Friday, March 25, 2011
اسکالر شپ امتحان
حکومت مہاراشٹر کی طرف سے چہارم اور ہفتم جماعتوں کے بچوں کے لۓ اسکالر شپ کے امتحانات ہوتے ہیں ۔ اس امتحان میں بہت کم یعنی کہ ٪ 10 بھی بچے شریک نہیں ہوتے ہیں ۔اس لۓ زیادہ تر بچوں کو مقابلہ جاتی امتحانات کا طریقہء کار سوالات کے نمونے ، جوابات لکھنے کا طریقہ معلو م نہیں ہوتا ہے ۔ جس کے سبب سرکاری اور نیم سرکاری دفاتر میں اردو اسکولوں کے طلباء کی نمائندگی 2 سے 4 فی ص
د تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔مقابلہ جاتی ام
تحان کے طریقہءکار سے واقفیت کے لۓ اور انھیں مستقبل میں ایسے امتحانات میں شرکت کی ترغیب دینے کے لۓ اور غیر محسوس طریقے سے مقابلہ جاتی امتحانات کے لۓ تیار کروانے کے لۓ یہ امتحان لیا جاتاہے یہ امتجان جماعت پنجم سے جماعت نویں جماعت کے طلباء کے لۓ لیا جاتا ہے جو کہ پورے نصاب پر مشتمل ہوتا ہے۔ تمام مضا
مین میں
سے سوالات پوچھے جاتے ہیں ۔مقابلاجاتی امتحان کی طرح ایک سوال کے چار متبادل جوابات ديۓ جاتے ہیں ۔صحیح جواب کا نمبر چوکون میں لکھنا ہوتا ہے ۔ گل بوٹے
اسکالر شپ امتحان کا انعقاد پوری ریاست مہاراشٹر ميں بروز سنیچر مورخہ 19 مارچ 2011ء کوکیا گیا ۔ اس امتحان میں پوری ریاست میں
سولہ ہزار بچوں نے شرکت کیں ۔اس امتحان میں 90فیصد سے زائد نمبرات حاصل کرنے والے طلباء کو 500 ( پانچ سو روپۓ ) کی اسکالر شپ اور سرٹیفکٹ دیا جاۓ گ
ا ۔60 فیصد سے زائد مارکس حاصل کرنے والے طلباء کو گل بوٹے اور مہاراشٹر مائناریٹی کمیشن کی طرف سے سرٹیفکٹ دیا جاتا ہے ۔ ممبئی میں انجمن اسلام بلاسس روڈ گرلس ہائی اسکول و جونیئر کالج میں اس مقابلہ جاتی امتحان کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ مہاراشٹر مائناریٹی کمیشن کے چیئرمین جناب محمد نسیم صدیقی صاحب دوران امتحان وہاں موجود تھے ۔ اور امتحان گاہ کے ہر کمرہ میں جاکر بچ
وں کی حوصلہ افزائی کررہے تھے ۔ ہر بچے سے مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہے تھے ۔ بچے اور وہاں کا اسٹاف بھی بہت خوش نظر آرہا تھا ۔دوران گفتگو انھوں نے کہا کہ تعلیم ہر کے لۓ ضروری ہے وہ پورا تعاون کریں گۓ
سفیر امن و محبت ، سفیر علم و ہنر
تقدس مآب ڈاکٹر سیّدنا برہان الدین 25 مارچ کو ایک سو سال کے ہو گۓ اس روز وہ حسب معمول پورا دن اپنے معتقدین یعنی کہ دس لاکھ افراد پر مشتمل داؤدی بوہرہ فرقہ ک
ے درمیان گزاریں ۔روحانی پیشوا اخلاقی نگراں حقیقت پسند مشیر اور شفیق باپ کی حیّثیت سے وہ اس قوم کے ب
صیر قائد رہے ہیں ۔اس سلسلہ میں 100 برس کے دوران 47 سال کے عرصہ میں تاریخ نے وسیع تر پیمانے پر بہت کچھ ظاہر کیا ہے سیّدنا کہتے ہی
ں کہ مذہب محبت کے سوا کچھ بھی نہیں اور اسی اصول پر ان کی زندگی کے کام مبنی ہیں ہزاروں افراد بلا تفرق مذہب و ملّت ان کے کاموں سے متاثر ہیں ۔اپنے والد کی جانشین کے طور پر قوم کے سربراہ بننے کے بعد 47 برس میں قوم کی سماجی معاشی اور روحانی ترقی کے لۓ موصوف نے پوری ذھنی یکسوئی کے ساتھ کام کیا ۔ بیماروں کے لے سیّدنا نے طبی سہولتوں کے انتظام کی حوصلہ افزائی
کی ۔ سیفی اہسپتال ممبئی میں اعلی درجہ کا طبی ادارہ مانا جاتا ہے ۔تعلیم کے سلسلہ میں وہ اسکولوں ۔ کالجوں کی مھھ کرتے ہیں ۔گرانٹ اور تعلیمی امداد کا انتظام کرتے ہیں ۔اور ہر ل
محہ وہ خدمت خلق میں مصروف رہتے ہیں ۔ ڈاکٹر سیّدنا محمد برہان الدین ( طعش) کے 100 ویں میلاد مبارک
کے موقع پر لنترانی کی ٹیم دل کی عمیق گہرائیوں اورعزت و احترام کے ساتھ مبارک باد پیش کرتیں ہیں ۔اور دیا کرتے ہیں اللہ تعالی انہیں اپنی مقدس رحمتوں سے نوازے اور عالمی داؤدی بوہرہ جماعت کی امن ، ترقی اور خوشحالی کے لۓ مسلسل رہبری کے لۓ انہیں اخھی صحت کے ساتھ طویل عمر عطا کرے آمین
ے درمیان گزاریں ۔روحانی پیشوا اخلاقی نگراں حقیقت پسند مشیر اور شفیق باپ کی حیّثیت سے وہ اس قوم کے ب
صیر قائد رہے ہیں ۔اس سلسلہ میں 100 برس کے دوران 47 سال کے عرصہ میں تاریخ نے وسیع تر پیمانے پر بہت کچھ ظاہر کیا ہے سیّدنا کہتے ہی
ں کہ مذہب محبت کے سوا کچھ بھی نہیں اور اسی اصول پر ان کی زندگی کے کام مبنی ہیں ہزاروں افراد بلا تفرق مذہب و ملّت ان کے کاموں سے متاثر ہیں ۔اپنے والد کی جانشین کے طور پر قوم کے سربراہ بننے کے بعد 47 برس میں قوم کی سماجی معاشی اور روحانی ترقی کے لۓ موصوف نے پوری ذھنی یکسوئی کے ساتھ کام کیا ۔ بیماروں کے لے سیّدنا نے طبی سہولتوں کے انتظام کی حوصلہ افزائی
کی ۔ سیفی اہسپتال ممبئی میں اعلی درجہ کا طبی ادارہ مانا جاتا ہے ۔تعلیم کے سلسلہ میں وہ اسکولوں ۔ کالجوں کی مھھ کرتے ہیں ۔گرانٹ اور تعلیمی امداد کا انتظام کرتے ہیں ۔اور ہر ل
محہ وہ خدمت خلق میں مصروف رہتے ہیں ۔ ڈاکٹر سیّدنا محمد برہان الدین ( طعش) کے 100 ویں میلاد مبارک
کے موقع پر لنترانی کی ٹیم دل کی عمیق گہرائیوں اورعزت و احترام کے ساتھ مبارک باد پیش کرتیں ہیں ۔اور دیا کرتے ہیں اللہ تعالی انہیں اپنی مقدس رحمتوں سے نوازے اور عالمی داؤدی بوہرہ جماعت کی امن ، ترقی اور خوشحالی کے لۓ مسلسل رہبری کے لۓ انہیں اخھی صحت کے ساتھ طویل عمر عطا کرے آمین
بھون ، کا لینہ کیمپس
ممبئی یو نیورسٹی کا لینہ میں رنگا ئن و سنت ڈراما میلہ
ممبئی یونیورسٹی نے کالینہ کیمپس میں’’ اکاڈمی آف تھیٹر آرٹس ‘‘ کے تحت ایک باقا عدہ مکمل شعبہ قائم کر دیا ہے،جہاں تھیٹر اور ڈرامو ں کی تر بیت دی جاتی ہے، پو سٹ گریجویشن سطح کا یہ شعبہ اب تک متعدد ف
نکار اردو ہندی ، مراٹھی اسٹیج کے لیے فراہم کر چکا ہے۔ اس کے ڈائر یکٹر اور صدر شعبہ مشہور ہدایت کار وامن کیندرے ہیں۔یہ شعبہ ہر سال کالینہ کیمپس م
یں ایک کل ہندسطح کے ڈرا ما فیسٹول کا انعقاد بھی کرتا ہے جس میں ہندوستان کے اہم ہدایت کاروں کے معیاری ڈرامے پیش کیے جاتے ہیں۔ امسال اکاڈمی آف تھیٹر آرٹس کا یہ سالانہ چھٹا ڈراما فیسٹول جسے ’’رنگائین و سنت ڈراما میلہ‘‘ کا ن
ام دیا گیا ہے ویسٹ زون کلچرل سنٹر اودے پورکے تعاون سے ۲۱ مارچ بروز پیر سے ۲۸ مارچ تک کسما گراج مراٹھی بھاشا بھون اور مکت آکاش رنگ منچ کالینہ کیمپس میں ہونے جا رہا ہے۔ اس انوکھے ڈراما میلہ کا افتتاح شریمی و جیا مہتا کر یں گی اور نامور فلم اور تھیٹر اداکار پریش راول مہمانِ خصوصی
ہو ں گے ۔صدارت ممبئی یو نیورسٹی کے وائس کانسلر ڈاکٹر راجن ویلو کر کریں گے ۔ اس فیسٹول میں اردو ، مراٹھی ، ہندی ، انگریزی اور آسامی کے کل ۹ ڈرامے پیش کیے جا ئیں گے۔ اور مشہور ہدایتکار ان، علیق پدمسی ،نصیرالدین شاہ، فیروزعباّس خان،بنسی کول، ڈاکٹر کنک ریلے، کے ڈراموں میں شبانہ اعظمی ،
پری زاد زورابین، نصیرالدین شاہ، حبّہ شاہ، رتنا پا ٹھک شاہ جیسے فنکار اپنی اداکارانہ جو ہر کے خوبصو رت نمو نے اسٹیج پر پیش کر یں گے۔ اس فیسٹول میں اردو ڈراما ’’عصمت آپا کے نام‘‘ بھی پیش کیا جائے گا جس میں عصمت چغتائی کی تین کہانیاں چھوئی مو ئی، بغل بچہ ، اور گھر والی پیش کی جائیں گی۔ ذیل میں ڈراموں فیسٹول کی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔ اس میں داخلہ مفت ہے۔ فری انٹری پاس حاصل کر نے کے لیے ان نمبروں پر رابطہ قا ئم کر یں۔ ڈاکٹر منگیش 9920420388 * ملند انعامدار9820686506
* پیر ۲۱ مارچ شام6.30بجے : فیسٹول کا افتتاح اور مراٹھی ڈراما ’’گھاشی رام کو توال‘‘ ( ہدایت کار وجئے گو وند) مراٹھی بھا شا
* منگل ۲۲ مارچ شام ۷ بجے:’’ڈنر وتھ فرینڈز‘‘ (انگریزی) ہدایت کار فیروز عبّاس خان
* بدھ۲۳ مارچ شام ۷ بجے:رنگ و دوشک کا ہندی ڈراما’’تکّے پہ تکّا ‘‘ (ہدایت کار: بنسی کول ، بھوپال)
* جمعرات۲۴ مارچ شام ۷ بجے:’’بھوائی (گجراتی کے فوک فارم پر مبنی ڈراما) مکت آکاش رنگ منچ
* جمعہ۲۵ مارچ شام ۷ بجے:’’ایک شام عصمت کے نام!‘‘ ( اردو ہدایت کار : نصیرالدین شاہ: مراٹھی بھا شا بھون)
* سنیچر ۲۶ مارچ شام ۷ بجے:’’انیلا ئیٹیڈ ون ۔ ۔ گو تم بدھا‘‘ ڈانس ڈراما (ہدایت کار: ڈاکٹر کنک ریلے)
* اتوار ۲۷ مارچ شام ۴ بجے:گٹی پلھور گموسا( آسامی ڈراما)
* اتوار ۲۷ مارچ شام ۷ بجے:این وسنت اردھیہ راتری (مراٹھی ڈراما شیکسپیر کے مڈ سمر نا ئٹ ڈریم پر مبنی) ہدایت کار : ملند انعامدار
*پیر ۲۸ مارچ شام 6.30 بجے:فیسٹول کا اختتامی پروگرام اور انگریزی ڈراما ’’بروکن امیجیس‘‘ شبانہ اعظمی کا سولو پر فارمنس(ہدایت کار : علیق پدمسی)
اس کے علاوہ ۲۹،۳۰ اور۳۱رمارچ کی شام 6.30بجے اکاڈمی آف تھیٹر آرٹس کے طلبہ ڈرامے ’’ہم رہے نا ہم‘‘اور ’’کورٹ مارشل ‘‘کے شوز مکت آکاش رنگ منچ کا لینہ کیمپس میں ہوں گے۔
اردو ڈراما ’’عصمت آپا کے نام !‘‘ کے علاوہ رنگارنگ ڈراموں کی پیشکش ،داخلہ مفت
رپورٹ: اقبال نیازیممبئی یونیورسٹی نے کالینہ کیمپس میں’’ اکاڈمی آف تھیٹر آرٹس ‘‘ کے تحت ایک باقا عدہ مکمل شعبہ قائم کر دیا ہے،جہاں تھیٹر اور ڈرامو ں کی تر بیت دی جاتی ہے، پو سٹ گریجویشن سطح کا یہ شعبہ اب تک متعدد ف
نکار اردو ہندی ، مراٹھی اسٹیج کے لیے فراہم کر چکا ہے۔ اس کے ڈائر یکٹر اور صدر شعبہ مشہور ہدایت کار وامن کیندرے ہیں۔یہ شعبہ ہر سال کالینہ کیمپس م
یں ایک کل ہندسطح کے ڈرا ما فیسٹول کا انعقاد بھی کرتا ہے جس میں ہندوستان کے اہم ہدایت کاروں کے معیاری ڈرامے پیش کیے جاتے ہیں۔ امسال اکاڈمی آف تھیٹر آرٹس کا یہ سالانہ چھٹا ڈراما فیسٹول جسے ’’رنگائین و سنت ڈراما میلہ‘‘ کا ن
ام دیا گیا ہے ویسٹ زون کلچرل سنٹر اودے پورکے تعاون سے ۲۱ مارچ بروز پیر سے ۲۸ مارچ تک کسما گراج مراٹھی بھاشا بھون اور مکت آکاش رنگ منچ کالینہ کیمپس میں ہونے جا رہا ہے۔ اس انوکھے ڈراما میلہ کا افتتاح شریمی و جیا مہتا کر یں گی اور نامور فلم اور تھیٹر اداکار پریش راول مہمانِ خصوصیہو ں گے ۔صدارت ممبئی یو نیورسٹی کے وائس کانسلر ڈاکٹر راجن ویلو کر کریں گے ۔ اس فیسٹول میں اردو ، مراٹھی ، ہندی ، انگریزی اور آسامی کے کل ۹ ڈرامے پیش کیے جا ئیں گے۔ اور مشہور ہدایتکار ان، علیق پدمسی ،نصیرالدین شاہ، فیروزعباّس خان،بنسی کول، ڈاکٹر کنک ریلے، کے ڈراموں میں شبانہ اعظمی ،
پری زاد زورابین، نصیرالدین شاہ، حبّہ شاہ، رتنا پا ٹھک شاہ جیسے فنکار اپنی اداکارانہ جو ہر کے خوبصو رت نمو نے اسٹیج پر پیش کر یں گے۔ اس فیسٹول میں اردو ڈراما ’’عصمت آپا کے نام‘‘ بھی پیش کیا جائے گا جس میں عصمت چغتائی کی تین کہانیاں چھوئی مو ئی، بغل بچہ ، اور گھر والی پیش کی جائیں گی۔ ذیل میں ڈراموں فیسٹول کی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔ اس میں داخلہ مفت ہے۔ فری انٹری پاس حاصل کر نے کے لیے ان نمبروں پر رابطہ قا ئم کر یں۔ ڈاکٹر منگیش 9920420388 * ملند انعامدار9820686506
* پیر ۲۱ مارچ شام6.30بجے : فیسٹول کا افتتاح اور مراٹھی ڈراما ’’گھاشی رام کو توال‘‘ ( ہدایت کار وجئے گو وند) مراٹھی بھا شا
* منگل ۲۲ مارچ شام ۷ بجے:’’ڈنر وتھ فرینڈز‘‘ (انگریزی) ہدایت کار فیروز عبّاس خان
* بدھ۲۳ مارچ شام ۷ بجے:رنگ و دوشک کا ہندی ڈراما’’تکّے پہ تکّا ‘‘ (ہدایت کار: بنسی کول ، بھوپال)
* جمعرات۲۴ مارچ شام ۷ بجے:’’بھوائی (گجراتی کے فوک فارم پر مبنی ڈراما) مکت آکاش رنگ منچ
* جمعہ۲۵ مارچ شام ۷ بجے:’’ایک شام عصمت کے نام!‘‘ ( اردو ہدایت کار : نصیرالدین شاہ: مراٹھی بھا شا بھون)
* سنیچر ۲۶ مارچ شام ۷ بجے:’’انیلا ئیٹیڈ ون ۔ ۔ گو تم بدھا‘‘ ڈانس ڈراما (ہدایت کار: ڈاکٹر کنک ریلے)
* اتوار ۲۷ مارچ شام ۴ بجے:گٹی پلھور گموسا( آسامی ڈراما)
* اتوار ۲۷ مارچ شام ۷ بجے:این وسنت اردھیہ راتری (مراٹھی ڈراما شیکسپیر کے مڈ سمر نا ئٹ ڈریم پر مبنی) ہدایت کار : ملند انعامدار
*پیر ۲۸ مارچ شام 6.30 بجے:فیسٹول کا اختتامی پروگرام اور انگریزی ڈراما ’’بروکن امیجیس‘‘ شبانہ اعظمی کا سولو پر فارمنس(ہدایت کار : علیق پدمسی)
اس کے علاوہ ۲۹،۳۰ اور۳۱رمارچ کی شام 6.30بجے اکاڈمی آف تھیٹر آرٹس کے طلبہ ڈرامے ’’ہم رہے نا ہم‘‘اور ’’کورٹ مارشل ‘‘کے شوز مکت آکاش رنگ منچ کا لینہ کیمپس میں ہوں گے۔
ناداں گرپڑے سجدے میں جب وقتِ قیام آیا
امام الحرمین شریفین کا دورۂ ہند ، اور ایک دینی جماعت کی جانب سے عظمت صحابہ کانفرنس ایک مسرت کن خبر ہے ۔ لیکن جب حالات کا بغور جائزہ لیں تو کچھ ایسی باتیں محسوس ہونے لگتی ہیں جنھیں سوچ کر ہی دل بیٹھا جاتا ہے۔ شروع میں دو ایک اخبارات نے اس کانفرنس ، شیخ کے دور ے کے فوائد اور اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی کوشِش کی لیکن اس کی پاداش میں ان تبصرہ نگاروں کو کافی تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑا۔ صحیح ہے اتنے بڑے اور مبارک موقع پر تبصرہ نگاروں کی اس طرح کی حرکت ہر کسی کو ناگوار ضرور گزرے گی۔ اس پر ذرا غور کریں تو کچھ اور شبہات نظر آنے لگتے ہیں۔ جب لیبیا، بحرین، یمن اور شام سلگ رہے ہیں ایسے میں شیخ کا ہند میں آنا بے مطلب نہیں لگتا۔ کچھ دنوں پہلے ہی ایک اور اسلامی تنظیم نے شیخ صاحب کوایک دعوتی اجتماع میں مدعو کیا ۔ ملک ہی نہیں دنیا بھر میں دعوت نامے تقسیم کیے گئے۔ ٹی۔وی ، اخبارات ،پوسٹرس ،ہورڈنگس اور پمفلٹس غرض تقریباًتمام ذرائع ابلاغ کا استعمال کیا گیا۔ مگر عین وقت جب تیاری مکمل ہوچکی شیخ کے آنے سے ایک دن پہلے بھی اعلانات جاری تھے کہ کل کی نماز شیخ پڑھائینگے، مگرایسا نہ ہوا شاید عرب حکومتوں نے شیخ کو بھیجنا گوارہ نہ کیابالآخر شیخ السدیس کے ایک متبادل کو روانہ کیا جنھوں نے متعلقہ کانفرنس میں شیخ السدیس کے فرائض انجام دیے۔
اب جب کہ سارا وسط ایشاء (عرب مملکتیں) جل رہی ہیں اچانک امام الحرمین کو یہاں آنے کی سوجھی اس پر بھی ظلم کے اس بڑھتی بدامنی کو شیعہ سنی رخ دینے میں مدد گار بننے چلے آئے ۔یہاں آکر شیخ صاحب نے ملک کی تمام بڑی تحریکات کے دفاتر پر حاضری دی ان دوروں میں بھی یہ بات خاص ذہن میں رکھی گئی کہ کسی شیعہ عالم دین یا اہل تشیع کی کسی اسلامی تنظیم سے ملاقات نہ ہو ۔
آج جہاں ملت اسلامیہ کو اتحاد کی ضرورت ہے وہاں پر عظمت صحابہ کانفرنس کے انعقاد میں بھی ہندوستان کی ملت اسلامیہ میں انتشار کے بیج بونے کا ایک ذریعہ بن گئی ۔ افسوس کہ امت کی ان جلیل القدر ہستیوں کی عظمت کے نام پر امت کے انتشار کو ہوا دی گئی۔ بھلا وہ کو ن بد بخت مسلمان ہوگا جسے صحابہ رضوان اللہ علیم اجمعین کی عظمتوں کا اعتراف نہ ہو۔ امام حرم ایک غیر سیاسی شخصیت ہیں لیکن ان سیاسی داؤ پیچ سے وہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ عالمِ اسلام کی موجودہ صورتحال میں امت کے اتحاد پر کوئی کانفرنس ہوتی ۔ جس میں وسط ایشاء میں بدلتے ہوئے سیاسی حالات اور ان پر یوروپی اقوام کی یلغار کا ملت اسلامیہ کسی طرح مقابلہ کرے ۔ اس پر رہنمائی کی جاتی مگر افسوس صد افسوس ایسا کچھ نہ ہوا ، او ر جو کچھ بھی ہوا وہ صرف قابلِ افسوس ہی رہا۔
امام الحرم کا یہ دورہ جو شام ، لبنان، یمن ،بحرین یا کم از کم لیبیا کے بجائے ہند میں ہوا اسکے متعلق علامہ اقبال کے شعر کا یہ مصرعہ ہی بار بار میرے ذہن میں گونج رہا ہے کہ ’’ ناداں گرپڑے سجدے میں جب وقتِ قیام آیا‘‘
عبدالمقیت عبدالقدیر ، بھوکر
9867368440
اب جب کہ سارا وسط ایشاء (عرب مملکتیں) جل رہی ہیں اچانک امام الحرمین کو یہاں آنے کی سوجھی اس پر بھی ظلم کے اس بڑھتی بدامنی کو شیعہ سنی رخ دینے میں مدد گار بننے چلے آئے ۔یہاں آکر شیخ صاحب نے ملک کی تمام بڑی تحریکات کے دفاتر پر حاضری دی ان دوروں میں بھی یہ بات خاص ذہن میں رکھی گئی کہ کسی شیعہ عالم دین یا اہل تشیع کی کسی اسلامی تنظیم سے ملاقات نہ ہو ۔
آج جہاں ملت اسلامیہ کو اتحاد کی ضرورت ہے وہاں پر عظمت صحابہ کانفرنس کے انعقاد میں بھی ہندوستان کی ملت اسلامیہ میں انتشار کے بیج بونے کا ایک ذریعہ بن گئی ۔ افسوس کہ امت کی ان جلیل القدر ہستیوں کی عظمت کے نام پر امت کے انتشار کو ہوا دی گئی۔ بھلا وہ کو ن بد بخت مسلمان ہوگا جسے صحابہ رضوان اللہ علیم اجمعین کی عظمتوں کا اعتراف نہ ہو۔ امام حرم ایک غیر سیاسی شخصیت ہیں لیکن ان سیاسی داؤ پیچ سے وہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ عالمِ اسلام کی موجودہ صورتحال میں امت کے اتحاد پر کوئی کانفرنس ہوتی ۔ جس میں وسط ایشاء میں بدلتے ہوئے سیاسی حالات اور ان پر یوروپی اقوام کی یلغار کا ملت اسلامیہ کسی طرح مقابلہ کرے ۔ اس پر رہنمائی کی جاتی مگر افسوس صد افسوس ایسا کچھ نہ ہوا ، او ر جو کچھ بھی ہوا وہ صرف قابلِ افسوس ہی رہا۔
امام الحرم کا یہ دورہ جو شام ، لبنان، یمن ،بحرین یا کم از کم لیبیا کے بجائے ہند میں ہوا اسکے متعلق علامہ اقبال کے شعر کا یہ مصرعہ ہی بار بار میرے ذہن میں گونج رہا ہے کہ ’’ ناداں گرپڑے سجدے میں جب وقتِ قیام آیا‘‘
عبدالمقیت عبدالقدیر ، بھوکر
9867368440
Sunday, March 20, 2011
شکوہ جواب شکوہ
کش مکش ''علامہ اقبال کی مشہور نظموں ،شکوہ جواب شکوہ سے ماخوذ نہرو سینٹر کی تیار کردہ تازہ تمثیل ہے ۔جسے داستان گوئی ، شاعری ، موسیقی اور گائکی کے منفرد اور انوکھے اندازو امتزاج کے ساتھ تشکیل دیا گیا یہ پروگرام نہرو سینٹر کے آڈیئوریم ورلی میں بروز منگل 15 مارچ 2011ء کو شام 6 بجے پیش کیا گیا ۔شکوہ جواب شکوہ کے کئی منتخب حصوں کے ساتھ اس تمثیل کو اس طرح ترتیب دیا گی
ا کہ از تخلیق آدم تا ایں دم خیروشر کی کش مکش اجاگر ہوتی جاتی ہے اور بالاخرخیر کی فوقیت خداۓ واحدکی کلیّت آفاقی ۔ عالمی اور ہندوستانی سیاق میں ابھر آتی ہے ۔اس
خوبصورت پیش کش کا تصور اور ہدایت کاری جناب لطافت قاضی ڈائریکٹر کلچرنہرو سینٹر کی تھی ۔ا
سکرپٹ خود لطافت قاضی اور شاعر سہیل وارثی کی محنت کا ثمر تھا ۔اور کئی مرحلوں
پر ارتباط اور گیت مشہور شاعر عبدالاحد ساز کے تخلیق کردہ تھے ۔مشہور و معروف موسیقار و گلوکار سراج خان کے ساتھ سروج سمن ، پنکج جنوارا ، اجۓ بھاٹیہ ، تاجدار خان نے موسیقی و گلوکاری سے ایک خوابوں جیسا سماں باندھ دیا۔نہرو سینٹر کی اس اچھوتی پیش کس کو دیکھ کر سامعین عش عش کہ اٹھے ۔یہ پیش کش بہت کامیاب رہی ۔
1 comments
Labels:
mumbai,
nehru center
Subscribe to:
Posts (Atom)