوں  اور اسکالرز کے درمیان مفت تقسیم کی جائیں گی۔جامعہ ملیہ اسلامیہ ، ٹیگورپروجیکٹ کے زیرِ اہتمام’’ ٹیگورشناسی‘‘ شائع ہوکرمنظرعام پرآگئي ہے ۔جامعہ ملیہ اسلامیہ ، ٹیگورپروجیکٹ کے زیرِ اہتمام’’ ٹیگورشناسی‘‘ شائع ہوکرمنظرعام پرآگئی



Monday, July 22, 2013

روزہ کا اصل مقصد

روزہ کا اصل مقصد
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی

ہر کام جو انسان کرتا ہی، اس میں دو چیزیں لازمی طور پر ہوا کرتی ہیں۔ ایک چیز تو وہ مقصد ہے جس کے لیے کام کیا جاتا ہے اور دوسری چیز اس کام کی وہ خاص شکل ہے جو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اختیار کی جاتی ہی۔ مثلاً کھانا کھانے کے فعل کو لیجےی۔ کھانے سے آپ کا مقصد زندہ رہنا اور جسم کی طاقت کو بحال رکھنا ہی۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کی صورت یہ ہے کہ آپ نوالے بناتے ہیں ، منہ میں لے جاتے ہیں، دانتوں سے چباتے ہیں اور حلق کے نیچے اتارتے ہیں۔ چونکہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سب سے زیادہ کارگر اور سب سے زیادہ مناسب طریقہ یہی ہوسکتا تھا، اس لیے آپ نے اسی کو اختیار کیا۔ لیکن آپ میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ اصل چیز وہ مقصد ہے جس کے لیے کھانا کھایا جاتا ہی، نہ کہ کھانے کے فعل کی یہ صورت۔ اگر کوئی شخص لکڑی کا برادہ یا راکھ مٹی لے کر اس کے نوالے بنائے اور منہ میں لے جائے اور دانتوں سے چبا کر حلق سے نیچے اتارلے تو آپ اسے کیا کہیں گی؟ یہی ناکہ اس کا دماغ خراب ہی۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہ احمق کھانے کے اصل مقصد کو نہیں سمجھتا اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ بس فعل خوردن کے ان چاروں ارکان کو ادا کردینے ہی کا نام کھانا کھانا ہی۔ اسی طرح آپ اس شخص کو بھی پاگل قرار دیں گے جو روٹی کھانے کے بعد فوراً ہی حلق میں انگلی ڈال کر قے کردیتا ہو اور پھر شکایت کرتا ہو کہ روٹی کھانے کے جو فائدہ بیان کیے جاتے ہیں وہ مجھے حاصل ہی نہیں ہوتی، بلکہ میں تو الٹا روز بروز دبلا ہوتا جارہا ہوں اور مر جانے کی نوبت آگئی ہی۔ یہ احمق اپنی اس کمزوری کا الزام روٹی اور کھانے پر رکھتا ہے حالانکہ حماقت اس کی اپنی ہی۔ اس نے اپنی نادانی سے یہ سمجھ لیا کہ کھانے کا فعل جتنے ارکان سے مرکّب ہے بس ان کو ادا کر دینے ہی سے زندگی کی طاقت حاصل ہوجاتی ہی۔ اس لیے اس نے سوچا کہ اب روٹی کا بوجھ اپنے معدے میںکیوں رکھو؟ کیوں نہ اسے نکال پھینکا جائے تاکہ پیٹ ہلکا ہوجائی۔ کھانے کے ارکان تو میں ادا کر ہی چکا ہوں۔ یہ احمقانہ خیال جو اس نے قائم کیا اور پھر اس کی پیروی کی، اس کی سزا بھی تو آخر اسی کو بھگتنی چاہےی۔ اس کو جاننا چاہیے تھا کہ جب تک روٹی پیٹ میں جاکر ہضم نہ ہو اور خون بن کر سارے جسم میں پھیل نہ جائے اس وقت تک زندگی کی طاقت حاصل نہیں ہوسکتی۔ کھانے کے ظاہری ارکان بھی اگرچہ ضروری ہیں، کیوں کہ ان کے بغیر روٹی معدے تک نہیں پہنچ سکتی، مگر محض ان ظاہری ارکان کے ادا کردینے سے کام نہیں چل سکتا۔ ان ارکان میں کوئی جادو بھرا ہوا نہیں ہے کہ انہیں ادا کرنے سے بس طلسماتی طریقہ پر آدمی کی رگوں میں خون دوڑنے لگتا ہوں۔ خون پیدا کرنے کے لیے تو اللہ نے جو قانون بنایا ہے اسی کے مطابق وہ پیدا ہوگا۔ اس کو توڑو گے تو اپنے آپ کو خود ہلاک کرو گی۔ 
ظاہر کو حقیقت سمجھنے کے نتائج: 
یہ مثال جو اس تفصیل کے ساتھ میں نے آپ کے سامنے بیان کی ہے اس پر آپ غور کریں تو آپ کی سمجھ میں آسکتا ہے کہ آج آپ کی عبادتیں کیوں بے اثر ہوگئی ہیں۔ جیسا کہ میں پہلے بھی آپ سے بارہا بیان کرچکا ہوں۔ سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ آپ نے نماز روزے کے ارکان اور ان کی ظاہری صورتوں ہی کو اصل عبادت سمجھ رکھا ہے اور آپ اس خیال خام میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ جس نے یہ ارکان پوری طرح ادا کردیے اس نے بس اللہ کی عبادت کردی۔ آپ کی مثال اسی شخص کی سی ہے جو کھانے کے چاروں ارکان ، یعنی نوالے بنانا، منھ میں رکھنا، چبانا، حلق سے نیچے اتاردینا، بس انہی  چاروں کے مجموعے کو کھانا سمجھتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ جس نے یہ چار ارکان ادا کردیے اس نے کھالیا اور کھانے کے فائدے اس کو حاصل ہونے چاہئیں، خواہ اس نے ان ارکان کے ساتھ مٹی اور پتھر اپنے پیٹ میں اتارے ہوں، یا روٹی کھا کر فوراً قے کردی ہو۔ اگر حقیقت میں آپ لوگ اس حماقت میں مبتلا نہیں ہوگئے ہیں تو مجھے بتایئے یہ کیا ماجرا ہے کہ جو روزہ دار صبح سے شام تک اللہ کی عبادت میں مشغول ہوتا ہے وہ عین اس عبادت کی حالت میں جھوٹ کیسے بولتا ہی؟ غیبت کس طرح کرتا ہی؟ بات بات پر لڑتا کیوں ہی؟ اس کی زبان سے گالیاں کیوں نکلتی ہیں؟ وہ لوگوں کا حق کیسے مار کھاتا ہی؟ حرام کھانے اور حرام کھلانے کے کام کس طرح کرلیتا ہی؟ اور پھر یہ سب کام کرکے بھی اپنے نزدیک یہ کیسے سمجھتا ہے کہ میں نے خدا کی عبادت کی ہی؟ کیا اس کی مثال اس شخص کی سی نہیں ہے جو راکھ اور مٹی کھاتا ہے اور محض کھانے کے چار ارکان ادا کردینے کو سمجھتا ہے کہ کھانا اس کو کہتے ہیں؟ 
رمضان کے بعد پھر بے قیدی: 
پھر مجھے بتایئے یہ کیا ماجرا ہے کہ رمضان بھر میں تقریباً 360 گھنٹے خدا کی عبادت کرنے کے بعد جب آپ فارغ ہوتے ہیں تو اس پوری عبادت کے تمام اثرات شوال کی پہلی تاریخ ہی کو کافور ہوجاتے ہیں؟ ہندو اپنے تہواروں میں جو کچھ کرتے ہیں وہی سب آپ عید کے زمانے میں کرتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ شہروں میں تو عید کے روز بدکاری اور شراب نوشی اور قمار بازی تک ہوتی ہے اور بعض ظالم تو میں نے ایسے دیکھے ہیں جو رمضان کے زمانے میں دن کو روزہ رکھتے ہیں اور رات کو شراب پیتے اور زنا کرتے ہیں۔ عام مسلمان خدا کے فضل سے اس قدر بگڑے ہوئے تو نہیں ہیں، مگر رمضان ختم ہونے کے بعد آپ میں سے کتنے ایسے ہیں جن کے اندر عید کے دوسرے دن بھی تقویٰ اور پرہیزگاری کا کوئی اثر باقی رہ جاتا ہو؟ خدا کے قوانین کی خلاف ورزی میں کون سی کسر اٹھا رکھی جاتی ہی؟ نیک کاموں میں کتنا حصہ لیا جاتا ہی؟ اور نفسیات میں کیا کمی آجاتی ہی؟ 
عبادت کے غلط تصور کا نتیجہ: 
سوچیے اور غور کیجیے کہ اس کی وجہ آخر کیا ہی۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں عبادت کا مفہوم اور مطلب ہی غلط ہوگیا ہی۔ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ سحر سے لے کر مغرب تک کچھ نہ کھانے اور نہ پینے کا نام روزہ ہے اور بس یہی عبادت ہی۔  اس لیے روزے کی تو آپ پوری حفاظت کرتے ہیں۔ خدا کا خوف آپ کے دل میں اس قدر ہوتا ہے کہ جس چیز میں روزہ ٹوٹنے کا ذرا سا اندیشہ بھی ہو اس سے بھی آپ بچتے ہیں۔ اگر جحان پر بھی آجائے تب بھی آپ کو روزہ توڑنے میں تامل ہوتا ہی۔ لیکن آپ یہ نہیں جانتے کہ یہ بھوکا پیاسا رہنا اصل عبادت نہیں بلکہ عبادت کی صورت ہے اور یہ صورت مقرر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ آپ کے اندر خدا کا خوف اور خدا کی محبت پیدا ہو، اور آپ کے اندر اتنی طاقت پیدا ہوجائے کہ جس چیز میںدنیا بھر کے فائدے ہوں مگر خدا ناراض ہوتا ہو اس سے اپنے نفس پر جبر کر کے بچ سکیں، اور جس چیز میں ہر طرح کے خطرات اور نقصانات ہوں مگر خدا اس سے خوش ہوتا ہو، اس پر آپ اپنے نفس کو مجبور کرکے آمادہ کرسکیں، یہ طاقت اسی طرح پیدا ہوسکتی تھی کہ آپ روزے کے مقصد کو سمجھتے اور مہینہ بھر تک آپ نے خدا کے خوف اور خدا کی محبت میں اپنے نفس کو خواہشات سے روکنے اور خدا کی رضا کے مطابق چلانے کی جو مشق کی ہے اس سے کام لیتی۔ مگر آپ تو رمضان کے بعد ہی اس مشق کو اور ان صفات کو جو اس مشق سے پیدا ہوتی ہیں اس طرح نکال پھینکتے ہیں جیسے کھانے کے بعد کوئی شحص حلق میں انگلی ڈال کر قے کردی، بلکہ آپ میں سے بعض لوگ تو روزہ کھولنے کے بعد ہی دن بھر کی پرہیزگاری کو اگل دیتے ہیں۔ پھر آپ ہی بتایئے کہ رمضان اور اس کے روزے کوئی طلسم تو نہیں ہیں کہ بس ان کی ظاہری شکل پوری کردینے سے آپ کو وہ طاقت حاصل ہوجائے جو حقیقت میں روزے سے حاصل ہونی چاہےی۔ جس طرح روٹی سے جسمانی طاقت اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ معدے میں جاکر ہضم نہ ہو اور خون بن کر جسم کی رگ رگ میں نہ پہنچ جائی، اسی طرح روزے سے بھی روحانی طاقت اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک کہ آدمی روزہ کے مقصد کو پوری طرح سمجھے نہیں اور اپنے دل و دماغ کے اندر اس کو اترنے اور خیال ،نیت، ارادے اور عمل سب پر چھا جانے کا موقع نہ دی۔ 
-----------

naat pak


Saturday, July 20, 2013

دنیا کا تبدیل ہوتا ہوا منظر نامہ

دنیا کا تبدیل ہوتا ہوا منظر نامہ
        اٹھارہویں صدی کے سائنسی انقلاب اور لادینی نظریات کے وجود کے بعد اربوں کھربوں ڈالر اور سرمائے کی طاقت سے اشتراکیت ،آمریت ،کمیونزم،کپیٹلزاور لبرل جمہوریت کو وجود میں لایا گیا تاکہ بیسویں صدی میں خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد ایک بار پھر اسلامی طرز سیاست اور خلافت کو غالب آنے سے روکا جاسکے ۔مگر جس طرح آندھی اور طوفان کی طرح یہ جدید لبرل اور لادینی سیاست اپنے وجود میں آئی اسی رفتار سے فنا کی دہلیز پر قدم رکھ چکی ہے اور اکیسویں صدی میں ایک بار پھر پاکستان سے لیکر افغانستان ایران ترکی مصر اور شام میں تحریکات اسلامی کے عروج سے اسی طرح خوفزدہ ہے جیسے روئے زمین پر جبرئیل کا نزول ہونے والا ہو یا شیطان کرہ ارض پر کسی نبی اور رسول کی آمد سے لرزہ بر اندام ہو جایا کرتا تھا ۔
        ہو سکتا ہے یہ کسی دیوانے کی بکواس ہو مگر تاریخ پر نظر دوڑائیے اور دیکھئے کہ اٹھارہویں صدی جدید ٹکنالوجی ،لادینی نظریات اور جدید طرز سیاست کے عروج کا دور ضررور تھا مگر صالحیت اور دین و مذہب کے خاتمہ کا نہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ بیسویں صدی کے خاتمے سے پہلے اور نوے کی دہائی میں ہی اشتراکیت ،کمیونزاور سوشلزم کے ان سارے بتوں کو منہدم کرنے کیلئے کسی حضرت ابراہیم  کو آنے کی ضرورت نہیں پڑی بلکہ وقت کے آزروں نے خود اپنے ہاتھوں سے ان مجسموں کو تہس نہس کردیا ۔اور امریکہ جس کارپوریٹ جمہوری نظام کی کامیابی کے بعد پوری دنیا میں یکساں طور پر نیو ورلڈ آرڈر کو نافذ کرنے کی بات کررہا تھا 2001 یعنی 9/11 کے بعد بیسویں صدی کے خاتمے اور اکیسویں صدی کے آغاز میں خود اس چرچہ کا موضوع بن گیا ہے کہ کیا یہ امپائر خود اپنے پیروں پر کھڑا رہ پائے گا ؟001 میں جس تیزی کے ساتھ وہ افغانستان میں داخل ہوا تھا القاعدہ اور طالبان کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا اور اسی رو میں عراق پر چڑھائی کی صدام حسین کو پھانسی پر چڑھادیا ،ایسا لگ رہا تھا کہ دنیا سے تحریکات اسلامی ،اسلام اور بیباک مسلم قیادت کا خاتمہ ہو جائے گا ،مگر کیا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکا ؟دنیا دیکھ رہی ہے کہ قطر میں وہ
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP